Baaghi TV

Tag: بچے

  • پھل فروش کے ہاں بیک وقت 4 بچوں کی پیدائش

    پھل فروش کے ہاں بیک وقت 4 بچوں کی پیدائش

    کوئٹہ:سیٹلائٹ ٹاوٴن کے علاقے میں مقیم محنت کش شہری راز محمد کے گھر خوشیوں نے دستک دے دی۔

    تفصیلات کے مطابق کوئٹہ کے علاقے سیٹلائٹ ٹاؤن میں ایک نجی اسپتال میں چار بچوں (تین بیٹے اور ایک بیٹی) کی پیدائش ہوئی ہے۔خاندان اور اہلِ محلہ نے اس خیر و برکت پر خوشی کا اظہار کیا ہےراز محمد پیشے کے اعتبار سے فروٹ کی ریڑھی لگاتے ہیں اور محنت مزدوری کے ذریعے اپنے اہلِ خانہ کا پیٹ پالتے ہیں، ان کے پہلے سے دو بچے تھے جس کے بعد اب بچوں کی مجموعی تعداد 6 ہو گئی ہے،خوشیوں کے ساتھ والدین پر ذمہ داریوں کا بوجھ بھی بڑھ گیا ہے۔ محدود آمدنی کے باعث بچوں کی پرورش ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔

    قبل ازیں صوابی کے باچا خان میڈیکل کمپلیکس میں ایک خاتون کے ہاں بیک وقت چار بچوں کی پیدائش ہوئی تھی، 4 بچوں میں 2 بیٹے اور 2 بیٹیاں شامل تھیں،ماں اور بچے دونوں صحت مند ہیں جبکہ بچوں کے والدین کا تعلق گاؤں سلیم خان سے تھا،بچوں کی پیدائش بغیر آپریشن (نارمل ڈیلیوری) کے ہوئی
    بچوں کے والد مقصودعلی کا کہنا تھا کہ ایک ساتھ چار بچوں کی پیدائش پر بےحد خوش ہوں،اسپتال انتظامیہ اور ڈاکٹرز کا خصوصی شکریہ ادا کرتا ہوں۔

  • ایلون مسک کے بچوں کی تعداد 100 سے زائد ؟امریکی صحافی کا دعویٰ

    ایلون مسک کے بچوں کی تعداد 100 سے زائد ؟امریکی صحافی کا دعویٰ

    امریکی صحافی الزبتھ بروئنیگ نے انکشاف کیا ہے کہ ایلون مسک کے بچوں کی تعداد 100 سے زائد ہوسکتی ہے۔

    پوڈکاسٹ سینیٹی میں گفتگو کرتے ہوئے الزبتھ بروئنیگ نے کہا کہ ایلون مسک کے کم از کم 14 بچے ہیں، تاہم بعض ذرائع کے مطابق یہ تعداد 100 سے زائد ہو سکتی ہےایلون مسک اپنے تعلقات اور بچوں کی تفصیلات کو خفیہ رکھنے کے لیے ماؤں سےرازداری کا معاہدہ (این ڈی اے) کراتے ہیں اور انہیں اس کا باقاعدہ خرچہ بھی ادا کرتے ہیں۔

    امریکی صحافی کے مطابق ایلون مسک اب تک کم از کم 4 خواتین سے بچوں کے والد بن چکے ہیں، جبکہ حالیہ رپورٹس میں پانچویں خاتون ایشلے سینٹ کلیئر کا نام بھی سامنے آیا ہے،ایشلے سینٹ کلیئر کو خاموشی کے بدلے 1 کروڑ 50 لاکھ ڈالر اور ماہانہ ایک لاکھ ڈالر کے اخرا جات دیئے گئےتجزیہ کاروں نے اس طرزِ عمل کو خاندانی اقدار کے دعووں کے منافی قرار دیا ہے۔

    حماس غزہ میں 5 سالہ جنگ بندی کے بدلے اسرائیلی قیدیوں کی رہائی پر تیار

    ایلون مسک کے معلوم بچوں میں سابقہ اہلیہ جسٹین ولسن، موسیقار گرائمز، اور نیورالنک ایگزیکٹو شیوان زیلس سے ہونے والے بچے شامل ہیں۔

    پی ایس ایل کی براڈ کاسٹ کمپنی میں شامل بھارتی عملے کو واپس بھیج دیاگیا

  • متحدہ عرب امارات میں بسے افراد کے لیے نئے فیملی قوانین کا اعلان

    متحدہ عرب امارات میں بسے افراد کے لیے نئے فیملی قوانین کا اعلان

    ابوظہبی: متحدہ عرب امارات میں بسے افراد کے لیے نئے فیملی قوانین کا اعلان کر دیا گیا ہے جو کہ اماراتی اور غیر ملکی دونوں خاندانوں پر لاگو ہوں گے۔ ان نئے قوانین کا مقصد بچوں کی تحویل، والدین کی ذمہ داریوں اور فیملی کے دیگر اہم مسائل کو بہتر طریقے سے حل کرنا ہے۔

    نئے فیملی قوانین کے مطابق، بچوں کے اماراتی قومی کارڈ اور پاسپورٹ کے غلط استعمال پر سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اس کے علاوہ، فیملی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں پر جرمانے اور جیل کی سزا بھی عائد کی جا سکتی ہے۔نئے قوانین کے تحت بچوں کی تحویل سے متعلق قوانین میں بھی اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ بچوں کی تحویل کی عمر میں توسیع کر دی گئی ہے، جس سے والدین اور بچوں کے حقوق کی بہتر حفاظت کی جا سکے گی۔ اس کے علاوہ، غیر مسلم ماؤں کو بھی بچوں کی تحویل کا حق دیا گیا ہے، جو پہلے مخصوص حالات میں ممکن نہیں تھا۔ایک اور اہم تبدیلی یہ ہے کہ 15 سال کی عمر کے بچے خود فیصلہ کر سکیں گے کہ وہ کس کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں، یعنی انہیں والدین میں سے کسی ایک کے ساتھ رہنے کا اختیار دیا جائے گا۔

    متحدہ عرب امارات کا نیا فیملی قانون اپریل 2025 سے نافذ العمل ہوگا، جس کا مقصد فیملی مسائل میں شفافیت اور انصاف کو یقینی بنانا ہے۔ ان قوانین کا مقصد خاندانوں میں بہتر ہم آہنگی اور بچوں کے حقوق کی مکمل حفاظت کرنا ہے۔نئے قوانین کے ذریعے حکومت نے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنے شہریوں اور مقیم افراد کے حقوق کو اہمیت دیتی ہے اور ان کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی۔

    26 نومبر احتجاج،24 پی ٹی آئی کارکنان کی ضمانت مسترد

    آزاد کشمیر میں شدید برفباری، پاکستان آرمی کا ریسکیو آپریشن، مسافروں کی جان بچا لی

  • بھارت میں انسانی میٹا نیومو وائرس  کا پہلا کیس رپورٹ

    بھارت میں انسانی میٹا نیومو وائرس کا پہلا کیس رپورٹ

    بھارت میں انسانی میٹا نیومو وائرس (HMPV) کا پہلا کیس رپورٹ ہوا ہے جس سے عوام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

    بھارتی ریاست بنگلورو سے تعلق رکھنے والے 8 ماہ کے بچے میں اس وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق، اس وائرس کے مزید دو کیسز بھی رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں سے ایک بچہ 8 ماہ کا ہے اور دوسرا 3 ماہ کا۔ ایچ ایم پی وی، جس کا مطلب ہیومن میٹا نیومو وائرس ہے، ایک وائرس ہے جو سانس کی نالیوں کو متاثر کرتا ہے اور برونکوپنیومونیا جیسے سنگین مرض کا سبب بن سکتا ہے۔ اس وائرس کی موجودگی میں شدید بخار، کھانسی، سانس میں تکلیف، اور جسمانی تھکاوٹ جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ وائرس خاص طور پر بچوں اور بزرگ افراد کے لیے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ ان کی قوت مدافعت کمزور ہوتی ہے۔

    ان بچوں کو اسپتال لایا گیا تھا جہاں ڈاکٹرز نے ان میں برونکوپنیومونیا کی علامات پائیں۔ برونکوپنیومونیا ایک قسم کا نمونیا ہوتا ہے جس میں پھیپھڑوں کے برونچی اور چھوٹے ہوا کے تھیلے (الیوولی) میں سوزش پیدا ہو جاتی ہے۔ اس بیماری کی علامات میں بخار، کھانسی، سانس میں دقت، تیز سانس، جسم میں درد، تھکاوٹ اور بھوک میں کمی شامل ہو سکتی ہیں۔

    چین میں تیزی سے پھیلنے والا ہیومن میٹا نیومو وائرس گزشتہ دو دہائیوں سے پاکستان میں بھی موجود ہے۔ قومی ادارہ صحت پاکستان کے مطابق، اس وائرس کی موجودگی پاکستان میں پچھلے کئی سالوں سے ہے، لیکن حالیہ برسوں میں اس کی شدت میں اضافہ ہوا ہے۔

    بھارتی میڈیا "انڈیا ٹوڈے” کے مطابق، دونوں بچوں کی کوئی سفری تاریخ سامنے نہیں آئی ہے، یعنی ان دونوں بچوں نے کسی بھی ایسے علاقے کا سفر نہیں کیا جہاں یہ وائرس پہلے سے پھیل چکا ہو۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ وائرس مقامی سطح پر بھی پھیل سکتا ہے، جس سے مزید تشویش پیدا ہو گئی ہے۔ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اس وائرس سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہے، جیسے کہ ہاتھ دھونا، ماسک کا استعمال، اور کمزور قوت مدافعت والے افراد کو وائرس کے اثرات سے بچانا۔ اس کے علاوہ، اگر کسی میں برونکوپنیومونیا کی علامات ظاہر ہوں، تو فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کرنا ضروری ہے تاکہ بیماری کی شدت سے بچا جا سکے۔

    اداکارہ ریما خان پر دھوکا دہی کا الزام

    مذاکرات کے باوجود پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا پر ریاست مخالف پراپیگنڈا جاری

  • ادویات کی عدم دستیابی، پاراچنار میں 29 بچوں کی موت

    ادویات کی عدم دستیابی، پاراچنار میں 29 بچوں کی موت

    پاراچنار کے عوام اس وقت شدید مشکلات کا شکار ہیں، جہاں 65 دنوں سے محاصرے کی حالت برقرار ہے۔ علاقے میں بنیادی ضروریاتِ زندگی بشمول ادویات، خوراک، اور پیٹرول کی کمی کے باعث انسانی بحران شدت اختیار کر چکا ہے۔ عوام فاقوں پر مجبور ہیں، اور کئی معصوم بچے علاج نہ ملنے کے باعث اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔

    ضلع ہیڈکوارٹر ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر سید میر حسن جان نے بتایا کہ یکم اکتوبر سے ہسپتال میں دواوں اور بنیادی سہولتوں کی کمی کے باعث مریضوں کو مناسب علاج فراہم نہیں کیا جا سکا ہے۔ اُنہوں نے خبردار کیا کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہ صورتحال صحت کے شعبے میں سنگین بحران پیدا کر سکتی ہے۔ڈاکٹر سید میر حسن جان نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کہا کہ "ہسپتال میں دواوں کا ذخیرہ پشاور ہیلتھ ڈائریکٹریٹ سے موصول ہوا تھا، لیکن یہ مقدار ہسپتال کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہے۔” اُنہوں نے مزید کہا کہ علاقے میں ہونے والی جھڑپوں کے باعث دواوں اور سرجیکل سامان کا استعمال بہت زیادہ ہو چکا ہے جس کی وجہ سے ہسپتال میں دواوں کی کمی شدت اختیار کر گئی ہے۔ڈاکٹر حسن جان نے بتایا کہ "اس وقت ہسپتال کے مختلف یونٹس میں دواوں کی شدید کمی ہے اور اس مسئلے کو انسانیت کے ناطے فوراً حل کرنے کی ضرورت ہے۔” بیان میں یہ بھی ذکر کیا گیا کہ یکم اکتوبر 2024 سے اب تک 29 بچے ہسپتال میں زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ دواوں کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ تھل-پاراچنار روڈ بند ہونے کے باعث دوا فراہم کرنے والی کمپنیاں دواوں کو پاراچنار تک پہنچانے میں ناکام ہیں۔ اس روڈ کی بندش کو 69 دن ہو چکے ہیں، جس سے نہ صرف دوا کی فراہمی متاثر ہوئی ہے بلکہ پاراچنار اور اپر کرم کے علاقے میں ضروری اشیاء جیسے کہ کھانے پینے کی چیزیں، ایندھن اور گیس کی کمی بھی شدت اختیار کر گئی ہے۔

    سماجی کارکن اسد اللہ نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر افغان سرحد اور اہم شاہراہوں کو فوراً کھولا نہ گیا تو علاقے میں ایک بڑا انسانی سانحہ پیش آ سکتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ "ہمیں فوری طور پر ضرورت مند افراد کے لیے کھانے پینے کی امداد فراہم کرنی چاہیے کیونکہ سڑکوں کی بندش کی وجہ سے مقامی لوگ شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔”مقامی انتظامیہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے مذاکرات کی کوششیں کر رہی ہیں۔ ضلع انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ کوہاٹ میں ملتوی ہونے والی گرینڈ جرگہ کو دوبارہ طلب کیا جائے گا تاکہ شاہراہوں کی بحالی اور دیگر مسائل پر بات چیت کی جا سکے۔ اس جرگہ کا مقصد علاقے میں امن و امان قائم کرنے اور ضروری خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔

    پاراچنار کی صورتحال اس قدر سنگین ہو چکی ہے کہ یہاں روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی اموات میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ مقامی افراد اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس بات کا بار بار مطالبہ کر رہی ہیں کہ علاقے کے راستے کھولے جائیں تاکہ متاثرین کو ادویات، خوراک، اور دیگر ضروری سامان فراہم کیا جا سکے۔ لیکن محاصرے کی وجہ سے ان تک امداد پہنچنا مشکل ہو گیا ہے۔ پاراچنار میں ادویات کی شدید کمی کے باعث مریضوں کا علاج معالجہ ممکن نہیں ہو پا رہا۔ کئی بچے جنہیں معمولی علاج کی ضرورت تھی، وہ اس کمی کے باعث اپنی زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔ اس کے علاوہ، علاقے میں خوراک کی کمی کی وجہ سے روزے رکھنے والے عوام کے لئے حالات اور بھی بدتر ہو گئے ہیں۔پاراچنار میں پیٹرول اور دیگر ضروری اشیائے خورد و نوش کی شدید کمی ہو چکی ہے، جس کے باعث عوام کو روزمرہ کی زندگی گزارنے میں سخت مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ علاقے کے مختلف حصوں میں پیٹرول کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، اور لوگ اپنی گاڑیوں کے ساتھ ساتھ روزانہ کی ضروریات کو پورا کرنے میں بھی دشواری محسوس کر رہے ہیں۔

    فیصل ایدھی ایئر ایمبولینس کے ہمراہ پارا چنار پہنچ گئے
    پاراچنار میں جاری اس انسانی بحران کے حل کے لئے ایدھی فاؤنڈیشن نے ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ ایدھی ایئر ایمبولینس کی پہلی پرواز پاراچنار ایئرپورٹ پر پہنچی ہے، جس میں فیصل ایدھی بھی اپنی ٹیم کے ہمراہ پاراچنار پہنچے۔ فیصل ایدھی کا کہنا تھا کہ وہ خود یہاں آ کر عوام کی مشکلات کا جائزہ لینے کے لیے آئے ہیں اور اس بحران کے حل کے لیے اپنے ادارے کی طرف سے تمام ممکنہ اقدامات اٹھائیں گے۔ایدھی ایئر ایمبولینس کی پرواز کے ذریعے پشاور سے ادویات پاراچنار پہنچائی جائیں گی اور ساتھ ہی مقامی مریضوں کو پشاور منتقل کر کے ان کا علاج کیا جائے گا۔ فیصل ایدھی نے کہا کہ ان کی ٹیم پاراچنار کے ہسپتالوں میں ضروری امداد فراہم کرے گی اور جلد از جلد مزید امدادی کارروائیاں شروع کی جائیں گی۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر صحافی وقار ستی کہتے ہیں کہ خیبر پختونخواہ کے علاقے پارہ چنار ہسپتال میں ادویات کی عدم دستیابی کے باعث 29 معصوم بچوں نے دم توڑ دیا، مگر انسانی حقوق کے ٹھیکیدار اور نام نہاد جعلی انقلابی سب کے سب خاموش ہیں۔ لگتا ہے ان بچوں کی موت میں کوئی “سیاسی فائدہ” نہیں تھا، اس لیے نہ کوئی مارچ نکلا، نہ کوئی ٹویٹ ہوا۔ انسانیت یہاں مر گئی اور ضمیر کہیں بیچا جا چکا ہے۔

  • دہلی میں فضائی آلودگی،بچے بیمار،شہری دہلی چھوڑنے لگے

    دہلی میں فضائی آلودگی،بچے بیمار،شہری دہلی چھوڑنے لگے

    بھارتی دارالحکومت دہلی میں فضائی آلودگی میں مسلسل اضافے کی وجہ سے والدین کو ایک مشکل فیصلہ درپیش ہے: یہاں رہنا یا کہیں اور جانا ہے

    45 سالہ امریتہ روشہ ان والدین میں شامل ہیں جو اپنے بچوں کے ساتھ دہلی چھوڑنے کا فیصلہ کر رہی ہیں۔ ان کے دونوں بچے — 4 سالہ ونا یا اور 9 سالہ ابھیراج — سانس کی تکالیف میں مبتلا ہیں اور انہیں دوا کی ضرورت ہے۔”ہمارے پاس دہلی چھوڑنے کے سوا کوئی اور آپشن نہیں تھا،” امریتہ نے سی این این کو بتایا، جب وہ دہلی کے جنوبی علاقے میں اپنے گھر میں آخری لمحوں کی پیکنگ کر رہی تھیں۔ وہ اپنے خاندان کے ساتھ عمان جا رہی ہیں، جہاں انکے شوہر شوہر ملازمت کی وجہ سےمقیم ہیں۔

    ہر سال، دہلی میں سردیوں کے آغاز کے ساتھ ایک دھند یا اسموگ کا غبار شہر کو گھیر لیتا ہے، جو دن کو رات میں تبدیل کر دیتا ہے اور لاکھوں افراد کی زندگیوں کو متاثر کرتا ہے۔ اس آلودہ ہوا سے بچے، خاص طور پر وہ جو کمزور مدافعتی نظام کے حامل ہیں، سانس کی مشکلات میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور طبی امداد کی ضرورت ہوتی ہے۔

    امریتہ اپنے بچوں کو بہترین طبی سہولتیں فراہم کرتی ہیں، وہ دہلی سے باہر جا کر آلودہ ہوا سے بچنے کی کوشش کرتی ہیں۔

    دہلی کے ایک غریب علاقے میں، مسکان اپنے بچوں کے نیبلائزر کے لئے دوائی کے آخری قطرے دیکھ کر پریشان ہیں۔ نیبلائزر ایک ایسا آلہ ہے جو مائع دوا کو دھواں کی صورت میں تبدیل کر کے ماسک یا ماؤتھ پیس کے ذریعے سانس میں لیا جاتا ہے۔مسکان کا کہنا ہے، "ہم اپنے بچوں کو دوا کا نصف حصہ دیتے ہیں کیونکہ ہمیں اور دوائی خریدنے کا پیسہ نہیں ہے۔” ان کے دونوں بچے، چاہت (3 سال) اور دیا (1 سال) بچپن سے ہی نیبلائزر پر ہیں، کیونکہ دونوں کی سانس لینے میں مشکلات پیدا ہو گئی تھیں۔مسکان نے یہ نیبلائزر 9 ڈالر میں خریدا تھا، جو اس نے سڑکوں پر کچرا اکٹھا کرنے اور محنت کر کے کمائے تھے۔ ان کے شوہر ایک دن کے مزدور ہیں۔”جب وہ کھانستے ہیں تو مجھے ڈر لگتا ہے کہ میرے بچے مر نہ جائیں۔ میں پریشان رہتی ہوں اور ہر وقت فکر میں ڈوبی رہتی ہوں کہ کہیں کچھ برا نہ ہو جائے،” مسکان نے کہا۔

    دہلی کے بچوں کی تکالیف سال بہ سال بڑھتی جا رہی ہیں۔ دہلی کی وزیر اعلیٰ آتِشی نے کہا، "بچوں کو سانس لینے کے لئے سٹیرائڈز اور انہیلرز پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے… پورا شمالی بھارت ایک طبی ایمرجنسی کی حالت میں ہے۔”بھارتی سپریم کورٹ نے آلودگی کو کم کرنے کے لئے اقدامات کی نگرانی شروع کر دی ہے، جو عموماً گاڑیوں کے دھویں، فصلوں کی جلاوٹ اور تعمیراتی کام کی وجہ سے ہوتی ہے، ساتھ ہی موسم اور موسمی حالات بھی اس میں کردار ادا کرتے ہیں۔ان اقدامات میں گاڑیوں پر پابندی، تعمیراتی کام پر روک، اور سڑکوں پر پانی چھڑکنا شامل ہیں۔ حکام نے عوامی نقل و حمل میں اضافہ کیا ہے اور فصلوں کی جلاوٹ پر سخت کارروائی کی ہے۔

    رینبو چلڈرن ہسپتال میں پیڈیاٹرک انٹینسیو کیئر یونٹ کے ڈاکٹر منجندر سنگھ رندھاؤا نے کہا کہ اس سال وہ پہلی بار بچوں میں آسمہ کی بیماری کی علامات شدید حالت میں دیکھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق، طویل مدت میں آلودگی سانس، مدافعتی نظام اور قلبی نظام پر سنگین اثرات مرتب کر سکتی ہے۔سی این این نے بھارتی حکومت سے اس پر تبصرے کے لیے رابطہ کیا ہے، لیکن ابھی تک کوئی جواب نہیں آیا۔

    پچھلے ماہ دہلی کے کچھ حصوں میں فضائی آلودگی کی سطح 1,750 تک پہنچ گئی تھی، جو عالمی سطح پر صحت کے لئے انتہائی خطرناک مانی جاتی ہے۔ انڈیکس پر 300 سے زیادہ کی کوئی بھی سطح صحت کے لئے نقصان دہ سمجھی جاتی ہے۔اس دوران، PM 2.5 ذرات، جو ہوا میں انتہائی باریک ذرات ہوتے ہیں اور پھیپھڑوں میں گہرائی تک پہنچ سکتے ہیں، کی سطح عالمی ادارہ صحت کی مقرر کردہ حدوں سے 70 گنا تک تجاوز کر گئی تھی۔ ان ذرات کا سانس میں آنا بچوں میں دماغی صلاحیتوں پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔

    کچھ والدین، جیسے دیپتی رامداس، اپنے بچوں کی صحت کو ترجیح دیتے ہوئے دہلی چھوڑ چکے ہیں۔ جب ان کے بیٹے رودرا کی پیدائش ہوئی، تو انھوں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ دہلی چھوڑنا پڑے گا۔ لیکن جب رودرا کو جنوری 2022 میں پیڈیاٹرک انٹینسیو کیئر یونٹ میں داخل کرایا گیا، تو ڈاکٹروں نے کہا کہ اگر وہ چاہتے ہیں کہ ان کے بیٹے کے پھیپھڑے بہتر طور پر ترقی کریں تو دہلی چھوڑنا ضروری ہے۔دیپتی نے اپنے خاندان کے ساتھ جنوبی بھارت کے ریاست کیرالہ کا رخ کیا۔ "یہ فیصلہ کرنا آسان نہیں تھا۔ مجھے اپنی پسندیدہ نوکری چھوڑنی پڑی اور میرا شوہر دہلی میں کام کے لئے رہ گیا، جس کی وجہ سے ہمارا رشتہ طویل فاصلے کا بن گیا۔”لیکن دیپتی کو سکون اس بات کا ہے کہ کیرالہ میں رودرا کو کبھی سانس لینے میں تکلیف نہیں ہوئی۔ وہ دسمبر کے پہلے ہفتے میں دہلی اپنے والد سے ملنے آئی تھیں، لیکن چند دنوں میں ہی رودرا کی حالت پھر خراب ہو گئی اور اسے نیبلائزر کی ضرورت پیش آئی۔”اسے اس حالت میں دیکھنا دل پر گہرے اثرات چھوڑتا ہے،” دیپتی نے کہا۔

    دہلی میں فضائی آلودگی کا مسئلہ سال بہ سال سنگین تر ہوتا جا رہا ہے، اور اس کا اثر بچوں کی صحت پر براہ راست پڑ رہا ہے۔ جہاں ایک طرف امیر خاندان دہلی چھوڑنے کا آپشن رکھتے ہیں، وہیں غریب لوگ اس مسئلے کا سامنا کرتے ہیں اور اپنے بچوں کی صحت کے بارے میں مسلسل فکر مند رہتے ہیں۔

  • بچوں کے حقوق، فلاح و بہبود، اور ترقی کیلئے اپنے عزم کا اعادہ کرتا ہوں،وزیراعظم

    بچوں کے حقوق، فلاح و بہبود، اور ترقی کیلئے اپنے عزم کا اعادہ کرتا ہوں،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نےعالمی یومِ اطفال کے موقع پر پیغام میں کہا ہے کہ آج، عالمی یومِ اطفال کے موقع پر، میں پاکستان کے بچوں کے حقوق، فلاح و بہبود، اور ترقی کے لئے اپنے عزم کا اعادہ کرتا ہوں۔ یہ بچے ہمارے مستقبل کے معمار ہیں اور ہماری قوم کا سب سے قیمتی اثاثہ ہیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ یہ دن ہمیں اس اجتماعی ذمہ داری کی یاد دلاتا ہے کہ ہم بلا تفریق ہر بچے کے حقوق کے تحفظ اور تکمیل کو یقینی بنائیں۔ یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم ہر بچے کو معیاری تعلیم، صحت کی سہولیات، اور ایک محفوظ اور پرورش کرنے والا ماحول فراہم کریں، تاکہ وہ اپنی مکمل صلاحیتوں کو حاصل کر سکیں اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کر سکیں۔پاکستان کی حکومت نے بچوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لئے متعدد اقدامات کئے ہیں، جیسے دانش اسکولز کا قیام، جو دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں کم وسیلہ بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کر رہے ہیں۔ ان اسکولز نے بے شمار بچوں کی زندگیاں بدل دی ہیں اور انہیں ایک روشن مستقبل کی راہ دکھائی ہے۔ ہم نے تعلیمی ایمرجنسی کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت وسائل کو متحرک کرکے خواندگی کی شرح میں اضافہ، اسکولوں کی تعمیر نو، اور بچوں کو معیاری تعلیم کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ کمیونٹی آؤٹ ریچ اور خاندانوں کو بچوں کو اسکول بھیجنے کی ترغیب دینے کے لئے خصوصی مہمات کے ذریعے اسکول نہ جانے والے لاکھوں بچوں کے داخلے کے لئے کوششیں کی جا رہی ہیں۔ غذائی قلت کو دور کرنے اور تعلیمی نتائج کو بہتر بنانے کے لئے، حکومت نے سرکاری اسکولوں میں غذائیت کا پروگرام متعارف کیا ہے تاکہ بچوں کو صحت مند کھانا ملے جو ان کی جسمانی اور ذہنی نشوونما میں معاون ہوں۔یہ تمام تر اقدامات اس عزم کی عکاسی کرتے ہیں کہ ہم اپنے نوجوان نسل کی نشوونما اور خوشحالی کے لئے کوششیں کر رہے ہیں۔میں والدین، اساتذہ، سول سوسائٹی، اور پالیسی سازوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ مل کر ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیں جہاں ہر بچے کی اہمیت ہو اور وہ خود کو محفوظ اور قیمتی محسوس کرے۔ عالمی یومِ اطفال کے موقع پر، آئیں ہم عہد کریں کہ اپنے بچوں کو قومی ترجیحات میں اولیت دیں گے، اور ایک ایسا مستقبل یقینی بنائیں گے جہاں وہ عزت، برابری، اور امید کے ساتھ پروان چڑھ سکیں۔

  • سموگ انسانی صحت کیلئے خطرہ، بچے، حاملہ خواتین اور بزرگ شہری احتیاط برتیں

    سموگ انسانی صحت کیلئے خطرہ، بچے، حاملہ خواتین اور بزرگ شہری احتیاط برتیں

    فضائی آلودگی اور سموگ چھوٹے بچے، حاملہ خواتین اور ضعیف العمر افراد کی صحت اور زندگیوں کو سب سے زیادہ خطرات لاحق ہیں، پاکستان کے مختلف علاقوں میں شدید سموگ کی وجہ سے تمام شہری متاثر ہورہے ہیں تاہم سب سے چھوٹے بچوں کی صحت داؤ پر لگی ہے۔

    صحافیوں سے گفتگو میں پرنسپل امیر الدین میڈیکل کالج و جنرل ہسپتال پروفیسر ڈاکٹر الفرید ظفر کا کہنا تھا کہ فضائی آلودگی سے بچے اس لیے زیادہ متاثر ہو تے ہیں کیونکہ ان کے پھیپڑے کمزور اور ان کی قوت مدافعت کم ہوتی ہے۔پروفیسر الفرید ظفر نے بتایا کہ آلودہ ذرات بچوں کے پھیپڑوں اور دماغ کی نشونما پر بہت زیادہ اثر انداز ہوسکتے ہیں، آلودہ فضا میں سانس لینے سے دماغی ٹشوز متاثر ہو سکتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جب حاملہ خواتین آلودہ فضا میں سانس لیتی ہیں تو ان کے بچوں کی قبل از وقت پیدائش کا امکان زیادہ ہوتاہے یا سٹل برتھ کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔اسی طرح عمر رسیدہ افراد اور ذیابیطس امراض قلب میں مبتلا مرد خواتین سموگ کی وجہ سے جلد سانس کی بیماری، دمہ اور پھیپھڑوں کی انفیکشن کا شکار ہو سکتے ہیں جو انکے لئے مہلک ثابت ہو سکتی ہے۔ شہری غیر ضروری طور پر گھروں سے نہ نکلیں، بچوں کو سیر تفریح اور کھیل کے میدانوں میں سموگ کے دنوں میں نہ لیکر جائیں۔ فیس ماسک کا استمعال لازمی کریں، زیادہ مقدار میں پانی پئیں، قہوہ چائے کا استمعال کریں چہرہ آنکھیں تازہ پانی سے دھویں تاکہ سکن الرجی اور آنکھوں کی انفیکشن، جلن سے محفوظ رہ سکیں۔انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ احتیاطی تدابیر پر عمل کریں

  • خاتون نے اپنا دو ہزار سے زائد لیٹر دودھ عطیہ کر کے بنایا عالمی ریکارڈ

    خاتون نے اپنا دو ہزار سے زائد لیٹر دودھ عطیہ کر کے بنایا عالمی ریکارڈ

    ٹیکساس کی خاتون نے اپنا 2 ہزار لیٹر سے زائد دودھ عطیہ کر کے بنایا عالمی ریکارڈ

    امریکی ریاست ٹیکساس کی ایک خاتون نے دوہزار لیٹر سے زائد دودھ عطیہ کر کے ایک نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا ہے۔ 36 سالہ ایلینس اوگل ٹری، جو تین بچوں کی ماں ہیں، نے اس منفرد اقدام کے ذریعے ہزاروں بچوں کی پرورش میں مدد کی ہے۔ عطیات دینے کے کئی طریقے ہیں، جیسے پیسے دینا، لیکن ٹیکساس کے شہر فلاور ماؤنٹ کی رہائشی ایلیسس نے انسانیت کی خدمت کا ایک نیا طریقہ اپنایا۔ انہوں نے ضرورت مند بچوں کے لیے اپنی دودھ کی ایک ریکارڈ مقدار عطیہ کی، جو نہ صرف ایک منفرد اقدام تھا بلکہ یہ دوسروں کے لیے بھی ایک مشعل راہ بن گیا۔گینزورلڈ ریکارڈز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ایلیسس نے کہا کہ "میرے دل میں انسانیت کی خدمت کا جذبہ بہت بڑا ہے، لیکن چونکہ میری مالی حیثیت اتنی مضبوط نہیں کہ میں دولت عطیہ کر سکوں، اس لیے میں نے اپنی مدد سے دوسرے بچوں کی زندگیوں میں بہتری لانے کا فیصلہ کیا۔” ایلیسس کا کہنا تھا کہ وہ اپنے خاندان کی مالی معاونت کے ساتھ ساتھ اپنی فیملی کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے دودھ عطیہ کر رہی ہیں۔

    گینیز ورلڈ ریکارڈز میں 40,000 سے زیادہ عالمی ریکارڈز کا مجموعہ ہے، اور ایلیسس نے 2023 میں 2645.58 لیٹر دودھ عطیہ کر کے ایک نیا ریکارڈ قائم کیا۔ اس ریکارڈ سے ہزاروں بچوں کو فائدہ ہوا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایلیسس نے یہ ریکارڈ دوسری بار قائم کیا ہے؛ پہلی بار 2014 میں انہوں نے 1569.79 لیٹر دودھ عطیہ کر کے عالمی ریکارڈ بنایا تھا۔

    اوگلیٹری کی سخاوت کو تسلیم کرتے ہوئے، نارتھ ٹیکساس کے ماؤں کے دودھ کے بینک کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر شیانا اسٹینکس نے کہا کہ "اوگلیٹری کے عطیات نے نادار اور ناتواں بچوں کی زندگیوں میں امید کی ایک کرن جگائی ہے۔ ان کی سخاوت اور ہمدردی لاجواب ہیں۔”اوگلیٹری نے اپنے دودھ کے عطیات سے اب تک 350,000 سے زیادہ پری میچور بچوں کی مدد کی ہے۔ ان کے اس عمل نے نہ صرف ان بچوں کی زندگی بچائی بلکہ دنیا بھر میں والدین کے لیے ایک نئی امید کی راہ کھولی ہے۔

    اوگلیٹری کی زندگی کا یہ سفر 2010 میں شروع ہوا جب ان کے پہلے بیٹے کائل کی پیدائش ہوئی۔ کائل کی پیدائش کے بعد، اوگلیٹری نے محسوس کیا کہ وہ زیادہ دودھ پیدا کر رہی ہیں اور ایک نرس نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ اضافی دودھ ان ماؤں کو عطیہ کریں جو اپنے بچوں کو دودھ نہیں دے پا رہیں۔ اس وقت اوگلیٹری نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے بچہ کی پیدائش کے بعد جو دودھ پیدا کر رہی ہیں، اسے دوسروں کو دیں گی۔

    ایلیسس اوگل ٹری کا یہ اقدام نہ صرف انفرادی طور پر متاثر کن ہے بلکہ یہ ایک اجتماعی جذبے کی نمائندگی کرتا ہے۔ انہوں نے اپنے ذاتی وسائل سے بڑھ کر انسانی فلاح کے لیے جو کردار ادا کیا ہے، وہ بہت سے لوگوں کے لیے ایک حوصلہ افزائی کا باعث ہے۔ اس طرح کے عطیات ایک یاد دہانی ہیں کہ ہر انسان اپنی حیثیت کے مطابق دوسروں کی مدد کر سکتا ہے، چاہے اس کی مدد مالی ہو، جسمانی ہو یا کوئی اور شکل میں ہو۔

    سانگھڑ، کھیت میں داخل ہونے پر وڈیرے نے اونٹ کی ٹانگ کاٹ دی

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ

    گائے کے ساتھ جنسی زیادتی کی ویڈیو وائرل،ملزم گرفتار،بکری اورکتے بھی بنے نشانہ

  • کیا حکومت نہیں چاہے گی کہ ہمارے بچےخودکشیوں سےبچ جائیں،عدالت

    کیا حکومت نہیں چاہے گی کہ ہمارے بچےخودکشیوں سےبچ جائیں،عدالت

    لاہور ہائیکورٹ: سکولوں میں بچوں سے چھیڑخانی،سوشل میڈیا ٹرولنگ کےخلاف کیس کی سماعت ہوئی

    عدالت نے سیکرٹری خصوصی تعلیم کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دے دی،عدالت نے کمیٹی سے سفارشات طلب کرلیں،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا حکومت نہیں چاہے گی کہ ہمارے بچے خود کشیوں سےبچ جائیں۔بچوں کو چھیڑ خانی سے بچانے کے قوانین ہونے چاہئیں۔ سیکرٹری برائے خصوصی تعلیم نے کہا کہ قوانین پہلے سے موجود ہیں اس میں چھیڑخانی کو شامل کیا جا سکتا ہے۔عدالت نے درخواست پر سماعت دس یوم تک ملتوی کردی،جسٹس جواد حسن نے سماعت کی، درخواست گزار سائبہ فاروق کےوکیل بئیرسٹر احمد پنسوتہ نےدلائل دئیے

    درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ پچاس فیصد طالب علم پاکستان میں سائبر ہراسگی یا چھیڑ خانی کا سامنا کر رہے ہیں۔ صاف شفاف تعلیمی ماحول فراہم کرنا اداروں کی ذمہ داری ہے۔بچوں کی سائبر ویڈیوز بنانے سے ان کی ذہنی اور جسمانی صحت شدید متاثر ہورہی ہے۔بچوں کو چھیڑخانی سے بچانے کا کوئی قانون ہی موجود نہیں۔عدالت بچوں کو تنگ کرنے اور چھیڑ خانی سے روکنے کے احکامات صادر کرے۔

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    اکرم چوہدری نجی ٹی وی کا عثمان بزدار ثابت،دیہاڑیاں،ہراسانی کے بھی واقعات

    اکرم چوہدری کا نجی ٹی وی کے نام پر دورہ یوکے،ذاتی فائدے،ادارے کو نقصان

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی