Baaghi TV

Tag: بچے

  • تھر:  غذائی قلت اور بیماریوں کے باعث رواں سال درجنوں خواتین اور 500 سے زائد بچےانتقال کر چکے

    تھر: غذائی قلت اور بیماریوں کے باعث رواں سال درجنوں خواتین اور 500 سے زائد بچےانتقال کر چکے

    مٹھی : صحرائے تھر کے باسیوں کی خوشحالی ،تعلیم اور صحت کے شعبوں میں غیر ملکی فنڈز سمیت سندھ حکومت کی جانب سے اربوں روپے کے منصوبے باسیوں کی زندگی میں خوشحالی لاسکے نہ ہی ان کی زندگی میں کوئی تبدیلی آسکی-

    باغی ٹی وی : محکمہ صحت کی رپورٹ کے مطابق رواں سال اب تک 80 خواتین اور 550 بچے غذائی قلت اور بیماریوں کے باعث انتقال کرگئے، جبکہ مجموعی طور پر چھ سال کے دوران ساڑھے تین ہزار سے زائد بچے زندگی بازی ہارگئےان میں پانچ سو سے زائد وہ بچے بھی شامل ہیں جوقبل از پیدائش ہی انتقال کرگئے.

    ماہرین کے مطابق نا مناسب غذا،خون کی کمی، بچوں کی پیدائش میں وقفہ نہ ہونا خواتین اور بچوں کی اموات کا بڑا سبب ہیں صحرائے تھر کے پسماندہ علاقوں میں سال میں لگ بھگ پندرہ سے بیس ہزار حاملہ خواتین بچوں کو جنم دیتی ہیں لیکن پسماندہ علاقوں میں صحت کی بنیادی سہولت نہ ہونے کے باعث اسپتال پہنچنے سے پہلے خواتین پہنچ نہیں پاتی حاملہ خواتین کھلے آسمان تلے صحرا میں ہی بچے کو جنم دینے پر مجبور ہوجاتی ہیں۔

    نامعلوم ملزمان نومولود بچہ جھلسی ہوئی حالت میں پھینک کر فرار

    صحرائے تھر پاکستان کی جنوب مشرقی اور بھارت کی شمال مغربی سرحد پر واقع ہے۔ اس کا رقبہ 200,000 مربع کلومیٹر يا 77,000 مربع ميل ہے اس كا شمار دنيا کے نويں بڑے صحرا کے طور پر کیا جاتا ہے-

    یہاں عام دنوں میں یہاں پانی کی شدید قلت رہی ہے اکثر انسانوں اور جانوروں کے لیے دو سے تین سو فٹ کہرے کنوَں سے پانی حاصل کیا جاتا ہے ۔ اس لیے کھیتی باڑی صرف وہاں ہوتی ہے جہاں ترائی میں یا جہاں پشتے بناکر بارش کے پانی کو محفوظ کیا گیا ہو ۔ اگر مناسب وقت پر مناسب بارش ہوجائے تو باجرہ اور دوسری بہت عمدہ فضیں حاصل ہوتی ہیں ۔ لیکن یہاں کے بشتر باشندے گلے بانی کرتے ہیں اور اپنے جانور ، گھی اور قالین وغیرہ فروخت کرکے وہاں سے اپنی ضرورت کا غلہ حاصل کرتے ہیں ۔

  • اوکاڑہ رینالہ خورد نہر میں دو بھائی ڈوب کر ہلاک

    اوکاڑہ رینالہ خورد نہر میں دو بھائی ڈوب کر ہلاک

    اوکاڑہ(علی حسین) رینالہ خورد نہر میں دو بھائی ڈوب کر ہلاک ہوگئے۔ بچوں کی شناخت 6 سالہ عرفان اور 2 سالہ رضوان کے ناموں سے ہوئی ہے۔ دونوں بچے نہر کنارے کھیل رہے تھے کہ اچانک نہر میں گر گئے۔ ریسکیو اور مقامی تیراک افراد کا عملہ موقع پر پہنچ گیا۔ دونوں بچوں کی نعشوں کو نکال لیا گیا ہے۔

  • اوکاڑہ کے قریب بس الٹ گئی۔27 مسافر زخمی

    اوکاڑہ(علی حسین مرزا) اوکاڑہ پاکپتن روڈ پر مسافروں سے بھری بس الٹ گئی جسکی وجہ سے بس میں سوار 27 افراد زخمی ہو گئے۔ زخمیوں میں 13 مرد،13 خواتین اور ایک بچہ شامل ہیں۔ زخمیوں کو ٹی ایچ کیو دیپالپور میں منتقل کردیا گیا۔ بس عارفوالا سے لاہور جارہی تھی اور اوور سپیڈ کی وجہ سے ٹرک سے ٹکرا گئی جس سے بس کا ٹائر برسٹ ہوگیا اور بس الٹ گئی۔ زخمیوں کی دیکھ بھال کی جارہی ہے۔

  • تعلیمی ادارے، پارک اور گراؤنڈز بند، بچے سارا دن گھر پر، والدین کی اک بڑی مشکل کا حل کہ بچوں کو کیسے مصروف کیا جائے

    تعلیمی ادارے، پارک اور گراؤنڈز بند، بچے سارا دن گھر پر، والدین کی اک بڑی مشکل کا حل کہ بچوں کو کیسے مصروف کیا جائے

    کرونا وائرس اس وقت اپنی شدت کے ساتھ حملہ آور ہوچکا ہے. اس وقت دنیا کے 188 ممالک میں کرونا وائرس کے تین لاکھ آٹھ ہزار چار سو تریسٹھ کیسز ہیں اور یہ تعداد لمحہ با لمحہ بڑھتی چلی جارہی ہے. اس خطرناک وائرس سے اب تک تیرہ ہزار انہتر لوگ وفات پاچکے ہیں صرف اٹلی میں ایک دن میں مرنے والوں کی تعداد آٹھ سو سے زیادہ ہے اٹلی میں کرونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد سب سے زیادہ ہوچکی ہے اب تک چار ہزار آٹھ سو پچیس لوگ کرونا وائرس کی وجہ سے موت کے منہ میں جاچکے ہیں. جبکہ چین میں مرنے والوں کی تعداد تین ہزار دو سو اکسٹھ تھی.
    وطن عزیز پاکستان میں بھی صورتحال لمحہ با لمحہ بگڑتی چلی جا رہی ہے لوگوں کی لاپرواہی کی وجہ سے یہ موذی وائرس بڑی تعداد میں پھیلتا چلا جا رہا ہے کہاں پانچ چھ دن قبل پاکستان میں پچیس تیس کیسز تھے اور اب تعداد ساڑھے سات سو سے اوپر ہوچکی ہے. سماجی تنہائی کے لیے بنائے سینٹرز کی حالت نہایت تباہ کن ہے اور وہ بجائے کرونا وائرس کو روکنے کے کرونا وائرس کے پھیلاؤ میں نرسریز کا کردار ادا کررہے ہیں دوسری طرف پاکستان میں بعض علماء کا کردار بھی نہایت ہی منفی ہے علماء کا یہ طبقہ بجائے لوگوں کو احتیاط اور سماجی تنہائی پر قائل کرنے کے ان کو گھل مل کر رہنے اوف اجتماعات وغیرہ منعقد کرنے پر اکسا رہا ہے ان علماء کے نزدیک یہ وائرس فقط میڈیا کی پیدا کردہ ہائپ ہے.
    اسی طرح کرونا وائرس کے مریض بھی خاص احتیاط نہیں برت رہے کوئی اسلام آباد پمز سے چھپ چھپا کر بھاگ رہا ہے تو کوئی ائرپورٹ پر رشوت دے کر چھپ کر نکل کر بیسیوں اپنے ہی رشتہ داروں میں کرونا وائرس کو پھیلا رہا ہے. سکھر سے بڑی تعداد میں لوگ جن میں کرونا وائرس کے کنفرم مریض بھی تھے وہ نکل کر بھاگ گئے ہیں. انتظامیہ بھی ان معاملات کو سنجیدہ نہیں لے رہی ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں کرونا کے مریضوں کی تعداد بڑھتی چلی جا رہی ہے اور صورتحال خطرناک حد تک سنجیدہ ہورہی ہے. لوگوں کے ان رویوں کو لے کر پاکستان بھر میں جزوی طور پر لاک ڈاؤن ہوچکا ہے تعلیمی ادارے ، مارکیٹس، پبلک ٹرانسپورٹ، ریلوے وغیرہ بند کو بند کرنے کا اعلان ہوچکا ہے.
    تعلیمی اداروں میں چھٹیوں اور ٹیویشن سینٹرز کے بند ہونے کی وجہ سے بچے سارا دن فارغ ہیں. پہلے گرمیوں کی چھٹیاں ہوتی تھیں تو بچے پارکس، گراؤنڈز ،رشتہ داروں کے ہاں اور مختلف علاقوں کی سیر و تفریح کو جاتے تھے مگر موجودہ صورتحال میں سبھی آپشنز ختم ہوچکے ہیں بچے سارا دن گھر ہیں اور مائیں اپنے بچوں سے سخت عاجز آچکی ہیں اور بچے بھی سارا دن والدین اور بالخصوص ماؤں کی ڈانٹ ڈپٹ سے چڑچڑے اور ضدی ہورہے ہیں جو کہ ان کی جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے نہایت نقصان دہ ہے یہ کوئی اتنا بڑا ایشو نہیں ہے جس کو حل نہ کیا جاسکے ہم آپ کو کچھ ٹپس دیتے ہیں جن کے مطابق آپ بچوں کی جسمانی اور ذہنی تربیت کرسکتے ہیں اور ان کی تعلیمی ضروریات کو بھی ان چھٹیوں میں باآسانی پورا کرسکتے ہیں.

    آپ کو کرنا یہ ہے کہ بچوں کا چوبیس گھنٹے کا ٹائم ٹیبل بنائیں. کس ٹائم اٹھیں گے کس ٹائم سوئیں گے کیا کھائیں گے کیا پیئیں گے مطلب ہر چیز آپ کے چارٹ میں لکھی ہونی چاہیے. یہ زندگی کا سب سے مشکل کام ہوتا ہے کہ آپ اپنی ہر چیز کو کیلکولیٹ کریں لیکن موجودہ دنوں میں اس پر عمل درآمد کرنا بہت آسان ہے اور یہ آپ کی اور آپکے بچوں کی ساری زندگی کے لیے بہت کارآمد اور منافع بخش ثابت ہوسکتا ہے. جن والدین اپنے بچوں کی بری صحبت اور بری عادات کی شکایت رہتی ہے وہ ان دنوں میں وہ سب عادات اور بری صحبتیں چھڑوا کر اپنے بچوں کی بہترین روحانی اور جسمانی تربیت کرسکتے ہیں اور سب سے بڑھ کر ہمارے معاشرے میں بچوں اور والدین کے درمیان بہت بڑا ذہنی فرق ہوتا ہے اس کو ان دنوں میں دور کرکے آپ اپنے بچوں کو اپنا دوست بنا سکتے ہیں.
    آپ نے ان کا چوبیس گھنٹے کا شیڈول اور ٹائم ٹیبل بنا لیا ہے، ان کی ڈائٹ کا چارٹ بھی تشکیل دے دیا ہے تو اب آپ ایکٹیویٹز ، گیمز، لرننگ اور ایکسرسائز وغیرہ پر آجائیں.
    ایکسرسائز
    سب سے پہلے تو آپ اپنے بچوں کو ایکسرسائز کی عادت ڈالیں اس کے لیے کسی پارک جم یا کلب کو جوائن کرنا ضروری نہیں ہے ان دنوں میں ویسے بھی کہیں بھی جانے یا بچوں کو بھیجنے سے احتیاط برتیں کہ گھر رہنے میں ہی آپ کی بقاء ہے. اس کے لیے یوٹیوب پر بےشمار چینلز ہیں جو آپ کو بچوں اور بڑوں کی انڈور ایکسرسائز کروا سکتے ہیں آپ ان ویڈیوز کو دیکھ کر خود بھی اور بچوں کو بھی ایکسرسائز کروائیے. اسی طرح آپ اپنے بچوں کو حفاظت کی غرض سے سیلف ڈیفینس تیکنیکس لازمی سکھائیے.
    ایکٹیویٹیز
    آپ گھر میں چھوٹے بچے ہیں تو آپ گھر کے کسی کمرے یا کونے کو پارٹیشن کرکے بچوں کا ایکٹیویٹی روم بناسکتے ہیں اس میں بچوں کی دلچسپی کے لیے وال پیپرز، غبارے، لائٹس وغیرہ کا اہتمام کیا جاسکتا ہے اور اس ایکٹیویٹی روم میں آپ بچوں کو ڈرائنگ، ایلفابیٹک گیمز، پینٹنگ وغیرہ کی صورت بہترین ایکٹیویٹز میں مصروف کرسکتے ہیں بچوں کو رنگوں سے کھیلنا سکھائیے.
    گیمز
    آپ گھر کی چھت یا صحن میں بچوں کے ساتھ فٹ بال، کرکٹ، بیڈمنٹن کھیل سکتے ہیں. لیکن ایک بات یاد رکھیے کہ اس کے لیے محلے بھر کے بچوں کو ہرگز جمع نہ کیا جائے بلکہ ہر گھر والے اپنے اپنے بچوں کے ساتھ یہ گیمز کریں.
    تیراکی یا نہانا
    مارکیٹ سے بچوں کے لیے انڈور پولز باآسانی میسر ہوتے ہیں ویسے بھی موسم کی حدت میں اضافہ ہورہا ہے اور گرم موسم میں بچہ پانی کے ساتھ کھیلنے کو ترجیح دیتا ہے تو آپ گھر کے صحن میں یا کسی کونے میں اس پول میں پانی ڈال کر اپنے بچے کو گھنٹوں تک مصروف کرسکتے ہیں پانی میں جراثیم کش ڈیٹول کو بھی ملایا جاسکتا ہے لیکن اس بات کا خیال آپ نے رکھنا ہے کہ بچہ نہانے کے دوران پول سے پانی نہ پیئے.
    دینی تربیت
    گھر میں آپ بچوں کو خود سے قران سکھا سکتے ہیں اور سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے واقعات سنا کر ان کی دینی تربیت بہترین انداز سے کرسکتے ہیں. الرحیق المختوم سے روزانہ ایک دو پیجز بچوں کو پڑھ کر سنائے جاسکتے ہیں اگر آپ نہیں بھی پڑھ سکتے تو انٹرنیٹ پر آڈیو بکس میسر ہیں یہ اسٹوریز کی صورت بچوں کو اسلامی واقعات سناتے ہیں جن میں بچے خاصی دلچسپی لیتے ہیں.
    ڈاکیومینٹریز
    بچوں کی ذہنی بلوغت اور جنرل نالج میں اضافے کے لیے مختلف موضوعات پر ڈاکیومینٹریز انٹرنیٹ سے دکھا سکتے ہیں جن میں اسلامی ڈاکیومینٹریز، قیام پاکستان، نظریہ پاکستان، انسانی تاریخ وغیرہ
    کارٹونز
    شاید ہی کوئی گھر ایسا ہو جہاں بچے کارٹونز نہ دیکھتے ہوں اور بچے پھر ہر طرح کے کارٹونز دیکھتے ہیں جن کی وجہ سے ان کے عقائد اور اخلاقیات متاثر ہوتے ہیں آپ اپنے بچوں کے لیے کارٹونز کی سلیکشن خود کریں بے شمار صحیح العقیدہ اور اسلامی اور اخلاقی تربیت کرنے والے کارٹونز بھی ہیں مثال کے طور پر عمر اینڈ ہنہ کی سیریز ہے عبدالباری کی سیریز ہے اسی طرح کچھ ایسی کارٹونز کی سیریز ہیں جو بچوں کو قران سکھاتے ہیں تو آپ بچوں کو خود سے کارٹونز سلیکٹ کرکے دیں.
    لرننگ اور تعلیمی ضروریات
    اسکولز اور ٹیویشن سینٹرز بند ہوجانے کی وجہ سے بچوں کا تعلیمی سلسلہ مکمل رک گیا ہے لیکن اس معاملے میں بھی پریشان ہونے کی قطعاً ضرورت نہیں ہے بے شمار تعلیمی ویب سائٹس ہیں جن پر بچوں کا سارا تعلیمی نصاب میسر ہے اور آپ اپنے بچوں کے تعلیمی سلسلے کو ان ویب سائٹس کی مدد سے جاری رکھ سکتے ہیں مثال کے طور پر
    سبق ڈاٹ پی کے
    ای لرن پنجاب
    خان اکیڈمی
    بی بی سی لرننگ
    فیوچر لرن
    وغیرہ وغیرہ
    ہم امید کرتے ہیں ان ٹپس پر عمل کرکے آپ بچوں کو بہترین انداز میں مصروف بھی کرسکتے ہیں اور ان کی بہتر تعلیمی، روحانی اور جسمانی تربیت بھی کرسکتے ہیں.

    محمد عبداللہ کے مزید بلاگز پرھیے

  • اغواء شدہ بچوں کے والدین کی دہائیاں

    اغواء شدہ بچوں کے والدین کی دہائیاں

    قصور
    زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا قصور پولیس مبینہ اغواء ہونے والے بچوں بارے لاپرواہ
    مبینہ اغوا ہونے 3 بچوں کو پولیس تاحال بازیاب نا کروا سکی
    غربت کے مارے بچوں کے والدین کا ہاتھ جوڑ کر بچوں کی برآمدگی کا مطالبہ قصور پولیس تاحال ناکام والدین کی دہائیاں
    تفصیلات کے مطابق قصور سے اغواء ہوئے بچوں کے والدین نے ہاتھ جوڑ کر استدعا کی ہے کہ ان کے بچوں کو ڈھونڈا جائے منڈی عثمان والا کا عدیل 5 ماہ قبل اغواء ہوا جبکہ 2 دوست آصف اور ارشاد چند روز قبل اغواء ہوئے
    تھے جن کا سراغ لگانے میں پولیس ابھی تک ناکام رہی ہے
    اغواء ہونے والے بچوں کے لواحقین کا شدید احتجاج بچوں کی برآمدگی کا مطالبہ
    والدین نے میڈیا کو بتایا کہ پولیس ہمیں کہتی ہے خود بھی تلاش کریں ہم بھی تلاش کرتے ہیں مگر پولیس کی طرف سے ابھی تک کوئی خاص پیش رفت سامنے نہیں آئی لہذہ وزیر اعلی پنجاب اور ڈی پی او قصور نوٹس لے کر ہمارے بچوں کو ڈھونڈ کر ہم سے ملوائیں

  • بچوں کے اغواء کا ڈراپ سین

    بچوں کے اغواء کا ڈراپ سین

    قصور
    کوٹ رادہاکشن پولیس کی بڑی کاروائی 2 بچوں کے اغواء کا ڈراپ سین بچے سوتیلی ماں کے تشدد سے ڈر کر گھر سے بھاگے تھے
    تفصلات کے مطابق بچوں کے ڈراپ سین کو پولیس نے بے نقاب کر دیا
    گزشتہ دنوں سوتیلی ماں کے تشدد اور ڈانٹ ڈپٹ سے تنگ دونوں بچے گھر سے بھاگ کر اپنی سگی ماں کے پاس لاہور پہنچ گئے تھے
    دونوں بچے عبدالرحمان اور فرید نے والدین کو چھوڑنے کی کوشش کی مگر بے سود
    بچوں کی گمشدگی کی اطلاع بچوں کے والد نے 15 پر کال کی تھی جس پر ڈی پی او قصور نے نوٹس لیتے ہوئے ایس ایچ او کوٹرادہاکشن رائے ناصر عباس اور سٹی چوکی انچارج کامران شہزاد کو ٹاسک دیا کہ جلد سے جلد بچوں کو ڈھونڈیں
    پولیس نے موبائل فون سے بچوں کی لوکیشن ٹریس کر کے ڈھونڈ نکالا
    ڈی پی او قصور اور ڈی ایس پی صدر سرکل نے کوٹرادہاکشن پولیس کو شاباش دی اور کوٹرادہاکشن کی عوام نے پولیس کو خوب داد دی

  • متاعِ کارواں ۔۔۔ سلیم اللہ صفدر

    متاعِ کارواں ۔۔۔ سلیم اللہ صفدر

    بچپن میں جب سنتے تھے کہ شہروں کے اندر کچھ ایسے سینما بھی ہوتے ہیں جن میں بہن بھائی، باپ بیٹی ، ماں بیٹا اکٹھے بیٹھ کر فلمیں دیکھتے ہیں تو کافی حیرانگی ہوتی تھی. سن شعور کو پہنچا تو ایک دن اپنی بڑی بہن سے پوچھ بیٹھا کہ یہ سب اکٹھے بیٹھ کر دیکھنا کیسے ممکن ہے بھلا…ان کو شرم و حیا نہیں آتی. بہن کہنے لگی تم بھی تو سب کے سامنے بیٹھ کر عینک والا جن، انگار وادی، الفا براوؤ چارلی، آہن وغیرہ دیکھتے رہتے ہو اور صرف یہی نہیں بلکہ ابرارالحق کا دسمبر ، حدیقہ کیانی کی بوہے باریاں، شہزاد رائے کا کنگنا اور عدنان سمیع خان کی ڈھولکی نہ صرف سنتے ہو بلکہ گنگناتے بھی ہو…. تو ایک بار واقعی چلو بھر پانی کی ضرورت محسوس ہوئی تھی.

    میں نے پھر بھی ڈھیٹ بن کر سوال داغا کہ اس کے اندر تو اتنا کچھ برا نہیں ہوتا لیکن سینما فلموں میں تو سنا ہے بہت فحاشی ہوتی ہے…. بہن کہنے لگی جس طرح تم یہ سوچتے ہو کہ یہ کوئی اتنی برائی والی بات نہیں… ٹی وی پر فحاشی کم ہے فلموں میں زیادہ… تو اسی طرح شہروں والے لوگ بھی یہ سوچتے ہیں کہ پاکستانی فلموں میں اتنی فحاشی نہیں ہوتی انڈین اور انگریزی فلموں میں فحاشی زیادہ ہوتی ہے. اس دن کے بعد مجھے سمجھ آ گئی کہ اگر کوئی بری چیز آپ میں رچ بس چکی ہے تو وہ آپ کو بری نہیں لگے گی بالکل اسی طرح جیسے بھیڑ بکریوں کے ساتھ رہنے والا چرواہا ان کے پیشاب و مینگنی کی بدبو سے پریشان ہوئے بغیر سکون کے ساتھ ان کے قریب سو سکتا ہے….!

    لبرل طبقے نے پہلے ہمیں یہ سکھایا کہ عورت گھر میں قید نہیں کی جا سکتی… پھر مزید دو قدم آگے بڑھ کر پردے پر حملہ کیا کہ یہ معاشرتی ترقی میں رکاوٹ ہے اور اب اس سے اگلا قدم کہ پردے کے احکامات کو ہی داغ قرار دے دیا گیا… تضحیک کا نشانہ بنایا گیا. دکھ یہ نہیں کہ معاشرے میں بےپردگی و بے حیائی تیزی سے بڑھتی جا رہی ہے بلکہ دکھ یہ ہے کہ برائی کو برائی ہی نہیں سمجھا جا رہا… اور اسے معاشرتی ترقی کا نام دیا جا رہا ہے. اور حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے کہ یہ داغ ہمیں نہیں روک سکتے.

    وائے ناکامی متاعِ کارواں جاتا رہا….!
    کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا

    بات سیدھی سی ہے کہ پردہ اس لیے ضروری ہے تا کہ اگر عورت گھر سے باہر نکلے تو کرے… گھر کے اندر رہتے ہوئے تو اس نے چہرہ کھلا ہی رکھنا ہے . لیکن اب اگر عورت کو مستقل بنیادوں پر گھر سے باہر نکال دیا جائے… اسے ہر وہ کام کرنے کی ترغیب دی جائے جو مردوں کے کرنے والے ہیں… ماڈلنگ سے لیکر کرکٹ کھیلنے تک… گاہکوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے ائیر ہوسٹس سے لیکر سیلز گرل بنانے تک… تو یہ سارے کام کم از کم اسلام کے طریقوں کے مطابق نہیں. اسلام نے صرف مجبوری کی حالت میں یا چند فرائض کی بنیاد پر عورت کو گھر سے باہر آنے کی اجازت دی ہے (پردہ کر کے ).. ورنہ عمومی حکم تو گھر میں ہی رہنے کا ہے لیکن ان داغ دار دماغوں نے نہ صرف گھر میں ٹکنے کو داغ قرار دے دیا بلکہ پردہ کر کے گھر سے باہر آنے کو بھی. ان کی خواہش ہے کہ عورت گھر میں رہنے کی بجائے مرد کے شانہ بشانہ چلے اور ہر وہ کام کرے جو مرد کر سکتے ہیں اور یہ وہ ذہنی لیول ہے جب سوچا جاتا ہے کہ اس میں کون سی برائی ہے بھلا… صرف چہرہ ہاتھ اور پاؤں ننگے ہیں… شرم گاہ، سینہ، ٹانگیں وغیرہ تو ڈھانپی ہی ہوئی ہیں. انا للہ وانا الیہ راجعون.

    میں اس پر لکھنا نہیں چاہتا تھا لیکن صورتحال کافی تکلیف دہ محسوس ہو رہی تھی جس کی وجہ سے قلم اٹھانا پڑا. معاشرے میں بگاڑ اسی طرح پیدا ہوتا ہے کہ ایک برائی کو اچھائی یا روشن خیالی سمجھ کر اپنایا جاتا ہے اور جب وہ برائی برائی محسوس ہی نہ ہو تو اس کا مطلب یہ کہ بگاڑ کی ابتداء ہو چکی. کل تک معاملہ عورت کے گھر سے باہر نکل کر جاب کرنے کا تھا… آج کھیل میں عورت شامل ہو چکی ہے… صرف شامل نہیں ہو چکی بلکہ اسے اپنانے کی دعوت بھی دے رہی ہے. اور مستقبل کی تصویر کیا ہو سکتی ہے.. وہ آپ چشمِ تصور سے دیکھ لیں. یہ وہ لمحات ہوتے ہیں جب آپ کے معاشرے کی رائے عامہ آپ کو پرانے زمانے کا انسان قرار دے کر لات مارنے کے درپے ہوتی ہے تو ایسے موقع پر سب سے مناسب بات یہی ہے کہ ایسی رائے عامہ قائم نہ ہونے دی جائے ورنہ کل آپ بھی یہی کہیں گے کہ پاکستانی فلموں میں تو کوئی فحاشی نہیں ہوتی بہ نسبت انڈین اور انگریزی فلموں کے اس لیے یہ فلمیں اور ڈرامے اپنی بہنوں بھائیوں کے ساتھ بیٹھ کر دیکھے جا سکتے ہیں.

    ہو سکتا ہے کوئی یہ بھی سوچ رہا ہو کہ وہ پرانے وقتوں کی بات تھی جب سینما میں اکٹھے جانا مجبوری تھی یا ٹی وی پر بہنوں کے ساتھ بیٹھ کر ہی ڈرامے فلمیں دیکھی جاتی تھیں تو اب تو اپنا موبائل ہے جو مرضی دیکھیں… دوسروں کے ساتھ بیٹھ کر دیکھنے والی بات ہی نہیں کوئی. تو ان کے لیے اتنا عرض کروں گا کہ مان لیا جو کچھ آپ موبائل پر بند کمرے میں دیکھتے ہیں وہ اللہ کے علاوہ کسی کو نہیں معلوم لیکن جو واٹس اپ یا فیس بک سٹیٹس آپ لگاتے ہیں وہ بشمول خاندانی افراد ساری دنیا دیکھتی ہے مگر مزید یہ بھی کہ آپ کے گھر میں، آپ کی فیملیز کے ہاتھوں جو جو موبائل پر دیکھا جا رہا ہے وہ بھی اللہ کے علاوہ کسی کو معلوم نہیں.

    میرا بات کرنے کا مقصد یہ ہرگز نہیں کہ اپنی بہنوں بچوں سے موبائل چھین لیے جائیں… یا اپنا موبائل توڑ دیا جائے. اس کا یہ حل ہرگز نہیں. حل ہے تو بس یہی ہے کہ خود احتسابی کا عمل رکنے نہ پائے اور احساس بیدار رہے۔ ایسی رائے عامہ قائم کی جائے جو برائی کو برائی ہی سمجھے. اپنے ذاتی اعمال کا ہر بندہ خود ذمہ دار ہے لیکن یہ نہایت تکلیف دہ بات ہے کہ جس طرح میں بچپن میں سوچتا تھا.. کوئی یہ نہ کہے کہ ایک تیس سیکنڈ کا کلپ ہی تو تھا گانے کا اس کو واٹس اپ اسٹیٹس لگانے سے کیا ہوتا ہے بھلا…. جو ویسے بھی چوبیس گھنٹے کے بعد غائب ہو جائے گا.

  • ماں، ایک عظیم نعمت ۔۔۔ ملک صداقت فرحان

    ماں، ایک عظیم نعمت ۔۔۔ ملک صداقت فرحان

    عورت کو ماں کے روپ میں سب سے زیادہ عزت و مقام حاصل ہے۔ ماں کے روپ میں عورت کا کردار ہمیشہ سے زبردست اور قابل تعریف رہا ۔ اگر عورت کو اللہ پاک ماں نہ بناتا تو شاید آج دنیا آباد نہ ہوتی۔ دنیا میں موجود کوئی ایسی جاندار چیز نہیں جو ماں کے بغیر وجود میں آئی ہو۔ ماں اللہ پاک کی عظیم نعمت ہے۔ ماں اتنی عظیم نعمت ہے کہ دنیا کی کوئی بھی نعمت اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔
    نپولین بونا پاٹ کا کہنا تھا کہ ”مسرتوں کے ہجوم اور خوشیوں کے تلاطم میں ماں کی عظمت کو دیکھو“۔ چارلس ڈکنز کا کہنا تھا کہ ”ماں کا پیار سب سے خوبصورت اور بہترین ہے“۔ فردوسی کا کہنا تھا کہ ”اگر مجھ سے ماں چھین لی جائے تو میں پاگل ہوجاﺅں گا“۔ افلاطون کا کہنا تھا کہ ”ماں باپ سے زیادہ شفیق ہوتی ہے“۔ حضرت لقمان علیہ السلام کا قول ہے کہ ”ماں کا پیار کسی کو بتانے اور سکھانے کا نہیں“۔ سب سے بڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے کہ ”تمہاری جنت تمہاری ماں کے قدموں تلے ہے“۔
    ماں کے ہم پر بہت سے احسانات ہیں جو کہ ہم کبھی بھی نہیں چکا سکتے۔ انسان اگر جوان ہوتا ہے تو ماں کی دیکھ بھال کی بدولت۔ انسان اگر دنیا میں سر اٹھا کر چلتا ہے تو صرف ماں کی کی ہوئی اچھی تربیت کی بدولت۔ اگر انسان ماں کے احسانات کو بھول کر اس کے ساتھ بدسلوکی کرے تو اس جیسا بدبخت انسان کوئی نہیں۔ اگر کوئی انسان ماں کی خدمت کرے اس کا احترام کرے تو اس جیسا خوش نصیب انسان بھی کوئی نہیں۔ ماں کی خدمت کرنے والوں میں سب سے بڑا نام حضرت اویس قرنی رحمہ اللہ کا ہے۔ حضرت اویس قرنی رحمہ اللہ صحابی رسول صلی اللہ علیہ بننے کی خواہش دل میں لیے پھرتے تھے مگر بزرگ ماں کی موجودگی کی وجہ سے اس عظیم سعادت سے محروم رہے۔ ”حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تمہارے پاس ایک شخص آئے گا جس کا تعلق یمن کے شہر قرن سے ہوگا ماں کا خدمت گزار ہوگا اس سے اپنے لیے مغفرت کی دعا کروانا“ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی ملاقات حضرت اویس قرنی رحمہ اللہ سے ہوئی تو انہوں نے ان سے اپنے لیے دعا کروائی۔ تاریخ میں اور بھی بہت سے لوگوں کی مثالیں موجود ہیں جنہوں نے ماں کی خدمت کی اور خوب عزت پائی۔ ماں کبھی بچوں کو بد دعا نہیں دیتی۔
    مشہور واقعہ ہے احمد پور شرقیہ کا کہ ایک ماں نے اپنے بیٹے سے کچھ پیسے مانگے تو اس نے ماں کو مارا ماں زمین پر گرگئی زمین پر بیٹھے ہوئے اس خاتون نے دعا کی کہ اےاللہ اس سے ناراض نہ ہونا اس سے راضی ہو اس پر رحم کر۔ ماں بد دعا نہیں دیتی بچے اپنے کرتوتوں کی وجہ سے انجام کو پہنچتے ہیں۔ ماں اگر دعا کرے تو اس کی دعا کبھی رد نہیں ہوتی۔ آپ کو چاہیے کہ زندگی میں اگے بڑھنے کے لیے ماں کی دعائیں لیں۔ قران پاک میں اللہ پاک تین مقامات پر ماں کے ساتھ احسان کا حکم دیتا ہے۔
    ہمیں چاہیے کہ ماں کا احترام کریں، ان کی خدمت کریں ، ان کی فرمانبرداری کریں۔ اے اللہ پاک سب کو ماں کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرما اور ان خوش نصیبوں میں شامل فرما جو ماں کی خدمت کی بدولت عروج تک پہنچے۔ اللہ ہمیں اچھا بیٹا بننے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔

  • بچے، مسجد میں ۔۔۔ حافظ ابتسام الحسن

    بچے، مسجد میں ۔۔۔ حافظ ابتسام الحسن

    بچوں کی تعلیم و تربیت پر ہر قوم زور دیتی ہے، لیکن اسلام اور مسلمان اس حوالے سے بطور خاص حساس ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچوں کی تربیت پر بہت زور دیا ہے، اور تربیت میں بھی نماز کو اولین ترجیح دی ہے کہا کہ اگر بچے سات سال کے ہو جائیں تو انہیں نماز سکھلاؤ اور پڑھنے کی ترغیب دلاؤ اور دس سال کے ہو جائیں تو ان پر نماز کو فرض عین کر دو، اگر نہ پڑھیں تو ان کی پٹائی کرو، غور کرنے کی بات یہ ہے کہ اللہ کے رسول نے کسی اور معاملہ میں بچوں پر کبھی نہ سختی کی اور نہ کرنے کا حکم دیا، بلکہ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : "دس سال رسول اللہ کی خدمت کی (آپ نے کسی موقع پر) کبھی اف تک نہ کہا ۔” ایسے حلیم الطبع اور بچوں پر مشفق نبی نماز کے مسئلہ پر اگر بچوں پر سختی کا کہہ رہے ہیں تو ثابت ہوتا ہے کہ اسلام میں حکمِ نماز کتنا اہم اور حساس ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں بچے بڑے ذوق و شوق سے مسجد میں جایا کرتے تھے، بلکہ جناب عبداللہ بن عمر کہتے ہیں بچپنے سے لے کر کنوارے رہنے تک ہم سویا بھی مسجد میں ہی کرتے تھے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی چھوٹے بچوں کو مسجد میں لانے سے نہیں روکا۔ حدیث میں آتا ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "میرا دل کرتا ہے کہ میں نماز میں قرأت کو لمبا کروں، پھر میں بچوں کے رونے کی آوازوں کو پاتا ہوں تو میں قرأت کو مختصر کر دیتا ہوں۔ ” اس حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قرأت مختصر کردی مگر بچوں کو مسجد میں لانے سے منع نہیں کیا۔
    موجودہ دور بے راہ روی کا دور ہے، اس میں بچے تو کیا بچوں کے والدین بہت کم مسجد میں آتے ہیں۔ مسجدیں اپنے حجم کے حساب سے تقریبا ویران رہتی ہیں ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ بچوں اور ان کے والدین کو مساجد میں لا کر مساجد کی رونق کو دو بالا کیا جائے ۔اس حوالے سے ترکی نے سرکاری سطح پر ایک زبردست اقدام کیا، پہلے تو انہوں نے اپنی مساجد میں بچوں کے لیے کھیلنے کے لیے چھوٹے چھوٹے پلے گراؤنڈ بنائے، کہ سات سال سے چھوٹے بچے وہاں کھیلتے رہیں اور ان کے والدین با اطمینان نماز میں مشغول رہیں، پھر سات سال سے اوپر کے بچوں کے لیے یہ اعلان کیا کہ جو بچے چالیس دن نمازیں باجماعت ادا کریں گے انہیں بطور انعام سائیکلیں دی جائیں گی، جو کہ دی بھی گئیں ۔ان بچوں کی سائیکلوں کے ہمراہ تصاویر سوشل میڈیا پر کافی وائرل بھی ہوئی تھیں ۔ترکی کے بعد پاکستان کی کئی مساجد نے اپنے طور پر اس کار خیر کو اپنایا ۔ان میں گوجرانوالہ کی ایک مسجد کا پوسٹر مجھے دیکھنے کا اتفاق ہوا ۔اس کے بعد مسجد حلیمہ سعدیہ الرحمان گارڈن فیز ٹو نے یہ قدم اٹھایا، پہلے پہل تو یقین نہ آیا لیکن جب بچوں کو انعامات لیتے اور سائیکلوں کو سرپٹ دوڑاتے دیکھا، تو یقین مانیے دل کو بہت مسرت ہوئی ۔جامع مسجد حلیمہ سعدیہ الرحمان گارڈن فیز ٹو وہی مسجد ہے جہاں مجھے اس سال رمضان المبارک میں قرآن مجید سنانے کی سعادت حاصل ہوئی تھی، فللہ الحمد ۔
    اس مسجد میں رمضان المبارک سے قبل اعلان کیا گیا تھا کہ جو بچے پورا رمضان مغرب، عشاء اور فجر کی نمازیں باجماعت مسجد حلیمہ سعدیہ میں ادا کریں گے انہیں انعام میں سائیکلیں دی جائیں گی اور دیگر قیمتی انعامات بھی دیے جائیں گے ۔اس خبر کے نشر ہوتے ہی ٹاؤن کے بچوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی، وہ بڑھ چڑھ کر اپنا نام درج کروانے لگے
    پچاس بچوں نے اس میں حصہ لیا جو کہ بہت زبردست اور حوصلہ افزا تعداد تھی ، ماشاءاللہ ان پچاس بچوں کی مسجد آمد سے مسجد میں اچھی خاصی رونق ہوجاتی تھی، جس سے اس بات کی خوشی ہوتی تھی کہ ہم اپنی اگلی نسل تک دین پہنچا رہے ہیں ۔ان بچوں کی باقاعدہ حاضری لگتی تھی، جس کی ذمہ داری مسجد ہذا کے صدر ماسٹر مشتاق صاحب بڑی باقاعدگی سے نبھاتے رہے، جس پر وہ بھی اللہ کے ہاں یقینا اجر کے مستحق ہوں گے۔
    ان پچاس بچوں میں سے بیس بچے باقاعدگی سے آتے رہے اور ایک بھی نماز میں کمی نہیں کی ۔ان کی باقاعدگی کا یہ عالم تھا کہ یہ بچے اپنی نانی اماں اور دادی اماں کے ہاں افطاری پر بھی نہیں گئے، جس نے بھی دعوت دی اسے عید کے بعد کا وقت دیا، خوشی کی بات یہ ہے کہ یہ بچے طاق راتوں میں بھی مسجد میں جاگتے رہے ہیں اور عبادات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے ہیں ۔الحمد للہ اس وجہ سے مسجد حلیمہ سعدیہ میں پورا رمضان رونقیں لگی رہیں ۔
    بالآخر رمضان کے آخر جمعہ میں نماز کے بعد بچوں میں سائیکلوں اور دیگر انعامات کی تقسیم کے لیے ایک پروقار تقریب منعقد کی گئی اور ان پابند بچوں میں نئی، اچھی اور معیاری سائیکلیں تقسیم کی گئیں، جنہیں پاکر بچوں کی خوشی دیدنی تھی اور دین پر عمل پیرا ہونے کے جذبات دوگنا ہو چکے تھے۔
    ان بیس بچوں کے علاوہ باقی تیس بچوں کو جن کی حاضری میں کچھ کمی تھی، ان میں حاضری کے بقدر انعامات بانٹے گئے جو کہ قیمتی بھی تھے اور اصلاحی بھی ۔جس میں دارالسلام کی دینی کتب، معیاری خوشبوئیں، منی فینز، گاڑیاں اور دیگر اچھی چیزیں تھیں۔
    اس کاوش میں سب سے اہم کردار اس مسجد کے خطیب پروفیسر حافظ عثمان ظہیر صدر جمیعت اساتذہ پنجاب کا ہے۔انہوں نے یہ اقدام اٹھایا اور سائیکلوں و انعامات کے لیے کافی متحرک بھی رہے ۔ماسٹر مشتاق ورک صاحب جو مسجد کے صدر ہیں، نے بڑی باقاعدگی سے تینوں اوقات میں بچوں کی حاضری لگائی۔ اسی طرح محترم حبیب کبریا صاحب برادر مکرم حافظ عبدالعظیم اسد صاحب کا کردار بھی لائق تحسین ہے جنہوں نے دارالسلام کی خوبصورت پروڈکٹس کے تحفے بچوں کے لیے عنایت کیے۔
    آخر میں پیغام ٹی وی کے زیر اہتمام تقریب نے اس پروجیکٹ کو چار چاند لگادیے ۔پیغام ٹی وی نے اس پروقار تقریب کی کوریج کی اور اسے چینل پر چلایا
    ہمیں امید ہے مسجد حلیمہ سعدیہ کا یہ منصوبہ دوسری مساجد کے منتظمین کو بھی تحرک دے گا اور وہ بھی اپنے علاقے کے بچوں کو مساجد میں لانے کے لیے ایسے ہی اقدامات کریں گے۔ اور یہ عمل نیکی کے فروغ میں مشعلِ راہ ثابت ہو گا۔