Baaghi TV

Tag: بڑا

  • نومنتخب برطانوی وزیراعظم لز ٹرس کا بڑا اقدام

    نومنتخب برطانوی وزیراعظم لز ٹرس کا بڑا اقدام

    نومنتخب برطانوی وزیراعظم لز ٹرس نے انرجی بل دو سال کے لیے محدود کرنے کا اعلان کردیا۔ لندن سے برطانوی میڈیا کے مطابق وزیراعطم نے انرجی بلز میں اکتوبر سے ہونے والا اضافہ روک دیا۔

    برطانوی میڈیا نے مزید بتایا کہ اکتوبر سے انرجی بلز پر پرائس کیپ کو 3,549 سے کم کرکے 2,500 پاؤنڈ کر دیا گیا۔ پرائس کیپ کا اطلاق دو برس کیلئے انگلینڈ، ویلز اور اسکاٹ لینڈ پر ہوگا۔

    بلاول بھٹو کی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ آف امریکہ کے وفد سے ملاقات، سیلاب ریلیف پر شکریہ ادا کیا

    ادھر وزیراعظم لز ٹرس نے کہا کہ گرین لیوی کی معطلی سے اوسط گھرانے کے انرجی بلز پر ایک ہزار پاؤنڈ کی بچت ہوگی۔ ان کا کہنا ہے کہ گھریلو صارفین کی طرح کاروبار کو بھی انرجی بلز میں 6 ماہ تک رعایت ملے گی، چھ ماہ کے بعد کمزور انڈسٹریز کو فوکسڈ سپورٹ ملے گی۔

     

    ویتنام کے بار میں آتشزدگی، 32 افراد ہلاک، متعدد زخمی

     

     

    برطانوی وزیراعظم نے مزید کہا کہ بلز میں رعایت کے ساتھ انرجی کی قیمت کم کرنے کیلئے اقدامات کئے جائیں گے۔ چانسلر رواں ماہ کے آخرمیں مالیاتی پیکج کے اخراجات کا تعین کریں گے۔ انرجی بلز کی مد میں ہر گھرانے کیلئے حکومت کی طرف سے 400 پاؤنڈ کی مدد ملے گی۔

     

    امریکا نے پاکستان کو ایف 16 طیاروں کے سامان اورآلات فروخت کرنےکی منظوری دیدی

     

    لز ٹرس نے کہا کہ وہ جانتی ہیں کہ گھرانے اور فرمز فکر مند ہیں کہ موسم خزاں اور سرما کیسے گزاریں گے۔ انہوں نے کہا کہ روس کی یوکرین پر جارحیت اور یورپ کیلئے گیس بطور ہتھیار استعمال کرنے سے قیمت میں اضافہ ہوا۔

  • وزیراعظم کا بڑا اعلان،فکس ٹیکس اور بجلی کے بلوں پر فیول ایڈجسٹمنٹ سرچارج ختم کر دیئے

    وزیراعظم کا بڑا اعلان،فکس ٹیکس اور بجلی کے بلوں پر فیول ایڈجسٹمنٹ سرچارج ختم کر دیئے

    وزیراعظم شہباز شریف نے عوام اور تاجروں کے لیے بڑے ریلیف کا اعلان کرتے ہوئے تاجروں پر فکس ٹیکس اور بجلی کے بلوں پر فیول ایڈجسٹمنٹ سرچارج ختم کر دیئے، بجلی کے بلوں پر رعایت سے ایک کروڑ 71لاکھ صارفین مستفید ہوں گے جبکہ ملک بھر کے تین لاکھ ٹیوب ویل صارفین کو بھی فیول ایڈجسٹمنٹ سرچارج سے مستثنیٰ قرار دیدیا گیا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ جب موجودہ حکومت برسر اقتدار آئی تو ہمارے سامنے دو بڑے اہداف تھے، سابق حکومت کی بدترین کارکردگی اور نااہلی کی وجہ سے ملک دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ چکا تھا، ملکی معاملات کو بہتر بنانے کی ضرورت تھی، دوسرا ماضی کی حکومت کی نااہلی اور غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملک میں مہنگائی کا طوفان آیا، دنیا میں بھی یہی صورتحال تھی، موجودہ حکومت مہنگائی کم کرنے کیلئے دن رات کوشش کر رہی ہے اور اس کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں اگرچہ اس میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی لیکن دن رات کوشاں ہیں اور مہنگائی کے جن کو بھی بوتل میں بند کر دیا جائے گا، مہنگائی پر قابو پانے میں جلد کامیاب ہو جائیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ ملک کو معاشی مشکلات سے نکالنے کیلئے دن رات کام کر رہے ہیں، حالیہ بجٹ میں تاجروں پر فکس ٹیکس عائد کیا گیا اور تاجروں پر فکس ٹیکس بجٹ سے پہلے والی گفتگو کی روح کے خلاف ہے، فکس ٹیکس سے چھوٹے تاجروں کو بے پناہ مالی بوجھ کا سامنا کرنا پڑا حالانکہ یہ ٹیکس عائد کرنا حکومت کی منشا تھی اور نہ ہی اس کی ہدایت کی گئی تھی، فکس ٹیکس کے ذمہ داروں کا تعین کرنے کیلئے کمیٹی بنا دی گئی ہے جو اس کی مکمل تحقیقات کرے گی، تاجروں پر 3 ہزار، 6 ہزار اور 10 ہزار کی شرح سے فکس ٹیکس عائد کیا گیا تھا، یہ اب ختم کر دیا گیا ہے اور اس کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے، فکس ٹیکس کے خاتمہ سے 42 ارب روپے کا خسارہ ہو گا لیکن یہ دیگر وسائل سے پورا کیا جائے گا، چھوٹے تاجروں کو مشکلات میں ہم نہیں ڈالنا چاہتے تھے، فکس ٹیکس کا مقصد یہ تھا کہ تاجروں کو انکم ٹیکس کے اداروں کی چیرہ دستیوں سے بچایا جا سکے لیکن یہاں پر الٹی گنگا بہنا شروع ہو گئی، تاجروں کو فکس ٹیکس کے معاملہ پر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

    شہباز شریف نے کہا کہ بیرون ملک سے اگر زیادہ قیمت پر تیل درآمد کیا جائے تو پھر اگلے ماہ کے بجلی کے بلوں میں فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی جاتی ہے اور اگر سستا تیل درآمد ہو تو پھر فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ میں بجلی کے بلوں میں کمی ہو جاتی ہے چونکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں بے تحاشا اضافہ ہو گیا تھا اس لئے جولائی اور اگست میں فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں خاصا اضافہ ہوا جو عام آدمی کیلئے ناقابل برداشت تھا اور اس سے کروڑوں صارفین پر بوجھ پڑا، اس معاملہ کا بھی فوری نوٹس لیا گیا اور چار، پانچ دن سے اس پر غور ہو رہا تھا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف کی یہ ہدایت تھی کہ کسی طور بھی یہ قابل قبول نہیں ہے، نواز شریف اور اتحادی جماعتوں کے قائدین کی مشاورت سے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی وصولی ختم کر دی گئی ہے، آئی ایم ایف سے بھرپور مشاورت کے بعد عوام کو ریلیف دینے کا فیصلہ کیا ہے اور بجلی کے تین کروڑ صارفین میں سے ایک کروڑ 71 لاکھ صارفین کیلئے فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز ختم کر دیئے گئے ہیں، باقی ایک کروڑ 30 لاکھ صارفین جن میں صاحب ثروت لوگ شامل ہیں، ان کو بھی ریلیف دینے پر غور کر رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ہم مشکل دور سے گزر رہے ہیں، قطر ہمارا دوسرا گھر ہے، قطر کے ساتھ تجارت و سرمایہ کاری کے حوالہ سے گفتگو ہوئی ہے تاکہ پاکستان کے عوام کی خوشحالی کیلئے منصوبے شروع کئے جائیں اور ان پر عملدرآمد ہو، عوام کی خوشحالی کیلئے دن رات محنت کر رہے ہیں،عوامی فلاح کے منصوبوں پر سیاست کرنے پر یقین نہیں رکھتے لیکن 2019ء اور اس کے بعد کے منصوبوں پر عملدرآمد کے حوالہ سے ہم سے سوالات کئے گئے ہیں، پچھلی حکومت کے چار سال کی نااہلی کا چار ماہ میں جواب کیسے دے سکتے ہیں۔

    وزیراعظم نے کہا کہ رونے دھونے سے کچھ نہیں ہو گا، عملی اقدامات پر یقین رکھتے ہیں، خلوص اور استقامت سے محنت کرنا پڑے گی اور اپنا خون، پسینہ بہانا پڑے گا تو اﷲ تعالیٰ ہمارے دن پھیر دے گا اور اچھے دن آئیں گے، دن رات ایک کرکے پاکستان کی تقدید بدلیں گے۔ وفاقی وزیر بجلی خرم دستگیر بدھ کو پریس کانفرنس میں فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے حوالہ سے فیصلوں پر عملدرآمد سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کریں گے۔

    انہوں نے کہا کہ تین لاکھ ٹیوب ویلوں کو بھی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ سے استثنیٰ دے دیا گیا ہے، انہیں بھی کوئی ادائیگی نہیں کرنا پڑے گی، حکومتی اقدامات سے پاکستان کے عوام کو احساس ہو گا کہ ان کی حکومت پوری تندہی کے ساتھ ان کے حالات بدلنے کیلئے کوشاں ہے۔

  • پرویز الہیٰ کا بڑا اعلان، سیلاب متاثرہ علاقوں کیلئے آبیانہ اورمالیہ معاف

    پرویز الہیٰ کا بڑا اعلان، سیلاب متاثرہ علاقوں کیلئے آبیانہ اورمالیہ معاف

    وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے راجن پور،تونسہ،ڈیرہ غازی خان اورعےٰسی خیل کے سیلاب متاثرین کو ریلیف دینے کے لئے بڑا اعلان کیا ہے۔وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے سیلاب متاثرہ علاقوں کیلئے آبیانہ اورمالیہ معاف کرنے اورسیلاب متاثرہ علاقوں میں ایمرجنسی کے نفاذ کااعلان کیاہے۔

    وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے کہاہے کہ تمام سیلاب متاثرہ علاقوں کو آفت زدہ قرار دے دیاگیاہے۔ وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے مالی امداد جلد از جلد سیلاب متاثرین تک پہنچانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ گھروں،فصلوں اورلائیوسٹاک کو پہنچنے والے نقصان کا پورا ازالہ کیا جائے گا۔نقصانات کے ازالے کیلئے جتنی جلدی ممکن ہوسکے سروے شروع کیا جائے۔

    سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے اضافی فنڈز فراہم کیے جائیں گے۔سیلاب سے متاثرہ افراد کو ان کے نقصانات کا پورا معاوضہ ادا کیا جائے گا۔وزیراعلیٰ چودھری پرویزالٰہی نے سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو اورڈی جی پی ڈی ایم اے کو آج ہی سیلاب متاثرہ علاقوں میں جانے کی ہدایت کی ہے۔وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے کابینہ کمیٹی برائے ڈیزاسٹر مینجمنٹ فی الفور تشکیل دینے کی ہدایت کی ہے۔

    وزیراعلیٰ نے مزید ہدایت کی کہ سیلاب سے متاثر ہونے والی سڑکوں کی بحالی کیلئے ہنگامی پلان مرتب کیا جائے اوربارشوں کے نئے سلسلے کے پیش نظر ڈیرہ غازی خان،تونسہ،راجن پور میں تمام انتظامات مکمل رکھے جائیں۔ضروری سازو سامان اور فوڈ ہیمپرزمتاثرہ علاقوں میں وافرتعداد میں پہنچایا جائے۔ انہوں نے کہاکہ پنجاب حکومت سیلاب متاثرہ بہن بھائیوں کے ساتھ کھڑی ہے۔

    وزیراعلیٰ چودھری پرویزالٰہی نے بھارت کی جانب سے چھوڑے جانے والے پانی کی تسلسل سے مانیٹرنگ کی ہدایت کرتے ہوئے کہاکہ قیمتی پانی تباہی مچاتا ہوا ضائع ہوتا ہے،اس پانی کو محفوظ بنانے کی جامع منصوبہ بندی کی جائے۔وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے سیکرٹری آبپاشی کوواٹرسٹوریج کے حوالے سے پلان پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ پاک فوج کے دستوں نے لوگوں کی بروقت مدد کی اور محفوظ انخلاء کو یقینی بنایاجس پر کورکمانڈر ملتان کا تہہ دل سے مشکور ہوں۔میں پاک فوج کا شکریہ ادا کرتا ہوں جن کے تعاون سے کئی لوگوں کی قیمتی جانوں کو پچاناممکن ہوا۔پاک فوج سیلاب متاثرین کی مدد میں پیش پیش ہے۔ آزمائش کی ہر گھڑی میں پاک فوج قوم کے ساتھ کھڑی رہی ہے۔

    پنجاب حکومت مصیبت میں گھرے بہن بھائیوں کی مدد پر پاک فوج کے کردارکو سراہتی ہے۔انہوں نے کہاکہ سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے مخیرحضرات کو بھی آگے آنا چاہیے۔سیلاب متاثرین کی بحالی کے کاموں میں این جی اوزاوردیگر اداروں کو بھی پورا سپورٹ کریں گے۔وزیراعلیٰ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایاگیا کہ کوہ سلیمان میں کل سے بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہو رہا ہے۔بارشوں کا نیا سلسلہ 26اگست تک جاری رہے گا۔ڈیرہ غازی خان، راجن پور،تونسہ میں ایک بار پھر سیلاب کا خدشہ ہے۔ڈیرہ غازی خان اور راجن پور میں 3لاکھ سے زائد آبادی متاثرہوئی ہے۔

    پنجاب حکومت تقریباً23ہزار ٹینٹ متاثرین کو فراہم کرچکی ہے اورتقریباً36ہزارفوڈ ہیمپرزمتاثرین میں تقسیم کیے جاچکے ہیں۔وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی کی زیر صدارت راجن پور،تونسہ،ڈی جی خان میں سیلاب کی صورتحال کا جائزہ لینے سے متعلق ہنگامی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں جنوبی پنجاب کے علاقوں میں سیلاب کی صورتحال اورریسکیو آپریشن اینڈ ریلیف آپریشن کا جائزہ لیا گیا۔

    وزیراعلیٰ کو دریاؤں کی صورتحال، سیلاب متاثرین کیلئے امدادی سرگرمیوں کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔چیف سیکرٹری کامران افضل، انسپکٹر جنرل پولیس فیصل شاہکار، پرنسپل سیکرٹری وزیر اعلی پنجاب محمد خان بھٹی،سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو، سیکرٹریز آبپاشی، صحت، ہاؤسنگ، لائیوسٹاک، لوکل گورنمنٹ، تعمیرات و مواصلات،پاک فوج کے نمائندے، ڈی جی پی ڈی ایم اے، ڈی جی ریسکیو 1122لاہور اور متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی جبکہ جوائنٹ سیکرٹری واٹر ڈویژن، کمشنر ڈیرہ غازی خان، کمشنر بہاولپورنے اپنے دفاتر سے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔

  • 22جولائی کوجو بھی رزلٹ آیا، قبول کروں گا،حمزہ شہباز

    22جولائی کوجو بھی رزلٹ آیا، قبول کروں گا،حمزہ شہباز

    وزیر اعلی حمزہ شہباز نے کہا کہ صوبہ پنجاب کئی ماہ سے آئینی بحران کا شکار ہے،کبھی الیکشن ملتوی تو کبھی حلف کا معاملہ التوا ، کبھی گورنر آ رہا تو کبھی وہ سمری کو مسترد کررہے ہیں، پنجاب میں جتنے آئینی بحران تین ماہ میں آئے تو گینز ورک آف ریکارڈ میں آ جائیں.

    پنجاب اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حمزہ شپہباز نے کہا کہ کابینہ نہ ہونے کے باوجود گندم کسانوں سے بائیس سو روپے من خریدی جو ساڑھے پانچ من بین الاقوامی سطح پر ہے، دس کلو آٹے پر دو سو ارب روپے کی سبسڈی دی،پہلے جولائی ہے پنجاب کے تمام اضلاع ٹی ایچ کیو اور چودہ ہسپتال میں مفت ادویات ملنے جارہی ہیں.

    وزیراعلی پنجاب حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ میں نے یہ نہیں کہا کہ تین ماہ دے دو، دودھ کی نہریں بہا دوں گا.انہوں نے بتایا کہ سپریم کورٹ میں پرویز الہی اور پی ٹی آئی کا موقف الگ تھا، جمہوری انسان ہوں ستائیس سال جدوجہد کی، عدالت عظمی کو بتایا کہ اگر میرے پاس نمبر نہ ہوتے تو سامنے پیش نہ ہوتا ،گھر چلا جاتا.

    حمزہ شہباز نے کہا کہ ابھی الیکشن کروائیں جو ایوان فیصلہ کرے گا دل سے قبول کروں گا،ضمنی الیکشن کے بعد بائیس کو دوبارہ الیکشن کروائیں ،تو بھی قابل قبول ہوگا ،،سترہ کوبھی عوام کا فیصلہ قبول کروں گا، آئینی بحران کےباوجود عوامی منصوبوں سے کوئی نہ روک سکے گا۔ پہلے عدالت عالیہ کا فیصلہ آیا آج چیف جسٹس خود بیٹھے رہے،ان کے اپنے وکلاء، پارلیمانی لیڈر نے جو موقف دیا بائیس جولائی کو انتخاب ہوگا جو بھی رزلٹ آئے گا قبول کریں گے.

    حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ اللہ سے ڈر کر کہتاہوں پنجاب کی عوام نوازشریف اور شہبازشریف پر اعتماد کااظہار کریں گے،پیٹرول کی قیمتیں عمران خان کی وجہ سے بڑھیں، عمران خان ایک طرف آئی ایم ایف سے وعدے کررہا تھا،اور دوسری طرف کہہ رہا تھا کہ عوام کو سستا پیٹرول دوں گا، ہم نے دل پر پتھر رکھ کر حکومت بچانے کےلئے نہیں پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچانے کےلیے سخت فیصلے کئے.

    وزیر اعلی پنجاب کا مذید کہنا تھا کہ سیاسی بوجھ سے جو مسلم لیگ ن نے اٹھایا ہے عوام کو معلوم ہے جب بجلی کے اندھیرے آئے تو ایٹمی قوت کے بعد بجلی کی لوڈ شیڈنگ ختم کی،انہون نے کہا کہ پنجاب اسمبلی سے میڈیا پر پابندیاں اٹھائیں گے،گرانٹ اس ماہ صحافیوں کو دیں گے ،عسکری ادارے کے سربراہ کے خلاف زہر اگلا گیا ،نیازی کی سازش کاپول کھل گیا ہے،فرح گوگی، توشہ خانہ ،چوریاں چھپانے کا پروگرام تھا.

    حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ سترہ جولائی کا دن دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوگا ،ن لیگ سترہ جولائی کو جیتے گئ، مشکل وقت ہے دل پر پتھر کر فیصلے کررہۓ سخت فیصلے کے بعد عوام کےلئے آسانیاں آئیں گی.عدالت عظمی میں کہا آپ کا وقت قیمتی ہے جس طرح ڈپٹی سپیکر پر جان لیوا حملہ کیاگیا کون شاباشی کے اشارے کرتا رہا،کس منہ سے حراساں کا ہم انتقام نہیں لیں گے قانون اپنا راستہ ضرور لےگا.

    قبل ازیں وزیرِ اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف نے بڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ میرے پاس گنتی پوری ہے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے طلب کیے جانے پر وزیرِ اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف نے لاہور رجسٹری پہنچنے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کے دوران انہوں نے یہ بات کہی۔

     

     

    عدالت نے تحریک انصاف کو سات دن کی مہلت دینے سے انکار کردیا

     

     

    قبل ازیں وزیرِ اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز اور اسپیکر پرویز الہٰی سپریم کورٹ لاہور رجسٹری پہنچے تھے.حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ میں جہاں سے آ رہا ہوں وہاں گنتی پوری کر کے آ رہا ہوں، معاملہ ابھی کورٹ میں ہے، دیکھتے ہیں کہ کیا ہوتا ہے۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے لاہور ہائی کورٹ کے گزشتہ روز کے فیصلے کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواست کی سماعت کے دوران وزیرِ اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز اور اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہٰی کو طلب کر رکھا تھا.

    قبل ازیں چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس جمال خان مندوخیل بینچ میں شامل ہیں پی ٹی آئی کے وکیل ڈاکٹر بابر اعوان روسٹرم پر آگئے ویڈیو لنک پر لاہور سے وکیل امتیاز صدیقی پیش ہوئے ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ 5درخواستیں ہیں کس کی طرف سے کون سا وکیل پیش ہورہا ہے ؟ بابر اعوان نے کہا کہ میں درخواست گزار سبطین خان کی طرف سے پیش ہورہا ہوں 16 اپریل کو حمزہ شہباز کو وزیر اعلیٰ منتخب کرنے کا انتخاب ہوا، وزیراعلیٰ کے انتخاب کے روز فلور پر پرتشدد ہنگامہ ہوا، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جس جج نے اختلافی نوٹ دیا ہے وہ ایک نکتے پر متفق بھی ہوئے ،فیصلے میں کہا ہے کہ جنہوں نے 197 ووٹ لیے ان میں سے25 نکال دیئے ہیں،جب وہ 25 ووٹ نکال دیتے ہیں تودوبارہ گنتی کرائیں، 4 ججز نے یہ کہا ہے کہ پہلے گنتی کرائیں اگر 174 کا نمبر پورا نہیں تو پھر انتخاب کرائیں،آپ یہ کہنا چاہتے ہیں آپ کے کچھ ممبران چھٹیوں اور حج پر گئے ہیں،جتنے بھی ممبرا یوان میں موجود ہوں گے اس پر ووٹنگ ہوگی،جو کامیاب ہوگا وہ کامیاب قرار پائے گا،آپ کی درخواست ہے کہ وقت کم دیا گیا ہے،

    بابر اعوان نے کہا کہ استدعا ہے زیادہ سے زیادہ ممبران کو ووٹ ڈالنے کی اجازت دی جائے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کی درخواست میں یہ بات نہیں ہم درخواست کو پڑھ کر آئے ہیں،بنیادی طور پر آپ یہ مانتے نہیں کہ فیصلہ آپ کے حق میں ہوا ہے،بابر اعوان نے کہا کہ اصولی طور پر اس فیصلے کو مانتے ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ 4ججز نے آج کی اور ایک جج نے کل کی تاریخ دی ہے،کیا آپ کل کی تاریخ پر راضی ہیں ؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو ممبران کہیں گئے ہوئے ہیں وہ 24سے48 گھنٹوں میں پہنچ سکتے ہیں؟ بابر اعوان نے عدالت سے استدعا کی کہ ہم الیکشن لڑنا چاہتے ہیں ، لیول پلینگ فیلڈ کیلئے وقت دیا جائے،ہمیں سات دن کا وقت دیا جائے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سات دن کا وقت مناسب نہیں ہے۔ بابر اعوان نے کہا کہ
    ہم تو دس دن چاہتے تھے ، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ بتائیں جو مناسب وقت آپ کو چاہیئے، بابر اعوان نے کہا کہ ہماری پانچ مخصوص نشستوں پر خواتین کا نوٹیفیکیشن ہونا ہے اس کو سامنے رکھا جائے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے بابر اعوان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ سات دن صوبہ وزیر اعلی کے بغیر رہے گا۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آئین میں کیا ہے لکھا ہے کہ اگر وزیر اعلی موجود نہ ہوتو صوبہ کون چلائے گا۔ بابر اعوان نے کہا کہ اس صورت میں گورنر اس وزیر اعلی کو نئے وزیر اعلی آنے تک کام جاری رکھنے کی ہدایت کرتا ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ صوبہ دو دن بغیر وزیر اعلی کہ رہ سکتا ہے، بابر اعوان نے کہا کہ ایسی صورت میں عبوری حکومت آئے گی اگر وزیر اعلی بیمار ہو تو سینیئر وزیر انتظامات سنبھالے گا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اب ہم سمجھے ہیں کہ ہائیکورٹ کے 5 رکنی ججز نے ایسا فیصلہ کیوں دیا،وہ چاہتےہیں کہ صوبے میں حکومت قائم رہے۔ موجودہ وزیراعلی ٰنہیں تو پھر سابق وزیر اعلی ٰکا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا،سابق وزیر اعلی کی اکثریت میں سے 25 میمبران تو نکل گئے ہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر25 ووٹرز نکال لیں تو پھر موجودہ وزیر اعلی ٰبھی برقرارنہیں رہتا ،وکیل فیصل چودھری نے کہا کہ اگر ہمارے 25ممبران نکل بھی جائیں تو 169 ہمارے پاس ہیں،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر وزیراعلی کے پاس 186 ووٹ نہیں ہیں تو انکا فی الحال وزیراعلی برقرار رہنا مشکل ہے،بابر اعوان نے کہا کہ پنجاب میں ایک قائم مقام کابینہ تشکیل دی جا سکتی ہے،