Baaghi TV

Tag: بگٹی

  • کراچی،بگٹی خاندان لڑ پڑا، 5 ہلاک،دو زخمی،12 گرفتار

    کراچی،بگٹی خاندان لڑ پڑا، 5 ہلاک،دو زخمی،12 گرفتار

    شہر قائد رکراچی، دو گروپوں میں‌گولیاں چل گئیں، آپسی فائرنگ کے نتیجے میں 5 افراد ہلاک جبکہ دو زخمی ہو گئے پولیس نے کاروائی کرتے ہوئے 12 افراد کو گرفتار کر لیا

    واقعہ ڈیفنس خیابان نشاط میں پیش آیا،اطلاع پر پولیس موقع پر پہنچ گئی، پولیس حکام کے مطابق فہد بگٹی گروپ اور علی حیدر بگٹی گروپ کے درمیان فائرنگ ذاتی جھگڑے کی وجہ سے ہوئی،فائرنگ کے نتیجے میں ایک گروپ کے 3 اور دوسرے گروپ کے دو افراد کی موت ہوئی ہے، ہلاک اور زخمی ہونیوالے تمام افراد آپس میں رشتے دار ہیں، دونوں گروپوں کا تعلق نوابزادہ اکبر بگٹی کے خاندان سے ہے، ہلاک افراد میں نوابزادہ اکبر بگٹی کا بھتیجا اور بھانجا بھی شامل ہے،ہلاک ہوانے والوں میں میر میثم بگٹی، میر عیسیٰ بگٹی، علی، فہد اور نصیب اللّٰہ شامل ہیں جبکہ زخمی میر علی حیدر بگٹی اور قائم علی کا علاج جاری ہے۔

    وزیر داخلہ سندھ نے ایڈیشنل آئی جی سے واقعے کی تفصیلات طلب کرلی ہے اور کہا ہے کہ کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہوسکتا، قانون کی رٹ کے قیام کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں۔

    بعد ازاں پولیس نے کاروائی کرتے ہوئے 12 افراد کو گرفتار کر لیا، گرفتارتمام افراد کا تعلق بگٹی برادری کے دونوں گروپوں سے ہے گرفتار افراد سے اسلحہ بھی برآمد کیا گیا ہے، جبکہ واقعے سے متعلق تفتیش کی جارہی ہے۔

    عمران خان اور پی ٹی آئی نے ملک دشمنی میں تمام حدیں پار کر دیں

    14 سال سے خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی سرکار،اربوں بجٹ وصول،کارکردگی زیرو

    عمران پر جیل میں تشدد ہوا،مجھے مرد اہلکار نے…بشریٰ بی بی نے سنگین الزام عائد کر دیا

    عبوری ضمانت "معصوم” فرد کا حق ہے،نومئی مقدمے،عمران کی ضمانت مسترد ہونے کا فیصلہ

    پی ٹی آئی میڈیا کوآرڈینیٹر سے دھماکہ خیزمواد برآمد،کالعدم تنظیموں سے تعلق،جسمانی ریمانڈ مل گیا

    تحریک انصاف کے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کے خلاف کریک ڈاون کا آغاز ہو گیا

    مہنگی بجلی، زیادہ تر آئی پی پیز پی ٹی آئی رہنماؤں کی ملکیت نکلیں

    طبل جنگ بج گیا، لڑائی شروع،پی ٹی آئی پرپابندی

    ہر نئے ریلیف کے بعد اک نیا کیس،عمران خان کی رہائی ناممکن

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

  • شفاف انتخابات کیلئے الیکشن کمیشن کے ساتھ ہر ممکن تعاون کریں گے،وزیر داخلہ

    شفاف انتخابات کیلئے الیکشن کمیشن کے ساتھ ہر ممکن تعاون کریں گے،وزیر داخلہ

    اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف سے نگران وفاقی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کی ملاقات ہوئی ہے

    ملاقات میں ملک کی مجموعی امن وامان کی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، ملاقات کے موقع پر آئندہ انتخابات اور سلامتی سے متعلق امور بھی زیر بحث آئے۔اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے ملک میں مان وامان کی صورتحال پر اطمینان کا اظہارکیا،اسپیکر نے ملک میں امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے وزارت داخلہ کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کو سراہا۔

    نگران وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ ملک میں شفاف انتخابات کیلئے الیکشن کمیشن کے ساتھ ہر ممکن تعاون کریں گے،نگران وزیر داخلہ نے سپیکر قومی اسمبلی کو غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں سے متعلق اٹھائے گئے اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔

    دوسری جانب سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس ہوا، جس میں نگران وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دی، سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ ہم نے پاکستان سے غیر ملکی مقیم باشندوں کو نکالنے کی بات کی تھی، لیکن اسکو غلط لیا گیا،ہم نے غیر قانونی مقیم افراد کو نکالنے کا کہا اور سمجھا گیا کہ ہم صرف افغانوں کو نکال رہے ہیں، ایسا نہیں ہے، حکومت کا پیغام پاکستان میں مقیم تمام غیرقانونی مقیم افراد کے لیے ہے کسی بھی ملک میں یہ نہیں ہوتا کہ کسی دوسرے ملک کا شہری غیرقانونی طور پر آ کر بیٹھ جائے، ہاں اگر کسی کے پاس ریفیوجی کارڈ ہے یا ویزا ہے تو وہ ہمارا مہمان ہے

     مستونگ اور ہنگو دھماکے قابل مذمت اور انتہائی افسوسناک ہیں ۔

    مستونگ جلوس میں خودکش دھماکے کے بعد ہنگو مسجد میں بھی دھماکہ ہو گیا ہے

    جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

  • سابق وزیرداخلہ سرفرازبگٹی کے قافلے پر ریموٹ کنٹرول بم دھماکا

    سابق وزیرداخلہ سرفرازبگٹی کے قافلے پر ریموٹ کنٹرول بم دھماکا

    کوئٹہ :بلوچستان کے سابق وزیرداخلہ سینیٹر سرفراز بگٹی کے قافلے کے قریب ریموٹ کنٹرول بم دھماکا ہوا ہے، دھماکے میں گارڈ زخمی ہوگیا، جبکہ سینیٹر سرفراز بگٹی دھماکے میں محفوظ رہے۔

    ذرائع کے مطابق کشمور ڈیرہ بگٹی روڈ پرسینیٹر سرفراز بگٹی کے قافلے کے قریب دھماکا ہوا ہے، دھماکے میں سینیٹر سرفراز بگٹی دھماکے میں محفوظ رہے، دھماکا سرفراز بگٹی کی گاڑی گزرنے کے بعد ہوا، جس کے باعث قافلے میں شامل دوسری گاڑی کو نقصان پہنچا اور ایک گارڈ زخمی ہوگیا ہے۔

    ڈی سی ڈیرہ بگٹی ممتاز کھیتران کا کہنا ہے کہ جس مقام پر دھماکہ ہوا وہ روجھان پور کا علاقہ ہے، ڈیرہ بگٹی کی انتظامیہ بھی موقع پر پہنچ رہی ہے۔بتایا گیا ہے سینیٹر سرفراز بگٹی عید منانے ڈیرہ بگٹی جا رہے تھے

    یاد رہے کہ اس سال کے آغاز میں بھی سرفرازبگٹی پرقاتلانہ حملہ ہوا جس میں وہ بال بال بچ گئے تھے،یہ جنوری 2022 کا واقعہ ہے جب بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی کے علاقے سوئی میں موندرانی مٹ کے قریب دہشت گرد وں نے حملہ کیا ہے، بم دھماکے کے نتیجے میں 4 لیویز اہلکار شہید اور 9 افراد زخمی ہو گئے۔

    سابق وزیرِ داخلہ بلوچستان و سینیٹر سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ شہید افراد میں ان کے کزن بھی شامل ہیں، بلوچ ریپبلکن آرمی کے دہشت گرد اس حملے میں ملوث ہیں۔

    سابق وزیرِ داخلہ بلوچستان، سینیٹر سرفراز بگٹی کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت مذاکرات کے نام پر مذاق کر رہی ہے حالانکہ لوگوں کی مدد کرنا ریاست کی ذمے داری ہے۔

    ایسے ہی 2016 میں بھی سرفرازبگٹی پرحملہ ہوا تھا جس میں‌ وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کے قافلے پر دوبارہ قاتلانہ حملہ کیا گیا،جس میں سرفراز بگٹی محافظوں سمیت حملے میں محفوظ رہے۔ اس وقت صوبائی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی سوئی سے ڈیرہ بگٹی جا رہے تھے کہ گھات لگائے دہشت گردوں نے ان کے قافلے پر حملہ کردیا، خوش قسمتی سے صوبائی وزیر داخلہ محافظوں سمیت قاتلانہ حملے میں محفوظ رہے، لیویز اور فورسز کی جوابی فائرنگ سے حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے

  • بلوچستان بھی پاکستان ہے… محمد عبداللہ

    بلوچستان بھی پاکستان ہے… محمد عبداللہ

    اللہ کی عظیم نعمتوں اور معدنیات سے مالا مال مگر حکمرانوں کی عدم توجہی کا شکار ہمارا بلوچستان پاکستان کا ہی صوبہ ہے. دوران سفر میں نے کراچی سے کوئٹہ اور کوئٹہ سے فورٹ منرو تک بلوچستان کے بیسیوں شہر دیکھے، سنگلاخ چٹانیں، خشک پہاڑ، میلوں تلک پھیلی سطح مرتفع، کہیں کہیں فروٹس کے باغات اور درختوں کے جھنڈ، بکریوں کے ریوڑ اور خوبصورت بچے دیکھنے والوں کو اپنے سحر میں مبتلا کردیتے ہیں.


    لیکن یہ سحر بہت جلد ٹوٹ جاتا ہے کہ جب بیسیوں میل تک آپ کو پانی میسر نہ آئے، جب وہاں سے نکلنے والی بیش قیمت گیس تو لاہور، پشاور تک مل جائے ،اس کی رائلٹی سرداروں کی جیب میں چلی جائے اور سوئی کا باسی پنجاب ، سندھ اور کے پی کے میں جاتی گیس کے پائپ کے اطراف سے لکڑیاں اور گھاس پھونس اکٹھی کرکے اپنی پیٹھ پر لادے گھر جائے اور اس سے چولہا جلائے، جب سفر کرتے ہوئے سینکڑوں کلومیٹرز تک آپ کو موبائل سگنلز نہ ملیں.

    عورت اور اسلامی معاشرہ… محمد عبداللہ

    ہم گرائمرز، ایچی سن، کیڈٹس کالجز اور اسکول کے رسیا لوگوں کا بلوچستان کی خوبصورتی کا سحر اس وقت دھڑام سے گرتا ہے جب بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں خیمہ اور ٹاٹ اسکول بھی میسر نہ ہوں. جہاں معمولی بیماریوں سے لے کر سنگین بیماریوں تک کے علاج پر اس لیے نہ توجہ دی جائے کہ بوڑھی ماں اور باپ کی دو چار سال مزید عمر کے لیے کون سینکڑوں کلومیٹر کا سفر کرکے کوئٹہ اور کراچی جائے. مجھے کوئٹہ سمیت پورے بلوچستان میں ایک بھی شہر پنجاب کے شہروں کے ہم پلہ نظر نہ آئے نہ سہولیات کے اعتبار سے اور نہ بلند و بالا بلڈنگز کے اعتبار سے. ہاں سرداروں کے وسیع و عریض محل، نت نئی گاڑیوں، جدید اسلحہ سے لیس محافظوں کی فوج ظفر موج آپ کو بتائے گی کہ بلوچستان کے مسائل کے پیچھے کیا عوامل کارفرماء ہیں.

    کیا اس لیے تقدیر نے چنوائے تھے تنکے ….. محمد عبداللہ

    میں نے بلوچستان کا بڑا مہذب نقشہ آپ کے سامنے رکھا ہے کہ مجھے الفاظ نہیں میسر کہ بلوچستان کی محرومیوں کی جو صورتحال جو آنکھوں نے دیکھی اس کو بیان کروں.

    تعلیم و صحت وغیرہ بنیادی انسانی حقوق ہیں مگر بلوچستان کے زیادہ تر لوگوں کو یہ انسانی حقوق میسر نہیں ہیں. ہاں میسر ہے تو وہ دھماکے ہیں، سازشیں ہیں، کلبھوشنز ہیں، براہمداغ و ماما قدیر ہیں، سرمچار ہیں، فراری ہیں اور ان سب کی وجہ سے فوجی آپریشنز میسر ہیں.
    جب صادق سنجرانی، قاسم سوری، جام کمال، طلال و سرفراز بگٹی اور اختر مینگل جیسے لوگ جو پاکستان کے اعلیٰ ترین عہدوں اور پارلیمنٹ کی کرسیوں پر براجمان ہیں وہ بلوچستان کے جائز حقوق کی آئینی اور قانونی جنگ نہیں لڑیں گے اور بلوچستان کی دگردوں صورتحال پر توجہ نہیں دیں گے تو پھر براہمداغ بگٹی وغیرہ جیسے راتب اغیار پر دم ہلانے والے محرومیوں کے ستائے بلوچوں کو استعمال کریں گے، پھر کلبھوشن دہشت گردی کے نیٹ ورک قائم کریں گے. پھر محمود اچکزئی جیسے لوگ این ڈی ایس کے آلہ کار بنیں گے.

    پاکستان کے دیگر صوبوں اور ہر طرح کی سہولیات سے لیس شہروں میں بیٹھ کر یہ بات کرنا تو بہت آسان ہے کہ بلوچستان کی بات نہ کرنا، وہاں کے حقوق پر آواز نہ اٹھانا کہیں دشمن تمہارے ان مطالبات کو غلط استعمال نہ کرلے تو جناب والا پھر پنجاب اور کے پی کے اور سندھ کے مسائل اور جرائم پر بات کرنے اور سوشل میڈیا پر آواز اٹھانے کو بھی تو دشمن غلط مقصد اور بدنامی کے لیے استعمال کر سکتا ہے لیکن ہم وہ متواتر کیے چلے جاتے ہیں.
    ہمیں اور نہ ہی بلوچستان کے لوگوں کو اپنی افواج اور دیگر سکیورٹی کے اداروں سے کوئی گلہ یا شکوہ ہے کیونکہ یہ ادارے تو ان کو سازشوں سے بچاتے ہیں، حفاظت کرتے ہیں اور آفات اور مسائل میں حتیٰ المقدور بلوچستان کے غریب باسیوں کی مدد بھی کرتے ہیں.

    ہمیں شکوہ ہے تو سب سے پہلے بلوچستان کے سرداروں سے ہے، پاکستان کے ستر سال کے حکمرانوں سے ہے، موجودہ پارلیمنٹ میں بیٹھے لوگوں پر ہے جو بلوچستان کے مسائل و معاملات کو پاکستان کا مسئلہ نہیں سمجھتے.
    اگر آپ واقعی بلوچستان میں امن لانا چاہتے ہیں اور دشمن کی سازشوں کو پنپنے کا موقع نہیں دینا چاہتے، کلبھوشنوں اور براہمداغ جیسوں کے نیٹورکس قائم نہیں ہونے دینا چاہتے تو بلوچستان میں تعلیم و صحت اور روزگار پر ترجیحی بنیادوں پر کام کیجیئے کہ بلوچستان بھی پاکستان ہے.

    Muhammad Abdullah