Baaghi TV

Tag: بھائی

  • قندیل بلوچ کے قاتل کو رہا کرنے کا حکم

    قندیل بلوچ کے قاتل کو رہا کرنے کا حکم

    قندیل بلوچ کے قاتل کو رہا کرنے کا حکم
    قندیل بلوچ قتل کیس کے مرکزی ملزم بھائی وسیم کو بری کردیا گیا

    لاہور ہائیکورٹ ملتان بنچ میں ماڈل قندیل بلوچ قتل کیس میں مرکزی ملزم کی والدہ نے عدالت میں راضی نامہ جمع کرایا، جس کے بعد عدالت نے مرکزی ملزم بھائی وسیم کو بری کردیا ملزم وسیم کو 27 ستمبر 2019 کو ملتان کی ماڈل کورٹ نے عمر قید کی سزا سنائی تھی جبکہ مفتی عبدالقوی سمیت چارملزمان کوعدم ثبوت کی بناپربری کر دیا تھا

    وکیل درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ سیشن عدالت نے راضی نامہ کو نظر انداز کر دیا تھا مدعی مقدمہ ملزم اور مقتولہ کا والد وفات پا چکا ہے مقدمہ کے گواہان بھی ٹرائل کورٹ میں اپنے بیانات سے منحرف ہو گئے تھے ملزم کے خلاف اپنی بہن ماڈل قندیل بلوچ کا گلہ دبا کر غیرت کے نام پر قتل کرنے کا الزام ہے۔ ملزم وسیم نے عدالت میں سزا منسوخی کی اپیل دائر کر رکھی ہے مقتولہ کے دو بھائی سمیت 5 ملزمان بری ہوچکے ہیں۔ بری ہونیوالوں میں معروف مذہبی سکالر مفتی عبدالقوی بھی شامل تھے

    ماڈل قندیل بلوچ کے والد محمد عظیم بلوچ نے اس وقت قندیل بلوچ کے قتل کا مقدمہ اپنے بیٹے محمد وسیم اوراس کے ساتھیوں حق نواز، محمد ظفر اور ان کے ڈرائیور عبدالباسط کے خلاف درج کروایا تھا معروف ماڈل اور ممتاز شوبز شخصیت قندیل بلوچ کو اُن کے گھر  واقع ملتان میں مبینہ طور پر غیرت کے نام پر قتل کردیا گیا تھا قندیل بلوچ اپنے والدین سے ملنے گھر آئی ہوئیں تھیں کہ رات سوتے ہوئے اُن کے بھائی نے وسیم نے گلا دبا کر قندیل بلوچ کو ہلاک کرکے گاؤں فرار ہو گیا، جہاں پولیس نے چھاپہ مار کارروائی میں ملزم کو گرفتار کرلیا تھا

    قندیل بلوچ کے مقدمۂ قتل میں بھائی محمد وسیم کو عمرقید ، مفتی عبدالقوی بچ گئے

    مفتی عبدالقوی کا کہنا تھا کہ کسی کو بھی قتل کرنے والے پر اللہ کی لعنت ہے

  • میموری کارڈ کے تنازعہ پر بھائی کو قتل کرنیوالا ملزم گرفتار

    میموری کارڈ کے تنازعہ پر بھائی کو قتل کرنیوالا ملزم گرفتار

    میموری کارڈ کے تنازعہ پر بھائی کو قتل کرنیوالا ملزم گرفتار

    پشاور کے تھانہ متنی پولیس نے بھائی کو قتل کر کے واردات کو حادثے کا رنگ دینے والے شاطر اور سفاک ملزم کو گرفتار کر لیا،

    ملزم رومان نے کچھ عرصہ قبل میموری کارڈ تنازعہ پر اپنے سگے بھائی فخر عالم کو فائرنگ کر کے قتل کیا تھا، پولیس تفتیشی ٹیم کیجانب سے جامع تفتیش کے دوران اصل حقائق سامنے آنے کے بعد ملزم گرفتاری کے ڈر سے گھر بار چھوڑ کر نامعلوم مقام پر روپوش ہوا تھا جس کو مقامی عدالت سے اشتہاری مجرم قرار دیا گیا تھا، ملزم کو گزشتہ روز خفیہ اطلاع ملنے پر گرفتار کر لیا گیا جس نے ابتدائی تفتیش کے دوران بھائی کو قتل کرنے کا اعتراف کر لیا ہے جس کے قبضہ سے اسلحہ بھی برآمد کر لیا گیا ہے، ملزم سے مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے

    قبل ازیں پشاور پولیس نے منشیات میں ملوث عناصر کے خلاف کریک ڈاون کے دوران 12 افراد کو گرفتار کر لیا، گرفتار افراد اندرون شہر اور نواحی علاقوں میں مخصوص گاہک سمیت مختلف منشیات ڈیلرز کو بھی آئس، ہیروئن اور چرس سپلائی کرنے میں ملوث ہیں جن کا تعلق شہر کے مختلف علاقوں سے ہے، ملزمان نے ابتدائی تفتیش کے دوران منشیات سپلائی میں ملوث ہونے کا اعتراف کرتے مختلف ڈیلرز کی بھی نشاندہی کی ہے جن کے گرد بھی گھیرا تنگ کر دیا گیا ہے، ملزمان سے مجموعی طور پر 1342 گرام آئس، ساڑھے تین کلو گرام ہیروئن اور ساڑھے آٹھ کلو گرام اعلی کوالٹی چرس برآمد کر کے مقدمات درج کر لئے گئے ہیں

    قبل ازیں تھانہ بھانہ ماڑی پولیس نے خفیہ اطلاع ملنے پر مشکوک مسلح شخص کو گرفتار کر لیا، ملزم کے قبضہ سے غیر قانونی اسلحہ بھی برآمد کیا گیا ہے جس کا تعلق شہر کے نواحی علاقے بڈھ بیر سے ہے، ملزم مشکوک حالت میں علاقہ گڑھی قمردین میں موجود تھا کہ ایس ایچ او بھانہ ماڑی نے خفیہ اطلاع ملنے پر حراست میں لے لیا ہے جس کے خلاف مقدمہ درج کر کے مختلف زاویوں پر تفتیش شروع کر دی گئی ہے

    لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

    لاک ڈاؤن، فاقوں سے تنگ بھارتی شہریوں نے ترنگے کو پاؤں تلے روند ڈالا

    کرونا مریض اہم، شادی پھر بھی ہو سکتی ہے، خاتون ڈاکٹر شادی چھوڑ کر ہسپتال پہنچ گئی

    کرونا لاک ڈاؤن، رات میں بچوں نے کیا کام شروع کر دیا؟ والدین ہوئے پریشان

    پولیس اہلکار نے لڑکی کو منہ بولی بیٹی بنا کر زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، نازیبا ویڈیو بھی بنا لیں

    نوجوان لڑکی سے چار افراد کی زیادتی کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس ان ایکشن

    درندگی کا نشانہ بننے والی بچی کے والد نے کیا حکومت سے بڑا مطالبہ

    جادو سیکھنے کے چکر میں بھائی کے بعد ملزم نے کس کو قتل کروا دیا؟

    پولیس کا ریسٹورنٹ پر چھاپہ، 30 سے زائد نوجوان لڑکے لڑکیاں گرفتار

    واٹس ایپ پر محبوبہ کی ناراضگی،نوجوان نے کیا قدم اٹھا لیا؟

    شوہر نے گھریلو جھگڑے کے بعد بیوی پر تیزاب پھینک دیا

    تیزاب گردی کا شکار "مریم” کا انصاف کا مطالبہ

    شوہر نے بیوی پر تیزاب پھینک دیا

  • خرچہ نہ دینے پر بھائی نے بڑی بہن کو قتل کردیا

    خرچہ نہ دینے پر بھائی نے بڑی بہن کو قتل کردیا

    سرگودھا : سرگودھا میں خرچہ نہ دینے پر لڑکے نے اپنی بڑی بہن کو موت کے گھاٹ اُتار دیا۔ تفصیلات کے مطابق سرگودھا میں مبینہ طور پر بھائی نے فائرنگ کرکے بڑی بہن کو قتل کردیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ سے قتل کا واقعہ بہن بھائی کے جھگڑے کے بعد پیش آیا ، جس میں بھائی نے خرچہ نہ دینے پر بڑی بہن کو قتل کیا اور فرار ہوگیا۔

    پولیس نے بتایا کہ اپنی بہن کو قتل کرنے کے بعد ملزم فرار ہوگیا ، تاہم ملزم کی تلاش کا آغاز کر دیا گیا ہے جب کہ مقتولہ کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کردی گئی ہے۔ واقعہ سے متعلق اہل خانہ کا تاحال کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔ خیال رہے کہ جائیداد کے تنازعہ پر بھی والدین اور بہن بھائیوں کو قتل کرنے کے کئی افسوسناک واقعات رپورٹ ہوتے رہتے ہیں۔

    حال ہی میں گجرات کے علاقے کلیوال سیداں میں انتہائی افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک شخص کو بےدردی سے قتل کر دیا گیا۔ مذکورہ شخص کی سر کٹی لاش ملی تھی، پولیس نے تحقیقات میں انکشاف کیا تھا کہ مقتول کو اس کے سگے بیٹوں نے قتل کیا تھا او لاش سڑک کنارے پھینک کر روپوش ہو گئے تھے تاہم پولیس نے ملزمان کو گرفتار کر لیا۔

    مقتول کی لاش 4 جون کو ملی تھی جسے بے دردی سے قتل کرکے سڑک کنارے پھینک دیا گیا تھا، بعدازاں مقتول کی شناخت غلام سرور کے نام سے ہوئی، پولیس نے لاش کو تحویل میں لے کر تحقیقات کا آغاز کیا تو مقتول کے اہلخانہ غائب تھے جس پر پولیس نے اُن کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل دیں۔

    پولیس حکام کے مطابق مقتول غلام سرور کے دو بیٹوں اور بیوی کو شیخوپورہ سے گرفتار کیا گیا۔ملزم نے تفتیش کے دوران انکشاف کیا کہ انہوں نے خود اپنے والد کو قتل کیا اور اس قدر بےدردی سے مارا کہ اس کا سر ہی جسم سے جدا کر دیا۔

  • اوکاڑہ: غیرت کے نام پر بھائی نے سگی بہن کو قتل کردیا

    اوکاڑہ(علی حسین) اوکاڑہ کے نواحی گاوں باماں زیریں عباس پورہ میں غیرت کے نام پر بھائی نے سگی بہن کو کلہاڑی کے وار کرکے قتل کردیا۔ ملزم شفقت کو اپنی بہن صائمہ بی بی کی اعظم نامی شخص سے پسند کی شادی کرنے پر رنج تھا۔ پولیس نے لاش قبضہ میں لیکر پوسٹ مارٹم کے لیے ضلعی ہسپتال بھیج دی ہے اور ملزم کو آلہ قتل سمیت گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا ہے۔

  • متاعِ کارواں ۔۔۔ سلیم اللہ صفدر

    متاعِ کارواں ۔۔۔ سلیم اللہ صفدر

    بچپن میں جب سنتے تھے کہ شہروں کے اندر کچھ ایسے سینما بھی ہوتے ہیں جن میں بہن بھائی، باپ بیٹی ، ماں بیٹا اکٹھے بیٹھ کر فلمیں دیکھتے ہیں تو کافی حیرانگی ہوتی تھی. سن شعور کو پہنچا تو ایک دن اپنی بڑی بہن سے پوچھ بیٹھا کہ یہ سب اکٹھے بیٹھ کر دیکھنا کیسے ممکن ہے بھلا…ان کو شرم و حیا نہیں آتی. بہن کہنے لگی تم بھی تو سب کے سامنے بیٹھ کر عینک والا جن، انگار وادی، الفا براوؤ چارلی، آہن وغیرہ دیکھتے رہتے ہو اور صرف یہی نہیں بلکہ ابرارالحق کا دسمبر ، حدیقہ کیانی کی بوہے باریاں، شہزاد رائے کا کنگنا اور عدنان سمیع خان کی ڈھولکی نہ صرف سنتے ہو بلکہ گنگناتے بھی ہو…. تو ایک بار واقعی چلو بھر پانی کی ضرورت محسوس ہوئی تھی.

    میں نے پھر بھی ڈھیٹ بن کر سوال داغا کہ اس کے اندر تو اتنا کچھ برا نہیں ہوتا لیکن سینما فلموں میں تو سنا ہے بہت فحاشی ہوتی ہے…. بہن کہنے لگی جس طرح تم یہ سوچتے ہو کہ یہ کوئی اتنی برائی والی بات نہیں… ٹی وی پر فحاشی کم ہے فلموں میں زیادہ… تو اسی طرح شہروں والے لوگ بھی یہ سوچتے ہیں کہ پاکستانی فلموں میں اتنی فحاشی نہیں ہوتی انڈین اور انگریزی فلموں میں فحاشی زیادہ ہوتی ہے. اس دن کے بعد مجھے سمجھ آ گئی کہ اگر کوئی بری چیز آپ میں رچ بس چکی ہے تو وہ آپ کو بری نہیں لگے گی بالکل اسی طرح جیسے بھیڑ بکریوں کے ساتھ رہنے والا چرواہا ان کے پیشاب و مینگنی کی بدبو سے پریشان ہوئے بغیر سکون کے ساتھ ان کے قریب سو سکتا ہے….!

    لبرل طبقے نے پہلے ہمیں یہ سکھایا کہ عورت گھر میں قید نہیں کی جا سکتی… پھر مزید دو قدم آگے بڑھ کر پردے پر حملہ کیا کہ یہ معاشرتی ترقی میں رکاوٹ ہے اور اب اس سے اگلا قدم کہ پردے کے احکامات کو ہی داغ قرار دے دیا گیا… تضحیک کا نشانہ بنایا گیا. دکھ یہ نہیں کہ معاشرے میں بےپردگی و بے حیائی تیزی سے بڑھتی جا رہی ہے بلکہ دکھ یہ ہے کہ برائی کو برائی ہی نہیں سمجھا جا رہا… اور اسے معاشرتی ترقی کا نام دیا جا رہا ہے. اور حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے کہ یہ داغ ہمیں نہیں روک سکتے.

    وائے ناکامی متاعِ کارواں جاتا رہا….!
    کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا

    بات سیدھی سی ہے کہ پردہ اس لیے ضروری ہے تا کہ اگر عورت گھر سے باہر نکلے تو کرے… گھر کے اندر رہتے ہوئے تو اس نے چہرہ کھلا ہی رکھنا ہے . لیکن اب اگر عورت کو مستقل بنیادوں پر گھر سے باہر نکال دیا جائے… اسے ہر وہ کام کرنے کی ترغیب دی جائے جو مردوں کے کرنے والے ہیں… ماڈلنگ سے لیکر کرکٹ کھیلنے تک… گاہکوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے ائیر ہوسٹس سے لیکر سیلز گرل بنانے تک… تو یہ سارے کام کم از کم اسلام کے طریقوں کے مطابق نہیں. اسلام نے صرف مجبوری کی حالت میں یا چند فرائض کی بنیاد پر عورت کو گھر سے باہر آنے کی اجازت دی ہے (پردہ کر کے ).. ورنہ عمومی حکم تو گھر میں ہی رہنے کا ہے لیکن ان داغ دار دماغوں نے نہ صرف گھر میں ٹکنے کو داغ قرار دے دیا بلکہ پردہ کر کے گھر سے باہر آنے کو بھی. ان کی خواہش ہے کہ عورت گھر میں رہنے کی بجائے مرد کے شانہ بشانہ چلے اور ہر وہ کام کرے جو مرد کر سکتے ہیں اور یہ وہ ذہنی لیول ہے جب سوچا جاتا ہے کہ اس میں کون سی برائی ہے بھلا… صرف چہرہ ہاتھ اور پاؤں ننگے ہیں… شرم گاہ، سینہ، ٹانگیں وغیرہ تو ڈھانپی ہی ہوئی ہیں. انا للہ وانا الیہ راجعون.

    میں اس پر لکھنا نہیں چاہتا تھا لیکن صورتحال کافی تکلیف دہ محسوس ہو رہی تھی جس کی وجہ سے قلم اٹھانا پڑا. معاشرے میں بگاڑ اسی طرح پیدا ہوتا ہے کہ ایک برائی کو اچھائی یا روشن خیالی سمجھ کر اپنایا جاتا ہے اور جب وہ برائی برائی محسوس ہی نہ ہو تو اس کا مطلب یہ کہ بگاڑ کی ابتداء ہو چکی. کل تک معاملہ عورت کے گھر سے باہر نکل کر جاب کرنے کا تھا… آج کھیل میں عورت شامل ہو چکی ہے… صرف شامل نہیں ہو چکی بلکہ اسے اپنانے کی دعوت بھی دے رہی ہے. اور مستقبل کی تصویر کیا ہو سکتی ہے.. وہ آپ چشمِ تصور سے دیکھ لیں. یہ وہ لمحات ہوتے ہیں جب آپ کے معاشرے کی رائے عامہ آپ کو پرانے زمانے کا انسان قرار دے کر لات مارنے کے درپے ہوتی ہے تو ایسے موقع پر سب سے مناسب بات یہی ہے کہ ایسی رائے عامہ قائم نہ ہونے دی جائے ورنہ کل آپ بھی یہی کہیں گے کہ پاکستانی فلموں میں تو کوئی فحاشی نہیں ہوتی بہ نسبت انڈین اور انگریزی فلموں کے اس لیے یہ فلمیں اور ڈرامے اپنی بہنوں بھائیوں کے ساتھ بیٹھ کر دیکھے جا سکتے ہیں.

    ہو سکتا ہے کوئی یہ بھی سوچ رہا ہو کہ وہ پرانے وقتوں کی بات تھی جب سینما میں اکٹھے جانا مجبوری تھی یا ٹی وی پر بہنوں کے ساتھ بیٹھ کر ہی ڈرامے فلمیں دیکھی جاتی تھیں تو اب تو اپنا موبائل ہے جو مرضی دیکھیں… دوسروں کے ساتھ بیٹھ کر دیکھنے والی بات ہی نہیں کوئی. تو ان کے لیے اتنا عرض کروں گا کہ مان لیا جو کچھ آپ موبائل پر بند کمرے میں دیکھتے ہیں وہ اللہ کے علاوہ کسی کو نہیں معلوم لیکن جو واٹس اپ یا فیس بک سٹیٹس آپ لگاتے ہیں وہ بشمول خاندانی افراد ساری دنیا دیکھتی ہے مگر مزید یہ بھی کہ آپ کے گھر میں، آپ کی فیملیز کے ہاتھوں جو جو موبائل پر دیکھا جا رہا ہے وہ بھی اللہ کے علاوہ کسی کو معلوم نہیں.

    میرا بات کرنے کا مقصد یہ ہرگز نہیں کہ اپنی بہنوں بچوں سے موبائل چھین لیے جائیں… یا اپنا موبائل توڑ دیا جائے. اس کا یہ حل ہرگز نہیں. حل ہے تو بس یہی ہے کہ خود احتسابی کا عمل رکنے نہ پائے اور احساس بیدار رہے۔ ایسی رائے عامہ قائم کی جائے جو برائی کو برائی ہی سمجھے. اپنے ذاتی اعمال کا ہر بندہ خود ذمہ دار ہے لیکن یہ نہایت تکلیف دہ بات ہے کہ جس طرح میں بچپن میں سوچتا تھا.. کوئی یہ نہ کہے کہ ایک تیس سیکنڈ کا کلپ ہی تو تھا گانے کا اس کو واٹس اپ اسٹیٹس لگانے سے کیا ہوتا ہے بھلا…. جو ویسے بھی چوبیس گھنٹے کے بعد غائب ہو جائے گا.