Baaghi TV

Tag: بھارتی سپریم کورٹ

  • پاک بھارت میچ،بھارتی سپریم کورٹ نے  انتہا پسندوں کی درخواست مسترد کردی

    پاک بھارت میچ،بھارتی سپریم کورٹ نے انتہا پسندوں کی درخواست مسترد کردی

    بھارتی سپریم کورٹ نے ایشیا کپ 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان شیڈول میچ پر پابندی کی انتہا پسندوں کی درخواست مسترد کر دی۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق ایشیا کپ کے شیڈول کے اعلان کے بعد انتہا پسند حلقوں نے پاک بھارت میچ کی مخالفت شروع کر دی تھی اور اس سلسلے میں چار قانون کے طلبہ نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ حالیہ جنگ کے بعد دونوں ممالک کے درمیان میچز نہیں کھیلے جانے چاہییں۔

    درخواست میں کہا گیا کہ 14 ستمبر کو ہونے والا پاک بھارت میچ آئین کے آرٹیکل 21 کی خلاف ورزی ہے جو شہریوں کے زندگی اور ذاتی آزادی کے حق کی ضمانت دیتا ہے۔تاہم جسٹس جے کے مہیشوری اور جسٹس وجے بشنوئی پر مشتمل بینچ نے اس معاملے کی سماعت سے انکار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ "یہ صرف ایک میچ ہے۔” عدالت نے انتہا پسندوں کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ میچ منسوخ نہیں ہوگا اور مقابلے جاری رہنے چاہییں۔

    واضح رہے کہ پاکستان اور بھارت کی ٹیموں کے درمیان پہلا میچ 14 ستمبر کو دبئی میں شیڈول ہے، جبکہ دونوں ٹیموں کی دوسرے راؤنڈ اور فائنل میں رسائی کی صورت میں مزید دو مقابلے بھی متوقع ہیں۔

    برطانیہ میں ریکارڈ تعداد میں آجران کے ویزا اسپانسر لائسنس منسوخ

    ڈیرہ غازی خان: غازی یونیورسٹی میں مصنوعی ذہانت پر دو روزہ تربیتی ورکشاپ

    اینکر مرید عباس قتل کیس :ملزم کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کرنے کی اجاز ت

  • کورٹ میں پاک-بھارت ایشیا کپ میچ منسوخ کرنے کی درخواست دائر

    کورٹ میں پاک-بھارت ایشیا کپ میچ منسوخ کرنے کی درخواست دائر

    بھارتی سپریم کورٹ میں ایک عوامی مفاد کی درخواست دائر کی گئی ہے جس میں پاکستان اور بھارت کے درمیان 14 ستمبر کو دبئی میں ہونے والا ایشیا کپ ٹی 20 میچ منسوخ کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

    یہ درخواست 4 لا اسٹوڈنٹس نے دائر کی ہے جن کی قیادت ارویشی جین کر رہی ہیں۔درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ حالیہ پہلگام حملے اور آپریشن سندور میں بھارتی شہریوں اور فوجیوں کی قربانیوں کے بعد پاکستان کے ساتھ کرکٹ کھیلنا قومی وقار اور عوامی جذبات کے خلاف ہے۔درخواست میں کہا گیا کہ کرکٹ کو قومی مفاد، شہریوں کی جانوں اور مسلح افواج کی قربانیوں پر فوقیت نہیں دی جا سکتی۔

    ساتھ ہی نیشنل اسپورٹس گورننس ایکٹ 2025 کے نفاذ کی بھی استدعا کی گئی ہے۔ یہ درخواست وکلا سنیہا رانی، ابھیشیک ورما اور محمد انس چوہدری کے توسط سے جمع کرائی گئی۔

    شنگھائی الیکٹرک نے کے الیکٹرک خریدنے کی پیشکش واپس لے لی

    پاکستان کا اسرائیلی جارحیت پر اقوام متحدہ کا اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ

    بچے کا نام نہ رکھنے پر جوڑے کی طلاق کی درخواست، عدالت کا نوٹس

    قومی بیانیہ کی تشکیل کے لیے حکومت نےکمیٹی قائم کر دی

  • مقبوضہ کشمیر کی حیثیت بحالی کی درخواست،بھارتی سپریم کورٹ میں 8 اگست کو  سماعت

    مقبوضہ کشمیر کی حیثیت بحالی کی درخواست،بھارتی سپریم کورٹ میں 8 اگست کو سماعت

    بھارتی سپریم کورٹ 8 اگست کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت بحال کرنے سے متعلق درخواست پر سماعت کرے گی۔

    خبر ایجنسی کے مطابق یہ درخواست مقبوضہ کشمیر کے دو شہریوں کی جانب سے دائر کی گئی ہے، جنہوں نے عدالت سے اپیل کی ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی مکمل ریاستی حیثیت کو بحال کیا جائے۔یاد رہے کہ بھارتی سپریم کورٹ نے دسمبر 2023 میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کو برقرار رکھا تھا، جو کہ مودی حکومت کی جانب سے 5 اگست 2019 کو کیا گیا ایک متنازع فیصلہ تھا، جس کے تحت مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر دی گئی تھی۔

    درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد مقبوضہ کشمیر کو ریاست کے بجائے یونین ٹیریٹری بنا دیا گیا، جو آئینی اور قانونی طور پر درست نہیں۔عدالت کی جانب سے آئندہ سماعت میں اس اہم معاملے پر فیصلہ کن پیش رفت متوقع ہے۔

    برطانیہ: اسٹڈی ویزا پر آ کر سیاسی پناہ ، یونیورسٹیوں پر ممکنہ پابندیاں

    بحریہ ٹاؤن میں ایف آئی اے کا چھاپہ، اہم فنانشل ریکارڈ برآمد

    جمشید دستی کی نشست پر ضمنی انتخاب کا شیڈول معطل

    پنجاب و سندھ اسمبلیوں میں بھارتی اقدامات کے خلاف مذمتی قراردادیں منظور

  • کرنل صوفیہ دہشت گردوں کی بہن کہنے والے بی جے پی وزیر کی معافی مسترد

    کرنل صوفیہ دہشت گردوں کی بہن کہنے والے بی جے پی وزیر کی معافی مسترد

    بھارتی سپریم کورٹ نے مسلم خاتون فوجی افسر کرنل صوفیہ قریشی کے خلاف متنازع اور تضحیک آمیز بیان دینے پر مدھیہ پردیش کے بی جے پی وزیر کنور وجے شاہ کے خلاف تحقیقات کے لیے خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) بنانے کا حکم دے دیا ہے۔

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق، سپریم کورٹ میں کرنل صوفیہ قریشی کے خلاف اشتعال انگیز بیان کے مقدمے کی سماعت ہوئی، جس میں بی جے پی وزیر نے عدالت کے روبرو مشروط معافی پیش کی، تاہم عدالت نے اسے ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔جسٹس سوریا کانت اور جسٹس این کوٹیسور سنگھ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے ریمارکس دیے کہ وجے شاہ کی معذرت صرف عدالتی کارروائی سے بچنے کی کوشش ہے۔ ججز کا کہنا تھا:آپ عوامی شخصیت ہیں، آپ کے الفاظ پورے معاشرے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ آپ نے ایک قابلِ احترام خاتون فوجی افسر کو ہدف بنایا، اور اب محض ‘اگر کسی کو تکلیف پہنچی ہو’ جیسا جملہ بول کر ذمہ داری سے بچنا چاہتے ہیں؟”

    عدالت نے وزیر کے بیان کو "شرمناک” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے الفاظ سے "پورے ملک کو شرمندگی” کا سامنا کرنا پڑا۔عدالت نے واضح کیا کہ ہم قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں، جو ملک کے اعلیٰ ترین اور عام شہری پر یکساں طور پر لاگو ہوتا ہے۔عدالت نے حکم دیا کہ ایس آئی ٹی میں اعلیٰ پولیس افسران کو شامل کیا جائے، اور 28 مئی تک ابتدائی رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے۔ ساتھ ہی وزیر وجے شاہ کو ہدایت دی گئی کہ وہ تفتیشی عمل میں مکمل تعاون فراہم کریں۔

    واضح رہے کہ وجے شاہ نے ایک سیاسی جلسے کے دوران بھارتی فوج کی نمائندہ مسلم خاتون افسر کرنل صوفیہ قریشی کو "دہشت گردوں کی بہن” کہہ کر پکارا تھا، جس پر مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے از خود نوٹس لیتے ہوئے وزیر کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا تھا۔بی جے پی وزیر نے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا، تاہم سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے واضح کیا کہ:یہ صرف تفتیش کا حکم ہے، سزا نہیں دی گئی۔ قانون سب کے لیے برابر ہے۔

    خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی بڑی کامیابی، 9 دہشتگرد ہلاک

    سینیٹ اجلاس میں سیکیورٹی فورسز پر الزام لگانے پر اراکین میں تلخ کلامی

    چین کی پاک بھارت کشیدگی پر تشویش، تحمل کا مشورہ

    روس کا یوکرین پر سب سے بڑا ڈرون حملہ، متعدد مکانات تباہ، خاتون ہلاک

    بلوچستان میں فورسز کی کارروائیاں، بھارتی حمایت یافتہ 3 دہشت گرد ہلاک

  • ’گمراہ کن‘ اشتہارات بند نہ کیے  تو سخت کارروائی ہو گی،بھارتی سپریم کورٹ  کی بابا رام دیو  کو وارننگ

    ’گمراہ کن‘ اشتہارات بند نہ کیے تو سخت کارروائی ہو گی،بھارتی سپریم کورٹ کی بابا رام دیو کو وارننگ

    نئی دہلی: بھارتی سپریم کورٹ نے یوگا گُرو کہلائے جانے والے بابا رام دیو اور ان کی کمپنی کو وارننگ دی ہے کہ اگر ’گمراہ کن‘ اشتہارات بند نہ کیے گئے تو ان کے خلاف سخت کارروائی ہو گی۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق عدالت نے بابا رام دیو اور ان کی کمپنی کی جانب سے اشتہار بند نہ کرنے پر توہین عدالت کیس کی سماعت کی،عدالت میں سماعت کے دوران بابا رام دیو اور ان کے شریک بانی اچاریہ بال کرشن عدالت میں موجود تھے جب ان کی کمپنی ‘پتنجلی آیوروید‘ کے خلاف وارننگ جاری کی گئی۔

    انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن نے الزام لگایا تھا کہ بابا رام دیو کی کمپنی روایتی ادویات کی حوصلہ افزائی کرتی ہے اور اشتہارات کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے کہ اس کی ادویات بلڈ پریشر اور دمے کے امراض کا ’مستقل حل‘ پیش کرتی ہیں گزشتہ برس عدالت کو یہ اشتہارات بند کرنے کی یقین دہانی کروائی گئی تھی لیکن اس کے باوجود اشتہارات چلائے جا رہے ہیں۔

    "اے او او اے” کا خط گمراہ کن اور سراسر جھوٹ پر مبنی ہے،سی …

    عدالت نے کہا کہ وہ کمپنی کی طرف سے پیش کی جانے والی معذرت سے مطمئن نہیں ہے اور تفصیل میں بتایا جائے کہ اشتہارات بند کیوں نہیں کیے گئے، جسٹس ہیما کوہلی نے رام دیو اور ان کے وکلا سے کہا کہ اس توہین کو سنجیدگی سے لیں اور نتائج کے لیے تیار رہیں۔

    اگرچہ ججز نے یہ نہیں کہا کہ توہین عدالت پر کیا کارروائی کی جائے گی لیکن بھارتی قانون کے مطابق اس کی سزا چھ ماہ قید اور جرمانہ ہے،دوسری جانب پتنجلی کمپنی کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ عدالتی حکم پر عمل کیا جائے گا۔

    20 دن پہلے تک جیل کے قیدی نے سینیگال کی صدارت کا حلف اٹھا لیا

    8 ججز کو پاؤڈر والے دھمکی آمیز خط،شیر افضل مروت نے الزام ن لیگ پر …

  • بھارتی سپریم کورٹ نے  تاریخی شاہی مسجد کے مندر ہونے کیلئےکیے جانیوالے سروے کو رکوادیا

    بھارتی سپریم کورٹ نے تاریخی شاہی مسجد کے مندر ہونے کیلئےکیے جانیوالے سروے کو رکوادیا

    نئی دہلی: بھارتی سپریم کورٹ نے اتر پردیش میں قدیم اور تاریخی شاہی مسجد کے مندر ہونے کے لیے کیے جانے والے سروے کو رکوادیا۔

    باغی ٹی وی: بھارتی میڈیا کے مطابق سپریم کورٹ میں متھرا کی قدیم مسجد کی قسمت کا فیصلہ کرنے کی سماعت جسٹس سنجیو کھنہ اور جسٹس دیپانکار دتا نےکی جنھوں نےمسجد کی انتظامیہ اور انتہا پسند ہندو جماعت کا مؤقف سنا فریقین کےدلائل سننے کے بعد سپریم کورٹ کے ججز نے الہ آباد ہائیکورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کو رکوا دیا اور فیصلے میں لکھا کہ مسجد کا سروے کرنے کے لیے کمیشن بہت کمزور بنیاد پر بنایا گیا تھا۔

    واضح رہے بھارتی ریاست اترپردیش کے علاقے متھرا کی 17 ویں صدی میں تعمیر کی گئی شاہی مسجد کو انتہا پسند ہندوؤں نے بھگوان کرشنا کی جنم بھومی قرار دے کر مندر بنانے کے لیے 13.37 ایکڑ زمین پر ملکیت کا دعویٰ دائر کیا تھا انتہا پسند ہندوؤں نے عدالت سے اس حقیقت کو جاننے کے لیے کہ آیا مسجد کسی مندر پر بنائی گئی ہے آرکیالوجی ڈپارٹمنٹ سے سروے کرانے کی استدعا کی تھی جیسا کہ وارانسی مسجد میں بھی کیا گیا تھا۔

    سیکرٹری الیکشن کمیشن کا استعفی منظور

    جس پر دسمبر 2023 کو الہ آباد کی ہائیکورٹ نے کمیشن بنانے کا حکم دیا تھا تاکہ شاہی عید گاہ مسجد کے بارے میں حتمی فیصلہ کیا جا سکے کہ یہ کسی مندر پر بنائی گئی ہے یا ہندو اکثریت کا اس بارے میں موقف درست نہیں ہے عدالتی حکم پر بنائے گئے کمیشن نے مسجد کے سروے کی ہدایت کی تھی تاہم اب سپریم کورٹ نے الہ آباد کے فیصلے پر تاریخی شاہی عید گاہ مسجد کا سروے رکوادیا۔

    خیال رہے کہ یہ فیصلہ اس وقت آیا ہے جب ایودھیا میں بابری مسجد کی جگہ رام مندر کا افتتاح وزیر اعظم مودی کرنے جا رہے ہیں جبکہ اپوزیشن نے الزام عائد کیا ہے کہ مودی یہ سب الیکشن میں کامیابی کے لیے کر رہے ہیں۔

    انتخابی نشان تبدیل ہونے کا معاملہ،الیکشن کمیشن نے انتخابات ملتوی ہونے کی وارننگ دے …

    ڈاکٹر یاسمین راشد اور زلفی بخاری کو الیکشن لڑنے کی اجازت مل گئی

  • بلقیس بانو اجتماعی زیادتی کیس، رہاملزمان کو دوبارہ جیل میں بھیجنے کا حکم

    بلقیس بانو اجتماعی زیادتی کیس، رہاملزمان کو دوبارہ جیل میں بھیجنے کا حکم

    بلقیس بانو کیس: بھارتی سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا،عدالت نے عمر قید کی سزا پانے والے 11 مجرموں کی معافی کالعدم قرار دیتے ہوئے منسوخ کر دی

    بھارتی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلےمیں کہا کہ گجرات حکومت کا بلقیس بانو کیس کے مجرموں کی معافی کا فیصلہ طاقت اور اختیارات کے غلط استعمال کی ایک مثال ہے،بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد جیل سے رہا ہونے والے ملزمان کو دوبارہ جیل میں جانا پڑے گا ، بھارتی سپریم کورت نے گزشتہ برس 12 اکتوبر کو کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا،مرکزی اور گجرات حکومتوں نے مجرموں کی سزا میں معافی سے متعلق اصل ریکارڈ سپریم کورٹ میں پیش کیا تھا، گجرات حکومت نے یہ کہہ کر مجرموں کی رہائی کا جواز پیش کیا تھا کہ ان لوگوں نے اصلاحی اصول پر عمل کیا ہے،اب بھارتی سپریم کورٹ نے 11 مجرموں کو حکم دیا ہے کہ وہ دو ہفتوں کے اندر گجرات جیل جاکر خود کو پولیس کے حوالے کریں،

    بلقیس بانو اجتماعی زیادتی کیس میں رہائی پانے والوں میں جسونت نائی، گووند نائی، شیلیش بھٹ، رادھے شام شاہ، بپن چندر جوشی، کیسر بھائی ووہانیہ، پردیپ مورداہیا، بکا بھائی ووہانیہ، راجو بھائی سونی، متیش بھٹ اور رمیش چندنا شامل ہیں، ملزمان 15 برس تک جیل میں رہے، انہیں 15 اگست 2022 کو رہا کر دیا گیا تھا تا ہم اب بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد دوبارہ جیل جانا ہو گا

    ڈیڑھ برس بعد پہلی بار مسکرائی،خوشی کے آںسو روئی،بلقیس بانو
    بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے پر بلقیس بانو کا کہنا ہے کہ آج واقعی میرے لیے نیا سال ہے،اپنے وکیل شوبھا گپتا کے ذریعے میڈیا کو دیئے گئے بیان میں بلقیس بانو کا کہنا تھا کہ آج میں خوشی کے آنسو روئی ہوں، ڈیڑھ برس میں پہلی بار مسکرائی ہوں، میں نے اپنے بچوں‌کو گلے لگایا، ایسے لگا جیسے پہاڑ جتنا بڑا پتھر میرے سینے سے ہٹ گیا ہے اور میں پھر سے زندہ رہ سکتی ہوں، انصاف ایسا ہی ہوتا ہے، خواتین کو بھی انصاف ملنا چاہئے،میں بھارتی سپریم کورٹ کا شکریہ ادا کرتی ہوں ،اس مشکل سفر میں میرے شوہر، میرے بچے اور میرے دوست ساتھ تھے،جنہوں نے مجھے محبت دی اور ہر مشکل قدم پر میرا ساتھ دیا،
    balqees
    بلقیس بانو کا مزید کہنا تھا کہ ڈیڑھ برس قبل جب 15 اگست 2022 کو ملزمان کو رہا گیا تو میں بکھر گئی تھی، مجھے لگا تھا کہ میرے اندر کی طاقت ختم ہو چکی ہے،تاہم بھارت میں ہزاروں خواتین سمیت لوگ میرے ساتھ کھڑے ہو گئے اور سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا،ممبئی سے آٹھ ہزار شہریوں‌نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی، ہر ریاست سے چھ چھ ہزا ر درخواستیں آئیں،کرناٹک کے 29 اضلاع کے 40 ہزار لوگوں نے بھی میری حمایت کے لئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی، آپ نے مجھے نہ صرف میرے لیے، بلکہ بھارت کی ہر خاتون کے لیے انصاف کے نظریہ کو بچانے کے لیے جدوجہد کرنے کی طاقت دی میں آپ سب کی شکرگزار ہوں،

    arshad madani
    جمعیت علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے پر کہا کہ امید ہے یہ فیصلہ مستقبل کے لیے ایک مثال بنے گا، اگر حکومتیں اسی طرح اپنے سیاسی فائدے کے لیے عدالت کے ذریعہ قصوروار پائے مجرموں کی سزا معاف کرنے لگیں تو ملک میں قانون و انصاف کی حالت کیا ہوگی، سپریم کورٹ کے تازہ فیصلہ سے ایک بار پھر عدالت عظمیٰ کے وقار اور عظمت کی تصدیق ہوئی، اس سے ملک کے عام شہریوں، خصوصاً اقلیتوں کا سپریم کورٹ پر اعتماد مضبوط ہوگا،اب انصاف کے لیے عدالتیں ہی واحد سہارا ہیں، یہیں سے مظلوموں کو انصاف مل سکتا ہے

    کانگریس رہنما پرینکا گاندھی کا کہنا تھا کہ آخر انصاف کی فتح ہوئی، سپریم کورٹ نے بلقیس بانو کیس میں ملزمان کو رہائی ختم کر کے دوبارہ جیل میں ڈالنے کا حکم دیا، اس سے بی جے پی کی خاتون مخالف پالیسیوں پر پڑا ہوا پردہ ہٹ گیا ، اس حکم کے بعد عوام کا نظام انصاف پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا، بہادری کے ساتھ اپنی جنگ کو جاری رکھنے کے لیے بلقیس بانو کو مبارکباد۔

    پریم کورٹ نے ایک بار پھر بتا دیا کہ مجرموں کا محافظ کون ہے،راہول گاندھی
    کانگریس رہنما راہول گاندھی کا بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے پر کہنا تھا کہ انتخابی فائدے کے لئے انصاف کا قتل کرنے کی روش جمہوری نظام کے لئے خطرناک ہے، آج سپریم کورٹ نے ایک بار پھر بتا دیا کہ مجرموں کا محافظ کون ہے، بلقیس بانو کی انتھک جدوجہد تکبر سے بھری بی جے پی حکومت کے خلاف انصاف کی جیت کی علامت ہے،

    جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی کا کہنا تھا کہ بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ قانون کی حکمرانی اور انصاف کی فتح ہے اور اس واضح پیغام کا حامل ہے کہ انصاف پر کسی بھی صورت میں سمجھوتہ نہیں کیا جانا چاہیے امید ہے کہ یہ فیصلہ مستقبل کے لیے ایک نظیر بنے گا کہ حکومتوں کو انصاف کی فراہمی میں غیر جانبدار ہونا چاہیے اور عصمت دری و قتل عام جیسے گھناؤنے جرائم کی سنگینی سے بے پروا نہیں ہونا چاہیے۔

    واضح رہے کہ مجرمان نے 2002 میں گجرات مسلم کش فسادات کے دوران پانچ ماہ کی حاملہ بلقیس بانو کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا اور خاتون سے لپٹی تین سالہ بیٹی کو زمین پر پٹخ کر قتل کردیا تھا،حملہ آوروں نے 14 افراد کو بھی قتل کیا جن میں سے 9 بلقیس بانو کے رشتے دار تھے۔ یہ حملہ اس وقت کیا گیا تھا جب گجرات میں نریندر مودی وزیر اعلیٰ تھے اور ان فسادات کی وجہ سے دنیا بھر میں گجرات کے قصاب کے نام سے مشہور ہوگئے تھے،2008 کے اوائل میں بلقیس بانو اجتماعی زیادتی اور دیگر 14 کے قتل کیس میں ان 11 مجرمان کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی تاہم 15 سال قید کاٹنے کے بعد ایک مجرم نے گزشتہ برس 1992 معافی پالیسی کے تحت رہائی کے لیے نظر ثانی کی درخواست دائر کی تھی،گجرات مسلم کش فسادات کے وقت کے وزیراعلیٰ نریندر مودی اب ملک کے وزیراعظم بن چکے ہیں۔ جن کی آشیرباد کی وجہ سے اجتماعی زیادتی کیس کے ایک مجرم کی درخواست کو قبول کرلیا گیا,کہا جا رہا ہے مودی سرکار، بی جے پی مسلمان خواتین کے ساتھ زیادتی کرنے والوں کو ہمیشہ ہی رہا کروا دیتی ہے بلکہ انکی مدد بھی کرتی ہے،یہی وجہ ہے کہ مسلمان خاتون کے ساتھ زیادتی کے کیس کے تمام ملزمان کو رہا کر دیا گیا ہے

    بھارتی وزیراعظم کی خواہشات کیا….امریکی اخبار نے بتا دیا

    دہلی فسادات اور 2002 کے گجرات فسادات میں گہری مماثلت،ہندوؤں کی دکانیں ،گھر کیوں محفوظ رہے؟ سوال اٹھ گئے

    گجرات فسادات میں‌ ملوث ڈیڑھ سو انتہاپسند پکڑنے والے سابق بھارتی پولیس افسر کو عمر قید کی سزا

  • خواجہ سرا کو نوکری سے نکالنے پر نوٹس جاری،جواب طلب

    خواجہ سرا کو نوکری سے نکالنے پر نوٹس جاری،جواب طلب

    خواجہ سرا کو نوکری سے نکالے جانے پر سپریم کورٹ نے نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا

    واقعہ بھارت کا ہے، بھارتی سپریم کورٹ نے خواجہ سرا کی مبینہ طورپر جنس کی شناخت ظاہر ہونے کے بعد دو پرائیویٹ اسکولوں میں ملازمت سے نکالے جانے کے خلاف دائر درخواست پر بھارتی مرکزی حکومت، اتر پردیش اور گجرات کی حکومتوں کو نوٹس جاری کر دیا ہے،بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ ، جسٹس جے بی پاردی والا ،منوج مشرا پر مشتمل بینچ نے مرکزی اور ریاستی حکومتوں سے چار ہفتوں میں جواب طلب کر لیا،بھارتی سپریم کورٹ نے کہا کہ درخواست گزار نے شکایت کی کہ اسکی صنفی شناخت پتہ چلنے پر گجرات اور اترپردیش کے دو سکولوں نے اسے نوکری سے نکال دیا، ہائیکورٹس سے بھی خواجہ سرا کو انصاف نہ مل سکا،

    خواجہ سرا نے اپنی درخواست میں کہا کہ اسے دسمبر 2022 میں لکھیم پورکھیری،اترپردیش کے ایک سکول سے نکالا گیا تھا، اسکے بعد جولائی 2023 میں گجرات کے ایک اور سکول میں ملازمت سے نکال دیا گیا، کہا گیا کہ وہ اپنی صنفی شناخت کے بارے میں کھل کر بات نہ کریں،خواجہ سرا نے ایڈوکیٹ یشراج سنگھ دیورا کے ذریعے بھارتی سپریم کورٹ میں‌درخواست دائر کی تھی،درخواست میں کہا گیا تھا کہ امتیازی سلوک، ہراساں کرنے ، اور ملازمت سے برطرفی کو چیلنج کیا جاتا ہے، حکومتیں یقینی بنائیں کہ خواجہ سراؤں کے ساتھ امتیازی سلوک نہ ہو، ٹرانس جینڈر افراد ایکٹ- 2019 کو صحیح معنوں میں نافذ نہیں کیا جا رہا ،درخواست گزار نے قومی کمیشن برائے خواتین کی جنوری 2023 کی رپورٹ پر بھی سوالات اٹھائے، جس میں اتر پردیش کے اسکول کو اس کے معاملے میں بے قصور قرار دیا گیا تھا،

    میہڑ:خواجہ سرا کے گھر سے چوری سرچ آپریشن کہ دوران پولیس پر فائرنگ

    خیبر پختونخوا میں خواجہ سراؤں کے لئے مفت قانونی اقدامات

    اوچ شریف: جعلی خواجہ سراؤں کا ڈانس پارٹی گروپ کے نام پر مبینہ طورشی میل اور لڑکیاں سپلائی کرنے کا انکشاف

    مس پرتگال مقابلہ حسن،خواجہ سرا نے جیتا مقابلہ

    میک اپ کے بغیر خاتون نے مقابلہ حسن جیت لیا

    خواجہ سراؤں نے بھی خود کو بطور ووٹرز رجسٹرڈ کرالیا

    نوجوان مرد ہم جنس پرست ایڈز کے مریض بننے لگے،اسلام آباد میں شرح بڑھ گئی

    خیبرپختونخوا کے خواجہ سراوں کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں شامل

    خواجہ سراؤں سمیت ڈانس،موسیقی اور ہوائی فائرنگ پر پابندی 

  • کشمیر بارے بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ جوتے کی نوک پر،نگران وزیراعظم

    کشمیر بارے بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ جوتے کی نوک پر،نگران وزیراعظم

    نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے مظفر آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر بارے بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں،

    نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ لوگوں کو مایوس اور نا امید نہیں ہونا چاہیے، کشمیر کبھی بھی بھارت کا حصہ تھا نہ ہوگا، کوئی عدالت کشمیریوں کے مستقبل کا فیصلہ نہیں کرسکتی، مقبوضہ کشمیر سے متعلق کوئی یکطرفہ اقدام قابل قبول نہیں ہیں،اپنے شہریوں کے حقوق کی پامالی کسی صورت نہیں ہونے دیں گے، مقبوضہ کشمیر سے متعلق پاکستان ہر طرح کی سپورٹ کرے گا، بھارت اپنی حد میں رہے اپنی حد کو کراس نہ کرے

    نگران وزیراعظم کی زیر صدارت آزاد جموں و کشمیر کی کابینہ کا خصوصی اجلاس بھی ہوا،آزاد جموں و کشمیر کے وزیر اعظم اور کابینہ نے بھارتی سپریم کورٹ کی جانب سے جموں و کشمیر کی حیثیت کے حوالے سے بھارت کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کی توثیق کے بعد کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی اور آزاد جموں و کشمیر کا دورہ کرنے پر وزیراعظم کاکڑ کا شکریہ ادا کیا،آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم اور کابینہ کی جانب سے وزیراعظم پاکستان کی آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں گزشتہ روز کی گئی تقریر کی زبردست پذیرائی کی گئی،وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر نے کہا کہ آپ نے دونوں اطراف کے کشمیریوں کے دل جیت لئے اور ان کے جذبات کی بھرپور ترجمانی کی،وزیراعظم پاکستان کی تقریر کو کشمیری عوام، اوورسیز کشمیریوں ، کشمیری اکادیمیہ ، سول سوسائٹی اور میڈیا کی جانب سے بھرپور طریقے سے سراہا گیا،کابینہ اراکین کا کہنا تھا کہ آپ کے دلیرانہ مؤقف نے کشمیریوں میں امید کی نئی کرن پیدا کی ہے

    نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ میں آزاد جموں وکشمیر میں ریاست پاکستان کا مؤقف دہرانے آیا ہوں کہ پاکستان کشمیریوں کے شانہ بشانہ کھڑا ہوا ہے .جموں وکشمیر کا تنازعہ کی حیثیت بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ہے؛ بھارت اپنے غاصبانہ ہتھکنڈوں سے راہ فرار اختیار نہیں کر سکتا .وزیر اعظم پاکستان نے آزاد جموں و کشمیر کے تمام مسائل خصوصاً مالی مسائل حل کروانے کی یقین دہانی کروائی اور کہا کہ شونٹر ٹنل، مری-مظفرآباد ایکسپریس وے، مانسہرہ -مظفرآباد-منگلا، میرپور ایکسپریس وے کی تعمیر کے حوالے سے وفاقی حکومت ہر ممکن تعاون اور مدد فراہم کرے گی .آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کا بذریعہ سڑک رابطہ انتہائی ضروری ہے جس کے لئے ترجیحی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے. حکومت پاکستان کی تمام وزارتوں میں آزاد جموں و کشمیر کے حوالے سے کاموں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کروایا جائے گا.آزاد جموں و کشمیر کی سیاحت کی صلاحیت سے بھرپور فائدہ اٹھایا جانا چاہئے.

    نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑسے جموں و کشمیر کے حریت رہنماؤں کے وفد کی ملاقات ہوئی، اس موقع پر نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ ”میں آزاد جموں و کشمیر میں ریاست پاکستان کا پیغام لے کر آیا ہوں کہ پاکستان سیاسی اور سفارتی سطح پر کشمیریوں کی حمایت ہمیشہ جاری رکھے گا۔

    قبل ازیں نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کشمیریوں کی تحریک آزادی کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، جو کچھ مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہو رہا ہے پاکستان اس سے لاتعلق نہیں رہ سکتا، بھارتی سپریم کورٹ نے کشمیر پر غیر آئینی اور غیر قانونی فیصلہ دیا ہے، کٹھ پتلی عدالتی فیصلوں سے زمینی حقائق نہیں بدلے جا سکتے، کشمیریوں کو طاقت کے زور پر زیر کرنے کا بھارتی خواب کبھی پورا نہیں ہو گا، دنیا کو بتا دینا چاہتے ہیں کہ ہم اپنے مفاد اور سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نےآزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ نگران وزیراعظم نے کہا کہ ایوان میں مدعو کرنے پر شکریہ ادا کرتا ہوں، پہلا نگران وزیراعظم ہوں جسے آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں خطاب کی دعوت دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ میں پچھلی سات دہائیوں سے حل طلب ہے، مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں پر بھارتی ظلم و بربریت جاری ہے، مسئلہ کشمیر عالمی طور پر تسلیم شدہ تنازعہ ہے۔ تین دن قبل بھارتی سپریم کورٹ نے مسئلہ کشمیر پر غیر قانونی اور غیر آئینی فیصلہ دیا ہے، ایسے کٹھ پتلی عدالتی فیصلوں سے زمینی حقائق بدلے نہیں جا سکتے۔ اقوام متحدہ کے مطابق جموں و کشمیر کا مسئلہ صرف اور صرف کشمیریوں کے استصواب رائے سے حل ہو گا، بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ کشمیر پر اپنے قبضے کو دوام بخشنے کیلئے ہے، کشمیریوں نے بھارتی اقدامات کو یکسر مسترد کر دیا ہے، کشمیریوں کو طاقت کے زور پر زیر کرنے کا بھارتی خواب کبھی پورا نہیں ہو گا۔ پاکستان کشمیریوں کی تحریک آزادی کی مکمل حمایت کرتا ہے، بھارتی افواج کے پیلٹ گنز کے استعمال سے لاکھوں کشمیریوں کی بینائی ضائع ہوچکی ہے۔ کب تک کشمیریوں کی آواز کو دبایا جاتا رہے گا؟، کب تک بھارت کی ریاستی دہشت گردی جاری رہے گی؟، دنیا کو اپنا کردار ادا کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے کوشش کرنا ہو گی۔کچھ ماہ قبل حریت رہنما یاسین ملک کو سزائے موت سنائی گئی، ایسی سزائیں صرف کٹھ پتلی عدالتیں ہی سنا سکتی ہیں، خوف اور جبر کی فضاء میں ترقی و خوشحالی کیسے ممکن ہو سکتی ہے۔ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، ہم مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کیلئے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے، مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے پاکستانی لیڈر شپ کشمیری قیادت کے ہم قدم ہے، ہم نے متعدد بار مسئلہ کشمیر سمیت تمام معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کرنے کی کوشش کی، بھارت نے ہمیشہ ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا۔ آزادکشمیر اور گلگت بلتستان کے بارے میں بھارتی سیاسی رہنما ہرزہ سرائی کرتے رہتے ہیں، دنیا کو بتا دینا چاہتے ہیں کہ ہم اپنے مفاد اور سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے، بھارت نے کبھی بھی آزاد مبصرین اور عالمی میڈیا کو مقبوضہ کشمیر تک رسائی نہیں دی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیریوں کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا، مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر تکمیل پاکستان ممکن نہیں، یہ میری اپنی زمین، اپنے لوگوں کا مقدمہ ہے، پاکستان مسئلہ کشمیر کا وکیل ہے۔مقبوضہ کشمیر میں جو قربانیاں کشمیریوں نے دی ہیں ان کو بھلایا نہیں جا سکتا، ہم سب آپ کے مقروض ہیں، برہان وانی سمیت کشمیریوں کی شہادتیں آزادی کی ضامن ہیں، مقبوضہ کشمیر میں نوجوانوں کو جبری گمشدہ کیا جا رہا ہے۔ ہمارا مقابلہ ہندوتوا سے ہے، بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک ہو رہا ہے

  • پاکستان نے بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ مسترد کر دیا

    پاکستان نے بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ مسترد کر دیا

    بھارتی سپریم کورٹ کا جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق فیصلہ، پاکستان کا ردعمل آ گیا، پاکستان نے بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ مسترد کر دیا

    نگران وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر یبن الاقوامی طور پر تسلیم شدہ ایک متنازع علاقہ ہے لہذا بھارت کو مقبوضہ کشمیر کے متنازع علاقے کے تعین کا کوئی حق نہیں ہے، کشمیری عوام بھارت کا 5 اگست 2019 کا یکطرفہ اقدام مسترد کر چکے ہیں، ریاست پاکستان بھی مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی سے متعلق درخواستیں مسترد کرنے کا بھارتی سپریم کورٹ فیصلہ مسترد کرتی ہےبھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کی کوئی حیثیت نہیں ہے،پاکستان بھارت کے ایسے اقدام سے بے خبر نہیں،بھارت کو اختیار نہیں کہ ایسے فیصلے کرے،کشمیر ایک الگ حیثیت ہے، اس حوالے سے پاکستان تمام اسٹیک ہولڈرز کا جلد اجلاس بلائے گا،تنازع گزشتہ 7 دہائیوں سے زیر التوا ہے،پاکستان کشمیریوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا،بھارت کا جموں کشمیر پر قبضے کا پلان ناکام ہوگا،

    واضح رہے کہ بھارتی سپریم کورٹ نے جموں کشمیر سے آرٹیکل 370 کی منسوخی کیس کا فیصلہ سنا دیا، عدالت نے آرٹیکل 370 کی منسوخی کو برقرار رکھا ہے،بھارتی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ” جموں کشمیر میں آرٹیکل 370 کا نفاذ عبوری تھا اور اس کو ہٹانے کا فیصلہ درست تھا” سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں جموں کشمیر میں 30 ستمبر 2024 تک اسمبلی انتخابات کروانے کی الیکشن کمیشن آف انڈیا کو ہدایت کی،بھارتی سپریم کورٹ نے جموں کشمیر کو جلدہی ریاست کا درج بحال کرنے کی ہدایت بھی کی، عدالت نے لداخ کو یوٹی بنانے کے فیصلہ کو بھی برقراررکھا