Baaghi TV

Tag: بھارتی عدالت

  • سی سی پی او کا بھکاریوں کے ہینڈلرز کے خلاف پرچے درج کرنیکا حکم

    سی سی پی او کا بھکاریوں کے ہینڈلرز کے خلاف پرچے درج کرنیکا حکم

    کیپٹل سٹی پولیس آفیسر لاہور بلال صدیق کمیانہ کی زیر صدارت سول لائنز اور سٹی ڈویژنز کی کارکردگی کا جائزہ لینے سے متعلق اجلاس منعقد ہوا جس میں زیرِ التواء روڈ سرٹیفکیٹس، زیرتفتیش مقدمات، عادی مجرمان، عدالتی مفرور ملزمان و اشتہاری ملزمان کی گرفتاری کے حوالے سے کارکردگی کاجائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ڈی آئی جی(آپریشنز) سید علی ناصر رضوی، ڈی آئی جی (انوسٹی گیشن) عمران کشور، ایس ایس پی(آپریشنز) صہیب اشرف، ایس ایس پی (انوسٹی گیشن)انوش مسعود چوہدری نے شرکت کی۔ سول لائنز اور سٹی ڈویژن کے ایس پیز،اے ایس پیز، سرکل افسران، ایس ایچ اوز، انچارجز(انوسٹی گیشن)بھی اجلاس میں موجود تھے۔

    سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ نے اجلاس سے خطاب کوہدایت کی کہ زیر التواء کیسز اور روڈ سرٹیفکیٹس کوجلد از جلد نمٹایا جائے۔ سی سی پی او نے موٹر سائیکل چوروں اور موبائل سنیچرز کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کا حکم دیا اور جرائم پیشہ عناصر، بھتہ خوروں، بدمعاشوں اور قبضہ مافیا کے خلاف موثر کارروائی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔انہوں نے پولیس فورس کوجرائم پیشہ افراد کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ کومبنگ آپریشنز کرنے کا حکم دیا اورکہا کہ ایس ڈی پی اوز ریڈز کی سربراہی خود کریں۔ جو افسر پرفارم نہیں کرئے گا اس کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔ بلال صدیق کمیانہ نے بہتر کارکردگی کے حامل افسران کو اہم ذمہ داریاں سونپنے کی ہدایت کی۔ سی سی پی او نے بھکاری مافیا کے خلاف سخت ترین کریک ڈاؤن کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ بھکاریوں کے ہینڈلرز کے خلاف پرچے دیں اور اس مہم میں ٹریفک وارڈنز کو بھی شامل کیا جائے۔ چوکوں اوراہم شاہراؤں پر بھکاریوں کو کھڑا نہ ہونے دیا جائے۔ لاہور پولیس شہریوں کے جان و مال اور عزت و آبرو کے تحفظ کیلئے اپنے فرائض دیانتداری اور جانفشانی سے سر انجام دے

    کیپٹل سٹی پولیس آفیسر لاہور بلال صدیق کمیانہ نے رات گئے تھانہ مزنگ کا اچانک دورہ کیا اور تھانے کی جاری تزئین وآرائش اور تعمیراتی کام کا جائزہ لیا۔اس موقع پر متعلقہ افسران نے سی سی پی او کو تھانے میں جاری تعمیراتی کاموں کے بارے میں بریفنگ دی اور عوام کے لئے دستیاب سہولیات کے حوالے سے آگاہ کیا۔ سی سی پی اوبلال صدیق کمیانہ نے کہا کہ تھانوں میں صفائی ستھرائی اوررنگ و روغن سمیت فرنٹ ڈیسک میں ضروری سہولیات کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے۔اسی طرح واش رومزکی صفائی اور فورس کے رہنے کے لئے مختص کمروں کو بہتر بنانے کے لئے شب و روز کام کیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تھانوں کے ورکنگ انوائرمنٹ کو مزید بہتر بنانے کے لئے ہنگا می بنیادوں پر کام جاری ہے۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے بلال صدیق کمیانہ نے کہا کہ تھانوں میں سہولیات کی فراہمی اور تھانہ کلچر کو بہتر بنانے کیلئے لاہور پولیس بھرپور محنت کر رہی ہے۔ شہریوں کی عزت وآبرو اور جان و مال کا تحفظ پولیس کی اولین ترجیح اور فرائض میں شامل ہے۔ پولیس سٹیشنز کے انفراسٹرکچر میں جدت سے سروس ڈلیوری کامعیار بہتر ہوگا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تھانوں میں آنے والے شہریوں بلخصوص خواتین بچوں اور بزرگ افرادسے عزت و احترام سے پیش آیا جائے

    بدنامہ زمانہ کلب نے مسلمانوں کے لئے "حلال سیکس” متعارف کروا دیا

    کرونا لاک ڈاؤن، مودی کے بھارت میں خواتین اور بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں کمی نہ آ سکی

    واٹس ایپ کے ذریعے فحش پیغام بھیجنے والا ملزم ہوا گرفتار، کئے ہوش اڑا دینے والے انکشاف

    شادی سے انکار، لڑکی نے کی خودکشی تو لڑکے نے بھی کیا ایسا کام کہ سب ہوئے پریشان

    شوہرکے موبائل میں بیوی نے دیکھی لڑکی کی تصویر،پھر اٹھایا کونسا قدم؟

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

    فحاشی کے اڈے پر چھاپہ، پولیس کو ملیں صرف خواتین ،پولیس نے کیا کام سرانجام دیا؟

  • "انہیں جوتے سے مارنا چاہیے” وزیراعظم کیلئے یہ کہنا غداری نہیں،بھارتی عدالت

    "انہیں جوتے سے مارنا چاہیے” وزیراعظم کیلئے یہ کہنا غداری نہیں،بھارتی عدالت

    "انہیں جوتے سے مارنا چاہیے” وزیراعظم کیلئے یہ کہنا غداری نہیں،بھارتی عدالت

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی عدالت نے فیصلہ دیا ہے کہ وزیراعظم پر تنقید کی جا سکتی ہے، تنقید غداری کے زمرے میں نہیں آتی، اگر کوئی نازیبا الفاظ استعمال کرتا ہے تو وہ غیر زمہ دارانہ ہوں گے، غداری نہیں

    کرناٹک ہائیکورٹ نے ایک فیصلہ سنایا جس میں عدالت نے یہ واضح کیا کہ وزیراعظم کے خلاف نازیبا الفاظ کا استعمال کبھی بھی ملک کے ساتھ غداری کے زمرے میں نہیں آتا، عدالت نے ایک سکول کی انتظامیہ کے خلاف غداری کے مقدمے کو خارج کر دیا، 21 جنوری 2020 کوشہر بیدر کے ایک سکول میں طلبا نے شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کیا تھا، اس دوران ایک ڈرامہ بھی طلبا نے پیش کیا تھا، جس کے بعد شاہین سکول کی انتظامیہ کے خلاف غداری کے الزام عائد کئے گئے تھے، ان پر مقدمہ درج کر لیا گیا تھا،

    کرناٹک ہائیکورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے علاؤالدین، عبدالخالق، محمد بلاول اور دیگر کے خلاف غداری کا مقدمہ مسترد کر دیا،جسٹس ہیمنت گودر کی سربراہی میں بینچ نے فیصلہ سنایا اور کہا کہ مزہبی گروپوں کے مابین رنجش پیدا کرنے کے لئے لگائے گئے الزام ثابت نہیں ہوتے ہیں، عدالت نے کہا کہ وزیراعظم کے خلاف نازیبا الفاظ ” انہیں جوتے سے مارنا چاہئے” استعمال ہوئے، یہ کہنا غیر زمہ دارانہ معاملہ ضرور ہے اور نازیبا بھی، تا ہم اسکو غداری نہیں کہا جا سکتا

    جس کو پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہتا تھا اسے ڈاکو کی وزارت اعلیٰ کے نیچے عمران خان پر حملہ ہوا

    پاکستان کو ایک مرتبہ پھر انتہا پسندی اور مذہبی جنونیت کا سامنا 

    عمران خان کے صاحبزادوں قاسم اور سلیمان کی زمان پارک آمد 

     آئین شکنی و سنگین غداری کے کیس میں کارروائی شروع 

  • گائے کا گوبرگھروں کو اٹامک ریڈی ایشن سے اورپیشاب  بہت سی لاعلاج بیماریوں سے بچاتا ہے،بھارتی عدالت

    گائے کا گوبرگھروں کو اٹامک ریڈی ایشن سے اورپیشاب بہت سی لاعلاج بیماریوں سے بچاتا ہے،بھارتی عدالت

    بھارتی ریاست گجرات کی عدالت کے جج سمیر ویاس نے مضحکہ خیز ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ گائے کے گوبر کا لیپ گھروں کو اٹامک ریڈی ایشن سے بچاتا ہے۔

    باغی ٹی وی: بھارتی میڈیا کے مطابق گجرات کے تاپی ضلع میں ایک سیشن عدالت کے جج نے ملک میں گائے کی حفاظت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ سائنس نے ثابت کیا ہے کہ گائے کے گوبر سے بنے گھر جوہری تابکاری سے متاثر نہیں ہوتے جبکہ گائے کے پیشاب سے بہت سی لاعلاج بیماریوں کا علاج کیا جا سکتا ہے-

    گجرات کے ضلع تاپی کی سیشن کورٹ میں گزشتہ سال ایک 22 سالہ مسلمان نوجوان کے خلاف مختلف قوانین کی خلاف ورزی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، اس کیس میں نوجوان کو گائے اور بیلوں کو گجرات سے مہاراشٹرا لے جانے کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

    اسی حوالے سے کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے گائے کو ذبح کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گائے ایک جانور نہیں ہماری ماں ہے، ملک میں گائے کو بچانے کی ضرورت ہے۔

    عدالت کی جانب سے کہا گیا کہ دنیا کے تمام مسائل اس دن حل ہوجائیں گے جس دن کرہ ارض پر گائے کے خون کا ایک قطرہ بھی نہیں گرے گا، گائے کے ذبیحہ اور غیر قانونی نقل و حمل کے واقعات تواتر سے ہو رہے ہیں یہ ایک مہذبی معاشرے کی توہین ہے اگرچہ ہم گائے کے تحفظ کی بات کرتے ہیں، لیکن زمین پر اس پر عمل نہیں ہوتا ہے۔

    جج نے کہا کہ اگرچہ ہندوستان کو آزادی حاصل ہوئے 75 سال گزر چکے ہیں لیکن گائے ذبیحہ کے واقعات کم ہونے کے بجائے بڑھ رہے ہیں گائے مذہب کی علامت ہے گائے پر مبنی آرگینک فارمنگ کے ذریعے اگائی جانے والی خوراک ہمیں بہت سی بیماریوں سے بچاتی ہے۔

    عدالت نے سائنس کا حوالے دیتے ہوئے کہا کہ سائنس نے ثابت کیا ہے کہ گائے کے گوبر سے بنے گھر اٹامک ریڈی ایشن سے متاثر نہیں ہوتے جب کہ گائے کا پیشاب بھی متعدد بیماریوں سے بچاتا ہے۔

    جج نے کہا کہ گائے خطرے میں ہے کیونکہ آج کل "مکینائزڈ سلاٹر ہاؤسز” میں گائے کا گوشت ذبح کیا جا رہا ہے اور گوشت کے ساتھ گائے کا گوشت نان ویجیٹیرین لوگوں کو پیش کیا جاتا ہے۔

    لوگوں کو گائے کی اہمیت کا احساس دلانے کے لیے، جج نے سنسکرت کے کچھ شلوکوں کا حوالہ دیا اور کہا کہ "مذہب گائے سے پیدا ہوا ہے” کیونکہ مذہب ‘ورشابھا’ (بیل) کی شکل میں ہے، جو گائے کا بیٹا ہے۔

    عدالت نے کہا کہ یہ تکلیف دہ ہے کہ گائے کو غیر قانونی طور پر لے جایا جا رہا ہے اور ذبح کیا جا رہا ہے، ہندوستان میں گائے کی 75 فیصد آبادی پہلے ہی ختم ہو چکی ہے۔

    اگست 2020 میں، تاپی پولیس نے مہاراشٹر کے مالیگاؤں قصبے کے رہائشی محمد امین انجم کو مبینہ طور پر 16 گایوں اور بیلوں کو ٹرک میں گجرات لے جانے کی کوشش کے الزام میں گرفتار کیاجب پولیس نے ٹرک کو روکا تو ایک گائے اور ایک بیل پہلے ہی مر چکے تھے کیونکہ گاڑی میں مویشیوں کے لیے کافی جگہ یا خوراک نہیں تھی محمد انجم اپنا ٹرک چھوڑ کر موقع سے فرار ہو گیا تھا تاہم بعد میں اسے گرفتار کر لیا گیا۔

    ایک مقدمے کی سماعت کے بعد، سیشن کورٹ نے اسے گجرات جانوروں کے تحفظ ایکٹ، 2011، گجرات جانوروں کے تحفظ (ترمیمی) ایکٹ، 2017، اور جانوروں پر ظلم کی روک تھام ایکٹ، 1960 کے متعلقہ سیکشن کے تحت مجرم پایا۔

    2017 میں، ریاستی حکومت نے ‘گجرات جانوروں کے تحفظ (ترمیمی) ایکٹ، 2017’ کی شکل میں گائے کے ذبیحہ کے خلاف ایک سخت قانون متعارف کرایا، جس میں گائے کے ذبیحہ کے قصوروار یا براہ راست ملوث ہونے کے لیے عمر قید کی سزا کا انتظام ہے عدالت نے ترمیم شدہ ایکٹ کے تحت ملزم کو عمر قید کی سزا سنائی اور اس پر 5 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا۔

  • بھارتی عدالت نے  17 ویں صدی کی شاہی عید گاہ مسجد کو ہٹانے کی منظوری دے دی

    بھارتی عدالت نے 17 ویں صدی کی شاہی عید گاہ مسجد کو ہٹانے کی منظوری دے دی

    متھرا میں ایک شاہی عید گاہ مسجد کو ہٹانے کا مطالبہ کرنے والی ایک درخواست کو اتر پردیش کی ایک عدالت نے منظوری دیدی ہے –

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق درخواست میں "کرشن جنم بھومی” یا بھگوان کرشن کی جائے پیدائش پرمسجد تعمیر کرنے کا دعوی کیا گیا ہےیہ مقدمہ ہندو تنظیموں کی طرف سے17ویں صدی کی شاہی عیدگاہ مسجدکو کٹرا کیشو دیو مندر سے ہٹانے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ جن کا دعویٰ ہے کہ یہ مسجد بھگوان کرشن کی جائے پیدائش پر بنائی گئی ہے جسے ہندو دیوتا کرشنا کی جائے پیدائش سمجھا جاتا ہے۔

    بھارت میں ہندو انتہا پسندوں نےایک اورمسجد نذرآتش کر دی،مسلمانوں کےگھروں کو آگ لگا دی

    درخواستوں میں کہا گیا ہے کہ شاہی عیدگاہ مسجد، بھگوان کرشن کی جائے پیدائش کے قریب مغل بادشاہ اورنگزیب کے حکم پر 1669-70 میں تعمیر کی گئی تھی در خواست میں عدالت سے درخواست کی گئی کہ بھگوان کرشن کی جانب سے شری کرشن کی جائے پیدائش کی 13.37 ایکڑ زمین واپس دی جائے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق دعویٰ کیا گیا ہے کہ تقریباً چار سو سال قبل اورنگزیب کے حکم سےاس کے بڑے حصے پر مندر کو مسمار کرنے کے بعد کیشو دیو ٹیلا اور شاہی عیدگاہ مسجد زمین پر ناجائز قبضہ کر کے تعمیر کی گئی تھی اس درخواست میں بھی پارلیمنٹ کے ذریعہ منظور کردہ دھرماستھلا ایکٹ (عبادت کے مقامات ایکٹ) 1991 کو چیلنج کیا گیا ہے۔

    ہندوانتہا پسندوں نے متھرا کی شاہی عیدگاہ مسجد کومندرقراردے دیا

    درخواست گزار کا کہنا ہے کہ مذہبی مقامات کا نظم و نسق اور امن و امان ریاست کی فہرست میں شامل ہیں ریاستی حکومتوں کو اس سلسلے میں قانون اور قواعد بنانے کا اختیار ہے۔ ایسے میں پارلیمنٹ نے یہ قانون بنا کر ریاستوں کے دائرہ اختیار میں مداخلت کی ہےمرکز کا یہ قدم آئین کےوفاقی ڈھانچے کے نظام کو نقصان پہنچانے والا ہےلہٰذا عدالت اسےغیرقانونی قرار دے کر منسوخ کرے۔

    واضح رہے کہ لکھنو سے تعلق رکھنے والی رنجنا اگنی ہوتری نامی خاتون نے کٹرا کیشو دیو مندر کے "بچے بھگوان کرشن کے دوست” کے طور پر مقدمہ دائر کیا تھا-

    تاج محل معاملہ : آثار قدیمہ نے 22 بند کمروں کی تصاویر جاری کردیں