Baaghi TV

Tag: بھارتی مسلمان

  • امریکی سرزمین پر بھارتی مسلمانوں نے مودی کا پول کھول دیا

    امریکی سرزمین پر بھارتی مسلمانوں نے مودی کا پول کھول دیا

    عرہ تکبیر، اللہ اکبر! امریکی سرزمین پر بھارتی مسلمانوں نے مودی کا پول کھول دیا۔

    بھارتی مسلمانوں کی طرف سے مودی کےخلاف اس مظاہرے میں سکھ، ہندو اور دیگر بھارتی نژاد امریکی شہریوں نے بھی بھرپور حصہ لیا،مظاہرین نے نہ صرف مودی کے خلاف نعرے بلند کیے گئے، بلکہ اس کی پالیسیاں بھی بے نقاب کیں-

    غم و غصے سے بھرے ہجوم نے عالمی سطح پر مودی کا مکروح چہرہ بےنقاب کیا اور ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ بھارتی میڈیا ان مناظر کو چھپا رہا ہے اور جان بوجھ کر اپنے عوام کو سچ دکھانے سے گریز کر رہا ہے-


    علاوہ ازیں بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما نے لائیو پروگرام میں ہندو انتہا پسند وزیراعظم نریندر مودی کی ووٹ مانگنے کا کلپ لائیو پروگرام میں چلا دیا۔

    سکیورٹی ذرائع کے مطابق پہلگام واقعے کو جواز بنا کر نریندر مودی کا عوام سے ووٹ مانگنے کا منصوبہ کانگریس رہنما نے دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا اور پلوامہ فالس فلیگ آپریشن کے نتیجے میں ہلاک بھارتی فوجیوں کی لاشوں پر ووٹ مانگنے کا بیان لائیو پروگرام میں چلا دیا۔

    ٹی وی پروگرام میں کانگریس رہنما کی جانب سے مودی کی تقریر کا ویڈیو کلپ چلا کر مودی اور بھارتی میڈیا کے منہ پر طمانچہ مارا گیا، بی جے پی کی آلہ کار پروگرام اینکر مودی کا دفاع کرنے کی ناکام کوشش کرتی رہی۔

    کانگریس رہنما کی جانب سے ویڈیو چلاتے ہی اینکر پرسن کو سانپ سونگھ گیا، ویڈیو میں مودی کی جانب سے پلوامہ کے شہدا کو ہتھیار بنا کر ووٹ کی اپیل کی جا رہی ہے جس نے مودی کا گھناؤنا چہرہ بھارت سمیت دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا۔

    سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ ویڈیو سے مودی سرکار کا اپنے ہلاک فوجی جوانوں کے نام پر سیاست کرنے کا گندا کھیل منظر عام پر آگیا ہے، مودی بھارتی قوم کے جذبات بھڑکا کر سیاست کا دھندہ کرتا ہے۔

    سیاسی تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ کانگریس رہنما کی جانب سے لائیو پروگرام میں ویڈیو کلپ چلانے پر ٹاک شو میں موجود اینکر اور وزرا کے چہروں پر سوالیہ نشان دیکھنے لائق تھے۔

  • مودی سے مدارس پر چھاپے مارنے کا مطالبہ ، ہندوؤں سے مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے کا فرمان جاری

    مودی سے مدارس پر چھاپے مارنے کا مطالبہ ، ہندوؤں سے مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے کا فرمان جاری

    نئی دہلی : انتہا پسند ہندوؤں نے بھارت میں مسلمانوں کا جینا دو بھر کر دیا، بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں ہندو مذہبی رہنماؤں کی پنچایت میں ہندوؤں سے مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے کا فرمان جاری کیا گیا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق مہاراشٹرا نونرمان سینا کے سربراہ راج ٹھاکرے نے مودی سے مدارس پر چھاپے مارنے کا مطالبہ کر دیا راج ٹھاکرے نے کہا کہ مدارس پاکستانی حامیوں سے بھرے ہوئے ہیں ممبئی پولیس کو بھی معلوم ہے کہ وہاں کیا ہو رہا ہے ہمارے ارکان اسمبلی انہیں ووٹ بینک کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔

    بھارت میں انتہا پسند ہندوؤں کا مسلمان صحافیوں پر حملہ

    دوسری جانب رمضان کے موقع پر ممبئی میں انتہا پسند ہندو رہنما نے دھمکی دی ہے کہ اگر مساجد سے لاؤڈ اسپیکر نہیں ہٹے تو مساجد کے دروازں پر ہندوؤں کے مذہبی گيت بجائے جائیں گے۔

    ریلی سے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ مسجدوں کے باہر لاؤڈ سپیکر کی کیا ضرورت ہے؟ کیا جب مذہب کی بنیاد رکھی گئی تھی تو لاؤڈ سپیکر موجود تھے؟ اگر حکومت نے انہیں ہٹایا نہیں تو پھر ہمارے کارکنان اس کے سامنے ہنومان چالیسا بجائیں گے۔

    پنچایت سے خطاب کرتے ہوئے نرسنگھا نند نے کہا کہ اگر بھارت میں کوئی مسلمان وزیر اعظم بن جاتا ہے، تو آئندہ بیس برس کے دوران آپ میں سے 50 فیصد اپنا عقیدہ بدل دیں گے اور باقی 40 فیصد ہندو مار دیئے جائیں گے جس کے بعد انہوں نے مزید کہا کہ تو یہ ہے ہندوؤں کا مستقبل، اگر آپ اسے بدلنا چاہتے ہیں تو مرد بنو۔ اور مرد ہونا کیا ہے؟ وہ شخص جو ہتھیاروں سے لیس ہو۔

    3 افراد نےحاملہ بکری کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا کرمار ڈالا،ایک ملزم گرفتار

    دوسری جانب نئی دہلی میں مسلمانوں پر ہندو تہوار کے موقع پر 10 دن کے لیے اپنی گوشت کی دکانیں بند رکھنے کے لیے دباؤ بڑھتا جا رہا ہے درگاہ مائی کی پوجا کے نام سے 10 دن تک جاری رہنے والے مشہور ہندو تہوار کے آغاز پر ہی مسلمانوں کو گائے کے گوشت کی دکانیں بند رکھنے کے لیے مجبور کیا جا رہا ہے۔

    جنوبی اور مغربی نئی دہلی کے میئرز نے تجویز دی ہے کہ تہوار کے 10 دن تک مندر میں آمد و رفت زیادہ ہوجاتی ہے ایسے میں مندر آنے والوں کو دکانوں پر لٹکا ہوا گائے کا گوشت دیکھ کر تکلیف ہوگی اس سے ہندو کمیونیٹی کے جذبات بھڑک سکتے ہیں اور امن و عامہ کا مسئلہ کھڑا ہوسکتا ہے اس لیے مسلمان ان 10 دنوں میں دکانیں بند رکھیں۔

    کرناٹک میں طالبات کےحجاب پر پابندی کے بعدگائے کے گوشت کی فروخت پر پابندی

    میونسپل اداروں کے سربراہان نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ گائے کی باقیات کو ٹھکانے لگانے کے بجائے سڑک پر پھینک دیا جاتا ہے جسے کتے کھاتے ہیں اور گندگی پھیلتی ہے۔

    اس سے قبل ہی مودی کی جماعت کے کارندوں نے گوشت کی دکانیں بند کروانا شروع کردی ہیں جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔

    بھارت میں 2014 میں نریندر مودی کی حکومت آنے کے بعد سے اقلیتوں، خاص طور پر مسلم برادری، کے خلاف اس طرح کے نفرت انگیز بیانات میں اضافہ ہوا ہے چند ماہ قبل ہری دوار میں بھی اسی طرح کی ایک پنچایت میں مسلمانوں کی ‘نسل کشی کرنے” کا نعرہ لگایا گيا تھا۔

    ہندو اگرشاہ رخ خان کی فلموں کا بائیکاٹ کردیں، تو وہ سڑکوں پر آجائیں گے ،ہندوانتہا…

  • حجاب تنازع: بھارتی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی، پاکستان کی شدید مذمت

    حجاب تنازع: بھارتی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی، پاکستان کی شدید مذمت

    اسلام آباد:حجاب تنازع: بھارتی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی، پاکستان کی شدید مذمت ،اطلاعات کے مطابق پاکستان نے بھارت میں رہنے والے مسلمانوں پر مودی سرکار اور مودی سرکارکے حمایت یافتہ انتہا پسند ہندووں کی طرف سے مظالم کو ناقابل قبول اور ناقابل برداشت قرار دیا ،پاکستان نے حجاب تنازع پر بھارتی ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کر کے شدید احتجاج کیا۔

    ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق پاکستان نے بھارت کی ریاست کرناٹک میں مسلم طالبات کے حجاب پہننے پر پابندی کے اقدام کی مذمت کی ہے، ہندوستانی ناظم الامور کو وزارت خارجہ میں طلب کر کے مسلم طالبات کے حجاب پہننے پر پابندی کے اقدام کو قابل مذمت قرار دیا ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق مذکورہ اقدام پر حکومت پاکستان کی شدید تشویش اور مذمت سے بھارتی ناظم الامور کو آگاہ کیا گیا، چارج ڈی افیئرز پر زور دیا گیا وہ بھارتی حکومت کو پاکستان کے تحفظات کے بارے میں آگاہ کریں، معاملہ خارجی اور اکثریتی ایجنڈے کا حصہ ہے جس کا مقصد غیر انسانی اور شیطانی کرنا ہے۔

    بیان کے مطابق بھارتی سفارت کار کو پاکستان کی گہری تشویش سے مزید آگاہ کیا گیا، فروری 2020ء میں دہلی کے ہولناک فسادات کے تقریباً دو سال گزر جانے کے بعد بھی مذہبی عدم برداشت ہے، منفی دقیانوسی تصورات، بدنامی اور امتیازی سلوک جاری ہے، بی جے پی قیادت کی خاموشی اور ہندتوا کے حامیوں کے خلاف قابل فہم کارروائی کی عدم موجودگی پر تشویش ہے، حال ہی میں اتراکھنڈ کے ہریدوار میں منعقدہ دھرم سنسد میں کھلے عام مسلمانوں کی نسل کشی کا مطالبہ کر رہے۔