Baaghi TV

Tag: بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی

  • بھارت اور یورپی یونین کے درمیان تاریخی تجارتی معاہدہ طے پاگیا

    بھارت اور یورپی یونین کے درمیان تاریخی تجارتی معاہدہ طے پاگیا

    نئی دہلی: بھارت اور یورپی یونین نے طویل عرصے سے زیرِ التوا ایک بڑے اور تاریخی تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دے دی ہے۔

    بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اسے ’’مدر آف آل ڈیلز‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاہدہ بھارت اور یورپ کے کروڑوں عوام کے لیے بڑے معاشی مواقع پیدا کرے گا تقریباً دو دہائیوں سے جاری وقفے وقفے کی بات چیت کے بعد یہ معاہدہ طے پایا ہے، جس کے تحت بھارت اپنی وسیع مگر محفوظ مارکیٹ کو 27 ممالک پر مشتمل یورپی یونین کے لیے فری ٹریڈ کےتحت کھولے گایورپی یونین اس وقت بھارت کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔

    بھارتی وزیر اعظم اور یورپی کمیشن کی صدر اُرسلا فان ڈیر لیئن نئی دہلی میں ہونے والے بھارت۔یورپی یونین سمٹ میں معاہدے کی تفصیلات کا مشترکہ اعلان کریں گے مالی سال 2025 کے اختتام تک بھارت اور یورپی یونین کے درمیان تجارت کا حجم 136.5 ارب ڈالر رہا۔

    بھارتی حکام کے مطابق معاہدے پر باضابطہ دستخط قانونی جانچ پڑتال کے بعد کیے جائیں گے، جس میں پانچ سے چھ ماہ لگ سکتے ہیں، جبکہ اس پر عمل درآمد ایک سال کے اندر متوقع ہے۔

    یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یورپی یونین اور بھارت دونوں امریکا کے ساتھ غیر یقینی تجارتی حالات کے پیش نظر متبادل شراکت داریوں کو فروغ دے رہے ہیں،ماہرین کے مطابق اس ڈیل سے بھارت کو محنت طلب شعبوں میں برآمدات بڑھانے میں مدد ملے گی، جبکہ یورپی مصنوعات کو بھا ر تی مارکیٹ میں قیمت کا فوری فائدہ حاصل ہوگا۔

  • مودی اور ٹرمپ کا تجارتی تعلقات پر رابطہ، مذاکرات کا نیا دور متوقع

    مودی اور ٹرمپ کا تجارتی تعلقات پر رابطہ، مذاکرات کا نیا دور متوقع

    بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ ان کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے گفتگو ہوئی ہے جس میں دونوں رہنماؤں نے تجارتی مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا اور آئندہ ہفتوں میں قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارتی وزارتِ تجارت کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ واشنگٹن میں تجارتی حکام کی حالیہ ملاقاتوں کے بعد جلد ہی مذاکرات کا نیا دور متوقع ہے۔امریکی صدر ٹرمپ نے بھارت کی زیادہ تر برآمدات پر 50 فیصد ٹیرف عائد کر رکھا ہے، جو امریکا کے کسی بھی تجارتی شراکت دار پر لگائے گئے سب سے زیادہ ٹیکسوں میں سے ایک ہے۔ یہ اقدام بھارت کی امریکا کو تقریباً 50 ارب ڈالر مالیت کی برآمدات کو متاثر کر رہا ہے، جن میں ٹیکسٹائل، قیمتی پتھروں و زیورات اور مچھلی کی صنعت نمایاں ہیں۔

    یہ ٹیرف 25 فیصد سے بڑھا کر 50 فیصد اس وقت کیا گیا تھا جب نئی دہلی نے روسی تیل کی درآمد جاری رکھی تھی۔واشنگٹن کا الزام ہے کہ بھارت کی روسی تیل کی خریداری ماسکو کی جنگی مہم کو مالی مدد فراہم کر رہی ہے، تاہم بھارت نے ان الزامات کو دوہرا معیار قرار دے کر مسترد کیا اور امریکا و یورپی ممالک کے روس کے ساتھ تجارتی تعلقات کی مثال پیش کی۔

    کابل میں حملے میں ٹی ٹی پی سربراہ نور ولی محسود ہلاک، دو اہم کمانڈر بھی مارے گئے

    شہباز شریف اور بلاول بھٹو کا رابطہ، سیاسی کشیدگی کم کرنے پر اتفاق

    ایشیا کپ 2025 کے بعد بھی سلمان علی آغا پر اعتماد، قیادت برقرار

  • غیر ملکی نہیں، مقامی مصنوعات استعمال کریں،مودی کی اپیل

    غیر ملکی نہیں، مقامی مصنوعات استعمال کریں،مودی کی اپیل

    بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے قوم سے خطاب میں عوام پر زور دیا ہے کہ وہ غیر ملکی مصنوعات کے بجائے مقامی مصنوعات استعمال کریں تاکہ خود انحصاری کی مہم کو فروغ دیا جا سکے۔

    عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق مودی کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب بھارت اور امریکا کے تجارتی تعلقات کشیدگی کا شکار ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارتی درآمدی اشیا پر 50 فیصد ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد مودی نے ’سودیشی‘ یعنی بھارت میں بنی اشیا کے استعمال پر زور دیا۔مودی کے حامیوں نے امریکی برانڈز کے بائیکاٹ کی مہم شروع کردی ہے، جن میں میکڈونلڈز، پیپسی اور ایپل جیسی بھارت میں مقبول کمپنیاں شامل ہیں۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ بہت سی مصنوعات جو بھارتی عوام روزانہ استعمال کرتے ہیں غیر ملکی ہیں اور اکثر انہیں اس کا علم بھی نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق ہمیں ان مصنوعات سے چھٹکارا حاصل کرنا ہوگا اور صرف بھارت میں بنی ہوئی اشیا خریدنی چاہییں۔بھارت کی 1.4 ارب آبادی امریکی مصنوعات کے لیے ایک بڑی منڈی ہے، جنہیں بڑی تعداد میں آن لائن ریٹیلر ایمیزون سے بھی خریدا جاتا ہے۔ گزشتہ برسوں میں امریکی برانڈز کی رسائی بھارت کے چھوٹے شہروں تک بھی ہوچکی ہے۔

    مودی نے دکانداروں سے بھی کہا کہ وہ بھارت میں بنی مصنوعات کو ترجیح دیں تاکہ ملکی معیشت کو فروغ مل سکے۔ ادھر، کئی کمپنیوں نے گزشتہ ہفتوں میں اپنی مقامی مصنوعات کی تشہیر بڑھا دی ہے۔

    زیارت: اغوا کے بعد اسسٹنٹ کمشنر اور بیٹے کو قتل کردیا گیا

    مرکزی مسلم لیگ: خدمتِ خلق کی روشن مثال،تحریر: یوسف صدیقی

  • چین اور بھارت حریف نہیں بلکہ شراکت دار ہیں،چینی صدر

    چین اور بھارت حریف نہیں بلکہ شراکت دار ہیں،چینی صدر

    چین کے صدر شی جن پنگ نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات میں کہا کہ چین اور بھارت حریف نہیں بلکہ ترقی کے لیے تعاون پر مبنی شراکت دار ہیں۔

    یہ ملاقات چین کے شہر تیانجن میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر ہوئی، جس میں روسی صدر ولادیمیر پوٹن، ایرانی اور وسطی ایشیائی ممالک کے سربراہان بھی شریک تھے۔مودی سات سال بعد چین گئے ہیں اور اجلاس میں شرکت کے دوران انہوں نے کہا کہ بھارت چین کے ساتھ تجارتی خسارہ کم کرنے اور تعلقات کو باہمی اعتماد و احترام کی بنیاد پر آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔

    دونوں رہنماؤں نے ہمالیائی سرحد پر امن و استحکام قائم ہونے اور تعاون کو دنیا کے 2.8 ارب لوگوں کے مفاد میں قرار دینے پر زور دیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ملاقات مغربی دباؤ، خصوصاً امریکا کی جانب سے بھارت پر عائد 50 فیصد تجارتی ٹیرف کے پس منظر میں مشترکہ موقف اپنانے کی کوشش کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔

    اردو یونیورسٹی میں مالی اور انتظامی بے ضابطگیوں ، آڈٹ کمیٹی قائم

    یورپی یونین نے ریمنڈس کاروبلس کو پاکستان کا سفیر مقرر کر دیا

    پی ٹی آئی رہنما ملک احمد خان بھچر ضمنی الیکشن سے دستبردار

    پنجاب میں تباہ کن سیلاب، جاں بحق افراد کی تعداد 33، 20 لاکھ سے زائد بے گھر

  • مودی حکومت کی سب سے بڑی ٹیکس کٹوتیاں، صارفین اور کمپنیوں کو ریلیف

    مودی حکومت کی سب سے بڑی ٹیکس کٹوتیاں، صارفین اور کمپنیوں کو ریلیف

    بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے گزشتہ 8 برسوں کی سب سے بڑی ٹیکس کٹوتیاں کی گئی ہیں، جنہیں کاروباری حلقوں اور سیاسی تجزیہ کاروں نے سراہتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام امریکا کے ساتھ جاری تجارتی کشیدگی میں مودی کی شبیہ بہتر بنانے میں مدد دے گا۔

    خبر رساں ادارے کے مطابق 2017 کے بعد سب سے بڑی ٹیکس اصلاحات کے طور پر مودی حکومت نے 16 اگست کو "گُڈ اینڈ سروسز ٹیکس (جی ایس ٹی)” کے پیچیدہ نظام میں بڑی تبدیلیوں کا اعلان کیا۔نئے فیصلے کے تحت اکتوبر سے روزمرہ ضروریات کی اشیا اور الیکٹرانکس کی قیمتوں میں کمی ہوگی، جس کا فائدہ صارفین کے ساتھ نیسلے، سام سنگ اور ایل جی جیسی بڑی کمپنیوں کو بھی ملے گا۔یومِ آزادی کی تقریر میں مودی نے عوام سے مقامی مصنوعات کے زیادہ استعمال کی اپیل کی، جو اُن کے حامیوں کی امریکی مصنوعات کے بائیکاٹ کی آوازوں سے ہم آہنگ ہے۔ یہ اس وقت ہوا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 27 اگست سے بھارت کی درآمدات پر ٹیرف 50 فیصد کر دیا ہے۔

    ٹیکس کٹوتیاں اگرچہ مہنگی ثابت ہوں گی کیونکہ جی ایس ٹی حکومت کا سب سے بڑا ریونیو سورس ہے۔ آئی ڈی ایف سی فرسٹ بینک کے مطابق اس اقدام سے بھارتی جی ڈی پی اگلے 12 ماہ میں 0.6 فیصد بڑھے گی لیکن ریاستی و وفاقی حکومت کو سالانہ 20 ارب ڈالر کا نقصان ہوگا۔آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن کے ریسرچ فیلو رشید قدوائی نے کہا کہ یہ اقدام اسٹاک مارکیٹ کو سہارا دینے کے ساتھ بہار کے انتخابات سے قبل مودی کو سیاسی فائدہ بھی پہنچائے گا، کیونکہ جی ایس ٹی میں کمی کے اثرات وسیع پیمانے پر عوام کو ملیں گے، جب کہ انکم ٹیکس کٹوتیاں صرف محدود طبقے کو فائدہ دیتی ہیں۔

    واضح رہے کہ بھارت نے 2017 میں جی ایس ٹی نظام نافذ کیا تھا جس کے تحت ریاستی ٹیکسز ختم کرکے پورے ملک میں یکساں ٹیکس پالیسی لائی گئی، تاہم اس پر مختلف شرحوں کی پیچیدگی پر تنقید کی جاتی رہی۔نئے نظام کے مطابق گاڑیوں اور الیکٹرانکس پر عائد 28 فیصد ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے جبکہ تقریباً تمام 12 فیصد شرح والی اشیا کو کم کر کے 5 فیصد کے زمرے میں شامل کیا گیا ہے، جس سے پیک شدہ غذائی اشیا اور روزمرہ ضروریات کی قیمتیں کم ہو جائیں گی۔

    عوامی مسائل کے حل کیلئے ہم سب کا آپس میں کوئی اختلاف نہیں ، مولانا فضل الرحمان

  • مودی کا برطانیہ کا دورہ، تجارتی معاہدے پر دستخط

    مودی کا برطانیہ کا دورہ، تجارتی معاہدے پر دستخط

    بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے آج سے برطانیہ کا دو روزہ سرکاری دورہ شروع کر دیا ہے، جس کے دوران بھارت اور برطانیہ کے درمیان ایک تاریخی آزاد تجارتی معاہدے پر دستخط کیے جائیں گے۔

    یہ معاہدہ برطانیہ کے لیے بریگزٹ (یورپی یونین سے علیحدگی) کے بعد سب سے اہم تجارتی معاہدہ تصور کیا جا رہا ہے، جبکہ بھارت کے لیے یہ ایشیا سے باہر پہلا بڑا تجارتی معاہدہ ہے۔معاہدے کے تحت بھارت کو کئی اہم شعبوں میں مراعات حاصل ہوئی ہیں۔ برطانوی حکومت بھارتی شہریوں کے لیے ویزا پالیسی میں نرمی کرے گی، پروفیشنل ڈگریز اور اسناد کو تسلیم کیا جائے گا، جبکہ بھارت سے آنے والے افراد کو نیشنل انشورنس کی ادائیگی سے بھی جزوی طور پر چھوٹ ملے گی۔

    معاہدے کی خاص بات یہ ہے کہ برطانیہ بھارت کی 99 فیصد برآمدات پر کسٹم ڈیوٹی ختم کر دے گا۔ ان برآمدات میں زیورات، ٹیکسٹائل، چمڑا، انجینیئرنگ مصنوعات اور فوڈ پروڈکٹس شامل ہیں۔بھارت نے تاہم زراعت کے شعبے کو معاہدے سے باہر رکھا ہے، کیونکہ یہ شعبہ ملک کی 40 فیصد سے زائد آبادی کو روزگار فراہم کرتا ہے۔ اسی طرح قانونی اور مالیاتی خدمات بھی اس معاہدے کا حصہ نہیں بنیں، کیونکہ ان پر بات چیت اب بھی جاری ہے اور یہ سرمایہ کاری کے علیحدہ معاہدے کے تحت شامل کی جائیں گی۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی شراکت داری کو ایک نئی سمت دے گا اور تجارتی حجم میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔

    وزیراعظم کا سستی بجلی پیکج ختم ہونے کو، ریلیف مرحلہ وار واپس

    زرمبادلہ کے ذخائر میں 6 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کی کمی

    طالبان حکومت نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق رپورٹ مسترد کر دی

    نوکریاں نہ دیں تو مزدور طبقہ مخالف جماعتوں کا رخ کرے گا، برطانوی یونینز

  • پاکستان کا بھارتی وزیر اعظم کے کشمیر سے متعلق بیانات پر شدید ردعمل

    پاکستان کا بھارتی وزیر اعظم کے کشمیر سے متعلق بیانات پر شدید ردعمل

    پاکستان نے بھارت کے وزیر اعظم کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر سے متعلق دیے گئے بے بنیاد اور گمراہ کن بیانات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

    واضح رہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اسٹرٹیجک ریلوے لائن منصوبے کے افتتاح کے لیے مقبوضہ کشمیر پہنچے تھے۔بھارتی میڈیا کے مطابق اس موقع پر نریندر مودی نے کہا تھا کہ پاکستان نے پہلگام میں ’انسانیت اور کشمیریت‘ پر حملہ کیا تھا۔دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں ترجمان نے کہا کہ ایسے بیانات ایک منظم منصوبے کا حصہ ہیں جن کا مقصد مقبوضہ علاقے میں جاری انسانی حقوق کی سنگین اور مسلسل خلاف ورزیوں سے عالمی توجہ ہٹانا ہے۔

    دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ ہمیں اس پر گہری تشویش ہے کہ بھارتی وزیر اعظم نے ایک بار پھر پہلگام حملے میں پاکستان کو ملوث قرار دیا، جبکہ اس حوالے سے کوئی قابل اعتماد ثبوت فراہم نہیں کیا گیا۔ یاد رہے کہ 22 اپریل 2025 کو ہونے والے حملے میں 26 سیاح ہلاک ہوئے تھے۔

    ترجمان نے کہا کہ جموں و کشمیر بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے، جس کی حتمی حیثیت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی مرضی کے مطابق طے کی جانی ہے۔ کوئی بھی بیان بازی اس حقیقت کو تبدیل نہیں کر سکتی۔

    وزارت خارجہ نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں ترقی سے متعلق بھارتی دعوے بے بنیاد ہیں، جب کہ وہاں فوجی محاصرہ، بنیادی آزادیوں کی خلاف ورزیاں، بلا جواز گرفتاریاں، اور بین الاقوامی قوانین خصوصاً چوتھے جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آبادیاتی تبدیلی کی منظم کوششیں جاری ہیں۔

    ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کی ان کے جائز حقوق اور وقار کے لیے اصولی حمایت جاری رکھے گا۔ ہم عالمی برادری، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بھارت کو اس کے جابرانہ اقدامات پر جوابدہ بنائیں۔

    انہوں نے کہا کہ عالمی برادری اس بات کو یقینی بنائے کہ کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت اپنے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت کے استعمال کی اجازت دی جائے۔

    خواجہ سعد رفیق کی طبیعت اچانک ناساز، اسپتال منتقل

  • بھارتی ایس-400 سسٹم تباہ ،پاکستان کے عالمی برادری کو شواہد بھی پیش

    بھارتی ایس-400 سسٹم تباہ ،پاکستان کے عالمی برادری کو شواہد بھی پیش

    پاکستان نے بھارتی فضائی دفاعی نظام ایس-400 کو مؤثر انداز میں نشانہ بنا کر تباہ کر دیا اور اس کارروائی کے ٹھوس شواہد عالمی برادری کے سامنے پیش کر دیے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق، بھارت کی عسکری ناکامی پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے معروف بھارتی صحافی شیو اروڑ نے 2019 کی ایک پرانی تصویر دوبارہ شیئر کی، تاکہ یہ تاثر دیا جا سکے کہ ایس-400 سسٹم محفوظ ہے۔بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی محض ایس-400 کے ایک لانچر کے سامنے کھڑے ہو کر تصویر جاری کی، جس کا مقصد عوام کو گمراہ کرنا تھا۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ایس-400 ایک مکمل دفاعی نظام ہے جو 12 مختلف یونٹس پر مشتمل ہوتا ہے۔

    افواجِ پاکستان نے شواہد کے ساتھ یہ بات ثابت کی کہ صرف لانچر ہی نہیں بلکہ ایس-400 کے اہم حصے جیسے ریڈار سسٹم اور کمانڈ پوسٹ بھی مکمل طور پر تباہ کیے گئے۔تجزیہ کاروں کے مطابق، مودی حکومت کی جانب سے جاری کی گئی تصاویر نہ صرف زمینی حقیقت سے ہٹ کر ہیں بلکہ بھارتی فوجی ناکامی کی پردہ پوشی کی ایک واضح مثال بھی ہیں۔

    اسلام آباد یونائیٹڈ میں رسی وین ڈر ڈوسن اور ایلکس ہیلز کی واپسی

    پاک بھارت کشیدگی،برطانوی وزیر خارجہ کا16 مئی کو پاکستان پہنچنے کا امکان

    سندھ طاس معاہدے پر بھارت کے خطوط کا جواب دے دیا گیا ، پاکستان کا واضح مؤقف

  • بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کا قوم سے خطاب، روایتی الزامات کی تکرار

    بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کا قوم سے خطاب، روایتی الزامات کی تکرار

    بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے قوم سے خطاب کیا، تاہم وہ اس موقع پر کچھ غیر متاثر کن اور آف کلر دکھائی دیے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق بھارتی وزیر اعظم نے اپنی تقریر میں انہوں نے پہلگام واقعے کو ظلم قرار دیتے ہوئے پاکستان پر ایک بار پھر روایتی الزامات دہرائے۔ مودی نے کہا کہ بھارت کا "نیو نارمل” یہ ہے کہ اگر اس پر حملہ کیا گیا تو فوری اور سخت جواب دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا: "پانی اور خون ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے، اور تجارت، مذاکرات اور دہشتگردی ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔”

    انہوں نے واضح کیا کہ اگر پاکستان سے مذاکرات کیے گئے تو وہ صرف دہشتگردی کے خاتمے سے مشروط ہوں گے، اور اگر کشمیر پر بات چیت ہوئی تو وہ "آزاد جموں و کشمیر” کے تناظر میں ہوگی۔اپنے خطاب میں نریندر مودی نے یہ دعویٰ بھی دہرایا کہ جنگ بندی پاکستان کی درخواست پر عمل میں آئی تھی، اور کہا کہ بھارت ایٹمی حملے کی دھمکیوں سے مرعوب ہو کر کوئی فیصلہ نہیں کرے گا۔

    ذرائع کے مطابق بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے حالیہ قوم سے خطاب میں گمراہ کن بیانیہ اختیار کیا، جس کی ممکنہ وجہ آر ایس ایس کے سخت گیر عناصر کی جانب سے ملنے والی سنگین دھمکیاں ہیں۔ ان عناصر کا مؤقف ہے کہ مودی نے ہندوؤں کو "ذلیل” کیا ہے۔دوسری جانب بی جے پی کی اعلیٰ قیادت کا ایک اہم اجلاس آر ایس ایس کے ہیڈکوارٹر، ناگپور میں شروع ہونے والا ہے، جس میں وزیراعظم مودی کو مدعو نہیں کیا گیا۔

    📍باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اجلاس کا مرکزی ایجنڈا مودی کو قیادت سے ہٹانے پر غور ہے، اور بی جے پی کے موجودہ صدر جے پی نڈا کو ان کا متبادل بنانے کی تجویز زیرِ غور ہے۔اس پس منظر میں وزیراعظم مودی نے اپنی سرگرمیاں محدود کر دی ہیں۔ وہ صرف آن لائن ملاقاتوں تک محدود ہو چکے ہیں، جبکہ ضروری اجلاس بھی صرف ان کی رہائش گاہ پر ہو رہے ہیں، جہاں آنے والے اعلیٰ سطحی مہمانوں کی سخت تلاشی لی جا رہی ہے۔

    ماہرین کے مطابق اپنے حالیہ خطاب کے دوران مودی نہ صرف گھبرائے ہوئے نظر آئے بلکہ ان کی باڈی لینگویج بھی غیر معمولی حد تک کمزور اور پریشان کن تھی، جو موجودہ داخلی دباؤ کی عکاسی کرتی ہے۔

    بھارتی چینل کا نورخان ایئر بیس پر حملہ ثابت کرنے کیلیے یوکرین کی تصاویر کا سہارا

    بھارتی رافیل کے پائلٹ کی آخری رسومات دھرم شالہ میں ادا

    بنیان مرصوص آپریشن کی کامیابی،کراچی میں عظیم الشان اجتماع،مسلح افواج کو خراج تحسین

  • مودی حکومت کی سچ  بولنے والے ہزاروں "ایکس” اکاؤنٹس بلاک کرنے کی درخواست

    مودی حکومت کی سچ بولنے والے ہزاروں "ایکس” اکاؤنٹس بلاک کرنے کی درخواست

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” (سابقہ ٹوئٹر) کی گلوبل گورنمنٹ افیئرز ٹیم نے انکشاف کیا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت نے سچائی دبانے اور اختلافی آوازوں کو خاموش کرنے کے لیے 8,000 سے زائد صارفین کے اکاؤنٹس بھارت میں بلاک کرنے کی سرکاری درخواست کی ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ایکس پر جاری کردہ سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر ان احکامات پر عمل نہ کیا گیا تو کمپنی کے بھارت میں موجود مقامی ملازمین کو بھاری جرمانوں اور قید جیسی سخت سزاؤں کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ان میں سے متعدد اکاؤنٹس بین الاقوامی میڈیا اداروں اور معروف شخصیات سے وابستہ ہیں۔بیان میں مزید کہا گیا کہ بیشتر کیسز میں بھارتی حکومت کی جانب سے یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کون سی پوسٹس ملکی قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتی ہیں، اور بعض اکاؤنٹس کے خلاف تو کسی قسم کا جواز یا ثبوت بھی پیش نہیں کیا گیا۔

    گلوبل گورنمنٹ افیئرز کے مطابق، کمپنی بھارت میں صرف مخصوص اکاؤنٹس تک رسائی کو محدود کر رہی ہے اور اس عمل کا آغاز ہو چکا ہے۔ تاہم، کمپنی نے پورے اکاؤنٹس بلاک کرنے کے احکامات کو آزادی اظہار رائے کے خلاف قرار دیا ہے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اگرچہ یہ فیصلہ مشکل ہے، لیکن بھارت میں پلیٹ فارم کی دستیابی کو برقرار رکھنا ضروری ہے تاکہ عوام کو آزاد معلومات تک رسائی حاصل رہے۔

    ایکس نے ان احکامات کو شفافیت کے تحت عوام کے سامنے لانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے، تاہم قانونی رکاوٹوں کے باعث فی الحال ایسا ممکن نہیں۔ کمپنی اس حوالے سے تمام ممکنہ قانونی راستوں پر غور کر رہی ہے، جبکہ بھارت میں متاثرہ صارفین کو تجویز دی گئی ہے کہ وہ اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے عدالت سے رجوع کریں۔

    پاک بھارت کشیدگی، سعودی وزیر مملکت برائے خارجہ کل پاکستان کا دورہ کریں گے

    آئی پی ایل میچ کے دوران اچانک لائٹس بند ، میچ منسوخ

    پاکستان میں موجود امریکی شہریوں کے لیے نئی ہدایت جاری

    بھارت میں‌فیک نیوز فیکٹری متحرک،لاہور پر حملے کی خبر بے بنیاد