Baaghi TV

Tag: بھارتی پارلیمنٹ

  • بھارتی پارلیمنٹ میں آن لائن گیمز پر پابندی کا بل منظور

    بھارتی پارلیمنٹ میں آن لائن گیمز پر پابندی کا بل منظور

    بھارتی پارلیمنٹ نے پیسے کے ذریعے کھیلے جانے والے آن لائن گیمز پر پابندی عائد کرنے کا بل منظور کرلیا، جس کے بعد فینٹسی گیمنگ انڈسٹری شدید خطرات سے دوچار ہوگئی۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت نے اس اقدام کو مالی نقصان کے ’انتہائی خطرات‘ اور انسانی نفسیات پر منفی اثرات کی بنیاد پر ضروری قرار دیا۔پابندی سے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری اور ہزاروں نوکریوں کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ اس صنعت میں ٹائیگر گلوبل اور پیک ایکس وی پارٹنرز سمیت متعدد غیر ملکی سرمایہ کار شامل تھے، جس کی مالیت 2029 تک 3.6 ارب ڈالر تک پہنچنے کا اندازہ لگایا گیا تھا۔

    بل کے مطابق ’نقصان دہ‘ آن لائن گیمز، ان کی تشہیر اور ان سے متعلق مالی لین دین پر مکمل پابندی عائد ہوگی۔ وفاقی وزیر آئی ٹی اشونی ویشنو نے کہا کہ سماجی برائیوں کے خلاف سخت اقدامات حکومت اور پارلیمنٹ کی ذمہ داری ہے۔ایوانِ بالا سے بھی منظور ہونے والا یہ ’’پروموشن اینڈ ریگولیشن آف آن لائن گیمنگ بل 2025‘‘ اب صدر کے دستخط کے بعد قانون بن جائے گا، جو عموماً رسمی کارروائی سمجھی جاتی ہے۔

    بھارتی گیمنگ کمپنیوں نے عندیہ دیا ہے کہ وہ اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گی۔

    قرضہ لیکر پاکستان اسٹیل ملز ملازمین کے بقایا جات کی ادائیگی کا فیصلہ

    پاکستان اور بنگلہ دیش میں صنعتی تعاون بڑھانے پر اتفاق

    امریکی عوام کی اکثریت فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کے حق میں، سروے

    برطانوی وزیر اعظم کا شہباز شریف کے نام خط، سیلاب متاثرین سے اظہارِ ہمدردی

  • بھارتی پارلیمنٹ میں  پہلگام حملے اور  آپریشن سندور پر ہنگامہ آرائی

    بھارتی پارلیمنٹ میں پہلگام حملے اور آپریشن سندور پر ہنگامہ آرائی

    بھارتی پارلیمنٹ کے اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں نے پہلگام حملے اور آپریشن سندور پر فوری بحث کا مطالبہ کرتے ہوئے زبردست ہنگامہ آرائی کی، جس کے بعد لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں کے اجلاس چند منٹوں کے بعد ہی ملتوی کر دیے گئے-

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق پیر کے روز ہونے والے اجلاس کے دوران کانگریس کی قیادت میں حزب اختلاف کے ارکان نے ایوان میں نعرے بازی کرتے ہوئے مودی حکومت سے پہلگام حملے اور آپریشن سندور پر تفصیلی جواب طلب کیا جیسے ہی اجلاس کا آغاز ہوا، اپوزیشن ارکان نے احتجاجی نعرے لگانا شرو ع کر دیے، جس کے باعث لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں ایوانوں کے اجلاس کچھ ہی دیر بعد ملتوی کر دیے گئے۔

    اجلاس کے بعد اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے میڈیا سے گفتگو میں مودی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ صرف حکومتی ارکان کی آواز سننے کے لیے رہ گئی ہےمیں ایوان کا قائد حزب اختلاف ہوں، مگر مجھے بولنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

    ایران کا یورینیم کی افزودگی ترک کرنے سے انکار

    میڈیا رپورٹس میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ بھارتی حکومت کی جانب سے آپریشن سندور پر اگلے ہفتے بحث کرائے جانے کا امکان ہے، تاہم اپوزیشن کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اس حساس معاملے پر فوری جواب دیا جائے،توقع ہے کہ کانگریس مودی حکومت سے مئی میں بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کے لئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ثالثی کے دعوے سمیت کئی متعلقہ معاملات پر جواب طلب کرے گی-

    واضح رہے کہ اس سے قبل بھی کانگریس سمیت دیگر اپوزیشن جماعتیں وزیراعظم نریندر مودی سے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا مطالبہ کر چکی ہیں تاکہ پہلگام حملے کے بعد شروع ہونے والے آپریشن سندور دیگر متعلقہ معاملات پر تفصیلات قوم کے سامنے لائی جائیں۔

    سوات:چھٹیاں کرنے پر مدرسے کے اساتذہ کا مبینہ تشدد ، کم عمر طالب علم جاں بحق

  • بھارتی پارلیمنٹ کا ہنگامہ خیز سیشن ختم

    بھارتی پارلیمنٹ کا ہنگامہ خیز سیشن ختم

    بھارت کی پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس قانون سازوں کی طرف سے ہنگامہ خیز دلائل اور تشدد کے الزامات کے بعد ختم ہوا ۔

    غیرملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی خبر کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی کی دائیں بازو کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے دو قانون سازوں کو جمعرات کو ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ پولیس نے اپوزیشن کانگریس پارٹی کے رہنما راہول گاندھی کے خلاف باضابطہ تحقیقات کا آغاز کردیا جب کہ حکمراں پارٹی کے 2 قانون سازوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں پارلیمنٹ کی عمارت کے باہر ہونے والے مظاہروں کے دوران جھڑپوں میں دھکا دیا گیا اور زخمی کیا گیا۔کانگریس پارٹی نے اس واقعہ کو سیاسی حربہ قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا اور پولیس کو شکایت بھی درج کرائی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ ان کے تجربہ کار قانون ساز، پارلیمنٹ کے ایوان بالا میں اپوزیشن کے رہنما ملکارجن کھرگے بھی جمعرات کو اسی احتجاج میں زخمی ہوئے۔ایوان بالا کے چیئرمین نائب صدر جگدیپ دھنکھر نے اجلاس کے ناخوشگوار اختتام سے قبل قانون سازوں کی سرزنش کی اور کہا کہ بطور پارلیمنٹرین ہم پر بھارتی لوگوں کی طرف سے شدید تنقید کی جا رہی ہے اور وہ ایسا کرنے میں حق بجانب ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ یہ مسلسل رکاوٹیں ہمارے جمہوری اداروں پر عوام کے اعتماد کو مستقل ختم کر رہی ہیں، اب وقت آگیا ہے کہ ہم بامعنی بات چیت اور تباہ کن تعطل میں سے کسی ایک کا انتخاب کریں۔بھارت کی آزادی کے رہنما اور پسی ہوئی دلت برادری کے ہیرو بھیم راؤ رام جی امبیڈکر کے حوالے غیر مہذب دعووں کے بعد گرما گرمی شروع ہوئی۔راہول گاندھی کی کانگریس پارٹی نے رواں ہفتے وزیر داخلہ اور وزیر اعظم نریندر مودی کے قریبی ساتھی امیت شاہ پر الزام لگایا کہ انہوں نے پارلیمنٹ میں ایک تقریر کے دوران تحریک آزادی کے ہیرو کی بے عزتی کی۔امیت شاہ، نریندر مودی اور بی جے پی نے الزامات کو مسترد کیا اور کہا کہ حزب اختلاف بد نیتی پر مبنی جھوٹوں کا سہارا لے رہی ہےبھارت کے آئین کی تیاری میں اہم کردار ادا کرنے والے رہنماؤں میں شامل بھیم راؤجی امبیڈکر بھارت کی پسماندہ عوام میں بہت قابل احترام سمجھے جاتے ہیں اور کئی اہم سماجی اصلاحات کا سہرا وہ ان کے سر باندھتے ہیں۔یاد رہے کہ نریندر مودی رواں برس تیسری بار اقتدار حاصل کرنے میں تو کامیاب رہے لیکن انہیں اس بار وہ اکثریت نہیں ملی جو انہیں گزشتہ 2 ادوار میں میسر تھی جس کی وجہ سے انہیں اس بار حکومت سازی کے لیے اتحادیوں کا سہارا لینا پڑا۔اپوزیشن نے پارلیمنٹ کے ایوان زیریں میں اتنی نشستیں حاصل کرلیں جن کی بدولت راہول گاندھی قائد حزب اختلاف بن سکیں جب کہ یہ عہدہ 2014 سے خالی تھا۔

    چیٹ جی پی ٹی بھی واٹس ایپ پر آگیا، نمبر جاری

    بیشتر علاقوں میں موسم سرد اور خشک رہنے کا امکان

    ججز تقرریوں میں سیاسی مداخلت کیخلاف درخواست، عدالت نے سوالات اٹھا دیے

    مرحوم ملازمین کی اولاد کیلئے ملازمت کا کوٹہ ختم

  • بھارتی پارلیمنٹ میں گھسنے والے بھگت سنگھ کے پیروکار نکلے،جسمانی ریمانڈ منظور

    بھارتی پارلیمنٹ میں گھسنے والے بھگت سنگھ کے پیروکار نکلے،جسمانی ریمانڈ منظور

    بھارتی پارلیمنٹ میں گزشتہ روز دو افراد کے گھسنے کے واقعہ پر آج لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں اپوزیشن جماعتوں نے ہنگامہ آرائی کی جس پر ایوانوں‌کی کاروائی ملتوی کر دی گئی،ملزمان کو سات روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا گیا

    بھارتی اپوزیشن جماعتوں نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں ناقص سکیورٹی کے معاملے پر زبردست ہنگامہ آرائی کی، لوک سبھا میں ارکان پارلیمنٹ نے نعرے بازی کرتے ہوئے ہنگامہ کیا،جس کی وجہ سے اسپیکر اوم برلا کو ایوان کی کارروائی ملتوی کرنی پڑی،ایوان کی کاروائی شرو ع ہوئی تو اپوزیشن جماعتوں کے اراکین کھڑے ہو گئے اور ایوان کی سیکورٹی کو لے کر حکومت کے خلاف نعرے بازی کی، اراکین سپیکر کی کرسی کے سامنےبھی آ گئے جس پر سپیکر نے اجلاس ملتوی کر دیا

    راجیہ سبھا میں بھی اپوزیشن اراکین نے ہنگامہ آرائی کی اور وزیر داخلہ سے وضاحت طلب کی، کانگریس، ترنمول کانگریس، آر جے ڈی، جے ڈی یو، اے اے پی سمیت کئی اپوزیشن پارٹیوں کے ارکان پارلیمنٹ سیکورٹی کے مسئلہ پر بحث کے دوران نعرے لگاتے رہے،ہنگامہ آرائی کی وجہ سے ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ڈیرک اوبرائن کو اسپیکر نے فوری طور پر ایوان سے نکلنے کا حکم دیا تھاجس کے بعد اپوزیشن ارکان اسمبلی اسپیکر کی نشست کے بالکل سامنے کنویں میں آگئے اور نعرے بازی شروع کردی.

    دوسری جانب لوک سبھا میں سیکورٹی میں غفلت برتنے والے عملے کے آٹھ افراد کو معطل کر دیا گیا ہے، ابتدائی تحقیقات میں آٹھ اراکین سیکورٹی کوتاہی کے ذمہ دار قرار پائے،

    لوک سبھا کے اندر اور باہر سے گرفتار چاروں ملزمان کو آج پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں پیش کیا گیا، اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے، پولیس نے ملزمان کے 15 روز کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تا ہم عدالت نے سات دن کا جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا،پراسکیوشن نے چاروں ملزمان پر دہشت گردی کا الزام عائد کیا ہے،

    گزشتہ روز لوک سبھا کے اندر سے دو اور باہرسے دو افراد کوگرفتار کیا گیا تھا، ان سے تحقیقات جاری ہیں، تا ہم اس واقعہ میں دو اور ملزم بھی ہیں جو انکے ساتھ تھے،ایک میاں بیوی گھر سے ملزمان کے ساتھ رابطے میں تھے ،میاں کو گرفتار کر لیا گیا تا ہم خاتون ابھی تک گرفتار نہیں ہو سکی،پولیس کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق ساگر شرما لکھنو کا رہائشی ہے، ڈی منورنج کرناٹک سے ہے، پارلیمنٹ کے باہر سے گرفتار خاتون نیلم حصار کی رہائشی ہے،امول شندےلاتور کا رہائشی ہے،ساگر اور ڈی منورنجن نے وزیٹر پاس بی جےپی رکن اسمبلی پرتاپ سہما کے نام پر لئے تھے،پولیس کے مطابق سب ملزمان نے آن لائن میٹنگ کی اور پارلیمنٹ میں ہنگامہ آرائی کا منصوبہ بنایا،اب تک ملزمان کے کسی دہشت گرد گروپ سے تعلق کے کوئی شواہد نہیں ملے،

    پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر احتجاج کرنیوالی نیلم کون؟
    نیلم کی عمر 42 سال ہے اور وہ استاد ہے، سول سروسز بھی پڑھ رہی ہے،نیلم ہریانہ کے ضلع جنڈ ضلع کے گاؤں گھسو خورد کی رہائشی ہے، اور وہ پچھلے چھ ماہ سے حصار میں مقیم تھی، وہ سول سروس امتحان کی تیاری کر رہی ہے،نیلم کے گاؤں اور حصار میں جہاں وہ مقیم تھی ،قریبی افراد کا کہنا ہے کہ نیلم کو سیاست سے دلچسپی تھی تاہم پارلیمنٹ کے باہر احتجاج سمجھ سے بالاتر ہے، نیلم کے چھوٹے بھائی رام نواس کا کہنا ہے کہ ہمیں تو معلوم ہی نہیں تھا کہ نیلم دہلی گئی ہے،وہ پیر کو گھر آئی تھی اور منگل کو واپس چلی گئی، ہم نے سمجھا حصار گئی لیکن وہ ہمیں بتائے بغیر ہی دہلی پہنچ گئی،نیلم نے کسان تحریک کے احتجاج میں بھی شرکت کی تھی، میرے ایک بڑے بھائی ہیں اور والدین ہیں، والدحلوائی ہیں جبکہ بھائی دودھ کا کام کرتے ہیں.

    indian

    ساگر کے والد بڑھئی، بیٹا جھگڑالو نہیں ہے،والدہ
    پارلیمنٹ کی وزیٹر گیلری میں چھلانگ لگانے والے دو افراد میں سے ساگر لکھنو کا رہائشی ہے، ساگر کا خاندان عالم باغ کے علاقے رام نگر میں ایک کرائے کے گھر میں رہتا ہے،لکھنو پولیس تحقیقات کے لئے ساگر کے گھر گئی، ساگر کی ماں رانی شرما نے پولیس کو بتایا کہ ساگر کہہ کر نکلا تھاکہ وہ احتجاج کرے گا، ساگر کی چھوٹی بہن کا کہنا تھا کہ بھائی چار دن قبل دہلی گیا تھا تا ہم کچھ بتایا نہیں تھا، وہ دو ماہ گھر رہا ہے اور دو ماہ قبل بنگلورو سے واپس آیا تھا،ساگر کا خاندان 15 برسوں سے لکھنو میں رہ رہا ہے، ساگر کے والد روشن لال بڑھئی ہیں،ساگر کی ماں کے مطابق ان کےبیٹے نے کبھی کسی سے لڑائی جھگڑا نہیں کیا،ساگر کی ایک ہی بہن ہے ،ساگر کی والدہ کا کہنا تھا کہ ساگر بہت سادہ ہے پتہ نہیں دہلی کیسے پہنچا،ہم نہیں جانتے،ساگر کے دہلی پہنچنے پر ساگر کے پڑوسی بھی حیران تھے

    indian

    بیٹے نے غلط کیا تو پھانسی دے دیں، والد ڈی منورنجن
    ڈی منورنجن کرناٹک کے میسور کارہائشی ہے، منورنجن نے 2016 میں انجینئرنگ میں بیچلر مکمل کیا،اس کے بعد اس نے دہلی اور بنگلور کی کچھ کمپنیوں میں ملازمت بھی کی تا ہم اب وہ خاندان کے ساتھ کھیتی باڑی کا کام کر رہا تھا،منورنجن کے والد دیوراجے گوڑا کا کہنا ہے کہ اگر میرےبیٹے نے غلط کیا تو بے شک اسے پھانسی دے دیں ، پارلیمنٹ ہماری ہے جس کو بنانے میں گاندھی اور نہرو جیسے رہنماؤں نے محنت کی تھی، تاہم منورنجن کے والد کا یہ بھی کہنا تھا کہ انکا بیٹا سچا اور ایماندار ہے،اس کی خواہش تھی کہ وہ معاشرے کےلئے اچھے کام کرے، دوسروں کے کام آئے،

    بھارتی فوج میں بھرتی کا کہہ کر امول شندے پارلیمنٹ پہنچ گیا
    امول شندے جس کی عمر 25 برس ہے اور وہ مہاراشٹر کے جری گاؤں کا باسی ہے،امول شندے نےگریجویشن تک تعلیم حاصل کر رکھی ہے، اس نے بھارتی فوج اور پولیس میں بھرتی کے لئے امتحان کی تیاری بھی کی ہے،امول کے والدین اور دو بھائی ہیں، جو مزدوری کرتے ہیں، امول اپنے گھر بتا کر نکلا تھا کہ وہ فوج میں بھرتی ہونے کے لئے جا رہا ہے، وہ پہلے بھی نوکری کی تلاش کے لئے کئی بار گھر سے جا چکا تھا اس لئے گھر والوں کو کسی قسم کا شک نہیں ہوا،

    وکی شرما کے گھر ہوئی تھی ساری منصوبہ بندی
    لوک سبھا کے اندر اور باہر احتجاج کرنیوالے ساگر، منورنجن،نیلم اور امول شندے دہلی جانے سے قبل گروگرام میں مقیم رہے،للت جا بھی انکے ہمراہ تھا، یہ گروگرام کے سیکٹر سات میں‌وکی کے گھر وہاں ٹھہرے تھے ،وکی شرما کا تعلق حصار سے ہے، نیلم بھی گزشتہ چھ ماہ سے حصار میں ہی رہ رہی تھی،دہلی پولیس کے مطابق وکی شرما اور انکی اہلیہ کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے،لوک سبھا کے اندر اور باہر احتجاج کرنیوالے وکی شرما کے دوست ہیں،ملزمان جب احتجاج کے لئے گئے تو انکے موبائل ہو سکتا ہے یہاں وکی کے گھر چھوڑ کر گئے ہیں، اور یہیں منصوبہ بندی کی گئی ہو،پولیس اس ضمن میں تحقیقات کر رہی ہے.

    بے روزگاری،منی پور تشددجیسے واقعات سے پریشان تھے،ملزمان کا بیان
    ملزمان دہلی پولیس کی تحویل میں ہیں، ملزمان نے پولیس کو بیان میں کہا کہ وہ بھارت میں بے روزگاری،کسانوں کے مسائل،منی پورتشدد جیسے واقعات سے پریشان تھے اور احتجاج ریکارڈ کروانا چاہتے تھے،ایوان میں جان بوجھ کر رنگین دھویں کا استعمال کیا جو زہریلا نہیں تھا، صرف اراکین کی توجہ مبذول کروانی تھی کہ وہ مسائل پر بات کریں،ویسے ہماری بات کوئی نہیں سنتا اس لئے یہ طریقہ اپنایا اور سوچا کہ حکومت کو پیغام دیا جائے کہ مسائل حل کریں، تاہم تحقیقاتی ادارے یہ جاننے کی کوشش میں ہیں کہ انکے پیچھے کسی کا ہاتھ تو نہیں تھا،

    دہلی پولیس کے ایک سینئر افسر کا کہنا ہے کہ گرفتار پانچوں ملزمان فیس بک پر بھگت سنگھ نامی ایک گروپ کا حصہ تھے، اور سب ملزمان تقریبا ایک سال سے آپس میں رابطے میں تھے.

    کسی اپوزیشن رکن نے پاس دیئے ہوتے تو غدار قرار پاتا،رکن کانگریس
    لوک سبھا میں احتجاج کرنیوالے اور گیس پھینکنے والے افراد کو پکڑنے والے کانگریس کے رکن پارلیمنٹ گرجیت سنگھ اوجلا کا کہنا ہے کہ اگر کوئی مسلمان یا سِکھ ہوتا تو نہ جانے کیا ہو جات؟ اس لیے یہی کہوں گا کہ ایسے لوگوں کو ذات اور مذہب سے ہٹ کر دیکھیں یہ ملک سب کا ہے،نئی پارلیمنٹ میں سیکورٹی کے حوالہ سے خامیاں ہیں، جنہیں دور کر نے کی ضرورت ہے، سیکورٹی کے معاملے پر ہم سب متحد ہیں،انہوں نے بی جے پی کے رکن جس کے پاس لے کر ملزمان پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے تھے کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اگر کسی اپوزیشن کے رکن نے انکو پاس دلائے ہوتے تو اب تک غدار قرار دیا جا چکا ہوتا،مجھے نہیں لگتا کہ جان بوجھ کو رکن پارلیمنٹ نے پاس دئے، غلطی بھی ہو سکتی، ہم بھی پاس بنواتے ہیں، تاہم واقعہ کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئے،انہوں نے ملزمان کو پکڑنے کے حوالہ سے بتایا کہ ایک ملزم کو میں نے اکیلے پکڑا،اس نے اچانک سے کچھ نکالا ، بعد میں دھواں پھیلا تو پتہ چلا کہ وہ اسموک بم تھا، اسکے پاس کچھ خطرناک بھی ہو سکتا تھا،سیکورٹی کے حوالہ سے چوکس رہنا ہو گا،

    پارلیمنٹ ہاؤس واقعہ کا مقدمہ بھی درج کیا گیا ہے، پولیس کے مطابق سنسد مارگ پولیس اسٹیشن میں دفعہ 120B (مجرمانہ سازش)، 452 (بغیر اجازت کے داخلہ)، 153 (فساد برپا کرنے کے ارادے سے جان بوجھ کر اکسانا)، 186 (سرکاری ملازم کو کام کرنے سے روکنا) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ تعزیرات ہند کی دفعہ 16 اور 18 کے تحت بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے.

    واضح رہے کہ گزشتہ روز بھارتی پارلیمنٹ میں سیکیورٹی کی ناقص صورتحال،لوک سبھا سیشن کے دوران 2 افراد عمارت میں گھس آئے تھے،بھارتی پارلیمان لوک سبھا کے اندر 2 افراد نے گیلری سے نیچے چھلانگ لگا کر مبینہ طور پر گیس خارج کرنے والی چیزیں پھینک دیں۔بھارتی میڈیا کے مطابق اندر گھسنے والے افراد کے پاس اسموک بم بھی تھے، بھگدڑ مچنے کے باعث اجلاس ملتوی کر دیا گیا تھا،

    واضح رہے کہ 13 دسمبر 2001 کو بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ ہوا تھا جس میں 12 افراد ہلاک ہوئے تھے، بھارت نے اس حملے کا الزام پاکستان پر لگایا تھا،تاہم بھارت کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکا تھا،تاہم بعد میں بھارت کے وزارت داخلہ کے سابق افسر انڈر سیکرٹری آر وی ایس مانی نے عدالتی بیان میں کہا تھا کہ بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ کے پیچھے خود بھارتی حکومت کا ہاتھ تھا تاکہ دہشت گردی کے خلاف سخت قوانین پارلیمان سے منظور کروائے جا سکیں.

    مودی کے گجرات میں کرونا کے بہانے مسلمانوں کی زندگی اجیرن بنا دی گئی

    لاہور کے علاقے سے کٹی ہوئی دو ٹانگیں کچرا کنڈی سے برآمد

    فیس بک نے ٹرمپ کی الیکشن مہم کے اشتہارات ہٹا دئیے

    ہم نسل پرستی کے خلاف سیاہ فام برادری کے ساتھ ہیں، فیس بک کے مالک نے قانونی معاونت کیلئے دس ملین ڈالر کی امداد کا اعلان کر دیا

    تشدد کو کم کرنے کیلئے فیس بک نے اپنی پالیسی ریوو کرنے کا اعلان کر دیا

    فیس بک کے ذریعے دو بھارتیوں نے چند روپوں کے عوض دیں آئی ایس آئی کو بھارتی فوج کی حساس معلومات، بھارتی میڈیا کا دعویٰ

    فیس بک، گوگل، ٹویٹر ڈس انفارمیشن کے خلاف کیے گئے اقدامات کی ماہانہ رپورٹ دیا کریں، یورپی یونین کا مطالبہ

    ٹرمپ کی ٹویٹ پر فیکٹ چیک لگانے پر یورپی یونین نے ٹویٹر کی حمایت کر دی

    بی جے پی بھارت میں فیس بک اور واٹس اپ کو کنٹرول کر کے نفرت پھیلا رہی ہے، راہول گاندھی

  • دوران اجلاس بھارتی پارلیمنٹ میں دو افراد گھس گئے

    دوران اجلاس بھارتی پارلیمنٹ میں دو افراد گھس گئے

    بھارتی پارلیمنٹ میں سیکیورٹی کی ناقص صورتحال،لوک سبھا سیشن کے دوران 2 افراد عمارت میں گھس آئے،

    بھارتی پارلیمان لوک سبھا کے اندر 2 افراد نے گیلری سے نیچے چھلانگ لگا کر مبینہ طور پر گیس خارج کرنے والی چیزیں پھینک دیں۔بھارتی میڈیا کے مطابق اندر گھسنے والے افراد کے پاس اسموک بم بھی تھے، بھگدڑ مچنے کے باعث اجلاس ملتوی کر دیا گیا، پارلیمنٹ ارکان نے سیکیورٹی کی ناقص صورتحال پر سوال اٹھا دیے،

    بھارتی پارلیمان لوک سبھا میں اجلاس جاری تھا جب دو افراد جو وزیٹر گیلری میں موجود تھے نے چھلانگ لگائی، جس کے بعد اجلاس میں افرا تفری مچ گئی،دونوں افراد نے وزیٹر گیلری سے چھلانگ لگائی، تاہم سیکورٹی اداروں نے کاروائی کرتے ہوئے دونوں افراد کو گرفتار کر لیا، پارلیمنٹ میں گھسنے والے دونوں افراد وزیٹر گیلری سے ہوتے ہوئے اراکین اسمبلی کی کرسیوں تک پہنچ گئے تھے،انہوں نے اس دوران کسی سپرے کا بھی استعمال کیا اور نعرے بھی لگائے، اس مبینہ حملے کے بعد لوک سبھا کا اجلاس ملتوی کر دیا گیا

    لوک سبھا کے اجلاس میں موجود کانگریس کے رہنما ادھیر رنجن چوھدری کا کہنا تھا کہ دو افراد گیلری سے کودے اور کوئی چیز پھینکی جس سے گیس نکل رہی تھی، انکو اراکین اسمبلی نے پکڑا اور سیکورٹی اہلکاروں کے حوالے کیا، ایوان کی کاروائی دو بجے تک ملتوی کر دی گئی ہے، کانگریس رہنما کا کہنا تھا کہ یہ سیکورٹی کی خلاف ورزی ہے، آج ہی ہم نے ان لوگوں کی برسی منائی جنہوں نے 2001 میں پارلیمنٹ حملہ میں اپنی جانیں دی تھیں

    میڈیا رپورٹس کے مطابق تقریبا ایک بج کر دو منٹ پر دو افراد پارلیمنٹ میں گھسے تو پکڑ و پکڑو کی آوازیں آئیں،ان میں سے ایک کی شناخت ساگر کے طور پرہوئی ہے،دونوں افراد میسور سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ پرتاپ کے نام پر سیکورٹی پاس لے کر وزیٹر گیلری میں پہنچے تھے، دونوں افراد نے اپنے جوتوں میں گیس والے بم چھپا رکھے تھے جو انہوں نے ایوان میں پھینکے، جس سے ایوان میں دھواں دھواں ہو گیا،

    بھارتی پارلیمنٹ میں گھسنے والوں کی شناخت ہو گئی،ایوان کے باہر سے بھی خاتون سمیت دو افراد گرفتار
    لوک سبھا کا اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے واقعہ کے بارے میں اراکین کو تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ایوان میں پیش آنے والے واقعہ کی تحقیقات کی جا رہی ہیں، دہلی پولیس کی بھی ہدایات دی گئی ہیں،ایوان میں جو دھواں تھا وہ زہریلا نہیں بلکہ عام دھواں تھا، اسلئے خطے کی کوئی بات نہیں ہے ،ہم نے حملہ آوروں کو پکڑ لیا ہے، ایک کا نام ساگر اور دوسرے کا نام منورنجن ہے،ان دو افراد کے ساتھ دو اور افراد کو بھی پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر سے گرفتار کیا گیا ہے جن میں ایک خاتون بھی شامل ہے، پولیس کے مطابق 42 سالہ نیلم اور 25 سالہ امول شندے کو گرفتار کیا گیا ہے جو ان ملزمان کے ساتھی ہیں جنہوں نے ایوان میں دھواں چھوڑا تھا

    اراکین اسمبلی نے واقعہ پر شدید احتجاج کیا اور ناقص سیکورٹی پر سوال اٹھائے، رکن اسمبلی دانش علی کا کہنا تھا کہ پارلیمان کی سیکورٹی میں کوتاہی ایک سنگین معاملہ ہے،سماج وادی پارٹی کے ایم پی ایس ٹی حسن کا کہنا تھا کہ آج جو ہوا المیہ ہے، اسی طرح سیکورٹی میں کوتاہی برتی گئی تو کل کوئی اپنے جوتے میں بم لے کر بھی آسکتا ہے،بی جے پی کی رکن ستیہ پال سنگھ کا کہنا تھا کہ جب ہم ان افراد کو پکڑنے گئےتو انہوں نے گیس کا چھڑکاؤ کیا، تحقیقات ہونی چاہئے کہ وہ کون تھے اور گیس کیسے اندر لے کر پہنچے، مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی بننی چاہئے،

    لوک سبھا کی سیکورٹی میں سنگین غفلت،کوتاہی پر سپیکر نے تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے مکمل رپورٹ طلب کی ہے، اور سیکورٹی مزید سخت کرنے کا حکم دیتے ہوئے وزیٹر گیلری کے پاسز پر بھی پابندی لگا دی ہے،سپیکر لوک سبھا نے آج شام پارلیمانی جماعتوں کا ایک اجلاس بھی طلب کیا ہے جس میں پارلیمان کی سیکورٹی بارے مزید مشاورت کی جائے گی،

    واضح رہے کہ 13 دسمبر 2001 کو بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ ہوا تھا جس میں 12 افراد ہلاک ہوئے تھے، بھارت نے اس حملے کا الزام پاکستان پر لگایا تھا،تاہم بھارت کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکا تھا،تاہم بعد میں بھارت کے وزارت داخلہ کے سابق افسر انڈر سیکرٹری آر وی ایس مانی نے عدالتی بیان میں کہا تھا کہ بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ کے پیچھے خود بھارتی حکومت کا ہاتھ تھا تاکہ دہشت گردی کے خلاف سخت قوانین پارلیمان سے منظور کروائے جا سکیں.

    مودی کے گجرات میں کرونا کے بہانے مسلمانوں کی زندگی اجیرن بنا دی گئی

    لاہور کے علاقے سے کٹی ہوئی دو ٹانگیں کچرا کنڈی سے برآمد

    فیس بک نے ٹرمپ کی الیکشن مہم کے اشتہارات ہٹا دئیے

    ہم نسل پرستی کے خلاف سیاہ فام برادری کے ساتھ ہیں، فیس بک کے مالک نے قانونی معاونت کیلئے دس ملین ڈالر کی امداد کا اعلان کر دیا

    تشدد کو کم کرنے کیلئے فیس بک نے اپنی پالیسی ریوو کرنے کا اعلان کر دیا

    فیس بک کے ذریعے دو بھارتیوں نے چند روپوں کے عوض دیں آئی ایس آئی کو بھارتی فوج کی حساس معلومات، بھارتی میڈیا کا دعویٰ

    فیس بک، گوگل، ٹویٹر ڈس انفارمیشن کے خلاف کیے گئے اقدامات کی ماہانہ رپورٹ دیا کریں، یورپی یونین کا مطالبہ

    ٹرمپ کی ٹویٹ پر فیکٹ چیک لگانے پر یورپی یونین نے ٹویٹر کی حمایت کر دی

    بی جے پی بھارت میں فیس بک اور واٹس اپ کو کنٹرول کر کے نفرت پھیلا رہی ہے، راہول گاندھی