Baaghi TV

Tag: بھارتی گلوکار

  • ساحر علی بگا نے بتا دیا انکو ملنے والی شہرت کس کی دعائوں کا نتیجہ ہے

    ساحر علی بگا نے بتا دیا انکو ملنے والی شہرت کس کی دعائوں کا نتیجہ ہے

    پاکستانی نامور میوزیشن اور گلوکار ساحر علی بگا نے کہا ہےکہ ملکہ ترنم نور جہاں ان کے گانوں کو بہت زیادہ پسند کرتی تھیں اور انہیں جب بھی سنتی تھیں تو دعائیں دیتی تھیں اکثر کہا کرتی تھیں کہ تم بہت آگے جائو گے لہذا میں آج جو بھی ہوں اور جس بھی مقام پر ہوں وہ انہی کی دعائوں‌کا نتیجہ ہے. ساحر علی بگا نے بتایا ہے کہ وہ میڈم نور جہاں کے بچپن سے ہی بہت بڑے مداح رہے ہیں اور خوش نصیبی ہے کہ ان سے ملاقات ہوتی رہی بلکہ وہ ان کا گانا بھی سنتی رہیں. ساحر علی بگا نے کہا کہ میں نے ہمیشہ پاکستان کی سر بلندی کےلئے کام کیا ہے. اپنا کام ایماندار ی سے

    کرتا ہوں میں خود کو خالص پاکستانی گلوکار اس لئے سمجھتا ہوں کیونکہ میں نے ہمیشہ پاکستان کے لئے گایا اور کسی کی نقل نہیں کی. ساحر علی بگا نے مزید کہا کہ بہت سارے دوسرے گلوکاروں پر بھارتی ٹیگ لگا ہوا ہے. شاید ساحر علی بگا نے ان گلوکاروں کو ٹارگٹ کیا ہے جو بھارت جا کر گاتے ہیں یا جن کے گانے انڈین فلموں میں شامل کئے جاتے ہیں. تاہم ساحر علی بگا آج تک بھارتی فلموں میں گاتے ہوئے دکھائی نہیں دئیے یا شاید ان کو کبھی وہاں سے آفر نہیں آئی. ساحر علی بگا کے کریڈٹ پر کافی مشہور گانے اور کمپوزیشنز ہیں ان کا تقریبا ہر گانا یوٹیوب پر ریکارڈ قائم کرتا ہے.

  • صدیوں کے گلوکار محمد رفیع کی آج 42 برسی

    صدیوں کے گلوکار محمد رفیع کی آج 42 برسی

    ہر دلعزیز گلوکار محمد رفیع کی آج 42 ویں برسی منائی جا رہی ہے. ان کا انتقال یقینا موسیقی کو ایک بڑا دھچکہ تھا آج تک ان جیسا کوئی دوسرا گلوکار پیدا نہیں ہو سکا. محمد رفیع نے بالی وڈ کے تمام بڑے ہیروز کو اپنی آواز دی.محمد رفیع 24دسمبر 1924کو امرتسر کے کوٹلہ سلطان گاﺅں میں پیدا ہوئے ۔انہوں نے لاہور ایک مجعمے میں پرفارم کیا وہاں موسیقار شیام سندر موجود تھے انہوں نے اس انمول ہیرے کی صلاحیتوں کو بھانپ لیا اور انہیں ممبئی آنے کی دعوت دی، محمد رفیع کا گائیکی کا کیرئیر یہیں سے شروع ہوا اور اس کے بعد انہوں نے بڑے سے بڑے موسیقار کے ساتھ کام کیا ایسے ایسے لازوال گیت گائے کہ جن کو آج بھی سنا جاتا ہے اور شاید رہتی دنیا تک رفیع کا نام اور ان کی گائیکی رہے گی. صدیوں کے اس فنکار کی آواز کے انہی کے دور کے ہیروز دیوانے تھے.ہر کسی کی خواہش ہوتی کہ رفیع کا گایا ہوا گیت اس پر پکچرائز ہو. رفیع نے ہزاروں کے حساب سے گیت گائے.

    واضح رہے کہ محمد رفیع کے والد ان کی گائیکی کے بہت خلاف تھے وہ کبھی نہیں چاہتے تھےکہ ان کا بیٹا گلوکار بنے لیکن محمد رفیع کے بڑے بھائی نے رفیع کا ساتھ دیا اور وہی ان کو لیکر ممبئی بھی گئے 1980 میں 31 جولائی کا دن تھا جب صدیوں کے اس گلوکار کو صبح سوا دس بجے دل کا دورہ پڑا اور اسی رات کو وہ دنیا چھوڑ گئے.

  • کے کے کو ہسپتال لیجانے والی وڈیوزجھوٹی ہیں: ایونٹ مینجمنٹ کمپنی کا دعویٰ

    کے کے کو ہسپتال لیجانے والی وڈیوزجھوٹی ہیں: ایونٹ مینجمنٹ کمپنی کا دعویٰ

    گلوکار کے کے جو اکتیس مئی کو کلکتہ میں پرفارم کرنے کے لئے گئے وہاں انکو اچانک دل کا دورہ پڑا اور وہ دنیا سے رخصت ہو گئے۔ان کی موت کے بعد کچھ وڈیوز سوشل میڈیا پر سرکولیٹ ہوئیں جن کے بارے میں دعوی کیا گیا کہ جیسے کے کے شو کے دوران سینے میں درد کی شکایت کررہے ہیں اور ان کے انتقال کے بعد ان کو ہسپتال لیجایا جا رہا ہے۔ایسی وڈیوز دیکھ کر لوگوں نے تنقید کی اور کہا کہ جس جگہ شو کا انعقاد کیا وہاں پر انتظامات اچھے نہیں تھے اے سی پراپر کام نہیں کر رہا تھا اور ضرورت سے زیادہ ہجوم اس ہال میں موجود تھا۔ لوگوں کی اس قسم کی تنقید کے بعد ایونٹ مینجمنٹ کمپنی نے اپنی چپ توڑ دی اور بتایا کہ ایسا کچھ نہیں ہے جو بھی وڈیوز سوشل میڈیا پر سرکولیٹ کی جا رہی ہیں وہ جعلی ہیں ان کا حقیقت سے تعلق نہیں ہے حقیقت یہ ہے کہ کے کے کو دل کا دورہ شو کے دوران نہیں پڑا بلکہ انہوں نے پہلے شو کیا شو کرنے کے بعد وہ ہوٹل اپنے کمرے کی طرف گئے جہاں وہ اپنے پرستاروں کے ساتھ سلیفیاں لیتے رہے اور اس چیز کی تصدیق ان کے مینجر بھی کریں گے لہذا اس بات میں بالکل سچائی نہیں ہے کہ شو کے دوران ہارٹ اٹیک ہوا۔ ہال میں انفراسٹرکچر جس طرح کا ہونا چاہیے تھا بالکل ویسا ہی تھا، اے سی بھی کام کررہا تھا لیکن لوگ ان کی توقعات سے زیادہ آگئے تھے ، کچھ لوگ زبردستی ہال میں داخل ہو گئے تھے لیکن اس کے باوجود ایسی کوئی بات نہیں تھی کہ ہال میں دم گھٹ رہا تھا یا ایسی کسی چیز نے گلوکار کی صحت کو متاثر کیا۔ کے کے کے ساتھیوں کی طرف سے یا خود کے کے کی طرف سے ہمیں ہمیں ایک بار بھی ایسا اشارہ نہیں دیا گیا کہ کے کے کو کوئی مسئلہ ہو رہا ہے اگر ایسا اشارہ ملتا تو ہم یقینا شو کر روک دیتے۔
    ایونٹ مینجمنٹ کمپنی نے بھی بتایا کہ اس شو کو کرنے کے لئے جگہ کا انتخاب کالج نے خود کیا تھا۔ کے کے شو کے آخر تک جم کر گاتے رہے۔

  • مغربی ممالک میں نسل پرستی کا سامنا رہا،کمارسانو کی بیٹی کا انکشاف

    مغربی ممالک میں نسل پرستی کا سامنا رہا،کمارسانو کی بیٹی کا انکشاف

    معروف بھارتی گلوکارکمار سانو کی بیٹی نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں مغربی ممالک میں نسل پرستی کا سامنا کرنا پڑا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق گلوکار کمار سانو کی بیٹی و گلوکارہ نے اپنے حالیہ انٹرویو کے دوران نسل پرستی کا سامنا کرنے کے بارے میں بات کی کہ کس طرح انہیں امریکا اور برطانیہ میں نسل پرستی کا سامنا کرنا پڑا، جہاں انہوں نے اپنی پرورش کے ابتدائی سال گزارے۔

    ملائکہ سےعلیحدگی کی خبریں،ارجن کپور نے خاموشی توڑ دی

    کمار سانو کی بیٹی نے کہا کہ وہ بہت چھوٹی عمر میں اپنی والدہ کے ساتھ لندن شفٹ ہوگئی تھیں اوروہیں سےانہوں نے موسیقی کی تربیت لی مجھے حقیقی زندگی میں بہت زیادہ ذہنی تناؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، مجھے یاد ہے کہ جب میں موسیقی کے آڈیشن کے لیے گئی تو مجھے کم تر محسوس کیا گیا کیونکہ میں اردگرد کے اکثر لوگوں سے مختلف تھی۔

    گلوکار کی بیٹی نے کہا کہ میں بہت چھوٹی تھی، میں روتی ہوئی گھر واپس آتی اور ان واقعات کی وجہ سے اکثر میرا اعتماد ٹوٹ جاتا تھا، مجھے صرف ایک فنکار کے طور پر ہی نہیں بلکہ ایک انسان کے طور پر بھی خود کو ثابت کرنا تھا میں نے اب اس سے نمٹنا سیکھ لیا ہے، میری خواہش ہے کہ کسی دن اس کے بارے میں ایک گانا بناؤں اور دنیا کے کونے کونے میں بھارتی ثقافت کو فروغ دینے میں مدد کروں۔

    شاہ رخ خان کی رہائش گاہ "منت” کو بم سے اُڑانے کی دھمکی دینے والا شخص…

    واضح رہے کہ سال 2018ء میں ایک انٹرویو کے دوران کمار سانو نے انکشاف کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ’اُنہوں نے شینن کو گود لیا ہے اور اُنہیں اپنی بیٹی پر بہت فخر ہےوہ بہت محنتی ہے اور اپنی زندگی میں پہلے ہی بہت کچھ حاصل کر چکی ہےہالی ووڈ میں بہت سے لوگ مجھے ان کی وجہ سے جانتے ہیں اور یہ ہمارے خاندان کے لیے فخر کی بات ہے۔

    ارجن کپوراورملائکہ اروڑا نے راہیں جدا کرلیں ،بھارتی میڈٰیا