Baaghi TV

Tag: بھارت اور بنگلہ دیش

  • منفی پروپیگنڈے، بنگلہ دیش میں بھارتی ٹی وی چینلز پر پابندی کی درخواست دائر

    منفی پروپیگنڈے، بنگلہ دیش میں بھارتی ٹی وی چینلز پر پابندی کی درخواست دائر

    بنگلہ دیش میں ملک دشمن عناصر کے طور پر سرگرم اور ریاست مخالف پروپیگنڈے میں ملوث بھارتی ٹی وی چینلز پر پابندی کی درخواست دائر کردی گئی۔

    بنگلہ دیشی میڈیا کے مطابق بھارتی میڈیا چینلز حسینہ واجد کے اقتدار کے خاتمےکے بعد سے بھارت بنگلہ دیش کیخلاف مسلسل منفی پروپیگینڈا کر رہا ہے،کبھی بنگلہ دیش کی عبوری حکومت پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ بنگالی ہندوئوں کیخلاف تعصبانہ کارروائی میں ملوث ہے اور کبھی ان پر حملوں کا الزام عائد کیا جاتا ہے،بھارت کی جانب سے یہ تمام منفی پروپیگینڈا کرنے کیلئے نجی نیوز ٹی وی چینلز کا استعمال کیا جا رہا ہے جن کی نشریات بنگلہ دیش میں بھی دکھائی جاتی ہیں،اسی بنیاد پر اب بنگلہ دیش کے ہائیکورٹ میں پٹیشن دائر کی گئی ہے جس میں بھارتی ٹی وی چینلز پر پابندی عائد کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔ پٹیشن کیبل ٹیلی ویژن نیٹ ورک آپریشن ایکٹ 2006ء کے تحت ایڈووکیٹ اکلاس الدین بھویاں کی جانب سے دائر کردی گئی ہے، ہائیکورٹ نے رٹ پٹیشن کو سماعت کیلئے مقرر کرلیا ہے اور جسٹس فاطمہ نجیب اور جسٹس سکدار محمود درازی پر مشتمل بینچ تشکیل دیا گیا ہے،درخواست میں وزارت اطلاعات اور وزارت داخلہ، بنگلہ دیش ٹیلی کمیونیکیشن ریگولیٹری کمیشن کے سیکرٹریوں کو مدعی کے طور پر نامزد کیا گیا ہے” بنگلہ دیشی میڈیا کےمطابق سٹار جلسہ ، سٹار پلس، زی بنگلہ اور ریپبلک بنگلہ پر پابندی کا مطالبہ کیاگیا ہے،درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ بھارتی چینلز پر اشتعال انگیز خبریں دکھائی جا رہی ہیں،بنگلہ دیشی ثقافت کے خلاف مواد نوجوانوں پر منفی اثر ڈال رہا ہے،مزید یہ الزام لگایا گیا ہے کہ یہ چینل بغیر کسی اصول کی پیروی کیے چلائے جارہے ہیں۔

    ن لیگی امیدواروں کی درخواستیں منظور، اسلام آباد کے کیسز دوسرے ٹریبونلز کو منتقل

    کے الیکٹرک نے کراچی ریلوے اسٹیشنوں کی بجلی کاٹ دی

    علی امین گنڈاپور کا قیام امن پر سکیورٹی اداروں کو سلام

  • بھارت ،بنگلہ دیش میں کوئی فرق نہیں، محبوبہ مفتی کے بیان پر بی جے پی بھڑ ک اٹھی

    بھارت ،بنگلہ دیش میں کوئی فرق نہیں، محبوبہ مفتی کے بیان پر بی جے پی بھڑ ک اٹھی

    مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیراعلی محبوبہ مفتی کے اقلیتی برداری کی صورتحال پر بیان نے تنازع کھڑا کر دیا جس میں انہوں نے بھارت کا موازنہ بنگلہ دیش سے کیا ہے.

    بھارتی جریدے کے مطابق سابق وزیراعلی نے 24 نومبر کو اترپردیش کے شہر سنبھل میں پیش آنے والے واقعے پر افسوس کا اظہار کیا.انہوں نے پارٹی کے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج مجھے ڈر ہے کہ ہمیں اسی طرف لے جایا جا رہا ہے جو حالات 1947 میں تھے نوجوان جب نوکریوں کی بات کرتے ہیں تو نہیں ملتیں ہمارے پاس اچھے ہسپتال نہیں، تعلیم نہیں ہے وہ سڑکوں کی حالت کو بہتر نہیں کر رہے لیکن ایک مندر کی تلاش میں مسجد کو گرانے کی کوشش کر رہے ہیں. سنبھل واقعہ بہت افسوسناک ہے کچھ لوگ دکانوں میں کام کر رہے تھے اور گولی مار دی گئی واضح رہے کہ 24نومبر کو انڈیا کی ریاست اترپردیش کے شہر سنبھل میں ایک مسجد کے سروے کے موقع پر تشدد پھوٹ پڑا تھا جس کے نتیجے میں چار افراد ہلاک ہو گئے تھے.مسلمان مظاہرین اور پولیس کے درمیان یہ جھڑپیں اترپردیش کے شہرسنبھل میں ایک سروے کے موقعے پر ہوئیں جس میں یہ جائزہ جا رہا تھا کہ 17ویں صدی کی مسجد ہندوں کے مندر پر تعمیر کی گئی تھی یا نہیں؟ایک ہندو پنڈت کی جانب سے عدالت میں دائر ایک درخواست میں دعوی کیا گیا ہے کہ یہ مسجد ایک ہندو مندر کی جگہ پر تعمیر کی گئی ہے جس پر مقامی عدالت نے سروے کا حکم دیا تھا.محبوبہ مفتی کے بیان کی بی جے پی کے کئی راہنماﺅں نے مذمت کرتے ہوئے بیان کو ملک دشمنی پر مبنی قرار دیا ہے بی جے پی کے راہنماﺅں نے جموں و کشمیر کی حکومت پر زور دیا کہ وہ ان کے خلاف کارروائی کرے جموں و کشمیر کے بی جے پی کے سابق سربراہ رویندر رینا نے کہا کہ محبوبہ مفتی کا بنگلہ دیش کی صورتحال کا انڈیا سے موازنہ کرنے والا متنازع بیان سراسر غلط اور قابلِ مذمت ہے.
    انہوں نے کہا کہ دنیا بنگلہ دیش میں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں سے آگاہ ہے جہاں اقلیتی برادری کو ٹارگٹ حملوں کا سامنا ہے، خواتین کی توہین کی جاتی ہے اور ایک منتخب وزیراعظم کو ملک سے بھاگنے پر مجبور کر دیا جاتا ہے. بی کے پی رہنما نے مطالبہ کیا کہ جموں و کشمیر حکومت کو محبوبہ کے ملک مخالف بیان اور اس کی سازشوں کا سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے اور ان کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے جموں کشمیر اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سنیل شرما نے کہا کہ محبوبہ مفتی کا بیان اسمبلی انتخابات میں شکست کے بعد ان کی پارٹی کو زندہ کرنے کی کوشش ہے پی ڈی پی مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے اور محبوبہ مفتی مسلمانوں کو مشتعل کر کے اپنی پارٹی کو دوبارہ فعال کرنے کے لیے اس طرح کے بیانات دے رہی ہیں.

    نومبر میں مہنگائی ساڑھے 6 سال کی کم ترین سطح پر آگئی

    یو اے ای کی عالمی خدمات امت مسلمہ کیلئے باعثِ فخر ہیں، اسپیکر سندھ اسمبلی

    پاکستان کو عالمی دنیا کے بدلتے حالات پر توجہ کی ضرورت۔تجزیہ: شہزاد قریشی

    کراچی سے پشاور چلنے والی عوام ایکسپریس کی نجکاری مکمل