Baaghi TV

Tag: بھارت میں مسلمانوں پر حملے

  • بھارت :مسلمانوں پر حملے رکھے نہیں تھمے نہیں بہار میں‌ گالی گلوچ کے بعد داڑھی نوچی پٹائی کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا

    بھارت :مسلمانوں پر حملے رکھے نہیں تھمے نہیں بہار میں‌ گالی گلوچ کے بعد داڑھی نوچی پٹائی کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا

    بہار:بھارت میں مسلمانو ں پر حملےرکنے کا نام ہی نہیں لے رہے بلکہ یہ سلسلہ طویل سے طویل تر ہوتے جارہے ہیں.اطلاعات کے مطابق منگل کی دیر شام انظار کو سپرد خاک کر دیا گیا۔یہ واقعہ بہار کے مغربی چمپارن ضلع کے منگل پور تھانہ علاقہ کا ہے، جہاں سنت پور کے 45 سالہ انظار احمدسمیت تین لوگوں کی مار مار کر شدید زخمی کردیا تقریباً 10 مہینے پہلے 20 اگست 2018 کو کی گئی تھی۔ اس پٹائی کے بعد انظار کی یاداشت چلی گئی اور وہ بے ہوش رہنے لگے۔ طویل علاج کے بعد منگل 25 جون 2019 کو انظار اس دنیا سے ہمیشہ کے لئے الوداع کہہ گئے۔ اس موت کی وجہ سے علاقہ کے لوگوں میں کافی غصہ پایا جا رہا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق خاندان کے لوگوں نے کہا کہ اس وقت انظار احمد ایک تبلیغی جماعت کے ساتھ منگل پور تھانہ کے بڑھیہ ٹولا علاقہ میں گئے تھے۔ جماعت نے وہاں کی ایک مسجد میں قیام کیا تھا۔ مسجد میں بیت الخلا کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے انظار اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ رفع حاجت کے لئے باہر نکلے۔ لیکن راستہ میں دھار دار ہتھاروں کے ساتھ 5-6 بھگوا دہشت گردوں نے انہیں دبوچ لیا اور مذہبی شناخت کی گالیاں دینی شروع کر دیں۔ دریں اثنا حملہ آوروں نے ان کی داڑھیوں کو نوچا اور بری طرح سے انہیں زدوکوب کیا گیا۔ تیز دھار ہتھیاروں سے تینوں پر حملہ کیا گیا، انظار کی بئیں آنکھ کے نیچے گہرا زخم لگا جس کے اس سے بے تحاشہ خون نکلا۔

    نوتن تھانہ سے ملی اطلاع کے مطابق اس معاملہ میں ایف آئی آر 20 اگست 2018 کو درج کی گئی تھی، جس کا کیس نمبر 437/18 ہے۔ یہ ایف آئی آر دفعہ 341، 323، 324، 307، 504، 506 وغیر کے تحت درج کی گئی ہے۔ پولس نے دو ملزمان کو گرفتار کیا تھا لیکن دو تین مہینے گزارنے کے بعد وہ ضمانت پر رہا ہو گئے تھے۔

  • بھارت میں ہند وانتہاپسندوں نے2018 میں بھی مسلمانوں کوتشدد کا نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھا : امریکہ نے رپوٹ جاری کردی

    بھارت میں ہند وانتہاپسندوں نے2018 میں بھی مسلمانوں کوتشدد کا نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھا : امریکہ نے رپوٹ جاری کردی

    نیویارک:بھارت میں مسلمان 2018 میں بھی ہندو انتہاپسندوں کے حملوں سے محفوظ نہ رہ سکے .بھارت میں مسلمانوں پر مظالم کے حوالے سے امریکہ میں گزشتہ روز جمعہ کو ایک رپورٹ جاری کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں سال 2018 کے دوران ہندو انتہا پسند تنظیموں کی جانب سے اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف تشدد کیا جاتا رہا۔اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہجومی تشدد کی وجہ وہ افواہیں رہیں جس میں ایسی خبریں پھیلائی گئی کہ مذکورہ شخص یا تو گائے کی تجارت کر رہا تھا یا پھر گﺅ کشی کر رہا تھا۔مذہبی آزادی سے متعلق سال 2018 کی امریکی وزارت خارجہ کی سالانہ رپورٹ میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ بی جے پی کے کچھ سینئر عہدیداروں نے اقلیتوں کے خلاف اشتعال انگیز تقاریریں کی اور”ہندو انتہا پسند گروپوں کے ذریعہ پورے سال اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو گائے کی تجارت یا گائے کو گوشت کے لئے کاٹنے کی افواہوں کے چلتے ہجومی تشدد کا شکار بنایا“۔

    اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صرف نومبر میں 18 ایسے حملہ ہوئے جن میں آٹھ افراد کی موت ہوئی۔ رپورٹ میں یہ بھی حقائق پیش کیے گئے ہیں کہ اتر پردیش میں 22 جون کو دو پولس اہلکار کے خلاف اس لئے کارروائی ہوئی، کیونکہ مویشی کے ایک تاجر مسلمان کی پولس حراست میں موت ہو گئی تھی۔ اس رپورٹ میں دنیا کے تمام ممالک اور خطوں میں مذہبی آزادی کے حوالے سے پوری تفصیلات درج ہیں۔

    بھارت سےمتعلق اس رپورٹ کے سیکشن میں کہا گیا ہے کہ کچھ غیر سرکاری تنظیموں کی رپورٹ ہیں جس میں تحریر ہے ”حکومت کئی مواقع پر مذہبی اقلیتیں، کمزور طبقات اور حکومت پر تنقید کرنے والوں پر ہونے والے ہجومی تشدد پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے“۔ واضح رہے سال 2011 کی مردم شماری کے مطابق ہندوستان میں ہندووں کی آبادی 79.8 فیصد ہے جبکہ مسلمانوں کی آبادی 14.2 فیصد درج ہے۔