Baaghi TV

Tag: بھوک

  • عرب ممالک میں 13 کروڑ افراد غربت کا شکار ہیں:اقوام متحدہ

    عرب ممالک میں 13 کروڑ افراد غربت کا شکار ہیں:اقوام متحدہ

    نیویارک:عرب ممالک میں 130ملین (13 کروڑ) افراد غربت کا شکار ہیں۔اس بات کا انکشاف اقوام متحدہ کے اقتصادی اور سماجی کمیشن برائے مغربی ایشیا کے جاری کردہ ایک سروے میں کیا گیا ۔

    یورپ دوہری مصیبت میں پھنس گیا:شدید سردی میں روس نےگیس سپلائی بھی کم کردی

    چینی خبررساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کے سروے آف اکنامک اینڈ سوشل ڈویلپمنٹ ان عرب ریجن میں کہا گیا ہے کہ خلیج تعاون کونسل( جی سی سی) ممالک اور لیبیا کو چھوڑ کر عرب خطے کی ایک تہائی آبادی غربت سے متاثر ہے ۔

    روسی وفد کا جلد دورۂ پاکستان کا امکان:تیل کی خریداری پربات ہوگی

    سروے میں آئندہ دو سالوں میں غربت کی سطح میں مزید اضافے کی توقع ہے، جو 2024 میں آبادی کے 36 فیصد تک پہنچ جائے گی۔علاوہ ازیں عرب خطے میں 2022 میں بے روزگاری کی شرح 12 فیصد درج کی ہے۔

    سروے کے مصنف احمد مومی نے کہا کہ جی سی سی اور دیگر تیل برآمد کرنے والے ممالک توانائی کی بلند قیمتوں سے مستفید ہوتے رہیں گی جب کہ تیل درآمد کرنے والے ممالک کئی سماجی اقتصادی چیلنجوں کا شکار ہوں گے، جن میں توانائی کی بڑھتی قیمتوں، خوراک کی فراہمی میں کمی، اور سیاحت اور بین الاقوامی امداد کی آمد میں کمی شامل ہے۔

    روسی وفد کا جلد دورۂ پاکستان کا امکان:تیل کی خریداری پربات ہوگی

  • مہنگائی،غربت اور بیروزگاری،محنت کش بھوک مٹانےتھانہ پہنچ گیا،حوالات رہنے پر اصرار

    مہنگائی،غربت اور بیروزگاری،محنت کش بھوک مٹانےتھانہ پہنچ گیا،حوالات رہنے پر اصرار

    بلوچستان کے علاقہ ڈیرہ اللہ یار کا محنت کش آسمان کو چھوتی مہنگائی ،غربت اور بیروزگاری سے تنگ آکر تھانہ پہنچ گیا.

    ڈیرہ اللہ یار کا رہائشی محنت کش آئے روز بڑھتی ہوئی مہنگائی سے بہت پریشان تھا اوپر سے غربت اور بیروزگاری نے بھی اس کا گھر دیکھ رکھا تھا. مہنگائی، غربت اور بیروزگاری سے تنگ آکر محنت کش تھانے پہنچ گیا اور تھانہ والوں سے التجا کرنے لگا کہ اسے تھانہ میں بند کر دیا جائے، جبکہ تھانے کا عملہ اسے تھانے سے باہر جانے کے لئے کہتا رہا مگر وہ تھانہ سے باہر نہ جانے پر بضد رہا.

    تھانے کے عملے نے مزدور سے دریافت کیا کہ وہ تھانہ میں کیوں بند ہونا چاہتا ہے؟ تو مزدور نے جواب دیا کہ اس کے پاس کرنے کو کوئی کام نہیں ہے اور بیروزگار ہے. آسمان کو چھوتی اشیاء خورونوش کی قیمتوں کے باعث وہ ایک وقت کی روٹی کھانے سے بھی قاصر ہے اس لئے اسے تھانہ کی حوالات میں بند کر دیا جائے .

    اس کا کہنا تھا کہ تھانہ کی حوالات میں کم از کم کھانا تو مفت دیا جاتا ہے، اس کا مزید کہنا تھا کہ جب تک میں تھانہ کی حوالات میں رہوں گا تب تک زندہ رہوں گا، اگر مجھے حوالات میں بند نہ کیا تو میں تھانہ سے باہر مہنگائی ،غربت اور بیروزگاری کے ہاتھوں مارا جاوں گا. بلوچستان کے بیروزگار مزدور کی آہ وبکار حکمرانوں کیلئے لمحہ فکریہ ہے.بلوچستان کا صوبہ ہر دور میں ہی ترقیاتی منصوبوں کے لحاظ سے ملک کے باقی صوبوں کی نسبت پیچھے رہا ہے .

    تھانہ میں سکونت اختیار کرنے کے خواہاں مزدورکی حالت زار نے بلوچستان کے حکمرانوں کے دعوں کی قلی کھول دی ہے .حکمران عوام کی فلاح اور بھلائی کیلئے منتخب ہو کر آتے ہیں مگر ایوانوں کے ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کرحکومتی خزانے پر بوجھ بنے ہوئے ہیں اور عوام کی حالت یہ ہوگئی ہے کہ وہ مہنگائی ، بیروزگاری اور غربت سے تنگ آکر تھانوں میں رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں

  • اک منظر فلسطین کا … غنی محمود قصوری

    اک منظر فلسطین کا … غنی محمود قصوری

    منظر فلسطین کے شہر غزہ کا ہے رات کا سناٹا چھایا ہے اسرائیلی فوج نے کرفیوں لگا رکھا ہے جو کہ چار دن سے جاری ہے کسی کو باہر آنے جانے کی اجازت نہیں ام عبداللہ اپنے دو بیٹوں عبداللہ جس کی عمر 12 سال اور عبدالہادی جس کی عمر 6 سال ہے کو لئے گھر میں بغیر مرد کے بیٹھی ہے کیونکہ چھ ماہ پہلے اسرائیلی فورسز نے ام عبداللہ کے شوہر محمد خالد کو شہید کر دیا تھا رات اپنے آخری پہر میں داخل ہو رہی ہے اتنے میں عبدالہادی چلانے لگتا ہے ماما رات بھی آپ نے کھانا نہیں دیا مجھے بھوک لگی ہے کھانا دو ماما مجھے کھانا دو ماں کی ممتا ٹرپ جاتی ہے اپنے لخت جگر کو اپنی آغوش میں لے لیتی ہے اور کہتی ہے میرے لال تمہارا ماموں کھانا لے کر آ رہا ہے تو فکر نا کر سو جا صبح ہونے والی ہے صبح ہوتے ہی تیرے ماموں جان ضرور آئینگے عبدالہادی چیخ پڑا ماما جی آپ روز یہی کہتی ہیں مگر ماموں جان نہیں آتے پاس بیٹھا عبداللہ بولا ماما جی اجازت دیجئے میں خود ہی نانی اماں کے گھر سے کھانا لے آتا ہوں ام عبداللہ نے جب اپنے لخت جگر کی بات سنی تو ٹرپ کر بولی میرے جگر باہر صیہونی فوج کرفیو لگائے بیٹھے ہیں وہ تو ہم سب کی جان کے پیاسے ہیں میرے لال میں تمہیں ہرگز نا جانے دونگی عبداللہ بولا ماما جی چار دن سے کچھ نہیں کھایا اگر اب کھانا نا ملا تو ہم تینوں مر جائینگے لہذہ میری ماں مجھے جانے دیجئے صرف پانچ منٹ کے فاصلے پر ہی تو نانی جان کا گھر ہے میں ابھی گیا اور ابھی آیا مجھ سے عبدالہادی کا رونا نہیں دیکھا جاتا ماں خاموش ہو گئی اور اپنے جگر گوشے کا ماتھا چوما اور دل میں ہزاروں وسوسے چھپائے بولی جا بیٹا احتیاط سے جانا اور نانی جان کو میرا سلام کہنا ام عبداللہ اپنے جگر کو دروازے تک چھوڑنے گئی اور ڈورتے ہوئے عبداللہ کو حسرت سے دیکھتی رہی
    دوسری طرف ستر سالہ ام جعفر اپنے نواسے کو دیکھ کر ورطہ حیرت میں پڑ گئی اور سینے سے لگا کر بولی میرے پیارے تو اتنے خطرے میں کیوں گھر سے نکلا تو عبداللہ نے سارا ماجرا بیان کیا ام جعفر عبداللہ کی باتیں سن کر پریشان ہوگئی کیونکہ یہی ماجرہ ان کے اپنے ساتھ بھی تھا خیر ام جعفر نے پوتے کو تسلی دی اور خود کچن میں جا کر دیکھنے لگی آخر سوکھی ڈبل روٹی کے دو ٹکڑے ملے اور اپنے نواسے کو دیتے ہوئے بولی لے میرے جگر ان سے گزارہ کرنا ابھی دن کا اجالا نمودار نہیں ہوا جا اجالا ہونے سے پہلے پہلے گھر پہنچ جا اور یہ ڈبل روٹی کھا کر اللہ کو یاد کرنا اللہ مدد فرمائینگے
    12 سالہ عبداللہ ہاتھ میں سوکھی روٹی کے ٹکڑے اٹھائے گھر کی جانب بھاگ رہا تھا جب گھر کی چوکھٹ کے قریب پہنچا تو اپنے سامنے صیہونی فوج کو دیکھا ابھی عبداللہ کچھ کہنے ہی لگا تھا کہ اسرائیلی فوجی کی گولی عبداللہ کے عین دل کے اوپر لگی اور بیچارہ عبداللہ اپنے اور اپنے بھائی کے پیٹ کا سامان جہنم ہاتھ میں پکڑے رب کی جنت کا مہمان بن گیا ادھر کمرے میں بند ام عبداللہ نے تشویش سے گھر سے باہر جھانکا تو اپنے لخت جگر عبداللہ کو خون میں لت پت دیکھا تو فوری اپنے لال کے اوپر اپنی مامتا کی آغوش کا سایہ کرکے رونے لگی کہ اتنے میں ظالم فوجی کی دوسری گولی آئی اور ام عبداللہ بھی اپنے لخت جگر کے اوپر گر کر رب کی جنت کی مہمان بن گئی ادھر یہ دونوں ماں بیٹا صیہونی فوج کے ہاتھوں شہید ہوئے تو اندر ننھا عبدالہادی بھوک کیساتھ ٹرپ ٹرپ کر رب کی جنتوں کا مہمان ٹھہرا
    آہ بھوک کیسی ظالم چیز ہے پاکستانیوں ان بے کسوں سے پوچھو