Baaghi TV

Tag: بھٹہ خشت

  • ضلعی انتظامیہ و محکمہ ماحولیات کی بدولت لوگوں کی زندگیاں خطرے میں

    ضلعی انتظامیہ و محکمہ ماحولیات کی بدولت لوگوں کی زندگیاں خطرے میں

    قصور
    محکمہ ماحولیات و ضلعی گورنمنٹ کی اناہلی سے بھٹہ مالکان وارننگ کے باوجود زگ زیگ سسٹم نا لکا سکے،اینٹوں کی قیمت ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی،اہلکاران حصے وصول کرکے خاموش

    تفصیلات کے مطابق پنجاب گورنمنٹ کی طرف سے تمام بھٹہ خشت میں زگ زیگ سسٹم لگانے کی ہدایت کی گئی تھی جس کے تحت بھٹہ کی چمنی سے نکلنے والا دھواں زگ زیگ سسٹم سے ہو کر گزرتا ہے اور پانی و دیگر پراسیس سے دھواں انتہائی کم خطرناک تہ جاتا ہے
    مگر ضلعی انتظامیہ قصور و محکمہ ماحولیات قصور کی نااہلی سے محض 2 فیصد سے بھی کم بھٹہ مالکان نے زگ زیگ سسٹم لگایا ہے اور پرانی طریقے سے ہی بھٹہ خشت کا دھواں چمنی سے نکالا جا رہا ہے جس سے فضائی آلودگی کے سبب لوگوں میں کئی طرح کی امراض جنم لے رہی ہیں جبکہ بھٹہ مالکان نے 7800 روپیہ سرکاری ریٹ والی درجہ اول اینٹ 12000 روپیہ میں فروخت کرنا شروع کر دی ہے
    ساری صورتحال کا محکمہ ماحولیات و ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کو علم ہے مگر اپنا حصہ لینے پر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کئے ہوئے ہیں

    لوگوں نے وزیراعلی پنجاب سے نوٹس لے کر سخت کاروائی کا مطالبہ کیا ہے

  • بھٹہ مالکان کی من مانیاں جاری،انتظامیہ بے بس

    بھٹہ مالکان کی من مانیاں جاری،انتظامیہ بے بس

    قصور
    بھٹہ مالکان کی من مانیاں جاری ،7800 روپیہ والی اینٹ 13000 روپیہ میں فروخت،انتظامیہ خاموش تماشائی
    تفصیلات کے مطابق قصور میں بھٹہ مالکان کی من مانیاں جاری ہیں بھٹہ مالکان نے حکومتی احکامات کو ہوا میں اڑاتے ہوئے گورنمنٹ کی طرف سے مقرر کردہ قیمت 7800 والی اینٹ درجہ اول 13000 ہزار میں فروخت کرنا شورع کر دی ہے لوگوں کی طرف سے ضلعی انتظامیہ کو توجہ دلانے پر بھی کوئی ایکشن نہیں لیا جاتا کیونکہ ضلعی انتظامیہ اپنا پورا پورا حصہ وصول کرتی ہے
    لوگوں نے کشمنر لاہور ڈویژن سے نوٹس لے کر کاروائی کا مطالبہ کیا ہے

  • ضلعی انتظامیہ اور محکمہ ماحولیات کی ملی بھگت سے بھٹہ مالکان کی موجیں

    ضلعی انتظامیہ اور محکمہ ماحولیات کی ملی بھگت سے بھٹہ مالکان کی موجیں

    قصور
    محکمہ ماحولیات اور ضلعی انتظامیہ قصور سموگ أگاہی کرکے بے فکر ہو کر سو گئی،انتظامیہ نے بھٹے بند کروائے بھٹہ مالکان نے اینٹوں کے ریٹ بڑھا دیئے اور ماحولیات انسپیکٹروں و ضلعی انتظامیہ کی جیبیں بھر کر بھٹے چلا لئے مگر عوام کو اینٹیں مہنگی و سموگ ہی ملا
    تفصیلات کے مطابق ملک بھر کی طرح سموگ پر کنٹرول رکھنے کیلئے قصور میں بھی دو ماہ کیلئے بھٹہ خشت کو بند کیا گیا تھا تاکہ سموگ میں کمی ہو سکے جس پر بھٹے بند کرکے بھٹہ مالکان نے لوگوں کو مہنگی اینٹیں فروخت کرنا شروع کر دیں تھیں اب ضلعی انتظامیہ اور محکمہ ماحولیات کے انسپیکٹروں کی جیبیں بھر کر سرعام بھٹے چلانے شروع کر دیئے ہیں جس سے سموگ میں اضافہ ہو رہا ہے
    بھٹہ مالکان کی مہنگی اینٹوں کی فروخت سے موجیں جبکہ عوام کو مہنگی اینٹیں اور سموگ ہی مل پا رہا ہے اس پر لوگوں نے ڈی سی قصور اور کمشنر لاہور سے مطالبہ کیا ہے کہ اینٹوں کے ریٹ کنٹرول کروائے جائیں اور خلاف ورزی کرنے والے بھٹہ مالکان کے خلاف کاروائی کی جائے نیز رشوت خور ضلعی انتظامیہ اور ماحولیات انسپیکٹروں کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے

  • گورنمنٹ کا بھٹہ خشت بند کرنے کا فیصلہ

    گورنمنٹ کا بھٹہ خشت بند کرنے کا فیصلہ

    قصور
    محکمہ ماحولیات کی طرف سے 7 اکتوبر سے بھٹہ خشت بند کرنے کی ہدایت،دو ماہ بھٹہ خشت بند رکھے جائینگے تاکہ سموگ میں کمی واقع ہو سکے
    بھٹہ مالکان کی عوام کو چھری پھیرنے کی تیاری
    تفصیلات کے مطابق سابقہ سالوں کی طرح اس سال بھی سموگ سے بچنے کیلئے محکمہ ماحولیات پنجاب نے بھٹہ مالکان کو نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے جس کی رو سے 7 اکتوبر سے 7 دسمبر تک بھٹہ خشت بند رکھے جائینگے تاکہ سموگ کم سے کم پیدا ہو اور لوگوں کی صحت متاثر نا ہو مگر دوسری طرف بھٹہ خشت مالکان جو کہ پہلے ہی لوگوں کو چھری پھیر رہے ہیں،نے لوگوں کو مذید چھری پھیرنے کا عہد کر لیا ہے واضع رہے اینٹ اول کا سرکاری ریٹ 7500 روپیہ مقرر ہے مگر بھٹہ خشت مالکان 10500 روپیہ دے رہے ہیں جبکہ اینٹ کا کرایہ الگ سے ہے
    اس بابت لوگ سخت پریشان ہیں کہ اب چلتے بھٹوں سے اینٹ 3 ہزار روپیہ مہنگی مل رہی ہے جب بھٹے بند ہو گئے تو بھٹہ خشت مالکان مذید مہنگی کر دینگے جسے کنٹرول کرنا گورنمنٹ کے بس کی بات نہیں

  • بھٹہ خشت مالکان کی چوری

    بھٹہ خشت مالکان کی چوری

    قصور بھٹہ خشت مالکان کی اندھیر نگری
    تفصیلات کے مطابق قصور اور گردو نواح میں میں قائم بھٹہ خشت کے مالکان کو ضلعی انتظامیہ اور محکمہ ماحولیات کی طرف سے حکم نامہ جاری ہوا تھا کہ 1-10-19 سے 30-12-19 تک بھٹہ خشت پر آگ بند رکھیں تاکہ سموگ سے بچا جا سکے اور پچھلے سال اسی عمل سے قصور میں سموگ نا ہونے کے برابر تھی مگر ابھی تک 9 دن گزرنے کے باوجود اکثر بھٹہ مالکان نے آگ بند نہیں کی جبکہ دوسری جانب درجہ اول اینٹ کی سرکاری قیمت 7500 فی ہزار مقرر ہے جبکہ بھٹہ مالکان 9500 درجہ دوم اینٹ سرکاری ریٹ 4500 جبکہ بھٹہ مالکان 7500 فی ہزار اینٹ فروخت کر رہے ہیں لوگوں نے بتایا کہ پرائس کنٹرول ٹیمیں آتی ہیں اور اپنا حصہ وصول کرکے چلی جاتی ہے
    بھٹہ مالکان کا موقف ہے کہ ایک بھٹہ خشت پر 100 سے 150 بندے کام کرتے ہیں آگ بند ہونے کی صورت میں پکی اینٹ کی تیاری بند ہو جاتی ہے اور 100 بندے فارغ ہو جاتے ہیں جن کو پیشگی رقم ہمیں دینی پڑتی ہے اور بعض اوقات بندے لاکھوں روپیہ پیشگی لے کر بھاگ بھی جاتے ہیں لہذہ حکومت کو چائیے کہ ہمارے ساتھ تعاون کرے
    جبکہ دوسری جانب اینٹ خریداروں کا کہنا ہے کہ بھٹہ مالکان اپنے معمولی نقصان کا ازالہ ہم سے کئی ہزار زائد لے کر نا صرف پورا کرتے ہیں بلکہ اس آڑ میں کروڑوں روپیہ نفع بھی لیتے ہیں اور پرائس مجسٹریٹس کو پیسے دے کر خاموش کروا دیتے ہیں لہذہ وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار اور ڈی سی قصور اس واقع پر سخت ایکشن لیتے ہوئے کاروائی کریں