Baaghi TV

Tag: بیان

  • شہباز گل کے بیان کی تائید نہیں کرؤں گا، وزیر داخلہ پنجاب

    شہباز گل کے بیان کی تائید نہیں کرؤں گا، وزیر داخلہ پنجاب

    صوبائی وزیر داخلہ کرنل محمد ہاشم ڈوگر نے ہاکی اسٹیڈیم لاہور کا دورہ کیا اور 13 اگست کو پی ٹی آئی کے جلسے کے حوالے سے انتظامات کا جائزہ لیا.

    وزیرداخلہ پنجاب میں ہمت ہے تو گرفتار کرکے دیکھیں،عطاء اللہ تارڑ

    اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر داخلہ کرنل محمد ہاشم ڈوگرکا کہنا تھا کہ ہم کسی کے انتقام نہیں لینا چاہتے،جس افسر نے حدود سے تجاوز کیا اس کو سزا ملےگی،13اگست کو تحریک انصاف کا جلسہ ہونے جارہاہے،انہوں نے کہا کہ پولیس کو کسی کی بھی گرفتاری کی ہدایت نہیں دی،پرسوں جشن آزادی کی تقریبات کے سلسلے میں چیئرمین تشریف لا رہے ہیں،چیئرمین کا استقبال کرینگے.

     

    فوج سے متعلق بیان پارٹی پالیسی کے مطابق دیا،شہباز گل کا اعتراف

     

    وزیر داخلہ نے کہا کہ ملک اور اداروں کی بہتری کیلئے بات کی جائے گی،آسٹرو ٹرف کی مدت ختم ہو چکی ہے،نئے آسٹرو ٹرف کی منظوری ہو چکی ہے، پیسے منظور ہو چکے ہیں،لاہور پولیس کے مدد سے ہاکی سٹیڈیم کو محفوظ جگہ بنا رہے ہیں، دہشت گردی میں احتیاط کی ضرورت ہے،حکومتی محکمے مل کر کام کررہے ہیں،محرم الحرام کے حوالے سے بہترین انتظامات کیے گئے،عوام تحمل کا مظاہرہ کریں،ہمارا مقصد سیاسی انتقام نہیں ہے
    البتہ جن لوگوں نے اپنی حدود سے تجاوز کیا ان کے خلاف محکمہ جاتی سطح پر کاروائی کی جائے گی.

     

    شہباز گِل کی مُسلح افواج کے خلاف بغاوت، تقسیم اور سازش کی کوشش

     

    کرنل محمد ہاشم ڈوگرکا کہنا تھا کہ ہم نے تحریک انصاف کے خلاف کام کرنے والے کسی بھی پولیس افسر کو لسٹ نہیں دی،ایک ریڈ لائن ہے وہ کسی کو بھی نہیں عبور کرنی چاہئے
    آرمی کے کسی بھی شخص کو ایسی بات نہیں کرنی چاہیے،میں تاحال شہباز گل سے نہیں ملا،شہباز گل اس وقت پولیس کی حراست میں ہیں،میں فوج، عدلیہ حتی کہ کسی بھی سیاسی جماعت کے خلاف ایسی بات کی تائید نہیں کروں گا،شہباز گل ایک محب وطن ہیں، غلطی کو نظر انداز کرنا چاہیے.سیکیورٹی کے حوالے سے ملک کے حساس اداروں کے ساتھ رابطے میں ہوں.

    وزیرداخلہ پنجاب کا مذید کہنا تھا کہ ہر کوئی شخص جب بھی قانون کی حد کو عبور کریں گے تو اس کے خلاف کارروائی ہوگی،تحریک لبیک اور تحریک انصاف کے درمیان اگر تصادم کی سازش ہے تو یہ نہیں ہونی چاہیے،اگر تحریک لبیک کے لوگ آئیں گے تو ان کو پھولوں کے گلدستے پیش کریں گے.

  • فوج سے متعلق بیان پارٹی پالیسی کے مطابق دیا،شہباز گل کا اعتراف

    فوج سے متعلق بیان پارٹی پالیسی کے مطابق دیا،شہباز گل کا اعتراف

    پاکستان تحریک انصاف کے گرفتار رہنما شہباز گل نے تفتیش کے دوران فوج سے متعلق بیان دینے کا اعتراف کرلیا ہے.

    عمران خان کا چیف آف سٹاف،تین روز گزر گئے،تھانے ملنے کوئی نہ آیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی رہنما شہباز گل کا کہنا تھا کہ بیان سوچ سمجھ کر دیا ہے، میرے خیال میں، میں نے پارٹی پالیسی سے ہٹ کر یہ بیان نہیں دیا۔ پولیس حکام کے مطابق شہباز گل سے برآمد ہونے والا فون ڈمی تھا، شہباز گل کا اپنا فون ان کا ڈرائیور لے گیا ہے۔

    پولیس کے مطابق شہباز گل کے فون سے مسلسل ٹوئٹس ہو رہی ہیں، پتا لگا رہے ہیں کہ ٹوئٹر ہینڈل والا فون کس کے پاس ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ شہباز گل کےفون سے ٹوئٹ کرنے والا ملزم کا ساتھی ہے۔

     

    شہباز گل کے ڈرائیور کی اہلیہ کو عدالت نے جیل بھجوا دیا

     

    یاد رہے کہ شہباز گِل کو 9 اگست کو پولیس نے اسلام آباد میں گرفتار کر لیا تھا، پی ٹی آئی رہنما کے خلاف تھانہ بنی گالہ میں بغاوت پر اکسانے کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

    گرفتار شہباز گل کے خلاف غداری سمیت 10 سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا، گزشتہ روز عدالت نے تحریک انصاف کے رہنما کو 2 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا، کل پھر کورٹ میں پیش کیا جائے گا۔

    قبل ازیں دوسری جانب شہبازگل کی میڈیکل رپورٹ اسلام آباد پولیس کو موصول ہو گئی میڈیکل رپورٹ میں شہباز گل پر تشدد ثابت نہیں ہوا،شہباز گل کا میڈیکل آج پمز اسپتال میں کروایا گیا ،تین رکنی میڈیکل بورڈ نے رہنما پی ٹی آئی شہباز گل کا طبی معائنہ کیا وکیل نے شہباز گل پر پولیس حراست میں تشدد کرنے کا الزام لگایا گیا تھا

    واضح رہے کہ شہباز گل نے دوران تحقیقات بتایا تھا کہ اس نے اپنا موبائل اپنے ڈرائیور کو گرفتاری کے وقت دے دیا تھا،رات کو پولیس نے شہباز گل کے‌ ڈرائیور کی گرفتاری کے لئے چھاپہ مارا تھا ڈرائیور کے خلاف تھانہ آبپارہ میں مقدمہ درج کیا گیا ہے درج ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ملزم شہباز گل نے دوران تحقیقات بتایا کہ میرا ملکیتی موبائل جس میں اس مقدمہ کے حوالہ سے کافی سارا مواد موجود ہے گرفتاری کے وقت وہ موبائل اسسٹنٹ ،ڈرائیور اظہار کو دے دیا تھا جو کہ ابھی بھی اس کے پاس ہے جو آجکل اپنے سسرال میں مقیم ہے

  • عمران خان کو شہباز گل کے بیان پر معافی مانگنی چاہیے تھی، رانا ثناء اللہ

    عمران خان کو شہباز گل کے بیان پر معافی مانگنی چاہیے تھی، رانا ثناء اللہ

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللّٰہ نے کہا ہے کہ عمران خان نے آج شہباز گل کے بیانیے کی تائید کی ہے۔ فوج کی کمانڈ کے خلاف بیان پر کمپرومائز نہیں ہوسکتا۔

    نیازی خود کو بے وقوف بنا سکتے ہیں، قوم کو نہیں،شہباز شریف

    نجی ٹی وی چینل کے پروگرام ’آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ ہم سمجھ رہے تھے کہ عمران خان آج شہباز گل کے بیان کی مذمت کریں گے اور معافی مانگیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ شہباز گل نے جو بیانیہ پیش کیا ہے، وہ پی ٹی آئی کا بنیادی بیانیہ ہے، جس کی آج عمران خان نے تائید کی ہے۔

    عمران خان نے جو لکھ کر دیا شہباز گل نے وہی پڑھا،مریم اورنگزیب

    وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ باقاعدہ ایک بیانیہ تیار کیا گیا اور اس کی منظوری سیاسی لیڈرشپ سے لی گئی، فکس پروگرام میں طے پایا کہ 15 منٹ میں بات مکمل کرنا ہوگی۔

    اُن کا کہنا تھا کہ یہ طے ہوا تھا کہ مداخلت نہیں کرنی، فری ٹائم دینا ہے، بیان ثابت ہوگا تو چینل کے خلاف کارروائی ہوگی۔

    رانا ثناء اللّٰہ نے یہ بھی کہا کہ فوج کی کمانڈ کا حکم نہ ماننے پر اکسانے والے کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے، بیان نشر ہوا، سوشل میڈیا پر چلا تو پھر کارروائی ہوئی، شہباز گل کو قانونی حق دیا گیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ فوج کی کمانڈ کے خلاف بیان پر کمپرومائز نہیں ہوسکتا، پوچھتا ہوں کیا شہباز گل نے بیان نہیں دیا؟ کیا یہ آواز پی ٹی آئی رہنما کی نہیں تھی؟

    وفاقی وزیر نے کہا کہ شہباز گل کے خلاف مقدمہ درج ہوا ہے، انہیں قانون کے مطابق گرفتار کیا گیا، ایک گاڑی سے دوسری گاڑی میں بٹھایا گیا، عدالت میں پیش کیا گیا۔

    اُن کا کہنا تھا کہ آپ نے لوگوں کو گرفتار کرکے ڈیڑھ سال جیل میں رکھا، مجھےگرفتار کیا گیا، کیا مجھے صفائی کا موقع دیا؟ پوچھتا ہوں ویڈیو وائرل ہے، کہاں ڈرائیو پر تشدد کیا گیا؟

    رانا ثنا ء اللّٰہ نے کہا کہ 6 لوگوں کی شناخت ہوگئی ہے، 78 لوگوں کا پروسیس ہورہا ہے، جو لوگ شناخت ہوئے ہیں ان کا سب کو پتاہے کہ کون ہیں، اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ٹرینڈ پی ٹی آئی کی طرف سے چلایا گیا۔

    انہوں نے کہا کہ عمران خان کو اپنا کردار اور گفتگو یاد نہیں رہتی، فوج کے بطور ادارہ بات برداشت نہیں ہوتی، پی ٹی آئی سربراہ قوم کو تقسیم کررہا ہے، نوجوان کو گمراہ کررہا ہے۔

    وفاقی وزیر نے کہا کہ آپ خود نفرت پیدا کررہے ہیں، تفریق پیدا کررہے ہیں، لوگوں کو کہتے ہیں کہ انہیں گالیاں دو، یہ کہتے ہیں دشمنوں، قاتلوں کے ساتھ بیٹھ سکتا ہوں، یہ کہتے ہیں مخالف سیاستدانوں کےساتھ نہیں بیٹھ سکتا۔

    اُن کا کہنا تھا کہ توشہ خانہ ریفرنس میں عمران خان مس ڈکلیئریشن میں نااہل ہوں گے، بچ نہیں سکتے، وہ چاہتے ہیں نیوٹرل نیوٹرل نہ رہیں، انہیں 2018 کی طرح بٹھا دیا جائے۔

    رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ یہ ملک بند کرنے کی بالکل صلاحیت نہیں رکھتے، اگر ایسا خیال ذہن میں پالا تو بہت بری شکست اور ناکامی ہوگی، یہ صرف 10، 15 ہزار لوگوں کا جلسہ کرسکتے ہیں۔

  • فوج کے خلاف بیان عمران خان کے کہنے پر دیا،شہباز گل کا اعتراف

    فوج کے خلاف بیان عمران خان کے کہنے پر دیا،شہباز گل کا اعتراف

    تحریک انصاف کے چیئرمین ، سابق وزیراعظم عمران خان کے چیف آف سٹاف شہباز گل کو گرفتار کر لیا گیا ہے دوران تفتیش شہباز گل نے انکشاف کیا کہ فوج کے خلاف بیان پارٹی سربراہ عمران خان کے کہنے پر دیا.

    سابق وزیر اعظم عمران خان کے چیف آف سٹاف شہباز گل نے پولیس تفتیش میں اہم انکشافات کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے فوج میں بغاوت کے حوالے سے بیان پارٹی سربراہ یعنی عمران خان نے دینے کو کہا تھا۔

    سینئر صحافی و اینکرپرسن طلعت حسین نے اپنے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ شہباز گل نے تفتیشی افسران کو بتایا ہے کہ مجھے پارٹی سربراہ نے کہا تھا کہ آپ نےیہ بیان دینا ہے۔

    شہباز گل نے دوران تفتیش مزید بتایا کہ مجھے کہا گیا تھا کہ آپ اپنا بیان مکمل کرنا آپ کو چینل کی طرف سے کوئی نہیں روکے گا۔

    وزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی نے کہا ہے کہ افواج پاکستان سرحدوں کی حفاظت کی ضامن ہے اور ہمارا فخر ہے، فوج کے خلاف پراپیگنڈا ملک دشمن ہی کر سکتا ہے،جو کوئی بھی فوج کے خلاف بات کرتا ہے اس کو ڈکلیئر کیا جائے کہ وہ پاکستان اور دین اسلام کا دشمن ہے،کسی بھی شکل میں افواج پاکستان کے خلاف بات نہیں کر سکتے.

    چودھری پرویزالٰہی کا کہنا تھا کہ ن لیگ والے غلط اور بے بنیاد پراپیگنڈا کر رہے ہیں،عمران خان، تحریک انصاف ،ہم افواج پاکستان کے ساتھ ہیں،کسی کو بھی فوج کا نام بد نام کرکے سیاسی مقاصد حاصل کرنے نہیں دیں گے،ن لیگ کے میڈیا سیل سے جھوٹا پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے.

    پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے ترجمان حافظ حمداللّٰہ نے کہا ہے کہ نجی ٹی وی پر شہباز گل کے بیان سے واضح ہوا کہ وہ فوج کو ادارے کے سربراہ کے خلاف بغاوت پر اُکسا رہے ہیں۔ حافظ حمداللّٰہ نے کہا کہ یہ شہباز گل کا ذاتی بیان نہیں بلکہ عمران نیازی اور پی ٹی آئی کا بیانیہ ہے۔

    ایک بیان میں حافظ حمد اللّٰہ نے کہا کہ عمران خان نے ہاتھ سے اقتدار جانے کے بعد ہمیشہ اداروں کی نیوٹریلٹی کو نشانے پر رکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ شہباز گل کے بیان کے بعد عمران خان سمیت پی ٹی آئی کے کسی ذمہ دار نے مذمت تک نہیں کی۔حافظ حمداللّٰہ نے مزید کہا کہ پی ڈی ایم ملک، آئین اور اداروں کے خلاف ہونے والی ہر قسم کی سازش اور نفرت انگیز بیانیہ کے مقابلے میں کھڑی ہے اور کھڑی رہے گی۔

    پیپلزپارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ فوج کیخلاف مہم کی کسی سابق چیف جسٹس کی سربراہی میں انکوائری کرائیں پتا چل جائے گا.

    وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہےکہ اقتدار کی محرومی نے عمران خان کو پاگل کردیا ہے، اداروں پر حملہ یا بغاوت کی ترغیب دینا صریحاً ملک دشمنی ہے۔ایک بیان میں خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اقتدار نا پائیدار چیز ہے، ہمیشہ کسی کے پاس نہیں رہتا۔

    وزیردفاع کا کہنا تھا کہ اختلاف کرناحق ہے، مگراداروں پر حملہ یا بغاوت کی ترغیب دینا صریحاً ملک دشمنی ہے، اقتدار کی محرومی نے عمران خان کو پاگل کردیا ہے۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پاک فوج کو ٹارگٹ کرکے عمران اور اس کے حواری ملک دشمن ایجنڈے پرکام کر رہےہیں۔

    اس سے پہلے شہباز گل کو گرفتار کیا گیا تھ ، شہباز گل کے خلاف اداروں کیخلاف بیان بازی اور عوام کو اداروں کیخلاف اکسانے پر بغاوت کا مقدمہ درج کیا گیا ، پولیس نے شہباز گل کے خلاف تھانہ کوہسار میں مقدمہ درج کر لیا، مقدمہ ریاستی اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے پر 124 اے سمیت مختلف دفعات کے تحت درج کیا گیا۔

    مقدمے میں دفعہ 505،120،124 اے اور 196 شامل کی گئی ہیں ،درج مقدمے میں شہباز گل پر فوج کے خلاف اکسانے کا الزام عائد گیا گیا ایف آئی آر میں نجی ٹی وی چینل پر کی گئی گفتگو کا بھی ذکر کیا گیا،ایف آئی آر کے متن مین کہا گیا ہے کہ ملزم نےبیان سوچ سمجھ ملکی سالمیت کو نقصان پہچانے کیلئے دیا ملزم ایسا بیان دے کر ملک دشمن ایجنڈے کی تکمیل مجرمانہ سازش کا مرتکب ہوا مقدمہ غلام مرتضیٰ چانڈیو مجسٹریٹ کی مدعیت میں درج کیا گیا.

  • پرویز الہیٰ کے وزیراعلیٰ پنجاب  بننے کے بعد شجاعت حسین کا بیان بھی آگیا

    پرویز الہیٰ کے وزیراعلیٰ پنجاب بننے کے بعد شجاعت حسین کا بیان بھی آگیا

    چوہدری پرویز الہیٰ کے وزیراعلیٰ پنجاب بننے کے بعد سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ق کے صدر چودھری شجاعت حسین کا بیان بھی سامنے آگیا.

    سابق وزیراعظم اورمسلم لیگ ق کے صدر چودھری شجاعت حسینس کا کہنا ہے کہ اس وقت ملکی حالات کو سدھارنے کی سب سے بڑی ذمہ داری سیاستدانوں کی، سیاستدان ایسا طبقہ ہے جو عوام کو صحیح سمت پر لانے کی صلاحیت رکھتا ہے.

    چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ سیاسی منشور کو پینڈنگ رکھ کے غریبوں کی بھلائی کا صرف سوچیں بلکہ اس کو حل کرنے کی تجاویز دیں، سیاسی جماعتیں اپنے اختلافات نہیں بھولنا چاہتیں نہ بھولیں لیکن اس کو پس پشت پر ڈالیں،غریب آدمی کو آئی ایم ایف، ورلڈ بینک کے سبق نہ سکھائیں ان کی بہتری کیلئے کچھ کریں.

    انہوں نے کہا کہ پہلی مرتبہ پاکستان میں اتنا بڑا کرائسس آیا کہ ملکی معیشت بری طریقے سے متاثر ہوئی، پاکستان میں جو کچھ ہو رہا ہے سارے لوگ سمجھ رہے ہیں کہ اس کی سیاسی وجوہات ہیں، سیاسی وجوہات ضرور ہوں گی لیکن غریب آدمی کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ سیاست کھیل رہے ہیں یا نہیں.

    چودھری شجاعت حسین نے مزئد کہا کہ اختیارات رکھنے والے تمام لوگ ایک ایجنڈے یعنی معیشت کو ٹھیک کرنے کیلئے سوچ بچار اور عملی طور پر حل کرنے پر غور کریں، موجودہ حالات میں ورکنگ ریلیشن شپ ہونی چاہئے تاکہ ملک کے معاملات بغیر کسی رکاوٹ کے چل سکیں اور تعصب کا شکار نہ ہوں.

  • عمران خان کا نیب ترامیم پربیان جھوٹ ہے،اعظم نذیر تارڑ

    عمران خان کا نیب ترامیم پربیان جھوٹ ہے،اعظم نذیر تارڑ

    وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے عمران خان کی نیوز کانفرنس کے دوران نیب سے متعلق بیان کو جھوٹ پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک کو معاشی بحران میں دھکیلنے میں سابق وزیراعظم اور ان کے ساتھ گٹھ جوڑ کرنے والی نیب بھی ذمہ دار ہے۔

    تحریک انصاف نے نئی نیب ترامیم کوچیلنج کردیا

    اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ نیب میں جو ترامیم ہیں وہ عمران خان کا اپنا قانون تھا اور 80 فیصد ترامیم ان کی لائی ہوئی ہیں یہ وہ 80 فیصد ترامیم ہیں جو انہوں نے اپنے دور اقتدار میں آرڈیننس کے ذریعے نافذ کی تھیں۔ ہماری حکومت نے ترامیم کو پارلیمنٹ میں لے جاکر قانون کی شکل دی ہے، ترامیم آئین اور قانون کے عین مطابق ہیں.

    انہوں نے کہا کہ عمران خان اس معاملے پر عدالت سے رجوع کرچکے ہیں لہٰذا اس معاملے پر سیاسی بیان بازی سے اجتناب کریں اور فیصلہ عدالت پر چھوڑیں۔انہوں نے کہا کہ یہ ترامیم اسلامی شریعت، آئین اور پاکستانی قوانین کے عین مطابق ہیں، عمران خان نے ملک کو تباہی میں دھکیل دیا تھا، ہم نے سرکاری ملازمین کو تحفظ دیا ہے تاکہ وہ نیب کی بلیک میلنگ کے بغیر ملک کی خدمت کرسکیں۔

    قبل ازیں سابق وزیراعظم، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ نیب میں ترامیم کے نام پر ملک کو تباہی کی طرف دھکیل دیا گیا

    عمران خان کا کہنا تھا کہ ایک بات تو واضح ہوگئی کہ ان کے پاس معیشت ٹھیک کرنے کی کوئی حکمت عملی نہیں تھی، موجودہ حکومت نے ملک کو تباہی کی طرف دھکیل دیا،بجٹ میں انہوں نے عام آدمی کا معاشی قتل کیا ہے،پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ عارضی بجٹ کا سنا، اب50 روپے پیٹرولیم لیوی عائد کر نے جارہے ہیں،پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں یہاں رکیں گی نہیں، قوم پر پہلے ہی بوجھ بڑھا تھا اب بوجھ اور بڑھے گا،سوپر ٹیکس کی وجہ سے کارپوریٹ کا ٹیکس 39 فیصد پر چلا جائے گا، صنعتوں پر ٹیکس لگنے سے ملک میں بے روزگاری بڑھے گی صنعتیں اتنا ٹیکس نہیں دے سکتیں،

    عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ روپیہ مسلسل گراوٹ کا شکار ہے، لوڈشیڈنگ اور مہنگے ڈیزل کا سب سے زیادہ اثر ملکی زراعت پر پڑنے والا ہے، انہوں نےایک لاکھ اور ایک لاکھ سے اوپر والے تنخواہ دار طبقے کی ٹیکس چھوٹ بھی واپس لے لی،ان اقدامات سے لوگ ٹیکس چوری پر مجبور ہوں گےہم نے اپنی حکومت میں ریکارڈ ٹیکس اکٹھا کیا،ہم نے ٹیکس نہ دینے والے 4 کروڑ 30 لاکھ گھرانوں کی نشاندہی کی، اس ڈیٹا کو مرتب کرنے کیلئے آرٹی فیشل انٹیلی جنس کا استعمال کیا گیا، ہم نے ٹیکس دہندگان پر بوجھ ڈالنے کی بجائے ٹیکس نیٹ بڑھانے کا منصوبہ بنایا تھا،ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم سے ٹیکس نہ دینے والی کئی شوگر ملز کی نشاندہی ہوئی،ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کیلئے 20 صنعتوں کا انتخاب ہوا، 3 پر کام شروع ہو چکا تھا،ہمارے دور میں ٹیکسٹائل کے شعبے میں ریکارڈ برآمدات ہوئیں،نیب ترامیم صرف اس ملک کی تباہی ہے، پاکستان کو کسی دشمن کی ضرورت نہیں ہے، یہ جو کرنے جا رہے ہیں وہ تباہی ہے، ان کی ترامیم میں صرف اور صرف ملک کی تباہی ہے، انہوں نے کرپٹ افراد کو چھوٹ دیدی ہے،انہوں نے اپنی چوری بچانے کیلئے ہمارا انصاف کا نظام برباد کیا،انہوں نے پاکستان کا مستقبل اندھیرے میں ڈال دیا ہے،جن ملکوں کے اندر غربت ہے انکی غربت کا وجہ یہ ہے کہ وہ بھی بڑے ڈاکووں کو نہیں پکڑ سکتے۔ وہاں وائٹ کالر کرائمز زیادہ ہے اسلئے وہ ملک غریب ہوگئے۔

    عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے دور میں نیب نے 480ارب روپے ریکور کیے،نیب قانون پاس ہوگیا تو پاکستان بنانا ریپبلک بن جائے گا، نیب ترمیم کے ذریعے 11 سو ارب روپیہ معاف کر دیا گیا ہے،انہوں نے خود کو بچانے کیلئے ملک کا نقصان کیا ہے، میں نے جنرل مشرف کے مارشل لا میں 8دن جیل میں گزارا یہ ڈنڈے کے زور پر لوگوں میں خوف پھیلانا چاہتا ہے،قوم خوف کا بت توڑ دے، یہ بت آپ کو غلام بنا دے گا،عمران خان نے 2 جولائی کو ایک بار پھر بڑے احتجاج کا اعلان کردیا اور کہا کہ اگلے ہفتے بڑا چلسہ پریڈ گراونڈ اسلام اباد میں۔ باقی شہر اس رات اپنے شہروں میں احتجاج کریں۔

  • عمران خان کے بیان کا سپریم کورٹ نوٹس لے،پنجاب اسمبلی میں قرارداد

    عمران خان کے بیان کا سپریم کورٹ نوٹس لے،پنجاب اسمبلی میں قرارداد

    چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کے ترجمان ذوالفقارعلی بدر کی عمران خان کے بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے .ذوالفقار علی بدر کا کہنا ہے کہ خان صاحب آپ نے یہ ثابت کر دیا کہ آپ پاکستان دشمن طاقتوں کے نمائندے ہیں،عمران خان نے اپنی زبان سے زہر اگلا ہے، پاکستان کے خلاف ایسی زبان کاٹ دینی چاہیے،ایسی آنکھ کو بھی نکال دینا چاہئے جو پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھے.

    ذوالفقار علی بدرکا مزید کہنا تھا کہ ہمارے وطن پر اللہ کی خاص کرم نوازی ہے، پاکستان انشاءاللہ تا قیامت قائم ودائم رہے گا،پاکستان پیپلزپارٹی کی لیڈر شپ اور ورکرز نے پاکستان کے لئے ہمیشہ قربانی دی اور آگے بھی دریغ نہیں کریں گے، اس ملک کو ایٹمی طاقت شہید ذوالفقار علی بھٹو نے بنایا تھا اور ہم اس کے محافظ ہیں، ایٹمی پروگرام رول بیک کرنے کی باتیں ملک دشمن سوچ کی عکاسی ہیں،ہم نے ہمیشہ ڈکٹیٹرز کے خلاف جنگ کی کبھی اداروں کو متنازع نہیں کیا،ہمارے وطن پر اللہ کی خاص کرم نوازی ہے، پاکستان انشاءاللہ تا قیامت قائم ودائم رہے گا.

    علاوہ ازیں عمران خان کے افواج پاکستان کے متعلق غیر سنجیدہ بیان کے خلاف پنجاب اسمبلی میں مذمتی قراردادجمع کرائی گئی ہے ،قرارداد مسلم لیگ(ن) کی رکن سعدیہ تیمور اور سمیرا کومل کی جانب سے جمع کرائی گئی

    قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ یہ ایوان عمران خان کے افواج پاکستان کے متعلق غیرسنجیدہ بیان کی شدید مذمت کرتا ہے،عمران خان سوچی سمجھی سازش کے تحت ملک میں انارکی پھیلانا چاہتے ہیں ، پوری قوم افواج پاکستان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے ، افواج پاکستان کی ملک میں قیام امن کےلئے قربانیاں رائیگاں نہیں جانے دینگے.

    قرارداد کے متن میں مزید کہا گیا کہ عمران خان قوم میں فوج کے خلاف نفرت پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں ، لیکن پاکستان کے بائیس کروڑ عوام عمران خان کے ناپاک عزائم کبھی کامیاب نہیں ہونے دینگے،قرارداد مین سپریم کورت سے مطالبہ کیا گیا کہ عمران خان کے فوج مخالف بیان کا نوٹس لیا جائے.

  • استعفیٰ دینے کے بعد بزدار خاموش نہ رہ سکے،بڑا اعلان کر دیا

    استعفیٰ دینے کے بعد بزدار خاموش نہ رہ سکے،بڑا اعلان کر دیا

    استعفیٰ دینے کے بعد بزدار خاموش نہ رہ سکے،بڑا اعلان کر دیا
    وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا وزیراعظم عمران خان کو استعفیٰ جمع کرانے کے بعد پہلا بیان سامنے آیا ہے

    عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ میں نے وزیراعظم عمران خان صاحب کو اپنا استعفیٰ پیش کر دیا ہے اور منظوری کے بعد وزارت اعلیٰ چھوڑ دوں گا وزارتیں اور عہدے آنے جانے والی چیز ہیں، پارٹی اور عوام سے کمٹمنٹ ہی سب سے اہم ہے نئے پاکستان کے عزم کی تکمیل میں ہمیشہ وزیراعظم عمران خان کے شانہ بشانہ کھڑا رہوں گا مجھے کبھی کسی عہدے کی تمنا نہیں رہی اور اپنی ذات سے بڑھ کر ملک اور قوم کا مفاد عزیز ہےالحمد للہ ساڑھے تین سال میں عوامی فلاح و بہبود کے ہزاروں منصوبے شروع کیے، اسلامی فلاحی ریاست کے منشور پر عملدرآمد کیا، ہر شہری کو ہیلتھ انشورنس دی اور ہر ضلعے کو وسائل میں اس کا حق دلوایا 23 نئے ہسپتالوں، 21 نئی یونیورسٹیز، 2 نہروں، 4 ڈیمز، 150 سے زائد نئے کالجز، 10 سپیشل اکنامک زونز، ہزاروں کلومیٹر سڑکوں کی تعمیر، 27 ہزار سکولوں کی اپ گریڈیشن، ہیلتھ کارڈ، E-Governance منصوبے، 36 خدمت مراکز، 79 تحصیل ریسکیو 1122 سنٹرز سمیت ہزاروں تاریخی منصوبوں پر کام شروع کیا

    علاوہ ازیں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ خواہشات اور خواب تو بہت تھے، سب پورے نہیں ہو سکتے، اگر امریکی صدر بھی بنا دیا جائے تو انسان خوش نہیں ہوتا ایوان وزیراعلیٰ سے جاؤں گا تو بتاؤں گا کہ ایوان وزیراعلیٰ کیسے آیا میرے سینے میں بہت رازہیں جو راز ہی رہنے چاہئیں، بہت کہانیاں ہیں،کتاب لکھوں تو ریکارڈ فروخت ہو، سوچ رہا ہوں کوہ سلیمان سے7 کلب کا سفر کے عنوان سے کتاب لکھوں میرے خلاف کرپشن کا ایک بھی کیس یا اسکینڈل نہیں بنا اپنے دور میں سرکاری خرچ پر بیرون ملک وفد لے کر نہیں گیا وزیراعظم عمران خان حکم دیں تو سیاست چھوڑنےکو بھی تیار ہوں پارٹی نے چوہدری پرویز الٰہی کو وزارت اعلیٰ کے لیے نامزد کیا ہے ان کی کامیابی یقینی بناؤں گا کوئی بزدار گروپ نہیں صرف عمران خان کا سپاہی ہو سیاسی کمیٹی کے اجلاس میں خود مستعفی ہونے کی پیشکش کی تھی کچھ متبادل آپشنز پربات ہوئی میں نے کہا پارٹی اور ملکی مفاد سامنے رکھنا ہوگا

    دوسری جانب پنجاب کے نئے وزیر اعلی کے لئے ق لیگ کے سربراہ پرویز الہی کا نام فائنل ہونے کے بعد صوبے میں تقررو تبادلوں کا طوفان چلے گا اس حوالے سے ہنجاب میں تبادلوں کے لئے فہرستوں کی تیاری کا کام جاری ہے۔ آئی جی پنجاب راو سردار علی خان کو تبدیل کر کے سی سی پی او لاہور ایڈیشنل آئی جی فیاض دیو یا ایڈیشنل آئی جی عامر ذوالفقارخان کو آئی جی تعینات کیا جا سکتا ہے تاہم آئی جی پنجاب کے لئے ایڈیشنل آئی جی فیاض دیو کا نام سہرفرست ہے ایک اطلاع کے مطابق ایڈیشنل آئی جی عامر ذوالفقار کو بھی خوشخبری دیدی گئی ہے اگر انہیں آئی جی پنجاب تعینات نہیں کیا جاتا تو وہ سی سی پی او لاہور تعینات کئے جائینگے ۔نئے آئی جی پنجاب کی تعیناتی کے بعد وہ صوبے میں پولیس افسران کے تبادلے کئے جائینگے اسی طرح نئے چیف سیکرٹری پنجاب کی تعیناتی پر بھی رابطے ہو رہے ہیں

    واضح رہے کہ وزیراعظم کے خلاف اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد جمع ہو چکی ہے ، قومی اسمبلی میں گنتی کے عمل کے دوران حکومت اور اپوزیشن نے نعرے بازی کی ،منحرف اراکین اجلاس میں نہیں آئے ،سپیکر کی جانب سے گنتی کروائی گئی تحریک عدم اعتماد کے حق میں 161ممبران نے ووٹ دیا۔ اسپیکر کم ازکم 3 اور زیادہ سے زیادہ 7 دن میں ووٹنگ کروانے کے پابند ہیں ،قومی اسمبلی کااجلاس 31مارچ تک اجلاس ملتوی کر دیا گیا تحریک عدم اعتماد پربحث 31مارچ سے شروع ہوگی قومی اسمبلی کا اجلاس 31 مارچ 2022 بروز جمعرات شام 4 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔

    عمران خان ملک کے تیسرے وزیراعظم ہیں جن کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی گئی ہے، اس سے قبل سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو اور شوکت عزیز کے خلاف عدم اعتماد پیش کی گئی تھیں

    مہنگائی مکاؤ مارچ مہنگائی کے کپتان سے نجات کا مارچ ہے،مریم اورنگزیب

    اتحادیوں کو منانے کا مشن،حکومت متحرک، اہم ملاقاتیں طے

    عمران خان کو کہہ دیا وقت سے پہلے الیکشن کرواؤ،شیخ رشید

    10 لاکھ لوگوں کو اسلام آباد لانے کا خرچہ کون اٹھا رہا ہے ؟سینیٹر پلوشہ خان

    ہنڈیا آدھی تو تقسیم ہوچکی،ابھی بہت سے ادا کار تبدیل ہونے ہیں،چودھری پرویز الہی

    ہم سلیکٹڈ کے سامنے نہیں جھکیں گے ،بلاول

    مہنگائی مکاؤ مارچ،مریم نواز نے نکلنے سے پہلے کیا کیا؟ تصاویر سامنے آ گئیں

    تحریک انصاف کے جلسے کی تیاریاں مکمل،جلد اچھی خبر آئے گی،وفاقی وزیر کا دعویٰ

    زرداری بڑی بیماری،چیری بلاسم سے جوتا زیادہ چمکتا ہے، ڈیزل سستا ہوگیا ،وزیراعظم کا جلسے سے خطاب

    سرپرائیز آنا شروع، بزدار کیخلاف بھی تحریک عدم اعتماد جمع

    عدم اعتماد، وفاق، پنجاب کے بعد اگلی باری خیبر پختونخوا کی

    پرویز الہیٰ کو ایک بار پھر وزارت اعلیٰ کی پیشکش ہو گئی

    پرویز الہیٰ کے بنی گالہ پہنچتے ہی چودھری شجاعت کا بڑا اعلان

    بریکنگ،بزدار فارغ، پرویز الہیٰ وزیراعلیٰ پنجاب، حکومت نے اعلان کر دیا

    جب "باپ” ساتھ چھوڑ جائے گا تو پھر بچوں کی کیا جرات کہ وہ ساتھ رہیں

    خاندان میں اختلافات، چودھری شجاعت نے بڑا سرپرائز دے دیا

    عاصم نذیر بھی ن لیگ میں شامل ہو گئے؟ سرپرائز ہی سرپرائز

    حتمی فیصلہ 3 اپریل کو ہوگا،بجٹ کے بعد الیکشن ہونے چاہیں،شیخ رشید

  • عنصر جاویدخان نے خواجہ سراﺅں کے بارے اہم حقائق بیان کر دیے

    عنصر جاویدخان نے خواجہ سراﺅں کے بارے اہم حقائق بیان کر دیے

     خواجہ سراﺅں کی اکثریت شادی شدہ ہے ،عنصر جاویدخان
    خواجہ سرا پیدائشی طورپر نارمل لڑکا یا لڑکی ہوتے ہیں دماغی بیماری کی وجہ سے وہ جنس مخالف رویہ اپناتے ہیں
    لاہور( پ ر )پیدائشی طور جنس واضح نہ ہونے والے بچوں اور خواجہ سرا کے حوالے سے کام کرنے والی برتھ ڈیفیکٹس فاﺅنڈیشن کے چیئرمین اور ملک کے معروف سائیکالوجسٹ عنصر جاوید خان نے انکشاف کیا ہے کہ سٹرکوں پر بھیگ مانگنے اور مختلف پارٹیوں میں ڈانس کرنے والے خواجہ سراﺅں کی اکثریت شادی شدہ ہے۔گزشتہ روز ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنس مخالف روئیے کے باوجود خواجہ سرا نہ صرف شادی کر تے اور فیملی بناتے ہیں کیونکہ خواجہ سرا پیدائش کے وقت سو فیصد نارمل لڑکا یا لڑکی ہوتے ہیں لیکن پھر چار سال کے بعد ان کے دماغ میں پیدا ہونے والا مادہ انہیں جنس مخالف کا رویہ اپنانے پر مجبور کر دیتا ہے اور پھر ایک نارمل لڑکا خود کو لڑکی سمجھنے لگتا ہے جبکہ نارمل لڑکی خود کو لڑکا سمجھ کر زندگی گزارنا شروع کر دیتے ہیں ،یہ ایک نفسیاتی بیماری ہے ایسے لوگوں کو سرجری کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ ان کا علاج ایک اچھا ماہر نفسیات چھے مہینے کے اندر کر سکتا ہے، بارہ سال کی عمر سے قبل اس بیماری کا علاج آسانی کیساتھ ہو جاتا ہے لیکن اس کے بعد مریض کے تعاون کے بغیر علاج ممکن نہیں ہوتا۔ برتھ ڈیفیکٹس فاﺅنڈیشن کے چیئرمین اور معروف سائیکالوجسٹ عنصر جاوید خان نے کہا کہ ٹرانسجینڈر کے مسئلے کو والدین اور سوسائٹی کو سمجھنے کی ضرورت ہے کیونکہ ایک نفسیاتی بیماری میں مبتلا ہونے والے انسان کا مذاق اُڑانا ، تضحیک کرنا آزادی رائے کے منافی ہے جبکہ دین اسلام میں بھی کسی کی دل آزاری سے منع کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ والدین چھوٹے بچوں پر نظر رکھیں اگر ان کا بچہ جنس مخالف والی چیزوں میں دلچسپی لے رہا ہے ،ایک چاریا پانچ سال کا لڑکا میک اپ کرنا، گھڑیوں سے کھیلنا اور لڑکیوں کے گروپ میں رہنا پسند کررہا ہو ،اسی طرح اگر ایک لڑکی لڑکو ں کے کھیل ،بولنا اور کپڑے پسند کرے تو سمجھ لیں کہ دماغی بیماری میں مبتلا ہے لہٰذا والدین کو چاہیے کہ فوری طور پر کسی اچھے سائیکالوجسٹ سے رجوع کریں۔سائیکالوجسٹ عنصر جاوید خان نے کہا کہ بارہ سال سے کم عمر بچوں میں یہ بیماری ایک اچھا ماہر نفسیات جلد ختم کر سکتا ہے ،عمر بڑھنے کے ساتھ ٹرانسجینڈر (خواجہ سرا)کے اپنی جنس مخالف رویئے پر یقین پختہ ہو جاتا ہے یہی وہ وقت ہوتا ہے کہ جب والدین معاشرے میں شرمندگی کے باعث ایسے بچوں سے لا تعلقی اختیار کرلیتے ہیںحالانکہ یہ مسئلے کا حل نہیں ہے ،اگر والدین ایسے بچوں کے ساتھ پیار ،محبت کا رویہ اپناتے ہوئے ان کا علاج کراوئیں یا پھر انہیں ہمارے پاس لے آئیں کیونکہ برتھ ڈیفیکٹس فاﺅنڈیشن پیدائشی طور جنس واضح نہ ہونے والے بچے اور خواجہ سرا دونوں کا علاج مفت کرتی ہے۔

  • اپوزیشن جماعتوں میں اتفاق نہیں، حکومت قائم رہے گی،چوہدری محمدسرور کا بیان

    اپوزیشن جماعتوں میں اتفاق نہیں، حکومت قائم رہے گی،چوہدری محمدسرور کا بیان

    گورنر ہاؤس میں پنجاب چوہدری محمدسرور کا بیان سامنے آگیا ہے-

    چوہدری محمدسرور نے کہا کہ 26مارچ کے بعد 27مارچ ہوگا اور کچھ نہیں ہوگا۔ دسمبرجنوری میں کچھ نہ کر سکنے والی اپوزیشن مارچ میں بھی ناکام ہی ہو گی ۔ 2023 تک مارچ آتے اور جاتے رہیں گے حکومت قائم رہے گی ۔ اپوزیشن جماعتوں کو ایک دوسرے پر اعتبار ہے اور نہ ہی ان میں اتفاق ہے۔ سینیٹ انتخابات کیلئے اوپن بیلٹ سے ووٹ چوری کاخاتمہ ہوجائے گا ۔ اتحادی جماعتیں اور عوام بھی حکومت کے بیانیہ کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ لانگ مارچ سے حکومت کا خاتمہ اپوزیشن کی غلط فہمی کے سوا کچھ نہیں ۔ عوام نے تحریک انصاف کو پانچ سال حکومت کا مینڈ یٹ دیا ہے ۔

    ٭ سیاسی مخالفین کو مشورہ ہے صبر کے ساتھ2023 کے انتخابات کا انتظار کر یں ۔ سینیٹ انتخابات میں تحر یک انصاف اور اتحاد ی ہی کامیاب ہوں گے ۔ وزیر اعظم عمران خان قومی امنگوں کی ترجمانی کر رہے ہیں ۔ معاشی سمیت تمام شعبوں میں ملک کامیابی سے آگے بڑھ رہا ہے ۔ ملک کو عدم استحکام کا شکار کر نے کی کوشش کرنے والے عوام کے خیر خواہ نہیں ۔