Baaghi TV

Tag: بیان حلفی

  • ہم جھوٹ کے ساتھ کبھی کھڑے نہیں ہونگے، انصار عباسی کا توہین عدالت کیس میں عدالت میں بیان

    ہم جھوٹ کے ساتھ کبھی کھڑے نہیں ہونگے، انصار عباسی کا توہین عدالت کیس میں عدالت میں بیان

    ہم جھوٹ کے ساتھ کبھی کھڑے نہیں ہونگے، انصار عباسی کا توہین عدالت کیس میں عدالت میں بیان
    اسلام آباد ہائیکورٹ میں رانا شمیم کے بیان حلفی کی خبر پر توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی

    سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش نہ ہوئے ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ رانا شمیم عدالت میں پیش ہوئے ہیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ رانا شمیم کو گزشتہ سماعت پر عدالت نے اصل بیان حلفی پیش کرنے کا حکم دیا تھا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کل کوئی کسی جج کو خراب کرنے کیلئے بیان حلفی دے تو اخبار اسے چھاپ دے، سیکرٹری جنرل پی ایف یو جے نے عدالت میں کہا کہ صحافی کا کام حقیقت پر مبنی رپورٹ کو شائع کرنا ہے، عدالت نے کہا کہ خبر کی سرخی سے یہ تاثر دیا گیا کہ ججز ہدایات لیتے ہیں، یہ بھی لکھ دیا جاتا کہ وہ جج ان دنوں چھٹی پر تھا،زیرالتوا اپیلوں پر اس طرح خبر نہیں چھاپی جا سکتی،عجیب بات ہے، رانا شمیم کہتے ہیں کہ انہوں نے تو بیان حلفی کسی کو نہیں دیا،سیکرٹری جنرل پی ایف یو جے نے عدالت میں کہا کہ ہماری تاریخ بڑی تلخ ہے،

    جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تاریخ میں نہ جائیں، میں صرف اس ہائیکورٹ کا ذمہ دار ہوں،میں نے پہلے کہا کہ یہاں کوئی سیاسی تقریر نہیں سنوں گا، کوئی شک نہیں کہ تاریخ تلخ ہے، یا تو اس عدالت کا کوئی فیصلہ بتا دیں جس میں ایسا کچھ ہوا، آپ نے بھی تو کوڑے کھائے ہیں وہ بھی تو تلخ حقیقت ہے،عوام کا اس عدالت پر اعتماد اس ایک خبر سے خراب ہوا ہے، برطانیہ میں اخبار کے ایڈیٹر انچیف کو 3،3 ماہ کی سزا ہوئی ہے، عدالت عالمی عدالت کے فیصلے پر عمل کا کیس سن رہی ہے اور عوام کا اعتماد ختم کیا جا رہا ہے،رانا شمیم کہتے ہیں کہ نوٹری پبلک نے دستاویز لیک کیا،رانا شمیم کا جواب برطانیہ میں ریگولیٹر کو بھیج دیں تو نوٹری پبلک کیلئے مسئلہ بن جائے مجھے کوئی کچھ بھی کہہ دے میں توہین عدالت کی کارروائی نہیں کرونگا، جب کوئی لوگوں کے اعتماد کو خراب کرنے کی کوشش کریگا تو عدالت برداشت نہیں کریگی،کوئی تین سال بعد زندہ ہو کر آ جائے تو اسکے پاس کوئی گراؤنڈ تو ہونی چاہیے اس شخص کے بیان حلفی کی خبر آپ نے اخبار میں ایسے ہی چھاپ دی،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر میں یہاں ہوں تو اپنے لیے نہیں بلکہ ہزاروں سائلین کیلئے بیٹھا ہوں،کوئی جج بھی میرے لیے اسٹیک ہولڈر نہیں صرف سائلین ہیں، یہ محض توہین عدالت کا کیس نہیں بلکہ یہ میرا احتساب ہے، افسوس ناک ہے کہ آج کے دور میں جھوٹ سچ اور سچ جھوٹ بن رہا ہے، آپ اس طرح اس ہائیکورٹ پر بداعتمادی نہیں پھیلا سکتے،یہ نہیں کہا جا سکتا کہ پہلے یہ ہوتا رہا ہے تو اب بھی یہ ہو گا،اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ رانا شمیم نے کہا عدلیہ کی تضحیک کرنا ہوتی توبیان حلفی پاکستان میں لکھ کر میڈیا کو جاری کرتا،رانا شمیم نے تسلیم کیا کہ انکا بیان حلفی لیک کرنے کا مقصد عدلیہ کی تضحیک ہے،عدالت توہین عدالت کیس میں فرد جرم عائد کرنے کی تاریخ مقرر کرے،رانا شمیم نے اصل بیان حلفی خود لیک کر کے دیگر ذرائع سے لیک ہونے کے خدشات بیان کیے،

    اںصار عباسی نے کہا کہ میں نے رانا شمیم سے موقف لیا تو انہوں نے بیان حلفی پریولیج ہونے کا نہیں کہا، رانا شمیم نے مجھے بیان حلفی کی خبر شائع کرنے سے نہیں روکا، جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کی ایک ہیڈلائن سے لوگوں کا اعتماد کتنا خراب ہوا، ہمارا ایک موٹو ہے کہ ا سٹیک ہولڈر صرف سائلین ہیں اگر سائلین کا اعتماد ختم ہو جائے تو کچھ باقی نہیں رہتا، اب جھوٹ سچ بن گیا ہے اور سچ جھوٹ لگنے لگ گیا ہے،انصار عباسی نے کہا کہ انشا اللہ، ہم اس جھوٹ کے ساتھ کبھی کھڑے نہیں ہونگے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ عدالت قانون کے مطابق کارروائی کرے، آپ اور نہ ہم اہم ہیں، اہم سائلین ہیں، عدالت نے انصار عباسی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو دیکھتے 15 جولائی 2018 کو اپیل دائر ہی نہیں تھی، انصار عباسی چھوڑ دیں، بیانیے کیس بن رہے وہ بھی پتہ ہے،آپ نے جواب دے دیا ہم بین الاقوامی پریکٹس کے تحت چلیں گے،

    سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش ہوئے ،رانا شمیم کے بیان حلفی کی خبر پر توہین عدالت کیس کی سماعت20 دسمبرتک ملتوی کر دی گئی،اٹارنی جنرل نے کہا کہ توہین عدالت کے نوٹسز ملنے والے اپنے بیان حلفی جمع کرا دیں،اس دوران رانا شمیم کا اوریجنل بیان حلفی بھی آ جائے گا،اس کے بعد فرد جرم عائد کرنے کی کارروائی کی جائے، عدالتی معاون ریما عمر اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش ہوئیں ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ عدالت چاہتی ہے کہ ریما عمر اس کیس میں معاونت کریں عوام کا اعتماد اس کورٹ سے اٹھانے کی کوشش کی گئی،سائلین اس کورٹ کے ا سٹیک ہولڈر ہیں،کیمبرج میں میرا مضمون سول لبرٹی تھا،کوئی تنقید کرے تو اس کو ویلکم کرتے ہیں،اس کیس کے حقائق الگ اور یہاں سوال مختلف ہے،

    جس تقریر میں ثاقب نثار نے یہ اعتراف کیا ہو کہ نواز شریف کو سزا دینی ہے وہ تقریر سامنے لائیں ،مریم نواز

    آڈیو لیک،عدلیہ پر الزامات، اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک اور درخواست دائر

    روز کچھ نہ کچھ چل رہا ہوتا ہے آپ کس کس بات کی انکوائری کرائیں گے؟ آڈیو لیکس پر عدالت کے ریمارکس

    عدالت کی جانب سے سابق جج رانا شمیم کو حلف نامہ جمع کرانے کے حکم میں اہم پیشرفت

    بڑا دھماکہ، چوری پکڑی گئی، ثاقب نثار کی آڈیو جعلی ثابت،ثبوت حاضر

    بڑے بڑے لوگوں کی فلمیں آئیں گی، کوئی سوئمنگ پول ، کوئی واش روم میں گرا ہوا ہے، کیپٹن رصفدر

    بڑا دھماکہ، چوری پکڑی گئی، ثاقب نثار کی آڈیو جعلی ثابت،ثبوت حاضر

    دوسری جانب ایڈوکیٹ جنرل نے خط میں کہا ہے کہ رانا شمیم کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں توہین عدالت کی کارروائی زیرسماعت ہے،اسلام آباد ہائی کورٹ رانا شمیم کو شوکاز نوٹس جاری کر چکی ہےرانا شمیم کا نام جلد از جلد ای سی ایل پر ڈالا جائے، اگر رانا شمیم بیرون ملک روانہ ہو جاتے ہیں تو عدلیہ کی آزادی پر سنجیدہ سوال اٹھیں گےکیس کی آئندہ سماعت 13 دسمبر کو ہو گی، کارروائی جلد مکمل کی جائے،

    مریم نواز کی گرفتاری کی تیاریاں شروع

    دوسروں کی عزت کی دھجکیاں اُڑاؤ ، پگڑیاں اچھالو تو احتساب ہو رہا ہے،مریم اورنگزیب

    نواز شریف حاضر ہو، اسلام آباد ہائیکورٹ نے طلبی کی تاریخ دے دی

    نواز شریف کی نئی میڈیکل رپورٹ عدالت میں جمع، نواز ذہنی دباؤ کا شکار،جہاز کا سفر خطرناک قرار

    جس ڈاکٹر کا سرٹیفیکٹ لگایا وہ امریکہ میں اور نواز شریف لندن میں،عدالت کے ریمارکس

    یاد رہے کہ چند دن پہلے ہائیکورٹ نے توہین عدالت کیس میں سابق جج رانا شمیم، میر شکیل الرحمان، انصار عباسی اور عامر غوری کو الگ الگ شوکاز نوٹس جاری کیے تھے ۔سماعت کے دوران جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا سابق جج رانا شمیم، میر شکیل الرحمان، انصار عباسی، عامر غوری کے خلاف توہین عدالت کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے شوکاز نوٹسز جاری کرتے ہوئے فریقین کو 30 نومبر کو عدالت کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا تھا،شوکاز نوٹس میں کہا گیا تھا کہ عدالت آرڈیننس 2003 سیکشن 5 کے تحت مجرمانہ توہین کے ارتکاب پر سزا دے سکتی ہے۔

    @MumtaazAwan

  • میں نے مرحومہ بیوی سے وعدہ کیا تھا کہ…سابق چیف جج رانا شمیم نے بیان جمع کروا دیا

    میں نے مرحومہ بیوی سے وعدہ کیا تھا کہ…سابق چیف جج رانا شمیم نے بیان جمع کروا دیا

    اسلام آباد: مبینہ بیان حلفی کے معاملے پر توہین عدالت کیس میں سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم عدالت میں پیش ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں سابق چیف جج گلگت بلتستان راناشمیم کے مبینہ بیان حلفی کی خبرپرتوہین عدالت کے کیس کی سماعت ہوئی جس سلسلے میں رانا شمیم ذاتی حیثیت میں عدالت کے سامنے پیش ہوئے اور شوکاز کا جواب داخل کرایا دی نیوزکے ایڈیٹر عامر غوری اور ایڈیٹر انویسٹی گیشن انصارعباسی بھی عدالت میں پیش ہوئے جب کہ جنگ گروپ کے ایڈیٹر انچیف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کرلی گئی۔

    سماعت کے آغاز پر اٹارنی جنرل پاکستان نے کہا کہ جواب ابھی تک عدالت میں تو داخل نہیں ہوا۔

    رانا شمیم کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی درخواست پر عدالت نے سنایا فیصلہ

    چیف جسٹس نے عدالتی معاون فیصل صدیقی سے سوال کیا کہ خبرشائع کرنے پرمختلف ذمہ داروں کی کیا ذمہ داری ہے؟ ہم نے صحافت سے متعلق بین الاقوامی معیارات کوبھی دیکھنا ہے۔

    عدالت نے رانا شمیم سے استفسار کیا کہ آپ نے اپنا جواب جمع کرایا ہے؟ اس پر سابق جج نے جواب دیا کہ میرے وکیل راستے میں ہیں وہ ابھی پہنچنے والے ہیں میں نے چار دن پہلے جواب دے دیا تھا، وہ جواب عدالت میں لطیف آفریدی صاحب کوجمع کرانا ہے۔

    جسٹس اطہر من اللہ نےعدالتی معان فیصل صدیقی سے سوال کیا کہ اخبار کی رپورٹنگ کیلئے کیا ذمہ داریاں ہیں؟رانا شمیم نے گزشتہ سماعت پر کہا کہ انہوں نے بیان حلفی اخبار کو نہیں دیا۔کیا کسی ذمہ داری کے بغیر خبر شائع کی جا سکتی ہے؟

    جس تقریر میں ثاقب نثار نے یہ اعتراف کیا ہو کہ نواز شریف کو سزا دینی ہے وہ تقریر سامنے لائیں ،مریم نواز

    عدالتی معاون فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ کسی دستاویز کو شائع کرنے سے پہلے تمام متعلقہ فریقین سے موقف لینا ضروری ہے۔کیس میں رجسٹرار سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائیکورٹ سے موقف نہیں لیا گیا۔ رانا شمیم نے کہا کہ یہ خفیہ دستاویز تھا اور اسے شائع کرنے کیلئے نہیں رکھا گیا تھا۔اگر رانا شمیم کا دستاویز پرائیویٹ ہے تو پھر ان پر توہین عدالت نہیں بنتی۔

    چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ توہین عدالت کی کارروائی کسی جج کی عزت بچانے کیلئے نہیں ہے ججز پریس کانفرنس نہیں کر سکتے-

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ رانا شمیم نے کہا کہ ایک سابق چیف جسٹس نے انکے سامنے اتنا سنگین جرم کیا۔جسٹس عامر فاروق اس وقت چھٹیوں پر تھے، جب متعلقہ اپیلوں پر سماعت تھی۔ کیا چھٹیوں پر موجود جج نے باقی دو ججز کا بھی سمجھوتہ کرایا؟ بینچ جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب شامل تھے۔

    آڈیو لیک،عدلیہ پر الزامات، اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک اور درخواست دائر

    روز کچھ نہ کچھ چل رہا ہوتا ہے آپ کس کس بات کی انکوائری کرائیں گے؟ آڈیو لیکس پر عدالت کے ریمارکس

    ا نہوں نے کہا نواز شریف کی رہائی پر بھی اسی طرح کی خبریں شائع کی گئیں۔ یہ تاثر دیا گیا کہ رہائی الیکشن سے پہلے نہیں ہوئی بعد میں ہوئی ہے۔ یہ تاثر دیا گیا کہ اس ہائیکورٹ کے تمام ججز نے سمجھوتہ کیا۔ یہ کیوں ہوا کہ رانا شمیم نے 3 سال بعد بیان حلفی لکھا؟یہ تاثر دیا گیا کہ ہائیکورٹ کے تمام ججز نے سمجھوتہ کر رکھا ہے۔ اگر ضمیر جاگ گیا تھا تو بیان حلفی کہیں جمع کراتے۔

    چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ میں دعوے اور اعتماد سےکہہ سکتاہوں اس عدالت کے ججزکوکوئی اپروچ نہیں کرسکتا، میں نے اپنی پوری زندگی کسی کو خود تک رسائی نہیں دی میرے دروازے ہر کسی کے لیے بند رہے میں چیف جسٹس ہوں، میرے سامنے کوئی چیف جسٹس ایسا جرم کرتا تو مجھے کیا کرنا چاہیے تھا؟یہ ایک مسئلہ ہے جب کوئی کرسی پر بیٹھا ہوتا ہے تو ضمیر نہیں ہوتا،یہ مسئلہ ہے کہ کافی عرصے بعد ضمیر جاگ جاتا ہے-

    عدالت کی جانب سے سابق جج رانا شمیم کو حلف نامہ جمع کرانے کے حکم میں اہم پیشرفت

    چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ میرے کسی جج نے کسی کے لیے دروازہ نہیں کھولا، اگر انہوں نےکہیں پر اوریجنل ڈاکومنٹ جمع نہیں کرایا تو وہ عدالت میں پیش کریں، اس کی اجازت نہیں دی جاسکتی کہ اس عدالت پرعوام کا اعتماد ختم کیا جائے، کوئی آزاد جج یہ عذر پیش نہیں کرسکتا کہ اس پر کوئی دباؤ تھا۔

    عدالت نے کہا کہ جسٹس وقار سیٹھ پر کوئی دباؤ اس لئے نہیں ڈال سکتا تھا کیونکہ وہ دروازہ نہیں کھولتے تھےاس عدالت کو سابق چیف جسٹس ثاقب نثار سے کوئی غرض نہیں یہ مسئلہ اس عدالت کے اپیلیں سننے والے بینچ میں شامل ججز پر الزام لگانے کا ہے-جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ الزام چیف جسٹس پاکستان کےخلاف نہیں بلکہ اس ہائی کورٹ کےجج کےخلاف ہے، آپ کیاچاہتے ہیں مجھ سمیت تمام ہائی کورٹ ججزکےخلاف انکوائری شروع ہوجائے؟

    بڑا دھماکہ، چوری پکڑی گئی، ثاقب نثار کی آڈیو جعلی ثابت،ثبوت حاضر

    بڑے بڑے لوگوں کی فلمیں آئیں گی، کوئی سوئمنگ پول ، کوئی واش روم میں گرا ہوا ہے، کیپٹن رصفدر

    رانا شمیم کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ میرے کلائنٹ نے بیان حلفی کے متن سے کوئی انکار نہیں کیا، اس پر اٹارنی جنرل پاکستان نے سوال کیا کہ یہ بتائیں اصل ڈاکومنٹ خود لارہے ہیں یا پاکستانی سفارت خانے کو دیں گے؟ایڈووکیٹ لطیف آفریدی نے کہا کہ اصل بیان حلفی رانا شمیم کے پوتے کے پاس ہے رانا شمیم کو بیان حلفی لینے باہر جانے دیں جس پرعدالت نے رانا شمیم کو بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کی استدعا مسترد کر دی چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ رانا شمیم باہر نہیں جا سکتے-لطیف آفریدی نے عدالت سے کہا کہ راناشمیم کے بیٹے کو ہراساں کیا جا رہا ہے جس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے لطیف آفریدی سے سوال کیا کہ برطانیہ میں کون کیسے ہراساں کر سکتا ہے؟

    بڑا دھماکہ، چوری پکڑی گئی، ثاقب نثار کی آڈیو جعلی ثابت،ثبوت حاضر

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ اب انہیں بتانا ہو گا کہ پاکستان سے باہر انہیں کون ہراساں کر رہا ہے؟ انہیں بیان حلفی پاکستانی سفارتخانے کو دینا تھا وہ پاکستان آ جاتا -چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ پہلے رانا شمیم کو بیان حلفی پیش کر کے اپنی اچھی نیت ثابت کرنی ہو گی پیرتک اصل بیان حلفی پیش نہ کیا گیا توفردجرم عائدکی جائےگی بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت 13 دسمبر تک ملتوی کردی۔

    گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا شمیم نے بیان حلفی پر توہین عدالت کے کیس میں اپنا تحریری جواب جمع کرا دیا ہے جواب میں کہا گیا کہ ثاقب نثار سے گفتگو گلگت بلتستان میں ہوئی جہاں پاکستان کے قوانین لاگو نہیں ہوتے لہذا توہین عدالت کی کارروائی واپس لی جائے ۔بیان حلفی کیس میں رانا شمیم نے تحریری جواب میں کہا کہ میں نے اپنا بیان حلفی پولیس کو بھیجا نہ کسی اور کو بیان حلفی میں بیان کئے گئے حقائق بتانے کو تیار ہوں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے حلف نامے کی کاپی جمع کر ارہا ہوں سوشل میڈیا والے حلف نامے کے مندرجات وہی ہیں جو میرے جواب میں ہیں میں قانون کی پاسداری کرنے والا شخص ہوں کبھی عدلیہ کو بدنام کرنے یا مذاق آرانے کا ارادہ نہ تھا نہ ہی کسی عدالتی کارروائی کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی حلف نامے میں بیان واقعہ 15 جولائی 2018 کی شام 6 بجے کے پاس کا ہے ،اس وقت میں اور سابق چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار ایک ساتھ چائے پی رہے اور ناشتہ کر رہے تھے میں نے مرحومہ بیوی سے وعدہ کیا تھا کہ اس وقت پیش آنے والی حقیقت کو تحریری طور پر ریکارڈ کراؤں گا حلف نامے کی شکل میں مرحومہ بیوی سے کیا ہوا وعدہ پورا کیا عدلیہ کی تضحیک کا ارادہ ہوتا تو پاکستان میں حلف نامہ میڈیا کو دیتا ، 4 جون 2021 کو اہلیہ کے انتقال کے بعد میرا پہلا غیر ملکی دورہ تھا ۔ امریکہ سے واپس آتے ہوئے دو روز لندن میں رہا جہاں اپنے پوتے سے ملاقات کی جو قانون کا طالبعلم ہے ، میں بیان حلفی کو اپنی زندگی میں عام کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا اس لئے مناسب سمجھا کہ اپنا بیان ریکارڈ کراؤں اور حلف نامہ پاکستان سے باہر نوٹرائز کراؤں میں نے بیان حلفی پوتے کو دیا اور ہدایت کی کہ اسے نہ کھولے مجھے نہیں معلوم کہ حلف نامہ رپورٹ تک کیسے پہنچا واقعہ گلگت بلتستان کا ہے جہاں پاکستانی قوانین کا اطلاق نہیں ہوتا لہذا توہین عدالت کی کارروائی کا نشانہ نہیں بنایا جا سکتا ۔ عدالت کو پریشانی ہوئی تو افسوس کا اظہار کرنے میں ہچکچاہٹ نہیں ہوگی عاجزی سے عدالت سے درخواست ہے کہ شوکاز نوٹس واپس لے لیا جائے

    دوسری جانب ایڈوکیٹ جنرل نے خط میں کہا ہے کہ رانا شمیم کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں توہین عدالت کی کارروائی زیرسماعت ہے،اسلام آباد ہائی کورٹ رانا شمیم کو شوکاز نوٹس جاری کر چکی ہےرانا شمیم کا نام جلد از جلد ای سی ایل پر ڈالا جائے، اگر رانا شمیم بیرون ملک روانہ ہو جاتے ہیں تو عدلیہ کی آزادی پر سنجیدہ سوال اٹھیں گےکیس کی آئندہ سماعت 13 دسمبر کو ہو گی، کارروائی جلد مکمل کی جائے،

    مریم نواز کی گرفتاری کی تیاریاں شروع

    دوسروں کی عزت کی دھجکیاں اُڑاؤ ، پگڑیاں اچھالو تو احتساب ہو رہا ہے،مریم اورنگزیب

    نواز شریف حاضر ہو، اسلام آباد ہائیکورٹ نے طلبی کی تاریخ دے دی

    نواز شریف کی نئی میڈیکل رپورٹ عدالت میں جمع، نواز ذہنی دباؤ کا شکار،جہاز کا سفر خطرناک قرار

    جس ڈاکٹر کا سرٹیفیکٹ لگایا وہ امریکہ میں اور نواز شریف لندن میں،عدالت کے ریمارکس

    یاد رہے کہ چند دن پہلے ہائیکورٹ نے توہین عدالت کیس میں سابق جج رانا شمیم، میر شکیل الرحمان، انصار عباسی اور عامر غوری کو الگ الگ شوکاز نوٹس جاری کیے تھے ۔سماعت کے دوران جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا سابق جج رانا شمیم، میر شکیل الرحمان، انصار عباسی، عامر غوری کے خلاف توہین عدالت کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے شوکاز نوٹسز جاری کرتے ہوئے فریقین کو 30 نومبر کو عدالت کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا تھا،شوکاز نوٹس میں کہا گیا تھا کہ عدالت آرڈیننس 2003 سیکشن 5 کے تحت مجرمانہ توہین کے ارتکاب پر سزا دے سکتی ہے۔

    @MumtaazAwan