Baaghi TV

Tag: بیجنگ

  • بیجنگ میں گلوبل فیوچر ٹیکنالوجی انوویشن کوآپریشن کانفرنس کا انعقاد

    بیجنگ میں گلوبل فیوچر ٹیکنالوجی انوویشن کوآپریشن کانفرنس کا انعقاد

    بیجنگ:گلوبل فیوچر ٹیکنالوجی انوویشن کوآپریشن کانفرنس بیجنگ میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا موضوع رہا”ٹیکنالوجی مستقبل کو طاقتور بناتی ہے، جدت ترقی کی جانب لے جاتی ہے”۔ہفتہ کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق تیس سے زائد ممالک اور علاقوں کے سائنس و ٹیکنالوجی ماہرین، کاروباری اداروں کے نمائندوں سمیت 260 سے زائد افراد نے کانفرنس میں شرکت کی۔ایسا پہلی مرتبہ ہے کہ چین میں گلوبل فیوچر ٹیکنالوجی انوویشن کوآپریشن کانفرنس کا انعقاد کیا گیا ہے۔یہ اہم سرگرمی آن لائن اور آف لائن دونوں صورتوں میں منعقد ہوئی۔

    پاکستان اور چین بہترین دوست اور آئرن برادرز ہیں ،وزیراعظم

    شرکاء نے کہا کہ سائنس و ٹیکنالوجی کے انقلاب کا نیا دور اور صنعتی تبدیلی تیزی سے فروغ پا رہی ہے۔ مختلف ممالک کو سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں کھلے پن اور تعاون کو مضبوط بنانا چاہیئے اور تکنیکی اختراع کے ذریعے عالمی چیلنجز سے نمٹنا چاہیئے۔

    لاہور،کراچی،پشاور،کوئٹہ:گلگت بلتستان سےچین تک باغی ٹی وی مقبول ہونےلگا:

    عالمی تنظیم برائے دانشورانہ املاک کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر جنرل مارکو الیمان نے کہا کہ تنظیم کے جاری کردہ گلوبل انوویشن انڈیکس 2021 میں چین بارہویں نمبر پر آچکا ہے۔ایشیا اختراع کے شعبے میں ابھر رہا ہے۔دانشورانہ املاک کے حوالے سےتقریباً 70 فیصد درخواستیں ایشیا کی جانب سے پیش کی گئی ہیں اور چین اس شعبے میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔

    امریکہ اسپیکر نینسی پیلوسی کے دورہ تائیوان کےانتظامات بند کرے:چینی وزارت خارجہ

    تاحال چین 160 سے زائد ممالک اور علاقوں کے ساتھ ٹیکنالوجی تعاون کو آگے بڑھا رہا ہے۔مستقبل میں چین مزید کھلے رویے سے عالمی تکنیکی اختراع کے تعاون کو آگے بڑھائے گا۔

  • چین سری لنکا کی اقتصادی اور سماجی ترقی میں مدد جاری رکھے ہوئے ہے

    چین سری لنکا کی اقتصادی اور سماجی ترقی میں مدد جاری رکھے ہوئے ہے

    بیجنگ:چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بین نے یومیہ نیوز بریفنگ کے دوران سری لنکا کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایک دوست پڑوسی کے طور پر، چین نے ہمیشہ سری لنکا کو درپیش مشکلات اور چیلنجوں پر توجہ دی ہے اور سری لنکا کی اقتصادی اور سماجی ترقی میں اپنی صلاحیت کے مطابق مدد فراہم کر رہا ہے۔ حال ہی میں چین نے سری لنکا کو 500 ملین یوان کی ہنگامی انسان دوست امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اور چودہ تاریخ کو چین کی جانب سے فراہم کی جانے والی ہنگامی انسانی امداد کی دوسری کھیپ سری لنکا کے حوالے کر دی گئی۔

    جمعہ کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق وانگ وین بین نے واضح کیا کہ چینی مالیاتی ادار ے سری لنکا کے ساتھ مشاورت سے قرضوں کے مناسب انتظام کے خواہاں ہیں تاکہ سر ی لنکا کو موجودہ مشکلات سے نمٹنے میں مدد فراہم کی جا سکے۔

    چین کی ریاستی کونسل کےدفترِاطلاعات کی پریس کانفرنس میں قومی شماریات بیوروکےترجمان اور محکمہِ قومی اقتصادی شماریات کےڈائریکٹر فولینگ ہوئی نے2022 کی پہلی ششماہی میں قومی معیشت کےعمل سے متعارف کروایا ہے۔

    جمعہ کےروزچینی میڈ یا نےبتایاکہ ابتدائی اعدادوشمارکےمطابق، سال کی پہلی ششماہی میں جی ڈی پی 562کھرب 64ارب 20 کروڑ چینی یوآن تھی، مستقل قیمتوں کےمطابق اس میں سال بہ سال 2.5 فیصد اضافہ ہواہے۔ سال کی پہلی ششماہی میں، قومی سی پی آئی میں سال بہ سال 1.7 فیصد اضافہ ہوا۔ ملک بھر میں صنعتی پروڈیوسرز کی ایکس فیکٹری پرائس میں سال بہ سال 7.7 فیصد اضافہ ہوا۔

    چین کی وزارت برائے انسانی وسائل و سماجی تحفظ کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، رواں سال کے آغاز سے ہی شدید مشکل بین الاقوامی صورتِ حال اور چین میں وبا کے اثرات کے پیش نظر، مختلف علاقوں اور محکموں نےسی پی سی کی مرکزی کمیٹی اور ریاستی کونسل کے فیصلوں اور انتظامات پر سختی سے عمل درآمد کیا، روزگار کے امور کو مستحکم اور یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جس سے روزگار کی صورتحال عمومی طور پر مستحکم رہی۔

    اس حوالے سے کہا گیا ہے کہ جنوری سے جون تک، ملک بھر کے شہروں اور قصبوں میں پینسٹھ لاکھ چالیس ہزار نئی ملازمتیں پیدا ہوئیں، جس سے 59فی صد سالانہ اہداف اور کام مکمل ہوئے ، جو طے شدہ منصوبہ بندی کے مطابق ہے ۔

    جمعہ کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق ملازمتوں کے زبردست دباؤ کے باوجود، طلب اور رسد کے نقطہ نظر سے، چینی منڈی میں ملازمتوں کی مانگ ہمیشہ ملازمت کی تلاش کرنے والوں کی تعداد سے زیادہ ہوتی ہے۔

    وزارتِ انسانی وسائل وسماجی تحفظ کا کہنا ہے کہ معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے پالیسیز اور اقدامات کے پیکج پر تیزی سے عمل درآمد، انسداد وبا اور اقتصادی وسماجی ترقی کے لیے موثر ہم آہنگی نیز تمام فرقوں کی جانب سے ملازمتوں کی فراہمی پر توجہ مرکوز کرنے کی بھرپور کوششوں کے باعث ، روزگار کی صورتحال میں بہتری متوقع ہے۔

  • سنکیانگ: قومیتوں کے حقوقِ معاش کا تحفظ اور بہتر زندگی کے موضوع پر سیمینار

    سنکیانگ: قومیتوں کے حقوقِ معاش کا تحفظ اور بہتر زندگی کے موضوع پر سیمینار

    بیجنگ:اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے پچاسویں اجلاس کے آن لائن ضمنی اجلاس میں “سنکیانگ میں مختلف قومیتوں کے حقوقِ معاش کا تحفظ اور بہتر زندگی ” کے موضوع پر سیمینار منعقد کیا گیا جس میں ،چین،پاکستان،برازیل اور کیمرون سمیت دیگر ممالک کے ماہرین اور دانشوروں نے سنکیانگ میں حقوقِ معاش اور انسانی حقوق کی ترقی پر تبادلہ خیال کیا۔

    اتوار کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق چین کی ریاستی کونسل کے دفترِ اطلاعات کے ہیومن رائٹس ڈویلپمنٹ اینڈ ایکسچینج سینٹر کے ڈائریکٹر زوو فینگ نے کہا کہ چین کے سنکیانگ نے ہمیشہ انسانی حقوق کے عوام کو اولین اہمیت دینے والے تصور پر عمل کیا ہے، جس سے تمام قومیتوں کے لوگ اصلاحات اور ترقی کے ثمرات سے استفادہ کر سکتے ہیں اور انسانی حقوق کے تحفظ میں مسلسل نئی پیش رفت جاری رہتی ہے۔لیکن بعض ممالک نے سنکیانگ سے متعلق جھوٹ پھیلایا اور یک طرفہ پابندی لگاکر عالمی انسانی حقوق کے تحفظ کو نقصان پہنچایا ہے۔عالمی برادری کو انسانی حقوق کے عالمی انتظام و انصرام کو مشترکہ طور پر فروغ دینا چاہیئے اور بنی نوع انسان کا ہم نصیب معاشرہ تشکیل دینے کی کوشش کرنی چاہیئے۔

    سنکیانگ سے متعلقہ مسائل کو امریکہ کی طرف سے بڑھاوا دینے کے بارے میں، پیکنگ یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ فار گلوبل ایکسچینج اینڈ انڈرسٹینڈنگ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر وانگ دونگ کا خیال ہے کہ امریکہ کا “انسانی حقوق” کا کارڈ کھیلنے کا قلیل مدتی مقصد اپنی پارٹی کی داخلی کشمکش اور اقتدار پر قبضے کی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے ہے، جب کہ اس کی طویل مدتی حکمت عملی کا مقصد چین کو نئی سرد جنگ کا ہدف بنانا ہے تاکہ چین کو دبانے اورامریکہ کی بالادستی کو برقرار رکھنے کے لیے “اخلاقی حمایت” مل سکے گی۔سیینٹر فار چائنا اینڈ گلوبلائزیشن کی پاکستانی ریسرچر زون احمد کا کہنا ہے کہ چین کی حاصل کردہ کامیابی ،خاص طور پر سنکیانگ کی ترقی اور کامیابیاں ، ترقی پذیر ممالک میں انسانی حقوق کے تحفظ کی ایک مثال ہیں۔

    ہانگ کانگ کی مادر وطن کو واپسی کی 25 ویں سالگرہ کے موقع پر برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے “چین برطانیہ مشترکہ اعلامیے ” کے تحت برطانیہ پرہانگ کانگ کیباشندوں کی “تاریخی ذمہ داری “ہے اور “ہانگ کانگ سے دست بردار نہ ہونے ” کا مضحکہ خیز سیاسی شو کیا ہے۔یہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ” سابق سامراج” اس حقیقت کو قبول کرنے کو تیار نہیں کہ ان کی وہ “سلطنت جس میں سورج کبھی غروب نہیں ہوتا”تھا، ایک مدت سے ختم ہو چکی ہے اور وہ ابھی تک ہانگ کانگ سمیت چین کے داخلی معاملات میں مداخلت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    اتوار کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق چینی اور برطانوی حکومتوں نے دسمبر 1984 میں چین برطانیہ مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے تھے۔ بیان کے مطابق یکم جولائی 1997 کو ہانگ کانگ کی مادر وطن میں واپسی کے بعد، برطانیہ کے پاس ہانگ کانگ پر اختیار، حکمرانی یا نگرانی کا کوئی حق نہیں ہے، یعنی اب برطانیہ کو ہانگ کانگ کے معاملات میں مداخلت کا کوئی حق نہیں ہے۔ اب ہانگ کانگ دنیا کی سب سے آزاد معیشت، ایک بین الاقوامی مالیاتی و تجارتی مرکز اور شپنگ سینٹر ہے۔ 25 سال قبل مادر وطن میں واپسی کے بعد سے، ہانگ کانگ کی ترقیاتی کامیابیاں سب پر عیاں ہیں۔ “ایک ملک، دو نظام” کو بے حدکامیابی حاصل ہوئی ہے جو کہ پوری دنیا میں تسلیم کی جاتی ہے۔

    آج ہانگ کانگ کے معاشرے میں، ملک اور ہانگ کانگ سے محبت کرنا عوامی استصوابِ رائے بن چکا ہے اب برطانوی سامراج کی جانب سے یہاں بگاڑ کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ برطانیہ میں سکاٹ لینڈ اور شمالی آئرلینڈ کی برطانیہ سے الگ ہونے کی آوازیں بے حد بلند ہو چکی ہیں ۔بورس جانسن حکومت کا یہ دعوی کہ وہ “ہانگ کانگ سے دست بردار نہیں ہوگا ” صرف داخلی تنازعات سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے، لیکن ایسا کرنا خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔ ہانگ کانگ چین کا ہانگ کانگ ہے اور اس کا برطانیہ سے اب کوئی تعلق نہیں ہے۔

    ادھر چین کی تین بڑی ایئر لائنز، چائنا سدرن ،ایئر چائنا اور چائنا ایسٹرن نے اعلان کیا کہ تینوں کمپنیز نے ایئربس کے ساتھ طیاروں کی خریداری کے معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔ جس کے مطابق A320NEO سیریز کے کل 292طیارے خریدے جائیں گیاور خریداری کی کل رقم 37 اعشاریہ257 بلین امریکی ڈالر، یعنی تقریبا 249 اعشاریہ1 بلین یوآن تک پہنچ جائے گی۔

    اتوار کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق تینوں ایئر لائنز نے کہا کہ ہوائی جہازوں کی یہ خریداری ،کمپنی کے “14ویں پانچ سالہ منصوبے” کے ترقیاتی منصوبے اور مارکیٹ کی طلب کے مطابق ہے۔کمپنی کو سول ایوی ایشن انڈسٹری کے مستقبل کی ترقی پر اعتماد کی بنیاد پر،پہلے سے ہی صلاحیت بڑھانے کے لیے تیار رہنے کی ضرورت ہے۔

    ایئربس نے ایک بیان جاری کیا کہ یہ نئے آرڈرز ، ایئربس پر چینی صارفین کے مضبوط اعتماد کو ظاہر کرتے ہیں، جبکہ چائنا ایئرلائنز کی مارکیٹ کی مثبت بحالی اور خوشحال مستقبل کا مظہر ہیں ۔ رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکی طیارہ ساز کمپنی بوئنگ نے اس حوالے سے کہا کہ جغرافیائی سیاسی اختلافات کے باعث امریکی طیاروں کی برآمدات کامحدود ہونا مایوس کن ہے ، کمپنی نے اس امید کا اظہار کیا کہ امریکہ اور چین نتیجہ خیز بات چیت جاری رکھیں گے۔

  • چینی وزارت خا رجہ نے امریکہ کی چین سے متعلق پالیسی میں منافقت کو بے نقاب کر دیا

    چینی وزارت خا رجہ نے امریکہ کی چین سے متعلق پالیسی میں منافقت کو بے نقاب کر دیا

    بیجنگ :چین کی وزارت خارجہ نے ” چین کے بارے میں امریکی فہم وادراک کی غلطیاں اور حقائق” کے عنوان سے ایک مضمون شائع کیا جس میں امریکہ کی چین سے متعلق پالیسی میں دھوکہ دہی،منافقت اور نقصانات کوسامنے لایا گیاہے۔منگل کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق40ہزار الفاظ پر مشتمل اس مضمون میں امریکہ کی چین سے متعلق پالیسی کی اکیس غلطیاں بیان کرتے ہوئے دلائل کے ساتھ حقائق کو دنیا کے سامنے پیش کیاگیا ہے تاکہ سب دیکھ سکیں کہ عالمی نظم و نسق میں افراتفری کا سب سے بڑا سبب ، “ناجائز دباو کی سفارت کاری “کا تخلیق کار،انسانی حقوق کی سب سے زیادہ خلاف ورزیاں کرنے والا اور سب سے بڑی “ہیکر ایمپائر ” امریکہ کے سوا اور کوئی نہیں ہے۔

    ان میں سب سے بڑا جھوٹ یہ ہے کہ “بین الاقوامی نظم و نسق میں چین ایک بڑا طویل مدتی چیلنج ہے” ۔ اس کے علاوہ امریکہ ، ایشیا و بحرالکاہل میں اپنے پاوں پھیلاتے ہوئے “انڈو پیسفک اکنامک فریم ورک ” تشکیل دینے کی کوششوں میں مصروف ہے تاکہ اس خطے کے ممالک پر امریکی تجارتی اصول لاگو کر کے چین کے ساتھ ” ڈی کپلنگ ” کی جائے اور روابط کومنقطع کیا جائے ۔یہ فریم ورک صرف اور صرف امریکہ کے ذاتی مفادات پر مبنی ہے اور عالمی اقتصادی بحالی کے لیے ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

    یہ ایک واضح امر ہے کہ امریکی سیاستدان “بین الاقوامی نظم و نسق ،سکیورٹی اور ترقی کے تحفظ” کے بارے میں بیانات تو دیتے ہیں لیکن عمل ، اس کے بر عکس کرتے ہیں ۔ چاہےیہ جتنے بھی بہانے بنا لیں ، ان کے چین کی ترقی پر اثر انداز ہونے کا مذموم مقصد چھپایا نہیں جا سکتا۔

    ادھراس سےپہلے عالمی ترقیاتی رپورٹ کا پہلا شمارہ 20 جون کو بیجنگ میں جاری کیا گیا۔ اس موقع پر چین کے ریاستی کونسلر اور وزیر خارجہ وانگ ای نے ایک خصوصی ورچوئل خطاب کیا۔انہوں نے کہا کہ عالمی ترقیاتی رپورٹ میں پائیدار ترقی کے 2030 ایجنڈے کے نفاذ میں پیش رفت اور چیلنجز کو مد نظر رکھتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ اس صدی میں رونما ہونے والی تبدیلیوں اور عالمگیر وبا کے پیش نظر عالمی برادری کو چاہیے کہ ڈیجیٹل تبدیلی کو اپنانے اور بنی نوع انسان کی مشترکہ پائیدار ترقی کے حصول کی خاطر سبز تبدیلی کے لیے ترقیاتی تعاون اور عالمی شراکت داری کی تعمیر پر زیادہ توجہ دے ۔

    چین کے ریاستی کونسلر اور وزیر خارجہ وانگ ای نےکہا کہ مذکورہ رپورٹ میں دنیا اور چین کے مفید تجربے کی بنیاد پر 2030 کے ایجنڈے کے نفاذ کے لیے آٹھ پہلوؤں سے پالیسی سفارشات پیش کی گئی ہیں۔ یہ چین کے لیے گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو پر عمل درآمد کا ایک اہم اقدام ہے۔ یہ تمام ممالک کی ترقی کے لیے مفید حوالہ فراہم کرے گا اور عالمی ترقی کے مقصد میں اپنی دانش کے تحت کردار ادا کرے گا۔

    ریاستی کونسل کے ترقیاتی تحقیقی مرکز کے سربراہ ما چیان تھانگ نے نشاندہی کی کہ صدر شی جن پھنگ کی جانب سے اقوام متحدہ میں گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو کی تجویز کے بعد عالمی ترقیاتی رپورٹ پہلی جامع تحقیقی رپورٹ ہے۔وسیع تناظر میں دنیا مشترکہ پائیدار ترقی کے حصول کو بہت اہمیت دیتی ہے۔

    چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بین نے اکیس تاریخ کو یومیہ نیوز بریفنگ میں چائنا انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ نالج سینٹر کی جانب سے پیش کردہ پہلی “عالمی ترقیاتی رپورٹ “کے حوالے سے کہا کہ صدر شی جن پھنگ کے پیش کردہ عالمی ترقیاتی انیشیٹو سے بین الاقوامی بنیادی ایجنڈے میں ترقیاتی امور کی واپسی ، تمام فریقوں کے درمیان ترقیاتی پالیسیوں کو مربوط کرنے اور عملی تعاون کو گہرا کرنے کے لیے ایک موثر پلیٹ فارم تشکیل دیا گیا ہے اور تمام وسائل یکجا کرتے ہوئے ترقیاتی مسائل کو حل کرنے اور ہم آہنگ ترقی میں مضبوط قوت حیات فراہم کی گئی ہے ۔

    وانگ وین بین نے نشاندہی کی کہ چین اور دنیا کے دیگر ممالک کے مفید تجربات کی بنیاد پر اس رپورٹ نے 2030 کے ایجنڈے کے نفاذ کے لیے آٹھ پہلوؤں سے پالیسی سفارشات پیش کی ہیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ شرکاء اجلاس نے عالمی ترقیاتی انیشیٹو کی بھرپور تعریف کرتے ہوئے چین کی عالمی ترقیاتی رپورٹ کو بھی سراہا ہے۔ شرکاء کے نزدیک عالمی ترقیاتی انیشیٹو نے بین الاقوامی اتفاق رائے پایا ہے اور ترقی پذیر ممالک کی مشترکہ امنگوں کی عکاسی کی ہے، اور بین الاقوامی برادری کو مشترکہ طور پر پائیدار ترقی کے حصول کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کیا ہے ۔بھارت میں متعین چینی سفیر سون دی دونگ نے کہا ہے کہ 16 برسوں میں ترقی کرتے ہوئے برکس کا نظام باہمی مفادات کے تعاون کا اہم پلیٹ فارم اور بین الاقوامی نظم و نسق کی ترقی،عالمی انتظام و انصرام کی بہتری اور مشترکہ ترقی کی تکمیل کی اہم قوت بن چکا ہے۔

    ادھر اس سے پہلے ذرائع کے مطابق اسی حوالے سے منگل کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق چائنا میڈیا گروپ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں سون دی دونگ نے کہا کہ
    چین مختلف فریقوں کے ساتھ مل کر ایک مزید قریبی ،جامع اور نتیجہ خیز برکس شراکت داری تشکیل دینے کا خواہاں ہے تاکہ مزید مضبوط ، سرسبز اور مثبت عالمی ترقی کی تکمیل ہو سکے، اس کے ساتھ ساتھ ترقی پزید ممالک کے مشترکہ مفادات کے لیے برکس کی آواز کو مزید بلند کیا جائے گا۔

    سون وی دونگ نے کہا کہ رواں سال چین ،برکس کا میزبان چیئرمین ملک ہے اور چین نے برکس کے تمام رکن ممالک کے ساتھ مل کر مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا ہے۔

  • طیش میں آکرکمپنی کا سارا ڈیٹا بیس اڑانے والے آئی ٹی ایڈمنسٹریٹر کو سات برس قید کی سزا

    طیش میں آکرکمپنی کا سارا ڈیٹا بیس اڑانے والے آئی ٹی ایڈمنسٹریٹر کو سات برس قید کی سزا

    بیجنگ: چین کے ایک آئی ٹی ایڈمنسٹریٹر نے غصے میں آکر اپنی کمپنی کا سارا ڈیٹا بیس ضائع کر دیا جس پر انہیں سات برس قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی :چینی میڈیا کے مطابق چین کی مشہور ریئل اسٹیٹ کمپنی لیانجا کےسابقہ ڈیٹا بیس ایڈمنسٹریٹر، ہین بِنگ نے یہ کام جون 2018 میں کیا تھا کمپنی کے دو ڈیٹابیس اور دو ایپلیکیشن سرورز کے وہ واحد نگراں تھے اور اپنے اختیارات کے ناجائز استعمال کیا۔

    دبئی میں ناقابل یقین حد تک مہنگی اشیاء

    انہیں ادارے کی جانب سے نوکری سے ہٹایا گیا تھا اور اسی کے پاداش میں ہین نے کمپنی کو نقصان پہنچانے کا منصوبہ بنایا تھااس کام پر نہ صرف کمپنی کے تمام کام ٹھپ ہوگئےبلکہ ہزاروں ملازمین تنخواہوں سےبھی محروم ہوگئےتھےبعد میں لگ بھگ 30 ہزار ڈالر خرچ کرکے کمپنی کا ڈیٹا بیس بحال کیا گیا اس طرح کمپنی کو 6 ارب ڈالر کا نقصان ہوا تھا۔

    ڈیٹا بیس تباہ کرنے پر پانچ افراد پر الزام عائد کیا گیا اور اس کے بعد ہین بِنگ کا نام اس وقت سامنے آیا جب انہوں نے تفتیش کے دوران اپنے لیپ ٹاپ کا پاس ورڈ دینے سے انکار کردیا تفتیش کاروں کے مطابق اگر وہ ڈیٹا کو نقصان پہنچانے میں ملوث ہیں تو ان کے کچھ آثار لیپ ٹاپ میں مل سکتے ہیں۔

    آخرکار تحقیق کاروں نے الٹا عمل شروع کیا اور ڈیٹا بیس تک آنے والی ہدایات کا سراغ لگایا اس کےعلاوہ سی سی ٹی وی فوٹیج سےبھی مدد لی گئی تحقیقی عملے نے “shred” اور “rm” کی کمانڈز تلاش کی جو بڑے ڈیٹا بیس کو تباہ کرنے کے لیے دی جاسکتی ہیں اس کے بعد ہین بِنگ کو گرفتار کیا گیا اور اب انہیں سات برس کی قید سزا دی گئی ہے۔

    جرمن چانسلر نے برطانیہ پرجوہری حملے کی دھمکی کوروسی پاگل پن کا مظہر قرار دے دیا

  • ہندوستان میں اقلیتوں پر ظلم علاقائی امن و استحکام کے لیے خطرہ ہے ،وزیراعظم

    ہندوستان میں اقلیتوں پر ظلم علاقائی امن و استحکام کے لیے خطرہ ہے ،وزیراعظم

    بیجنگ: وزیراعظم آفس کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کی چین کے صدر شی جن پنگ سے ملاقات کا اعلامیہ جاری کردیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ اکتوبر 2019 میں وزیراعظم کے دورہ چین کے بعد دونوں رہنماؤں کی یہ پہلی ملاقات تھی، جس میں دونوں رہنماؤں نے پاک چین دوطرفہ تعاون کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا، اور خوشگوار ماحول میں باہمی دلچسپی کے علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا، جبکہ وزیراعظم عمران خان نے بیجنگ میں 24 ویں اولمپک سرمائی کھیلوں کی کامیاب میزبانی پر چین کی قیادت اور عوام کو مبارکباد دی، اور چینی نئے قمری سال پر نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

    وزیرخارجہ کا بیجنگ میں پاکستانی طلباء اور پروفیشنلز کی سہولت کیلئے بنائے گئے پورٹل…

    اعلامیے میں بتایا گیا کہ وزیراعظم نے بھارت کےغیر قانونی طور پر مقبوضہ کشمیر میں ڈھائے جانے والے مظالم پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آر ایس ایس کی ہندوتوا ذہنیت، ہندوستان میں اقلیتوں پر ظلم علاقائی امن و استحکام کے لیے خطرہ ہے، بھارت میں تیزی سے پھیلتی عسکریت پسندی علاقائی استحکام کو نقصان پہنچا رہی ہے۔

    اعلامیے کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ چین پاکستان کا ثابت قدم ساتھی، بہترین حامی اور آئرن برادر ہے، پاکستان اور چین کے درمیان تزویراتی تعاون پر مبنی شراکت داری نے وقت کی آزمائشوں کا مقابلہ کیا، دونوں ممالک امن، استحکام، ترقی اور خوشحالی کی مشترکہ امنگوں کو عملی جامہ پہنانے میں شانہ بشانہ کھڑے رہے وزیراعظم نے پاکستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت، آزادی اور قومی ترقی کے لیے چین کی غیر متزلزل حمایت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان شراکت داری خطے میں امن و استحکام کی عکاس ہے-

    وزیر اعظم چینی صدرسے اہم ملاقات کے بعد واپس وطن روانہ ہوچکے

    اعلامیے کے مطابق وزیراعظم نے صدر شی جن پنگ کو پائیدار ترقی، صنعتی ترقی، زرعی جدید کاری اور علاقائی رابطوں کے لیے اپنی حکومت کی پالیسیوں سے آگاہ کیا، اور پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے چین کی مسلسل حمایت اور مدد کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے سی پیک کی اعلیٰ معیار کی ترقی سے بہت فائدہ اٹھایا۔

    اعلامیے میں کہا گیا کہ وزیراعظم نے کہا کہ دنیا میں بڑھتے ہوئی پولرائزیشن سے عالمی ترقی اور ترقی پذیر ممالک کو سنگین خطرات لاحق ہیں، موسمیاتی تبدیلی، صحت کی وبائی امراض اور بڑھتی ہوئی عدم مساوات ناقابل تسخیر چیلنجز ہیں، ان چیلنجز سے صرف اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق تمام اقوام کے تعاون کے ساتھ ہی نمٹا جا سکتا ہے۔

    روس نے یوکرین پر حملے کی 70 فیصد تیاری مکمل کرلی، امریکی حکام

    اعلامیے میں بتایا گیا کہ وزیراعظم نے چین کے بنیادی مفاد کے تمام امور پر پاکستان کی مکمل حمایت کا بھی اعادہ کیا، دونوں رہنماؤں نے تسلیم کیا کہ ایک پرامن اور مستحکم افغانستان خطے میں اقتصادی ترقی اور رابطوں کو فروغ دے گا، اور دونوں رہنماوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ انسانی تباہی کو روکنے میں افغان عوام کی فوری مدد کرے پاک چین سربراہان نے صنعتی تعاون، خلائی تعاون، اور ویکسین کے تعاون پر مشتمل متعدد معاہدوں پر دستخط کی تعریف کی۔ دونوں رہنماؤں نے نئے دور میں مشترکہ مستقبل کے لیے پاک چین کمیونٹی کی تعمیر کے عزم کا اعادہ کیا۔ وزیراعظم نے صدر شی جن پنگ کو جلد پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت دی۔

    واشنگٹن میں بھارتی سفارتخانے کے سامنے احتجاجی مظاہرہ

  • وزیرخارجہ کا بیجنگ میں پاکستانی طلباء اور پروفیشنلز کی سہولت کیلئے بنائے گئے پورٹل کا افتتاح

    وزیرخارجہ کا بیجنگ میں پاکستانی طلباء اور پروفیشنلز کی سہولت کیلئے بنائے گئے پورٹل کا افتتاح

    بیجنگ: وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے آج بیجنگ میں پاکستانی طلباء اور پروفیشنلز کی سہولت کیلئے بنائے گئے پورٹل “کا افتتاح کیا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے بیجنگ میں “پاکستانی طلباء اور پروفیشنلز کی سہولت کیلئے بنائے گئے” پورٹل “کا افتتاح کردیا، اس موقع پر چین میں تعینات پاکستان کے سفیر معین الحق بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ” پورٹل” کا مقصد پاکستانی طلباء اور چینی ماہرین کے مابین تکنیکی روابط کا فروغ ہے، یہ پورٹل، پاکستانی طلباء اور چین میں پیشہ ورانہ کمیونٹی کے درمیان روابط بڑھانے کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر کام کرے گا۔

    وزیر اعظم چینی صدرسے اہم ملاقات کے بعد واپس وطن روانہ ہوچکے

    وزیرخارجہ نے کہا کہ یہ پورٹل جدید تحقیقی اختراعات اور دریافتوں کے ضمن میں معاونت فراہم کرے گا، یہ پورٹل پاکستانی طلباء اور پروفیشنلز کی کامیابیوں کو اجاگر کرنے میں بھی معاون ثابت ہو گا۔

    واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے چینی ہم منصب لی کی چیانگ سمیت دیگر عالمی رہنماؤں سے آج ملاقاتیں کی تھیں بیجنگ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری نے بتایا تھا کہ وزیراعظم نے آج کا دن بھی مصروف گزارا، وہ پہلے چینی صدر شی جن پنگ کی جانب سے تمام ممالک کے سربراہان کے اعزاز میں دیے گئے ظہرانے میں شریک ہوئے تھے-

    وزیراعظم عمران خان سےچینی وزیراعظم،قطری امیر، مصری اورازبک صدرسمیت عالمی رہنماوں کی ملاقاتیں

    فواد چوہدری نے بتایا تھا کہ چین نے ایک بار پھر کشمیر کے معاملے میں پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونے کی یقین دہانی کرائی جبکہ عالمی برادری بھی ہمارے موجودہ مؤقف کی بھرپور حمایت کررہی ہے جبکہ وزیراعظم عمران خان نے چین کو ہانگ کانگ اور تائیوان میں جاری مسئلے پر پاکستان کی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔

    وزیراعظم عمران خان کی چینی ہم منصب لی کی چیانگ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جبکہ اقتصادی، تجارتی تعلقات، سی پیک، علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا۔ اعلامیے کے مطابق دونوں فریقین نے پاک چین اسٹریٹجک تعاون، بنیادی دلچسپی کے امور پر حمایت کا اعادہ کیا جبکہ وزیراعظم عمران خان نے بیجنگ سرمائی اولمپکس کے انعقاد پر چینی ہم منصب کو مبارک باد بھی پیش کی۔

    ٹانک:سیکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران ایک خودکش بمبارہلاک

  • کئی ممالک کے بائیکاٹ کے باوجود، بیجنگ سرمائی اولمپکس کی رنگارنگ مقابلے جاری

    کئی ممالک کے بائیکاٹ کے باوجود، بیجنگ سرمائی اولمپکس کی رنگارنگ مقابلے جاری

    بیجنگ : کئی ممالک کے بائیکاٹ کے باوجود، بیجنگ سرمائی اولمپکس کی رنگارنگ مقابلے جاری،اطلاعات کے مطابق چین کے دارالحکومت بیجنگ میں سرمائی اولمپکس 2022 کا آغاز رنگارنگ افتتاحی تقریب کے ساتھ ہوا، جس میں کئی ممالک کے سربراہ شریک ہوئے۔

    سرمائی اولمپکس کی افتتاحی تقریب میں چین کے صدر شی جن پنگ کے علاوہ روس کے صدر ولادیمیر پوتین، پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان، ازبکستان کے صدر اور دیگر ممالک کے سربراہان نے شرکت کی۔

    کوویڈ-19 کے خطرات کے باوجود سخت قواعد کے ساتھ سرمائی اولمپکس کا آغاز ہوا، اس کے علاوہ امریکا سمیت متعدد ممالک نے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کرتے ہوئے سفارتی بائیکاٹ کا اعلان کردیا تھا۔

    سفارتی بائیکاٹ کرتے ہوئے جن ممالک نے افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے اپنے سرکاری نمائندے نہیں بھیجے ان میں امریکا، برطانیہ اور آسٹریلیا سرفہرست ہیں۔

    افتتاحی تقریب کا آغاز چین کے صدر شی جن پنگ اور انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کے چیئرمین تھامس بیچ کے برڈز نیسٹ اسٹیڈیم میں داخل ہوتے ہی ہوا جہاں گیمز میں شریک 91 ممالک کے جھنڈے لہرا رہے تھے۔

    بیجنگ سرمائی اولمپکس کے ڈائریکٹر ژینگ یمو ہیں جنہوں نے بیجنگ سمر گیمز 2008 کے انتظامات بھی کیے تھے۔

    افتتاحی تقریب میں 3 ہزار فنکاروں نے سرمائی اولمپکس میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا، جو بیجنگ اور قریبی صوبے ہیبے کے عام فنکار تھے اور اس کا عنوان ‘اسٹوری آف سنوفلیک’ تھا۔

  • ایران پرامریکی پابندیوں کی مخالفت کرتے ہیں، چین کا سخت ردعمل

    ایران پرامریکی پابندیوں کی مخالفت کرتے ہیں، چین کا سخت ردعمل

    بیجنگ:ایران پرامریکی پابندیوں کی مخالفت کرتے ہیں، چین کا سخت ردعمل ،اطلاعات کے مطابق چین کا کہنا ہے کہ ایران پرامریکا کی یکطرفہ پالیسیوں کی مخالفت کرتے ہیں۔

    چینی وزیرخارجہ وانگ یی نے ایرانی ہم منصب حسین عامر سے ملاقات میں کہا کہ ایران پریکطرفہ پابندیوں کی مخالفت کرتے ہیں۔

    چینی وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ ایران کی جاری مشکلات کی ذمہ داری امریکا پرعائدہوتی ہے جس نے یکطرفہ طورپر2015میں کئے گئے ایران اورعالمی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدے سے علیحدگی اختیارکی۔ چین ایران سے جوہری مذاکرات کے دوبارہ شروع ہونے کا حامی ہے۔

    دوسری طرف اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے چین کے ساتھ 25 سالہ معاہدے پر عمل شروع ہونے کا اعلان کیا ہے۔

    حسین امیر عبداللھیان نے چین کے دورے کے اختتام پر کہا: فریقین اس بات پر متفق ہوئے کہ جمعہ سے جامع اسٹریٹیجک تعاون کے معاہدے پر عملدرآمد کا اعلان کریں۔

    انہوں نے اپنے چینی ہم منصب کے ساتھ تفصیلی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس سفر میں اس بات پر اتفاق رائے ہوا کہ طرفین 25 سالہ جامع اسٹریٹیجک تعاون کے معاہدے پر عمل درآمد شروع ہونے کا اعلان کریں۔

    ایران کے وزیر خارجہ نے بتایا کہ وہ صدر جمہوریہ ایران کا مکتوب پیغام انکے چینی ہم منصب کے لئے لے کر گئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ چین دورے پر پابندیوں کے خاتمے سے متعلق ویانا مذاکرات کے بارے میں بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ حسین امیر عبداللھیان نے بتایا کہ ویانا میں چین اور روس کے نمائندے اسلامی جمہوریہ ایران کے ایٹمی حقوق کی حمایت اور پابندیوں کے خاتمے کے لئے مثبت کردار ادا کر رہے ہیں۔

    انہوں نے امید ظاہر کی کہ مغربی فریق بھی حقیقت پسندانہ اور ایک اچھے معاہدے کے حصول کے نکتہ نگاہ کے ساتھ ، ویانا مذکرات میں مطلوبہ سنجیدگی کا مظاہرہ کریں گے، ایسا معاہدہ جس میں ایرانی قوم کے حقوق و مفادات کو بھی مدنظر رکھا گیا ہو۔

    حسین امیر عبداللھیان نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کمترین مدت میں اچھے معاہدے کے حصول کا استقبال کرے گا لیکن یہ بات مغربی فریقوں پر منحصر ہے۔

  • چاند پر دکھائی دینے والی ’پراسرار جھونپڑی‘ کی حقیت سامنے آ گئی

    چاند پر دکھائی دینے والی ’پراسرار جھونپڑی‘ کی حقیت سامنے آ گئی

    بیجنگ: گزشتہ ماہ چین کی خلائی گاڑی ’یُوٹو 2‘ نے چاند پر ایک پراسرار چیز دور سے دیکھی تھی جو کسی چوکور جھونپڑی کی طرح نظر آتی تھی اب اس کی حقیقت سامنے آ گئی ہے-

    باغی ٹی وی :عالمی میڈیا کےمطابق چینی خلائی ایجنسی کےسائنسدانوں نے اس پراسرار چیز کو مذاقاً ’پراسرار جھونپڑی‘ کا نام دیتے ہوئے کہا تھا کہ دیومالائی کہانیوں کا ’جیڈ خرگوش‘ اسی جھونپڑی میں رہتا ہے۔

    امریکا: میڈیکل سائنس کی دنیا میں پاکستانی ڈاکٹر کا شاندار کارنامہ،انسان میں خنزیر کا دل لگا دیا

    اگرچہ یہ سب صرف مذاق تھا لیکن کچھ لوگوں نے اسے اتنی سنجیدگی سے لیا کہ وہ ’چاند پر خلائی مخلوق کا ٹھکانہ دریافت‘ جیسے دعوے بھی کرنے لگےاس ’پراسرار جھونپڑی‘ کی حقیقت جاننے کےلیے ’یوٹو 2‘ روور کو آہستہ آہستہ اس کی سمت بڑھایا گیا جو روور سے اندازاً 262 فٹ دور تھی۔

    کسان کے بغیر ہل چلانے والا خودکار ٹریکٹر’ڈیئر 8 آر‘

    چاند گاڑی نے ہر روز صرف چند فٹ فاصلہ طے کیا کیونکہ یہ سفر بہت احتیاط طلب تھا بالآخر تقریباً ایک مہینے بعد یہ ’پراسرار جھونپڑی‘ کے نزدیک پہنچنے میں کامیاب ہوگئی اب ’یوٹو 2‘ چاند گاڑی نے اس ’پراسرار جھونپڑی‘ کی مزید تصاویر جاری کی ہیں جو خاصی قریب سےکھینچی گئی ہیں ان سے معلوم ہواہے کہ یہ صرف ایک معمولی پتھر ہے جو نہ جانے کب سے وہاں پڑا ہوا ہے اور تو اور، قریب سے دیکھنے پر یہ پتھر کسی بھی زاویئے سے جھونپڑی جیسا دکھائی نہیں دیتا۔

    خلائی مخلوق سے ملاقات: "ناسا” نے مذہبی پیشواؤں کی خدمات حاصل کر لیں

    غالباً بہت زیادہ فاصلے اور کیمرے میں دھندلاہٹ کی وجہ سے ابتدائی تصویروں میں یہ پتھر ایک جھونپڑی جیسا دکھائی دے رہا تھا حالانکہ حقیقت اس سے بالکل ہی مختلف ہےغرض چاند پر چرخہ کاتنے والی بڑھیا کی طرح ’پراسرار جھونپڑی‘ کا معاملہ بھی بالآخر اپنے اختتام کو پہنچا۔

    ایلون مسک نے1 گھنٹہ میں 1.4 ارب ڈالرز کما کے ریکارڈ قائم کر دیا