Baaghi TV

Tag: بیلا روس

  • پاکستان اور بیلا روس کا مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے پراتفاق

    پاکستان اور بیلا روس کا مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے پراتفاق

    پاکستان اور بیلا روس نے مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے پراتفاق کیا ہے-

    باغی ٹی وی: دونوں ملکوں کےدرمیان سفارتی پاسپورٹس کےحامل افراد کو ویزا سے استثنیٰ کا معاہدہ طےپاگیادونوں ملکوں کے اسٹرٹیجک سٹڈیز انسٹی ٹیوٹ کے درمیان تعاون کے فروغ کا بھی معاہدہ ہوگیا۔


    اس موقع پر وزیر خارجہ بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بیلا روس کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو فروغ دیاجائے گا، ویزا سے استثنی کے معاہدہ سے دونوں ملک مستفید ہوں گے تمام شعبوں میں دو طرفہ تعاون کو فروغ دیا جائے گا، مستقبل میں پاکستان اور بیلا روس کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔


    اس موقع پر بیلاروس کے وزیر خارجہ نے کہا کہ بہترین مہمان نوازی پر وزیرخارجہ کا شکر گزار ہوں،پاکستان کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانا چاہتے ہیں دوطرفہ معاہدوں سے دونوں ممالک کوفائدہ ہوگا، مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے وسیع مواقع موجود ہیں ایس سی او کی رکنیت کیلئے پاکستان کے تعاون پر شکر گزار ہیں۔


    واضح رہے کہ جمہوریہ بیلاروس کے وزیر خارجہ سرگئی ایلینک پاکستان کے 2 روزہ سرکاری دورے پر اسلام آباد میں ہیں دفتر خارجہ کے مطابق انہیں اس دورے کی دعوت وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے دی ہے۔

  • ڈرون حملےمیں روسی فوج کا طیارہ گر کر تباہ

    ڈرون حملےمیں روسی فوج کا طیارہ گر کر تباہ

    بیلا روس کے دارالحکومت میں ایئربیس کےقریب ڈرون حملےمیں روسی فوج کا طیارہ گر کر تباہ ہوگیا،ڈرون حملے کی ذمہ داری بیلاروس حکومت کی مخالف عسکریت پسند تنظیم نے قبول کرلی۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق بیلاروس کے دارالحکومت منسک کے قریب ایک ہوائی اڈے پر بیلاروس میں نگرانی پر مامور روسی فوج طیارے A-50 کومچولیشچی ایئر بیس پر ڈرون کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔

    روسی نگراں طیارے پر اس وقت حملہ کیا گیا ہے جب روس اور بیلاروس کے درمیان قربتیں بڑھ رہی ہیں اور روس نے یوکرین پر حملے کے لیے بیلاروس کے ایئر بیس سے اپنے طیارے بھیجے ہیں۔

    بیلا روس کے قانون نافذ کرنے والے سابق افسران کی ایک تنظیم BYPOL کے رہنما الیگزینڈر آزاروف نے ٹیلی گرام میسجنگ ایپ اور پولینڈ کے نیوز چینل پر بات کرتے ہوئے حملے کی ذمہ داری قبول کرلی۔

    عسکریت پسند تنظیم BYPOL بیلاروس کی حکومت کی مخالفت کرتی ہے اور اپوزیشن جماعتوں کی ہر قسم کی مدد کرتی ہیں جس پر حکومت نے تنظیم BYPOL کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا تھا۔

    اسی طرح حزب اختلاف کے رہنما سویٹلانا تسخانوسکایا کے قریبی مشیر فرانک ویاکورکا نے بھی اپنی ٹویٹ میں تنظیم BYPOL کی جانب سے نایاب روسی طیارے کو اڑانے کے لیے ایک کامیاب خصوصی آپریشن کی تصدیق کی ہے۔

    حزب اختلاف کے رہنما سویٹلانا تسخانوسکایا کے قریبی مشیر نے روسی طیارے پر حملے کو 2022 کے آغاز کے بعد سے سب سے بڑی کامیابی قرار دیا ہے تاہم روس اور بیلاروس کے حکام نے حملے کی تردید یا تصدیق نہیں کی۔

  • یوکرینی ٹینس اسٹار کا بیلا روس کی کھلاڑی سے مصافحہ کرنے سے انکار

    یوکرینی ٹینس اسٹار کا بیلا روس کی کھلاڑی سے مصافحہ کرنے سے انکار

    یوکرین کی ٹینس اسٹار مارتا کوسٹیوک نے یو ایس اوپن کے میچ میں بیلا روس سے تعلق رکھنے والی حریف کھلاڑی وکٹوریہ آزارینکا سے مصافحہ کرنے سے انکار کر دیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق میچ کے بعد بیلا روس کی کھلاڑی سے ہاتھ ملانے سے انکار کرنے والی یوکرین کی ٹینس اسٹار مارتا کوسٹیوک کا کہنا تھا کہ ہاتھ ملانے کا یہ وقت مناسب نہیں ہے۔

    روسی افواج کے تابڑتوڑحملے یوکرینی افواج کو بھاری جانی ومالی نقصان

    20 سالہ یوکرائنی ٹینس اسٹار روسی اور بیلاروسی کھلاڑیوں کی جانب سے اپنے ملک پر حملے کی مذمت نہ کرنے کی شدید ترین تنقید کرنے والوں میں شامل ہے-

    کوسٹیوک نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ میں ابھی جن حالات میں ہوں اس میں یہ کرنا صحیح ہے میں کسی ایک شخص کو نہیں جانتی جس نے جنگ کی عوامی سطح پر مذمت کی ہو، اور ان کی حکومت کے اقدامات اس لیے مجھے نہیں لگتا کہ میں اس کی حمایت کر سکتی ہوں۔”

    مارتا کوسٹیوک نے کہا کہ ہمارا میچ بہت اچھا تھا، مجھے غلط مت سمجھو۔ وہ ایک عظیم حریف ہے، میں ایک کھلاڑی کے طور پر اس کا احترام کرتی ہوں، لیکن اس کا ان کے انسان ہونے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

    مارتا کوسٹیوک کا کہنا تھا کہ انہوں نے پہلے ہی اپنے اس عمل کے بارے میں بیلاروس کی کھلاڑی وکٹوریہ آزارینکا کو ٹیکسٹ میسج کرکے بتا دیا تھا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق مارتا کوسٹیوک کا کہنا تھا کہ ان کے اس عمل کو ہر کوئی سفارتی طور پر لے رہا ہے لیکن ان کی قوم روز قتل ہو رہی ہے۔

    دوسری جانب بیلا روس کی وکٹوریہ آزارینکا کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ ان کے لیے یہ عمل حیران کن نہیں تھا میرا مارٹا کے ساتھ کبھی گہرا تعلق نہیں تھا۔ مارچ میں جب سب کچھ ہوا، میں نے ان تمام [یوکرائنی] کھلاڑیوں سے رابطہ کیا جنہیں میں ذاتی طور پر جانتی ہوں اور میرے اب بھی اچھے تعلقات ہیں۔

    یوکرین کے بعد امریکا تائیوان کی مدد کو پہنچ گیا،دوجنگی بحری جہازآبنائے تائیوان…

    "میں محسوس نہیں کرتی کہ خود کو کسی ایسے شخص کو بات کرنے پر مجبور کرنا جو شاید مختلف وجوہات کی بنا پر مجھ سے بات نہیں کرنا چاہتا، صحیح طریقہ ہے۔ لیکن میں نے پیشکش کی،‘‘ ازرینکا نے مزید کہا۔ "مجھے لگتا ہے کہ میرے پاس شروع سے ہی ایک واضح پیغام ہے، کیا میں یہاں مدد کرنے کی کوشش کرنے کے لیے ہوں، جو میں نے بہت کچھ کیا ہے۔ شاید کچھ نہیں جو لوگ دیکھتے ہیں-

    آزارینکا کا کہنا تھا کہ میں یہ ان لوگوں کے لیے کرتی ہوں جو ضرورت مند ہیں، جونیئر جن کو کپڑوں کی ضرورت ہوتی ہے، دوسرے لوگ جنہیں پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے یا دوسرے لوگوں کے لیے جنہیں نقل و حمل کی ضرورت ہوتی ہے یا کچھ بھی۔ اگر مارٹا مجھ سے بات کرنا چاہتی ہے – اس نے کل مجھے ٹیکسٹ کیا، میں نے جواب دیا۔

    آزارینکا نے کہا کہ میں جانتی ہوں کہ وہ بہت مشکل حالات سے گزر رہی ہے۔ اسے سنبھالنا آسان نہیں ہے۔ میرے نقطہ نظر سے، میری خواہش ہے کہ اس کے پاس کوئی ایسا ہوتا جو اس کی تھوڑی بہتر رہنمائی کرتا۔

    یاد رہے بیلاروس یوکرین کے خلاف جنگ میں روس کا حمایتی ہے اور یوکرین کی ٹینس اسٹار مارتا کوسٹیوک کی جانب سے آزارینکا سے ہاتھ ملانے سے انکار کی وجہ بھی یہی قرار دی جا رہی ہے۔

    یوکرین کے زاپورزیا پاور پلانٹ میں آتشزدگی،ہرطرف اندھیرے چھا گئے

  • بیلاروس جلد ہی یوکرین پر حملہ کر سکتا ہے،نیٹو کے سینئر انٹیلی جنس اہلکار کا دعویٰ

    بیلاروس جلد ہی یوکرین پر حملہ کر سکتا ہے،نیٹو کے سینئر انٹیلی جنس اہلکار کا دعویٰ

    نیٹو کے ایک سینئر انٹیلی جنس اہلکار نے خبردار کیا کہ بیلاروس جلد ہی یوکرین پر حملہ کر سکتا ہے-

    باغی ٹی وی : عالمی خبررساں ادارے "دی گارجئین” کے مطابق نیٹو کے ایک سینئر انٹیلی جنس اہلکار کے مطابق، روس کا قریبی اتحادی بیلاروس جلد ہی یوکرین پر حملہ کر سکتا ہے اور روس کو بیلاروس کی سرزمین پر جوہری ہتھیار رکھنے کی ممکنہ اجازت دینے کی تیاری کر رہا ہے۔

    ہولوکاسٹ میں زندہ بچ جانے والا یہودی یوکرین جنگ میں ہلاک

    نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے، اہلکار نے کہا کہ اتحاد کو تشویش ہے کہ بیلاروسی فوجی یوکرین میں لڑائی میں شامل ہو سکتے ہیں بیلاروس کی حکومت یوکرین کے خلاف بیلاروس کی کارروائی اور بیلاروس میں روسی جوہری ہتھیاروں کی تعیناتی کو جواز فراہم کرنے کے لیے ماحول تیار کر رہی ہے۔

    یوکرائنی حکام عوامی سطح پر خبردار کرتے رہے ہیں کہ بیلاروس جنگ میں شامل ہو سکتا ہے۔ اہلکار نے کہا کہ جہاں بیلاروس نے روسی فوجیوں کو زمینی اور فضائی کارروائیوں کے لیے اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دی ہے، نیٹو نے اس بات کا کوئی پختہ ثبوت نہیں دیکھا کہ بیلاروس کے فوجیوں نے براہ راست یوکرین میں جنگ میں حصہ لیا ہے۔

    اہلکار نے مزہد کہا کہ میں آپ کو یہ نہیں بتا رہا ہوں کہ وہ کل وہاں جوہری ہتھیار ڈالیں گے۔ میرا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے سیاسی طور پر ایسے اقدامات کیے ہیں کہ اگر ایسا کوئی فیصلہ کیا جائے تو اب جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے قابل ہو جائیں گے-

    اہلکار نے کہا کہ یوکرین میں تنازع تعطل میں داخل ہونے کے دہانے پر ہے، یوکرین کی افواج روس کو پیش رفت کرنے سے روک رہی ہیں لیکن روسی صدر ولادیمیر پوتن نے پیچھے ہٹنے پر آمادگی ظاہر نہیں کی۔

    اہلکار نے کہ اگر ہم پیشرفت کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں، تو ہم تیزی سے ایک کے قریب پہنچ رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی ایک فریق کو دوسرے پر برتری حاصل نہیں ہے گزشتہ دو ہفتوں میں کوئی خاص پیش رفت نہ ہونے کے باوجود، پوٹن ناکامی کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں تعطل ایک "طویل، کھینچی جانے والی لڑائی” کا باعث بنے گا جس میں "شدید” جانی اور مالی نقصان شامل ہو گا۔

    امریکہ نے میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام کو نسل کشی قرار دے دیا

    نیٹو اہلکار نے مزید کہ یہاں کوئی بھی فریق نہیں جیت سکتا۔ کوئی بھی فریق تسلیم نہیں کرے گا۔

    ادھر امریکہ نے کہا ہے کہ وہ ہفتے کے آخر میں روس کے اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق یا تردید نہیں کر سکتا کہ اس نے یوکرائنی ہدف پر ہائپر سونک میزائل داغے تھے۔ ایک سینئر امریکی دفاعی اہلکار نے کہا کہ اس طرح کے ہتھیار کا استعمال فوجی نقطہ نظر سے بہت کم معنی رکھتا ہے۔

    وقت آ گیا ہے ماسکو یوکرین کی خود مختاری اور سالمیت کو تسلیم کر لے،یوکرینی صدر

  • انٹرنیشل ٹینس فیڈریشن نے بھی روس کی رکنیت معطل کر دی

    انٹرنیشل ٹینس فیڈریشن نے بھی روس کی رکنیت معطل کر دی

    انٹرنیشل ٹینس فیڈریشن نے روس اور بیلا روس کی رکنیت معطل کر دی.

    باغی ٹی وی : عالمی خبررسں ادارے کے مطابق فیفا اور یوئیفا کے بعد انٹرنیشنل ٹینس فیڈریشن نے بھی یوکرین پر روسی حملوں کے ردعمل کے طور پر روس پر پابندیاں عائد کر دیں۔

    یوکرینی دارالحکومت کیف پرروس کے لیے قبضہ مشکل ہوگیا: دفاع کی ذمہ داریاں اہم فوجی کمانڈر کے سپرد

    انٹرنیشل ٹینس فیڈریشن نے روس اور بیلا روس کی رکنیت معطل کر دی ہے۔ روس اور بیلا روس میں آئندہ کوئی انٹر نیشنل ٹینس ایونٹ نہیں ہو گا روس اور بیلا روس کو ٹینس کے ٹیم ایونٹس میں شرکت کی اجازت بھی نہیں ہوگی۔ تاہم ان ممالک کے کھلاڑی بغیر کسی قومی شناخت کے ٹورنامنٹس میں شرکت کر سکیں گے۔

    گزشتہ روزبین الاقوامی اولمپک کمیٹی نے سفارش کی تھی کہ کھیلوں کی تنظیمیں روسی اور بیلاروسی ایتھلیٹس کو ایونٹس میں شرکت سے روکیں۔

    اس سے قبل فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا نے روس پر فٹبال کے تمام مقابلوں میں حصہ لینے پر پابندی عائد کی تھی فیفا اور یوئیفا کی جانب سے جاری کیے گئے مشترکہ بیان کے مطابق روس کسی بھی قسم کےفٹبال مقابلوں میں شرکت نہیں کرسکے گا۔

    امریکہ،یورپ اوردیگرنیٹواتحادیوں نےروس پرایٹمی حملے سے زیادہ خطرناک حملہ کردیا

    یاد رہے کہ روس کی قومی فٹبال ٹیم نے 24 مارچ کو ورلڈکپ کے پلے آف مرحلے کے لیے پولینڈ کے ساتھ کھیلنا تھا۔

    قبل ازیں ایپل نے بھی روس میں تمام مصنوعات کی فروخت روک دی ہے یہ اقدام ٹیک کمپنی کی جانب سے منظر عام پر لائے گئے متعدد اقدامات میں شامل تھا، جس میں روس میں ایپل پے اور دیگر خدمات کو محدود کرنا، اور روس سے باہر اپنے ایپ اسٹور سے ریاستی حمایت یافتہ نیوز آؤٹ لیٹس RT اور Sputnik کو ہٹانا شامل ہے۔

  • یوکرینی دارالحکومت کیف پرروس کے لیے قبضہ مشکل ہوگیا: دفاع کی ذمہ داریاں اہم فوجی کمانڈر کے سپرد

    یوکرینی دارالحکومت کیف پرروس کے لیے قبضہ مشکل ہوگیا: دفاع کی ذمہ داریاں اہم فوجی کمانڈر کے سپرد

    کیف :یوکرینی دارالحکومت کیف پرروس کے لیے قبضہ مشکل ہوگیا: دفاع کی ذمہ داریاں اہم فوجی کمانڈر کے سپرد ،اطلاعات کے مطابق یوکرین کے صدر ولودومیر زیلینسکی نے دارالحکومت کیف کا دفاع مضبوط کرنے کیلئے فوجی کمانڈ تبدیل کردی۔اطلاعات یہ بھی ہیں‌ کہ ایک بار پھر روسی حملوں میں تیزی آگئی ہے اور جنگ چھٹے روز بھی جاری ہے۔

    روسی فوج کی جانب سے دارالحکومت کیف کی جانب تیزی سے پیشقدمی کی جارہی ہے اور ایسے میں یوکرین نے بھی دارالحکومت کا دفاع مضبوط بنانے کی تیاریاں کرلی ہیں۔

    یوکرینی صدر نے قوم سے خطاب میں کہا کہ دارالحکومت کا دفاع سب سے پہلی ترجیح ہے اور اس کیلئے ملٹری ایڈمنسٹریشن میں تبدیلی کی گئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ دارالحکومت کے دفاع کیلئے جنرل میکولا زیرنوف کو ملٹری انتظامیہ کا سربراہ بنایا گیا ہے۔

    خیال رہے کہ جنرل میکولا زیرنوف ملک کی قومی سلامتی اور دفاعی کونسل کے رکن ہیں۔

    روس کی جانب سے یوکرین پر حملے کا آج چھٹا روز ہے اور ایسے میں دارالحکومت کیف اور دیگر علاقوں میں جنگ جاری ہے۔

    گزشتہ روز روس اور یوکرین کے درمیان مذاکرات کی ناکامی کے بعد ایک بار پھر روسی حملوں میں تیزی آگئی ہے۔

    رپورٹس کے مطابق روسی فوج نے یوکرین کے دوسرے بڑے شہر خارکیف کے سینٹرل اسکوائر پر میزائل حملہ کیا جس میں کم سے کم 10 افراد ہلاک اور 20 زخمی ہوئے۔

     

    اُدھر روسی افواج نے یوکرین کے شہر اوختیرکا میں بھی حملے کیے اور ایک فوجی اڈہ تباہ کیا، اس حملے میں 70 یوکرینی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

    اس کے علاوہ آج روسی فوج نے ایک اور یوکرینی شہر خیرسون کو بھی گھیرے میں لیکر حملہ کیا ہے اور اب تک وہاں جنگ جاری ہے۔برطانوی میڈیا کے مطابق خیرسون میں روسی فوجیوں نے باہر جانے والے راستوں پر چوکیاں بنا لی ہیں۔

    رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ روسی افواج کا بڑا کانوائے یوکرینی دارالحکومت کیف کی جانب بڑھ رہا ہے۔ کانوائے کی کیف کی جانب پیشقدمی کی تصدیق سیٹلائٹ تصاویر کی ذریعے بھی کی گئی ہے۔

    دوسری جانب روس نے حملے کے بعد سے لوہانسک اور دونیستک کے علاوہ دارالحکومت کیف کے اردگرد کے علاقے اور خارکیف کے بھی کچھ مقامات پر قبضہ کرلیا ہے۔روس فوج کریمیا کی جانب سے بھی پیشقدمی کرتے ہوئے متعدد مقامات کا کنٹرول سنبھال چکی ہے۔

  • کونسے سے ممالک یوکرین کو اسلحہ فراہم کر رہے ہیں؟

    کونسے سے ممالک یوکرین کو اسلحہ فراہم کر رہے ہیں؟

    بیلا روس: روس اور یوکرین کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں یوکرینی وفد نے فوری سیز فائر اور فوج نکالنے کا مطالبہ کردیا۔

    باغی ٹی وی : روس اور یوکرین کے درمیان آج پانچویں روز بھی جنگ جاری ہے اور اس دوران کئی یوکرینی شہر روسی افواج کے محاصرے میں ہیں یوکرین کی جانب سے بیلاروس کے دارالحکومت منسک میں مذاکرات سے انکار اور پھر آمادگی کے بعد آج دونوں ممالک کے درمیان باقاعدہ مذاکرات شروع ہوگئے ہیں۔

    روس،یوکرین جنگ :زیر زمین پناہ گاہوں میں بچوں کی پیدائش

    بیلاروسی کے سرحدی علاقے گومیل میں ہونے والے مذاکرات میں یوکرینی وفد کی قیادت وزیر دفاع اولیکسی ریزنیکوف کر رہے ہیں جبکہ یوکرینی صدر کے مشیر بھی شامل ہیں یوکرینی وفد فوجی ہیلی کاپٹر میں مذاکراتی مقام پر پہنچا۔

    غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق مذاکرات میں یوکرین نے روسی افواج کے فوری طور پر ملک سے نکلنے کا مطالبہ کیا جبکہ یوکرینی وفد نے روس سے فوری طور پر سیز فائر کا بھی مطالبہ کیا تاہم مذاکرات کے حوالے سے اب تک کوئی باقاعدہ بیان جاری نہیں کیا گیا اور نہ ہی مذاکرات میں ہونے والی کوئی اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔

    ادھر روس کی جانب سے یوکرین میں اپنے فوجی بھیجے جانےکے بعد سے دنیا بھر سے مختلف ممالک یوکرین کی فوجی امداد کررہے ہیں الجزیرہ کے مطابق یوکرینی وزارت صحت نے دعویٰ کیا ہےکہ جنگ شروع ہونےکے بعد سے 350 سے زائد شہری ہلاک ہوچکے ہیں اقوام متحدہ کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد سے ساڑھے 3 لاکھ سے زائد یوکرینی شہری پولینڈ اور دیگر ہمسایہ ممالک میں پناہ لے چکے ہیں۔

    یوکرین کا روس کے 5300 فوجی ہلاک اور29 طیارے مارگرانے کا دعویٰ

    خیال رہے کہ عسکری قوت کے لحاظ سے دونوں ممالک کا موازنہ نہیں کیا جاسکتا کیونکہ روس دنیا کی دوسری بڑی عسکری قوت ہونے کے باعث یوکرین سے کئی گنا زیادہ طاقت ور ہے، ایسی صورتحال میں بہت سے ممالک ہیں جو روس کے خلاف دفاع کے لیے یوکرین کو اسلحہ اور دیگر عسکری سازو سامان فراہم کررہے ہیں یوکرین کی جانب سے امریکا اور یورپی اتحادیوں سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ اسے روس کے خلاف مزاحمت کے لیے ٹینک شکن میزائل اور طیارہ شکن اسٹنگر میزائل فراہم کیے جائیں۔

    امریکا:
    یوکرین کو فوجی امداد فراہم کرنے والے ممالک میں امریکا سرفہرست ہے، 25 فروری کو صدر بائیڈن نے یوکرین کے لیے اضافی فوجی امداد کا اعلان کیا جس کے تحت یوکرین کو 35 کروڑ ڈالر کی اضافی فوجی امداد فراہم کی جارہی ہے –

    امریکی وزیرخارجہ انتھونی بلنکن کا کہنا تھا کہ روسی حملےکے خلاف امریکی پیکج میں ہلاکت خیز ہتھیاروں کی دفاعی امداد شامل ہوگی۔

    امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے مطابق یوکرین کو فراہم کیے جانے والے اسلحے میں ٹینک شکن سمیت متعدد ایسے ہتھیار ہیں جو فرنٹ لائن پر موجود یوکرینی فوجیوں کے کام آئیں گے، جب کہ امریکی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان کے مطابق اسلحے میں طیارہ شکن میزائل بھی شامل ہیں۔

    یوکرین:ایٹمی تنصیبات پرروس کے میزائل حملے:امریکہ اوراتحادیوں کی طرف سے سخت ردعمل

    امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکا کی جانب سے حالیہ کچھ عرصے میں یوکرین کو ایک ارب ڈالر سے زائد فوجی امداد فراہم کی گئی ہے۔

    برطانیہ:
    جنوری میں برطانوی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ برطانیہ نے یوکرین کو ٹینک شکن میزائل فراہم کرنےکا فیصلہ کیا ہےگذشتہ بدھ کو برطانوی وزیراعظم نے وعدہ کیا تھا یوکرین کی عسکری امداد جاری رکھی جائےگی اور یوکرین کو مہلک دفاعی اسلحہ بھی فراہم کیا جائےگا۔

    بورس جانسن کا کہنا تھا کہ روس کے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر یوکرین کو دفاعی امداد کا پیکج فوری طور پر فراہم کررہے ہیں، یوکرین کو فراہم کیے جانے والے اسلحے میں مہلک اور دفاعی دونوں طرح کے ہتھیار شامل ہیں۔

    فرانس:
    فرانس کی جانب سے یوکرین کی پہلے سے ہی عسکری امداد کی جارہی ہے اور اب فرانسیسی حکومت نے یوکرین کو مزید فوجی سازو سامان اور فیول فراہم کرنےکا فیصلہ کیا ہے فرانس کا کہنا ہےکہ یوکرین کی درخواست پر اسے دفاع کے لیے طیارہ شکن توپیں اور ڈیجیٹل اسلحہ فراہم کیا گیا ہے۔

    پیوٹن کی نیوکلیئر فورسزکو تیار رہنے کی ہدایت،نیٹو اور امریکا کا شدید ردعمل

    نیدرلینڈ:
    ایک اور یورپی ملک نیدر لینڈ کی جانب سے یوکرین کو 200 طیارہ شکن اسٹنگر میزائل فراہم کیے جارہے ہیں اور اس حوالے سے ولندیزی حکومت نے جلد ازجلد میزائل فراہم کرنےکے لیے پارلیمنٹ کو خط لکھ دیا ہےنیدرلینڈ کی جانب سے یوکرین کو ٹینک شکن میزائل اور راکٹ بھی فراہم کیے جارہے ہیں اس کے علاوہ نیدرلینڈ جرمنی کے ساتھ مل کر یوکرین کے پڑوسی ملک سلواکیہ میں فضائی دفاعی نظام پیٹریاٹ بھیجنے پر بھی غور کر رہا ہے۔

    جرمنی :
    جرمنی کا شمارہ دنیا کے بڑے اسلحہ ساز ممالک میں ہوتا ہے، جرمنی کی جانب سے یوکرین کو ایک ہزار ٹینک شکن اور 500 طیارہ شکن اسٹنگر میزائل فراہم کیے جارہے ہیں جرمنی کے اس اقدام کو اس کی پالیسی میں ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھا جارہا ہےکیونکہ جرمنی طویل عرصے سے جنگ زدہ علاقوں میں اسلحےکی فراہمی پر پابندی کی پالیسی پرکاربند رہا ہے۔

    جرمن چانسلر کا کہنا ہےکہ روس کی جانب سے یوکرین میں حملہ اہم موڑ ہے، اس موقع پر ہمارا فرض ہے کہ ہم یوکرین کو اس کے دفاع کے لیے ہرممکن امداد کریں۔

    اقوام متحدہ کی ماحولیاتی کانفرنس میں روسی وفد نے یوکرین حملے پر معافی مانگ لی

    کینیڈا:
    کینیڈا کی جانب سے روسی حملےکے خلاف مزاحمت کے لیے یوکرین کو مہلک اسلحہ فراہم کیا جارہا ہے اور اس کے علاوہ یوکرین کو تقریباً40 کروڑ امریکی ڈالر کا قرضہ بھی دیا جارہا ہے۔

    سویڈن:
    اسکینڈے نیوین یورپی ملک سویڈن بھی اپنی غیرجانبدار رہنے کی تاریخی پالیسی ختم کرتے ہوئے 5 ہزار ٹینک شکن راکٹ یوکرین کو فراہم کررہا ہے، اس کے علاوہ جنگ میں فوجیوں کے زیر استعمال عسکری سازو سامان اور بلٹ پروف جیکٹ بھی دی جارہی ہیں 1939 کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب سویڈن نے جنگ زدہ ملک کو اسلحہ فراہم کیا ہے، آخری بار یہ تب ہوا تھا جب سوویت یونین نے 1939 سویڈن کے ہمسایہ ملک فن لینڈ پر حملہ کیا تھا۔

    بیلجیئم اور پرتگال:
    ایک اور یورپی ملک بیلجیئم نے بھی 3 ہزار سے زائد مشین گنیں، 200 ٹینک شکن میزائل اور ہزاروں ٹن فیول فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔جبکہ پرتگال کی جانب سے یوکرین کو رات میں دیکھنے والے چشمے ‘نائٹ ویژن گوگلز’ ، دستی بم، خودکار جی تھری بندوقیں اور دیگر اسلحہ فراہم کیا جارہا ہے۔

    یونان
    یوکرین میں یونانی شہریوں کی ایک بڑی تعداد روزگار کے لیے موجود ہے جن میں سے حالیہ تنازعے میں 10 افراد قتل بھی ہوئے ہیں۔ یونان کی جانب سے یوکرین کو انسانی امداد کے ساتھ دفاعی آلات فراہم کیے جارہے ہیں۔

    رومانیہ
    یوکرین کے ہمسایہ ملک رومانیہ نے اپنے 11 فوجی اسپتال یوکرین سے آنے والے زخمیوں کے لیے مختص کردیے ہیں، اس کے علاوہ رومانیہ یوکرین کو فیول سمیت 33 لاکھ ڈالرکا فوجی سازوسامان فراہم کررہا ہے۔

    یوکرین بغیر کسی پیشگی شرط کے روس کے ساتھ امن مذاکرات پر تیار

    اسپین
    ہسپانوی حکومت نے بلٹ پروف جیکٹوں سمیت دیگر دفاعی آلات فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے، اس کے علاوہ یوکرین کے لیے طبی سازوسامان اور کھانے پینے کا سامان بھجوایا جارہا ہے۔

    چیک ریپبلک
    چیک ریپلک کی حکومت نے 4 ہزار مارٹر گولے فوری طور پر فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے، اس کے علاوہ ہزاروں بندوقیں، خودکار مشین گنیں، اسنائپر رائفلز اور لاکھوں گولیاں فراہم کی جارہی ہیں۔

    ادھر نیٹو چیف اسٹولٹن برگ نےکہا ہےکہ یوکرین کےدفاع کےلیے پہلی بار نیٹو ریسپانس فورس فعال کی ہے،جس کے لیے امریکا 6 ارب ڈالر مختص کرےگا،یہ ریسپانس فورس مشرقی یورپ میں تعینات ہوگی۔

    دوسری جانب سوال اٹھ رہا ہےکہ 30 ممالک پر مشتمل سیاسی و عسکری اتحاد نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو) یوکرین کے دفاع کے لیے اپنی فوجیں بھیجے گا یا نہیں؟

    واضح رہے کہ یوکرین نیٹو کا رکن نہیں ہے تاہم سرد جنگ کے خاتمے کے بعد سابقہ سوویت یونین میں شامل اکثر یورپی ممالک نے نیٹو میں شمولیت اختیار کرلی تھی جب کہ یوکرین نیٹو کارکن تو نہیں بنا تاہم اس حوالے سے مذاکرات ہوتے رہے ہیں اور روس اس کا شدید مخالف رہا ہے روس کی جانب سےکریمیا کے تنازع میں کردار اور حالیہ تنازع کے بعد سے نیٹو نے یوکرین کو اس کے دفاع کے لیے متعدد یقین دہانیاں کروائی ہیں

    یورپ کا روس کے خلاف اتحاد:فضائی راستے بند:روسی طیارے گزریں گے توگرا دیں گے:جرمنی…

    ایسی صورتحال میں ایک برطانوی شہری نےبرطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی سوال کیا کہ وہ کون سا وقت ہوسکتا ہے جب نیٹو کے رکن ممالک کا صبر کا پیمانہ لبریز ہوجائے اور وہ یوکرین کی مدد کے لیے فوجیں بھجوانے پر رضامند ہوجائیں؟

    کیف میں موجود بی بی سی کے انٹرنیشنل ڈیسک کے چیف رپورٹر لائز ڈاؤسٹ نے اس سوال کے جواب میں کہا کہ نیٹو کے رکن ممالک روس کی ہر حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور انہوں نے خبردار کیا ہےکہ ان کا عسکری دفاعی اتحاد اپنے رکن ممالک کی زمین کے ہر انچ کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ نیٹو ممالک نے یوکرین میں اسلحہ اور فوجی سازو سامان بھجوایا ہے اور انہوں نے حالیہ برسوں میں یوکرینی فوجیوں کو تربیت بھی فراہم کی ہے، جو کہ روسی حملےکے خلاف یوکرین کے دفاع کے لیے کیا گیا اقدام ہے تاہم ان کی جانب سے مسلسل یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ یوکرینی زمین پر نیٹو کا کوئی فوجی نہیں بھیجا جائےگا کیونکہ یوکرین نیٹو کا رکن نہیں ہے، البتہ اگر روس یوکرین سے آگے نیٹو کے رکن ممالک کی طرف بڑھتا ہے تو صورتحال بدل سکتی ہے۔

    لائز ڈاؤسٹ کے مطابق اگر ایسا ہوا تو دنیا ایک غیر یقینی صورتحال میں داخل ہوجائےگی جس میں روس اور نیٹو کے تصادم کا خطرہ خطرناک حد تک بڑھ جائےگا۔

    خیال رہے کہ نیٹو کے آئین کے مطابق اگر کسی ایک رکن ملک پر حملہ ہو تو وہ تمام اتحادیوں پر حملہ تصور کیا جائےگا۔

    یوکرین نے روس کیخلاف عالمی عدالت انصاف میں درخواست جمع کرا دی

  • یوکرائنی دارالحکومت پر قبضے کی جنگ:روسی فوج کوسخت مزاحمت کا سامنا:میزائل گرانے کا دعویٰ

    یوکرائنی دارالحکومت پر قبضے کی جنگ:روسی فوج کوسخت مزاحمت کا سامنا:میزائل گرانے کا دعویٰ

    کیف:یوکرائنی دارالحکومت پر قبضے کی جنگ:روسی فوج کوسخت مزاحمت کا سامنا:میزائل گرانے کا دعویٰ،اطلاعات کے مطابق یوکرائن کے دارالحکومت کیف پر قبضے کی کشمکش کے دوران جھڑپوں میں تیزی آ گئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق کیف کے مضافاتی علاقے ترائیشچینا پر روس کی جانب سے میزائل حملہ کیا گیا ہے۔یوکرائن کے وزیر داخلہ کے مشیر نے ٹیلی گرام ایپ پر ایک پوسٹ میں اسے رہائشی علاقے پر بے مقصد اور بے رحمانہ حملہ قرار دیا ہے۔یوکرائن نے بیلا روس سے دارالحکومت کیف کو نشانہ بنانے والے میزائل کو مار گرانے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔

    یوکرائن کے وزیرِ خارجہ اولگ نکولینکو نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی فضائیہ نے دارالحکومت کیف پر داغا گیا ایک میزائل مار گرایا ہے۔اُنہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ میزائل جس جہاز سے داغا گیا اُس نے روس کے اتحادی ملک بیلا روس سے پرواز کی تھی۔اُدھر دارالحکومت کیف کے شمال مغرب میں واقع مضافاتی علاقے بوچا میں متحارب فوجوں کے مابین لڑائی میں شدت آ گئی ہے۔

     

    ذرائع کے مطابق ایک روسی بکتر بند گاڑی سے مشین گن سے فائرنگ اور روسی فوجیوں کو بوچا کی گلیوں سے گزرتے ہوئے بھی دیکھا گیا ہے۔

    یوکرائن کی فوج نے عام لوگوں کو شہری مزاحمتی تحریک میں شامل ہونے کی دعوت دیتے ہوئے ان کے لیے ایک ہدایت نامہ جاری کیا ہے جس میں لکھا ہے کہ کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کے پاس اسلحہ ہے یا گولہ بارود یا پھر کچھ بھی نہیں، آپ دفاع کے تمام ممکنہ طریقے اور ذرائع استعمال کریں۔

    شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سڑکوں پر لگے روڈ سائنز ہٹا دیں یا انہیں مٹا دیں، روسی فوجیوں کی نقل و حرکت کو ناممکن بنانے کے لیے درخت گرا دیں، آگ لگانے کے لیے گھریلو ساختہ آلات کا بھرپور استعمال کریں، نقل و حمل کے مراکز کو تباہ کر دیں اور رات یا شام کے وقت زیادہ کام کریں۔

  • یوکرین پر حملہ ،روس کی اپنی  سلامتی پرحملہ:کیسے؟حقائق سامنے آگئے

    یوکرین پر حملہ ،روس کی اپنی سلامتی پرحملہ:کیسے؟حقائق سامنے آگئے

    کیف :یوکرین پر حملہ ،روس کی اپنی سلامتی پرحملہ:کیسے؟حقائق سامنے آگئے ،اطلاعات کے مطابق یوکرین نے خود پر حملے کے بعد روس کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کے ساتھ ساتھ اسے عالمی ادائیگیوں کے مرکزی نظام سے الگ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    سوسائٹی فار ورلڈ وائیڈ انٹربینک فنانشل ٹیلی کمیونیکیشن (SWIFT) نیٹ ورک سے روس کو نکالنے سے روس کی دنیا کے بیشتر ممالک کے ساتھ تجارت کرنے کی صلاحیت ختم ہو سکتی ہے اور اس کی معیشت کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔لیکن جمعرات کو، امریکہ اور یورپی یونین نے اس امکان پر نظرثانی کے دروازے کو کھلا چھوڑتے ہوئے روس کو SWIFT سے الگ نہ کرنے کا انتخاب کیا۔

    SWIFT کیا ہے؟

    SWIFT ایک ایسا نیٹ ورک ہے جسے بینک رقم کی منتقلی اور دیگر لین دین کے حوالے سے محفوظ پیغامات بھیجنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔تقریباً 200 ممالک میں 11 ہزار سے زیادہ مالیاتی ادارے SWIFT استعمال کرتے ہیں، جو اسے بین الاقوامی مالیاتی منتقلی کے نظام کی ریڑھ کی ہڈی بناتا ہے۔

    SWIFT کام کیسے کرتا ہے؟

    SWIFT کے پاس انٹرنیشنل بینکنگ نمبرز اور بینکوں کے شناختی کوڈز ریکارڈ کرنے کی اجازت ہے۔یہ دنیا بھر سے 11 ہزار سے زائد مالیاتی اداروں کو آپس میں جوڑتا ہے اور سالانہ 5 بلین سے زاید مالیاتی پیغامات نشر کرتا ہے۔کلائنٹس جب کوئی ٹرانزیکشنز کرتے ہیں تو یہ انہیں بینکوں سے جوڑتا ہے۔اگر دو ادارے آپس میں پارٹنرز نہیں تو سوئفٹ ثالثی ادارہ بن کر ان دونوں کے درمیان رابطہ کراتا ہے۔یہ خود کو ایک قابل اعتماد اور محفوظ سسٹم ہونے کا دعویٰ کرتا ہے جو بینکنگ پارٹنز کے درمیان ٹرانزیکشن کرتا ہے۔

    SWIFT کا مالک کون ہے؟

    SWIFT بیلجیئم قانون کے تحت قائم کی گئی ایک کوآپریٹو کمپنی ہے۔ اس کی ویب سائٹ پر موجود تفصیلات میں کہا گیا ہے کہ “یہ اپنے شیئر ہولڈرز (مالی اداروں) کی ملکیت ہے جو اسے کنٹرول کرتے ہیں اور دنیا بھر سے تقریباً 3,500 فرموں کی نمائندگی کرتے ہیں”۔

    SWIFT اور روس کے درمیان کیا تعلق ہے؟

    روسی نیشنل سوئفٹ ایسوسی ایشن کے مطابق، روس میں امریکہ کے بعد دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ صارفین ہیں، تقریباً 300 روسی مالیاتی ادارے اس نظام سے وابستہ ہیں۔روس کے نصف سے زیادہ مالیاتی ادارے SWIFT کے رکن ہیں۔

    ہانگ کانگ میں نیٹیکسس میں ایشیا پیسیفک کی چیف اکانومسٹ، ایلیسیا گارسیا ہیریرو نے کہا کہ روس پر SWIFT کے حوالے سے پابندی لگانا ملک کے لیے ایک سنگین دھچکا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ “یہ ایک بڑی بات ہے کیونکہ اس کے بنا کوئی قرض یا تجارتی مالیاتی ادائیگی نہیں کی جاسکتی۔”گارسیا ہیریرو کا کہنا ہے کہ یہ روس سے یورپی یونین کی گیس کی درآمد کو روکنے سے بڑا ہے۔

    روس کا ردعمل

    فیڈریشن کونسل کے نائب سپیکر نکولے زووراولیو نے جنوری میں تسلیم کیا کہ نیٹ ورک سے ملک کا اخراج ایک امکان ہے۔

    SWIFT ایک سیٹلمنٹ سسٹم ہے، یہ ایک سروس ہے۔ اس لیے اگر روس کا SWIFT سے رابطہ منقطع ہو جاتا ہے، تو ہم غیر ملکی کرنسی حاصل نہیں کریں گے۔ لیکن خریدار، یورپی ممالک، سب سے پہلے ہماری اشیاء تیل، گیس، دھاتیں اور ان کی درآمدات کے دیگر اہم اجزاء حاصل نہیں کر پائیں گے۔

    زوراولیو نے یہ بھی نشاندہی کی کہ اگرچہ SWIFT آسان ہے، لیکن یہ رقم کی منتقلی کا واحد طریقہ نہیں ہے، اور کسی ملک کو معطل کرنے جیسے فیصلے کے لیے اراکین کے درمیان اتفاق رائے کی ضرورت ہوگی۔زوراولیو نے مزید کہا کہ SWIFT ایک یورپی کمپنی ہے، ایک ایسوسی ایشن جس میں بہت سے ممالک شامل ہیں۔

    کیا روس کی SWIFT سے معطلی اس کے لیے واقعی خطرہ ہے؟

    برسلز میں قائم Bruegel تھنک ٹینک کے ڈائریکٹر گنٹرم وولف نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ اس حکمت عملی سے ہونے والے فائدے اور نقصانات قابل بحث ہیں۔عملی طور پر SWIFT سے ہٹائے جانے کا مطلب یہ ہوگا کہ روسی بینک اسے غیر ملکی مالیاتی اداروں کے ساتھ ادائیگی کرنے یا وصول کرنے کے لیے استعمال نہیں کر سکتے۔

    مغربی ممالک نے 2014 میں کریمیا کے الحاق کے بعد روس کو SWIFT سے خارج کرنے کی دھمکی دی تھی۔لیکن ورس جیسی بڑی معیشت جو تیل اور گیس کا ایک اہم برآمد کنندہ بھی ہے کو چھوڑنے سے دیگر ممالک کو بھی اہم نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    نیدرلینڈز کے وزیر اعظم مارک روٹے نے جمعرات کو اعتراف کیا کہ یورپی یونین کے کچھ ممالک کے لیے پابندی “حساس” ہے کیونکہ اس کا “خود پر بہت زیادہ اثر” پڑے گا۔

    وولف نے کہا کہ “عملی طور پر یہ ایک حقیقی سر درد ہو گا۔” اس کا اثر خاص طور پر یورپی ممالک کے لیے بہت اچھا ہوگا جو روس کے ساتھ اہم تجارت کرتے ہیں، جو براعظم کی قدرتی گیس کا 41 فیصد فراہم کرتا ہے۔ہیریرو نے کہا کہ روس کو چھوڑنا “بانڈ ہولڈرز، یورپی یونین کے بینکوں اور توانائی کے درآمد کنندگان کے لیے” مہنگا پڑے گا۔

    اس طرح کی پابندی ماسکو کو چین، یا دیگر ممالک کے ساتھ، مالیاتی نظام پر ممکنہ طور پر امریکی غلبہ کو کم کرنے کے ساتھ، متبادل منتقلی کے نظام کی ترقی کو تیز کرنے کی ترغیب دے سکتی ہے۔

  • روس کی ایران اور چین سے فوجی مشقیں:بیلا روس کےساتھ بھی ہنگامی فوجی مشقیں شروع کرنے کا اعلان

    روس کی ایران اور چین سے فوجی مشقیں:بیلا روس کےساتھ بھی ہنگامی فوجی مشقیں شروع کرنے کا اعلان

    ماسکو:روس کی ایران اور چین فوجی مشقیں جاری: بیلا روس کے ساتھ بھی ہنگامی فوجی مشقیں شروع کرنے کا اعلان ،اطلاعات کے مطابق روس کی بیلا روس کے ساتھ ہنگامی فوجی مشقیں شروع کےاعلان نے امریکہ اور اتحادیوں‌پر بجلی گرادی ہے اور یہ بھی اطلاعات ہیں کہ امریکہ نے روس کودھمکی آمیز پیغام بھیجنے کا پھرفیصلہ کیا ہے

    اطلاعات کے مطابق روس نے فوجی مشقوں کے لیے 2 فضائی دفاعی سسٹم بیلاروس بھیج دئیے،اور تازہ ترین اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ روس اور بیلاروس کے درمیان فوجی مشقیں 10 فروری کو شروع ہوں گی،اس سلسلے میں‌ فضائی دفاعی میزائل سسٹم اور 12 ایس یُو 35 جنگی طیارے بھی بیلاروس بھیجے جائیں گے،

    روسی دفاعی حکام کے مطابق روسی ایس 400 بیلاروس میں متوقع مشترکہ فوجی مشقوں میں شرکت کریں گے،

    ادھر پہلے ہی ایران، روس اور چین کے بحری بیڑوں نے بحیرہ ہند کے شمال میں وسیع پیمانے کی مشترکہ فوجی مشقیں شروع کر دی ہیں۔

    ادھر ایران کی سرکار ی خبر رساں ایجنسی IRNA کے مطابق "2022 بحری سلامتی بیلٹ ” کے زیرِ عنوان اور "مِل کر امن و سلامتی کے لئے” کے سلوگن کے ساتھ بحیرہ ہند کے شمال میں 17 ہزار مربع کلو میٹر علاقے میں مشترکہ فوجی مشقیں جاری ہیں۔

    خبر کے مطابق مشقوں میں ایران کابحری بیڑہ ، پاسدارانِ انقلاب اسلامی کے جنگی بحری جہاز اور فضائی یونٹیں اور روس اور چین کے جنگی و لاجسٹک بحری جہاز شامل ہیں ۔

    مشقوں کے ترجمان ایڈمرل مصطفیٰ تاج الدین نے کہا ہے کہ باب المندب، مالاکہ اور آبنائے ہرمز جیسی اہم آبی گزرگاہوں کے ساتھ رابطے کی وجہ سے بحیرہ ہند کا شمالی حصہ اہمیت کا حامل علاقہ ہے۔

    انہوں نے کہا ہے کہ "یہ مشقیں، طلائی تکون کے نام سے معروف اور عالمی تجارت کے لئے کلیدی اہمیت کے حامل علاقے میں، تینوں ممالک کے مفادات کے تحفظ اور پائیدار بحری سلامتی کو یقینی بنانے کی ایک مشترکہ کوشش ہیں”۔

    تاج الدین نے کہا ہے کہ مشقوں میں جلتے ہوئے بحری جہاز کو بچانے، اغوا شدہ بحری جہاز کی رہائی، متعینہ اہداف اور رات کے وقت فضائی اہداف کو نشانہ بنانے جیسے مختلف آپریشن کئے جائیں گے۔

    انہوں نے کہا ہے کہ بین الاقوامی بحری تجارت کی سلامتی کو تقویت دینا، بحری ٹوئرازم اور بحری قزاقوں کے خلاف جدوجہد، تلاش و بچاو کے علاقوں میں معلومات کا تبادلہ اور جنگی چالوں کے آپریشنوں میں تجربات کا تبادلہ مشقوں کے سرفہرست اہداف ہیں۔

    واضح رہے کہ "بحری سلامتی بیلٹ ” کے زیرِ عنوان موجودہ مشقیں ایران، روس اور چین کے درمیان تیسری مشقیں ہیں۔مذکورہ مشقوں کی پہلی مشقیں دسمبر 2019 میں کی گئی تھیں۔