Baaghi TV

Tag: بیلسٹک میزائل

  • ایران کے پاس اب بھی ہزاروں بیلسٹک میزائل اور لانچرز موجود ہیں،امریکی انٹیلیجنس

    ایران کے پاس اب بھی ہزاروں بیلسٹک میزائل اور لانچرز موجود ہیں،امریکی انٹیلیجنس

    امریکی انٹیلی جنس جائزوں سے واقف حکام کے مطابق ایران کے پاس اب بھی ہزاروں بیلسٹک میزائل موجود ہیں جنہیں زیرِ زمین اسٹوریج سے لانچرز نکال کر دوبارہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے کہا ہے کہ اس جنگ بندی کا مقصد نہ صرف بحری راستوں کی بحالی ہے بلکہ ایران، امریکی افواج اور خطے کی ریاستوں کو مزید حملوں سے محفوظ رکھنا بھی ہے۔ تاہم بعض امریکی اہلکاروں کو خدشہ ہے کہ ایران اس وقفے کو اپنی میزائل صلاحیت دوبارہ منظم کرنے کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔

    امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے صحافیوں سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ ایران کا میزائل پروگرام عملی طور پر تباہ ہو چکا ہے اور لانچرز و میزائل ناکار ہو گئے ہیں تاہم امریکی انٹیلی جنس رپورٹس اس دعوے سے جزوی طور پر مختلف تصویر پیش کرتی ہیں اگرچہ ایران کے نصف سے زائد میزائل لانچرز یا تو تباہ، نقصا ن زدہ یا زیر زمین پھنس چکے ہیں، لیکن ان میں سے متعدد کو مرمت کر کے یا زیر زمین کمپلیکس سے دوبارہ نکالا جا سکتا ہے۔

    امریکی حکام کے مطابق ایران کا میزائل ذخیرہ مجموعی طور پر تقریباً آدھا رہ گیا ہے، تاہم اس کے پاس اب بھی ہزاروں درمیانے اور کم فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل موجود ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق یہ میزائل زیر زمین چھپائے گئے مقامات یا خفیہ اسٹوریج سے دوبارہ استعمال میں لائے جا سکتے ہیں اسی طرح ایران کے پاس موجود ڈرونز کی تعداد بھی جنگ کے آغاز کے مقابلے میں 50 فیصد سے کم رہ گئی ہے، کیونکہ بڑی تعداد میں ڈرونز استعمال ہو چکے ہیں اور ایران کی پیداواری صلا حیت کو امریکی اور اسرائیلی حملوں نے متاثر کیا ہے۔

    تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ مذاکرات کی ناکامی پر ایران روس سے اسی نوعیت کے نظام حاصل کر کے اپنے دفاعی اور حملہ آور صلاحیت کو دوبارہ مضبوط بنا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ایران کے پاس اب بھی محدود تعداد میں کروز میزائل موجود ہیں جو خلیج فارس میں بحری جہازوں یا امریکی افواج کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں۔

    امریکی اور اسرائیلی حکام کے مطابق ایران کے تقریباً دو تہائی بیلسٹک میزائل لانچرز جنگ کے دوران ناکارہ ہو چکے ہیں، تاہم ان میں سے کئی اب بھی مرمت یا زیر زمین سے نکالے جا سکتے ہیں ایران کے پاس جنگ سے پہلے موجود تقریباً 2500 درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں میں سے اب بھی 1000 سے زائد باقی ہیں، جبکہ باقی استعمال یا تباہ ہو چکے ہیں۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ نے اس معاملے پر براہ راست تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے اور اعلیٰ امریکی فوجی قیادت کے حالیہ بیانات کی طرف اشارہ کیا ہےامریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے کہا کہ حالیہ حملوں نے ایران کے دفاعی صنعتی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے، امریکا نے 13 ہزار سے زائد بم استعمال کیے جن کے ذریعے میزائل اور ڈرون اسٹوریج مراکز،بحری اثاثے اور دفاعی صنعت کو نشانہ بنایا گیا تاکہ ایران اپنی سرحدوں سے باہر طاقت کے اظہار کی صلاحیت دوبارہ حاصل نہ کر سکے۔

    اُدھر واشنگٹن میں سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے ماہر جون آلٹر مین کے مطابق ایران اپنی محدود صلاحیت کے باوجود خلیج کے خطے میں اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے،ہر دن جب ایران شکست نہیں کھاتا وہ اس کے لیے فائدہ ہے، اور ہر دن جب مخالفین مکمل کامیابی حاصل نہیں کرتے وہ ان کے لیے نقصان ہے۔

  • ابوظبی میں میزائل کا ملبہ گرنے سے مزید 2 افراد جاں بحق

    ابوظبی میں میزائل کا ملبہ گرنے سے مزید 2 افراد جاں بحق

    ابوظبی میں میزائل کا ملبہ گرنے سے مزید 2 افراد جاں بحق جبکہ 3 زخمی ہوگئے۔

    ابو ظبی حکام کے مطابق اماراتی فضائی دفاعی نظام نے بیلسٹک میزائل کو تباہ کردیا جس کے بعد سویجان میں بیلسٹک میزائل کا ملبہ گرنے 2 افراد جاں بحق اور 3 زخمی ہوئے،بیلسٹک میزائل کا ملبہ گرنے سے متعدد گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا ہے-

    حکام کے مطابق ابوظبی کے علاقے سویحان اسٹریٹ پر اماراتی فضائی دفاعی نظام نے بیلسٹک میزائل تباہ کر دیا تباہ کیے گئے میزائل کا ملبہ گرنے سے متعدد گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا، جبکہ امدادی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوع پر پہنچ گئیں اور صورتِ حال کو قابو میں لے لیا گیا۔

    حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ صرف سرکاری ذرائع سے معلومات حاصل کریں اور افواہوں یا غیر مصدقہ خبروں کے پھیلاؤ سے گریز کریں۔

  • پاکستانی میزائل تجربات: دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ اور جوہری توازن برقرار رکھنے کی کوشش

    پاکستانی میزائل تجربات: دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ اور جوہری توازن برقرار رکھنے کی کوشش

    پاکستان نے گزشتہ چند برسوں کے دوران اپنی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ اور مؤثر جوہری توازن برقرار رکھنے کے لیے مختلف اقسام کے میزائلوں کے کامیاب تجربات کیے ہیں، جن میں زمین سے زمین تک مار کرنے والے کروز اور درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل شامل ہیں۔

    فتح-4 کروز میزائل
    30 ستمبر کو پاک فوج نے مقامی طور پر تیار کردہ فتح-4 کروز میزائل کا کامیاب تجربہ کیا، جس کی رینج 750 کلومیٹر ہے۔آئی ایس پی آر کے مطابق یہ جدید ایویونکس اور نیوی گیشنل نظام سے لیس میزائل دشمن کے دفاعی نظام کو چکمہ دینے اور اہداف کو انتہائی درستگی سے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
    زمین سے زمین پر مار کرنے والا فتح میزائل
    5 مئی کو پاکستان نے فتح سیریز کے زمین سے زمین پر مار کرنے والے گائیڈڈ میزائل کا کامیاب تجربہ کیا، جس کی رینج 120 کلومیٹر ہے۔یہ تجربہ فوجی مشق "ایکس انڈس” کے دوران کیا گیا، جس کا مقصد افواج کی عملی تیاری اور میزائل کے تکنیکی پہلوؤں کی تصدیق تھا۔
    ابدالی بیلسٹک میزائل
    اسی سال مئی میں پاکستان نے سطح سے سطح پر مار کرنے والے ابدالی بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا، جس کی رینج 450 کلومیٹر ہے۔یہ تجربہ بھی مشق "ایکس انڈس” کے دوران کیا گیا۔ ترجمان کے مطابق تجربے کا مقصد افواج کی تیاری اور میزائل کے جدید نیوی گیشنل نظام و بہتر حرکت کی صلاحیتوں کا جائزہ لینا تھا۔
    پاک بحریہ کا بیلسٹک میزائل تجربہ
    گزشتہ سال نومبر میں پاک بحریہ نے 350 کلومیٹر رینج والے مقامی بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ کیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق یہ میزائل خشکی اور سمندر، دونوں اہداف کو انتہائی درستگی سے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور جدید نیوی گیشنل ٹیکنالوجی سے لیس ہے۔
    شاہین ٹو میزائل
    گزشتہ سال اگست میں زمین سے زمین تک مار کرنے والے شاہین ٹو میزائل کا تجربہ کیا گیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق اس تربیتی لانچ کا مقصد ٹروپس کی تربیت اور مختلف تکنیکی پہلوؤں کی جانچ تھا۔
    راکٹ فورس کمانڈ کا قیام
    پاکستان آرمی نے اگست میں "راکٹ فورس کمانڈ” قائم کی تاکہ دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔یہ کمانڈ بیلسٹک، کروز اور ممکنہ طور پر ہائپر سونک میزائلوں کے آپریشن کی ذمہ دار ہوگی۔بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے بعد پاکستان نے اپنی فوجی صلاحیتوں میں اضافہ کیا ہے اور مالی سال 2025-26 کے دفاعی بجٹ میں 20 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی سے لیس یہ فورس پاکستان کی روایتی جنگی صلاحیت کو مزید مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

    پاکستان کی جنوبی افریقہ کے خلاف پہلے ٹی20 میں ٹاس جیت کر فیلڈنگ

  • جاپانی وزیر اعظم  کی شمالی کوریا کے مشتبہ بیلسٹک میزائل تجربے کی  تصدیق

    جاپانی وزیر اعظم کی شمالی کوریا کے مشتبہ بیلسٹک میزائل تجربے کی تصدیق

    سیؤل: جنوبی کوریا کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ شمالی کوریا نے آج صبح سمندر بحیرہ مشرقی، جسے بحیرہ جاپان بھی کہا جاتا ہے کی جانب بیلسٹک میزائل داغا ہے۔

    جاپانی وزیر اعظم فومیو کیشیدا کے دفتر نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر تصدیق کی ہے کہ شمالی کوریا نے مشتبہ بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا ہے جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کا کہنا ہے کہ انہوں نے لانچ کا سراغ لگا لیا ہے تاہم انہوں نے اس حوالے سے کوئی تفصیلات نہیں دیں، میزائل کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس کے جاپان تک پہنچنے کی توقع نہیں ہے۔

    اس سے قبل شمالی کوریا کا آخری میزائل تجربہ 30 مئی کو ہوا تھا جب سیئول نے پیانگ یانگ پر کم فاصلے تک مار کرنے والے 10 بیلسٹک میزائل داغنے کا الزام عائد کیا تھا اس کے ایک دن بعد شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا نے رہنما کم جونگ ان کی تصاویر جاری کیں جن میں وہ متعدد راکٹ لانچر سسٹم کے تجربات کی نگرانی کرتے دکھائی دے رہے تھے۔

    زرتاج گل کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم

    وزیراعلیٰ پنجاب کا منشیات سے پاک پنجاب کا عزم

    ممکنہ سیلاب کا خدشہ: مریم نواز کا پنجاب بھر میں ندی نالوں کی صفائی …

  • شمالی کوریا نے جاپانی سمندری حدود کے قریب بیلسٹک میزائل فائر کر دیا

    شمالی کوریا نے جاپانی سمندری حدود کے قریب بیلسٹک میزائل فائر کر دیا

    شمالی کوریا نے جاپانی سمندری حدود کے قریب بیلسٹک میزائل فائر کر دیا-

    باغی ٹی وی: جاپان کے وزیر اعظم ہاؤس نے اپنے ایک بیان میں شبہ ظاہر کیا ہے کہ شمالی کوریا کی جانب سے جاپانی سمندری حدود کے قریب بیلسٹک میزائل فائر کیا گیا ہے،جنوبی کورین خبر ایجنسی کے مطابق شمالی کوریا کی جانب سے فائر کیا گیا میزائل کورین اور جاپانی پیننسولا کے درمیان گرا ہے۔

    واضح رہے کہ شمالی کوریا کی جانب سے میزائل فائر کرنے کا واقعہ، 1980 کے بعد پہلی مرتبہ امریکا کی نیوکلیئر بیلسٹک میزائل سے لیس آبدوز کے جنوبی کوریا میں چکر لگانے کے بعد پیش آیا ہے۔

    ایک ہفتہ قبل شمالی کوریا کی جانب سے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل واسونگ 18 کا کامیاب تجربہ کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے اسے امریکا اور اس کے اتحادیوں کیلئے وارننگ قرار دیا گیا تھا جہاں شمالی کوریا نے امریکی جاسوس طیاروں پر اس کے اقتصادی زونز میں فضائی حدود کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا تھا اور امریکی جوہری صلاحیت کی حامل کروز میزائل آبدوز کے جنوبی کوریا کے حالیہ دورے کی مذمت کرتے ہوئے اس کے جواب میں اقدامات کا وعدہ کیا تھا۔

    ناروےکی میٹا کو جرمانے کی دھمکی

    جاپان کے چیف کابینہ سیکرٹری ہیروکازو ماتسونو نے کہا کہ انٹرکانٹی نینٹل بیلسٹک میزائل نے 74 منٹ تک 6ہزار کلومیٹر (3ہزار728 میل) کی بلندی اور 1ہزار کلومیٹر کی رینج تک پرواز کی جو شمالی کوریا کے کسی میزائل کی اب تک کی سب سے طویل پرواز ہے۔

    جاپان کے کوسٹ گارڈ نے پیش گوئی کی تھی کہ یہ میزائل جزیرہ نما کوریا کے مشرق میں تقریباً 550 کلومیٹر(340 میل) دور گرے گا۔

    رواں سال اپریل میں شمالی کوریا نے اپنا پہلا ٹھوس ایندھن سے چلنے والے انٹر کانٹینینٹل بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا تھا جو اس سال کیے گئے تقریباً ایک درجن میزائل تجربات میں سے تھا اور تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ شمالی کوریا کا یہ بیلسٹک میزائل امریکا میں کسی بھی ہدف کا نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس نے ممکنہ طور پر ایسے جوہری ہتھیار تیار کر لیے ہیں جو راکٹوں پر نصب ہو سکتے ہیں۔

    اس میزائل تجربے کے بعد نیٹو اجلاس میں شرکت کے لیے موجود جنوبی کوریا کے صدر یون سک یول نے نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر لتھوانیا میں قومی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کیا جس میں اس میزائل لانچ پر تبادلہ خیال کیا گیا اور اس طرح کے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے سربراہی اجلاس کو مضبوط بین الاقوامی یکجہتی کے لیے استعمال کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

    غلاف کعبہ تبدیل کر دیا گیا،ویڈیو

    یون سک یول اور جاپانی وزیر اعظم فومیو کشیدا نے الگ الگ بات چیت کی اور اس لانچ کو اقوام متحدہ کی متعدد قراردادوں کی سنگین خلاف ورزی اور سنگین اشتعال انگیزی قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی فومیو کشیدا نے میزائل کو انٹر کانٹی نینٹل بیلسٹ میزائل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے خطے اور اس سے باہر امن و استحکام کو خطرہ لاحق ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے دونوں پڑوسی ممالک اور امریکا کے درمیان قریبی تعاون کی ضرورت ہے۔

    امریکا نے بھی شمالی کوریا کے میزائل تجربے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ وہ خطے میں عدم استحکام کا سبب بننے والے اقدامات کا خاتمہ کرتے ہوئے مذاکرات کی میز پر آئےامریکا کی نیشنل سیکیورٹی کونسل کے ترجمان ایڈم ہوج نے ایک بیان میں کہا کہ یہ میزائل لانچ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے اور اس سے خطے میں غیرضروری طور پر تناؤ میں اضافہ ہو گا شمالی کوریا کے لیے سفارت کاری کے دروازے بند نہیں ہوئے اور پیانگ یانگ کو عدم استحکام کا سبب بننے والے ان اقدامات کو ترک کرتے ہوئے سفارتی گفت و شنید کے عمل کا حصہ بننا چاہیے۔

    مکیش امبانی کا اداکارہ عالیہ بھٹ کا برانڈ خریدنے کا فیصلہ،دوگنا قیمت کی پیشکش

    دوسری جانب ایک امریکی فوجی کی جانب سے شمالی کوریا کی سرحد عبور کرنے کے بعد اس کے خلاف ادارتی کارروائی شروع کردی گئی ہے برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق امریکی فوجی شمالی کوریا کی تحویل میں ہے، فوجی کے سرحد عبور کرنے کے واقعے سے دونوں ممالک کے درمیان ایک نیا تنازعہ پیدا ہو گیا ہے۔

  • شمالی کوریا کا طویل فاصلے تک مار کرنے والے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا تجربہ

    شمالی کوریا کا طویل فاصلے تک مار کرنے والے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا تجربہ

    شمالی کوریا نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق شمالی کوریا نے ہفتے کو دارالحکومت پیانگ یانگ کے قریب موجود سائٹ سے میزائل فائر کیا بیلسٹک میزائل 67 منٹ میں 900 کلومیٹر سے زیادہ کی پرواز کرنے کے بعد جاپان کے دریا میں گر گیا۔

    پیانگ یانگ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اس تجربے سے ظاہر ہوتا ہے کہ شمالی کوریا امریکا اور جنوبی کوریا جیسی دشمن قوتوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    دوسری جانب شمالی کوریا کی جانب سے جاپان کے مغربی ساحل کے قریب سمندر میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل Hwasong-15 کے تجربے کے ایک دن بعد امریکا اور جنوبی کوریا نے مشقیں کیں-

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق شمالی کوریا کی سرحد کے نزدیک ہونے والی امریکا اور جنوبی کوریا کی مشترکہ فوجی مشقوں میں جدید جنگی بمبار طیاروں نے حصہ لیا، اس مشترکہ فوجی مشق میں جنوبی کوریا کے F-35A اور F-15K جب کہ امریکا کے F-16 لڑاکا اور B-1B بمبار طیاروں نے حصہ لیا۔

    دوسری جانب جاپان نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ آج امریکا کے ساتھ ایک مشترکہ فضائی مشق کرے گا جس کا مقصد اپنی ریاست کو محفوظ بنانے کے لیے دفاعی قوت کو مضبوط بنانا ہے۔

    1999 کےزلزلے میں پیدا ہونیوالا نوجوان 2023 کے زلزلے میں جاں بحق ہو گیا

    شمالی کوریا نے جنوبی کوریا، امریکا اور جاپان کی سالانہ فوجی مشقوں کے باعث ہی دو روز قبل بین البراعظمی بیلسٹک میزائل تجربہ بطور انتباہ کیا تھا جسے جنوبی کوریا اور جاپان خاطر میں نہ لائے۔

    جاپان نے شمالی کوریا کی جارحیت پسند فوجی پالیسیوں اور جنگی تیاریوں کے باعث اپنے دفاعی بجٹ میں کئی گنا اضافہ کردیا ہے جب کہ جنوبی کوریا اور امریکا نے شمالی کوریا کو جنگی عزائم سے باز رکھنے کے لیے انتباہ کیا-

    پیانگ یانگ نے دھمکی دی ہے کہ شمالی کوریا پر حملہ کرنے کی تیاری کے سلسلے میں شروع ہونے والی ایسی کسی بھی مشقوں کے خلاف بھرپور جوابی کارروائی کریں گے۔

    برطانوی اخبار نے مودی حکومت کا گھناؤنا چہرہ بے نقاب کردیا

  • شمالی کوریا نے  بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کی نمائش کر دی

    شمالی کوریا نے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کی نمائش کر دی

    پیانگ یانگ: شمالی کوریا نے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل پیش کر دیا-

    باغی ٹی وی : شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا کے مطابق بدھ کی رات شمالی کوریا کی فوج کی 75 ویں یوم تاسیس کی تقریبات ہوئیں جس کی پریڈ میں رہنما کم جونگ ان اپنی اہلیہ اور بیٹی کے ساتھ شریک ہوئے۔

    فوجی پریڈ کے دوران بین البراعظمی بیلسٹک میزائلوں (ICBMs) اور دیگر ہتھیاروں کی نمائش کی ہے اور انہیں ملک کے ’’سب سے بڑے‘‘ جوہری حملے کی صلاحیت کا حامل قرار دیا ہے۔

    فوجی پریڈ میں مختلف قسم کے جوہری صلاحیت والے ہتھیار، جن میں ٹیکٹیکل نیوکلیئر میزائل اور ICBM شامل تھےنمائش میں موجود سسٹمز میں ملک کا سب سے بڑا ICBM ،Hwasong-17 شامل تھا-

    تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ یہ ایک نیا ٹھوس ایندھن ICBM ہو سکتا ہے شمالی کوریا کی فوجی پریڈوں کو دیر ممالک کی حکومتیں اور ماہرین قریب سے دیکھتے ہیں کیونکہ ان میں اکثر نئے تیار کردہ ہتھیاروں کی نمائش ہوتی ہے۔

    ٹھوس ایندھن والے میزائلوں کو مائع ایندھن والے میزائلوں سے زیادہ تیزی سے لانچ کیا جا سکتا ہے، جن کا دفاع کرنا مشکل ہے۔

    تاہم، کم کی حکومت نے کبھی بھی طویل فاصلے تک مار کرنے والے ٹھوس ایندھن والے میزائلوں کا کامیاب تجربہ نہیں کیا۔

    کارنیگی اینڈومنٹ فار انٹرنیشنل پیس کے جوہری پالیسی کے ماہر انکیت پانڈا نے کہا، "یہ شمالی کوریا کے جوہری جدید بنانے کے اہم اہداف میں سے ایک ہے۔”

    انہوں نے بی بی سی کو بتایا ہمیں آنے والے مہینوں میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے ٹھوس ایندھن کے میزائلوں کے پہلے فلائٹ ٹیسٹ دیکھنے کی توقع کرنی چاہیے۔”

    انہوں نے مزید کہا کہ شمالی کوریا کے ICBM ہتھیاروں کی توسیع نے تنازعہ میں امریکہ کے لیے ممکنہ طور پر "سنگین فوجی منصوبہ بندی کے چیلنجز” پیش کیے ہیں، کیونکہ امریکہ کے لیے شمالی کوریا کے تمام موبائل ICBMs کو تلاش کرنا اور تباہ کرنا مشکل ہو گا۔

    یہ پریڈ اقوام متحدہ کی اقتصادی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شمالی کوریا کی جانب سے میزائل تجربے کے ریکارڈ سال کے بعد منعقد کی گئی ہے۔ اس کی وجہ سے جزیرہ نما کوریا میں کشیدگی کے کئی بھڑک اٹھے ہیں۔

  • شمالی کوریا کا ایک بار پھرخطرناک بیلسٹک میزائل کا تجربہ

    شمالی کوریا کا ایک بار پھرخطرناک بیلسٹک میزائل کا تجربہ

    پیانگ یانگ: شمالی کوریا نے سولڈ فیول موٹر راکٹ کے بعد جاپان اور جنوبی کوریا کے نزدیک ساحلی علاقے میں ایک بار پھر خطرناک بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا ۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق جنوبی کوریا اور جاپان کی لگاتار شکایتوں اور عالمی دباؤ کے باوجود شمالی کوریا کے خطرناک جنگی ہتھیاروں کے تجربات کا سلسلہ تھم نہ سکا شمالی کوریا نے اتوار کے روز اپنے مشرقی ساحل کے پانیوں میں دو بیلسٹک میزائل فائر کیے، جو کم جونگ اُن کی حکومت کی جانب سے تجربات کے لیے ایک ریکارڈ سال رہا ہے۔

    ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نےزندگی کیلئے موافق سیاروں کا ایک جتھہ دریافت کر لیا

    رواں برس اب تک کے سب سے بڑے بین الابراعظمی بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا تھا جو امریکا تک مار کر سکتا ہے جس کے بعد سولٖ فیول موٹر راکٹ کا تجربہ بھی کیا تھا ایک ایسی پیشرفت جس کی وجہ سے کم کی حکومت مستقبل میں بین البراعظمی بیلسٹک میزائل (ICBM) کو زیادہ تیزی اور قابل اعتماد طریقے سے فائر کرنے کے قابل ہو سکتی ہے۔

    شمالی کوریا کا آخری معلوم میزائل تجربہ 18 نومبر کو کیا گیا تھا، جب اس نے Hwasong-17 ICBM لانچ کیا تھا۔

    شمالی کوریا ایک بار پھر اپنے ساحلی علاقے میں دو بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا۔ میزائلوں نے اپنے اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔یہ میزائل جنوبی کوریا اور جاپان کی جانب گرے۔

    جنوبی کوریا اور جاپان نے شمالی کوریا کی جانب سے ایک بار پھر بیلسٹک میزائل کے تجربے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے عالمی برادری سے اس کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

    امریکا نے بھی شمالی کوریا کے بیلسٹک میزائل تجربے کی مذمت کرتے ہوئے خطے میں کسی قسم کی جارحیت کو عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دیا۔

    زمین پر پانی کی پیمائش کیلئےاہم مشن پر روانہ

    جاپانی حکام نے کہا کہ اتوار کو فائر کیے گئے میزائل 550 کلومیٹر (342 میل) کی بلندی پر پہنچے اور 500 کلومیٹر (311 میل) کی دوری تک پرواز کی، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک ہتھیار نہیں تھے۔

    جاپان کے نائب وزیر دفاع توشیرو انو نے کہا کہ میزائل سمندر میں گرے اور ابھی تک اس علاقے میں ہوائی جہاز یا بحری جہاز کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جاپانی حکومت نے سفارتی ذرائع سے شمالی کوریا کے ساتھ احتجاج درج کرایا ہے۔

    جنوبی کوریا کی فوج نے ان کی شناخت MRBMs – درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل کے طور پر کی۔ اس نے لانچوں کو "ایک سنگین اشتعال انگیزی قرار دیا جو جزیرہ نما کوریا کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی برادری کے امن اور استحکام کو نقصان پہنچاتا ہے اور فائرنگ کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی واضح خلاف ورزی قرار دیا۔

    جنوبی کوریا اور امریکہ دونوں نے شمالی کوریا پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے میزائل تجربات کو فوری طور پر روکے۔

    کارنیگی اینڈومنٹ فار انٹرنیشنل پیس کے جوہری پالیسی کے ماہر انکت پانڈا نے گزشتہ ہفتے سی این این کو بتایا کہ اس سال ٹیسٹنگ کی رفتار سے پتہ چلتا ہے کہ پیانگ یانگ ایک میزائل طاقت کے طور پر ابھرا ہے۔

    چین اور شمالی کوریا کی دھمکیوں کے پیش نظر جاپان کی دفاعی اورسیکورٹی پالیسی میں بڑی…

    پانڈا نے کہا شمالی کوریا اس سال مختلف سائز کے میزائلوں اور پرزوں کا تجربہ کر رہا ہے بڑی تصویر یہ ہے کہ شمالی کوریا لفظی طور پر بڑے پیمانے پر میزائل قوتوں کے ایک نمایاں آپریٹر میں تبدیل ہو رہا ہے۔

    خیال رہے کہ شمالی کوریا نے 2006 سے 2017 کے درمیان 6 جوہری تجربات کیے تھے اور اب ساتویں ٹیسٹ کی تیاری مکمل کر لی ہے اور اس وقت طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کی ایک نئی قسم ہواسونگ-17 تیار کر رہا ہے۔

    ہواسونگ-17 میزائل اپنی طاقت اور صلاحیت کے اعتبار سے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل سے بھی بڑا ہوگا جو متعدد وار ہیڈز لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور جس کا دفاع کرنا کسی بھی ملک کے لیے مشکل ہوگا۔

    واضح رہے کہ شمالی کوریا کے جوہری ہتھیاروں کی تیاری اور خطرناک میزائلوں کے تجربات کے پیش نظر جاپان نے گزشتہ روز ہی اپنے دفاعی بجٹ میں تاریخی اضافے اور بڑے پیمانے پر ہتھیاروں کی تیاری کا اعلان کیا تھا۔

    امریکی سینیٹ میں تاریخ کا سب سے بڑادفاعی بجٹ منظور

  • شمالی کوریا نے مزید دو بیلسٹک میزائل داغ دیئے

    شمالی کوریا نے مزید دو بیلسٹک میزائل داغ دیئے

    شمالی کوریا کی جانب سے آج مزید دو بیلسٹک میزائل فائر کیے گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : جنوبی کورین فوج کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا نے مشرقی ساحل کی جانب بیلسٹک میزائل فائر کیے ہیں، جاپان نے بھی شمالی کوریا کے بیلسٹک میزائل فائر کرنے کی تصدیق کی ہے۔

    جاپانی حکام نے بتایاہے کہ شمالی کوریا نے ہفتے کے روزایک بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا ہے۔جاپان کے قومی نشریاتی ادارے این ایچ کے نے یہ خبر دی ہے شمالی کوریا نے ممکنہ طور پر دومیزائل داغے ہیں۔

    شمالی کوریا نے دو اور بیلسٹک میزائل داغ دیئے

    شمالی کوریا کا 25 ستمبر کے بعد سے اس طرح کے میزائلوں کا یہ ساتواں تجربہ ہے اور اس کی ان سرگرمیوں سے ٹوکیو اور واشنگٹن دونوں کی تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔

    شمالی کوریا کے بیلسٹک میزائل تجربات جاری ہیں اورگزشتہ دو ہفتوں میں شمالی کوریا سات بیلسٹک میزائل فائر کر چکا ہے رواں ہفتے شمالی کوریا نے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کا تجربہ کیا تھا، میزائل کے جاپان کی حدود سے گذرنے پر جاپان نے شدید مذمت کی تھی۔

    شمالی کوریا کے میزائل تجربوں میں تیزی کے بعد امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ شمالی کوریا جوہری ہتھیاروں کا تجربہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

    این ایچ کے کا کہنا ہے کہ ایسالگتا ہے،ایک بیلسٹک میزائل جاپان کے خصوصی اقتصادی زون سے دور گراہے۔اس نے بعد میں وزارت دفاع کے ذرائع کے حوالے سے مزید بتایا ایک اورمیزائل بھی فائر کیا گیا ہے جبکہ فوری طور پر مزید معلومات دستیاب نہیں ہوئی ہیں۔

    شمالی کوریا کے تجربے کے جواب میں امریکہ اور جنوبی کوریا نے میزائل داغ دیئے

    جنوبی کوریا کی یونہاپ نیوزایجنسی نے جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے حوالے سے خبردی ہے کہ شمالی کوریا نے مشرقی ساحل کی جانب ایک غیرواضح بیلسٹک میزائل داغا ہے۔

    جاپان کے وزیر مملکت برائے دفاع توشیرو انو نے صحافیوں کو بتایا کہ دونوں میزائل 100 کلومیٹر (60 میل) کی بلندی تک پہنچے اورانھوں نے اپنی 350 کلومیٹر کی رینج کا احاطہ کیا ہے۔ پہلا میزائل مقامی وقت کے مطابق رات ایک بج کر 47 منٹ (1647جی ایم ٹی) پر داغا گیا اور دوسرا اس کے چھے منٹ کے بعد فائرکیا گیا۔

    انھوں نے بھی تصدیق کی ہے کہ دونوں میزائل جاپان کے خصوصی اقتصادی زون سے باہر گرے ہیں اور حکام اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ کس قسم کے میزائل داغے گئے تھے ، جس میں یہ امکان بھی شامل ہے کہ یہ آبدوز سے داغے جانے والے بیلسٹک میزائل تھے۔

    شمالی کوریا نے گذشتہ منگل کے روز جوہری ہتھیاروں سے لیس پہلے سے کہیں زیادہ دور تک مار کرنے والے ایک بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا تھا۔اس کے بعد یہ پانچ سال میں پہلی بار جاپان کی فضائی حدود سے شمالی کوریا کا میزائل گزرا ہے اور وہاں کے مکینوں کو خبردارکردیا گیا ہے کہ وہ محفوظ مقامات میں پناہ لے لیں۔

    توشیرو انو نے کہا کہ ٹوکیو شمالی کوریا کی جانب سے بار بار کی جانے والی اس طرح کارروائیوں کو برداشت نہیں کرے گا۔

    واضح رہے کہ شمالی کوریا اقوام متحدہ کی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے میزائل اور جوہری تجربات کررہا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ اس نے نئے میزائل تجربات امریکا سے لاحق براہ راست فوجی خطرات کے خلاف اپنے دفاع کے لیے کیے ہیں اور ان سے ہمسایہ ممالک اور خطوں کی سلامتی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا تھا۔

    امریکہ نے ڈرون حملوں کی پالیسی میں تبدیلی کر دی

    شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا کے سی این اے نے ایوی ایشن انتظامیہ کے ایک ترجمان کے حوالے سے کہا ہے کہ ہمارے میزائل تجربات ملک کی سلامتی اور علاقائی امن کو براہ راست امریکا سے لاحق فوجی خطرات سے بچانے کے لیے معمول کا ایک منصوبہ بند خود دفاعی اقدام ہے۔

    امریکا اور جنوبی کوریا نے جمعہ کے روز مشترکہ بحری مشقیں کی ہیں۔ اس سے ایک روز قبل سیئول نے شمالی کوریا کی جانب سے بظاہر بمباری کی مشقوں کے جواب میں لڑاکا طیاروں کوچوکس کیا تھا۔

    دریں اثناء امریکا نے ان تازہ میزائل تجربات کے جواب میں شمالی کوریا کے خلاف گذشتہ روز نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے دوسری جانب اقوام متحدہ نے شمالی کوریا کے بیلسٹک اور نیوکلیئر میزائل تجربوں پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

  • شمالی کوریا نے جاپان کے اوپر سے بیلسٹک میزائل داغ دیا

    شمالی کوریا نے جاپان کے اوپر سے بیلسٹک میزائل داغ دیا

    شمالی کوریا نے جاپان کے اوپر سے بیلسٹک میزائل داغ دیا-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبرایجنسی کے مطابق جاپانی حکومت نے میزائل کی جاپان کی طرف بڑھنے کی وارننگ جاری کی تھی2017 کے بعد پہلی مرتبہ شمالی کوریا نے جاپان کی حدود میں میزائل داغا ہے-

    برطانوی بادشاہ چارلس کا جلد پاکستان کا دورہ کرنے میں دلچسپی کا اظہار

    درمیانے درجے تک مار کرنے والا بیلسٹک میزائل جاپان کے مشرق میں سمندر میں گرا، جاپانی وزیراعظم کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کے وحشیانہ اقدام کی سختی سے مذمت کرتے ہیں۔

    میزائل تجربے کے دوران جاپان میں ٹرینوں کی آمدورفت معطل کردی گئی تھی، جاپانی حکام کےمطابق شمالی کوریا نے شائد بین البراعظمی میزائل کا تجربہ کیا ہے۔

    جاپانی وزیراعظم ومیو کیشیدا نے نیشل سیکورٹی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔

    بی بی سی کے مطابق بیلسٹک میزائل نے بحرالکاہل میں گرنے سے پہلے تقریباً 4,500 کلومیٹر (2,800 میل) کا فاصلہ طے کیا اگر اس نے ایک اور رفتار اختیار کی تو یہ امریکی جزیرے گوام کو نشانہ بنانے کے لیے کافی ہے۔

    اقوام متحدہ نے شمالی کوریا کو بیلسٹک اور جوہری ہتھیاروں کے تجربات سے روک دیا ہے۔ بغیر کسی پیشگی انتباہ یا مشاورت کے دوسرے ممالک کی طرف یا اس کے اوپر میزائل اڑانا بھی بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔

    ٹرمپ نےسی این این کیخلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائرکردیا

    ہوکائیڈو جزیرہ اور اوموری شہر سمیت جاپان کے شمال میں لوگ مبینہ طور پر سائرن اور ٹیکسٹ الرٹس کی آواز سے بیدار ہوئے جس میں لکھا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ شمالی کوریا نے میزائل لانچ کیا ہے۔ براہ کرم عمارتوں یا زیرزمین چلے جائیں انہیں خبردار کیا گیا کہ وہ گرنے والے ملبے سے بچیں۔

    بعد میں حکام نے بتایا کہ درمیانی فاصلے تک مار کرنے والا بیلسٹک میزائل جاپان سے بہت دور بحرالکاہل میں گرا، اور اس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    اس نے شمالی کوریا کے میزائل کے ذریعے اب تک کا سب سے طویل فاصلہ طے کیا تھا، اور تقریباً 1000 کلومیٹر کی اونچائی تک پہنچ گئی تھی جو بین الاقوامی خلائی اسٹیشن سے زیادہ تھی۔

    جاپان کے وزیر اعظم Fumio Kishida نے لانچ کو "پرتشدد رویہ” قرار دیا جب کہ وزیر دفاع یاسوکازو ہماڈا نے کہا کہ جاپان اپنے دفاع کو مضبوط کرنے کے لیے "جوابی حملے کی صلاحیتوں” سمیت کسی بھی آپشن کو مسترد نہیں کرے گا۔

    امریکی قومی سلامتی کونسل کی ترجمان ایڈرین واٹسن نے اسے ایک "خطرناک اور لاپرواہ فیصلہ” قرار دیا جو خطے کے لیے "غیر مستحکم” ہے۔

    سیلاب:اقوام متحدہ نے پاکستان کیلئے انسانی امداد کی اپیل میں 5 گنا اضافہ کر دیا

    یہ لانچ اس وقت ہوا جب جاپان، امریکہ اور جنوبی کوریا شمالی کی طرف سے بڑھتے ہوئے خطرے کے جواب میں اپنے دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں۔

    گزشتہ ہفتے، تینوں ممالک نے 2017 کے بعد پہلی بار ایک ساتھ بحری مشقیں کیں۔ اس طرح کی مشقوں نے پیانگ یانگ کے رہنما کم جونگ اُن کو طویل عرصے سے مخالف رکھا ہے، جو انہیں اس بات کا ثبوت سمجھتے ہیں کہ ان کے دشمن جنگ کی تیاری کر رہے ہیں۔

    2017 میں مشترکہ مشقوں کے بعد، شمالی کوریا نے جواب میں جاپان پر دو میزائل داغے۔ ایک ہفتے بعد، اس نے ایٹمی تجربہ کیاحالیہ انٹیلی جنس نے تجویز کیا ہے کہ شمالی کوریا ایک اور جوہری ہتھیار کا تجربہ کرنے کے لیے تیار ہو رہا ہے۔

    توقع ہے کہ شمالی کوریا اس وقت تک انتظار کرے گا جب تک چین اس کا اہم اتحادی اس ماہ کےآخر میں اپنی کمیونسٹ پارٹی کی کانگریس کا انعقاد کرے گا۔

    امریکہ اور ایران کے درمیان منجمد اثاثوں کے بدلے میں قیدیوں کی رہائی کا معاہدہ طے

    لیکن کچھ ماہرین اب پوچھ رہے ہیں کہ کیا یہ توقع سے جلد آسکتا ہے – ان کا ماننا ہے کہ منگل کے لانچ سے ظاہر ہوتا ہے کہ شمالی کوریا جوہری تجربے کے لیے زمین تیار کر رہا ہے۔