Baaghi TV

Tag: بیماریاں

  • جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر ،پانی لوگوں کے گھروں،لوگ مختلف امراض کا شکار

    جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر ،پانی لوگوں کے گھروں،لوگ مختلف امراض کا شکار

    قصور
    سلامت پورہ باگڑ کوٹ کے علاقے میں جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر پانی پائپ لائن خراب ہونے سے گھروں میں نالیوں کا گندہ پانی جانے لگا علاقہ مکین بیماریوں میں مبتلا ہونے لگے انتظامیہ سے نوٹس کا مطالبہ

    تفصیلات کے مطابق بلدیہ قصور کی نااہلی کے باعث محلہ سلامت پورہ باگڑ کوٹ میں جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر اور سرکاری موٹر پانی کی پائپ لائن خراب ہونے کی وجہ سے گھروں میں نالیوں کا گندہ پانی جانے لگا ہے جس کی بدولت علاقہ مکین مختلف خطرناک امراض میں مبتلا ہونے لگے ہیں
    باگڑ کوٹ کے رہائشیوں نے اعلی احکام سے نوٹس لے کر گندگی اٹھانے اور سرکاری پانی کی پائپ لائن ٹھیک کروانے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ لوگ بیماریوں سے بچ سکیں

  • سموگ،لاہور کا پھر پہلا نمبر،محکمہ موسمیات نے سنائی بارش کی نوید

    سموگ،لاہور کا پھر پہلا نمبر،محکمہ موسمیات نے سنائی بارش کی نوید

    لاہور سمیت پنجاب میں اسموگ سے فضائیں زہرآلود ہو گئیں

    لاہور میں ائیرکوالٹی انڈیکس ایک بار پھر خطرناک حد تک بڑھ گیا،لاہور کا اے کیو آئی 1591 تک جا پہنچا ، دنیاکے آلودہ ترین شہروں میں آج بھی پہلا نمبر آ گیا،ملتان میں ایئر کوالٹی انڈیکس 559، فیصل آباد 405، پشاور 270، اسلام آباد 186 اور راولپنڈی میں اے کیو آئی 199 ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    دوسری جانب محکمہ موسمیات نے بارش کی نوید بھی سنائی ہے،محکمہ موسمیات کے مطابق آج سے 16 نومبر تک لاہور، راولپنڈی، مری، اٹک، چکوال، تلہ گنگ، جہلم، فیصل آباد، گوجرانوالہ، میانوالی، خوشاب اور سرگودھا میں بارش کا امکان ہے،15 نومبر کو بھکر، لیہ اور ڈی جی خان میں بھی گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے، بارش سے سموگ میں کمی متوقع ہے۔

    ضلعی انتظامیہ لاہور نے مارکیٹس کو رات 8بجے بند کرانے اور آئوٹ ڈور ڈائننگ پر پابندی کی خلاف ورزیوں پر کارروائیاں کرتے ہوئے 3مقدمات درج کر لئے۔ضلعی انتظامیہ سموگ اور ماحولیاتی آلودگی کے تدارک کیلئے اٹھائے گئے اقدامات پر عملدرآمد کیلئے متحرک ہوگئی، رات گئے 46کارروائیوں میں 3 مقدمات کا اندراج، 5چھوٹی دکانوں کو آخری وارننگز جبکہ 41دکانیں سیل کی گئیں۔

    علاوہ ازیں اقوام متحدہ نے اسموگ 5 سال سے کم عمر بچوں اور حاملہ خواتین کے لیے انتہائی خطرناک قرار دے دی ہے،پاکستان کے فضائی معیار کو دیکھتے ہوئے اقوام متحدہ نے اسموگ 5 سال سے کم عمر بچوں اور حاملہ خواتین کے لیے انتہائی خطرناک قرار دی ،پاکستان میں یونیسیف کے نمائندے عبداللہ فاضل نے کہا کہ پنجاب میں اسموگ کی تشویشناک صورتحال کے باعث اسکول بند کرنا ضروری ہیں، زیادہ تر اسکول آن لائن کلاسز کی اہلیت نہیں رکھتے جس سے تقریباً 6 کروڑ بچوں کی تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

  • کراچی میں سرکاری اسپتالوں کی ایمرجنسیز مریضوں سے بھرنے لگیں

    کراچی میں سرکاری اسپتالوں کی ایمرجنسیز مریضوں سے بھرنے لگیں

    کراچی میں سرکاری اسپتالوں کی ایمرجنسیز بھرنے لگیں جس سے مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    باغی ٹی وی کو ایمرجنسی کنسلٹنٹ جناح اسپتال ڈاکٹر عمار نے بتایا کہ پرائمری اور سیکنڈری کیئر اسپتالوں میں سہولتوں کی کمی ہے، جناح اسپتال کی ایمرجنسی میں روز 2 ہزار مریض آنے لگے ہیں۔ڈاکٹر عمار نے کہا ہے کہ ایمرجنسی میں آئے 2 ہزار مریضوں میں سے صرف 20 سی25 مریضوں کا داخلہ ہو پاتا ہے، اسپتال میں اسٹاف کی کمی کے باعث اتنے مریضوں کا علاج ممکن نہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ 4 ماہ پہلے تک جناح اسپتال میں روز 1 ہزار مریض آتے تھے۔ایمرجنسی انچارج ڈاکٹر عمران کے مطابق سول اسپتال میں روز آنے والے مریضوں کی تعداد 1500 سے تجاوز کر گئی ہے، سول اسپتال کی ایمرجنسی میں 4 ماہ پہلے تک 800 سے زائد مریض آتے تھے۔

    کے الیکٹرک کی رات میں بھی لوڈ شیڈنگ جاری، شہری اذیت میں مبتلا

    ڈکیتی کے دوران قتل کیے گئے گولڈ میڈلسٹ اتقا معین کا قاتل دوبارہ گرفتار

  • پنجاب پولیس کے 8 فیصد ملازمین مختلف بیماریوں میں مبتلا

    پنجاب پولیس کے 8 فیصد ملازمین مختلف بیماریوں میں مبتلا

    لاہور: پنجاب پولیس کی جانب سے کی گئی ہیلتھ اسکریننگ میں 8 فیصد ملازمین مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوئے ہیں-

    باغی ٹی وی: پنجاب پولیس کی رپورٹ کے مطابق مختلف بیماریوں میں مبتلا پولیس اہلکاروں کی تعداد ایک لاکھ 85 ہزار ہےاسکریننگ میں 6 ہزار 200 شوگر،1800 ہائی بلڈ پریشر کے مریض نکلے5 ہزار 800 ایسے اہلکار ہیں جو ہیپاٹائٹس سی اور ایک ہزار650 ہیپاٹائٹس بی کے مرض کا شکار ہیں۔

    امریکا کا سندھ کے سیلاب زدہ علاقوں کیلئے مزید امداد کا اعلان

    پنجاب پولیس کی رپورٹ کے مطابق 540 پولیس اہلکار دل، جگر، گردوں اور پھیپھڑوں کی بیماریوں میں مبتلا نکلے 190 اہلکار آنکھوں کے عارضے میں مبتلا ہیں جبکہ 94 اہلکار ایسے ہیں جنہیں آنکھ کی بیماری شدید ہونے پر ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔

    حافظ نعیم اکثریت شو کرتے ہیں میں ان کو مبارکباد دوں گا،سعید غنی

    حکام کے مطابق پولیس کے 35 ہزار میں سے 16 ہزار کے قریب ملازمین کی اسکریننگ ہوسکی ہے، رواں ماہ صوبے بھر میں اسکریننگ کا عمل مکمل کرلیا جائےگا۔

  • پاکستان میں سیلاب متاثرین کی مشکلات کا سلسلہ تاحال جاری

    پاکستان میں سیلاب متاثرین کی مشکلات کا سلسلہ تاحال جاری

    پاکستان میں سیلاب متاثرین کی مشکلات کا سلسلہ تاحال جاری

    ایک طرف پوری قوم آئینی ڈرامہ کے گرداب میں پھنسی ہوئی ہے جبکہ دوسری طرف گزشتہ سیلاب سے متاثر ہونے والے افراد کسمپرسی کی حالت گزار رہے ہیں. ایک اندازے کے مطابق تقریبا دس ملین افراد پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں جبکہ جو پانی دستیاب ہے اس سے پھیلنے والی بیماریاں اموات کا باعث بن رہی ہیں۔ جیسے کہ ملیریا اور ہیضہ سب سے زیادہ پھیلنے والی بیماریاں ہیں۔

    اسی طرح خوراک کی کمی سے غذائی قلت پیدا ہو رہی ہے اور ریکارڈ کی جانے والی اموات کی تعداد تقریباً 1,739 ہوچکی ہیں اور زیادہ تر اموات ایسی ہیں غیر محفوط ماحول کے پیش نظر ہوئی ہیں. الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق زیادہ تر لوگوں کو سیلاب سے پہلے بھی کوئی خاص پینے کے صاف پانی تک رسائی نہیں تھی جبکہ جو پانی کا دستیاب نظام موجود تھا اسے بھی سیلاب نے بری طرح نقصان پہنچایا دیا۔ یونیسیف کا کہنا ہے کہ ’سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں رہنے والے خاندانوں کے پاس بیماریوں سے متاثرہ پانی پینے اوراسے استعمال کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے.

    یونیسیف پاکستان نے 20 مارچ 2023 کو ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ "پاکستان میں سیلاب کے 6 ماہ بعد، 9.6 ملین بچوں کو اب بھی زندگی بچانے والی امداد کی ضرورت ہے۔ ہمیں پینے کا صاف پانی فراہم کرنے اور بیت الخلاء کی تعمیر سمیت متاثرین کو صفائی کی اہم خدمات فراہم کرنے کے لیے اپنے عطیہ دہندگان کا مسلسل تعاون درکار ہے کیونکہ اس سب کی متاثرین کو اشد ضرورت ہے۔ تاہم ڈونر ایجنسی کے مطابق اب تک امداد کی نصف سے بھی کم ضرورت پوری ہوئی ہے.

    جبکہ سب سے پہلے ان ضروری معاملات کو حل کرنا انتہائی ضروری ہے اور اسکے بعد انفراسٹرکچر کی تعمیر نو کرنا، بھی لازمی تاکہ لوگوں پر پڑنے والے پیچیدہ منفی اقتصادی اثرات سے بھی بچا جا سکے۔ بروکنگز انسٹی ٹیوٹ کے مطابق صرف تنظیم نو کی لاگت 16.3 بلین ڈالر ہے جبکہ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس میں بحالی اور تعمیر نو کا فریم ورک (4RF) معاش اور زراعت کی بحالی سمیت نجی مکانات کی تعمیر نو اور سڑکوں، پلوں، اسکولوں اور اسپتالوں سمیت عوامی بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو بھی شامل ہے.

    واضح رہے کہ سیلاب سے متاثرہ اکثر آبادی خوراک، کپڑے سمیت بنیادی سہولیات اور سروں پر چھت سے محروم ہے جبکہ بنیادی ادویات کی بھی کمی ہے جیسے تیز بخار پر قابو پانے کے لیے اینٹی پائریٹک گولیاں وغیرہ شامل ہیں علاوہ ازیں بچوں میں غذائیت کی کمی کے ساتھ صحت کے مسائل جیسے سستی اور کمزوری وسیع پیمانے پر پھیلی ہوئی ہے۔

  • شہر و گردونواح میں سموگ کا راج،بیماریاں عام

    شہر و گردونواح میں سموگ کا راج،بیماریاں عام

    قصور
    شہر قصور و گردونواح میں سموگ کا راج،آنکھوں،جلد و گلہ کی بیماریاں عام،عوام پریشان

    تفصیلات کے مطابق قصور شہر اور گردونواح میں سموگ کا راج ہو چکا ہے جس کے باعث لوگ گلہ،جلد و آنکھوں کی بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں
    گورنمنٹ نے کسانوں پہ دھان کی باقیات جلانے پہ پابندی تو لگا دی مگر دھواں چھوڑتی گاڑیوں,زہر آلود دھواں چھوڑنے والی فیکٹریوں ،کارخانوں و گاڑیوں کو پابند نہیں کیا گیا جس کے باعث ماحولیاتی آلودگی بڑھ رہی ہے اور سموگ پیدا ہونے سے لوگ مختلف بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں
    شہر قصور میں اگر گاڑیوں کو چیک کیا جائے تو پبلک ٹرانسپورٹ و نجی گاڑیاں تو ایک طرف خود سرکار کی گاڑیاں بشمول پولیس و دیگر اداروں کی گاڑیاں تک خرابی کے باعث زہریلا دھواں چھوڑ رہی ہیں جس سے سموگ پیدا ہو رہی ہے

    شہریوں نے ڈپٹی کمشنر قصور سے مطالبہ کیا ہے کہ سموگ کو بڑھنے سے روکنے کیلئے اقدامات کئے جائیں تاکہ لوگ بیماریوں سے بچ سکیں

  • گیسٹروسےمزید6افراد جانبحق

    گیسٹروسےمزید6افراد جانبحق

    کراچی:گیسٹروسےمزید6افراد جانبحق ،اطلاعات کےمطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سندھ کے سیلاب زدہ علاقوں میں 78,000 سے زائد مریضوں نے ہیلتھ کیمپوں میں رپورٹ کیا ، صوبے میں بیماریوں کا پھیلنا باعث تشویش ہے، جہاں گیسٹرو اور دیگر بیماریوں سے مزید 6 اموات ہوئیں۔

    صوبائی محکمہ صحت کے مطابق، دو کی موت گیسٹرو اینٹرائٹس سے ہوئی، دو کی موت پائریکسیا آف نامعلوم اصل (PUO) سے ہوئی – ایک ایسی حالت جس میں ایک شخص کا درجہ حرارت تین ہفتوں سے زیادہ بیماری کے ساتھ ہوتا ہے – اور ایک ایک مایوکارڈیل انفکشن اور کارڈیو پلمونری گرفتاری سے۔

    محکمہ نے بدھ کو روزانہ کی صورتحال کی رپورٹ میں کہا کہ یکم جولائی سے اب تک صوبے میں مختلف بیماریوں سے 324 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    سندھ، جہاں ملک کے شمال سے آنے والے سیلابی پانی اور بلوچستان سے آنے والے پہاڑی دھاروں نے صحت کے مسائل کو جنم دیا ہے، وہاں ہزاروں لوگوں کو سیلاب کی وجہ سے بے گھر ہونے اور اب مختلف بیماریوں، خاص طور پر پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا شکار ہوتے دیکھا ہے۔

    پاکستان کے پہلے ہی کمزور صحت کے نظام اور امداد کی کمی کے باعث، بے گھر خاندانوں نے بیماری سے متاثرہ پانی پینے اور کھانا پکانے پر مجبور ہونے کی شکایت کی ہے۔

    صحافیوں کے خلاف مقدمات، شیریں مزاری میدان میں آ گئیں، بڑا اعلان کر دیا

    سرکاری زمین پر ذاتی سڑکیں، کلب اور سوئمنگ پول بن رہا ہے،ملک کو امراء لوٹ کر کھا گئے،عدالت برہم

    جتنی ناانصافی اسلام آباد میں ہے اتنی شاید ہی کسی اور جگہ ہو،عدالت

    اسلام آباد میں ریاست کا کہیں وجود ہی نہیں،ایلیٹ پر قانون نافذ نہیں ہوتا ،عدالت کے ریمارکس

  • جنوبی پنجاب کے 1 لاکھ 40 ہزار سے زائد سیلاب متاثرین مختلف بیماریوں کی لپیٹ میں

    جنوبی پنجاب کے 1 لاکھ 40 ہزار سے زائد سیلاب متاثرین مختلف بیماریوں کی لپیٹ میں

    جنوبی پنجاب کے 1 لاکھ 40 ہزار سے زائد سیلاب متاثرین مختلف بیماریوں کی لپیٹ میں آ گئے

    ڈی جی خان،راجن پور میں گزشتہ 7 روز کے دوران سیلاب زدگان کی بیماریوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، محکمہ صحت پنجاب کے مطابق جنوبی پنجاب کے37 ہزار سے زائد سیلاب زدگان سانس کی بیماریوں میں مبتلا ہوئے ہیں راجن پور میں 68 ہزار، ڈیرہ غازی خان میں 58 ہزار سے زائد سیلاب زدگان بیماریوں میں مبتلا ہوئے ہیں، لیہ میں 8 ہزار، مظفرگڑھ میں 6 ہزار سے زائد سیلاب زدگان بیماریوں کا شکار ہوئے ہیں،سیلاب زدگان میں سانس کی تکلیف، خارش، تیز بخار، ڈائریا سب سے زیادہ رپورٹ ہوئے

    پنجاب کے علاوہ دیگر شہروں میں بھی سیلاب زدہ علاقوں میں بیماریاں پھیل چکی ہیں، سیلاب زدگان کی مدد کے لئے جانے والے ریسکیو ورکرز بھی بیمار ہو چکے ہیں ، مچھروں کی بہتات ہے، سیلاب زدگان کو اسوقت مچھر دانیوں کی بھی ضرورت ہے، ادویات کی بھی ضرورت ہے،کئی دوردراز علاقوں میں ابھی تک کوئی میڈیکل ٹیم نہیں پہنچی

    دوسری جانب خیبرپختونخوا میں بارشوں اور سیلاب سے 74 سرکاری اسپتال اور صحت کے مراکز متاثر ہوئے ،محکمہ صحت کے مطابق خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں بارشوں اور سیلاب سے 24 اسپتال، مراکز مکمل تباہ ہوئے ڈیرہ اسماعیل خان میں سب سے زیادہ 22 اسپتال،صحت مراکز کو نقصان پہنچا،بارشوں اور سیلاب سے خیبر پختونخوا میں 50 بنیادی صحت مراکز جزوی طور متاثر ہوئے،خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع کے بیشتر شفاخانوں میں سیلاب طبی آلات بھی بہا لے گیا ،

    ملک میں سیلاب کی تباہ کاریاں تھمنے کا نام نہیں لے رہیں بے گھر متاثرین میں اب مختلف اقسام کی وبائی بیماریاں پھیل رہی ہیں جب کہ متاثرین امداد کا ملنے کا شکوہ کررہے ہیں ،

    سیلاب سے متاثرہ آخری آدمی کی بحالی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے، آرمی چیف

    پاک فوج نے فلڈ ریلیف ہیلپ لائن قائم کر دی،

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

  • سارا سندھ ہی سیلاب میں ڈوب گیا:وبائی امراض پھیلنے کا خدشہ ہے:عذرا پیچوہو

    سارا سندھ ہی سیلاب میں ڈوب گیا:وبائی امراض پھیلنے کا خدشہ ہے:عذرا پیچوہو

    کراچی:سارا سندھ ہی سیلاب میں ڈوب گیا:وبائی امراض پھیلنے کا خدشہ ہے:سندھ میں سیلاب کی تباہ کاریوں سے متعلق آگاہ کرتے ہوئے صوبائی وزیرصحت سندھ عذرا پیچوہونے کہا ہے کہ سندھ کے تمام ہی اضلاع سیلاب کی لپیٹ میں آئے ہیں ، سندھ اس وقت ڈوب چکا ہے

    بارشوں اور سیلاب سےسندھ میں 100کلو میٹر چوڑی جھیل وجود میں آگئی،ناسا نے تصویر…

    وزیر صحت سندھ عذرا پیچوہونے سیلاب کی وجہ سے پھیلنے والی بیماریوں کے متعلق خدشات ظاہر کرتے ہوئے کہاہے کہ سیلاب زدہ علاقوں میں‌ ڈائریا ،جلد کے امراض ،ڈینگی ملیریا پھیلنے کا خدشہ ہے،صوبائی وزیرصحت کا کہنا ہے کہ صوبے میں ڈرپس ،بخار، نزلہ، کھانسی سمیت اینٹی الرجی ادویات کی قلت ہے ،

    دنیا میں تیل کی قیمت گررہی جبکہ حکومت مہنگا کررہی. شیخ رشید

    وزیر صحت سندھ عذرا پیچوہو نے مزید تفصیلات دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں 62ہزار افراد کا کیمپو ں میں علاج کررہے ہیں، 4لاکھ افراد کیمپوں سے باہر ہیں، متاثرین کو میڈیکل امداد فراہم کر رہے ہیں، سندھ کے تمام ہی اظلاع سیلاب کی لپیٹ میں آئے ہیں ،

    وزیر صحت سندھ عذرا پیچوہو نے کہا ہے کہ سیلاب متاثرین کو ادویات کی شدید قلت کا سامنا ہے، ان کا کہنا تھا کہ دادو، حفاظتی بند کو مضبوط کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے،محکمہ انہار کی طرف سے اس حوالے سے تازہ ترین اپ ڈیٹس جاری کی گئی ہیں جن کے مطابق دادو، منچھر جھیل میں پانی کی سطح میں اضافہ ہورہا ہے

    محکمہ انہارکے حکام کی طرف سے کہا گیا ہے کہ دادو، پانی تیزی کے ساتھ منچھر جھیل میں داخل ہونا شروع ،دادو،منچھر جھیل زیرو پوائنٹ پربند کا ایک حصہ سیلابی پانی کے دباؤ سے ٹوٹ گیا

  • تھر:  غذائی قلت اور بیماریوں کے باعث رواں سال درجنوں خواتین اور 500 سے زائد بچےانتقال کر چکے

    تھر: غذائی قلت اور بیماریوں کے باعث رواں سال درجنوں خواتین اور 500 سے زائد بچےانتقال کر چکے

    مٹھی : صحرائے تھر کے باسیوں کی خوشحالی ،تعلیم اور صحت کے شعبوں میں غیر ملکی فنڈز سمیت سندھ حکومت کی جانب سے اربوں روپے کے منصوبے باسیوں کی زندگی میں خوشحالی لاسکے نہ ہی ان کی زندگی میں کوئی تبدیلی آسکی-

    باغی ٹی وی : محکمہ صحت کی رپورٹ کے مطابق رواں سال اب تک 80 خواتین اور 550 بچے غذائی قلت اور بیماریوں کے باعث انتقال کرگئے، جبکہ مجموعی طور پر چھ سال کے دوران ساڑھے تین ہزار سے زائد بچے زندگی بازی ہارگئےان میں پانچ سو سے زائد وہ بچے بھی شامل ہیں جوقبل از پیدائش ہی انتقال کرگئے.

    ماہرین کے مطابق نا مناسب غذا،خون کی کمی، بچوں کی پیدائش میں وقفہ نہ ہونا خواتین اور بچوں کی اموات کا بڑا سبب ہیں صحرائے تھر کے پسماندہ علاقوں میں سال میں لگ بھگ پندرہ سے بیس ہزار حاملہ خواتین بچوں کو جنم دیتی ہیں لیکن پسماندہ علاقوں میں صحت کی بنیادی سہولت نہ ہونے کے باعث اسپتال پہنچنے سے پہلے خواتین پہنچ نہیں پاتی حاملہ خواتین کھلے آسمان تلے صحرا میں ہی بچے کو جنم دینے پر مجبور ہوجاتی ہیں۔

    نامعلوم ملزمان نومولود بچہ جھلسی ہوئی حالت میں پھینک کر فرار

    صحرائے تھر پاکستان کی جنوب مشرقی اور بھارت کی شمال مغربی سرحد پر واقع ہے۔ اس کا رقبہ 200,000 مربع کلومیٹر يا 77,000 مربع ميل ہے اس كا شمار دنيا کے نويں بڑے صحرا کے طور پر کیا جاتا ہے-

    یہاں عام دنوں میں یہاں پانی کی شدید قلت رہی ہے اکثر انسانوں اور جانوروں کے لیے دو سے تین سو فٹ کہرے کنوَں سے پانی حاصل کیا جاتا ہے ۔ اس لیے کھیتی باڑی صرف وہاں ہوتی ہے جہاں ترائی میں یا جہاں پشتے بناکر بارش کے پانی کو محفوظ کیا گیا ہو ۔ اگر مناسب وقت پر مناسب بارش ہوجائے تو باجرہ اور دوسری بہت عمدہ فضیں حاصل ہوتی ہیں ۔ لیکن یہاں کے بشتر باشندے گلے بانی کرتے ہیں اور اپنے جانور ، گھی اور قالین وغیرہ فروخت کرکے وہاں سے اپنی ضرورت کا غلہ حاصل کرتے ہیں ۔