Baaghi TV

Tag: بیماری

  • ٹی بی کے علاج میں کامیابی

    ٹی بی کے علاج میں کامیابی

    ایک اہم پیشرفت میں جو بدقسمتی سے مقامی میڈیا کی توجہ حاصل نہ کر سکی ، اسے ٹی بی الائنس کی جانب سے ایان گاچیچیو نے اجاگر کیا۔ ایسوسی ایشن فار سوشل ڈیولپمنٹ (ASD) نے پاکستان میں منشیات کے خلاف مزاحمتی تپ دق (DR-TB) کے علاج میں قابل ذکر پیش رفت کی ہے۔ تنظیم نے ایک پائلٹ پروگرام کے ذریعے 206 شرکاء کو ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کی طرف سے حال ہی میں تجویز کردہ BPaL/M ریگیمینز کے ساتھ علاج کے لیے رجسٹر کیا۔ ان رجیموں میں بیڈاکولین، پٹرومالڈ اور لائنزولڈ کے مجموعے موکسیفلوکسین کے ساتھ یا اس کے بغیر شامل ہوتے ہیں،

    ایسوسی ایشن فار سوشل ڈیولپمنٹ نے ایک قابل ذکر کامیابی کی شرح کی اطلاع دی، 113 میں سے 105 شرکاء (95%) اس علاج سے صحت یاب ہوئے، یہ نئی طرز عمل کے ساتھ عالمی سطح پر مشاہدہ کی گئی کامیابی کی شرح کا آئینہ دار ہے۔ اورمنشیات کے خلاف مزاحم ٹی بی کے علاج کے مقابلے میں نمایاں بہتری کی نشاندہی کرتا ہے۔ ان مثبت نتائج کے جواب میں، پاکستان نے فوری طور پر DR-TB کے علاج کے رہنما خطوط کو اپ ڈیٹ کیا ہے، ان چھ ماہ کے تمام زبانی طریقہ کار کے استعمال کی توثیق کی ہے۔

    اکتوبر 2022 سے، ایسوسی ایشن فار سوشل ڈیولپمنٹ، پاکستان کے نیشنل ٹی بی کنٹرول پروگرام (NTP) اور TB الائنس کے تعاون سے، پنجاب اور خیبر پختونخوا میں چار مقامات راولپنڈی، نشتر ملتان، جناح لاہور، اور لیڈی ریڈنگ پشاور سے شرکاء کو بھرتی کر رہا ہے۔ ایسوسی ایشن فار سوشل ڈیولپمنٹ کی معاونت میں تکنیکی مہارت، کامیاب نفاذ کو یقینی بنانا، جامع تربیتی مواد اور کارکردگی کی نگرانی کے آلات شامل تھے۔ یہ پروجیکٹ مختلف ممالک میں BPaL/M کے نظام کو نافذ کرنے میں ٹی بی الائنس کے عالمی تجربے پر مبنی ہے۔

    ایک پُرجوش کامیابی کی کہانی عائشہ کی ہے، جو ایک نوجوان ماں ہے جس نے اپنی کمیونٹی میں منشیات کے خلاف مزاحمت کرنے والے تپ دق سے لڑنے والے دوسروں کے مشکل سفر کو دیکھا تھا۔ جب وہ خود بیمار ہو گئیں، عائشہ نے BPaL/M کے طریقہ کار کے لیے پائلٹ پروگرام میں داخلہ لیا، اسے فوری آرام آیا اور اس نے اپنی صحت دوبارہ حاصل کی، عائشہ نے اپنا تجربہ شیئر کرتے ہوئے کہاکہ، "BPaL/M کا علاج میری زندگی میں سورج کی کرن بن کر ابھرا، جس کی تکمیل میں صرف چھ ماہ لگے۔ اس شاندار پیش رفت کی بدولت، میں اب اپنے خاندان کے لیے حاضر ہو سکتی ہوں اور زندگی کی خوشیوں کا ایک بار پھر مزہ لے سکتی ہوں۔” ان کے شوہر علی نے علاج کے لیے اظہار تشکر کیا، جس میں عائشہ کو ان لوگوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ضمنی اثرات کا سامنا کرنا پڑا جن کا وہ جانتے تھے۔

    جیسے جیسے پروگرام آگے بڑھ رہا ہے، ایسوسی ایشن فار سوشل ڈیولپمنٹ پاکستان میں BPaL/M علاج کے نفاذ کو فروغ دینے، مدد کرنے اور اسکیل کرنے کے لیے وقف ہے۔ ابتدائی چار مقامات کے بعد نیشنل پروگرام نے پہلے ہی ملک بھر میں آٹھ اضافی مقامات پر اسکیلنگ شروع کر دی ہے۔ پاکستان میں 40 سے زیادہ DR-TB کیئر سائٹس تک توسیع کرنے کا منصوبہ ہے۔ مزید برآں، ریمنگٹن فارماسیوٹیکلز کے ساتھ ٹی بی الائنس کی تجارتی شراکت داری ملک میں پریٹومینیڈ اور بی پی اے ایل/ایم ریگیمینز تک رسائی کو مزید بڑھانے کا وعدہ بھی کرتی ہے۔

  • عمران خان کی ذہنی حالت،غریدہ فاروقی کا اہم انکشاف

    عمران خان کی ذہنی حالت،غریدہ فاروقی کا اہم انکشاف

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی حکومت جانے کے بعد سے عمران خان کبھی امریکہ کے خلاف بیان دیتے رہے تو کبھی جنرل ر باجوہ کے خلاف کبھی حکومت جانے کا ذمہ دار محسن نقوی کو قرار دیتے رہے ، عمران خان اپنے کسی ایک بھی بیان پر قائم نہ رہے، اب عمران خان کے اوپر اپنی موت کا بھوت سوار ہے، وہ اپنی گفتگو میں کبھی کہتے ہیں کہ مجھ پر گولیان برسائی گئیں، کبھی کہتے ہیں ہیلی کاپٹر خراب کرنے کی کوشش کی گئی، کبھی کچھ اور کبھی کچھ کہتے ہیں، اب ان پر مقدمے بن چکے ہیں وہ شامل تفتیش نہیں ہو رہے اور ایک ہی رٹ لگائی ہوئی ہے کہ انکی جان کو خطرہ ہے

    عمران خان کی گفتگو اور انکی حالت کے حوالہ سے اینکر غریدہ فاروقی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کی ہے کہ یہ اہم اور انتہائی موزوں وقت ہے کہ پاکستان میں اس موضوع پر گفتگو کی جائے کہ پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کی ذہنی حالت کو درپیش چیلنجز کیا ہیں۔ یہ ایسا موضوع ہے جس پر گفتگو سے نہ تو ہچکچانا چاہئیے نہ خوف کھانا چاہئیے۔

    غریدہ فاروقی کہتی ہیں کہ کیونکہ کئی واقعات سے اب یہ بات ثابت شدہ ہو گئی ہے کہ عمران خان ایک شدید ذہنی بیماری (persecutory delusion) کا شکار ہو چکے ہیں کیونکہ وہ ہر وقت خوف کا شکار رہتے ہیں اور انہیں لگتا ہے کہ ہر ایک انہیں مارنے یا نقصان پنچانے کا ارادہ رکھتا ہے مثلاً ہیلی کاپٹر، راکٹ لانچر، آئی جی اسلام آباد کا کِلر سکواڈ، آئی جی لاہور کا کِلر سکواڈ، ڈرٹی ہیری، جاوید، نامعلوم افراد وغیرہ وغیرہ جیسے بوگس بے بنیاد الزامات۔۔۔ لیکن اگر نفسیاتی اعتبار سے ان الزامات کا جائزہ لیا جائے تو یہ سنگین ذہنی بیماری معلوم ہوتی ہے۔

    غریدہ فاروقی کہتی ہیں کہ چونکہ عمران خان کا دعوی ہے کہ وہ سب سے “مقبول ترین” رہنما ہیں اس لیے یہ اور بھی ضروری ہو جاتا کہ خان صاحب نہ صرف خود بلکہ اُن سے محبت کرنے والے بھی ان کی ذہنی حالت کا خیال رکھیں تاکہ وہ جس “حقیقی آزادی” کا خواب رکھتے ہیں وہ بھی تو پورا ہو سکے ۔۔۔ عمران خان کے قریبی لوگوں سے درخواست کرنی چاہیے کہ اگر خان صاحب اپنی اس ذہنی بیماری سے انکاری بھی ہوں اور علاج کے لیے آمادہ نہ بھی ہوں تو بھی اُن کے علاج کے لیے کوشش ضرور کریں کیونکہ یہ مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں ۔۔

    تنزیلہ مظہر نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے دو مسئلے نفسیاتی بیماری بن چکے ہیں اوپ سمجھتے ہیں کہ سچ وہ ہے جو وہ کہتے ہیں اور دوسرا وہ ہر وقت سوچتے رہتے ہیں کہ کوئی ان کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے اس کی مثال گزشتہ ڈیڑھ سال میں ان کی جانب سے مختلف شخصیات پر لگائے جانے والے الزامات ہیں کہ یہ تمام ان کو مارنا چاہتے ہیں ۔ نفسیات میں اس دوسرے مسئلے کو پیرا سیکاٹری ڈیلوژن کہتے ہیں ۔

    "استحکام پاکستان پارٹی” نام سے متعلق عون چودھری کی وضاحت

    چھینہ گروپ بھی استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے کو تیار

    جہانگیرترین کی پارٹی کا نام الیکشن میں رجسڑیشن سے پہلے ہی الیکشن کمیشن اور اعلی عدلیہ میں چیلنج

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

     ریاست مخالف پروپیگنڈے کوبرداشت کریں گے نہ جھکیں گے۔

    استحکام پاکستان پارٹی کی پریس کانفرنس، فواد چودھری "منہ” چھپاتے رہے، تصاویر وائرل

  • پانی میں نیگلیریا کی موجودگی نے لاہور کے باسیوں کے لئے خطرے کی گھنٹی بجادی

    پانی میں نیگلیریا کی موجودگی نے لاہور کے باسیوں کے لئے خطرے کی گھنٹی بجادی

    پانی میں نیگلیریا کی موجودگی نے لاہور کے باسیوں کے لئے خطرے کی گھنٹی بجادی ہے جبکہ لاہور میں نیگلیریا کا پہلا کیس 4 روز میں ہی جان کی بازی ہارگیا 30 سالہ شخص پیشے کے اعتبار سے باڈی بلڈنگ کا ٹرینر تھا سوئمنگ پول میں نہانے سے نگلیریا جرثومہ سے متاثر ہوا مریض سر میں شدید درد کے باعث 4 روز میں درد کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں حق ہوگیا –

    نجی لیبارٹری سے 30 سالہ شخص مصطفی شفیق کا نیگلیریا ٹیسٹ کرایا گیا تھا جو مثبت آیا جس سے نیگلیریا کی تشخیص ہوئی تھی طبی ماہرین کے مطابق پاکستان نیگلیریا سے متاثر ہونے والے ممالک میں امریکا کے بعد دوسرے نمبر پر ہے جس کی افزائش کی روک تھام کے لئے محکمہ صحت اوراداروں کی عدم دلچسپی اور نااہلی کے باعث جرثومہ کی افزائش بڑھ چکی ہے نیگلیریا ناک کے ذریعے انسانی دماغ کھا جاتا ہے ۔نگلیریا صاف پانی میں افزائش پاتا ہے ۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    صفائی کی مد میں کروڑوں روپے خورد برد کر لیے گئے، میر صادق عمرانی
    عمرانی دورحکومت میں 29 افراد کو فوجی عدالتوں سے سزا سنائی گئی،درخواست دائر
    بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے سے دریائے ستلج میں پانی کا بہاؤ بڑھ سکتا ہےمسجد نبوی میں 4.2 ملین نمازی اور زائرین کی آمد ریکارڈ
    اسٹاک ایکسچینج میں مندی کا رجحان
    گلگت بلتستان میں تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا اہم ترین اجلاس طلب
    عمرانی دورحکومت میں 29 افراد کو فوجی عدالتوں سے سزا سنائی گئی،درخواست دائر
    نیگلیریا کے دماغ میں جانے سے انسان کی موت بھی واقع ہوجاتی نگلیریا سے بچاؤ کیلئے پانی میں کلورین کا50 فیصد ہونا ضروری ہےگھروں میں موجود ٹینکوں کو سال میں کم سے کم دو بار صاف کیا جائے اور کلورین کی گولیوں کا استعمال کیا جائے،پینے اور وضو کیلئے پانی کو 100 ڈگری سینٹی گریڈ پر ابالنا نگلیریا

  • رحیم یار خان، پراسرار بیماری 15 دن میں ایک ہی گھر کے 12 افراد جاں بحق

    رحیم یار خان، پراسرار بیماری 15 دن میں ایک ہی گھر کے 12 افراد جاں بحق

    رحیم یار خان، رکن پور میں پر اسرار بیماری ،چند روز میں ایک ہی خاندان کے 12 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں

    ترجمان شیخ زید اسپتال کا کہنا ہے کہ 3 افراد کو بخار میں مبتلا ہونے پراسپتال منتقل کیا گیا تھا جنکی موت ہوگئی، متاثرہ گھر سے کھانے پینے کی اشیا برتنوں اورمتاثرہ افراد کے خون کے نمونے لیے، رپورٹ سامنے آنے پر موت کی وجہ بیان کی جا سکتی ہے،دیگرافراداسپتال میں زیرعلاج ہیں، اب تک 12 افراد کی موت ہو چکی ہے اب تک جاں بحق ہونے والوں میں 10 سالہ صائمہ ، 12 سالہ عمیرہ ، 16 سالہ اعجاز ، زبیدہ بی بی ، مقصود احمد ، رابعہ بی بی ، عائشہ بی بی ، شہناز بی بی ، نذیراں بی بی اور بشیراں بی بی شامل ہیں جبکہ 7 سالہ آصف اور 2 سالہ خدیجہ کو تشویشناک حالت میں شیخ زید ہسپتال رحیم یارخان داخل کروا دیا گیا ہے

    سیکرٹری صحت پنجاب نے بھی واقعہ کا نوٹس لیا ہے اور رحیم یار خان حکام سے رپورٹ طلب کی ہے، بیماری سے مرنیوالوں کی عمریں 2 سے 30 سال کے درمیان ہیں، مرنیوالے کو بخار ہوتا اور اگلے دو سے تین دن میں انکی موت ہو جاتی ہے، بخار کے بعد موت، طبی عملے نے بھی اس حوالہ سے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے,بخار کے ساتھ گلے میں بھی درد ہوتا ہے، کئی افراد اس بیماری میں مبتلا ہو چکے ہیں محکمہ صحت کی ٹیموں نے گھر کا دورہ کیا اور خوراک سمیت دیگر چیزوں کا معائنہ کیا ہے،

    کرونا میں مرد کو ہمبستری سے روکنا گناہ یا ثواب

    فیس بک، ٹویٹر پاکستان کو جواب کیوں نہیں دیتے؟ ڈائریکٹر سائبر کرائم نے بریفنگ میں کیا انکشاف

  • ” توجہ دیں ” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    ” توجہ دیں ” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    معدے کی تیزابیت، جلن، یا ایسڈیٹی ہاضمہ کے سب سے عام مسائل میں سے ایک ہے، جس کا سامنا زیادہ تر لوگوں کو کرنا پڑتا ہے۔ یہ بیماری سننے میں تو ایک معمولی مسئلہ لگتی ہے مگر جس شخص کو اس کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس کیلئے یہ انتہائی بے چینی کا باعث بنتی ہے۔

    معدے کی تیزابیت کی سب سے عام وجوہات میں ذہنی دباؤ، بے وقت کھانے کی عادت، مخصوص دوائیں، بہت زیادہ مسالے دار کھانوں کا استعمال، اور معدے کی مختلف بیماریاں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ تمباکو نوشی بھی معدے کی تیزابیت میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔

    اس مسئلے سے چھٹکارا پانے کیلئے عام طور پر گھریلو علاج کو مفید سمجھا جاتا ہے، تاہم ان گھریلو علاج کے ساتھ ساتھ کچھ ایسی چیزوں سے بھی پرہیز کا مشورہ دیا جاتا ہے جو معدے کی تیزابیت کا باعث بنتی ہیں۔

    اگر معدے کی جلن کا شکار ہیں تو سافٹ ڈرنکس سے پرہیز کریں کیوں کہ یہ معدے میں مخصوص گیسوں کو جمع کر کے تکلیف میں اضافہ کرتی ہیں، اس کے ساتھ ساتھ ترش پھلوں سے بھی پرہیز کرنا چاہیئے کہ ان پھلوں میں بھی تیزابیت پائی جاتی ہے۔

    معدے کی تیزابیت کا علاج:

    زیرہ
    دلیہ
    ادرک
    دہی
    سونف
    ہرے پتوں والی سبزیاں
    ناریل کا پانی
    کیلا
    گُڑ

    مندرجہ ذیل گھریلو علاج معدے کی تیزابیت کے لیے مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔

    زیرہ:

    معدے کی تیزابیت کی وجہ سے سانس کی بو کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے اس لیے تیزابیت کو کنٹرول کرنے کے لیے زیرہ ایک مددگار مصالحہ ہے جو ہاضمہ کے نظام کو بہتر بناتا ہے اور پیٹ درد کی شدت کو بھی کم کرتا ہے جس کی وجہ سے سانس کی بو کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ اس مسئلے سے چھٹکارا پانے کے لیے ایک چائے کے چمچ زیرہ کو ایک کپ پانی میں ابال کر قہوہ بنا لیں اور اس قہوے کو ہر کھانے کے بعد باقاعدگی سے استعمال کریں، کچھ دنوں تک اس گھریلو ٹوٹکے پر عمل کرنے سے معدے کی جلن میں کمی آنا شروع ہو جائے گی۔

    دلیہ:

    دلیہ کو بچوں کی غذا بھی کہا جاتا ہے، کیوں کہ یہ بہت نرم غذا ہے جو آسانی کے ساتھ ہضم ہو جاتی ہے۔ اس لیے اکثر طبی ماہرین تیزابیت لاحق ہونے کی صورت میں اسے استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔دلیے میں موجود فائبر پیٹ کے اپھار اور واٹر ریٹینشن کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ معدے میں بننے والے ضرورت سے زائد ایسڈ کو بھی جذب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ فائبر کے بھرپور دیگر غذائیں بھی معدے کی تیزابیت کے لیے مفید ثابت ہو سکتی ہیں۔

    ادرک:

    تیزابیت کی بیماری میں یہ جڑ نما سبزی بہت مفید ہے، کیوں کہ ادرک بہت سے طبی فوائد کی حامل ہے۔ اس میں اینٹی آکسیڈنٹ اور سوزش کو کرنے والی خصوصیات پائی جاتی ہیں جو معدے کی ایسڈیٹی، بد ہضمی، سینے کی جلن، اور پیٹ کے دیگر مسائل کے لیے بھی مفید ہے۔اگر آپ معدے کی تیزابیت کا شکار ہیں تو ادرک کا قہوہ استعمال کرنا شروع کر دیں، ادرک کا ایک ٹکڑا لے کر اسے ایک کپ پانی میں ابال لیں اور ٹھنڈا ہونے پر پی لیں۔ اس کے علاوہ ادرک کے تازہ ٹکڑے کو کھانے کے ساتھ بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    دہی:

    دہی کو اگر معدے کی تیزابیت کا بہترین علاج کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ دہی میں ایسے مفید غذائی اجزاء پائے جاتے ہیں جو معدے کی جلن کو کم کرنے میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر آپ کو اکثر معدے کی جلن کا سامنا رہتا ہے تو نہار منہ دہی کو استعمال کرنا شروع کر دیں، کچھ دنوں تک اسے استعمال کرنے سے معدے کی تیزابیت میں واضح کمی آنا شروع ہو جائے گی۔ دہی کی افادیت میں اضافہ کرنے کے لیے آپ اس میں کیلا اور خربوز بھی شامل کر سکتے ہیں۔ اس سے نہ صرف ایسڈیٹی کم ہو گی بلکہ آپ کو بھرپور غذائیت بھی میسر ہوگی، جس سے آپ کو تھکاوٹ اور کمزوری کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

    سونف کے کچھ دانے چبانا تیزابیت کی شدت میں واضح کمی کر سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سونف سے بنی چائے غذائی نالی کی صحت کو برقرار رکھنے کیلئے بھی بہت مفید سمجھی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ سونف سے بنا ہوا مشروب بد ہضمی اور پیٹ پھولنے کے خلاف بھی نہایت مفید ہے۔

    ہرے پتوں والی سبزیاں:

    معدے کی تیزابیت سے چھٹکارا پانے کے لیے ہرے پتوں والی سبزیاں بھی بہت مفید ثابت ہوتی ہیں۔ آپ اس مسئلہ سے چھٹکارا پانے کے لیے دھنیا، پودینا، میتھی، اور بند گوبھی وغیرہ کو باقاعدگی کے ساتھ استعمال کر سکتے ہیں۔معدے کی تیزابیت کا سامنا زیادہ تر مضرِ صحت غذاؤں کے استعمال کی وجہ سے کرنا پڑتا ہے، اس لیے ایسی غذاؤں کی جگہ ہرے پتوں والی صحت مند غذائیں استعمال کرنی چاہیئے

    ناریل کا پانی:

    معدے کی جلن لاحق ہونے کی صورت میں جب ناریل کا پانی استعمال کیا جاتا ہے تو تیزابی سطح الکلائن میں بدل جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ناریل کا پانی استعمال کرنے سے معدے میں ایسے اجزاء ی مقدار میں اضافہ ہوتا ہے جو تیزابیت کے مضرِ صحت اثرات سے بچاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ناریل کا پانی فائبر سے بھی بھرپور ہوتا ہے جو تیزابیت کو روکنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

    کیلا:

    ایسڈیٹی کی شدت کو کم کرنے کے لیے کیلے کو نہایت مفید سمجھا جاتا ہے، کیوں کہ اس میں اکلائن کافی مقدار میں پایا جاتا ہے جو ایسڈیٹی کے خلاف مؤثر کام کرتا ہے۔معدے کی جلن سے چھٹکارا پانے کیلئے آپ ہر روز ایک سے دو کیلے استعمال کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ آپ کیلے کو دہی میں شامل کر کے بھی کھا سکتے ہیں، اس سے بنا ہوا خوش ذائقہ ملک شیک بھی استعمال کیا جاتا سکتا ہے۔ کیلے کو دودھ اور دہی کے ساتھ استعمال کرنے سے نہ صرف معدے کی تیزابیت میں کمی آئے گی بلکہ آپ کی طاقت میں بھی اضافہ ہو گا۔

    گُڑ:

    گُڑ کو بھی معدے کی جلن کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے، اس میں میگنیشیم وافر مقدار میں پائی جاتی ہے جو ہاضمہ کے نظام کو طاقت فراہم کرتی ہے اور تیزابیت کو کم کرتی ہے۔معدے کی جلن سے چھٹکارا پانے کے لیے کھانے کے بعد گُڑ کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا منہ میں رکھ کر چوستے رہیں، اس سے نہ صرف ایسڈیٹی میں کمی آئی گی بلکہ آپ کے جسم کا درجہ حرارت بھی معتدل رہے گا۔معدے کی تیزابیت کے لیے یہ علاج نہایت مؤثر سمجھے جاتے ہیں۔ اگر ان علاج کی مدد سے آپ کے معدے کی تیزابیت میں کمی نہ آئے تو آپ کو پھر کسی ماہرِ امراضِ معدہ سے رابطہ کرنا ہو گا۔

  • چینی سائنسدانوں نے کینسرکے علاج کیلئے دوہرا اثر رکھنے والی دوا تیار کر لی۔

    چینی سائنسدانوں نے کینسرکے علاج کیلئے دوہرا اثر رکھنے والی دوا تیار کر لی۔

    بیجنگ :چینی سائنسدانوں نے کینسر کے علاج کیلئے انتہائی مؤثر دوا تیار کرلی ،اطلاعات کے مطابق چینی خبر رساں ایجنسی کے مطابق سائنسدانوں نے کینسر کے علاج کیلئے ایک ہائیڈروجیل تیار کیا ہے جو دھاتی بایو میٹریل پر مبنی ہے اور دیگر خلیوں کو نقصان پہنچائے بغیر ‘ٹیومر’ کو جلا دیتا ہے۔

    سو چاؤ یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف فنکشنل نینو اینڈ سافٹ میٹریلز کے سائنسدانوں نے کیلشیم اور مینگنیز آؤنز سے اس ہائیڈرو جیل تیار کیا ہے، جو انسانی جسم کے محدود ہدف شدہ حصے کو زیادہ حرارت دے کر بنیادی ٹیومر کے مکمل خاتمے کو فروغ دیتا ہے، اس عمل کے دوران نزدیکی صحتمند خلیوں کو نقصان نہیں پہنچتا۔

    یونیورسٹی کے ایک مقالے کے مصنفین فینگ لیانگ زو اور لیو ژوانگ کا کہنا ہے کہ یہ طریقۂ علاج ٹیومر کے مکمل خاتمے اور اسے دوبارہ ہونے سے روکنے میں بھی مدد گار ثابت ہوگا۔

    فینگ نے مزید کہا کہ محققین اس طریقۂ علاج کو مریضوں پر استعمال کرنے کیلئے جائزہ لے رہے ہیں۔

    ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں سالانہ تقریباً 10 لاکھ افراد کینسر کی مختلف اقسام کے باعث زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں، عالمی سطح پر ہر 6 میں سے ایک شخص اس کا شکار ہوتا ہے۔

  • پاکستان میں بھی منکی پاکس پھیلنے کا خدشہ،الرٹ جاری

    پاکستان میں بھی منکی پاکس پھیلنے کا خدشہ،الرٹ جاری

    پاکستان میں بھی منکی پاکس پھیلنے کا خدشہ،الرٹ جاری

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں بھی منکی پاکس پھیلنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، اس ضمن میں قومی ادارہ صحت اسلام آباد نے منکی پوکس کے حوالے سے الرٹ جاری کر دیا

    وفاقی اور صوبائی حکام منکی پاکس مشتبہ کیسز کے حوالے سے ہائی الرٹ کر دیا گیا ملک کے داخلی راستوں بشمول ایئر پورٹس پر مسافروں کی نگرانی کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئیں،سرکاری اور پرائیویٹ اسپتالوں کو بھی آئسولیشن وارڈ قائم کرنے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کر دی گئی،ماہرین قومی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ دنیا میں منکی پاکس کے 92 کنفرم اور 28 مشتبہ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں،منکی پاکس جانوروں کے بعد اب انسانوں میں منتقل ہوگیا ہے،منکی پاکس متاثرہ شخص کو ہاتھ لگانے اور رطوبت لگنے سے لگتا ہے، اسپتالوں میں طبی عملے کو منکی پاکس کے مشتبہ مریضوں سے احتیاط سے پیش آنے کا مشورہ بھی دیا گیا،

    منکی پوکس مرض کے پھیلاؤ کاخدشہ،وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے محکمہ صحت کو چوکس رہنے کا حکم دے دیا،حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ محکمہ صحت عالمی ادارہ صحت کی وضع کردہ احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد کو یقینی بنائے،منکی پوکس کے مرض سے بچاؤ کیلئے ضروری احتیاطی تدابیر فی الفور اختیار کی جائیں ائیر پورٹس پر مسافروں کی سکریننگ کا موثر میکنیزم وضع کیاجائے،مرض کا پھیلاؤ روکنے کیلئے پیشگی حفاظتی اقدامات بروقت اٹھائے جائیں،وزیراعلیٰ پنجاب نے منکی پوکس مرض کے حوالے سے مانیٹرنگ سیل قائم کرنے کی ہدایت کر دی،

    قبل ازیں سندھ کے محکمہ صحت نے ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے ،محکمہ صحت سندھ کی جانب سے جاری کیے گئے الرٹ میں کہا گیا ہے کہ منکی پاکس بیماری کے 111 کیسز انگلینڈ اور امریکہ میں رپورٹ ہوگئے پاکستان میں بھی منکی پاکس بیماری پھیلنے کا خدشہ ہے منکی پاکس کی علامات میں سر اور پٹھوں میں درد محسوس ہوتا ہے منکی پاکس سے چہرے اور جسم پر پھوڑے ظاہر ہو سکتے ہیں

    محکمہ صحت سندھ کی جانب سے منکی پاکس سے نمٹنے کے لیے ضرور ی اقدامات کی ہدایت جاری کر دی گئی ہیں اور کہا گیا ہے کہ وبازدہ ممالک سے آنے والے مسافروں کی اسکریننگ کی جانی چاہیے بیماری کے پھیلاؤ سے بچنے اور روک تھام کے لیے لیبارٹری اور سرویلنس کے عمل کو بڑھانے کے لئے حکم نامہ جاری کر دیا گیا

    اس بیماری میں مبتلا ہونے والے سارے افراد نوجوان مرد ہیں، ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ انہیں یہ بیماری کیسی لگی ہے اب تک مونکی پاکس کے کیسز مغربی اور وسطی افریقہ سے واپس آنے والے مسافروں اور ان کے رشتہ داروں تک محدود تھے جہاں یہ وائرس عام ہے۔ لیکن ماہرین کو اب خدشہ ہے کہ یہ بیماری یورپ میں بھی پھیل رہی ہے۔

    واضح رہے کہ مونکی پاکس بہت کم پائی جانے والی لیکن اپنے اثرات کے اعتبار سے خطرناک بیماری ہے جو وسطی اور مغربی افریقہ کے علاقوں میں پائی جاتی ہے یہ بیماری نزلے جیسی علامات اور بغل کے نیچے سوجن کا باعث بنتی ہے۔ اس کے بعد مریض چکن پاکس جیسی خارش کا شکار ہو جاتا ہےیہ بیماری عام طور پر سانس کے ذریعے پھیلتی ہے لیکن اس خاص کیس میں محکمہ صحت کے حکام کا خیال ہے کہ مریض کے ساتھ سفر کرنے والے دیگر افراد کو زیادہ خطرہ نہیں ہوتا-

    ماہرین کے مطابق منکی پاکس جنگلی جانوروں خصوصاً چوہوں اور لنگوروں میں پایا جاتا ہے۔ اور جانوروں سے ہی انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔ تاہم متاثر شخص کے قریب رہنے والے افراد میں بھی وائرس منتقل ہونےکا امکان ہےپہلی مرتبہ اس بیماری کی شناخت 1958 میں ہوئی تھی،ایک تحقیق کےدوران سائنسدانوں نے بندروں کے جسم پر کچھ پاکس یعنی دانے دیکھے تھے جنہیں منکی پاکس کا نام دیا گیا تھا انسانوں میں منکی وائرس کے پہلے کیس کی تشخیص افریقی ملک کانگومیں 1970 میں ایک نو سالہ بچے میں ہوئی تھی۔

    ہ آئندہ دنوں میں مختلف ممالک میں منکی پاکس کے مزید کیسز بھی سامنے آسکتے ہیں

    ورپ اور مغرب میں‌ بندروں کی مہلک بیماری انسانوں میں پھیلنے لگی

  • کووڈ کےمریضوں میں بیماری کے 2 سال بعد بھی علامات ہوسکتی ہیں

    کووڈ کےمریضوں میں بیماری کے 2 سال بعد بھی علامات ہوسکتی ہیں

    بیجنگ :کووڈ کےمریضوں میں بیماری کے 2 سال بعد بھی علامات ہوسکتی ہیں،اطلاعات کے مطابق دنیا میں کورونا وائرس کی وبا سب سے پہلے چین کے شہر ووہان میں دسمبر 2019 میں پھیلنا شروع ہوئی تھی اور اب انکشاف ہوا ہے کہ آغاز میں کووڈ 19 کے باعث ہسپتال میں داخل ہونے والے 50 فیصد سے زیادہ افراد کو 2 سال بعد بھی بیماری کی کم از کم ایک علامت کا سامنا ہے۔

    یہ انکشاف کووڈ کی اب تک کی سب سے طویل ترین فالو اپ تحقیق میں سامنے آیا۔یہ طبی جریدے دی لانیسٹ ریسیپیٹری میڈیسین میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ ہسپتال سے ڈسچارج ہونے کے 2 سال بعد بھی کورونا وائرس کے متعدد مریضوں کی صحت خراب اور معیار زندگی عام آبادی کے مقابلے میں بری طرح متاثر ہوا ہے۔

    چائنا جاپان فرینڈ ہاسپٹل کی اس تحقیق میں شامل پروفیسر بن کاؤ نے بتایا کہ نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ کووڈ 19 کے باعث ہسپتال میں زیرعلاج رہنے والے مخصوص افراد 2 سال بعد بھی مکمل طور پر صحتیاب نہیں ہوسکے ہیں۔ابھی تک کووڈ 19 کے طویل المعیاد طبی اثرات کے بارے میں کافی کچھ معلوم نہیں ہوسکا اورمختلف تحقیقی ٹیموں کے کام کا دورانیہ ایک سال تک رہا تھا۔

    اس نئی تحقیق کے لیے محققین نے کووڈ کے باعث ہسپتال میں زیرعلاج رہنے والے مریضوں پر مرتب ہونے والے طویل المعیاد نتائج کی جانچ پڑتال کی اور پھر اس کا موازنہ بیماری سے محفوظ رہنے والے افراد کے ڈیٹا سے کیا۔اس مقصد کے لیے انہوں نے 7 جنوری سے 29 مئی 2020 کے دوران ووہان کے ہسپتال جن ین ٹان میں کووڈ کے باعث زیرعلاج رہنے والے 1192 مریضوں کی صحت کی جانچ پڑتال کی۔

    ان افراد کی صحت کا معائنہ پہلے 6 ماہ بعد، دوسری بار 12 ماہ بعد اور پھر 2 سال بعد کیا گیا ، جس کے دوران ان کے 6 منٹ کے چہل قدمی کے ٹیسٹ، لیبارٹری ٹیسٹ کیے گئے اور علامات کو جاننے کے لیے سوالنامے بھروائے گئے۔ابتدائی بیماری کے 6 ماہ بعد 68 فیصد مریضوں نے لانگ کووڈ کی کم از کم ایک علامت کو رپورٹ کیا ، جبکہ 2 سال بعد بھی 55 فیصد سے زیادہ نے کسی ایک علامت سے متاثر ہونے کا اعتراف کیا۔

    تھکاوٹ یا مسلز کی کمزوری سب سے عام علامات رپورٹ ہوئیں جبکہ یہ بھی دریافت ہوا کہ 2 سال بعد بھی 11 فیصد مریض اپنے کام پر واپس نہیں لوٹ سکے تھے۔تحقیق کے مطابق 31 فیصد مریضوں نے تھکاوٹ یا مسلز میں کمزوری اور 31 فیصد نے نیند کے مسائل کو رپورٹ کیا جبکہ کووڈ سے محفوظ رہنے والے افراد میں یہ شرح بالترتیب 5 اور 14 فیصد دریافت ہوئی۔

    کووڈ کے مریضوں کی جانب سے متعدد دیگر علامات بشمول جوڑوں میں تکلیف، دل کی دھڑکن کی رفتار تیز ہونا، سر چکرانا اور سر درد وغیرہ کو بھی رپورٹ کیا گیا۔محققین نے تسلیم کیا کہ ان کی تحقیق محدود ہے اور کسی ایک جگہ کے نتائج کا اطلاق وائرس کی دیگر اقسام سے متاثر مریضوں پر نہیں کیا جاسکتا۔

  • امریکا میں ہیپاٹائٹس کا پراسرار حملہ،5 بچے ہلاک،100 سے زائد بیمار

    امریکا میں ہیپاٹائٹس کا پراسرار حملہ،5 بچے ہلاک،100 سے زائد بیمار

    امریکا میں جگر کی پراسرار بیماری کے پھیلاؤ نے طبی ماہرین کو چکرا کر رکھ دیا ہے جس نے اب تک پانچ بچوں کی جان لے لی اور سو سے زائد کو شدید بیمار کر رکھا ہے۔ زیادہ تر بچے ایک سے تین سال کی عمر کے ہیں۔

    امریکی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول (سی ڈی سی) کے مطابق گزشتہ سات ماہ کے دوران 25 ریاستوں میں اس بیماری کے 109 کیس سامنے آ چکے ہیں جن میں سے آٹھ بچوں کی جگر کی پیوندکاری کی گئی۔سی ڈی سی میں متعدی بیماریوں کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر جے بٹلر نے گزشتہ ہفتے ایک کانفرنس کال میں ڈاکٹروں پر زور دیا کہ وہ جگر کی بیماری کے کیسز پر نظر رکھیں۔

    ڈاکٹر بٹلر کے مطابق نصف سے زائد متاثرہ بچوں کو اڈینو وائرس سے بھی انفیکشن ہوا جو کامن کولڈ کی وجہ بنتا ہے تاہم بیماری کی اصل وجہ جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

    اس بیماری کا حالیہ پھیلاؤ سب سے پہلے نومبر میں الاباما میں سامنے آیا جب ریاستی طبی اہلکاروں نے نو بچوں میں شدید ہیپاٹائٹس کی تحقیقات شروع کیں تاہم ٹیسٹ کرنے پر ہیپاٹائٹس وائرس کی بجائے اڈینو وائرس پایا گیا۔

    الاباما کے علاوہ کیلیفورنیا، کولوراڈو، ڈیلاویئر، فلوریڈا، جارجیا، آئیڈاہو، ایلانوئے، انڈیانا، لوزیانا، مشیگن، منیسوٹا، مزوری، شمالی کیرولائنا، شمالی ڈکوٹا، نبراسکا، نیو یارک، اوہائیو، پینسلوانیا، ٹینیسی، ٹیکساس، واشنگٹن اور وسکانسن میں بھی مشتبہ کیسز سامنے آئے ہیں جبکہ پورٹوریکو میں بھی ایک کیس رپورٹ ہوا ہے۔

    عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا کے 20 ممالک میں 300 کے قریب بچوں میں شدید ہیپاٹائٹس کے کیس ریکارڈ ہوئے ہیں۔

    برطانیہ میں 163 بچوں میں یہ بیماری پائی گئی ہے اور طبی حکام اس بات کی تحقیق کر رہے ہیں کہ کہیں اس کا تعلق پالتو کتوں سے تو نہیں ہے۔ یو کے ہیلتھ سکیورٹی ایجنسی کے مطابق 92 میں سے 64 کیسز کا رابطہ کتوں سے ہوا تھا تاہم برطانیہ میں اب تک اس بیماری سے کوئی ہلاکت رپورٹ نہیں ہوئی ہے۔