Baaghi TV

Tag: بینکنگ سسٹم

  • لاہور میں بڑا ڈیجیٹل بینکنگ فراڈ ،بینک افسر سمیت 3 رکنی گروہ گرفتار

    لاہور میں بڑا ڈیجیٹل بینکنگ فراڈ ،بینک افسر سمیت 3 رکنی گروہ گرفتار

    لاہور: ڈیجیٹل بینکنگ فراڈ کے ایک بڑے کیس میں نجی بینک کے 170 سے زائد صارفین کا ڈیٹا لیک ہونے کا انکشاف ہواہے-

    وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے مطابق ملزمان نے بینکنگ سسٹم سے کروڑ پتی صارفین کا انتخاب کیا، ان کے موبائل نمبر، ای میل اور پتے تبدیل کیے، نئے اے ٹی ایم کارڈ حاصل کیے اور پھر اکاؤنٹس سے رقوم نکال لیں،گروہ نے 5 مالدار صارفین کے اکاؤنٹس سے مجموعی طور پر ڈیڑھ کروڑ روپے نکال لیے تھے تاہم کارروائی کر کے مزید صارفین کو نقصان سے بچا لیا گیا۔

    گروہ میں شامل نجی بینک کے ایک افسر نے مبینہ طور پر 170 سے زائد صارفین کا ڈیٹا اپنے ساتھیوں کو فراہم کیا، ملزمان نئے اے ٹی ایم کارڈز کی درخوا ست دینے کے بعد کسی دوسرے گھر کے باہر ریکی کرتے اور جعل سازی سے رائیڈر سے کارڈ وصول کرلیتے تھے ایف آئی اے نے تین رکنی گروہ کے قبضے سے 90 لاکھ روپے نقد اور اہم ڈیجیٹل شواہد برآمد کر لیے گرفتار ملزمان کی شناخت عبداللہ، عمران عزیز اور عاطف کے نام سے ہوئی۔

    ایف آئی اے نے شہریوں کو نئی نوعیت کے اس فراڈ سے محتاط رہنے اور اپنے بینک اکاؤنٹس کی سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھنے کی ہدایت کر دی۔

  • پاکستان کوفوری طورپرتوانائی کےشعبے کی افادیت کو مستحکم کرنے کی ضرورت ہے،ایم ڈی آئی ایم ایف

    پاکستان کوفوری طورپرتوانائی کےشعبے کی افادیت کو مستحکم کرنے کی ضرورت ہے،ایم ڈی آئی ایم ایف

    عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مینیجنگ ڈائریکٹر (ایم ڈی) کرسٹالینا جارجیوا نے یاد دہانی کرائی ہے کہ پاکستان کو بجلی مہنگی اور بینکنگ شعبے کی نگرانی کرنی ہوگی۔

    باغی ٹی وی: ایگزیکٹو بورڈ اجلاس کے بعد ایک بیان میں کرسٹالینا جارجیوا نےکہا کہ پاکستان کی معیشت کو گزشتہ سال بڑے جھٹکے لگے جن میں سیلاب کے شدید اثرات، اجناس کی قیمتوں میں بڑے اتار چڑھاؤ اور بیرونی و داخلی فنانسنگ کی شرائط کو سخت کرنا شامل ہیں،آئی ایم ایف کے تحت غیر مساوی پالیسی کے نفاذ کے ساتھ ان عوامل نے مل کر وبائی امراض کے بعد بحالی کو روکا، افراط زر میں تیزی سے اضافہ کیا اور پاکستان کے اندرونی و بیرونی ذخائر میں نمایاں کمی آئی۔

    توشہ خانہ کیس،عمران خان کیخلاف پانچ گواہوں کو طلب کرنے کی درخواست

    ایم ڈی آئی ایم ایف کرسٹالینا جارجیوا نے کہا کہ اسٹینڈ بائے ارینجمنٹ پاکستان کو میکرو اکنامک استحکام کو دوبارہ حاصل کرنے اور مستقل پالیسی نفاذ کے ذریعے ان عدم توازن کو دور کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے پاکستان نے مالی سال 24-2023 کے بجٹ میں معمولی پرائمری سرپلس کا ہدف رکھا ہے جوکہ مالی استحکام کی جانب ایک خوش آئند قدم ہےپاکستان کوفوری طورپرتوانائی کےشعبے کی افادیت کو مستحکم کرنے کی ضرورت ہےجس میں ٹیرف کواخراجات کےساتھ ہم آہنگ کرنا، شعبوں کی لاگت کی بنیاد میں اصلاحات کرنا، اوربجلی کی سبسڈی کو بہتر ہدف بنانا شامل ہے۔

    ایم ڈی آئی ایم ایف نے بینکنگ سسٹم کی سخت نگرانی اور اداروں کی استعداد کار بہتر بنانے کا مطالبہ کرنے کے ساتھ پالیسی ریٹ میں حالیہ اضافےکا خیر مقدم کیا ہے۔

    آئی ایم ایف معاہدہ: امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کی پاکستانی حکومت کو مبارکباد