Baaghi TV

Tag: بینک

  • بھارت میں ہندوانتہاپسندی عروج پر، بینک نے باحجاب خاتون کوکیش دینے سے انکارکردیا

    بھارت میں ہندوانتہاپسندی عروج پر، بینک نے باحجاب خاتون کوکیش دینے سے انکارکردیا

    نئی دہلی: بھارت میں ہندوانتہاپسندی عروج پر ریاست بہارمیں ایک بینک نے باحجاب خاتون کوکیش دینے سے انکارکردیا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست بہارکے ایک بینک میں کیشئیرنے حجاب پہننے والی خاتون کوکیش دینے سے انکارکردیا۔ کیشئیرنے خاتون سے کیش حاصل کرنے کے حجاب اتارنے کا مطالبہ کیا باحجاب خاتون نے حجاب اتارنے سے انکارکردیا خاتون اوران کے والد کے شدید احتجاج پربینک کوانہیں رقم دینے پرمجبورہونا پڑا۔

    باحجاب خاتون کا کہنا تھا کہ انہیں حجاب کرنے کی وجہ سے اپنے ہی اکاؤنٹ سے پیسے نکالنے سے روک دیا گیا۔

    دوسری جانب گیسٹ فیکلٹی کے طور پر کام کرنے والی ایک انگلش لیکچرر نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے کیونکہ کرناٹک کے تماکورو ضلع میں پڑھاتے ہوئے انہیں حجاب سے پرہیز کرنے کو کہا گیا تھا انہوں نے کہا کہ یہ میری عزت نفس کا معاملہ ہے میں حجاب کے بغیر پڑھا نہیں سکتی۔

    انہوں نے مزید کہا کہ تین سالوں سے میں جین پی یو کالج میں بطور گیسٹ لیکچرر کام کر رہی ہوں۔ ان تین سالوں میں مجھے کوئی پریشانی نہیں ہوئی اور میں نے آرام سے کام کیا۔ لیکن، کل میرے پرنسپل نے مجھے فون کیا اور بتایا کہ کلاسز کا انعقاد حجاب یا کسی مذہبی علامت کے بغیر ہونا چاہیے۔-

    انہوں نے کہا کہ پچھلے تین سالوں سے، میں حجاب پہن کر لیکچر دے رہی ہوں، اس سے میری عزت نفس مجروح ہوئی ہے اور میں اس کالج میں مزید کام نہیں کرنا چاہتی تھی اس لیے، میں نے رضاکارانہ طور پر استعفیٰ دیا مذہب کا حق ایک آئینی حق ہے جس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ میں آپ کے غیر جمہوری عمل کی مذمت کرتی ہوں۔

    کالج انتظامیہ نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ دریں اثنا، اس کے استعفیٰ کے خط پر آنے والے بہت سے الفاظ نے لیکچرر کی زبان کی مہارت پر سوالات اٹھائے ہیں۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق انچ سو سے زائد قانون کے طالب علموں، قانونی ماہرین اور وکلاء نے حجاب کے معاملے پر ایک کھلا خط لکھا خط میں مسلم لڑکیوں کو حجاب پہننے پر تعلیمی اداروں میں داخلے سے روکنے کی شدید مذمت کی گئی ہے خط میں ایسی کاروائی کو آئینی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق خط پر دستخط کرنے والوں میں سابق ہائی کورٹ ججز،سابق چیئرمین کرناٹک اسٹیٹ بیک ورڈ کلاس کمیشن، سینئر ایڈوکیٹس، پروفیسر اور مصنفین ،سپریم کورٹ ایڈوکیٹس، جندل گلوبل لاء اسکول کی پروفیسر، ایکٹوسٹ اور لاء گریجویٹ،پارٹنر، ڈائیلاگ پارٹنرز لیبر ایڈووکیٹس اور ماہر قانون شامل ہیں-

    خط میں کہا گیا ہے کہ ہم کرناٹک ہائی کورٹ کے عبوری حکم سے یکساں طور پر فکر مند ہیں، جس میں طلبہ کو چاہے ان کا مذہب کوئی بھی ہو، اسکارف، حجاب،پہننے سے روکا گیا ہے کورٹ کے عبوری حکم کے بعد، ہم مسلم طلباء اور عملے کی سرعام تذلیل کا مشاہدہ کر رہے ہیں، جنہیں مبینہ طور پر ضلع انتظامیہ کی ہدایات پر اسکولوں اور کالجوں میں داخلے سے قبل اپنے حجاب کو اتارنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

    مسلم لڑکیوں اور خواتین کی یہ بے عزتی غیر انسانی، عوامی نظر میں آئین کی توہین اور پوری کمیونٹی کی عوامی تذلیل کے مترادف ہے۔ عزت کے ساتھ زندگی کے ان کے بنیادی حق کا تحفظ کرنے میں ناکامی پر ہم شرم سے سر جھکا لیتے ہیں قانونی برادری کے ارکان کے طور پر، ہم جانتے ہیں کہ داؤ پر لگے حقوق کی تفہیم کے لیے کسی مسئلے کا تعین انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

    اس میں مزید کہا گیا ہے کہ،اس طرح کے فیصلے کا اثر مسلم خواتین کو تعلیم سے دور کرنا اور ہمارے ملک میں تعلیمی بحران کو بڑھانا ہے۔ صرف حجاب پہننے کی بنیاد پر خواتین کو تعلیم سے روکنا مناسب نہیں ہے۔ مسلم خواتین کی خودمختاری، پرائیویسی اور وقار کے خلاف مطلق یکسانیت مسلط کرنا غیر آئینی ہے۔ اس بنیاد پر خواتین کو حجاب پہننے کا حق حاصل ہے اور اسی طرح حجاب نہ پہننے کا حق بھی ہےتاہم، مسلم خواتین کے حقوق پر موجودہ حملہ کوئی نیا یا الگ تھلگ واقعہ نہیں ہے، بلکہ اسے اس کے ایک حصے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔اس سے کرناٹک اور پورے ملک میں فرقہ وارانہ پولرائزیشن ہورہا ہے۔

  • کریڈٹ سوئس بینک:تفصیلات آنے لگیں:بڑے بڑے غیرملکیوں کا نام سامنے آگئے

    کریڈٹ سوئس بینک:تفصیلات آنے لگیں:بڑے بڑے غیرملکیوں کا نام سامنے آگئے

    سوئس بینک:تفصیلات آنے لگیں:بڑے بڑے غیرملکیوں کا نام سامنے آگئے،اطلاعات کے مطابق آرگنائزڈ کرائم اینڈ کرپشن رپورٹنگ پروجیکٹ (او سی سی آر پی) کی جانب سے دنیا کو دہلا دینے والے حقائق منظر عام پر آگئے ہیں۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کریڈٹ سوئس میں منشیات, انسانی سمگلنگ، منی لانڈرنگ، کرپٹ سیاستدانوں کے کھاتوں کے علاوہ جنگی جرائم،انسانوں پرتشددمیں ملوث افراد بھی اکاؤنٹ ہولڈرہیں۔

    او سی سی آر پی کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ آج تو صرف شروعات ہیں آنے والے دنوں میں مزید ہوشربا انکشافات کیے جائیں گے۔۔

    ذرائع کے مطابق کچھ دیر قبل سوئس سیکرٹس کے نام سے سوئس بینکوں میں 100 ارب ڈالرز سے زائد بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات او سی سی آر پی نے سامنے لانے کا اعلان کیا تھا۔

    اس سلسلے میں منظر عام پر آنے والی اطلاعات کے تحت او سی سی آر پی نے سوئٹزرلینڈ کے ایک بینک کے 18 ہزار اکاؤنٹس کی تفصیلات شائع کردی ہیں۔شائع شدہ تفصیلات کے تحت سوئس بینک کے70 سے زائد سال کے بینک اکاؤنٹس ڈیٹا کی تفصیلات جاری کی گئی ہیں۔

    اس ضمن میں بتایا گیا ہے کہ اکاؤنٹس میں 100 ارب ڈالرز سے زائد کی رقوم کے ریکارڈ کی تحقیقات کی گئیں۔شائع شدہ تفصیلات کے تحت قازقستان کے صدر کے خاندان کے سوئس بینکوں میں 17 ارب سے زائد کے اثاثے ہیں۔

    او سی سی آرپی نے اس حوالے سے کہا ہے کہ 100 ارب ڈالرز سے زائد کے بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات سامنے آئی ہیں جو مجموعی طورپر18 ہزار بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات پر مشتمل ہیں۔

    اس حوالے سے جاری کردہ تفصیلات کے تحت زمبابوے کے سابق صدر رابرٹ موگابے کے مخالفین کو کچلنے کے لیے ایک بینک نے 10 کروڑ ڈالرز کی رقم دی۔

    سوئس بینک کے کسٹمرز میں ایک مصری انٹیلی جنس چیف کا خاندان بھی شامل تھا جو سی آئی اے کے لیے دہشت گردی کے مشتبہ افراد پر تشدد کی نگرانی کرتا تھا۔ ایک اطالوی پر بدنام زمانہ ‘Ndrangheta مجرمانہ گروپ کے لیے مجرمانہ فنڈز کو لانڈرنگ کرنے کا الزام ہے۔ ایک جرمن ایگزیکٹو جس نے ٹیلی کام کے معاہدوں کے لیے نائجیریا کے حکام کو رشوت دی۔ اور اردن کے شاہ عبداللہ دوم، جنہوں نے اپنے عروج پر 230 ملین سوئس فرانک ($ 223 ملین) کا ایک اکائونٹ رکھا، یہاں تک کہ ان کے ملک نے اربوں کی غیر ملکی امداد حاصل کی۔

    وینزویلا کے اشرافیہ نے سرکاری تیل کی فرم کو لوٹنے کا الزام لگا کر کروڑوں ڈالر سوئس بینک کے کھاتوں میں ڈالے یہ رقم ایک ایسے دور میں اکٹھی کی گئی جب حکومتی خزانوں سے بڑے پیمانے پر لوٹ مار نے معاشی تباہی کو جنم دیا جس نے 60 لاکھ افراد کو ملک سے فرار ہونے پر اکسایا اور دوسروں کو قریب قریب فاقہ کشی کی طرف دھکیل دیا۔ بینک نے اپنے وینزویلا کے کلائنٹس کے اکاؤنٹس کھلے رکھے یہاں تک کہ عالمی میڈیا نے ان میں سے بہت سے لوگوں کے خلاف بدعنوانی کے معاملات کو بے نقاب کیا۔

    قازقستان کے صدر قاسم جومارت توقایف کے اکاؤنٹس کی بھی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔

    رپورٹس کے تحت قازقستان کے صدر نے 1998 میں بطوروزیرخارجہ 10 لاکھ ڈالرزسوئس اکاؤنٹ میں جمع کرائے جب کہ قازقستان کے صدر نے برٹش ورجن آئی لینڈزمیں آف شورکمپنیاں بنائیں۔ ان اثاثوں کی مالیت 50 لاکھ ڈالرز کے مساوی تھیں۔

    قازقستان کے صدر کے حوالے سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ انہوں نے امریکہ اور روس میں 77 لاکھ ڈالرز کے اپارٹمنٹس خریدے۔

    واضح رہے کہ او سی سی آر پی نے اس حوالے سے کہا ہے کہ 47 میڈیا اداروں کےساتھ مل کردنیا کی سب سے بڑی تحقیقات کی ہیں اور یہ تحقیقات سوئس بینکنگ کی پراسراردنیا سے متعلق ہیں۔او سی سی آرپی نے بتایا ہے کہ تحقیقات میں سیاستدانوں، جرائم پیشہ افراد اور جاسوسوں کے مالی رازوں کو بے نقاب کیا گیا ہے۔

    امریکی اخبار نیو یارک کو موصول ہونے والے اس دیٹا میں 1940 سے لے کر 2010 تک کی تفصیلات موجود ہیں یعنی اس دوران جتنے بھی اکاؤنٹس کھولے گئے یا ان میں پیسے جمع کیے گئے تاہم اس ڈیٹا میں موجود بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات موجود نہیں ہیں۔

  • فیسوں کی ادائیگی کے باوجود سکول کا والدین کو نوٹس،والدین "چکرا” گئے

    فیسوں کی ادائیگی کے باوجود سکول کا والدین کو نوٹس،والدین "چکرا” گئے

    فیسوں کی ادائیگی کے باوجود سکول کا والدین کو نوٹس،والدین "چکرا” گئے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سٹی سکول نے فیسوں کی بینک میں وصولی کے بعد بھی والدین کو نوٹس بھجوانا شروع کر دیئے

    سٹی سکول راوی کیمپس لاہور کے بارے میں اطلاع ملی ہے کہ فیسوں کی بینک میں وصولی کے بعد بھی والدین کو فیسوں کی عدم ادائیگی کے نوٹس بھجوائے جا رہا ہے، سکول انتظامیہ کی نااہلی یا غفلت،بینک میں فیسیں وصول کر لیں اسکے باوجود والدین کو نوٹس بھجوا کر ہراساں و پریشان کیا جا رہا ہے ،

    سٹی سکول راوی کیمپس میں پڑھنے والے طلبا کے والدین نے باغی ٹی وی سے رابطہ کیا ہے، ایک والد نے دستاویزی ثبوت دیتے ہوئے کہا کہ میں نے بچے کی فیس بینک میں جمع کروائی، فیس سکول کے اکاؤنٹ میں منتقل بھی ہو گئی ،اسکے باوجود ہمیں نوٹس بھجوائے گئے ،باغی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے والد کا کہنا تھاکہ میں پچھلے ایک برس سے بینک الفلاح کے انٹرنیٹ بینکنگ پیمنٹ پورٹل کے ذریعے اپنے بیٹے کے اسکول کی فیس ادا کر رہا ہوں اور مستقل بنیادوں پر کر رہا ہوں کبھی فیس لیٹ نہیں ہوئی،کبھی کوئی مسئلہ نہیں ہوا، لیکن مجھے اب 29 دسمبر کو جنوری 2022 کا چالان فارم وصول ہوا جس میں نومبر کی لیٹ فیس اور ساتھ جرمانہ بھی لکھا گیا تھا حالانکہ میں نومبر کی فیس ادا کر چکا تھا، میں نے اس کی تصدیق کے لئے اپنا بینک اسٹیٹمنٹ چیک کیا، تو اس سے بھی تصدیق ہوئی کہ میری طرف سے سکول کو فیس کی ادائیگی کر دی گئی ہے، میں نے ادائیگی کا سکرین شاٹ لیا اور سکول کو بھیجا تا ہم سکول انتظامیہ کی جانب سے اس ادائگی کو تسلیم نہیں کیا گیا سکول انتظامیہ نے 30 دسمبر 2021 کو دوبارہ ای میل کی جس میں کہا گیا کہ میں ٹرانزیکشن کی تفصیلات کے ساتھ اس اسکول کا اکاؤنٹ نمبر بھی فراہم کروں جس میں فیس منتقل کی گئی تھی اس کے بعد، میں نے جمعہ، 31 دسمبر 2021 کوبینک کی برانچ میں گیا جس نے مجھے لین دین کی مکمل تفصیلات کے ساتھ ساتھ اس اسکول کا وقت، تاریخ اور اکاؤنٹ نمبر فراہم کیا جس میں رقم منتقل کی گئی تھی۔ ادائیگی اتوار، 31 اکتوبر 2021 کو شام 7:44 بجے کی گئی تھی اور یہ پیر، 1 نومبر 2021 کو میرے اکاؤنٹ سے چارج کر دی گئی تھی۔

    نورمقدم کے قاتل کو بھاگنے نہیں دیں گے،دوٹوک جواب،مبشر لقمان کا دبنگ اعلان

    مبشر لقمان کو ظاہر جعفر کا نوٹس تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    نور مقدم کیس، فنڈ ریزنگ اور مبشر لقمان کے انکشاف، بیٹا اور بیٹی نے نوازشریف کو ڈبودیا تاریخی رسوائی، شلپا شیٹھی، فحش فلمیں اور اصل کہانی؟

    نور مقدم کیس اور مبشر لقمان کو دھمکیاں، امریکہ کا پاکستان سے بڑا مطالبہ، ایک اور مشیر فارغ ہونے والا ہے

    جب تک مظلوم کوانصاف نہیں مل جاتا:میں پیچھے نہیں ہٹوں‌ گا:مبشرلقمان بھی نورمقدم کے وکیل بن گئے

    مبشرلقمان آپ نے قوم کی مظلوم مقتولہ بیٹی کےلیےآوازبلند کی:ڈرنا نہیں: ہم تمہارے ساتھ ہیں:ٹاپ ٹویٹرٹرینڈ 

    :نورمقدم کی مظلومیت کیوں بیان کی: ظاہر جعفر کے دوست ماہر عزیز کے وکیل نے مبشرلقمان کونوٹس بھجوا دیا

    نور مقدم قتل کیس، ظاہر جعفر کا عدالت میں ایک اور ڈرامہ

    نورمقدم قتل کیس، ظاہر جعفر پاگل ہے، عدالت میں درخواست دائر

    نور مقدم قتل کیس، سماعت بغیر کارروائی ملتوی

    نورمقدم قتل کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ

    نور مقدم قتل کیس،مرکزی ملزم کو اندر بلا کر عدالت نے میڈیا کو باہر نکال دیا

    بیٹی کو ناحق قتل کیا گیا، ملزم کوسزائے موت سنائی جائے،نورمقدم کے والد کا عدالت میں بیان

    نورمقدم قتل کیس کے تفتیشی افسر کا بیان قلمبند

    نور مقدم قتل کیس، ظاہر جعفر کا ایک اور ڈرامہ،سوشل میڈیا صارفین برس پڑے

    نور مقدم قتل کیس،مرکزی ملزم ظاہر جعفر کو آج عدالت کیسے پیش کیا گیا؟

    والد کا کہنا تھا کہ رازداری کی وجوہات کی بناء پر، بینک مجھے اسکول کا اسٹیٹمنٹ فراہم نہیں کر سکا البتہ لین دین کی رسید دینے اور تمام معاملات میں بینک عملہ خوش اسلوبی کے ساتھ پیش آیا،سکول انتظامیہ کو رسید بھی دی گئی تا ہم سکول ابھی تک یہ ماننے کو تیا رنہیں کہ فیس ادا کر دی گئی ہے،میں نہیں جانتا کہ سکول اور بینک الفلاح کے مابین کیسے کام ہوتا ہے؟ اب 28 جنوری کو مجھے ایک اور ای میل سکول کی جانب سے آئی اس ای میل کے مطابق کہا گیا کہ کسٹمر سے پوچھیں، میں دوبارہ بینک گیا اور ایک ای میل کی اور شکایت درج کروائی، پیر 31 جنوری کو صبح بینک کی جانب سے مجھے دو کالز اور ای میلز موصول ہوئی جس میں دوبارہ کہا گیا کہ بینک کی جانب سے فیس کی ادائیگی کر دی گئی ہے، اب دو صورتین ہو سکتی ہیں یا تو اسکول کے خلاف کاروائی کریں یا بینک کے خلاف بیکنگ محتسب کو درخواست دیں

    والد کا کہنا تھا کہ اس میں قصور کس کا ہے؟ جب ہم نے فیس ادا کر دی ہے تو پھر بینک کی جانب سے پیسے سکول منتقل ہونے چاہئے اور سکول والوں کو بھی ماننا چاہئے، ہمارے پاس سب ریکارڈ ہے اور یہ سب آن لائن ہوا، اس میں کسی غلطی کی گنجائش نہیں، تا ہم اب پاکستان سٹیزن پورٹل پر شکایت درج کروائی ہے دیکھتے ہیں کہ اس شکایت پر کیا کاروائی ہوتی ہے

  • قرض پر قرض :685 ملین ڈالرزسے کے پی میں‌ بڑے منصوبے شروع کرنے کا پروگرام

    قرض پر قرض :685 ملین ڈالرزسے کے پی میں‌ بڑے منصوبے شروع کرنے کا پروگرام

    اسلام آباد: قرض پر قرض :685 ملین ڈالرزسے کے پی میں‌ بڑے منصوبے شروع کرنے کا پروگرام ،اطلاعات کے مطابق ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کے لیے 685 ملین ڈالر قرض کی منظوری دے دی۔

    تفصیلات کے مطابق ایشیائی ترقیاتی بینک نے آج پاکستان کے توانائی کے شعبوں کو مضبوط بنانے اور صوبہ خیبر پختون خوا کے پانچ شہروں کی رہائش اور کمیونٹی کی صحت کو بہتر بنانے کے لیے چھ سو پچاسی ملین ڈالر کی منظوری دے دی۔

    300 ملین ڈالر کی رقم پاکستان کے توانائی کے شعبے کو مضبوط بنانے اور اس کے مالی استحکام کو بہتر بنانے کے لیے مالیاتی، تکنیکی اور گورننس اصلاحات میں مدد کے لیے خرچ ہوگی۔

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خوا کے پانچ شہروں کی رہائش اور کمیونٹی کی صحت کو بہتر بنانے میں مدد کے لیے 385 ملین ڈالر خرچ کیے جائیں گے۔

    تین سو ملین ڈالر انرجی سیکٹر ریفارمز اینڈ فنانشل سسٹین ایبلٹی پروگرام کے دوسرے ذیلی پروگرام کا حصہ ہیں، جس کا مقصد پاکستان کے توانائی کے شعبے کی گورننس کو بہتر بنانا اور گردشی قرضہ کم کرنا ہے، تین سو ملین ڈالر کی رقم کا پہلا ذیلی پروگرام دسمبر 2019 میں منظور کیا گیا تھا۔

    تین سو پچاسی ملین ڈالر کی فنانسنگ خیبر پختون خوا سٹیز امپروومنٹ پراجیکٹ ایبٹ آباد، کوہاٹ، مردان، مینگورہ اور پشاور کے شہروں میں 2 صاف پانی کی سپلائی ٹریٹمنٹ سہولیات اور 3 سیوریج ٹریٹمنٹ کی سہولیات کی تعمیر میں مدد کرے گا۔

    ان پروجیکٹس سے 3.5 ملین سے زائدافراد کو صاف پانی، ویسٹ مینجمنٹ، صفائی کی سہولیات میسر ہوں گی، اور سرسبز مقامات اور صنفی دوستانہ سہولیات سے شہری مستفید ہوں گے۔

  • نجی بینک فراڈ متاثرین کی چوری شدہ رقم بارے بڑا حکم آ گیا

    نجی بینک فراڈ متاثرین کی چوری شدہ رقم بارے بڑا حکم آ گیا

    نجی بینک فراڈ متاثرین کی چوری شدہ رقم بارے بڑا حکم آ گیا

    صدر مملکت نے کہا ہے کہ نجی بینک فراڈ متاثرین کی چوری شدہ رقم ان کے بینک اکاؤنٹ میں جمع کرائیں ،

    حبیب بینک کے 6 مختلف اکاؤنٹ ہولڈرز کو مختلف نمبرز سے کال موصول ہوئی ،جعل سازوں نے خود کو بینک حکام کے طور پر ظاہر کیا، شہریوں کی ذاتی معلومات حاصل کیں ،جعل سازوں نے شہریوں کے اکاؤنٹ سے فراڈ سے رقم ٹرانسفر کروائی ، شہریوں نے بینک سے ریلیف نہ ملنے پر بینکنگ محتسب سے انصاف کیلئے رجوع کیا بینکنگ محتسب نے رقم واپس کرنے کا حکم دیا، بینکوں نے فیصلے کے خلاف صدر کو اپیل کی ،، بینکنگ محتسب نے کہا کہ فنڈ ٹرانسفر سہولت شہریوں کو بتائے بغیر فراہم کر دی گئی شہریوں کو فنڈ ٹرانسفر سہولت کے فوائد و نقصانات بتائے بغیر سہولت مہیا کی گئی ،بلااجازت سہولت فراہمی کی وجہ سے شہریوں کو نقصان برداشت کرنا پڑا ،

    فیصلے میں‌ مزید کہا گیا کہ فراڈ کی وجہ سے نقصان کا ذمہ دار شہریوں کو نہیں ٹھہرایا جا سکتا ،فنڈ ٹرانسفر سہولت بند ہونے سے شہری نقصان سے بچ سکتے تھے ،بینک قواعد و ضوابط پر عمل درآمد کا کوئی ثبوت فراہم نہیں کر سکا ، بینک شہریوں کو ان کی رقم واپس لوٹائے

    قبل ازیں ایک اور ایسا واقعہ پیش آیا تھا جس میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے صارف کے علم میں لائے بغیر الیکٹرانک فنڈز ٹرانسفر کے باعث اس کے مالی نقصان کو پورا کرنے سے متعلق بینکنگ محتسب کے فیصلہ کے خلاف حبیب بینک لمیٹڈ کی اپیل کو مسترد کر دیا۔ صدر مملکت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ایسے واقعات سے بچنے کیلئے صارفین کو ٹیکنالوجی کے استعمال سے متعلق معلومات کی فراہمی بینکوں کی ذمہ داری ہے۔

    صدر مملکت نے بینکنگ محتسب کے مالی نقصان پورا کرنے کے فیصلہ کے خلاف حبیب بینک لمیٹڈ کی اپیل کے جواب میں کہا کہ ہمارے عام لوگوں کو ٹیکنالوجی کی معلومات کے ذریعے تحفظ کی ضرورت ہے، بینک کو اس کو یقینی بنانا چاہئے۔ ایک ریٹائرڈ شہری شکایت کنندہ علی غلام جن کا حبیب بینک لمیٹڈ اسلام آباد میں اکائونٹ ہے، کو اپنی بینک سٹیٹمنٹ کے ذریعے معلوم ہوا کہ نان تھری ڈی سکیور ٹرانزیکشن کے ذریعے اس کی 6 لاکھ 7 ہزار 804 روپے کی رقم غائب ہو گئی ہے۔

    شکایت کنندہ نے بینک میں شکایت کی کہ اس نے انٹرنیٹ بینکنگ فیسیلٹی فعال کرنے کیلئے کوئی درخواست نہیں دی تھی اور ان کی ذاتی دستاویزات رقم کی متنازعہ منتقلی کیلئے استعمال کی گئی۔ بینک کی جانب سے شکایت کا ازالہ نہ ہونے پر اس نے بینکنگ محتسب سے رابطہ کیا۔ بینک نے وہاں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا کہ اس نے اکائونٹ ہولڈر کو بینک کے ساتھ روابط قائم کرتے وقت ٹیکنالوجی کے الیکٹرانک فنڈز ٹرانسفر اور دیگر استعمال سے متعلق کچھ بھی آگاہ نہیں کیا تھا۔

    بینک نے سٹیٹ بینک آف پاکستان کے 10 جون 2016 کو جاری کئے گئے سرکلر میں دی گئی ہدایات پر بھی عمل نہیں کیا جس میں بینکوں کو اختیار دیا گیا ہے کہ کارڈ سروس پرووائیڈر رقم کی ادائیگیوں کے استعمال سے متعلق صارفین کی رائے حاصل کرے گا اور سٹیٹ بینک آف پاکستان کی پالیسی کے مطابق اس کی رائے کا ریکارڈ رکھے گا۔ صدر مملکت نے اپنے حکمنامہ میں کہا ہے کہ شکایت کنندہ کی رقم کا نقصان اس لئے ہوا کیونکہ بینک نے اس کی درخواست اور رائے کے بغیر الیکٹرانک فنڈز ٹرانسفر کی سہولت کو فعال کیا،اگر بینک یہ طریقہ کار استعمال نہ کرتا تو اکائونٹ ہولڈر مالی نقصان سے بچ سکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ قانون کی متعلقہ دفعات کے مطالعہ سے یہ نتیجہ اخذکیا جا سکتا ہے کہ بینکنگ محتسب بینک افسران کی ہر قسم کی بدعنوانیوں ، غلط کاموں اور جعلی لین دین سے متعلق شکایات کی تفتیش کرتا ہے اور انکوائری کے اختتام پر مناسب احکامات جاری کرتا ہے۔صدر نے کہا کہ بینک کو شکایت کنندہ کے دعوے سے متعلق بینکنگ محتسب کے فیصلہ پر عملدرآمد کیلئے مناسب وقت دیا گیا تاہم بینک قانون کے تحت اپنی ذمہ داری اور واجب الادا رقم کی ادائیگی میں ناکام رہا۔ انہوں نے حکم دیا کہ بینک کی اپیل کسی بھی میرٹ پر پوری نہیں اترتی اور اسے مسترد کیا جاتا ہے۔

    میرا کچرا،میری ذمہ داری،برطانوی ہائی کمشنر ایک بار پھر مارگلہ کی پہاڑیوں پر پہنچ گئے

    وزیراعظم کی رہائشگاہ بنی گالہ کے قریب کسی بھی وقت بڑے خونی تصادم کا خطرہ

    مارگلہ کے پہاڑوں پر قبضہ،درختوں کی کٹائی جاری ،ادارے بنے خاموش تماشائی

    سپریم کورٹ کا مارگلہ ہلز میں مونال ریسٹورنٹ کے حوالہ سے بڑا حکم

    مارگلہ ہلز ، درختوں کی غیرقانونی کٹائی ،وزارت موسمیاتی تبدیلی کا بھی ایکشن

     ماحولیاتی منظوری کے بغیر مارگلہ ایونیو کی تعمیر کیس پر فیصلہ محفوظ 

    جو نقشے عدالت میں پیش کئے گئے وہ سب جعلی،یہ سب ملے ہوئے ہیں، مارگلہ ہلز کیس میں چیف جسٹس کے ریمارکس

    نور مقدم قتل کیس، ظاہر جعفر پر ایک اور مقدمہ درج

    مارگلہ کی پہاڑیوں پر تعمیرات پر پابندی عائد

  • واپڈا ملازم بینک کا کام کرنے لگا

    واپڈا ملازم بینک کا کام کرنے لگا

    قصور
    واپڈا ملازم خود بینک بن کرلوگوں سے پیسے اکٹھے کر کے ہڑپ کرنے لگے لوگ ذلیل و خوار تفصیلات کے مطابق قصور سب ڈویژن بہادر پورہ کا وقاص نامی اہلکار لوگوں سے پیسے بٹورنے میں مصروف ہے لوگوں اور محکمہ کو ٹیکہ لگا کر جیبیں بھر رہا ہے لوگوں کو بلیک میل کر کے ان سے بل کی رقم وصول کر لیتا ہے اور بعد میں کم رقم بنک میں جمع کروا کر لوگوں کو چکما دینے کی کوشش کرتا ہے اسی طرح گاؤں نظام پورہ کا رہائشی محمد نواز بھی اس کا شکار ہوا ہے جس سے اس نے میٹر کاٹنے کی دھمکی دے موقع پر بل وصول کر لیا اور کہا کہ میں اس کو بنک میں جمع کروا دو گا اگر تم میری بات نہیں مانو گے تو میں میٹر اتار کے لے جاؤ گا جس پر نواز نے اس کو مجبور ہوکر 14500 بل کی رقم دے دی جس کے بعد اگلے ماہ 4500 روپے ساتھ لگ کر آ گئے اور بل ہیسٹری میں بھی 10000 روپے جمع ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں جبکہ 4500 روپے وقاص نامی اہلکار نے اپنی جیب میں ڈال لیے ہیں جب اس کے نمبر 03004651528 پر رابطہ کر کے اس بارے میں پوچھا تو وہ آگ بگولا ہو گیا اور دھمکیاں دینے لگا متاثرہ شخص نے وزیر پانی و بجلی سے مطالبہ کیا ہے کہ نوٹس لے کر انصاف فراہم کیا جائے اور اس اہلکار کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے

  • بینک عملہ انتہائی ہڈ حرام و بدتمیز

    بینک عملہ انتہائی ہڈ حرام و بدتمیز

    قصور
    الائیڈ بینک قصور کی علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے طلباء سے فیس جمع نہ کرنے کی زیادتی اور برا سلوک اعلی حکام سے نوٹس لینے کی اپیل
    علام اقبال اوپن یونیورسٹی اور الائیڈ بینک کے افسران بالا الائیڈ بینک قصور برانچ کا قبلہ درست کروائیں تاکہ بچوں کی فیس جمع نہ ہونے کی وجہ سے سال ضائع نہ ہو طالب علم وقاص ولد برکت اوپن یونیورسٹی کا چالان ادا کرنے کے لیے الائیڈ بینک قصور گیا اور چالان لینے والے عملہ زبیر اور اسد نے چالان نہ لیا اور کہا کہ سسٹم اپ ڈیٹ نہیں ہے پھر اگلے الائیڈ بینک گیا تو الائیڈ بینک کے نمائندے نے دوبارہ دہرا دیا کہ چالان اپ ڈیٹ نہیں ہوا اسی طرح میرے سامنے اور بھی کچھ لوگ تھے انکو بھی یہی کہا کہ آپکا ڈیٹا اپ ڈیٹ نہیں ہوا ۔الائیڈ بینک قصور جونیشنل بینک چوک کے پاس ہے طلباء سے چلان فارم رسیو نہیں کرتے اور بدتمیزی سے پیش آتے ہیں چالان فارم جمع نہ ہونے کی وجہ سے بچوں کا سال ضائع ہوسکتا ہے الائیڈ بینک قصور سے تھک ہار کر میں ایم سی بی بینک گیا وہاں کے نمائندے نے چالان ریسیو کر لیا اور چالان کی سٹوڈنٹ کاپی مجھے واپس دے دی جو دس منٹ میں کام ہو گیا اسی کام کو الائیڈ بینک نے تین دن سے روک رکھا تھا الائٰیڈ بینک قصور بچوں کی فیس جمع نہیں کر رہا جسکی وجہ سے پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے الائیڈ بینک قصور کے اعلی افسران بالا سے گزارش ہے کہ وہ اپنے سٹاف کا قبلہ درست کروائیں اور علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی بھی اس بات کا نوٹس لے

  • بینکوں کے باہر سی سی ٹی وی کیمرے تک نصب نہیں

    بینکوں کے باہر سی سی ٹی وی کیمرے تک نصب نہیں

    قصور
    پرائیویٹ و نجی بینکوں میں سیکورٹی کے انتظامات ناقص متعدد مرتبہ واقعات رونماء ہونے کے باوجود بینکوں کی سیکورٹی پر توجہ نہ دی جاسکی تاجر برادری کا انتظامیہ کے اعلیٰ افسران سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ

    تفصیلات کے مطابق قصور،چونیاں پتوکی الہ آباد ، تلونڈی ، ارزانی پور ، شامکوٹ میں بنکوں میں سیکورٹی کے انتظامات نہ ہونے کے برابر ہیں مقامی انتظامیہ شاید کسی بڑے واقعے کے انتظار میں ہے بالخصوص تاجر برادری منشاء آڑھتی ، محمد خالد ، محمد منیر ، سیٹھ شوکت ، حاجی اشرف و دیگر نے صحافیوں سے بتایا کہ بینکوں سے لین دین کرنے پر ہم گھبراتے رہتے ہیں اکثر بینکوں میں سیکیورٹی کا نظام نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے مقامی انتظامیہ کے لوگ بھی نجی پرائیویٹ بینکوں کے عملے کو پوچھتے تک نہیں لاکھوں کروڑوں روپے ببینکوں یں پڑے ہوتے ہیں جبکہ اتنی بڑی رقم ہونے کے باوجود متعدد بینکوں کی سیکیورٹی ناقص ترین ہوتی ہے الہ آباد سمیت دیگر مقامات پر قائم بینکوں میں سیکورٹی کے ناقص ترین انتظامات ہیں اور سی سی ٹی وی کیمرے نصب نہ ہونے پر تاجروں نے ڈی پی او قصور زاہد نواز مروت سے نوٹس لینے کی اپیل کی ہے تاکہ ہم کسی بڑے واقعے سے بچ سکیں