Baaghi TV

Tag: بیٹا

  • پی ٹی آئی رہنما ڈاکٹرشاہد صدیق قتل کیس میں اہم پیشرف

    پی ٹی آئی رہنما ڈاکٹرشاہد صدیق قتل کیس میں اہم پیشرف

    تحریک انصاف کے رہنما ڈاکٹر شاہد صدیق قتل کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، قتل کی واردات میں استعمال ہونے والی گاڑی منظر عام پر آگئی ہے

    ڈاکٹر شاہد صدیق کے قتل میں ملزمان جس گاڑی پر آئے تھے اس گاڑی کی دونوں نمبر پلیٹس کی تصاویر سامنے آئی ہیں، ملزمان جمعہ کی نماز کے بعد ڈاکٹر شاہد صدیق پر حملہ آور ہوئے تھے اس وقت ملزمان نے گاڑی پر جعلی نمبر پلیٹ AHC:798 لگائی ہوئی تھی، جائے وقوعہ سے ملزمان فرار ہوئے اور لاہور شہر سے باہر نکل گئے ملزمان نے لاہور سے باہر جانے کے بعد گاڑی کی نمبر پلیٹ بدلی کی اور گاڑی پر اسکی اصل نمبر پلیٹ AAF:450 لگائی،

    پولیس حکام کے مطابق ڈاکٹر شاہد صدیق قتل کیس میں ملزم شہر یار کی والدہ کے نام پر گاڑی کرائے پر لی گئی تھی،گاڑی کا کرایہ تاحال رینٹ اے کار والوں کو نہیں ملا، گاڑی پنجاب کے شہر وہاڑی سے تین روز کے لئے کرائے پر لی گئی تھی، پولیس نے ڈاکٹر شاہد صدیق قتل کیس میں مقتول کے بیٹے سمیت پانچ ملزمان کو گرفتار کررکھا ہے

    اضح رہے کہ ڈاکٹر شاہد صدیقی قتل کیس میں پولیس نے مقتول کے بیٹے کو گرفتار کر لیا تھا،میڈیا رپورٹس کے مطابق او سی یو ٹیم نے ڈاکٹر شاہد صدیق کے بیٹے قیوم شاہد کو ٹھوس شواہد پر حراست میں لیا، قیوم نے مبینہ طور پر شوٹر کی مدد سے اپنے والد کو قتل کروایا،ڈاکٹر شاہد کے قتل کا مقدمہ ان کے دوسرے بیٹے تیمور کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا، پولیس حکا کے مطابق ڈاکٹر شاہد کی نماز جنازہ بھی قیوم شاہد نے پڑھائی تھی جس کو گرفتار کیا گیا ہے

    لڑکی سے شادی کی خواہش،باپ انکاری،بیٹے نے دو کروڑ دے کر باپ قتل کروا دیا
    پولیس نے کہا کہ مقتول ڈاکٹر کی نماز جنازہ بھی بیٹے قیوم شاہد نے پڑھائی تھی،دوران تحقیقات انکشاف ہوا کہ ڈاکٹر شاہد صدیق کے بیٹے قیوم نے اپنے دوست کے ساتھ مل کر والد کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کی، قیوم ایک لڑکی سے شادی کرنا چاہتا تھا مگر والد انکاری تھے، قیوم نے جنوری میں بھی اپنے والد پر قاتلانہ حملہ کروایا تھا،ملزم قیوم نے جنوری میں اپنے والد کے قتل کی ڈیل 50 لاکھ روپے میں کی اور ڈاکٹر شاہد صدیق پر دوسرا حملہ 2 کروڑ روپے میں کروایا گیا،جس روز واقعہ ہوا اسی دن سفید کارنے صبح 9 بج کر 50 منٹ پر ڈاکٹر شاہد کی ریکی کی تھی، اسی کار میں ڈاکٹر شاہد کا بیٹا قیوم بھی موجود تھا، جمعہ کے روز مقتول نے بینک سے رقم نکلوا کر مستحق افراد میں تقسیم کی اس دوران بھی مشکوک کار ڈاکٹر شاہد کا تعاقب کرتی رہی،

    ڈاکٹر شاہد صدیق کے قتل کا مقدمہ تھانہ کاہنہ میں مقتول کے بیٹے تیمور صدیق کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے،درج مقدمے کے مطابق مدعی مقدمہ تیمور صدیق کا کہنا ہے کہ میں اپنے والد، بھائی اور چچا کےہمراہ جامع مسجد خضریٰ سے جمعہ کی نماز ادا کر کے مسجد سے باہر آ کر اپنی گاڑیوں میں بیٹھنے لگے،ہماری گاڑیاں مسجد کے گیٹ سے کچھ فاصلے پر تھیں،جونہی میں اور میرے والد اپنی گاڑی کے پاس آئے تو گاڑی سے پیچھے چند قدموں پر تین چار نامعلوم افراد کھڑے تھے،ان میں سے ایک ہماری گاڑی کی طرف آیا میرے والد نے گاڑی میں بیٹھنے کے لئے دروازہ کھولا ہی تھا کہ اس نے 30 بور پسٹل سے میرے والد پر فائرنگ کر دی،فائر میرے والد کے جسم کے بائیں طرف کے حصوں پر لگا،وہ گولی لگنے کے بعد گرپڑے،ملزم کا حلیہ رنگ گندمی،جسم بھاری،قد تقریبا پانچ فٹ، عمر 30سے 35 برس،شلوار قمیض پہنی ہوئی تھی،ان تمام ملزمان کو سامنے آنے پر ہم شناخت کر سکتے ہیں،ہم اپنے والد کو ہسپتال لے کر جا رہے تھے کہ راستے میں انکی موت ہو گئی،میرے والد پر چھ سات ماہ قبل بھی قاتلانہ حملہ ہو چکا ہے،

    میں نے خلیل الرحمان قمر کو ہنی ٹریپ نہیں کیا،آمنہ کی درخواست ضمانت دائر

    خلیل الرحما ن قمر کیس،آمنہ عروج کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد، جیل بھجوا دیا گیا

    نازیبا ویڈیو”لیک” ہونے سے میری ساکھ کو نقصان پہنچا،خلیل الرحمان قمر کا دعویٰ

    خلیل الرحمان قمر کو زنا کے جرم میں کیوں نہیں پکڑا جارہا؟صارفین برہم

    خلیل الرحمان قمر کی ایک اور "ویڈیو "آنے والی ہے

    تھانے میں آمنہ کو کرنٹ لگایا گیا،خلیل سے معافی مانگو

    خلیل قمر اور آمنہ کی انتہائی شرمناک ویڈیو،اس رات ہوا کیا تھا؟

    میری ویڈیو وائرل ہو گئی،دل کرتا ہے عدالت کے باہر خود کشی کر لوں،آمنہ عروج

    خلیل الرحمان قمر پر تشدد کرنیوالے ریکارڈ یافتہ ملزم نکلے

    خلیل الرحمان قمر کی نازیبا ویڈیو لیک ہو گئیں

    خلیل الرحمان قمر کیس،مرکزی ملزم حسن شاہ گرفتار

    خلیل الرحمان قمر کے اغوا کی کہانی،مکمل حقائق،ڈرامہ نگاری سے ڈرامائی بیان

    خلیل الرحمان قمر کے اغوا کے پیچھے کون؟

  • فاطمہ بھٹو ماں بن گئیں، بیٹے کی پیدائش،نام بھی رکھ دیا

    فاطمہ بھٹو ماں بن گئیں، بیٹے کی پیدائش،نام بھی رکھ دیا

    سابق وزیر اعظم و پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی پوتی، میر مرتضیٰ بھٹو کی بیٹی اور معروف مصنفہ فاطمہ بھٹو ماں بن گئی ہیں، فاطمہ بھٹو کے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی ہے

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر پوسٹ کرتے ہوئے فاطمہ بھٹو نے بیٹے کی پیدائش کا اعلان کیا، ساتھ نام بھی بتا دیا، فاطمہ بھٹو کا کہنا تھا کہ "ہمیں بیٹے کی پیدائش کا اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے”بیٹے کا نام میر مرتضیٰ بیرا رکھا ہے”. فاطمہ بھٹو نے بیٹے کا نام اپنے مرحوم والد کے نام سے منسوب کرتے ہوئے میر مرتضیٰ بیرا رکھا ،

    فاطمہ بھٹو نے اپنے والد کے نام سے منسوب بیٹے کے نام کے حوالے سے لکھا کہ میں اپنے بیٹے کو ایک ایسا نام دینا چاہتی تھی جو اسے اس وقت ہمت اور مہربانی سے نوازے جب وہ دنیا میں اپنا راستہ بنا رہا ہو، میں اپنے بیٹے کا ایک ایسا نام رکھنا چاہتی تھی جو اس کی زندگی کے لیے مشعل راہ بنے، اس کے ساتھ ہی یہ نام اس کے لیے محبت اور طاقت کی ڈھال بن جائے، ایک ایسا نام، جس کے بارے میں وہ یہ جانتا ہو کہ اسے اس کی والدہ کی دل کی گہرائیوں سے دیا گیا ہے، جو اسے زندگی بھر تحفظ کا احساس دلائے، میں اپنے بیٹے کو ایک ایسا نام دینا چاہتی تھی جو اسے ایک دلکش اور بےخوف و نڈر بنائے، اسے اپنے وطن سے محبت اور خوشیاں سب ایک ساتھ اور برابر عطا کرئے اور جب کبھی میں نے اس حوالے سے سوچا کہ ایسا کون سا نام ہوسکتا ہے جس میں یہ تمام خوبیاں ہوں تو ہمیشہ میرے ذہن میں اپنے پیارے والد کا نام ہی آیا،

    واضح رہے کہ فاطمہ بھٹو اور امریکی شہری گراھم بیرا (جبران) کے نکاح کی مختصر تقریب گزشتہ برس 28 اپریل کو خاندانی گھر 70 کلفٹن میں ان کے دادا پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی لائبریری میں منعقد ہوئی تھی، جس میں عزیز اور اقارب اور قریبی دوستوں نے شرکت کی تھی،

    خیال رہے کہ فاطمہ بھٹو لکھاری، شاعرہ اور کالم نگار ہیں جو پاکستان، امریکہ اور برطانیہ کے مختلف اخباروں میں کالم بھی لکھتی ہیں۔فاطمہ بھٹو 29 مئی 1982ء کو افغان دار الحکومت کابل میں اس وقت پیدا ہوئیں، جب ان کے والد میر مرتضیٰ بھٹو جلا وطنی کی زندگی گزار رہے تھے. 2010 میں لکھی جانے والی ان کی غیرافسانوی کتاب خون و شمشیر کے گیت ان کے خاندان کے متعلق ہے۔ فاطمہ بھٹو دا نیوز، دا گارڈین کے علاوہ دیگر ادارے کے لیے لکھتی رہتی ہیں۔

    علاوہ ازیں فاطمہ بھٹو سابق صدر اور سابق وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹوکی پوتی جبکہ سابق وزیراعظم پاکستان بے نظیر بھٹو کی بھتیجی ہیں جبکہ ان کی والدہ فوزیہ فصیح الدین بھٹو افغان وزارت خارجہ اہلکار کی بیٹی تھیں۔ سوتیلی والدہ غنویٰ بھٹو 2021 میں پاکستان پیپلز پارٹی (شہید بھٹو) کی چیئر پرسن ہیں۔فاطمہ بھٹو کے والد میر مرتضیٰ بھٹو 1996ء میں اپنی بہن بینظیر بھٹو کے دور حکومت میں قتل ہوئے۔ فاطمہ کی پیدائش کے وقت ان کے والد ضیاء الحق کے آمرانہ دور میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے تھے۔ ان کے والدین کے درمیان شادی کے تین سال بعد ہی طلاق ہو گئی۔ طلاق کے بعد فاطمہ بھٹو اپنے والد کے ساتھ کئی ملکوں میں مقیم رہیں۔ 1989 میں فاطمہ کے والد کی ملاقات غنوی بھٹو سے ہوئی جو ایک لبنانی بیلے رقاصہ تھیں اور شام میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہی تھیں۔ فاطمہ بھٹو غنوی کو اپنی حقیقی والدہ کی طرح سمجھتی ہیں، ان کے سوتیلے بھائی ذوالفقار علی بھٹو جونیئر سان فرانسسکو میں ایک فنکار ہیں۔

    فاطمہ بھٹو کے الزامات پر سندھ حکومت کا ردعمل

    ملک میں معاشی بحران کی وجہ سے شادی کی تقریب کو انتہائی سادہ رکھا،فاطمہ بھٹو

    انسانی حقوق پر شور مچانے والے موقع پرست کہاں ہیں؟،سیلاب پر مغرب کی خاموشی مایوس کن ،آج پاکستان ہے کل اس کی جگہ آپ ہوں گے،فاطمہ بھٹو

    فاطمہ بھٹو پرانے پاکستان کی واپسی پر ناخوش

    دعا کرتے ہیں کہ ایسی ناانصافی دوبارہ نہ ہو ،فاطمہ بھٹو کا صدارتی ریفرنس رائے پر ردعمل

  • لاہور:ماں اور 3 بچوں کے قتل کیس کا ڈراپ سین،سگا بیٹا ہی قاتل نکلا

    لاہور:ماں اور 3 بچوں کے قتل کیس کا ڈراپ سین،سگا بیٹا ہی قاتل نکلا

    لاہوار:ماں اور 3 بچوں کے قتل کیس کا ڈراپ سین،سگا بیٹا ہی قاتل نکلا،اطلاعات کےمطابق لاہور کے نواحی علاقےکاہنہ میں ماں اور 3 بچوں کےقتل کیس کا ڈراپ سین ہوگیا، بیٹا ہی ماں اور 3 بھائی بہنوں کا مبینہ قاتل نکلا ۔

    کاہنہ میں 19جنوری کو 45 سالہ لیڈی ہیلتھ وزیٹرناہید مبارک ، ان کے 20 سالہ بیٹے تیمور، 13 سالہ بیٹی ماہ نور اور 8سالہ بیٹی جنت فاطمہ کو سر میں گولیاں مار کر انتہائی بے دردی سے قتل کر دیا گیا تھا۔

    پولیس کے مطابق مقتولہ ناہید مبارک کے چھوٹے بیٹےفورتھ ائیر کے طالب علم 18 سالہ علی زین نے ڈرامہ رچایا تھا کہ وہ کلینک میں سونے کی وجہ سے بچ گیا۔

    پولیس نے علی زین اور ناہید مبارک کے سابق شوہر کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی تو علی زین نے ماں اور تینوں بہن بھائیوں کے قتل کااعتراف کر لیا۔پولیس نے ملزم سے آلہ قتل برآمد کر لیا ہے، ملزم نے پولیس کو بتایا کہ اس نے پب جی کھیلتے ہوئے ماں اور بھائی بہنوں کوگولیاں ماریں۔

    ایس ایس پی انویسٹی گیشن عمران کشور کا کہنا ہے کہ زین نےہی پب جی کھیلتے ہوئے ماں اور تینوں بھائی بہنوں کو قتل کیا، ایس پی انویسٹی گیشن عمارہ کہتی ہیں کہ انہیں ابھی ملزم پر شبہ ہے۔

    پولیس کو موقع سے ملنے والے کچھ فنگر پرنٹس کے لیے فارنزک سائنس ایجنسی کی رپورٹ کا انتظار ہے جس کے بعد ملزم کو عدالت میں پیش کیا جائےگا۔

  • بدبخت بیٹے نے دوست اور کزن کے ساتھ ملکر کو باپ کو قتل کر دیا

    بدبخت بیٹے نے دوست اور کزن کے ساتھ ملکر کو باپ کو قتل کر دیا

    لاہور:بدبخت بیٹے نے کزن کے ساتھ مل کر والد کو قتل کر دیا

    باغی ٹی وی : جائیداد کی لالچ میں کزن اور دوست کیساتھ مل کر سگے باپ کو قتل کرنے والا بدبخت بیٹا گرفتار کرلیا گیا پولیس کو جوہر ٹاؤن کے علاقے رحمان پارک میں شہزم نامی کالر کی کال موصول ہوئی کہ اسکے والد عابد لطیف کو کسی نامعلوم شخص نے قتل کر دیا ہے۔

    پولیس کے مطابق ایس ایس پی آپریشنز مستنصر فیروز اور ایس پی صدر حفیظ الرحمن بگٹی موقع پر پہنچے اور جائے وقوعہ کا تفصیلی معائنہ کیا ، تو حالات مشکوک جانتے ہوئے کالر سے تفتیش کی گئی

    بیٹی کے ساتھ ناجائز تعلقات استوار کرنیوالا سفاک درندہ گرفتار

    ایس پی صدر کے مطابق کالر شہزم نے چند منٹوں میں ہی اپنے والد عابد لطیف کو قتل کرنے کا اعتراف کر لیا اس نے اپنے کزن عمیر اور دوست عبدالرحمن کیساتھ مل کر اپنے والد کو چھری اور ہتھوڑے سے قتل کیا۔

    فوٹو بشکریہ :ایکسپریس نیوز
    پولیس نے موقع سے آلہ قتل ،چھری اور ہتھوڑا بھی برآمد کر لیا بدبخت بیٹے کا کہنا ہے کہ اس کا والد کنجوس اور سخت گیر تھا، جس پر بیٹے نے جائیداد ہتھیانے کے لیے اپنے کزن اور دوست کیساتھ ملکر اپنے والد کو قتل کیا۔

    گھر سے خاتون کی نعش برآمد،بھائی نے بہن کو گولی مار دی،پولیس

    پولیس نے تینوں ملزمان شہزم ،عمیر اور عبد الرحمن کو گرفتار کر کے مزید تحقیقات کا آغاز کر دیا جبکہ لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا پولیس اور فرانزک سائنس کی ٹیموں نے موقع سے شواہد اکھٹے کر لیے اور ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا۔

    نازیبا ویڈیو سیکنڈل،پولیس لڑکیوں کو بازیاب کروانے میں تاحال ناکام

  • حجرہ شاہ مقیم میں بدنصیب بیٹے نے اپنے باپ کو فائرنگ کرکے قتل کردیا

    حجرہ شاہ مقیم میں بدنصیب بیٹے نے اپنے باپ کو فائرنگ کرکے قتل کردیا

    اوکاڑہ(علی حسین ) حجرہ شاہ مقیم میں بدبخت بیٹے نے گھریلو رنجش کی بنا پر اپنے حقیقی باپ کو فائرنگ کرکے قتل کردیا۔ پولیس نے بروقت کاروائی کرتے ہوئے ملزم کو اسلحہ سمیت گرفتار کرلیا۔ تفصیلات کے مطابق حجرہ شاہ مقیم کے چونیاں چوک کے رہائشی باپ بیٹے کا گھریلو تنازع شدت اختیار کرگیا ، جس کی بنا پر رمضان نامی بدنصیب بیٹے نے اپنے حقیقی باپ 55 سالہ سخی محمد کو فائرنگ کرکے قتل کردیا۔ تھانہ حجرہ شاہ مقیم پولیس نے بروقت کاروائی کرتے ہوئے رمضان کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کر لیا ہے۔

  • کرنٹ لگنے سے امام مسجد جاں بحق، جبکہ بیٹا صدمے کی وجہ سے چل بسا۔

    کرنٹ لگنے سے امام مسجد جاں بحق، جبکہ بیٹا صدمے کی وجہ سے چل بسا۔

    اوکاڑہ( علی حسین)اوکاڑہ کے نواحی گاؤں چوچک میں نماز پڑھا کر واپس گھرجانیوالا امام مسجد دروازے سے کرنٹ لگنے سے جانبحق ہوگیا۔گھر میں موجود بیٹا بھی باپ کی نعش دیکھ کر صدمے سے چل بسا۔تفصیلات کے مطابق چوچک کے نواحی گاؤں موضع چاکر کے پار کا امام مسجد نماز پڑھا کر واپس گھر پہچا تو دروازے سے کرنٹ لگنے سے امام مسجد موقع پر جانبحق ہوگیا ۔گھر میں موجود بیٹا بھی باپ کی نعش دیکھ کر صدمے سے ہارٹ اٹیک سے چل بسا ۔ مرنے والوں میں مقبول حسین امام مسجد اور بیٹا بابر علی جو فرسٹ ایئر کا سٹوڈنٹ تھا علاقہ کی فضا سوگوار دونوں میتوں کو اہوں اور سسکیوں میں سپرد خاک کیا گیا۔