Baaghi TV

Tag: بی ایل اے

  • بی ایل اے کا اہم کمانڈرافغانستان میں ہلاک

    بی ایل اے کا اہم کمانڈرافغانستان میں ہلاک

    کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی(بی ایل اے) سے وابستہ ایک اہم کمانڈر افغانستان کے صوبہ قندھار میں ایک کارروائی کے دوران ہلاک ہو گیا ہے۔

    سیکیورٹی حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے کالعدم بی ایل اے کمانڈر کی شناخت نعیم کے نام سے ہوئی ہے جو ’ڈاکٹر‘ کے نام سے بھی جانا جاتا تھا اور اسے تنظیم کے اہم ترین کمانڈروں میں شمار کیا جاتا تھا اور وہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رکن ماہ رنگ بلوچ کا قریبی رشتہ بھی ہے۔ تاہم اس حوالے سے مذکورہ کارکن یا ان کے نمائندوں کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

    نعیم عرف ڈاکٹر طویل عرصے سے دہشتگردی کی سرگرمیوں میں ملوث تھا اور تنظیم کے عسکری نیٹ ورک میں ایک اہم کردار ادا کر رہا تھاوہ تنظیم کے ایک فعال دھڑے کالعدم ’مجید بریگیڈ‘ سے بھی وابستہ رہا ہے جو حالیہ برسوں میں کئی دہشتگردانہ حملوں کی ذمہ داری قبول کرتا رہا ہے۔

    ہواوے مصنوعات استعمال کرنے والوں کے لیےسیکیورٹی الرٹ جاری

    حکام کے مطابق یہ بریگیڈ تنظیم کے سب سے زیادہ فعال اور خطرناک آپریشنل ونگز میں شمار کی جاتی ہے اس یونٹ کو اکثر خودکش حملوں، دھماکوں اور سیکیورٹی فورسز سمیت اہم سرکاری اور اسٹریٹجک تنصیبات کو نشانہ بنانے والی کارروائیوں سے منسلک کیا جاتا رہا ہے۔

    سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ نعیم عرف ڈاکٹر کو تنظیم کے اندر ایک اہم کمانڈر کی حیثیت حاصل تھی اور وہ مختلف حملوں کی منصوبہ بندی اور نیٹ ورک کی سرگرمیوں میں مرکزی کردار ادا کرتا رہا ہے وہ اس وقت ہلاک ہوا جب افغانستان کے صوبہ قندھار میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہوئے ایک کارروائی کی گئی، تاہم حکام کی جانب سے اس آپریشن کی مزید تفصیلات فوری طور پر جاری نہیں کی گئیں-

    ہم افغان طالبان کے ساتھ تعمیری انگیجمنٹ چاہتے ہیں،پاکستان

    دوسری جانب حکام کا کہنا ہے کہ کالعدم تنظیم سے وابستہ نیٹ ورکس کی نگرانی اور ان کے خلاف کارروائیاں بدستور جاری ہیں ملک میں امن و استحکام کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا اور ایسے نیٹ ورکس کو ختم کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ملک کی سلامتی کو درپیش خطرات سے نمٹنے کیلئے سیکیورٹی ادارے ہر ممکن اقدامات جاری رکھیں گے۔

  • بی ایل اے کی کارروائیاں  چین پاکستان اکنامک کوریڈور کے لیے خطرہ  بن رہی ہیں،امریکا

    بی ایل اے کی کارروائیاں چین پاکستان اکنامک کوریڈور کے لیے خطرہ بن رہی ہیں،امریکا

    امریکا کے ریٹائرڈ آرمی کرنل اور سابق کمیونیکیشن ڈائریکٹر جو بکینو (Joe Buccino) نے کہا ہے کہ چین پاکستان اکنامک کوریڈور کے لیے خطرہ بن رہی ہیں-

    امریکی کرنل جو بکینو نے کہا کہ بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی حالیہ کارروائیوں نے ظاہر کیا ہے کہ یہ گروہ اب روایتی علیحدگی پسند تنظیم کے بجائے جدید دہشتگردانہ طریقوں پر عمل پیرا ہے بی ایل اے کے ہدف عام شہری، تعلیمی ادارے، ٹرانسپورٹ اور اہم بنیادی ڈھانچے پر مرکوز ہیں، جبکہ مقامی عوام کے زیادہ تر مطالبات روزگار، بہتر گورننس اور سیکیورٹی سے متعلق ہیں، سروے اور تحقیقی رپورٹس سے پتا چلتا ہے کہ بلوچستان کے لوگ قومی شناخت کے حامی ہیں اور علیحدگی کے خواہاں نہیں،31 جنوری کو بلوچستان میں کیے گئے ہم آہنگ حملوں میں درجنوں شہری اور سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے۔

    سی ٹی ڈی، ایلیٹ اور ضلعی پولیس کاشانگلہ میں مشترکہ ٹارگٹڈ آپریشن

    امریکی کرنل نے اپنے تجزیے میں زور دیا کہ بی ایل اے کی کارروائیاں نہ صرف امن اور ترقی کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ علاقے میں اقتصادی منصوبوں، خاص طور پر چین پاکستان اکنامک کوریڈور کے لیے خطرہ بھی بن رہی ہیں۔

    نیپرا نے سولر پالیسی 2026 میں ترمیمی مسودے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا

  • پاکستان نے سلامتی کونسل سے بی ایل اے پر پابندی کا مطالبہ کر دیا

    پاکستان نے سلامتی کونسل سے بی ایل اے پر پابندی کا مطالبہ کر دیا

    پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں کالعدم دہشتگرد تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) پر پابندی عائد کرنے کا باضابطہ مطالبہ کردیا ہے۔

    اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کرنے کی زیرِ غور درخواست منظور کرنے کا مطالبہ کیا ہے یہ مطالبہ سلامتی کونسل کے اجلاس میں دہشت گردی سے عالمی امن و سلامتی کو لاحق خطرات پر بحث کے دوران کیا گیا۔

    اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی عالمی امن اور سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکی ہے اور اس کے اثرات صرف ایک ملک تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے خطے اور دنیا کو متاثر کرتے ہیں کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد خطے میں بعض دہشت گرد تنظیموں کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع ملا اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، فتنتہ الہندوستان اور بلوچ لبریشن آرمی جیسی تنظیموں کو نئی زندگی ملی اور انہوں نے اپنی کارروائیاں تیز کیں بلوچ لبریشن آرمی نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گرد حملے کیے جن میں 48 بے گناہ شہری جان سے گئے،کالعدم بی ایل اے نے بلوچستان کے مختلف مقامات پر متعدد دہشت گرد حملوں کی ذمہ داری قبول کی-

    انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان کے مشرقی ہمسایے کی کھلی حمایت سے یہ گروہ پاکستان کے اندر سفاکانہ دہشت گرد حملوں کے ذمہ دار ہیں، جس سے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن کو خطرات لاحق ہیں پاکستان کے مستقل مندوب نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ بلوچ لبریشن آرمی کو عالمی سطح پر دہشت گرد تنظیم قرار دے کر اس پر پابندیاں عائد کرےانہوں نے اجلاس میں اس تشویش کا بھی اظہار کیا کہ بعض دہشت گرد عناصر افغانستان کی سرزمین سے پاکستان میں کارروائیاں کر رہے ہیں، جو علاقائی امن کے لیے خطرہ ہےعاصم افتخار نے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے ریاستی دہشت گردی کی بھی مذمت کی اور کہا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں عالمی ضمیر کے لیے سوالیہ نشان ہیں۔

    دوسری جانب فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ کوئی بھی دہشت گرد یا اس کا سہولت کار قانون سے بالاتر نہیں اور تمام عناصر سے بلا امتیاز قانون کے مطابق سختی سے نمٹا جائے گا سیکیورٹی فورسز نے دشمن کے ناپاک عزائم کو ناکام بنا کر بلوچستان میں امن و امان کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا ہے اور دہشت گردی اور تشدد کو کسی بھی جواز کے تحت قبول نہیں کیا جا سکتا۔

    ادھر وزیراعظم شہباز شریف نے بھی کابینہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہے انہوں نے شہریوں، سیکیورٹی فورسز کے جوانوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان سب کی مشترکہ جدوجہد سے ہی ملک میں امن و استحکام ممکن ہے۔

  • بھارت اور کالعدم بی ایل اے ایک ہی سکے کے 2 رخ ہیں  ،خواجہ آصف

    بھارت اور کالعدم بی ایل اے ایک ہی سکے کے 2 رخ ہیں ،خواجہ آصف

    وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) بھارت کی پراکسی ہے، ان شا اللہ تعالیٰ دہشتگردی کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا،بھارت اور کالعدم بی ایل اے ایک ہی سکے کے 2 رخ ہیں –

    وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے سیالکوٹ میں میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ گرفتار شدہ دہشتگردوں کے انکشافات سے ثابت ہوتا کہ دہشتگردی میں بھارت ملوث ہے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) انسانی حقوق کا لبادہ اوڑھ کر دہشتگردی میں ملوث ہے اور شہری آبادی، مزدوروں، خواتین اور بچوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔

    انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان میں حالیہ منظم دہشتگرد حملے کو سیکیورٹی فورسز نے مکمل طور پر ناکام بنا دیا ہے اور دہشتگرد بے شمار لاشیں چھوڑ کر فرار ہو گئے۔ دہشتگردوں کا مقصد پاکستان کو عدم استحکام اور معاشی تباہی کی طرف دھکیلنا ہے، جبکہ ملک گزشتہ 2 برس میں معاشی کھنڈرات سے نکل کر بہتری کی راہ پر گامزن ہو چکا ہے بھارت اور کالعدم بی ایل اے ایک ہی سکے کے 2 رخ ہیں بی ایل اے نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سطح پر بھی کالعد م تنظیم ہے گر فتا ر دہشتگردوں کے بیانات اور دستیاب انٹیلی جنس معلومات سے بھارت کے کردار کی نشاندہی ہوتی ہے، جبکہ دہشتگردوں کے روابط بھار ت اور افغا نستا ن میں موجود ہینڈلرز سے بھی ملتے ہیں۔

    ہم ایک ہزار سال تک جنگ لڑیں گے، پاکستان ٹوٹنے کے لیے نہیں بنا،وزیراعلیٰ بلوچستان

    انہوں نے بتایا کہ گزشتہ روز بلوچستان میں دہشتگردی کے 12 مختلف واقعات پیش آئے، جن میں نوشکی، دالبندین اور ایف سی ہیڈکوارٹرز کو نشانہ بنایا گیا۔ 2 مقامات پر خواتین کو خودکش حملوں کے لیے استعمال کیا گیا، پسنی میں مارے جانے والی خودکش بمبار بھی خاتون تھی، جبکہ کراچی میں ایک ناکام خودکش بمبار نے اعترافِ جرم کیا،سیکیورٹی فورسز کلیئرنس آپریشن میں مصروف ہیں اور ابتدائی اطلاعات کے مطابق گزشتہ 2 دنوں میں مارے جانے والے دہشتگردوں کی تعداد 100 سے تجاوز کرسکتی ہے، تاہم ان کارروائیوں میں سیکیورٹی فورسز کے 11 جوان شہید ہوئے۔

    انڈر 19ورلڈ کپ: بھارت کی پاکستان کیخلاف بیٹنگ جاری

    خواجہ آصف نے دہشتگردوں کی جانب سے لاپتا افراد کے بیانیے کو فراڈ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا استعمال عوام کو گمراہ کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے بلوچستان سمیت ملک کے تمام صوبوں میں امن کا قیام قومی ایجنڈا ہے اور دہشتگردوں کو آنے والے دنوں میں مزید سخت جواب دیا جائے گابھارت ماضی میں بھی فارن فنڈنگ کے ذریعے شہریوں اور سرکاری ملازمین کو نشانہ بناتا رہا ہے، تاہم پاکستان پوری قوت سے دہشتگردی کے خلاف کھڑا ہے ملک کی حفاظت کے لیے جو بھی کرنا پڑا کیا جائے گا اور دہشتگردوں کا مکمل خاتمہ یقینی بنایا جائے گا، دہشتگردوں کے سہولت کاروں کو بھی وہیں بھیجیں گے جہاں دہشتگردوں کو بھیجا جا رہا ہے۔

    پاکستان کا خوف :بھارت کے دفاعی بجٹ میں 20 فیصد اضافے کا مطالبہ

  • کالعدم بی ایل اے کے کارندے ڈاکٹر عثمان قاضی کا قریبی ساتھی گرفتار، وکالت کی ڈگری ہولڈر نکلا

    کالعدم بی ایل اے کے کارندے ڈاکٹر عثمان قاضی کا قریبی ساتھی گرفتار، وکالت کی ڈگری ہولڈر نکلا

    کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے فتنہ الہندوستان کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے علیحدگی پسند تنظیم کالعدم (بی ایل اے) کے کارندے ڈاکٹر عثمان قاضی کے قریبی ساتھی میر خان محمد کو گرفتار کرلیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق ملزم میر خان محمد لہری،نے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی سے وکالت کی ڈگری حاصل کی جس کے بعد وہ بلوچستان میں پراسیکیوٹر انسپکٹر بنے،تاہم دورانِ ملازمت وہ مبینہ طور پر کالعدم تنظیم کے لیے سہولت کاری کرتا رہاابتدائی تفتیش میں میر خان لہڑی کے روابط اور سرگرمیوں کے حوالے سے اہم انکشافات سامنے آئے ہیں، جس کی بنیاد پر مزید متعدد افراد کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔

    سی ٹی ڈی نے کہا ہے کہ گرفتار ملزم سے مزید تفتیش جاری ہے اور امکان ہے کہ تنظیم کے نیٹ ورک کے مزید سہولت کاروں کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا، سی ٹی ڈی نے ملزم سے تفتیش شروع کردی ہے جس نے ملزم کی درجن سے زائد وارداتوں میں ملوث ہونے کا انکشاف کیا ہے۔

    بل ازیں کوئٹہ کی بیوٹمز یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر عثمان قاضی کو بھی گرفتار کیا گیا تھا، وہ بھی کالعدم تنظیم کے نیٹ ورک کا اہم ترین حصہ تھا۔ اس نے اپنے ویڈیو بیان میں انکشاف کیا ہے کہ وہ کالعدم بی ایل اے سے منسلک رہا اور متعدد دہشتگردانہ کارروائیوں میں سہولت کاری فراہم کرتا رہا ہے۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے پریس کانفرنس کے آغاز میں دہشتگردوں کے ایک سہولت کار پروفیسر ڈاکٹر عثمان قاضی کا ویڈیو بیان دکھایا جس میں ملزم نے انکشاف کیا کہ وہ تربت کا رہائشی ہے وہیں پلا بڑھا اور ملک کے اچھے اداروں سے تعلیم حاصل کی قائد اعظم یونیورسٹی سے ماسٹر اور پھر ایم فل کیا پشاور یونیورسٹی سے اسکالرشپ کے ساتھ پی ایچ ڈی کی کوئٹہ کی بیوٹمز یونیورسٹی میں ملازمت کر رہا تھا 18 گریڈ کا لیکچرر تھا میری اہلیہ بھی سرکاری ملازم ہیں،جب میں پشاور یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کر رہا تھا تو میں قائد اعظم یونیورسٹی کے وزٹ پر گیا تھا، وہاں 3 دوستوں کے ساتھ ملاقات ہوئی وہ تنظیم کے ساتھ منسلک تھےبعد میں ان میں سے 2 مارے گئے پھر ڈاکٹر ہیبتان عرف کالک نے مجھ سے رابطہ کیا بعد میں مجھے بھی تنظیم میں شامل کیا گیا۔

    پروفیسر ڈاکٹر عثمان قاضی نے انکشاف کیا کہ اس کے بعد میری ملاقات بشیر زیب سے کروائی گئی بشیر زیب سے میرا رابطہ ٹیلی گرام کے ذریعے ہوتا تھا ملزم نے انکشاف کیا کہ وہ دہشگردانہ کاررائیوں کے لیے ٹیلی گرام ایپلی کیشن کا استعمال کرتے تھے تنظیم نے کوئٹہ میں مجھ سے 3 کاموں میں سہولت کاری لی تھی تنظیم میں میرا نام امیرتھا وہ مجھے اسی نام سے جانتے تھے مجھے پہلا کام ایک ریجنل کمانڈر کے علاج اور تیمار داری کا دیا گیا تھا اس کا نام شیر دل تھا وہ ایک لڑائی میں زخمی ہوا تھا میں نے اسے جگہ دی، بعد ازاں وہ صحت یاب ہوکر چلا گیا تھا پھر گزشتہ سال نومبر میں نے رفیق بزنجو کو اپنے ہاں رہنے کو جگہ دی وہ میرے پاس 2 دن رہا اور پھر میں نے اسے کسی اور کے حوالے کیا اس سے اگلے دن وہ یہاں ریلوے اسٹیشن میں ایک خود کش کارروائی میں پھٹ گیا تھا۔

    واضح رہے کہ نومبر 2024 مییں کوئٹہ ریلوے اسٹیشن پر خودکش حملہ ریلوے اسٹیشن پر ہوا تھا، اس میں 32 جانیں ضائع ہوئی تھیں، 50 سے زائد لوگ زخمی ہوئے تھے۔ 10 سویلینز شہید ہوئے تھے، باقی سیکیورٹی فورسز کے جوان تھےملزم نے بتایا کہ حال ہی میں مجھے ایک ٹارگٹ ملا تھا ایک شخص چند دن میرے پاس رہا اس کے بعد میں نے اسے جمیل عرف نجیب کے حوالے کیاتنظیم والے اسے 14 اگست کے کسی ایونٹ میں استعمال کرنے والے تھے۔

    ڈاکٹر عثمان قاضی نے بتایا کہ یہ سارے کام میں نے کیے اس کے علاوہ میں نے ایک پسٹل بھی لیا تھا وہ میں نے ایک خاتون کے حوالے کیا خاتون نے پسٹل آگے تنظیم کے اسکواڈ کو دیا پھر وہ پسٹل سیکورٹی اہلکاروں اور سرکاری ملازمین کو ٹارگٹ کرنے میں استعمال ہوا تھا ملزم نے اعتراف کیا کہ یہ سارے کام میں نے کیے، تنظیم کے ساتھ منسلک رہا ہوں میں نے سہولت کاری کی ہے۔

    ملزم نے اعتراف کیا کہ ریاست نے مجھے سب کچھ دیا عزت اور وقار دیا مجھے بھی نوکری دی اور میری اہلیہ کو بھی نوکری دی اس کے باوجود میں نے قانون کی خلاف ورزی کی اور ریاست کے ساتھ غداری کی ہے میں اس پر تہہ دل سے شرمندہ ہوں مجھے اس پر افسوس ہے میرے اس ویڈیو بیان کو ریکارڈ کرانے کا مقصد نوجوان نسل سے کہنا ہے کہ وہ اس طرح کی انتشار پھیلانے والی تنظیموں سے دور رہیں۔

  • قصور کا رہائشی بی ایل اے کے ہتھے چڑھ گیا،ویڈیو وائرل

    قصور
    گزشتہ دنوں قصور کی تحصیل چونیاں کے رہائشی کوئلہ خریدنے گئے تاجر کو بلوچ لبریشن آرمی کے دہشتگردوں نے اغواء کرکے ملٹری انٹیلیجنس کا اہلکار ظاہر کرکے ویڈیو وائرل کر دی،مغوی کی بازیابی کیلئے گورنمنٹ سے اپیل

    تفصیلات کے مطابق گزشتہ دنوں بلوچستان میں علیحدگی پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کے دہشتگردوں کی طرف سے ایک ویڈیو وائرل کی گئی جس میں 6 کے قریب بی ایل اے کے دہشتگردوں نے محمد فیصل ولد بشیر احمد سکنہ رہائشی تحصیل چونیاں قصور پر اے کے 47 اور ایم 4 رائفلیں تانی ہوئی ہیں اور ویڈیو کے شروع میں مغوی کی طرف سے اکتوبر بروز بدھ کے الفاظ سے بولنے کا آغاز ہوا ہے جس میں مغوی اپنا نام اور ایڈریس بتا کر ریاست پاکستان سے دردمندانہ اپیل کر رہا ہے کہ اس کو رہا کروا جائے او بی ایل اے کے دہشتگردوں کے مطالبات مانے جائیں اور اس کے گھر والے احتجاج کریں
    مذکورہ شحض کوئلے لینے کیلئے بلوچستان گیا تھا جسے بی ایل اے نے اغواء کیا اور اسے پاکستان آرمی کی خفیہ ایجنسی ایم آئی کا اہلکار ثابت کرنے کی کوشش کی جو کہ قطعاً غلط ہے تاہم مذکورہ شحض قصور کی تحصیل چونیاں کا ہی رہائشی ہے اور اس سے قبل بھی کوئلہ لینے بلوچستان جاتا رہا ہے
    اس بار اسے اغواء کرکے بی ایل اے کے دہشتگردوں نے اپنے مطالبات منوانے کیلئے اس کی ویڈیو وائرل کی ہے
    گورنمنٹ سے مغوی کے خاندان اور اہلیان علاقہ کی اپیل ہے کہ جلد سے جلد مغوی کو بازیاب کروایا جائے

  • دہشتگردوں کے ہاتھوں خواتین کے استعمال کی گھناؤنی حقیقت بے نقاب

    دہشتگردوں کے ہاتھوں خواتین کے استعمال کی گھناؤنی حقیقت بے نقاب

    کوئٹہ: بلوچستان میں دہشتگردوں کے ہاتھوں خواتین کے استعمال کی گھناؤنی حقیقت بے نقاب ہو گئی۔

    باغی ٹی وی : بلوچستان میں جاری دہشت گردی میں خواتین خود کش حملہ آوروں کا استعمال دہشت گردوں کی ذہنیت کا واضح عکاس ہے خواتین کےخود کش حملوں میں اب تک معصوم شہریوں سمیت سکیورٹی اہلکاروں کی شہادتیں بھی ہوچکی ہیں۔

    ذرائع کے مطابق بلوچستان میں دہشت گرد تنظیمیں خواتین کو ڈھال بنا کر اپنی دہشت گردانہ کارروائیوں کو سرانجام دیتی ہیں۔ خواتین خودکش بمباروں کے استعمال کی وجہ یہ بھی ہے کہ وہ سکیورٹی جانچ پڑتال سے بچنے کی صلاحیت رکھتی ہیں کیوں کہ خواتین کو کم مشکوک سمجھا جاتا ہے، جس کی وجہ سے وہ دہشتگردوں میں شمولیت کے لیے موزوں ہدف بن جاتی ہیں۔

    گوجرانوالہ:ڈسکہ میں 62 کروڑ 92 لاکھ کے ترقیاتی منصوبوں کی منظوری

    دہشتگرد تنظیمیں منظم طریقہ کار کے تحت خواتین کو اپنے گھناؤنے مقاصد کے لیے ہدف بناتی ہیں دہشت گرد گروہ نوجوان خواتین کو خودمختاری کے جھوٹے وعدوں سے ورغلاتے ہیں اور جال میں پھنسا لیتے ہیں دہشت گرد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو کمزور نوجوان خواتین کی بھرتی کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ جعلی اکاؤنٹس اور آن لائن حربے دہشتگردی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشتگردوں کی جانب سے نفسیاتی حربے اور بلیک میلنگ خواتین کو مجبور کرنے کے عام ہتھکنڈے ہیں دہشتگردوں کی جانب سے خواتین کی جذباتی کمزوریوں کا فائدہ اٹھا کر انہیں دہشتگردانہ سرگرمیوں میں دھکیلا جاتا ہے اسی طرح معاشی مسائل اور سماجی تنہائی نوجوان خواتین کو دہشتگردوں کے لیے آسان ہدف بنا دیتی ہیں۔

    پنجاب کابینہ میں توسیع کا فیصلہ

    دہشت گرد گروہ نوجوان خواتین کو خودمختاری کے جھوٹے وعدوں سے ورغلاتے ہیں اور انہیں استحصال کے جال میں پھنسا دیتے ہیں۔ سوشل میڈیا دہشت گردوں کے لیے ایک خطرناک ہتھیار بن چکا ہے جو کمزور خواتین کو جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے نشانہ بناتے ہیں۔خواتین کو جذباتی بلیک میلنگ اور دھوکا دہی پر مبنی تعلقات کے ذریعے انتہا پسندی میں دھکیلا جاتا ہے۔

    بلوچستان میں خودکش بمبار خواتین میں شاری بلوچ، ماہل بلوچ اور عدیلہ بلوچ جیسی خواتین دہشتگردوں کی آلہ کار بن چکی ہیں۔ بی ایل اے کے کارندے تعلیم یافتہ خواتین کو خودکش مشنز کے لیے منظم طریقے سے ہدف بناتے ہیں۔عدیلہ بلوچ بھی ایک تعلیم یافتہ خاتون تھیں جودہشتگردوں کے ایجنڈے کے لیے ایک قیمتی اثاثہ سمجھی جاتی تھیں۔

    بھارت کا پاکستان کیخلاف پروپیگنڈے کیلیے انکت سریواستو کا جال بےنقاب

  • کراچی، بی ایل اے کے سات ملزمان اسلحہ،منشیات سمیت گرفتار

    کراچی، بی ایل اے کے سات ملزمان اسلحہ،منشیات سمیت گرفتار

    کراچی ویسٹ، تھانہ اقبال مارکیٹ کے علاقے طوری بنگش کالونی میں پولیس اور رینجرز نےمشترکہ کومبنگ،سرچ آپریشن کیا،

    سرچ آپریشن انٹیلیجنس اطلاعات پر جرائم پیشہ عناصر اور منشیات فروش کے خلاف کیا گیا،سرچ آپریشن کے دوران علاقے کے داخلی و خارجی راستوں کو سیل کرکے گھر گھر تلاشی لی گئی، بائیومیٹرک تلاش ڈیوائس کی مدد سے مشتبہ اشخاص کی ویریفیکیشن،تصدیق کا عمل کیا گیا، جبکہ غیر ملکیوں کا ریکارڈ بھی حاصل کیا گیا،سرچ آپریشن میں ایس ڈی پی او پاکستان بازار کے زیر نگرانی ایس ایچ او اقبال مارکیٹ ہمراہ نفری اور سندھ رینجرز کے افسران و جوان لیڈیز اسٹاف و انٹیلیجنس اسٹاف نے اپنے فرائض سرانجام دیئے،

    دوسری جانب رینجرز اور پولیس نے پرانا گولیمار کے علاقے سے سرچ آپریشن کے دوران کالعدم تنظیم بی ایل اے کے سات ملزمان کو گرفتار کیا ہے،ترجمان رینجرز کے مطابق ملزمان ٹارگٹ کلنگ، ڈکیتیوں، اسٹریٹ کرائمز اور منشیات فروشی میں ملوث ہیں، گرفتار ملزمان میں صابر، ولید، محمد عدنان، فیصل، محمد فہیم، سمیر اور احسان پٹھان شامل ہیں،ملزمان کے قبضے سے 8 عدد نائن ایم ایم پسٹل، 550 عدد مختلف اقسام کا ایمونیشن، 16 عدد موبائل فونز، 2700 گرام تنزانیہ، 1280 گرام آئس، 4 عدد وائی فائی ڈیوائسز، ایک عدد موٹر سائیکل اور نقد ی بھی بر آمد کر لی گئی،دوران تفتیش ملزمان نے اعتراف کیا کہ وہ کالعدم تنظیم بی ایل اے کی مالی معاونت کے ساتھ ساتھ ٹارگٹ کلنگ، منشیات فروشی، ڈکیتیوں اور سٹریٹ کرائم کی متعدد وارداتوں میں ملوث رہے ہیں،ملزمان کا سابقہ کرمنل ریکارڈ بھی موجود ہے اور پولیس کو مختلف ایف آئی آرز میں مطلوب تھے، ملزمان کا تعلق کاشف ڈاڈا، نعیم ڈاڈا، کمال اور کاشف سندھی گروپس سے ہے۔

    بشریٰ کو خون چاہیے،مولانا کو 3 میسج کس نے بھجوائے؟

    بشریٰ کا بیان غیر ذمہ دارانہ، بے بنیاد ہے ،جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ

    بشریٰ کا بیان، جنرل باجوہ کو خود سامنے آکر تردید کرنی چاہیے۔خواجہ آصف

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    بشریٰ کے پاس پارٹی عہدہ نہیں، بیرسٹر سیف،بیان قابل مذمت ہے،اسحاق ڈار

    بشری بی بی کا شریعت ختم کرنے کا الزام، دوست اسلامی ملک پر خودکش حملہ ہے،عظمیٰ بخاری

  • کوئٹہ خود کش حملہ:دہشتگرد کی  تفصیلات اور تصویر  جاری

    کوئٹہ خود کش حملہ:دہشتگرد کی تفصیلات اور تصویر جاری

    کوئٹہ ریلوے اسٹیشن پر خود کُش حملہ کرنے والے بی ایل اے کے دہشت گرد محمد رفیق بزنجو عرف وشین بلوچ کی تفصیلات اور تصویر بی ایل اے نے سوشل میڈیا پر شیئر کردی۔

    باغی ٹی وی: بی ایل اے کے دہشت گرد کی اس تصویر کا فورنزک آڈٹ کرنے پر پتہ چلتا ہے کے یہ دہشت گرد سر سے پاؤں تک غیر ملکی اسلحہ اور سامان سے لدا ہوا ہےتصویر میں دہشت گرد محمد رفیق نے امریکی ساخت کی ایم فور رائفل اٹھائی ہوئی ہے جو صرف افغانستان میں ڈالروں سے خریدی جا سکتی ہے،جبکہ دہشت گرد رفیق نے جو یونیفارم پہنا ہوا ہے وہ بھی یو ایس میرین کور کا ہے، ایمو نیشن میگزین جیکٹ اور ٹوپی بھی امریکی ساخت کی ہے
    https://x.com/IntelPk_/status/1855487020505661947
    را کی طرف سے مہیا کئے جانے والے ڈالروں سے بی ایل اے یہ سازو سامان افغانستان سے خرید کر معصوم پاکستانیوں کا قتل عام کر رہی ہےپوری قوم کو ان فارن فنڈڈ دہشت گردوں کے قلع قمع کے لیے افواج پاکستان کے ساتھ ملکر چلنا ہوگا تاکہ ان ملک دشمنوں کا مکمل خاتمہ کیا جاسکے-

    واضح رہے گزشتہ روز کوئٹہ میں ریلوے اسٹیشن پر خودکش دھماکے میں 27 افراد جاں بحق اور 50 سے زائد افراد زخمی ہو گئے تھے، جعفر ایکسپریس نے 9 بجے پشاور کے لیے روانہ ہونا تھا، ٹرین ابھی تک پلیٹ فارم پر نہیں لگی تھی کہ دھماکا ہو گیا، دھماکا ریلوے اسٹیشن پر ٹکٹ گھر کے قریب ہوا جبکہ دھماکے کا مقدمہ نامعلوم افراد کےخلاف سی ٹی ڈی تھانے میں درج کرلیا گیا،آٹھ دس کلو بارودی مواد کا بیگ اٹھائے خودکش حملہ آور نے جعفر ایکسپریس کا انتظار کرتے مسافروں کے درمیان پہنچ کر خود کو دھماکے سے اُڑالیا تھا۔

    واقعہ کی تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ خودکش حملہ آور کے اعضا فرانزک لیب لاہور بھیجے جائیں گے اور نادرا سے اس کی شناخت کی تصدیق میں مدد لی جائے گی کوئٹہ کے تھانہ سی ٹی ڈی میں مقدمہ درج کیا تھا مقدمے میں انسدادِ دہشت گردی اور دیگر دفعات شامل ہیں۔

    کوئٹہ میں شہید ہونے والوں کی نماز جنازہ کوئٹہ گیریژن میں ادا کی گئی تھی نماز جنازہ میں آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر، وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیراعلیٰ بلوچستان سمیت دیگر شخصیات نے شرکت کی تھی

    آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ نماز جنازہ میں چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر سمیت صوبائی وزرا اور فوجی اور سویلین حکام نے شرکت کی آرمی چیف جنرل سیدعاصم منیر نے کہا کہ دہشت گردی کوکبھی برداشت نہیں کیا جائے گا، آرمی چیف نےدہشت گردی کی لعنت کےخاتمےکےلیےقوم کےعزم کااعادہ کیا دہشت گردی کےخاتمےکےمشن کواجتماعی عزم کےساتھ آگےبڑھایاجائیگا، دہشت گردی کیخلاف جنگ کیلئےقوم کی مستقل حمایت کی ضرورت ہے دہشت گردی کیخلاف قوم کاعزم مضبوط ہے،دہشت گردی کاخاتمہ یقینی بنایاجائیگا، دہشت گردی کےخلاف جنگ کومنطقی انجام تک پہنچایاجائےگا، پرامن اورخوشحال مستقبل کیلئےقوم کی حمایت کی ضرورت ہے۔

    وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے کہا تھا کہ دہشت گردی بڑھانے والے عوامل پر حکومت کی نظر ہے۔ بہت سے واقعات کی بروقت روک تھام بھی کی گئی ہے۔ ایک ہفتے میں چار پانچ دہشت گرد پکڑے گئے ہیں۔

    کوئٹہ میں بلوچستان کے وزیرِاعلیٰ سرفراز بگٹی کے ساتھ میڈیا سے گفتگو میں محسن نقوی نے کہا تھا کہ ہم نے حکمتِ عملی تبدیل کی ہے دہشت گردی ختم کرکے دکھائیں گے انسانی حقوق کے چیمپین بننے والے ایسے واقعات کی مذمت کیوں نہیں کرتے سوچنا ہوگا کہ بلوچستان میں خون کا بازار کب تک گرم رہے گا یہ جنگ کی صورتِ حال ہے، عام حالات نہیں۔

    سرفراز بگٹی نے کہا کہ ناراض بلوچ کہہ کر کنفیوژن پیدا کی جاتی ہے دہشت گردوں کو دہشت گرد کہنا چاہیے ان کا کوئی مذہب ہوتا ہے نہ رنگ و نسل۔

    امریکی سفارت خانہ نے کوئٹہ میں دہشت گردی کے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ متاثرین اور ان کے اہل خانہ سے اپنی گہری تعزیت کا اظہار کرتے ہیں. ہم شہریوں اور فوجیوں کے خلاف دہشت گردی کی ایسی کارروائیوں کو روکنے میں پاکستان کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔

    کوئٹہ ریلوے اسٹیشن میں دھماکے کے بعد ملک بھر کے ریلوے اسٹیشنز میں سیکیورٹی سخت کرنے کے احکامات جاری کئے گئے لیکن کراچی کینٹ اسٹیشن میں سیکیورٹی نہ ہونے کے برابر ہے۔

    اس سے قبل ایس ایس پی آپریشن کوئٹہ محمود بلوچ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ دھماکا خود کش معلوم ہوتا ہے۔ دھماکے کے وقت پلیٹ فارم پر 100 سے زائد افراد موجود تھے دھماکا اس وقت ہوا جب جعفر ایکسپریس سے جانے کے لیے مسافروں کی بڑی تعداد پلیٹ فارم پر موجود تھی۔

  • بی ایل اے دہشتگرد طلعت عزیز ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل،اہم انکشاف

    بی ایل اے دہشتگرد طلعت عزیز ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل،اہم انکشاف

    بی ایل اے دہشت گرد طلعت عزیز ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہو گئے
    صوبائی وزیر کے ہمراہ پریس کانفرنس میں طلعت عزیز کہا کہ میں جن لوگوں میں بیٹھتا تھا ان کا تعلق بی ایل سے تھا، میری دشمنی کسی سے نہیں ہے، میں پوری قوم سےدرخواست کرتاہوں ایسے لوگوں سے بچا جائے،بی ایل اے ایک دھشت گرد تنظیم ہے۔ میری طرح کئی نوجوان اس منفی پروپیگنڈے کا شکار ہیں، میں نے اچھے نمبروں سے تعلیم حاصل کی، یونیورسٹی میں سکالر شپ ملی، وہاں ایسے طلبا تھے جو پنجاب یونیورسٹی لاہور میں مجھے کہتے تھے کہ میں بلوچستان کی آزادی کے لئے ہتھیار اٹھاؤں، چھٹیوں میں طلبا نے احتجاج کے لئے قائل کیا اور کہا کہ ایک ایسے تنظیم کا حصہ بنوں جو لوگوں کا قتل عام کرتی ہے،مجھے کہا گیا پہاڑوں پر نئی زندگی ملے گی، بی ایل اے والوں نے مجھے کہا کہ پنجابیوں سے ہماری جنگ ہے میں نے کہا کہ پنجابی میرے بھائی میں نہیں مار سکتا، ان دہشت گردوں کا ایک ہی مقصد تھا عدم استحکام، میں ایک پاکستانی ہوں، بلوچستان پاکستان کا حصہ ہے،میں اپیل کرتا ہوں خدارا ان کے بہکاوےمیں نہ آ جائیں، میں نے اپنا مستقبل گنوا دیا،مسنگ پرسن کے نام پر بلوچ قوم کوگمراہ کیاجا رہا ہے، ان لوگوں نے اتنا گمراہ کیا کہ خاندان اور والد کی عزت کے بارے میں بھی نہیں سوچا،دہشتگرد تنظیمیں ہتھیار ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کے لیے بلوچ اسٹوڈنٹ کا استعمال کرتی ہیں،بی ایل اے ان کا مسئلہ پنجابیوں سے ہیں۔میں پنجاب یونیورسٹی میں تھرڈ ائیر کا طالبعلم ہوں۔مجھے قائل کیا گیا کہ بلوچستان کی آزادی کے لیے ہتھیار اٹھاؤں۔پہاڑیوں پر گیا تو دیکھا کہ اور بھی پڑھے لکھے نوجوان گمراہ ہے حالات دیکھ کر وہاں سے بھاگنے میں کامیاب ہوا۔

    دوسری جانب صوبائی وزیرعبدالرحمٰن کھیتران نے کہا کہ دہشتگردوں کےنیٹ ورک کوپکڑرہے ہیں، ریاست کیخلاف جو بھی جائےگا وہ دہشتگرد ہوگا،کون سی آزادی تحریک ہے جہاں معصوم لوگوں کونشانہ بنایاجارہا ہے، یہ کون سی قومیت ہے کہ معصوم بچوں کو شہید کر کے آپ آزادی لینا چاہتے ہیں، کیا یہ آزادی ہے یا وحشی پن ہے؟ دہشت گرد نہتے لوگوں کو نشانہ بناتے ہیں، یہ وحشی لوگ ہیں، ہم نے بلوچستان کی تاریخ میں تعلیم کے لیے سب سے بڑا بجٹ دیا،ہم اپنے بچوں کو دنیا کی یونیورسٹیوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کر رہے ہیں، ہم کہتے ہیں کہ آپ آئیں، ریاست سب کو اپنے سینے سے لگاتی ہے

    دہشتگردوں کی سہولت کار،ملک دشمنوں کی ایجنٹ،ماہ رنگ بلوچ پر مقدمہ درج

    ماہ رنگ بلوچ کون،دو نمبر انقلاب اور بھیانک چہرہ

    بلوچستان میں دہشتگردانہ حملے اور بھارتی میڈیا کا شرمناک کردار بے نقاب

    وقت آ گیا ہے دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ کیا جائے،وزیراعظم

    ماہ رنگ بلوچ کا احتجاج ،دھرنا عوام نے مسترد کر دیا

    ماہ رنگ بلوچ پیادہ،کر رہی ملک دشمنوں کے ایجنڈے کی تکمیل

    مظاہرین کے گوادر جانے کا مقصد تھا کہ سی پیک کو روک دیں،وزیراعلیٰ بلوچستان