Baaghi TV

Tag: بی اے پی

  • اچکزئی نے ہمیشہ بلوچ اور پشتون قوموں کے درمیان نفرت کو ہوا دی ،ترجمان بی اے پی

    اچکزئی نے ہمیشہ بلوچ اور پشتون قوموں کے درمیان نفرت کو ہوا دی ،ترجمان بی اے پی

    کوئٹہ:بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کے مرکزی ترجمان میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا ہے کہ محمود خان اچکزئی کی سیاست ہمیشہ لسانی نفرت، قومی انتشار اور منفی بیانیے کے گرد گھومتی رہی ہے اچکزئی نے ہمیشہ بلوچ اور پشتون قوموں کے درمیان نفرت کو ہوا دی-

    میر ضیاء اللہ لانگو نے محمود خان اچکزئی کے اس بیان پر سخت ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے چار ماہ کے اندر بعض علاقوں کی پاکستان سے علیحدگی کا دعویٰ کیا تھا،کوئٹہ سے جاری بیان میں بی اے پی ترجمان نے کہا کہ محمود خان اچکزئی کی سیاست ہمیشہ لسانی نفرت، قومی انتشار اور منفی بیانیے کے گرد گھومتی رہی ہے اچکزئی نے ہمیشہ بلوچ اور پشتون قوموں کے درمیان نفرت کو ہوا دی اور ماضی میں بلوچستان کے عوام کے دلوں میں پنجابیوں کے خلاف زہر بھرنے کی کوشش کی جاتی رہی،محمود خان اچکزئی نے کبھی قومی یکجہتی، بھائی چارے اور ملک کے استحکام کی بات نہیں کی بلکہ ان کی سیاست تو ڑ پھوڑ، علیحدگی اور نفرت پر مبنی رہی ہے ایسی سوچ صرف خوابوں میں اچھی لگتی ہےعملی سیاست میں اس کی کوئی جگہ نہیں-

    لاہور سے اغوا ہونے والی 5 سالہ بچی ساہیوال سے بازیاب،ملزمہ گرفتار

    میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا کہ حالیہ انتخابات میں بلوچستان کے عوام نے محمود خان اچکزئی کو واضح طور پر مسترد کر دیا ہے اور اب وہ اپنی گرتی ہوئی سیاسی ساکھ کو سہارا دینے کے لیے پی ٹی آئی کا کندھا استعمال کر رہے ہیں ’’دہ چترال دہ بولان‘‘ جیسے نعرے عوام پہلے ہی دیکھ اور سمجھ چکے ہیں، خواب دیکھنا کوئی جرم نہیں، مگر دن دہاڑے ایسے خواب دیکھنا سیاسی ناپختگی کی علامت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے بیانات سے محمود خان اچکزئی کا پاکستانی ہونا بھی مشکوک ہو گیا ہے۔

    لاہور کے فضائی معیار میں نمایاں بہتری،رپورٹ جاری

  • شہباز شریف کی بی اے پی کے سربراہ کو حکومت سازی میں شمولیت کی دعوت

    شہباز شریف کی بی اے پی کے سربراہ کو حکومت سازی میں شمولیت کی دعوت

    باغی ٹی وی :مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کا بلوچستان عوامی پارٹی( بی اے پی) کے سربراہ سے ٹیلیفونک رابطہ،حکومت سازی میں شمولیت کی دعوت دے دی۔

    باغی ٹی وی : میاں شہباز شریف نے بلوچستان عوامی پارٹی کے سربراہ خالد مگسی کو ٹیلی فون کرتے ہوئے الیکشن میں کامیابی پر مبارکباد دی جبکہ دونوں رہنماؤں کے درمیان ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر بات چیت ہوئی، شہباز شریف نے حکومت سازی میں خالد مگسی کو شمولیت کی دعوت دی ، دونوں رہنماؤں نے رابطوں کا سلسلہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا، شہبازشریف اور خالد مگسی نے جلد ملاقات کرنے پر بھی اتفاق کیا۔

    واضح رہے کہ این اے 254 جھل مگسی سے بلوچستان عوامی پارٹی کے سربراہ خالد مگسی کامیاب ہوئے ،غیر سرکاری و غیر حتمی نتیجے کے مطابق بلوچستان عوامی پارٹی کےخالد مگسی 79304 ووٹوں سے کامیاب قرار پائے ہیں۔این اے 254 کے امیدوار جے یو آئی کے نظام الدین 44763 ووٹ ہی لے سکے۔

    علی امین گنڈاپور کی 24 مقدمات میں ضمانت منظور

    ہم اپنی مشاورت کر کے باضابطہ اعلان کریں گے،بلاول بھٹو کی پریس کانفرنس پر ن …

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کرنے کی تیاری

  • الیکشن کمیشن نے بی اے پی کا گائے کا نشان بحال کردیا

    الیکشن کمیشن نے بی اے پی کا گائے کا نشان بحال کردیا

    کوئٹہ: بلوچستان سے تعلق رکھنے والی بلوچستان عوامی پارٹی( بی اے پی) ایک بار پھر گائے کے نشان پرانتخابی میدان میں اترے گی۔

    باغی ٹی وی: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 9 جنوری کو جاری انتخابی نشانات کی فہرست میں بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کو ’’آنکھ‘‘ کا نشان الاٹ کیا گیا تھا، جس پر باپ پارٹی کے لیے ’’گائے‘‘ کا انتخابی نشان بحال کرنے کی درخواست کی گئی،الیکشن کمیشن نے بی اے پی کی درخواست منظور کرلی جس کے بعد الیکشن کمیشن نے بی اے پی کا گائے کا نشان بحال کردیا۔

    واضح رہے کہ پاکستان میں عام انتخابات کیلئے 8 فروری کو پولنگ ہوگی، جس کیلئے کاغذات نامزدگی اور دیگر مراحل پر کام جاری ہے، الیکشن کمیشن کی جانب سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کو شیر، پاکستان پیپلزپارٹی کو تیر، استحکام پاکستان پارٹی کو عقاب اور پاکستان تحریک انصاف نظریاتی کو بلے باز کا نشان الاٹ کیا گیا ہےم متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیوایم) پاکستان کو پتنگ، مہاجر قومی موومنٹ کو موم بتی، پاکستان تحریک انصاف پارلیمنٹیرین کو پگڑی اور پاکستان مسلم لیگ جناح کو سائیکل کا نشان الاٹ کیا گیا ہے۔

    اسی طرح جمعیت علمائے اسلام پاکستان کو کتاب، بلوچستان نیشنل پارٹی کو کلہاڑی، جماعت اسلامی پاکستان کو ترازو، تحریک لبیک پاکستان کو کرین، خیبرپختونخوا ملی عوامی پارٹی کو درخت، بی این پی عوامی کو اونٹ، قومی وطن پارٹی کو چراغ، عوامی مسلم لیگ پاکستان کو قلم دوات اور پاکستان عوامی پارٹی کو انسانی آنکھ کا نشان الاٹ کیا گیا تھا۔

  • بی اے پی کا پیپلز پارٹی میں شامل ہونیوالےارکان کو شوکازجاری کرنےکا فیصلہ

    بی اے پی کا پیپلز پارٹی میں شامل ہونیوالےارکان کو شوکازجاری کرنےکا فیصلہ

    کوئٹہ: بلوچستان عوامی پارٹی نے پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہونے والے ارکان صوبائی اسمبلی کو شوکاز نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ کر لیا۔پارٹی ذرائع کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت پر ایم پی ایز سے جواب طلب کیا جائے گا، ، ایم پی ایز نے جواب جمع نہ کرایا تو الیکشن کمیشن سے رجوع کیا جائے گا۔

    پہلے وزیراعلی اعتماد کا ووٹ لیں،خواتین اراکین اسمبلی کا بھی اجلاس میں مطالبہ

    ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہونے والے ارکان صوبائی اسمبلی کی رکنیت ختم کرنے پر بھی مشاورت کی جائے گی۔

    رپورٹ کے مطابق بلوچستان عوامی پارٹی کے لوگ پیپلزپارٹی میں شامل ہورہے ہیں، حال ہی میں اراکین بلوچستان اسمبلی ظہور بلیدی، عارف جان محمد حسنی، سلیم کھوسہ اور تحریک انصاف کے رکن اسمبلی نعمت اللہ زہری پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے۔ ما بعد 7 جنوری 2023ء کو سابق وفاقی وزیر سردار فتح محمد حسنی، سابق صوبائی وزیر طاہر محمود خان، نوابزادہ جمال رئیسانی نے کراچی کے بلاول ہاﺅس جاکر آصف علی زرداری سے ملاقات کی اور پارٹی میں شامل ہونے کا اعلان کردیا۔

    آئندہ عام انتخابات میں جدید ٹیکنالوجی استعمال کرنے کا فیصلہ

    سردار فتح محمد حسنی کی پیپلز پارٹی میں واپسی ہوئی ہے، وہ ماضی میں بھی اس جماعت سے وابستہ رہے، 1985ء کے الیکشن میں آزاد حیثیت سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے پھر وفاقی وزیر بنے، سینیٹر بھی رہے ہیں۔ طاہر محمود خان کے بھائی شفیق احمد خان پیپلز پارٹی کے رہنماء تھے، جنہیں اکتوبر 2009ء میں گھر کے باہر کالعدم بلوچ مسلح تنظیم نے قتل کیا، اس وقت وہ نواب اسلم رئیسانی کی کابینہ میں وزیر تعلیم تھے۔ شفیق احمد خان 2002ء میں بھی پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر رکن بلوچستان اسمبلی رہے۔

    اتحادی جماعتوں کے بعد اسلام آباد ائرپورٹ کا نام تبدیل کرنے عوامی رائے بھی آگئی

    جمال رئیسانی سابق وزیراعلیٰ نواب اسلم رئیسانی کے چھوٹے بھائی نوابزادہ سراج رئیسانی کے بیٹے ہیں، سراج رئیسانی کا تعلق بلوچستان عوامی پارٹی سے تھا۔ سراج رئیسانی 2018ء کے الیکشن سے چند روز قبل 13 جولائی کو مستونگ میں انتخابی مہم کے دوران ایک خودکش حملے میں 100 سے زائد دیگر افراد کے ہمراہ لقمۂ اجل بنے تھے۔ والد کی موت کے بعد جمال رئیسانی بھی بی اے پی سے وابستہ رہے، اس وقت وزیراعلیٰ بلوچستان کے کوآرڈینیٹر برائے امور نوجوانان ہیں۔ یقیناً مزید لوگ بھی پیپلزپارٹی سے رجوع کریں گے۔

    اسلام آباد میں گولیاں چل گئیں نوجوان رائیڈر کو دن دہاڑے قتل کر دیا گیا

    نواب خیر بخش مری کے صاحبزادے سابق صوبائی وزیر گزین مری کی پیپلزپارٹی میں شمولیت کی بھی باتیں ہورہی ہیں، گزین مری کئی سال تک بیرون ملک جلا وطن رہے، ان پر کئی سنگین مقدمات قائم تھے، 2017ء میں وطن واپس آکر مقدمات کا سامنا کیا اور بری ہوگئے۔ فی الحال ان کی جانب سے پیپلزپارٹی میں جانے کی تردید بھی سامنے آئی ہے۔

  • سینیٹرسرفراز بگٹی پارٹی عہدے سے مستعفی

    سینیٹرسرفراز بگٹی پارٹی عہدے سے مستعفی

    کوئٹہ:سینیٹر سرفراز بگٹی نے پارٹی کے ڈویژنل آرگنائزر کے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا ہے۔

    بلوچستان عوامی پارٹی کے ڈویژنل آرگنائزر سرفراز بگٹی نے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ استعفی اپنی نجی مصروفیات کی وجہ سے دے رہا ہوں جبکہ پارٹی کو جس بناء پر بنایا گیا تھا وہ مقصد پورا نہیں ہوا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی کی مجموعی کارکردگی سے بھی مایوس ہوں، چیئرمین سینیٹ کو تبدیل کرنے کا دعویٰ کرنے والے اس بار بھی اپنا شوق پورا کر لیں،وزیراعلی عبدالقدوس بزنجو خوش قسمت ہیں انہیں دوسری بار وزارت اعلیٰ کا منصب ملا جبکہ قدوس بزنجو باصلاحیت ہیں اورامید ہے وہ اچھی کارکردگی دکھائیں گے۔

    یاد رہے کہ پارٹی میں اختلافات کی وجہ سے جام کمال کے خلاف اپنے ہی ساتھیوں‌نے بغاوت کردی اور پھرمیر عبدالقدوس بزنجوکو وزیراعلیٰ کے منصب پربٹھا دیا گیا جس کے بعد سے لیکر اب تک سیاسی حالات ابھی تک خراب ہیں‌

    موجودہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجوکون ہیں ان کا مختصر سا تعارف کچھ یوں ہے

    بلوچستان کے سب سے پسماندہ ضلع آواران سے تعلق رکھنے والے عبدالقدوس بزنجو بلوچستان عوامی پارٹی کے سینئر رہنما ہیں۔ اس سے پہلے وہ مسلم لیگ ق کا حصہ تھے۔ 2002 سے 2008 تک وہ جام کمال کے والد جام یوسف کی کابینہ میں صوبائی وزیر رہے۔ 2013 کے انتخابات میں آواران سے صرف 544 ووٹ لے کر دوسری بار رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے۔

    عبدالقدوس بزنجو2013 سے 2015 تک بلوچستان اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر اور پھر جان محمد جمالی کے استعفے کے بعد 2017 کے آخر تک سپیکر رہے۔ جنوری 2018 میں اپنی ہی اتحادی جماعت ن لیگ کی حکومت گرا کر وزیراعلیٰ بلوچستان بنے اور چھ ماہ تک اس منصب پر فائز رہے۔ اسی دوران بلوچستان عوامی پارٹی(باپ) کے نام سے نئی جماعت کی بنیاد رکھی گئی۔

    کوئٹہ کے سینئر و تجزیہ کار صحافی عرفان سعید کا کہنا ہے کہ عبدالقدوس بزنجو اور جام کمال کے درمیان باپ پارٹی کی تشکیل کے وقت سے ہی اختلافات تھے۔ عبدالقدوس بزنجو پارٹی کی سربراہی اور وزارت اعلیٰ کے امیدوار تھے مگر دونوں عہدے جام کمال خان کو ملے۔ اس کے بعد سے ہی دونوں کے درمیان سیاسی رسہ کشی چلی آرہی ہے