Baaghi TV

Tag: بی بی سی

  • پہلگام واقعہ : بھارتی ماہرین او ربی بی سی  نے بھارتی جھوٹ کا پردہ چاک کردیا

    پہلگام واقعہ : بھارتی ماہرین او ربی بی سی نے بھارتی جھوٹ کا پردہ چاک کردیا

    پہلگام فالس فلیگ/ بی بی سی نے پہلگام واقعہ میں بھارتی جھوٹ کا پردہ چاک کردیا-

    پہلگام فالس فلیگ حملے میں مودی، بھارتی فوج اور انٹیلیجنس ایجنسیوں کی ناکامی پر تنقید کا سلسلہ جاری،بھارت کے جغرافیائی اور سیاسی ماہرین نے بھی پہلگام حملے پر مودی سرکار کے پاکستان کو مورد الزام ٹھہرانے کے الزامات کو بے نقاب کردیا۔

    مودی سرکار کے پہلگام حملے پر پاکستان پر عائد کیے گئے یہ الزامات اتنے بے بنیاد اور مضحکہ خیز ہیں خود بھارتی عوام اسے درست ماننے کو تیار نہیں عوام کے ساتھ ساتھ بھارت کا دانشور طبقہ بھی مودی سرکار کی باتوں پر کان دھرنے کو تیار نہیں ہے۔

    بی بی سی نے پہلگام حملے کےحوالے مودی سرکار اور انٹیلیجنس ایجنسیوں کے کردار پر سوالات اٹھا دئیے،پہلگام حملے میں ہلاک ہونے والے سیلیش بھائی کلاٹھیا کی بیوہ شیتل کلاٹھیا تعزیت کیلئے آنے والے وزیر پر برس پڑیں-

    شیتل کلاٹھیا نے کہا کہ آپ کے پاس بہت سی وی آئی پی کاریں ہیں لیکن ٹیکس دینے والوں کا کیا ہےپہلگام میں 26 افراد مارے گئے وہاں نہ تو کوئی سیکیورٹی تھی اور نہ ہی میڈیکل ٹیم-

    پہلگام حملے میں بال بال بچ جانے والے پارس جین نے دعویٰ کیا کہ:’’پہلگام کے مقام پر نہ تو کوئی پولیس اہلکار موجود تھا اور نہ ہی فوجی اہلکار‘‘

    بھارتی اخبار دی ہندو کی رپورٹ کے مطابق:’’سی آر پی ایف کا کیمپ حملے کی جگہ سے 7 کلومیٹر جبکہ راشٹریہ رائفلز محض 5 کلومیٹر دور تھی‘‘

    بی بی سی نے بھی اپنی رپورٹ میں یہ سوال اٹھایا ہے کہ پہلگام جیسے سیاحتی مقام پر سکیورٹی کیوں موجود نہ تھی؟پہلگام حملے کے بعد پولیس کم از کم ایک گھنٹے کے بعد جائے وقوعہ پر پہنچی،پہلگام حملہ سکیورٹی کی مجموعی خامی کا نتیجہ ہے، جس جگہ اتنی بڑی تعداد میں سیاح آتے ہیں وہاں ایک بھی سی سی ٹی وی کیمرہ نصب نہیں-

    بھارتی صحافی اورکشمیر امورکی ماہر انورادھا بھسین نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ پہلگام واقعہ دنیا کے سب سے بڑے فوجی زون میں پیش آیایہ تصور کرنا بھی محال ہے کہ جس جگہ لاکھوں فوجی تعینات ہوں وہاں کس طرح دہشت گردی کا کوئی واقعہ اتبنے کھلے عام ہوسکتا ہے
    پہلگام حملے کے محض چند گھنٹوں بعد ہی حملہ آوروں کے نام سامنے آجانا اور پھر ان کے اسکیچ بھی بن جائیں یہ سب عجیب ہے۔

    انورادھا بھسین نے کہا کہ جائے وقوعہ سکیورٹی فورسزکو پہنچنے میں وقت لگا پھر اتنی جلدی حملہ آوروں کی شناخت کیسے ہوئی اور اسکیچ بھی بن گئے اب تک کی تحقیقات زیادہ قابل اعتبار نہیں لگتیں۔

    صحافی انورادھا بھسین نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کو پہلگام پہنچنے میں تو دیر ہوئی مگر چند گھنٹوں میں ان کے پاس حملہ آوروں کی تصاویر تھیں،
    آرٹیکل 370 ہٹائے جانے کے بعد بھی کشمیر میں ایسے واقعات ہو رہے ہیں-

    علاوہ ازیں سیکیورٹی امور کے ماہر بھارتی تجزیہ نگار امیتابھ مٹو نے بھی اعتراف کیا کہ پہلگام حملہ انٹیلی جنس ناکامی اور بہت بڑی کوتاہی تھی۔

    دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ بی بی سی کی یہ رپورٹ ثابت کرتی ہے کہ بھارتی فوج اور اس کی انٹیلیجنس پہلگام میں مکمل طور پر ناکام رہے، بھارت کو چاہئے کہ وہ پاکستان پر الزام تراشی کے بجائے اپنی سکیورٹی کی ناکامیوں کو دور کرے، بھارت کے پہلگام فالس فلیگ حملےکےحوالے سے اب ہر جانب سے آوازیں اٹھ رہی ہیں-

  • پی ٹی آئی احتجاج،ہلاکتوں بارے بی بی سی کی غلط خبر،وضاحت طلب

    پی ٹی آئی احتجاج،ہلاکتوں بارے بی بی سی کی غلط خبر،وضاحت طلب

    حکومت پاکستان نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے احتجاج کے دوران ہلاکتوں سے متعلق غلط اطلاعات کی نشر کرنے پر برطانوی جریدے "بی بی سی” کے خلاف باضابطہ شکایت درج کرادی ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق 27 نومبر 2024 کو بی بی سی نے پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد اور دیگر تفصیلات کے حوالے سے گمراہ کن اور غلط معلومات نشر کیں، جس پر حکومت نے برطانوی میڈیا ادارے سے وضاحت طلب کی ہے۔

    27 نومبر کو بی بی سی نے پی ٹی آئی کے احتجاجی مظاہروں میں درجنوں ہلاکتوں کی خبر نشر کی، تاہم حکومتی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بی بی سی نے غلط اعداد و شمار اور گمراہ کن معلومات فراہم کیں۔ رپورٹ میں پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد میں مبالغہ آرائی کی گئی، اور اس بارے میں عوام کو گمراہ کن معلومات فراہم کی گئیں۔حکومت پاکستان نے اس معاملے پر بی بی سی کی انتظامیہ سے باضابطہ طور پر رابطہ کیا ہے اور اس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی غلط رپورٹنگ کی تصحیح کرے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ "بی بی سی نے تین مختلف رپورٹس میں اس حساس معاملے کو غلط طریقے سے پیش کیا، جس سے نہ صرف عوام میں بے چینی پھیلنے کا خدشہ ہے بلکہ پاکستان کی عالمی سطح پر بدنامی کا سبب بھی بن سکتا ہے۔”حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ میڈیا کا کردار کسی بھی معاشرے میں احتساب اور شفافیت کو یقینی بنانے میں نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ اس معاملے میں حکومتی ترجمان نے کہا، "صحافتی اقدار اور ذمہ دارانہ رپورٹنگ کا خیال رکھنا ضروری ہے تاکہ عوام کو درست معلومات مل سکیں۔ بی بی سی کو اس غلط رپورٹنگ پر اپنی پوزیشن واضح کرنی چاہیے اور اس کی تصحیح کرنی چاہیے۔”پاکستانی حکام کا مزید کہنا ہے کہ غلط خبر اور گمراہ کن اعداد و شمار کی اشاعت سے میڈیا کی ساکھ کو نقصان پہنچتا ہے اور ایسی رپورٹس سے نہ صرف سماجی تنازعات کو ہوا ملتی ہے بلکہ عوامی رائے کو بھی متاثر کیا جاتا ہے۔

    حکومت پاکستان کا موقف ہے کہ کسی بھی عالمی میڈیا ادارے سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ حساس معاملات کو احتیاط سے رپورٹ کرے اور حقائق کو مکمل طور پر درست انداز میں پیش کرے تاکہ معاشرتی امن و سکون میں خلل نہ پڑے۔یہ معاملہ بین الاقوامی سطح پر بھی میڈیا کی اخلاقی ذمہ داریوں کے حوالے سے اہم سوالات اٹھاتا ہے اور پاکستان کے میڈیا کے حوالے سے شفافیت کے اصولوں کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔

    ہلاکتوں کے دعوے درست نہیں، صدیق جان بھی مان گئے

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

  • اس دنیا میں ہر کوئی آپ کو پسند نہیں کر سکتا،ثانیہ مرزا

    اس دنیا میں ہر کوئی آپ کو پسند نہیں کر سکتا،ثانیہ مرزا

    ممبئی: بھارتی ٹینس سٹار ثانیہ مرزا کا کہنا ہے کہ میں یہ سمجھتی ہوں کہ اس دنیا میں ہر کوئی آپ کو پسند نہیں کر سکتا ہے، آپ کو آپ کی فیملی میں جب ہر کوئی پسند نہیں کرتا ہے تو دنیا میں کیسے کر سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی: برطانوی خبررساں ادارے بی بی سی کے گفتگو کرتے ہوئے معروف ٹینس اسٹار ثانیہ مرزا نے سماج میں جاری مسائل کے حل کے حوالے سے بات چیت کی ،سابق شوہر شعیب ملک سے طلاق کے بعد ثانیہ مرزا کی جانب سے کسی بھی میڈیا کو دیا گیا یہ پہلا انٹرویو ہے، جس میں انہوں نے اپنی زندگی کے نشیب و فراز کو بتانے کی کوشش کی ہے۔

    بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ثانیہ کا کہنا تھا کہ میں یہ سمجھتی ہوں کہ اس دنیا میں ہر کوئی آپ کو پسند نہیں کر سکتا ہے، آپ کو آپ کی فیملی میں جب ہر کوئی پسند نہیں کرتا ہے تو دنیا میں کیسے کر سکتا ہے،سب کی الگ خواہشات، انتخابات اور نظریات ہوتے ہیں، اسی طرح ہمارے بھی اپنے نظریات ہوتے ہیں، اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ پر پرسنل اٹیک ہے۔

    ٹینس سٹار کا کہنا تھا کہ اب مجھے لگتا ہے کہ مجھ میں صبر بہت آ چکا ہے، مجھے لگتا ہے کہ عمر کے ساتھ ساتھ میرے بچے کی وجہ سے آپ کو صبر آ جاتا ہے، ماں بننے کے بعد آپ کے پاس صبر کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوتا ہے ہم جو دنیا میں آج کل رہتے ہیں چاہے حقیقی ہو یا سوشل میڈیا کی، آپ کو بہت سے لوگ اچھی اور بری چیزیں بتا رہے ہوتے ہیں، لیکن اصل چیز یہ ہے کہ لوگ آپ کو سچ بات بتائیں۔

    انہوں نے کہا کہ رئیلٹی سے ہمیشہ جڑے رہیں، کون آپ سے مخلص ہے، کون آپ کے لیے خاص ہے، آپ کو ان سب کا علم ہونا چاہیے، پیسہ، شہرت زندگی کے لیے ضروری نہیں ہونا چاہیے، یہ محض زندگی کا ایک حصہ ہے۔ ضروری یہ ہے کہ کون آپ کے مشکل وقت میں آپ کا ساتھ دے رہا ہوتا ہے۔

    ثانیہ نے نے اپنی ریٹائرمنٹ سے متعلق بھی بات چیت کی، ان کا کہنا تھا کہ 3 سرجریوں اور بچے کی پیدائش کے بعد میری باڈی میرے لیے مسئلہ بن گئی تھی، باڈی ریکوری ویسے نہیں ہو پاتی تھی، جیسی درکار تھی،جبکہ لوگ دیکھتے تھے کہ فائنل میں ہوں، تاہم اس فائنل میچ تک پہنچنے کے لیے میں کیا کیا یہ لوگ نہیں دیکھ پاتے تھے،اسپورٹس مین اسپرٹس کی آپ کی زندگی کو بتانی ہے، جو تعلیم اسپورٹس سے ملا ہے، میرا خیال ہے کہ وہ دنیا کی کسی بھی کتاب سے ممکن نہیں تھا، میں نے اپنے تجربات سے یہ سیکھا ہے کہ بُرے دن ہمیشہ نہیں رہتے ہیں، اور اگر بُرے دن ہیں تو یاد رکھیں کہ کل کو اچھے دن بھی آنے والے ہیں۔

  • برطانوی ٹی وی کی  نواز شریف کے چوتھی بار  وزیراعظم بننےکی پیشگوئی

    برطانوی ٹی وی کی نواز شریف کے چوتھی بار وزیراعظم بننےکی پیشگوئی

    برطانوی ٹی وی نے مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف کو کنگ آف کم بیک قرار دے دیا۔

    باغی ٹی وی: بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہےکہ نواز شریف وزیراعظم کے عہدے کے سب سے مضبوط امیدوار ہیں، بی بی سی نے نواز شریف کے چوتھی بار وزیراعظم بننےکی پیشگوئی کرتے ہوئےکہا ہےکہ اس کی وجہ نواز شریف کی مقبولیت نہیں بلکہ ان کا اپنے پتے صحیح کھیلنا ہے –

    بی بی سی کے مطابق تھنک ٹینک وِلسن سینٹر کے جنوبی ایشیا وِنگ کے ڈائریکٹر مائیکل کوگلمین کہتے ہیں کہ نواز شریف ملک کے اگلے وزیرِ اعظم بننے کے لیے مرکزی امیدوار ہیں، اس لیے نہیں کہ وہ بہت مقبول ہیں بلکہ اس لیے کیونکہ انھوں نے اپنے پتّے صحیح کھیلے ہیں۔

    پاکستان اس وقت ایک مشکل دور سے گزر رہا ہے اور نواز شریف اپنے آپ کو ایک ایسے تجربہ کار امیدوار کے طور پر پیش کر رہے ہیں جس کے پاس تین بار وزیرِ اعظم کہ عہدے پر فائز رہنے کا تجربہ ہے،وہ پاکستان کی معیشت کو استحکام دینے اور اس کی ’کشتی کی سمت درست‘ کرنے کا وعدہ کر رہے ہیں۔

    سندھ میں پیپلزپارٹی کو ٹف ٹائم دینے کیلئے اتحادی جماعتوں نے سر …

    مائیکل کوگلمین کہتے ہیں کہ نواز شریف کے حامیوں کو امید ہے کہ ان کا ملک کو استحکام دینے، تجربے اور خود انحصاری کا بیانیہ انھیں ووٹ دلوائے گا اور فوج کو بھی ان کی اور ان کی پارٹی کی طرف سے اطمینان بخشے گا۔

    نواز شریف کو آگے بہت سے چیلنجز کا سامنا ہوگا اور اس میں معاشی بحران سرِفہرست ہے جس کا الزام ان ہی کی جماعت پر لگایا جاتا ہے۔ یہ بھی خدشات پائے جا رہے ہیں کہ ان کے مرکزی حریف کی جیل میں موجودگی کے سبب شاید ملک میں انتخابات شفاف نہیں ہوں گے۔

    پی ٹی آئی کی لیاقت باغ میں انتخابی جلسے کی درخواست مسترد

    نواز شریف کے حریف اور ماضیِ قریب میں فوج کی حمایت رکھنے والے سابق وزیرِ اعظم عمران خان اب جیل میں ہیں اور ان کی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کو ملک بھر میں مختلف پابندیوں اور رکاوٹوں کا سامنا ہے۔

    دوسری جانب گیلپ سروے اور بلومبرگ کی رپورٹ نے بھی نواز شریف کے پاکستان کے اگلا وزیراعظم بننےکی پیشگوئی کی ہے۔

    محکمہ داخلہ پنجاب نے سانحہ 9 مئی کی رپورٹ حکومت کو جمع کرادی

  • لائیو نشریات کے دوران بی بی سی اینکر کی زبان پھسل گئی

    لائیو نشریات کے دوران بی بی سی اینکر کی زبان پھسل گئی

    براہ راست نشریات کے دوران بی بی سی کے اینکر کی زبان پھنسل گئی جس کی ویڈیو انہوں نے خود ہی سوشل میڈیا پر شئیر کر دی-

    باغی ٹی وی :بی بی سی کے اینکر گیرتھ بارلو نے اپنی ویڈیو کو سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر شیئر کیا اس 12 سیکنڈ کے کلپ میں دیکھا جاسکتا ہے کہ بارلو ایک سیگمنٹ شروع کرنے کے لیے تیار ہیں ویڈیو میں کیمرے میں اینکر کو دکھایا جاتا ہے اور اینکر ‘آپ بی بی سی دیکھ رہے ہیں’کا روایتی جملہ بھول جاتا ہے اور اس کی جگہ ‘میں بی بی سی دیکھ رہا ہوں’ بولتا ہے۔


    اس کے بعد اینکر نے اپنی ہی غلطی کو مزاحیہ انداز میں درست کرتے ہوئے کہا کہ میں نہیں آپ بی بی سی دیکھ رہے ہیں،نیوز اینکر بارلو نے ویڈیو شئیر کرتے ہوئے کیپشن میں لکھا کہ کیا کوئی مجھے یاد دلا سکتا ہے کہ کون خبریں دیکھ رہا ہے-

    مڈغاسکراسٹیڈیم میں بھگڈر مچنے سے12 افراد ہلاک جبکہ 80 زخمی

    ٹویٹر صارفین کی ایک بڑی تعداد نے اس ویڈیو پر اپنے ردعمل کا اظہار کیا، کچھ نے اسے مزاحیہ کہا تو دوسروں نے مذاق میں اسے ”شاندار“ کہا، تو کسی نے مزاحیہ جواب دیتے ہوئے لکھا ابھی کوئی نیوز نہیں دیکھ رہا۔

    واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ بی بی سی کے کسی پریزینٹر نے اسکرین پر ہوئی اپنی مزاحیہ غلطی وائرل کی ہو،چند ماہ قبل اینکر لوکویسا براک بھی وائرل ہوئی تھیں، انہیں پتا ہی نہیں چلا تھا کہ وہ لائیو ہوچکی ہیں اینکر لوکویسا براک سیگمنٹ کے اختتام پر آخری کلمات ادا کرنے کے بعد اپنے دونوں ہاتھوں انگڑائی لینے کے انداز میں اوپر اٹھا کر کہتی ہیں ’اوکے‘، لیکن اسی وقت کیمرہ دوبارہ اینکر کی طرف کر دیا جاتا ہے اور یہ مناظر آن ایئر ہوجاتے ہیں۔

    ٹرین کی بوگی میں آگ لگنے سے دس مسافروں کی موت


    اینکر کو جب احساس ہوتا ہے کہ وہ دوبارہ لائیو آگئی ہیں تو وہ چونک جاتی ہیں اور پریشانی سے ان کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جاتی ہیں اس حرکت کے بعد لائیو آن ایئر کے دوران اینکر اپنے بازو فوراً نیچے کرلیتی ہیں اور اپنا سر اپنی میز پر رکھے نوٹس کی طرف کر لیتی ہیں اینکر کو کئی سیکنڈ تک خاموشی سے اپنی میز پر گھورتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔

  • بھارت میں بی بی سی کے دفاتر میں انکم ٹیکس کے چھاپے،سیاسی رہنماؤں کا ردعمل

    بھارت میں بی بی سی کے دفاتر میں انکم ٹیکس کے چھاپے،سیاسی رہنماؤں کا ردعمل

    بھارت میں انکم ٹیکس ٹیموں کا بی بی سی کے دفاتر میں سروے آپریشن، ملازمین کے موبائل فون ضبط کرتے ہوئے انہیں گھر بھیج دیا گیا-

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ کے 15 عہدیداروں کی ایک ٹیم نے منگل کے روز بھارت میں برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے دفاترمیں سروے آپریشن کیا یہ کارروائیاں دہلی اور ممبئی کے دفاتر میں کی گئیں۔

    یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چند ہفتے قبل گجرات فسادات کے تناظرمیں بنائی جانے والی بی بی سی کی دستاویزی فلم پر بھارت میں تنازع کھڑا ہوگیا۔

    انکم ٹیکس نے بی بی سی کے ملازمین کے موبائل فون ضبط کرتے ہوئے انہیں گھر بھیج دیا ذرائع کا کہنا ہے کہ بی بی سی کے دہلی دفتر یں دوپہر کی شفٹ میں کام کرنے والے ملازمین کو گھر سے کام کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔

    ذرائع کے مطابق بی بی سی کے دفاترکی تلاشی انٹرنیشنل ٹیکسیشن اور ٹرانسفر پرائسنگ بے ضابطگیوں کے الزامات سے متعلق تھی تلاشی کے وقت دفتر کے احاطے میں فنانس ڈیپارٹمنت کے عہدیداروں کے ساتھ اردو سروسز کے دو افراد موجود تھے۔

    بی بی سی کے دفاتر میں سرچ آپریشن پر سیاسی رہنماؤں کی جانب سے بھی ردعمل دیا گیا-

    بابری مسجد کیس کا فیصلہ سنانے والے ججوں پرنوازشات


    بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس نے بی بی سی کے دفتروں میں آئی ٹی عہدیداروں کے پہنچنے پر رد عمل میں کہا کہ حکومت بی بی سی کے پیچھے ہےاور ہم اڈانی کے عملے پر جے پی سی (مشترکہ پارلیمانی کمیٹی) کا مطالبہ کررہے پارٹی نے اے آئی سی سی کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش کی ویڈیو بھی شیئرکی ۔


    کانگرسی رہنما گوروگگوئی نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ جس وقت ہندوستان کے پاس G-20 ممالک کی صدارت ہے، وزیر اعظم مودی بے شرمی سے ہندوستان کو آمریت کی طرف لے جانے کا مظاہرہ کررہے ہیںبی بی سی پر چھاپے، اڈانی کو کلین چٹ، امیروں کے لیے ٹیکسوں میں کٹوتی، لوگوں کے گھروں کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے، عدم مساوات اور بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    ورجن اٹلانٹک کا لاہور اور اسلام آباد کے درمیان اپنی سروس معطل کرنے کا اعلان

    پی ڈی پی سربراہ محبوبہ مفتی نے لکھا کہ بی بی سی دفتر پر چھاپوں کی وجوہات اور اثرات بالکل واضح ہیں۔بھارتی سچ بولنے والوں کا بے شرمی سے تعاقب کر رہی ہے۔ چاہے وہ حزب اختلاف کے رہنما ہوں، میڈیا ہوں، کارکن ہوں یا کوئی اور۔ سچائی کے لیے لڑنے کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے-

    اس سے قبل 11 فروری کو بھارتی سپریم کورٹ نے وزیراعظم مودی پربنائی گئی بی بی بی سی کی دستاویزی فلم پر پابندی کی درخواست مسترد کی تھی ہندوانتہا تنظیم کی اس درخواست میں بی بی سی کی رپورٹنگ اوردستاویزی فلموں کوبھارت کیخلاف قرار دے کرمکمل پابندی کی استدعا کی گئی تھی تاہم بھارتی سپریم کورٹ نے درخواست کو غلط فہمی اورمیرٹ کیخلاف قراردیتے ہوئےدرخواست جمع کروانے والی تنظیم کے صدر کی سرزنش بھی کی تھی-

  • فیفا ورلڈکپ2022: افتتاحی تقریب براہ راست نشر نہ کرنے پر بی بی سی کو تنقید کا سامنا

    فیفا ورلڈکپ2022: افتتاحی تقریب براہ راست نشر نہ کرنے پر بی بی سی کو تنقید کا سامنا

    دوحا: فیفا ورلڈکپ 2022 کی افتتاحی تقریب کو براہ راست نشر نہ کرنے پرسوشل میڈیا پر برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے "دی گارجئین” کی رپورٹ کے مطابق برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے تقریب کو “ریڈ بٹن” سروس اور آن لائن پر بھیج دیا، تاہم ٹی وی پر براہ راست نشر نہ کرتے ہوئے قطر پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔

    یورپی ممالک کو اگر مزدوروں اور نوجوانوں کے حقوق کی اتنی ہی فکر ہے تو اپنے ہاں…

    انگلینڈ کے سابق فٹ بال کپتان لائنکر نے کہا کہ یہ تاریخ کا سب سے متنازعہ ورلڈکپ ہے جہاں بال کو ایک کک نہیں لگی اور تنازعات جنم لینے لگے۔

    جب قطری حکومت نے ورلڈ کپ کی افتتاحی تقریب پر لاکھوں پاؤنڈ خرچ کرنے کا فیصلہ کیا جس میں مورگن فری مین، بی ٹی ایس کے جنگ کوک اور سینکڑوں فنکار شامل تھے، تو اسے شاید امید تھی کہ یہ وہ لمحہ ہوگا جب عالمی میڈیا نے انسانی حقوق کی بجائے فٹ بال پر توجہ مرکوز کی تھی۔

    جس چیز کی شاید اسے توقع نہیں تھی وہ یہ تھی کہ بی بی سی تارکین وطن کارکنوں کے ساتھ ہونے والے سلوک پر تنقید، فیفا میں بدعنوانی کو اجاگر کرنے اور قطر میں ہم جنس پرستی پر پابندی کے بارے میں بحث کرنے والی نشریات کے حق میں اس پورے پروگرام کو نظر انداز کر دے گا۔ اور یہ صرف ابتدائی دو منٹ میں تھا۔

    جب قطری حکومت نے ورلڈ کپ کی افتتاحی تقریب پر لاکھوں پاؤنڈ خرچ کرنے کا فیصلہ کیا جس میں مورگن فری مین، بی ٹی ایس کے جنگ کوک اور سینکڑوں فنکار شامل تھے، تو اسے شاید امید تھی کہ یہ وہ لمحہ ہوگا جب عالمی میڈیا نے انسانی حقوق کی بجائے فٹ بال پر توجہ مرکوز کی تھی۔

    قطر میں فٹ بال ورلڈکپ 2022 کا رنگا رنگ افتتاحی تقریب سے آغاز ہو گیا

    جس چیز کی شاید اسے توقع نہیں تھی وہ یہ تھی کہ بی بی سی تارکین وطن کارکنوں کے ساتھ ہونے والے سلوک پر تنقید، فیفا میں بدعنوانی کو اجاگر کرنے اور قطر میں ہم جنس پرستی پر پابندی کے بارے میں بحث کرنے والی نشریات کے حق میں اس پورے پروگرام کو نظر انداز کر دے گا۔ اور یہ صرف ابتدائی دو منٹ میں تھا۔

    جب سے فیفا نے 2010 میں قطر کا انتخاب کیا ہے، فٹ بال کے سب سے بڑے مقابلے کی میزبانی کرنے والی قوم کو کچھ بڑے سوالات کا سامنا کرنا پڑا ہے بولی لگانے کے عمل میں بدعنوانی کے الزامات سے لے کر ایسے تارکین وطن کارکنوں کے ساتھ سلوک تک جنہوں نے اسٹیڈیم بنائے جہاں بہت سے لوگوں کی جانیں گئیں۔ ہم جنس پرستی یہاں غیر قانونی ہے۔ خواتین کے حقوق اور اظہار رائے کی آزادی نمایاں ہے۔ اس کے علاوہ، ورلڈ کپ کو موسم گرما سے موسم سرما میں تبدیل کرنے کا فیصلہ چھ سال پہلے کیا گیا تھا۔

    تاہم فیفا کی لائیو کوریج نا کرنے پر بی بی سی کو سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے تنقید کا سامنا پے-


    صارفین نے کہا کہ بی بی سی نے اس سے قبل کبھی ورلڈ کپ کے افتتاحی پروگرام کا بائیکاٹ نہیں کیا، جب اس کی میزبانی پہلی مسلم عرب ملک نے کی تھی برطانوی ریاستی ترجمان کا شرمناک مظاہرہ ہے قطر کو بی بی سی کو بوٹ دینے پر غور کرنا چاہیے۔

    مظاہرین سے اظہار یکجہتی:ایران کی فٹبال ٹیم فیفا ورلڈ کپ میں قومی ترانےکی دُھن پر احتجاجاً خاموش کھڑی…


    ایک صارف نے کہا کہ قطر کے لیے انتہائی بے عزتی ہے کہ بی بی سی نے ورلڈ کپ کی افتتاحی تقریب کو نشر نہیں کیا، اگر وہ اس قدر خوفزدہ ہیں، تو انہیں چاہیے کہ وہ اپنے ملازمین کی بڑی فوج کو گھر لے آئیں اور ہمیں اس مضحکہ خیز منافقت سے بچائیں۔

    قبل ازیں فیفا کے صدر گیانی انفینٹینو کے ایک حالیہ ریمارکس میں کہا تھا کہ خلیجی ملک کے ورلڈ کپ 2022 کی میزبانی پر تنقید مغربی “منافقت” پر مبنی ہے۔

    انہوں نے کہا تھا کہ “یورپ کو تنقید بند کر کے اپنے تارکین وطن کے حالات کو بہتر بنانے پر توجہ دینی چاہیے یورپی ممالک کو اپنی لیکچر بازی بند کردینی چاہیے، اگر مزدوروں اور نوجوانوں کے حقوق کی انہیں اتنی ہی فکر ہے تو اپنے ہاں مواقع دیں، صرف زبانی کلامی ہمدردیاں نہ جتلائیں ہم یورپی لوگ گزشتہ تین ہزار سال سے انسانوں کے ساتھ جو سلوک کر رہے ہیں اس کے ازالے کے لیے ہمیں کم از کم تین ہزار سال تک ہی انسانوں سے معافی مانگنا ہو گی۔

    فیفا ورلڈکپ 2022: نیدرلینڈز نے سینیگال کو 0-2 سے شکست دے دی

  • برطانوی نشریاتی ادارے کی شائع ہونے والی خبر بے بنیاد اور جھوٹ کا پلندہ ہے، آئی اس پی آر

    برطانوی نشریاتی ادارے کی شائع ہونے والی خبر بے بنیاد اور جھوٹ کا پلندہ ہے، آئی اس پی آر

    آئی ایس پی آر نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رات کے واقعات پر خبر کو گمراہ کن قرار دے دیا-

    باغی ٹی وی : پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر ) کا کہنا ہے کہ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اردو کی آج شائع ہونے والی خبر سراسر بے بنیاد اور جھوٹ کا پلندہ ہے۔ عام پروپیگنڈہ کہانی میں کوئی معتبر، مستند اور متعلقہ ذریعہ نہیں ہے اور یہ بنیادی صحافتی اخلاقیات کی خلاف ورزی ہے۔

    ہفتہ کی شب وزیراعظم ہاؤس میں آخر ہوا کیا؟ بی بی سی کا بڑا دعویٰ

     

    آئی ایس پی آر کے مطابق بی بی سی کی 9، 10 اپریل کی درمیانی شب کے واقعات پر گمراہ کن جعلی کہانی میں کوئی حقیقت نہیں ہے اور جو بھی واضح طور پر ایک منظم ڈس انفارمیشن مہم کا حصہ لگتا ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق یہ معاملہ بی بی سی حکام کے ساتھ اٹھایا جا رہا ہے۔

    واضح رہے کہ برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی نے 9، 10 اپریل کی درمیانی شب کے واقعات پرایک رپورٹ شائع کی تھی جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ ہفتہ کی شب وزیراعظم ہاؤس میں آخر ہوا کیا؟ بی بی سی نے رپورٹ میں بتایا تھا کہ وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے ہنگامے کے درمیان سنیچر کی شب وزیراعظم ہاؤس میں غیر معمولی سرگرمی دیکھنے میں آئی اور اس دوران کچھ تاریخی فیصلے اور واقعات رونما ہوئے، کچھ کیمروں کے سامنے اور بیشتر بند کمروں میں۔

    سنیچر کے روز تمام دن گہما گہمی کا مرکز پارلیمنٹ ہاؤس رہا جہاں کبھی تقاریر ہوتیں اور کبھی اجلاس ملتوی کر کے حکومتی اور اپوزیشن ارکان سپیکر قومی اسمبلی کے درمیان مذاکرات کیے جاتے رہے۔لیکن شام کے وقت جب قومی اسمبلی کا اجلاس روزہ افطار کرنے کے لیے ملتوی کیا گیا تو سرگرمی کا مرکز اچانک وزیراعظم ہاؤس بن گیا تھا-

    عمران خان کی نشانی جو علی محمد قومی اسمبلی سے جاتے وقت ساتھ لے گئے

    رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب کیا تھا اور اس کے ساتھ ہی اپنے قانونی و سیاسی مشیروں، سپیکر و ڈپٹی سپیکر اور بعض بیوروکریٹس کو بھی طلب کیا تھا کابینہ کے اجلاس میں اس مبینہ کیبل کو بعض عہدیداروں کو دکھانے کی منظوری دی گئی جس کے بارے میں سابق وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ اس مراسلے میں ان کی حکومت کے خاتمے کے لیے امریکی سازش کی تفصیل درج ہے اس دوران قومی اسمبلی سپیکر اور ڈپٹی سپیکر بھی ایوانِ وزیراعظم پہنچے لیکن انہیں وزیراعظم کے دفتر کے برابر والے لاؤنج میں انتظار کرنے کا کہا گیا۔

    بی بی سے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ اس دوران دو بن بلائے مہمان بھی بذریعہ ہیلی کاپٹر، غیر معمولی سکیورٹی اور چاق و چوبند جوانوں کے حصار میں وزیراعظم ہاؤس پہنچے اور وزیراعظم سے تقریباً پونا گھنٹہ تنہائی میں ملاقات کی۔اس ملاقات میں کیا بات ہوئی باوثوق اور معتبر سرکاری ذرائع نے جنھیں اس ملاقات کے بارے میں بعد میں معلومات فراہم کی گئیں، انھوں نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ یہ ملاقات کچھ زیادہ خوشگوار نہیں رہی۔ملاقات میں موجود ایک اعلیٰ عہدیدار کو اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے ایک گھنٹہ قبل ہی ان کے عہدے سے برطرف کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔ اس لیے وزیراعظم کے لیے ان مہمانوں کی یوں بن بلائے اچانک آمد غیر متوقع تھی۔

    نئے وزیراعظم کے انتخاب کیلئے قومی اسمبلی کے اجلاس کا وقت…

    رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ عمران خان ہیلی کاپٹرز کے منتظر تو تھے لیکن اس ہیلی کاپٹر کے مسافروں کے بارے میں ان کا اندازہ اور توقعات بالکل غلط ثابت ہوئیں۔ان ذرائع کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم توقع کر رہے تھے کہ اس ہیلی کاپٹر میں ان کے نو مقرر کردہ عہدیدار وزیراعظم ہاؤس پہنچیں گے اور اس کے بعد وہ شور و غوغا مدھم پڑ جائے گا جو سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس سے شروع ہوا تھا۔شاید ایسا ہو بھی جاتا لیکن مسئلہ یہ ہوا کہ اس اعلیٰ ترین برطرفی اور ایک نئی تعیناتی کے لیے جو قانونی دستاویز (نوٹیفیکیشن) وزارت دفاع سے جاری ہونی چاہیے تھیں وہ جاری نہ ہو سکیں یوں اس ‘انقلابی‘ تبدیلی کی وزیراعظم ہاؤس کی کوشش ناکام ہو گئی ویسے اگر وزیراعظم کے حکم پر برطرفی کا یہ عمل مکمل ہو بھی جاتا تو بھی اسے کالعدم قرار دینے کا بھی بندوبست کیا جا چکا تھا۔ سنیچر کی رات اسلام آباد کی ہائیکورٹ کے تالے کھولے گئے اور چیف جسٹس اطہر من اللہ کا عملہ ہائیکورٹ پہنچا۔

    وزارت عظمیٰ کی کرسی چھننے کے بعد عمران خان آج کیا کرنیوالے ہیں؟

    برطانوی خبررساں ادارے کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ہائیکورٹ ہنگامی طور پر ایک پٹیشن سماعت کے لیے مقرر کی جانے والی ہے جس میں ایک عام شہری کی حیثیت سے عدنان اقبال ایڈووکیٹ نے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بری فوج کے سربراہ کی برطرفی کے ‘ممکنہ‘ نوٹیفیکشن کو عدالت میں چیلنج کیا تھا۔اس فوری درخواست میں کہا گیا تھا کہ عمران خان نے سیاسی اور ذاتی مقاصد کے حصول کے لیے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے بری فوج کے سربراہ کو برطرف کرنے کی سفارش کی ہے لہٰذا عدالت اس حکم کو بہترین عوامی مفاد میں کالعدم قرار دے۔

    بی بی سی نے رپورٹ میں کہا تھا کہ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ یہ درخواست تیار تو کر لی گئی لیکن اس میں بری فوج کے سربراہ کی برطرفی کے نوٹیفیکشن نمبر کی جگہ خالی چھوڑ دی گئی تھی۔ اس کی وجہ یہ رہی کہ وزیراعظم کی خواہش کے باوجود یہ نوٹیفیکشن جاری نہیں ہو سکا اور یوں اس پیٹشن پر سماعت کی نوبت ہی نہیں آئی-

    تاہم آئی ایس پی آرنےبرطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رات کے واقعات پر مبنی مذکورہ خبر کو گمراہ کن قرار دے دیا ہے-

    تاریخ رقم،عمران خان سابق وزیراعظم ، عدم اعتماد کامیاب

  • طالبان نے افغانستان میں بی بی سی کی نشریات پر پابندی عائد کر دی

    طالبان نے افغانستان میں بی بی سی کی نشریات پر پابندی عائد کر دی

    طالبان نے افغانستان میں بی بی سی کی نشریات پر پابندی عائد کر دی-

    باغی ٹی وی : برطانوی نشریاتی ادارے بی بی کے مطابق اس کے پشتو، فارسی اور ازبک زبان کے نیوز بلیٹنز کو افغانستان میں نشر ہونے سے روک دیا گیا ہے جبکہ وائس آف امریکہ کو بھی وقتی طور پر نشریات روکنے کا حکم دیا گیا ہے۔

    طالبان نے بغیر داڑھی والے سرکاری ملازمین کیلئے نئی ہدایات جاری کردیں

    برطانوی قومی نشریاتی ادارے کا کہنا ہے کہ افغانستان کی طالبان حکومت نے بی بی سی کے نیوز بلیٹن کو نشر نہ کرنے کا حکم دیا ہے۔ بی بی سی نے 27 مارچ کو یہ اعلان کرتے ہوئے کہا کہ غیر یقینی صورتحال اور ہنگامہ خیز حالات کے دوران یہ افغانستان کے لوگوں کے لیے ایک تشویشناک پیش رفت ہے۔”

    طالبان نے لڑکیوں کے تعلیمی ادارے کھولنے کا حکم واپس لے لیا

    بی بی سی ورلڈ سروس میں شعبہ لینگوئجز کے سربراہ طارق کفالہ کے مطابق 60 لاکھ سے زیادہ افغان بی بی سی کی، آزاد اور غیر جانب دارانہ صحافت” کا استعمال کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بہت اہم بات ہے کہ انہیں اس رسائی سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے۔

    مسلم مخالف فلم "دی کشمیر فائلز” پر سلمان خان کی مبارک باد


    بی بی سی کی ایک نیوز اینکر اور نامہ نگار یلدہ حکیم نے طارق کفالہ کے بیان کو ٹویٹ کیا ہے اس میں کہا گيا کہ ہم طالبان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنا فیصلہ واپس لیں اور فوری طور پر بی سی سی کے ٹی وی پارٹنرز کو اس کے نیوز بلیٹنز کو دوبارہ نشر کرنے کی اجازت دیں۔

    افغانستان میں لڑکیوں کےاسکول نہ کھولےتوتسلیم نہیں کریں گے:امریکہ اوراقوام متحدہ…


    افغانستان کے ایک میڈيا ادارے ایم او بی وائی گروپ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ طالبان حکمرانوں نے اپنی خفیہ ایجنسیوں کے حکم کے بعد وائس آف امریکہ کی نشریات کو بھی فی الوقت بند کرنے کا کہا ہے۔ ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق افغانستان کی اطلاعات ونشریات اور ثقافتی امور کی وزارت کے ایک ترجمان عبد الحق حماد نے بھی اس اطلاع کی تصدیق کی ہے۔

    بھارتی بحرین میں بھی باز نہ آئے، حجاب پہنے خاتون کو ریسٹورینٹ میں داخل ہونے سے روک…

    واضح رہے کہ حال ہی میں طالبان نے لڑکیوں کے سیکنڈری اسکولوں کو دوبارہ کھولنے کا اپنا فیصلہ واپس لے لیا تھا، جس پر بین الاقوامی میڈیا نے وسیع رپورٹنگ کی تھی اور اس کے فوری بعد بین الاقوامی نشریاتی اداروں کو کام کرنے سے باز رکھنے کے لیے یہ کارروائی کی ہے-

    امریکا میں موجود افغان سفارتخانے اور قونصلیٹ بند ہو گئے