Baaghi TV

Tag: بی جے پی

  • بھارت میں دلتوں کو مسلسل جبر کا سامنا،انتہائی ذلّت آمیزسلوک مگرانسانی حقوق کی تنظیمیں خاموش:رپورٹ

    بھارت میں دلتوں کو مسلسل جبر کا سامنا،انتہائی ذلّت آمیزسلوک مگرانسانی حقوق کی تنظیمیں خاموش:رپورٹ

    نئی دہلی:بھارت میں دلتوں کو مسلسل جبر کا سامنا،انتہائی ذلّت آمیزسلوک مگرانسانی حقوق کی تنظیمیں خاموش:رپورٹ ،اطلاعات کے مطابق بھارت میں دلتوں کو 2022 کی اس مہذب دنیا میں بھی علیٰ ذات کے ہندووں کے ہاتھوں جبر و استبداد کی کارروائیوں کا مسلسل سامنا ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے آج جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دلت صدیوں سے ظلم و جبر برداشت کر رہے ہیں اور انہیں بھارتی ذات پات کے نظام کے تحت ’اچھوت‘ سمجھا جاتا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی معاشرہ دلتوں کو قبول کرنے میں بری طرح ناکام رہا ہے اور برطانوی راج سے بھارت کی آزادی کے 75 سال بعد بھی ملک میں انکے کے ساتھ امتیازی سلوک جاری ہے اور وہ زیادہ تر معمولی ملازمتیں کرنے پر مجبور ہیں۔

    رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ بھارتی حکومت نہ صرف ذات پات کے نظام کو ختم کرنے میں ناکام رہی ہے بلکہ اس نے اسے مضبوط بنایا ہے۔پورٹ میں کہا گیا ہے کہ دلتوں کو مختلف قسم کے امتیاز اور وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے یہاں تک کہ انہیں اونچی ذات کے ہندوﺅں کے علاقوں میں مندروں میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے جب کہ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی خواتین طویل عرصے سے اونچی ذات کے ہندووں کے جنسی تشدد کا نشانہ بن رہی ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی برادری کو دلتوں کو اونچی ذات کے ہندووں کے ظلم و ستم سے بچانے کے لیے آگے آنا چاہیے اور اسے بھارت میں غیر انسانی ذات پات کے نظام کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ بھارت پر صرف 7 فیصد برہمن حکومت کر رہے ہیں اور بھارت کی 70 فیصد آبادی کی طرف سے ذات پات کی بنیاد پر مردم شماری کا مطالبہ بڑھ رہا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو)، راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی)، سماج وادی پارٹی (ایس پی) اوربہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) سمیت سیاسی جماعتیں بھارت ذات پات کی مردم شماری کا مطالبہ کر رہی ہیں اور انکا کہنا ہے نام نہاد اعلیٰ ذاتوں نے ملازمتوں اور اعلیٰ تعلیم تک رسائی میں غیر متناسب حصہ لیا ہے۔

    رپورٹ میں بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار کا حوالہ دیا گیا جو ذات پات کی مردم شماری کے ایک مضبوط وکیل ہیںانکا کہنا ہے کہ ہر ذات کے گروپ کی آبادی کی گنتی سے حکومت کو زیادہ درست فلاحی پروگرام بنانے میں مدد ملے گی۔رپورٹ میں کہا گیا کہ بی جے پی حکومت نے واضح طور پر پارلیمنٹ میں کہا ہے کہ وہ پالیسی معاملے کے طور پر ذات پر مبنی سروے نہیں کرے گی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت میں ذات پات کی بنیاد پر مردم شماری وقت کی ضرورت ہے ۔

  • لعنت ہو ایسی حکومت پر، جلد ان کے برے دن آنے والے ہیں،جیا بچن کی بی جے پی پر کڑی تنقید

    لعنت ہو ایسی حکومت پر، جلد ان کے برے دن آنے والے ہیں،جیا بچن کی بی جے پی پر کڑی تنقید

    ماضی کی معروف اداکارہ اور موجودہ رکن اسمبلی جیا بچن نے حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کو اپنے بارے میں نازیبا ریمارکس اور مخالفین پر جھوٹے مقدمات بناکر گرفتار کرنے پر کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

    باغی ٹی وی :بھارتی میڈیا کے مطابق راجیہ سبھا میں ایک بل پر بحث کے دوران سماج وادی پارٹی کی رکن اسمبلی جیا بچن نے اپنے بارے میں نازیبا ریمارکس دینے پر حکمراں جماعت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ لعنت ہو ایسی حکومت پر، جلد ان کے برے دن آنے والے ہیں۔

    جیا بچن نے حکمراں جماعت کے رکن کے ان کے بارے میں نازیبا ریمارکس پر اسپیکر سے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے غیر جانبدار رہنے کے آئینی کردار سے اجتناب برتا ہے جس پر اسپیکر نے نازیبا ریمارکس کو کارروائی سے حذف کردیا-

    جیا بچن نے مزید کہا کہ بی جے پی کو چند ماہ بعد اترپردیش میں ہونے والے انتخابات میں اپنی شکست واضح نظر آرہی ہے اس لیے وہ گھبراہٹ کا شکار ہیں۔

    مخالف ارکان کی گرفتاری پر حکومت کے اس مؤقف پر کہ ملکی ایجنسیاں تفتیش میں آزاد ہیں جیا بچن کا کہنا تھا کہ کیا بی جے پی کے ارکان گنگا نہائے ہوئے ہیں۔ سب کے گناہ معاف ہوگئے ہیں۔ان کے خلاف ایجنسیز کارروائیاں کیوں نہیں کرتیں۔

    مشتعل محترمہ بچن نے بھی چیئر سے کہا تھا کہ یہ منصفانہ ہونا چاہیے اور الزام لگایا کہ اپوزیشن کی آواز کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    کوک اسٹوڈیو سیزن 14 میں پرفارم کرنے والے فنکاروں کی مکمل فہرست جاری

    جیا بچن نے بھارتی چینل این ڈی ٹی وی کواس بارے میں بتایا کہ "میں پریشان تھی اس لیے میں نے ایسا کہا۔ ایسا ہونا چاہیے۔ ان کے برے دن بہت جلد آئیں گے، میں یہاں بیٹھے ساتھیوں (12 معطل شدہ ایم پیز) کے بارے میں سب سے زیادہ ناراض ہوں۔ ناراض، یہ انصاف نہیں ہے۔ اس حکومت سے انصاف کی امید رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ جیسے انہیں کسانوں سے معافی مانگنی پڑی تھی، حکومت کو بھی ایک دن ان اراکین اسمبلی سے معافی مانگنی پڑے گی۔”

    ایشوریہ رائے بچن پیش نہ ہوئی تو ہو گی کاروائی، بھارتی تحقیقاتی ایجنسی

    جیا بچن کے تبصرے بھی ان کی بہو اور اداکارہ ایشوریہ رائے بچن کے 2016 کے پاناما پیپرز لیکس کیس سے منسلک ایک کیس میں پوچھ گچھ کے لیے پیر کو انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے سامنے پیش ہونے کے ایک دن بعد آئے ہیں جس میں غیر ملکی کرنسی کی خلاف ورزیوں کے الزامات شامل ہیں تاہم جیا بچن نے اپنی بہو سے پوچھ گچھ کے بارے میں کوئی براہ راست تبصرہ نہیں کیا۔

    اپنی پارٹی کے رہنماؤں کے خلاف مرکزی ایجنسیوں کی کارروائی کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں، انہوں نے کہا، "وہ (حکومت) پریشان ہیں، ان کے پاس بہت سے آلات ہیں اور ان کا غلط استعمال کر رہے ہیں-

  • موقع ملا تو پورے بھارت کے مدارس بند کر دیں گے،رگھوراج سنگھ

    موقع ملا تو پورے بھارت کے مدارس بند کر دیں گے،رگھوراج سنگھ

    موقع ملا تو پورے بھارت کے مدارس بند کر دیں گے،رگھوراج سنگھ

    بھارتی ریاست اتر پردیش کے وزیر مملکت رگھوراج سنگھ نے کہا ہے کہ مدارس دہشت گردوں کے ٹھکانے ہیں، جہاں انہیں تربیت دی جاتی ہے۔اگر موقع ملا تو پورے ملک کے مدارس بند کر دیں گے کیونکہ مدرسے سے نکلنے والا دہشت گرد بن جاتا ہے۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے سنگھ نے کہا ہم دہشت گردی کو اسی طرح کچل دیں گے جس طرح سانپ کو کچلا جاتا ہے۔ پہلے اتر پردیش میں 250 مدارس تھے اور آج 22,000 سے زیادہ مدارس قائم ہو چکے ہیں۔منان وانی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ یہاں زیر تعلیم تھا۔ مدرسہ میں پڑھنے والے تمام لوگ آئی ایس آئی کے ایجنٹ ہیں۔ آج کیرالہ میں اسلام پسندی چلائی جا رہی ہے اور وہاں ہندو بیٹیوں پر تشدد کیا جا رہا ہے۔ لیکن ملک میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے حکومت ان مدارس کو تباہ کرے۔ انہوں نے حکومت سے درخواست کی کہ کیرالہ حکومت کو تحلیل کر کے وہاں فوری طور پر صدر راج نافذ کیا جائے۔

    مدارس کو دہشت گردی کی ٹھکانے کہنے پر بھارت کی ریاستی اقلیتی کمیشن کے چیرمین اشفاق سیفی کا کہنا تھا کہ مدارس دہشت گرد نہیں بلکہ خدمت کرنے والے ہیں، مدارس پر تنقید کسی صورت نہیں ہونی چاہئے ، انس عقاب کا کہنا تھا کہ آج یوم دستور ہند ہے،آج محاسبہ کا دن ہے کہ جو لوگ یا گروہ اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کے جذبات مجروح کر رہے ہیں مسلمانوں سے ووٹ کا حق چھیننے،مدارس کو دہشت گردی کا اڈا کہنے انھیں غدار اور پاکستان بھیجو جیسے نعرے بازی کرتے ہیں حکومت ان پر سخت کارروائی کے لئے ایک نیا قانون بنائے

    واضح رہے کہ بھارت میں مسلمانوں کی زندگی مودی سرکار نے اجیرن کر رکھی ہے، جب کوئی چاہتا ہے مسلمانوں پر حملہ کر دیتا ہے، کبھی گوشت کھانے کے نام پر ، کبھی اذان دینے کی وجہ سے، کبھی مسجد جانے کی وجہ سے، ہندو انتہا پسند نہ صرف مسلمانون کو تشدد کا نشانہ بناتے ہیں بلکہ انہیں شدید زدوکوب بھی کرتے ہیں، مسلم خواتین بھی محفوظ نہیں بھارت میں مسلمانوں اور اقلیتوں کے خلاف روا رکھے جانے والے غیر انسانی سلوک، تشدد اور قتل جیسے واقعات کے بعد ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ سمیت کئی عالمی تنظیمیں تشویش کا اظہار کر چکی ہیں۔ دراصل مودی کے دوسری بار وزیر اعظم بننے کے بعد بھارت میں اقلیتوں پر تشدد، دھمکانا، ان کو ہراساں کرنا اور ہجوم کے تشدد میں بہت اضافہ ہوا ہے اور یہ بات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ ہندو مذہبی انتہا پسندوں کو مودی سرکار کی حمایت حاصل ہے۔ مسلمان تو ایک طرف ۔۔۔ صرف ایک گائے کو جواز بناکر دلت اوردیگر اقلیتوں کو بھی زدوکوب کیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ انہیں جان سے مار دیا جاتا ہے۔ ان کو جے شری رام کے نعرے لگانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ خواتین اور بچوں پر جنسی تشدد کیا جاتا ہے ۔ مذہبی عدم رواداری اور انتہا پسندی کے بعد یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ اس وقت بھارت میں اقلیتوں سے زیادہ گائے محفوظ ہے۔

    @MumtaazAwan

     پولیس نے مدرسے کے لڑکے سے بد فعلی کے ملزم مفتی عزیز الرحمن کے خلاف مقدمہ درج کر دی

    مولانا کی بچے سے زیادتی ، ویڈیو لیک ، اصل حقیقت کیا ہے ، سنیے مبشر لقمان کی زبانی

    مذہبی رہنماوں کا ردعمل

    طالب علم نے چائے پلائی اور پھر….مفتی عزیرالرحمان کی زیادتی کیس میں وضاحتی ویڈیو

    طالب علم سے زیادتی کرنیوالے مفتی کو مدرسہ سے فارغ کر دیا گیا

    ٹرین حادثہ، ن لیگ نے قومی اسمبلی میں بڑا قدم اٹھا لیا

    حادثہ کا ذمہ دار وزارت ریلوے نہیں، ریلوے حکام نے ہاتھ کھڑے کر دیئے

    ٹرین حادثہ معمولی نہیں تھا بلکہ…وفاقی وزیر ریلوے کے تہلکہ خیز انکشافات

    سانحہ گھوٹکی ، دوماہ گزر گئے، زخمیوں کوانشورنس کی رقم نہ مل سکی ،

    پاکستان ریلوے نے بھارت سے پکڑے جانے والے وارٹرافی انجن کا حلیہ ہی بگاڑ دیا

    گھبرانے کی کوئی بات نہیں، فوج تعینات اور موبائل سروس بند کرنے کا شیخ رشید نے کیا اعلان

    پاکستان کے خلاف وار فیئر قائم کرنے کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ،شیخ رشید نے کیا بے نقاب

    شہبازشریف کے خاندان میں وراثت کی لڑائی ہے، دم درود کرائیں، شیخ رشید

  • بھارت میں قائداعظم کی تعریف پر بی جے پی  آگ بگولہ ہو گئی

    بھارت میں قائداعظم کی تعریف پر بی جے پی آگ بگولہ ہو گئی

    بی جے پی سے تعلق رکھنے والے وزیرِاعلیٰ یوگی ادتیہ ناتھ نے سماج وادی پارٹی کے رہنما اکھلیش یادو اور بھارتی کسانوں کو بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کا پیروکار قرار دیا۔

    باغی ٹی وی : بھارت کی ریاست اترپردیش میں بی جے پی سے تعلق رکھنے والے وزیرِاعلیٰ یوگی ادتیہ ناتھ مسلمان دشمنی اور ہندو انتہا پسندی میں مشہور ہیں یوگی ادتیہ ناتھ پاکستان کے خلاف بولنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے اور اکثر ہندو انتہا پسندی کا مظاہرہ کرتے رہتے ہیں نوئیڈا انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب کے موقع پربھی انہوں نے ایسے ہی کیا بجائے وہ اس موقع پر بھارت اور اترپردیش کی معاشی ترقی کےلیے کیے گئے اپنے اقدامات پر روشنی ڈالتے لیکن اس موقع پر بھی انتہا پسندی سے باز نہیں آئے-

    کنگنا نفرت کی فیکٹری ،اسےجیل یا دماغی اسپتال بھجوایا جائے بھارتی سکھ…

    انہوں نے اپنے حریف سیاست دان سماج وادی پارٹی کے رہنما اکھلیش یادو اور بھارتی کسانوں پر حملے کرتے ہوئے انہیں بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کا پیروکار قرار دیا۔

    یوگی ادتیہ ناتھ
    انہوں نے کہا کہ بعض لوگوں نے اس گنے کی مٹھاس والی ریاست میں ہنگامے کراکر تلخی گھولنے کی کوشش کی ہے اب عوام کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ گنے کی مٹھاس کو پھیلانا ہے یا جناح کے پیروکاروں کو لانا ہے۔

    سکھوں کو”دہشت گرد "کہنے پرنئی دہلی کی اسمبلی نےکنگنا کوطلب کرلیا

    واضح رہے کہ سماج وادی پارٹی کے رہنما اکھلیش یادو نے گزشتہ روز کہا تھا کہ سردار پٹیل، جواہر لال نہرو اور محمد علی جناح نے ایک ہی تعلیمی ادارے سے وکالت کی تعلیم حاصل کی اور ہندوستان کی آزادی کے لیے جدوجہد کی۔

    خیال رہے کہ مودی حکومت نے بھارت میں کسانوں کے خلاف متنازع قوانین منظور کیے تھے تاہم شدید احتجاج کے بعد مودی حکومت گزشتہ دنوں یہ قوانین واپس لینے پر مجبور ہوگئی ہے-

    اکشے کمار کی فلم میں مسلمانوں کو ولن دکھانے پر مہوش حیات برہم

    بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم کسانوں کو ان قوانین پر اعتماد میں لینے میں ناکام رہے جس پر میں عوام سے معافی مانگتا ہوں، ہم نے پوری کوشش کی اور کسانوں کے اعتراضات کو دور کرنے کے لیے بھی تیار تھے تاہم کچھ کسان اس قانون کو قبول کرنے کے لیے راضی نہیں ہوئے۔ قوانین کی واپسی کے حوالے سے پارلیمنٹ کا آئینی عمل اس ماہ کے آخر تک شروع ہوجائے گا لہذا کسانوں سے درخواست ہے کہ وہ احتجاج ختم کردیں اور اپنے گھروں کو واپس لوٹ جائیں۔

    بھارتی سیاستدان کا تامل اداکار کو مارنے پر انعام کا اعلان

  • مقبوضہ کشمیر میں بھارتی آبادکاری تحریر عدنان عادل

    ایسے وقت میں جب ساری دنیا کورونا وبا سے مقابلہ میں مصروف ہے ‘ بھارتی ریاست نے اپنی روایتی مکاری سے کام لیتے ہوئے مقبوضہ جمو ں کشمیر ریاست کو ہڑپ کرنے کی طرف ایک اور بڑا قدم اُٹھایا ہے۔ چند روز پہلے بھارتی حکومت نے ایک نیا ڈومیسائل قانون جاری کیا جس کے تحت مقبوضہ ریاست میں بھارت کے دیگر باشندوں کو بڑے پیمانے پر آباد کیا جاسکے گاجیسے اسرائیل نے فلسطینی علاقوں میں دنیا بھر کے یہودیوں کو آباد کیا ہے۔مقصد یہ ہے کہ جموں کشمیر ریاست میں زمینی حقائق تبدیل کردیے جائیں‘ اُسکے کشمیری تشخص ‘اُسکی مخصوص تہذیب کو تحلیل کردیا جائے اوراس خطّہ میں مسلمانوں کی غالب اکثریت کو بتدریج اقلیت بنا دیا جائے۔ آٹھ ماہ پہلے پانچ اگست کو بھارت نے مقبوضہ جموں کشمیرریاست کو اپنے ملک کے آئین میں آرٹیکل 370 کے تحت دی گئی خصوصی حیثیت ختم کردی تھی اور کشمیری عوام کے ردّعمل سے بچنے کی خاطر کشمیر وادی کا لاک ڈاؤن کردیا تھا جو اب تک جاری ہے۔

    کشمیریوں کے ٹیلی فون ‘ انٹرنیٹ کے استعمال پر بھی پابندی ہے تاکہ کشمیری باہر کی دنیا سے رابطہ نہ کرسکیں ‘ اپنی حالت ِزار کے بارے میں دنیا کو آگاہ نہ کرسکیں۔آزاد ذرائع کے مطابق مقبوضہ کشمیر میںپانچ لاکھ سے زیادہ بھارتی فوج‘ ایک لاکھ پولیس اور تیس ہزار خصوصی پولیس تعینات ہے تاکہ کشمیری عوام بھارتی اقدامات کے خلاف احتجاج نہ کرسکیں۔مقبوضہ جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت کے تحت ریاست کو اپنا جھنڈا رکھنے‘ اپنے قوانین نافذ کرنے کی اجازت تھی۔ کشمیر سے تعلق نہ رکھنے والے بھارتی یہاں کا ڈومیسائل حاصل نہیں کرسکتے تھے ‘ نہ ریاست میں زمین‘ جائیداد خرید سکتے تھے۔خصوصی آئینی حیثیت ختم ہونے کے بعد جموں کشمیر کے یہ تمام حقوق اُن سے چھین لیے گئے جن کے وعدہ پر شیخ عبداللہ ایسے کشمیری رہنماؤں نے بھارت کے ساتھ ملنا قبول کیا تھا ۔ اب کشمیریوں کے حقوق کو مزید پامال کرنیکی غرض سے بھارتی حکومت نے ڈومیسائل کا جو نیا قانون نافذ کیا ہے اسے جموںو کشمیر ری آرگنائزیشن آرڈر 2020 کا نام دیا گیا ہے۔ اسکے مطابق ہر وہ بھارتی شخص جو پندرہ سال مقبوضہ کشمیر میں رہ چکا ہو، اسے کشمیر کا مستقل رہائشی تسلیم کیا جائے گا‘ ہر وہ شخص جو سات سال تک مقبوضہ کشمیر کے کسی تعلیمی ادارہ میں تعلیم حاصل کرتا رہا ہو یا اس نے میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کا امتحان یہاں کے بورڈ سے پاس کیا ہو وہ بھی کشمیری ڈومیسائل حاصل کرسکے گا۔ اِس قانون کے مطابق بھارت کی مرکزی حکومت کے ملازمین جو اس علاقہ میں دس سال تک تعینات رہے ہوں وہ جموں کشمیر کا ڈومیسائل لینے کے اہل ہوں گے۔ اس قانون کے نافذ ہونے سے بھارت کے تمام شہریوں کو جموں کشمیر میں سرکاری ملازمت کرنے کا حق دیدیا گیا ہے جو پہلے صرف ریاست کے مستقل باشندوں کو حاصل تھا۔ صرف درجہ چہارم کی ملازمتوں پرمستقل باشندوں کا خصوصی حق رہنے دیا گیا ہے۔نئے قانون کے تحت وہ ہندو اور سکھ جو قیام پاکستان کے بعدہجرت کرکے جموں کشمیر ریاست میں جا کر آباد ہوگئے تھے انہیں بھی مقبوضہ ریاست کا ڈومیسائل مل جائے گا۔بھارت کے مسلمانوں کی غالب اکثریت غریب ہے ‘ وہ تو کشمیر میں جاکر زمین‘ جائیداد نہیں خرید سکتے۔صرف دولت مند ہندو جموںکشمیر میں زمین خریدیں گے ۔ مقبوضہ کشمیر پر پالیسی بنانے میں بھارت کا اُستاد اسرائیل ہے ۔ کشمیر پر اپنا غیرقانونی قبضہ جاری رکھنے کی خاطر بھارت ہر وہ کام کررہا ہے جو اسرائیل فلسطینیوں کو اُن کے بنیادی حقوق سے محروم کرنے کے لیے ستّر برسوں سے کرتا آرہا ہے۔ اس نے نیا قانو ن بھی اُن اسرائیلی قوانین کی طرز پر بنایا ہے۔نئے قانون کے تحت مقبوضہ کشمیر سے ہجرت کرکے آزاد کشمیریا پاکستان آجانے والے مہاجر بھی اپنی کشمیری شہریت سے محروم ہوجائیں گے جیسے لاکھوں فلسطینی مہاجر ۔ اسرائیل نے فلسطینی علاقوں میں غیرقانونی یہودی بستیاں آباد کرکے جو غاصبانہ قبضہ کیا ہے وہی کام بھارت مقبوضہ کشمیر میں شروع کرنے جارہا ہے۔ ان اقدامات کے بعد کشمیر کے باشندے اپنی شناخت‘ تعلیم کے مواقع‘زمین کی ملکیت کے حقوق کے بارے میں ایک نئی تشویش اور اضطراب میں مبتلا ہوگئے ہیں۔

    کشمیری رہنماؤں اور دانشوروں نے ڈومیسائل قانون کی سخت مذ مت کی ہے لیکن طاقت کے نشہ میں بدمست بھارتی ریاست پر اسکا کوئی اثر نہیں۔ بھارت کی پالیسی ہے کہ طویل عرصہ تک طاقت کے زور پر کشمیر کی مزاحمت کو دبائے رکھو تاکہ کشمیری بالآخر تھک ہار کر بیٹھ جائیں ۔ بھارت کاخیال ہے کہ دنیا بھر کے ممالک کورونا کی وبا سے نپٹنے میں لگے ہوئے ہیں‘ ایسے موقع پر عالمی برادری کشمیر کے معاملہ پر زیادہ توجہ نہیں دے گی ۔ یوں بھی جب بھارت نے کشمیر کا خصوصی آئینی درجہ ختم کیا تھا تو عالمی برادری نے اس کے خلاف کوئی مؤثر آواز نہیں اٹھائی تھی۔ حتی کہ پاکستان‘ ترکی اور ملائشیا کے سواتمام مسلمان ملکوں نے بھی خاموشی اختیار کرلی تھی۔ایران نے بھی صرف لاک ڈاؤن کی سختی پر تنقیدکی تھی‘ خصوصی حیثیت ختم کرنے پر نہیں۔ اب بھی بین الاقوامی برادری سے کشمیریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کسی مؤثر امداد کی توقع نہیں رکھی جاسکتی۔دنیا کوبھارت سے وابستہ اپنے معاشی مفادات زیادہ عزیز ہیں۔ ہلکی پھلکی بیان بازی بھی ہوجائے تو غنیمت ہے‘ اسکے لیے بھی پاکستان کو ایک زوردار سفارتی مہم چلانا پڑے گی۔ کشمیری اپنی آزادی اورحقوق کے تحفظ کی جنگ میںاس وقت تنہا ہیں۔پاکستان کو ان کی ہر ممکن مد دکے لیے آگے بڑھناچاہیے کیونکہ بھارتی جارحیت کا یہ سلسلہ رُکے گا نہیں۔ اس بات کا امکان موجود ہے کہ اگلے مرحلہ میں بھارت طاقت کے زور پرمقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کو آزاد کشمیر کے طرف ہجرت کرنے پر مجبور کرسکتا ہے جس سے ایک نیا بحران جنم لے گا۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے تازہ اقدامات خود پاکستان کی بقا اور سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔

    عدنان عادل