سویڈن کے مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق گزشتہ نو ماہ کے دوران مسلمانوں کی مقدس ترین قرآن پاک کی مسلسل بے حرمتی کے واقعات کی وجہ سے ملک کو تقریبا دو لاکھ ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
باغی ٹی وی : سویڈن میں اتوار کو قرآن مجید کی بے حرمتی کا ایک اور واقعہ رونما ہوا ہے، اس مرتبہ بھی دریدہ دہن عراقی پناہ گزین نے مسلمانوں کی مقدس کتاب کی بے حرمتی کی ہے اوراس کے مقدس اوراق نذرآتش کیے ہیں سویڈش پولیس نے قرآن مجید جلانے کے خلاف احتجاج کے دوران میں پرتشدد ہنگامہ آرائی پر 12 افراد کو حراست میں لے لیا۔
قرآن مجید کی بے حرمتی کے اس مظاہرے کا اہتمام عراقی پناہ گزین سلوان مومیکا نے کیا تھا اس ملعون شخص کی حرکت کے خلاف ایک مرتبہ پھرعالم اسلام میں غم وغصے کی لہردوڑگئی ہےاس مرتبہ اس نےسویڈن کےجنوبی شہر مالمو کے ایک چوک کا احتجاجی مظاہرے کے لیے انتخاب کیا تھا اس شہر میں تارکینِ وطن کی ایک بڑی آبادی ہے۔سرکاری نشریاتی ادارے ایس وی ٹی کے مطابق قریباً 200 افراد نے اسے دیکھنے کے لیے شرکت کی تھی۔
پولیس نے ایک بیان میں کہا کہ مظاہرے کے منتظم کی جانب سے تحریری مواد کو نذرآتش کیے جانے کے بعد کچھ عینی شاہدین نے اپنے جذبات کا اظہار کیا ہے بیان کے مطابق ’’احتجاج میں بعض اوقات موڈ گرم ہوتا تھا اور پرتشدد ہنگامہ مقامی وقت کے مطابق دوپہر ایک بج کر 45 منٹ پر ہوا۔
پولیس کے مطابق آرگنائزر کے جانے کے بعد تقریب ختم ہو گئی تھی لیکن لوگوں کا ایک گروپ جائے وقوعہ پر موجود رہا۔پولیس نے نقضِ امن کے الزام میں قریباً 10 افراد کو حراست میں لے لیا اور دیگر دو کو پرتشدد ہنگامہ آرائی کے شُبے میں گرفتارکرلیا ہے۔
سویڈش نشریاتی ادارے سویریگز ریڈیو کے مطابق سویڈش نژاد ڈینش سیاست دان راسمس پالودان اور سٹاک ہوم میں مقیم عراقی پناہ گزین سلوان مومیکا کی جانب سے قرآن پاک کو نذر آتش کرنے کی اشتعال انگیز کارروائیاں نتیجے میں نارڈک ملک کو 22 لاکھ سویڈش کرونا (تقریبا 199,300 ڈالر) سے محروم کرچکی ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان کارروائیوں کی وجہ سے مزید پولیس افسران کی تعیناتی کی وجہ سے لاگت میں اضافہ ہوا اور ان میں سے بہت سے کے معمول کے فرائض میں خلل پڑا،سویڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی کی اشتعال انگیزکارروائیاں ڈنمارک کے ساتھ ساتھ سویڈن کو بھی پولیس کی نگرانی میں قرآن پاک کی عوامی بے حرمتی کی اجازت دینے پر وسیع پیمانے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
انتہائی دائیں بازو کی اسٹرم کرس (ہارڈ لائن) پارٹی کے رہنما پالودان نے سویڈن کے شہروں مالمو، نورکوپنگ، جونکوپنگ اور اسٹاک ہوم میں قرآن پاک کی بےحرمتی کی21 جون کو اس نے سویڈن میں ترک سفارت خانے کے باہر قرآن پاک کا ایک نسخہ نذر آتش کیا۔
سلوان مومیکا کا نام ایک ہفتہ بعد اس وقت سرخیوں میں آیا جب اس نے عید الاضحی کے موقع پر اسٹاک ہوم کی ایک مسجد کے باہر قرآن پاک کا نسخہ نذر آتش کیا تھا 20 جولائی کو سویڈن میں عراقی سفارت خانے کے باہر مومیکا نے پھر قرآن مجید کی بےحرمتی کی اور ساتھ ہی عراقی پرچم کو بھی زمین پر گرایا اور پتھراؤکیا سلوان مومیکا نے 31 جولائی کو سویڈش پارلیمنٹ کے باہر ایک بار پھر قرآن کی بے حرمتی کی۔
ایرانی تارک وطن بہرامی مرجان نے 3 اگست کو اسٹاک ہوم کے قریب ایک علاقے انگبی بادیت میں اسی طرح کی اشتعال انگیز کارروائیاں کیں مومیکا نے اگست کے اوائل میں سویڈن میں ایرانی سفارت خانے کے باہر اور گزشتہ ہفتے اسٹاک ہوم مسجد کے سامنے ایک اورقرآن پاک نذرآتش کیا تھا اگرچہ ان اقدامات نے سویڈن کے امیج کو نقصان پہنچاتے ہوئے سلامتی کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے ، لیکن مومیکا اب بھی حکام سے اپنے اس مکروہ فعل کی اجازت حاصل کرنے میں کامیاب ہے سویڈن کی سکیورٹی سروسز کا بھی کہنا ہے کہ قرآن پاک کی بےحرمتی کے واقعات کے بعد ملک کی سیکیورٹی کی صورتحال خراب ہوئی ہے۔
سویڈش حکومت نے قرآن مجید کی بے حرمتی کی مذمت کی ہے لیکن کہا ہے کہ ملک میں اظہارِرائے کی آزادی اور اجتماع کے قوانین کو آئینی طور پر تحفظ حاصل ہےعراقی مظاہرین نے جولائی میں بغداد میں سویڈش سفارت خانے پر دو مرتبہ دھاوا بولا تھا اور دوسرے موقع پرسفارتی کمپاؤنڈ میں آگ بھڑک اٹھی تھی۔اس کے علاوہ مشرق اوسط کے کئی ممالک میں سویڈن کے سفیروں کو طلب کرکے ان سے احتجاج کیا گیا ہے۔
نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے جڑانوالہ واقعہ کا نوٹس لیا ہے
نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کا کہنا ہے کہ فیصل آباد سے موصول ہونے والی خبروں پر دل انتہائی رنجیدہ ہے، اقلیتوں کو نشانہ بنانے والوں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی،ان واقعات میں ملوث شرپسند عناصر کو گرفتار کرکے انہیں قرار واقعی سزا دی جائے، حکومتِ پاکستان اپنی اقلیتوں سے شانہ بشانہ کھڑی ہے،
I am gutted by the visuals coming out of Jaranwala,#Faisalabad. Stern action would be taken against those who violate law and target minorities. All law enforcement has been asked to apprehend culprits and bring them to justice. Rest assured that the government of Pakistan stands… https://t.co/GHWUGA1NNq
پنجاب کے شہر جڑانوالہ میں افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے، جڑانوالہ میں مبینہ طور پر قرآن پاک کی بے حرمتی کے بعد مشتعل افراد نے چرچ کو آگ لگا دی، چرچ کی عمارت سے صلیب اتار کر پھینک دی،
جڑانوالہ کرسچن بستی میں قرآن پاک کے اوراق کی بے حرمتی پر عوام سراپا احتجاج ہیں، عوام نے سینما چوک روڈ کو بلاک کر دیا ۔عوام میں غم وغصہ کی لہر، عوام سڑکوں پر نکل آئی۔ مبینہ طور پر اوراق کی بے حرمتی کرنے والوں میں مسیحی برادری کے دو افراد شامل ہیں ۔ایس پی بلال سلہری کی طرف سے پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچ گئے۔ شہر بھر میں ہنگاموں کو روکنے کے لئے سیکورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا۔
ایس پی بلال سلہری پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ موقع پر پہنچ گئے پولیس نے بستی عیسائوں کے تمام راستوں کو بلاک کر دیا ہے – بستی عیسائیوں کے راستوں کے باہر لوگ سخت نعرے بازی کر رہے ہیں۔سینما چوک میں ایس پی بلال سلہری نے مفتی محمد یونس رضوی کے ساتھ لوگوں کے ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے پر امن رہنے کی اپیل کی انہوں نے یقین دلایا کہ ایک گھنٹہ کے اندر اندر ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا جائے گا اور ملزمان کی گرفتاری کے لئے ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں مگر لوگوں کی شدید نعرے بازی جاری ہے انہوں نے اس واقعہ میں ملوث ملزم کو پھانسی دینے کا مطالبہ کیا ہے
پولیس نے واقعہ کا مقدمہ درج کر لیا ہے، مشتعل مظاہرین نے چرچ کو آگ لگا دی ہے،پولیس نے توہینِ مذہب کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا,درج مقدمہ میں کہا گیا ہے کہ محمد افضل، نورحسین، محمد توحید نے بتایا کہ راجہ عامر، راکی مسیح،نے قرآن پاک کی بے حرمتی کی،مسلمانوں کے خلاف توہین آمیز باتیں کیں
مشتعل افراد نے اسسٹنٹ کمشنر کے دفتر میں بھی توڑ پھوڑ کی۔ علاقے میں آباد مسیحی برادری کے افراد گھر بار چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔
تحصیل جڑانوالہ میں امن وامان کی صورتحال کے پیش نظر رینجر طلب کرلی گئی ہے،اسسٹنٹ کمشنر نے ایڈیشنل سیکریٹری انٹرنل سکیورٹی کو خط میں لکھا ہے کہ پولیس کی کوششوں کے باوجود امن و امان کی نازک اور مخدوش ہے۔ رینجر کی دو کمپنیاں کچھ دیر میں جڑانوالہ پہنچ رہی ہیں۔
ایس ایچ او تھانہ سٹی نے اعلیٰ حکام کو رپورٹ ارسال کی جس میں کہا گیا ہے کہ راجہ ولد سلیم اور راکی ولد سلیم نے گستاخی کی، مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، یہ لوگ گھر سے چلے گئے ہیں گرفتاری کے لئے ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں
جڑانوالہ میں توہین قرآن کے الزام میں چرچ کو لُوٹ کر بائبلوں کو ایک جگہ جمع کر کہ آگ لگا دی گئی
اینکر عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ پاکستان میں اقلیتوں کے خلاف واقعات بڑھتے نظر آتے ہیں جن کی روک تھام کے لئے ریاست کو اقدامات کرنا ہوں گے۔اس وقت بھی جڑانوالہ میں اس وقت حالات کشیدہ ہونے کی اطلاعات ہیں انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے فوری حرکت میں اور مسیحی برادری کو تحفظ فراہم کریں۔
پاکستان میں اقلیتوں کے خلاف واقعات بڑھتے نظر آتے ہیں جن کی روک تھام کے لئے ریاست کو اقدامات کرنا ہوں گے۔اس وقت بھی جڑانوالہ میں اس وقت حالات کشیدہ ہونے کی اطلاعات ہیں انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے فوری حرکت میں اور مسیحی برادری کو تحفظ فراہم کریں۔۔۔
جڑانوالہ میں جو کچھ ہوا، افسوسناک،مجرموں کے خلاف کارروائی کی جائے۔شہباز شریف
ن لیگ کے صدر ، سابق وزیراعظم شہباز شریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ جڑانوالہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ افسوسناک اور پریشان کن ہے۔ کسی بھی مذہب میں تشدد کی کوئی جگہ نہیں۔ تمام مذہبی مقامات، کتابیں اور شخصیات مقدس ہیں اور ہمارے اعلیٰ ترین احترام کے مستحق ہیں۔ میں حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ مجرموں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ میں تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام، مشائخ اور مذہبی سکالرز سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ وہ آگے آئیں اور قابل مذمت اقدامات کی مذمت کریں۔ ایسے پاگل پن کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ پاکستان تمام مذہبی اقلیتوں کا ہے۔
What is happening in Jaranwala is sad and disturbing. There is no place for violence in any religion. All religious places, Books and personages are sacred and deserve our highest level of respect. I urge the government to take action against the culprits. I also appeal to Ulama,…
9 مئی کے مجرموں کو سزا مل گئی ہوتی تو جڑانوالہ جیسے سانحے نہ ہوتے ،مریم اورنگزیب
سابق وفاقی وزیر، ن لیگ کی ترجمان مریم اورنگزیب نے جڑانوالہ میں چرچ بے حرمتی، مسیحیوں کے گھر جلانے کے واقعے کی شدید مذمت کی اور ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا، اور کہا کہ پوری قوم کے لئے یہ واقعہ باعث افسوس، قابل مذمت اور باعث ندامت ہے پنجاب حکومت واقعے کا فوری نوٹس لے کر قانون ہاتھ میں لینے والوں کو قانون کی گرفت میں لائے مقامی آبادی کو تحفظ دیاجائے، جلائے جانے والے چرچ اور گھروں کی بحالی یقینی بنائی جائے ،قیام پاکستان اور دفاع پاکستان میں مسیحی برادری نے اہم کردار ادا کیا، قومی پرچم میں سفید رنگ اقلیتوں کی نمائندگی کرتا ہے سانحہ 9 مئی کے مجرموں، منصوبہ سازوں اور سہولت کاروں کو سزا مل گئی ہوتی تو جڑانوالہ جیسے سانحے نہ ہوتے ،9 مئی کو مساجد، سکول، ایمبولینسز، جناح ہاؤس سمیت سرکاری عمارتوں کو جلایا گیا، شہدا، قومی یادگاروں کی بے حرمتی کی گئی جس ملک میں 9 مئی جیسے سیاہ واقعات کرنے والوں کی پزیرائی کی جائے، ان کے مجرمانہ فعل کی تاویلیں گھڑی جائیں اور خیرمقدمی جملے کہے جائیں، وہاں شرپسندوں اور فسادیوں کا بے قابو ہونا فطری ہے آج ملک میں نفرتوں کی آگ بھڑکانے اور لگوانے والے کردار عمران خان کے لئے سوچنے کا دن ہے کہ اس نے معاشرے میں جو زہر گھولا تھا، وہ کیا تباہی لا رہا ہے بطور مسلمان اور پاکستانی مسیحی برادری سے معذرت اور یک جہتی کا اظہار کرتے ہیں یہ واقعات قومی ندامت اور شرمندگی کا باعث بنتے ہیں، عالمی سطح پر پاکستان کے امیج کو داغدار کرتے ہیں کسی شہری کے کسی حق یا کسی قانون کی خلاف ورزی ہو تو قانون کا راستہ اپنانا لازم ہوتا ہے ہر کوئی قانون ہاتھ میں لے گا تو معاشرہ جنگل بن جائے گا جڑانوالہ اور 9 مئی کے واقعات پورے معاشرے کے لئے لمحہ فکریہ ہیں
جڑانوالہ ، قیام امن کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں،بلاول
پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے فیصل آباد کی تحصیل جڑانوالہ میں قیام امن کی ناقص صورت حال پر اظہار تشویش کیا ہے اور کہا ہے کہ جڑانوالہ میں مذہبی کشیدگی پر قابو پانے اور قیام امن کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں، پاکستان پیپلزپارٹی مذہبی ہم آہنگی اور تمام عقیدوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے تحفظ کی علمبردار ہے، جڑانوالہ سے موصول ہونے والی اشتعال سے متعلق خبریں پریشان کُن ہیں، انتظامیہ جڑانوالہ میں امن و امان کی صورت حال کو برقرار رکھنے کے لئے مؤثر کردار ادا کرے،
فیصل آباد جڑانوالہ واقعہ کی FIR درج کر لی گی
تحریک انصاف کا جڑانوالہ میں پیش آنے والے واقعات پر نہایت تشویش اور افسوس کا اظہار
جڑانوالہ میں مسیحی عبادت گاہ پر حملے اورعلاقے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تدارک کا معاملہ ، تحریک انصاف کی جانب سے جڑانوالہ میں پیش آنے والے واقعات پر نہایت تشویش اور افسوس کا اظہار کیا گیا ہے، ترجمان تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ نہایت حساس نوعیت کے معاملے پر ریاستی و حکومتی مشینری کی مجرمانہ ناکامی قابلِ مذمت ہے،رنگ ، نسل، جنس، مذہب کے امتیاز کے بغیر شہریوں کے جان و مال کی سلامتی کا تحفظ ریاست کا بنیادی فریضہ ہے،اسلام امن و آشتی کا دین، دستور اقلیتوں کے حقوق اور مذہبی آزادیوں کا ضامن ہے،تخلیقِ پاکستان سے تعمیرِ پاکستان تک کے ہر مرحلے میں ہماری اقلیتوں نے نہایت گراں قدر خدمات سر انجام دی ہیں،ریاستی مشینری کی جانب سے دستور سے انحراف شہریوں کے مابین لاقانونیت اور نظامِ عدل کی بےتوقیری کی صورت میں ظاہر ہو رہاہے،پنجاب کی نالائق اور نااہل حکومت جڑانوالہ میں پیش آنے والے واقعات کی تمام پہلوؤں سے تحقیق کرے اور پُر تشدد کارروائیوں کے ذمہ دار عناصر کے خلاف قانون کو حرکت میں لائے-
حرمت قرآن ہمارا ایمان ہے اور اقلیتوں کا تحفظ ہمارا مذہبی اور اخلاقی فریضہ ہے، خالد مسعود سندھو
پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے جڑانوالہ واقعہ پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حساس معاملات میں اشتعال کو کم کرنے کی ضرورت ہے. قانون ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہیں ہونی چاہیے. واقعہ کی شفاف تحقیقات کی جائیں. حرمت قرآن ہمارا ایمان ہے اور اقلیتوں کا تحفظ ہمارا مذہبی اور اخلاقی فریضہ ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے حقائق قوم کے سامنے رکھیں، قرآن کی بے حرمتی کے ملزمان کو گرفتار کیا جائے. اسی طرح, مشتعل افراد کا مسیحی برادری کے گھروں اور چرچ پر حملہ اسلام کی تعلیمات،پاکستان کا دستور اور قانون اس کی قطعی اجازت نہیں دیتا۔ ہم اس واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہیں۔
کسی شخص یا ہجوم کو قانون ہاتھ میں لے کر خود ساختہ اقدامات کا اختیار نہیں دیا جاسکتا۔ ایسے تمام عناصر کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے.
حکومت اور پولیس عوام کی جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنائے۔ قرآن مجید اور دیگر مزاہب کی مقدس کتب، عبادت گاہوں اور تمام شہریوں کی سلامتی اور تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے. اس واقعہ میں ملوث عناصر کو فوری گرفتار کیا جائے اور ریاست اس واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کو یقینی بنائے اور زمہ اداران کو قرار واقعی سزا دی جائے
سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کا جڑانوالہ میں پیش آنے والے واقعات پر اظہار افسوس
سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کا کہنا ہے کہ
قانون نافذ کرنے والے ادارے ان واقعات کے پیچھے اصل محرکات کو سامنے لائیں،یہ واقعات پاکستان کے خلاف سازش بھی ہو سکتے ہیں، پاکستان میں اقلیتوں کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے،قرآن پاک کی بے حرمتی میں ملوث عناصر کو قانون کے مطابق کٹہرے میں لایا جائے، تشدد، توڑ پھوڑ اور جلاو گھیراو کے واقعات انتہائی افسوس ناک ہیں، کسی بھی مذہب کی عبادت گاہ پر حملہ انتہائی شرمناک اور اسلامی تعلیمات کے منافی ہے
اسٹاک ہوم: سویڈن میں ایک بار پھر قرآن پاک کی بے حرمتی کردی گئی۔
باغی ٹی وی: غیرملکی میڈیا کے مطابق چند ہفتوں کے دوران دوسری مرتبہ یہ واقعہ پیش آیا کہ عراق سے تعلق رکھنے 2 ملعون افراد 37 سالہ سلوان مومیکا اور 48 سالہ سلوان نجم نے نے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں سوئیڈش شاہی محل کے سامنے مرکزی چوک پر قرآن پاک کا نسخہ نذر آتش کیا 37 سالہ سلوان مومیکا اور 48 سالہ سلوان نجم نے قرآن مجید کو نذر آتش کیا، جو کہ سویڈن کے آزادی اظہار رائے کے قوانین کے تحت جائز ہے اس موقع پر پولیس کی بھاری نفری موجود تھے جو واقعہ کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو روکتی رہی۔
دونوں ملعون افراد کو سویڈن کے آزادی اظہار کے قانون کے تحت قرآن پاک کی بے حرمتی کے لیے ایک گھنٹے کا وقت دیا تھا جس کے بعد مسلمانوں کو قرآن پاک کے شہید صفحات جمع کرنے کی اجازت دے دی گئی ہجوم کے درمیان فائر فائٹر والے ملبوسات پہنے گروپ نے ’نفرت ختم کرو‘ کے نعرے لگائے۔
سویڈن میں قرآن پاک کی بیحرمتی کا چند ہفتوں کے دوران یہ دوسرا واقعہ ہے رواں سال عید الاضحیٰ کے موقع ملعون شخص نے قرآن پاک کی بے حرمتی کی تھی۔
جن لوگوں کو قرآن جلانے کی اجازت دی جاتی ہے انہیں ایک گھنٹے کا وقت دیا جاتا ہے، جس کے بعد پولیس انہیں منتشر کرتی ہے اور لوگوں کو بے حرمتی کی گئی مقدس کتاب کی باقیات کو جمع کرنے کی اجازت دیتی ہے اس موقع پر مومیکا اور نجم نے قرآن مجید کے متعدد صفحات چھاپے تھے جن میں عربی میں متن کے ساتھ ساتھ سویڈش میں ترجمہ بھی تھا جو پورے چوک میں پھیل گیا۔
اس جوڑے کے پولیس کی حفاظت کے تحت علاقے سے نکلنے کے بعد، کئی آدمی چوک کے اس پار پہنچ گئے، اور زمین سے اور شاہی محل کی طرف جانے والی دیواروں سے صفحات اٹھائے۔
اس سال سویڈن اور ڈنمارک میں قرآن مجید کو نذرآتش کرنے کے متعدد واقعات رونما ہوئے ہیں جس سے مسلم ممالک میں غم و غصہ پایا جاتا ہے اور دونوں ممالک کی حکومتوں سے ان واقعات کو روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے،جلانے سے سویڈن کے لیے سفارتی بحران پیدا ہو گیا ہے اور کئی ممالک میں مظاہرے ہوئے ہیں جن میں سویڈن کی مصنوعات کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا گیا ہے-
سویڈن اور ڈنمارک نے سکیورٹی خدشات بڑھنے پر مذہبی کتابوں کی بے حرمتی کے واقعات روکنے پر غور شروع کردیا۔
باغی ٹی وی: ڈینش وزارت خارجہ کے مطابق قرآن پاک کی بے حرمتی پر ردعمل میں ہونے والا احتجاج انتہائی شکل اختیار کرسکتا ہے اس لیے حکومت ایسا قانونی راستہ تلاش کر رہی ہے جس سے نہ آزادی اظہار متاثر ہو اور نہ ہی دوسرے ملکوں یا ثقافتوں کی بے عزتی ہوسوئڈش وزیراعظم کے مطابق معاملے کے حل کے لیے وہ ڈینش وزیراعظم سے رابطے میں ہیں۔
وزیرخارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ قرآن پاک کی بے حرمتی کرنا ایک غیر مناسب عمل ہے، جو چند افراد کی جانب سے کیا گیا، ان کا یہ عمل ڈنمارک کے اقدار کی نمائندگی نہیں کرتا جس پرہمارا معاشرہ قائم ہے مذکورہ حالات کے پیش نظر ڈنمارک کی حکومت اس میں مداخلت کے امکان کو تلاش کرے گی، جس سے دوسرے ممالک کی ثقافتوں اور مذاہب کی توہین کی جا رہی ہو۔
ڈنمارک کے وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ جو بھی اقدام اٹھایا ہے وہ یقیناً آئینی طور پر تحفظ یافتہ آزادی اظہار کے فریم ورک کے اندر اور اس انداز میں کیا جانا چاہیے کہ اس حقیقت کو تبدیل نہ کیا جائے کہ ڈنمارک میں کھلی اظہار رائے کی آزادی ہےقرآن کی بے حرمتی کے بعد ڈنمارک اور سوئیڈن خبروں کی سُرخیوں میں رہے۔ دونوں ممالک ہ قرآن کو جلانے کی مذمت کرتے ہیں لیکن آزادی اظہار کے تحفظ کے قوانین کے تحت اس عمل کو نہیں روک سکتے۔
دوسری جانب قرآنِ پاک کی بے حرمتی پر سعودی عرب اور عراق کی درخواست پر اسلامی تعاون تنظیم کا اجلاس آج ہورہا ہے۔
خیال رہے کہ گزشتہ دنوں سوئڈن اور ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں قرآن پاک کی بے حرمتی اور نذرآتش کرنے کے واقعات پیش آئے تھےقرآن پاک کی بے حرمتی پر دنیا بھر کے مسلمانوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے-
قرآن کریم ہی امن اور انسانیت کا آئین، تجزیہ، شہزاد قریشی
سویڈن کے شہر اسٹاک ہوم میں 37سالہ عراقی پناہ گزین نے قرآن پاک کی بے حرمتی اور پھر نذر آتش نے مسلم ممالک سمیت یورپی یونین نے بھی شدید الفاظ میں اس شیطانی عمل کی مذمت کی ہے۔ یورپی یونین نے اس عمل کو جارحانہ بے عزتی پر مبنی اشتعال انگیزی کا واضع عمل قرار دیا ہے۔ یورپی یونین کے مطابق یہ عمل کسی بھی طرح یورپی یونین کی رائے کی عکاسی نہیں کرتا۔
اس شیطانی عمل پر دنیا بھر کے مسلمان سراپا احتجاج ہیں۔ او آئی سی نے بھی ہنگامی اجلاس بلایا ہے۔ روسی صدر نے بھی اسے جرم قرار دے دیا ہے۔ جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے تو مسلمانوں کے لئے تمام مذاہب قابل احترام ہیں تمام پیغمبروں اور آسمانی کتابوں پر ایمان لانا لازم ہے۔ قرآن پاک کی بے حرمتی کرنے کے لئے اسلام مخالف قوتیں شرپسندوں کو اکساتی ہیں کہ وہ مسلمانوں کے جذبات کو مجروع کریں تاکہ فتنہ فساد پھیلے ہنگاموں اور مسلمانوں کے احتججاج کو دہشت گردی کا نام دے کر طاقت کے بل پر انہیں جانی و مالی نقصان پہنچائیں۔ افسوس صد افسوس یہ بات کڑوی ہے اگر آج کے دور کو فتنوں کا دور کیا جائے تو غلط نہیں ہوگا۔
قرآن پاک کی سورۃ یونس میں اﷲ پاک فرماتے ہیں ’’لوگو تمہاری شرارت کا وبال تمہاری ہی جانوں پر ہوگا تم دنیا کی زندگی کے فائدے اٹھالو پھر تم کو ہمارے ہی پاس لوٹ کر آنا ہے۔ اس وقت ہم تم کو بتائیں گے جو کچھ تم کیا کرتے تھے‘‘۔
سویڈن میں عید الاضحیٰ کے پہلے روز انتہا پسندوں نے مرکزی مسجد کے باہر قرآن پاک کو نذر آتش کردیا-
باغی ٹی وی: سویڈن کی عدالت نے اس کریہہ عمل کی اجازت دی اور سویڈش پولیس نے مذکورہ شخص کو تحفظ فراہم کیا، اور قرآن پاک کی بے حرمتی پر آواز اٹھانے والے ایک نوجوان کو اشتعال انگیزی کا الزام لگا کر گرفتار کرلیاجس کےردعمل میں مراکش نے غیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے سویڈن سے اپنے سفیر کو غیر معینہ مدت کے لیے واپس بلا لیا ہے۔
مراکش کی وزارت خارجہ نے بدھ کے روز رباط میں سویڈن کے ناظم الامور کو بھی طلب کیا اور مملکت کی جانب سے اس کریہہ اور ناپاک عمل کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ناقابل قبول قرار دیا ۔
مراکش کے علاوہ دیگر اسلامی ممالک نے بھی واقعے کی شدید مذمت کی-
ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے ایک ٹویٹ میں اس کریہہ عمل کی مذمت کی اور لکھا کہ میں سویڈن میں عید الاضحیٰ کے پہلے دن ہماری مقدس کتاب قرآن کے خلاف ہونے والے مذموم اقدام کی مذمت کرتا ہوں آزادی اظہار کےبہانےان اسلامو فوب مسلم مخالف حرکات کی اجازت دینا ناقابل قبول ہے۔ اس طرح کی ظالمانہ حرکتوں سے آنکھیں پھیرنا جرم میں شریک ہونا ہے۔
سعودی وزارت خارجہ نے سویڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے واقعات اسلام فوبیا کی علامت ہیں اس واقعے سے پوری دنیا کے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں اور اس واقعے کی ذمہ دار سویڈش حکومت ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان ناصر کنعانی نے کہا کہ یہ ایک اشتعال انگیز، ناجائز اور ناقابل قبول عمل ہے جس سے مقدسات کی بار بار بے حرمتی کی راہ ہموار کی جا رہی ہے، خاص طور پر عید اور حج کانگریس میں لاکھوں مسلمانوں کا اجتماع جیسے مقدس ایام میں۔
امریکی محکمہ خارجہ نے بھی اس افسوس ناک واقعے پر ردعمل کا اظہار کیا ہےامریکی محکمہ خارجہ کے نائب ترجمان نے روزانہ کی بریفنگ میں صحافیوں کو بتایا کہ مذہبی متن کو جلانا ’بے عزتی اور تکلیف دہ‘ ہےضرور نہیں کہ جو قانونی ہو وہ یقینی طور پر مناسب بھی ہو-
دوسری جانب قرآن پاک کی بے حرمتی کرنے والے 37 سالہ سلوان مومیکا کا کہنا ہے کہ وہ سویڈن میں قرآن پاک پر پابندی چاہتا ہےالجزیرہ کے مطابق چند لوگوں نے مسجد کے باہر مومیکا کے خلاف علیحدہ سے ہتک آمیز باتیں کیں، جو سویڈن کے دارالحکومت کے ایک ضلع میں ایک پہاڑی پر واقع ہے کچھ نے چیخ کر کہا ’سویڈش بولو‘، سویڈش جھنڈا لہرانے پر مومیکا کا مذاق اڑایا لیکن بظاہر وہ سویڈش زبان بولنے سے قاصر تھا۔
سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم کی ایک مسجد کے باہر عید الاضحیٰ کے روز قرآن کریم کو نذرآتش کرتے ہوئے بے حرمتی کا واقعہ پیش آیا ہے ایک عالمی ادارے کے مطابق اسٹاک ہوم کی پولیس نے عراق سے تعلق رکھنے والے شہری کو کئی بار قرآن پاک نذر آتش کرنے کی اجازت دینے سے انکار کیا تھا لیکن مقامی عدالت نے پولیس کے فیصلے کو آزادی اظہار رائے کے خلاف قرار دے دیا تھا۔
A Swedish court has given permission for a Quran to be burned outside a Stockholm mosque during one of the holiest days for Muslims.https://t.co/aBEdJyk3X5
اسٹاک ہوم کی مرکزی مسجد کے باہر ایک شخص نے سویڈش پولیس سے اجازت ملنے کے بعد احتجاج کیا ہے اور آزادیِ اظہار کے نام پر مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن مجید کی بے حرمتی کی ہے۔سویڈین میں مسلمانوں کی عید الاضحیٰ کا یہ پہلا دن تھا۔ ترک وزیر خارجہ حقان فیدان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک بیان میں کہا کہ ’’میں عید الاضحی ٰ کے پہلے روز قرآن پاک کے خلاف کی جانے والی گھناؤنی حرکت پر لعنت کرتا ہوں‘‘۔انھوں نے کہا کہ آزادیِ اظہارکے بہانے اسلام مخالف اقدامات کی اجازت ناقابلِ قبول ہے۔ انھوں نے مزید کہا:’’اس طرح کے ظالمانہ کاموں سے آنکھیں موندنے کامطلب ان میں شریک جرم ہونے کے مترادف ہے‘‘۔
جنیوا: اقوام متحدہ کے ادارے انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں عرب ممالک نے قرآن پاک کو نذرِ آتش کرنے کے واقعات پر عالمی خاموشی کو مایوس کن قرار دیدیا۔
باغی ٹی وی: عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق معاون وزیر خارجہ ایچ ای لولواہ بنت راشد الخطر نے جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 52ویں اجلاس کے موقع پر اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کے عہدیداروں سے ملاقات کی۔ معاون خارجہ نے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک سے ملاقات کی۔
ملاقات کے دوران انہوں نے قطر اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر کے دفتر کے درمیان تعلقات، فلسطین میں حالیہ پیش رفت اور فلسطینی عوام کے خلاف بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزیوں پر تبادلہ خیال کیا۔
خیطر نے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر کے دفتر کے لیے قطر کی خواہش کا اظہار کیا کہ وہ اسلامو فوبیا کے رجحان کا مقابلہ کرنے کے لیے سنجیدگی سے کام کرے اور یورپ کے متعدد ممالک میں قرآن پاک کو نذر آتش کرنے کے واقعات پر واضح اور صاف موقف اختیار کرے نفرت انگیز تقریر تشکیل دیتا ہے۔
اجلاس میں وزارت خارجہ میں انسانی حقوق کے شعبہ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ترکی بن عبداللہ المحمود اور جنیوا میں اقوام متحدہ میں قطر کے مستقل نمائندے ایچ ای ڈاکٹر ہند عبدالرحمان المفتاح نے شرکت کی۔
معاون وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین فلیپو گرانڈی سے ملاقات کی۔
ملاقات کے دوران انہوں نے قطر اور اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) کے درمیان تعاون کےتعلقات اور ترکی کی سرحدوں پر شامی پناہ گزینوں کے حالات بالخصوص زلزلے کی تباہی کے بعد کے حالات پر تبادلہ خیال کیا،جنیوا میں اقوام متحدہ میں قطر کے مستقل نمائندے ایچ ای ڈاکٹر ہند عبدالرحمن المفتاح نے اجلاس میں شرکت کی۔
خیطر نے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے سیکرٹری جنرل حسین برہم طحہ سے بھی ملاقات کی۔
دونوں فریقوں نے قطر اور او آئی سی کے درمیان تعاون کے تعلقات پر تبادلہ خیال کیا، اس کے علاوہ باہمی دلچسپی کے امور، خاص طور پر نفرت انگیز تقاریر میں اضافے سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، اس ضرورت کو اجاگر کیا گیا کہ تنظیم قرآن پاک کو جلانے کے واقعات کے حوالے سے واضح موقف اختیار کرے۔ کئی یورپی ممالک، ایک ایسے رجحان کے طور پر جو نفرت انگیز تقریر کو تشکیل دیتے ہیں۔ انہوں نے چند اسلامی اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
اقوام متحدہ کے ادارے United Nations Human Rights Council کے اجلاس میں عرب ممالک نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ عالمی اداروں نے قرآن پاک کو نذرِ آتش کرنے کے واقعات کی مذمت کرنے سے گریز کیا۔
عرب ممالک کی نمائندگی کرتے ہوئے قطر کے اقوام متحدہ میں مستقل مندوب ڈاکٹر ہند عبدالرحمان المفتاح نے کہا کہ مسلمانوں کی مقدس ترین کتاب قرآن کو جلانے کے ناپاک واقعات پر عالمی ادارے کا رویہ نہایت مایوس کن ہے جس پر گہری تشویش ہے۔
عرب ممالک نے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق سے مطالبہ کیا کہ ایسے واقعات کے سدباب کے ساتھ ساتھ جس ملک میں ایسے واقعات ہوئے ان پر اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے زور دیں۔
عرب ممالک نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل پر زور دیا کہ سویڈن سمیت ایسے تمام ممالک جہاں آزادیٔ اظہار رائے کے نام پر مذہب کو نشانہ بنایا جاتا ہے وہاں مذہبی احترام کے بنیادی حقوق کی پاسداری کو یقینی بنایا جائے۔
واضح رہے کہ سویڈن میں دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی انتہا پسند تنظیم کے رہنما راسموس پلودن نے ایک سے زائد مرتبہ قرآن کی بے حرمتی کرتے ہوئے سرعام قرآن کو نذر آتش کیا تھا۔
مسجد نبوی کو جلسہ گاہ بنانیوالو شرم کرو، بے حرمتی کا سازشی پکڑا گیا، مبشر لقمان پھٹ پڑے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ ہم کمزور لوگ ہیں گنہگار لوگ ہیں، آج صبح سے دیکھ رہا ہوں، دو ویڈیوز سامنے آئی ہیں، شہباز شریف جب حرم میں گئے تو لوگوں نے نعرے بازی کی، دوسری انتہائی تکلیف دہ ویڈیو ہے کہ شاہ زین بگٹی کے کسی نےبال کھینچے
مبشر لقمان نے مبشر لقمان آفیشل یوٹویب چینل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ سوال یہ ہے کہ مسلمانوں کی سب سے بڑی عبادتگاہ حرم شریف ہے وہاں جب لوگ جاتے ہیں تو لوگوں کے آنسو نہیں رکتے، لوگ معافی مانگتے ہیں، گڑ گڑا کر دعائیں کرتے ہیں، کاروبار وغیرہ سب بھول جاتے ہیں کیونکہ وہی ہمارا اصل مقام ہے،مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ستائیسویں شب ،ہو سکتا ہے لیلۃ القدر ہو،علماء دین کہتےہیں کہ ستائیسویں کی شب میں زیادہ چانس ہوتے ہیں،اور وہاں حرم شریف میں ستائیسویں کی شب میں جلسہ بنا دیں، سنی سنائی بات پر، ابھی تک کسی نے اس کو پروو نہیں کیا، صاحبزادہ جہانگیر ویڈیو بھی بنا رہے تھے اور نعرے بھی لگوا رہے تھے، آخر میں کسی نے کہا تھا کہ چیکو بھائی ، چیکو بھائی پھر پتہ چلا،صاحبزادہ جہانگیر کو شرم آنی چاہئے ان کی وجہ شہرت کیا ہے کئی لوگ جانتے ہیں، وہ پچھلے ڈھائی ،تین سال فارن انویسمنٹ لانے کے ایمبسڈر رہے ہیں اور کیا کچھ کیا ہے سب پتہ ہے، رمضان کا مہینہ ہے میں تہمت نہیں لگا سکتا، صاحبزادہ جہانگیر کو جیل ہو چکی ہے اور ان پر جرم ثابت ہو چکا ہے، میرا نام لے کر پوچھئے گا ان سے،رمضان کے بعد انکی حرکات سے پردہ اٹھاوں گا، صاحبزادہ جہانگیر نے سگی بہن کی پیٹھ میں چھرا گھونپا فوزیہ قصوری کے،جس طرح انکا حق مارا گیا ،فوزیہ قصوری نےپاکستان کے لئے امریکہ کی نیشنلٹی سرنڈر تھی ، جہانگیر نے بر طانوی نہیں کی، وہ سازش کرنے والے لیکن رہنا وہیں ہے، یہ حال ہے انکا
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ حرم میں آنکھ نہیں اٹھائی جا سکتی ، وہاں شاہ زین بگٹی کے بال کھینچے گئے، اللہ کے ہاں کیا جواب دو گے، سعودی حکومت نے اگر انکو جیل میں ڈال دیا تو وہ پاکستان کی حکومت نہیں ہے، عمران خان نے جو وعدے کئے تھے قیدی چھڑوانے کے ان میں سے سات ہزار ابھی تک اندر ہی ہیں، اگر وہ پکڑے گئے تو قانون سب کو پتہ ہے پھر سب بھول جائیں، انہوں نے ویڈیو دیکھنی اور قانون کے مطابق فیصلہ کرنا ہے،مسجد میں ہم بدترین دشمن سے بھی لڑائی نہیں کر سکتے، رمضان میں یہ کس کی سنت پر عمل کر رہے ہیں، بدترین مخالف بھی ہوتو مسجد نبوی، حرم شریف میں اپنے علاوہ کسی اور کا خیال کیسے آ گیا،
بھارتی شہر امرتسر میں سکھوں کے مقدس ترین مقام گولڈن ٹمپل میں داخل ہوکر گرو گرنتھ کی مقدس تلوار بے حرمتی کرنیوالے نوجوان کو مشتعل سکھوں نے بہیمانہ تشدد کر کے قتل کردیا۔
باغی ٹی وی : بی بی سی کے مطابق یہ واقعہ ہفتے کی شام امرتسر میں گولڈن ٹیمپل کے اندر عبادت کے دوران پیش آیا اس دوران ایک ہندونوجوان جنگلا پھلانگ کر پالکی صاحب کے قریب پہنچا اور مبینہ طور پر گوروگرنتھ صاحب اور مقدس استھان کی بے حرمتی کی۔
رپورٹ کے مطابق اس شخص نے کتاب کے ساتھ موجود رسمی تلوار کو چھونے کی کوشش کی مگر اسے سکیورٹی گارڈز اور وہاں موجود دیگر افراد نے روک لیا تاہم جب اسے باہر لیکر آئے تو مشتعل ہجوم نے تشدد کانشانہ بناتے ہوئے نوجوان کو ہلاک کردیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ جب ان کے اہلکار وہاں پہنچے تو یہ شخص مردہ حالت میں تھا پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
ایس جی پی سی کے ذمہ دار نے بتایا کہ ہلاک ہونیوالے کا تعلق یوپی سے بتایا جارہا ہے تاہم جیب سے کوئی شناختی دستاویز نہ ملنے کے باعث اس کی شناخت نہیں ہوسکی ہے۔
ایک ٹویٹ میں ریاست پنجاب کے وزیر اعلیٰ چرنجیت سنگھ چنی نے پولیس کو حکم دیا ہے کہ ’اس ظالمانہ حرکت کا مقصد اور اس کے پیچھے اصل سازشی عناصر کا پتا لگایا جائے۔‘
اس واقعے سے چند روز قبل ایک شخص نے مبینہ طور پر سکھوں کی چھوٹی مقدس کتاب گٹکا صاحب کو گولڈن ٹیمپل میں بنائے گئے تالاب میں پھینک دیا تھا جس کے بعد اسے گرفتار کر لیا گیا۔
سکھ برادری اپنی عبادت گاہوں کا تقدس برقرار رکھنے کو بہت اہمیت دیتی ہے۔ مگر پنجاب میں یہ ایک سیاسی مسئلہ بھی ہے جہاں آئندہ سال قانون ساز اسمبلی کے انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔