Baaghi TV

Tag: بے روزگاری

  • طالبان حکومت میں غذائی بحران خطرناک حد تک بڑھ گیا

    افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق ملک میں بڑھتی ہوئی غربت، بے روزگاری اور عالمی امداد کی معطلی نے غذائی بحران کو خطرناک حد تک بڑھا دیا ہے، لاکھوں افراد شدید بھوک اور فاقہ کشی کا سامنا کر رہے ہیں۔

    افغان جریدے ہشت صبح کے مطابق طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں غذائی قلت ایک بڑے انسانی المیے میں تبدیل ہو چکی ہے، لا کھو ں افغان شہری روزانہ کی بنیاد پر خوراک کی شدید کمی اور بنیادی ضروریات کی عدم دستیابی کا سامنا کر رہے ہیں-

    ورلڈ فوڈ پروگرام (WFP) کے تخمینوں کے مطابق افغانستان میں تقریباً ایک کروڑ 70 لاکھ افراد شدید غذائی قلت کا شکار ہیں، جبکہ رواں سال مزید 20 لاکھ بچوں کو غذائی قلت کے خطرے کا سامنا ہو سکتا ہے ادارے نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق مختلف ممالک سے افغان مہاجرین کی واپسی نے بھی غربت اور غذائی بحران میں اضافہ کیا ہے، کیونکہ محدود وسائل پر دباؤ بڑھ گیا ہے، طالبان رجیم کی پالیسیوں کے باعث عالمی امداد میں کمی آئی، جس کے نتیجے میں مزید 30 لاکھ افراد شدید بھوک کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان کی سخت اور جابرانہ پالیسیوں نےافغانستان کی معیشت کو کمزور کر دیا ہےجس سے بے روزگاری میں اضافہ اور عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا ہے اگر فوری طور پر عوامی فلاح و بہبود کو ترجیح نہ دی گئی تو افغانستان میں انسانی بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے۔

  • ہائے بے روزگاری،ایئر انڈیا میں 600 آسامیوں کیلیے 25 ہزار نوجوان پہنچ گئے

    ہائے بے روزگاری،ایئر انڈیا میں 600 آسامیوں کیلیے 25 ہزار نوجوان پہنچ گئے

    بھارت میں بے روزگاری بڑھ چکی، مودی سرکار کا نوجوانوں کو نوکریاں دینے کا دعویٰ سچ ثابت نہ ہو سکا،ایئر انڈیا میں 600 آسامیوں کے لئے 25 ہزار سے زائد نوجوان انٹرویو دینے پہنچ گئے

    بھارت میں بیروزگاری کی شرح میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، نوجوان ڈگریاں لئے ہاتھ میں پھر رہے ہیں تا ہم کوئی نوکری نہیں مل رہے، اگر کہیں کوئی آسامی کا اشتہار آ جائے تو ہزاروں نوجوان ڈگریاں لئے پہنچ جاتے ہیں، اب حال ہی میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا، بھارتی ایئر لائن ایئر انڈیا نے 600 ملازمتوں کے لئے اشتہار دیا تو تقریبا 25 ہزار سے زائد نوجوان ڈگریاں لئے ملازمت کے لئے انٹرویو دینے پہنچ گئے.اس دوران ہنگامہ آرائی بھی ہوئی، شدید رش کو سنبھالنا مشکل ہو رہا تھا جس پر ایئر انڈیا کی جانب سے پولیس کو طلب کیا گیا.

    بھارتی ایئر لائن ایئر انڈیا کی جانب سے 600 نوکریاں کسی بڑے عہدے کے لیے نہیں تھیں بلکہ ایئر پورٹ لوڈر کی تھیں،جن کی تنخواہ 20 سے 25 ہزار ہوتی ہے،اگر ایئر لوڈر اضافی وقت کام کریں تو انکی ماہانہ تنخواہ 30 ہزار تک جا سکتی ہے،ایئر پورٹ لوڈر کو جہازوں کی لوڈنگ ،ان لوڈنگ کرنی ہوتی ہے، سامان کے بیلٹ اور ریمپ ٹریکٹر چلانے کا کام کرنا ہوتا ہے تو وہیں سامان، کارگو اور کھانے پینے کی اشیاء کو سنبھالنے کے لیے ہر ہوائی جہاز کو کم از کم پانچ لوڈرز کی ضرورت ہوتی ہے

    بھارتی ایئر لائن ایئر انڈیا کی چھ سو ملازمتوں کے لیے 25 ہزار سے زائد نوجوان جمع ہوئے جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہو گئی، ممبئی میں ایئر انڈیا کو رش کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، کیونکہ ایئر انڈیا کو امید نہیں تھی کہ 600 نوکریوں کے لئے 25 ہزار لوگ آ جائیں گے،

    ممئبی میں ایئرانڈیا کے ایئرپورٹ لوڈر کی ملازمت کے لیے جمع ہونے والے نوجوانوں ویڈیو سامنے آنے پر بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس کا کہنا تھا کہ یہ ویڈیو بھارت میں بیروزگاری کی حالت بیان کر رہی ہے، آج ممبئی میں ایوا ایشن سیکٹر میں ملازمت کے لیے ہزاروں نوجوانوں پہنچ گئے ایسا ہی منظر کچھ دن قبل گجرات میں بھی دیکھنے کو ملا تھا لیکن بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کھلے عام جھوٹ بولتے ہیں کہ گزشتہ 4-5 سال میں ریکارڈ توڑ روزگار دیا ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے

    واضح رہے کہ کچھ دن قبل مودی کے آبائی علاقے گجرات میں بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا، گجرات کے بھروچ ضلع کے انکلیشور میں 40 آسامیوں کے لیے 800 کے قریب نوجوان انٹرویو کے لیے پہنچ گئے تھے،

    بھارت میں بے روزگاری، گھروں میں فاقے، شہری اسرائیل نوکری کیلیے مجبور

    بھارتی انتخابات،دی گارڈین نے مودی سرکار کی اصلیت کو بے نقاب کر دیا

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    مہنگائی،غربت،عید کے کپڑے مانگنے پر باپ نے بیٹی کی جان لے لی

    پسند کی شادی کیلئے شوہر،وطن ،مذہب چھوڑنے والی سیماحیدر بھارت میں بنی تشدد کا نشانہ

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ہندوستان میں بیروزگاری کی شرح میں اضافہ ،دو تہائی تعلیم یافتہ نوجوان بیروزگار

    مودی کی اگنی ویر سکیم،رشتے آنا بند،نوجوانوں نے بھارتی فوج میں جانا چھوڑ دیا

  • بڑھتی بے روزگاری اور گھٹتی معیشت!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    بڑھتی بے روزگاری اور گھٹتی معیشت!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    "بھائی باہر کے ملک کا ویزا لگوا دو!!”

    "صاحب نوکری دلوا دو!!”

    اس طرح کے کئی جملے میں اور ہم جیسے کئی لوگ جو حالات سے لڑتے اپنی زندگی کے کسی مستحکم مقام پر پہنچ چکے ہوتے ہیں، اُنکو روز سُننے کو ملتے ہیں۔ سوال مگر یہ ہے کہ پاکستان جیسا ملک جہاں انسانی اور قدرتی وسائل کی کمی نہیں ، وہاں اس ملک کی پیدائش سے لیکر اب تک غربت اور بے روزگاری ایک بڑا مسئلہ کیوں ہے؟

    بہت سے لوگ آپکو یہ کہیں گے کہ ہمارے سیاستدان نکھٹو ہیں، اقتدار میں بیٹھے لوگوں کو عوام کا احساس نہیں وغیرہ وغیرہ مگر کوئی آپکو مکمل حقیقت نہیں بتائے گا۔ ایسے کہ اپ سمجھ سکیں کہ اصل مسائل ہیں کیا۔ معلومات کا مکمل ادراک نہ ہونے پر آپ محض سرسری طور پر مسائل بتاتے ہیں مگر اُنکا حل نہیں ڈھونڈ پاتے۔ سائنس کی یہ خوبی ہے کہ وہ اپکو مسائل کی جڑ تک لیکر جاتی ہے۔ کسی بھی مسئلے کو چند ایکوئیشنز اور نمبرز کی صورت آپ پر واضح کرتی ہے کہ کس جگہ کیا غلط ہے۔ آج دنیا میں بنیادی سائنس کے علاوہ دو اور اہم چیزوں پر زور دیا جاتا ہے۔ معیشت اور امن و استحکام ۔ سائنس کی دنیا کے سب سے بڑے انعام نوبل پرائز آج بنیادی سائنس کے علاوہ معیشت اور امن کے شعبوں میں بھی ملتے ہیں۔

    معاشیات کی سائنس بے حد دلچسپ ہے۔ پرانے زمانے میں لوگ معاشیات کو اتنا نہیں سمجھتے تھے نہ ہی معیشت اس قدر پیچیدہ تھی۔ آج مگر دُنیا بدل چکی ہے۔ ہمیں سائنس کے ہر اُس شعبے میں بھی ماہرین درکار ہیں جو معاشرے کو ایک الگ زاویے سے پرکھیں۔ یہ سوشل سائنٹسٹ کہلاتے ہیں۔ ان لوگوں کا کام معاشرے کو ایک قدم پیچھے ہٹ کر یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ دنیا کی آبادی کے رجحانات کیا ہیں۔ معاشروں کے رویوں کو جانچنا اور ان پر اطلاق شدہ ماضی کی پالیسیوں کا جائزہ لینا ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں چند گھسے پٹے جملے بول تو دیے جاتے ہیں مگر عوام اور اشرافیہ چونکہ رٹے کی پیدوار تعلیم نظام سے ہو کر آتی ہے، اسلئے سمجھتا کوئی کدو ہے۔ ہم جب یہ کہتے ہیں کہ "ماضی سے سبق سیکھنا چاہیے” تو یہ بس کہہ دیتے ہیں۔ علم اس قدر سطحی ہے کہ یہ جملہ کہنے والے کو ٹٹولیں تو سامنے کدو بیٹھا نظر آئے گا۔

    پاکستان کی کل آبادی 2017 کی مردم شماری کے مطابق تقریباً 22 کروڑ تک ہے۔ اور اب 5 سال مزید گز جانے کے بعد یہ تعداد 23 کروڑ سے زیادہ ہو چکی ہو گی۔ کیونکہ پاکستان میں آبادی کی شرح نمو سالانہ 2 فیصد سے بھی زیادہ ہے، جبکہ بھارت اور بنگلہ دیش میں یہ شرح 1 فیصد کے قریب رہ گئی ہے۔ پاکستان میں بچے خرگوشوں کیطرح پیدا کیے جاتے ہیں۔سننے میں آپکو یہ برا لگے مگر حقیقت یہی ہے۔ نفسیات دیکھیں تو چونکہ ملک میں تفریح کے مواقع کم ہیں تو لوگوں کے پاس "کھابے” کھانے اور بچے پیدا کرنے کے علاوہ اور کوئی کام نہیں۔ اسکے علاوہ پاکستان میں نظریات کی بھینٹ چڑھی عوام فیملی پلاننگ کو حرام سمجھتی ہے۔ گنگا ہی اُلٹی بہتی ہے۔ جو جتنا غریب ہے اُتنا ہی بڑا بچے پیدا کرنے کی مشین ہے۔ زچہ کو مشین بنا کر رکھ دینے والے معاشرے کا حال یہ ہے کہ نوزائیدہ بچوں کی اموات کے حوالے سے پاکستان دنیا کے پہلے دس ممالک کی فہرست میں آتا ہے۔ یہاں ہر 1 ہزار پیدا ہوئے بچوں میں سے 58 بچے پیدائش کے کچھ عرصے بعد مر جاتے ہیں۔ زیادہ نہیں محض 20 سال پیچھے چلے جائیں تو یہ تعداد ہر ایک ہزار میں سے 90 تھی۔ صحت اور تعلیم کی کمی کے باوجود لوگ ہیں کہ بے دھڑک بچوں پر بچے پیدا کیے جا رہے ہیں۔ عقل کی بات کیجئے تو آپ سب کے دشمن ۔ جہالت عام بکتی ہے۔ دماغ خرچ کرنا مسئلہ ہے۔ کبھی کبھی لگتا ہے لوگوں کو جاہل رہنے میں مزا آتا ہے۔ کہ شاید یہ بھی تفریح کے مواقع کی کمی کے باعث ایک تفریح بن گئی ہے۔ پر کیا کیجئے۔ مسائل بتاںا بھی ضروری ہیں کہ ہم معاشرے سے کٹ کر بھی تو نہیں رہ سکتے۔

    1974 سے 2020 تک یعنی 46 سال کے پاکستان کے بے روزگاری اور معیشت کے اعداد و شمار کو کنگھالیے تو معلوم ہوتا ہے کہ ملک کی معیشت میں اضافہ، آبادی میں اضافہ اور بے روزگاری میں اضافہ آپس میں یوں جڑے ہوئے ہیں جیسے نشے سے اُسکا عادی۔
    ان اعداد شمار سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بے روزگاری کی شرح میں محض 1 فیصد اضافے سے جی ڈی پی میں تقریباً 0.6 کمی واقع ہوتی ہے۔ گویا 2020 کے جی ڈی پی 267 ارب ڈالر کے حساب سے 1.7 ارب ڈالر کی کمی۔ وجہ؟ جب بے روزگاری بڑھتی ہے تو مارکیٹ میں خریداروں کی تعداد کم ہو جاتی ہے، لوگوں کی قوتِ خرید متاثر ہوتی ہے۔ پیسہ جیب سے نکل کر بازار کی ہوا نہیں کھاتا۔ فرض کیجئے ایک ریڑھی والا روز 50 کلو فروٹ بیچتا ہے۔ اور آپ کی جب نوکری ہے تو اپ ہر روز 2 کلو فروٹ خریدتے ہیں۔ اب جب اپکی نوکری نہیں ہو گی تو ریڑھی والے کا دو کلو فروٹ کم ِبِکے گا۔ وہ پہلے جس شخص سے دو کلو فروٹ زیادہ لیتا تھا اب کم لے گا اور اُسکا منافع بھی کم ہو جائے گا۔۔ وہ شخص جو اس ریڑھی والے کو فروٹ بیچتا تھا وہ کاشتکار سے فروٹ کم لے گا وغیرہ وغیرہ، کاشتکار کھاد کم لے گا، کھاد والا فیکٹری سے کھاد کم لے گا، فیکٹری کھاد کم بنائے گی اور اسی طرح ہر وہ شخص جو کسی نہ کسی طرح اپ کے ذریعے معیشت کے اس جال میں جڑا ہے، اُسکی زندگی میں پیسے کی کمی آئے گی۔

    بالکل ایسے ہی جب مہنگائی بڑھتی ہے اور قوتِ خرید کم ہوتی ہے تو پوری معیشت میں یہ کمی دکھتی ہے۔ پاکستان میں ایک فیصد مہنگائی بڑھنے سے جی ڈی پی تقریباً 0.4 فیصد کم ہوتا ہے۔ اسی طرح حکومت کے غیر تعمیری اخراجات سے بھی معیشت پر بے روزگاری اور مہنگائی سے بھی زیادہ بُرا اثر پڑتا ہے ۔ سرکاری عیاشیوں میں محض 1 فیصد اضافے سے جی ڈی بھی کو 0.8 فیصد نقصان پہنچتا ہے یعنی سالانہ 2 ارب ڈالر سے بھی زائد۔ مگر سب سے دلچسپ جو ملک کے مءترم بابوں کی نا اہلی کا کھلا ثبوت ہے وہ ایک تحقیق میں سامنے آئی۔ وہ یہ مملکتِ خداد میں باہر سے انے والی ڈائریکٹ انوسٹمنٹ میں ایک فیصد کے اضافے سے معیشت کو اُلٹا 0.7 فیصد نقصان پہنچتا ہے۔ یعنی گنگا اُلٹی نہیں بلکہ بہتی ہی نہیں ہے۔ دیگر ممالک خاص طور پر ترقی یافتہ ممالک میں معیشت باہر کے آئے پیسے سے مستفید ہوتی ہے جبکہ ہمارے ہاں کمزور قوانین اور فی البدیہ مشاعرے کی طرح چلتے ملک میں یہ بھی ان دھوپ میں بال سفید کیے پالیسی ساز بابوں کا دیا وبال ہے۔ باہر سے آئی کمپنیاں یہاں کی معاشی پالیسویں اور حکومت سازی ہر اثرانداز ہو کر ملک کی معیشت کو فائدے کی بجائے نقصان پہنچاتی ہیں۔ مسئلہ انوسٹمنٹ کا نہیں، ان کمپنیوں کا ملک کے اندرونی معاملات اور قوانین میں مداخلت کا ہے۔

    ان تمام مسائل کا ادراک ہونے کے بعد آپ واضح طور پر سمجھ گئے ہونگے کہ پاکستان میں پالیسی سازوں کو زیادہ سے زیادہ تعمیراتی کاموں کے پراجیکٹس شروع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں۔ تعمیراتی کام سے مراد محض سڑکیں اور پل بنانا نہیں بلکہ تعلیم اور صحت کے شعبے بھی تعمیری ہوتے کیں جن سے روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ اسکے علاوہ ملکی جیب میں پچھتر سال سے بڑے سے بڑے ہوتے سوراخ کو بند کرنا ہو گا۔ آبادی پر قابو اور وسائل کے استعمال کو بہتر بنانا ہو گا۔ اور ملک کے اندرونی قوانین اور بین الاقوامی معاشی معاہدوں میں سنجیدگی دکھانا ہو گی۔ ورنہ وطنِ عزیز کی معیاد ختم ہونے میں دیر نہیں لگنی۔

  • بے روزگاری، نوجوان اور سائنس!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    بے روزگاری، نوجوان اور سائنس!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ہم جس دنیا میں رہتے ہیں وہاں ہمارے ارگرد ٹیکنالوجی کا ایک وسیع جال پھیلا ہوا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں ٹیکنالوجی کا استعمال روزمرہ زندگی کے تمام شعبوں میں نمایاں ہے۔ نئے سے نئے معاشرتی حل ٹیکنالوجی کی بدولت سامنے آ رہے ہیں۔ مسائل کے حل پر نیے نئے سٹارٹ اپ یعنی نوزائیدہ کمپنیاں بن رہی ہیں۔ حال ہی میں مجھے ہالینڈ جانے کا اتفاق ہوا جہاں میرے ایک دوست نے ایک کمپنی کھولی ہے۔ کمپنی کا آئیڈیا کیا تھا؟ کھانے پینے کی اشیاء پر بہتر اور تیز تر مارکنگ کرنا۔

    یعنی مارکیٹ میں بیچی جانے والی اشیاء جیسے کہ پانی کی بوتلیں، کین یا دودھ کی پیکنگ پر اُسکی معیاد اور دیگر تفصیلات لیزر کے ذریعے لکھنا۔ اب یہ کام مختلف بڑی بڑی کمپنیاں پہلے سے رائج ٹیکنالوجی کے ذریعے کرتی ہیں مگر اس میں اشیاء کی پیکنگ پر تفصیلات پرنٹ کی جاتی ہے۔ سو اس میں تین مسائل ہیں۔ اول اس میں سیاہی کا استعمال ہوتا ہے، دوسرا پرنٹنگ کا عمل تیز نہیں اور تیسرا سیاہی کے مٹ جانے یا خراب ہونے کی صورت مارکیٹ میں کسی چیز کو قانوناً بیچا نہیں جا سکتا ۔اس مسئلے کا حل اُنہوں نے کیا ڈھونڈا ؟

    جینوا سوئٹزرلینڈ میں سرن کے اندر ہونے والی ایک تحقیق سے ایک ٹیکنالوجی دریافت ہوئی۔ جس میں لیزر کے ذریعے مختلف شکل (گول، تکونی، چکور) اشیاء کو مختلف میٹریل (پلاسٹک، ٹن وغیرہ) سے بنتی ہیں، پر مارکنگ کرنا بے ءد آسان ہو گیا۔ یعنی لیزر کے ذریعے بے حد صاف اور سیاہی کے استعمال کے بغیر کسی طرح کی سطح پر لفظ یا جملے کندہ کیے جا سکتے تھے۔ یہ بے حد صاف اور تیز عمل تھا۔ اس سے چند سیکنڈ میں ہزاروں لفظ بذریعہ لیزر کندہ کیے جا سکتے تھے۔

    اب جب ایک مسئلے کا حل نکل آئے جو پہلے سے موجود حل سے بہتر ہو تو اسکی بنیاد پر ایک سٹارٹ اپ یا کمپنی بنائی جا سکتی ہے۔ جب کوئی ایسا نیا حل مل جائے جس سے ایک وسیع پیمانے پر انڈسٹریوں کو یا معاشرے کو فائدہ ہو سکتا ہو تو باہر کے ممالک میں لوگ حکومت سے تحقیق یا اپنی کمپنی کے قیام کے لیے معاونت طلب کرتے ہیں۔ ان ممالک کی حکومتیں ان سٹارٹ اپ کی مدد کرنے کے لئے مختلف پروگرامز شروع کرتی ہیں۔ اسکے علاوہ بزنس اور پرائیوٹ سیکٹر سے لوگ ان نئی کمپنیوں میں پیسہ انوسٹ کرتے ہیں۔ یوں سائنس میں ہوئی پیشرفت اور تحقیق پر مبنی ٹیکنالوجی نئی نئی کمپنیوں کی بنیاد بنتی ہے۔ آج دنیا میں بہت سی کمپنیاں اسکی مثال ہیں۔

    جیسے کہ گوگل، مائکروسافٹ ، فیسبک۔وغیرہ انہی طریقوں اور انہی عوامل سے گزر کر اتنی بڑی بڑی کمپنیاں بن پائیں جن سے لاکھوں لوگوں کا روزگار جڑا ہے۔گویا ٹیکنالوجی، دماغ اور بہتر مالی وسائل کے ذریعے کسی بھی معیشت میں اربوں ڈالر کا اضافہ کیا جا سکتا ہے، نئے روزگار کے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں اور ملکوں کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔

    پاکستان میں اس وقت 64 فیصد سے زائد آبادی 30 سال کی عمر سے کم ہے۔ یہ پاکستانی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ اتنے کم عمر نوجوان اتنی زیادہ تعداد میں موجود ہیں اور یہ تعداد 2050 تک متواتر بڑھے گی۔ پاکستان میں ہر سال تقریباً 40 لاکھ نوجوان ورک فورس میں شامل ہوتے ہیں۔ یعنی وہ کمانے کی عمر میں آتے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں ہر سال تقریباً 9 لاکھ نئے روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں مگر معیشت کا پہیہ چلانے اور بے روزگاری کے خاتمے کے لیے اس وقت ملک کو ہر سال کم سے کم مزید 13 لاکھ نوکریاں پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ مواقع کیسے پیدا ہونگے؟ سائنس اور ٹیکنالوجی کے ذریعے۔ جیسا کہ اوپر کی مثال دی۔ یونیورسٹیوں کو معاشرے کے مسائل کے مطابق سائنس میں تحقیق کر کے، یونیورسٹی کے گریجویٹس کو نئی سے نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے مسائل کے حل تلاش کر کے کمپنیاں بنانے سے، حکومت کا اس سلسلے میں ان نوزائیدہ کمپنیوں کو بہتر سے بہتر تربیت اور ٹیکس میں چھوٹ دیکر۔

    پرائیویٹ اور کاروباری شخصیات کو ان کمپنیوں میں پیسہ لگا کر۔۔ حکومتی سطح پر اس حوالے سے بہتر پالیساں بنا کر۔ یونیورسٹیوں میں ایسے کلچر کو فروغ دیکر۔ سائنس کی سمجھ بوجھ کو بہتر بنا کر۔ تعلیمی نصاب میں بہتری لا کر۔ جدید علوم سے واقفیت دلا کر۔ معاشرے اور دنیا کے مسائل کا ادراک حاصل کر کے۔ بہتر کاروباری مواقع پیدا کر کے، بہتر سیکھنے کا ماحول پیدا کر کے۔۔تعمیری سوچ اپنا کر۔ ایک سمت کا تعین کر کے۔

    اگر جلد پالیسی سازوں نے یہ فیصلے نہ کیے تو آبادی کا ٹائم بم تو ویسے ہی پھٹنے کو ہے۔ ایسا نہ ہو کہ یہی نوجوان زومبی بن کر اشرافیہ کی موٹی اور سریے سے بھری گردنوں کا پھندہ بن جائیں۔اور پچھلی بے کار ، موٹی توندوں، خالی عقل والی نسل کا قرض چکاتے چکاتے نئی نسلیں بھی تباہ ہو جائیں۔

  • جوبائیڈن کی شرح سود میں اضافے کی پالیسی امریکیوں کا کچومرنکال دے گی:امریکی میڈیا

    جوبائیڈن کی شرح سود میں اضافے کی پالیسی امریکیوں کا کچومرنکال دے گی:امریکی میڈیا

    واشنگٹن :جوبائیڈن کی شرح سود میں اضافے کی پالیسی امریکیوں کا کچومرنکال دے گی:اطلاعات کے مطابق معروف امریکی میڈیا گروہ فوربس میڈیا کے سی ای او اسٹیو فوربس نے خبردار کیا ہے کہ مہنگائی کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے صدر جو بائیڈن کی شرح سود میں اضافے کی پالیسی "لوگوں کو غریب” کر دے گی۔

    قدامت پسند نیوزآؤٹ لیٹ نیوز سماکس کے ساتھ ایک انٹرویو میں فوربس نے زور دیا کہ شرح سود میں اضافے سے امریکی صارفین پر شدید اثرات مرتب ہوں گے۔جس کی روک تھام کےلیے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنا ضروری ہے

    امریکہ میں شرح سود میں اچانک غیرمعمولی اضافہ،عالمی سطح پر منفی اثرات مرتب ہونے کا…

    انہوں نے انٹریو کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا۔”آئیے اس کے بارے میں دو ٹوک رہیں۔ جب وہ نرم لینڈنگ کے بارے میں بات کرتے ہیں یا معیشت کو سست کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تو اس کا مطلب ہے لوگوں کو غریب بنانا،” انہوں نے مزید کہا کہ "امریکی معیشت کو زیادہ شرح سود کے ساتھ سزا دینے” کے بجائے، فیڈرل ریزرو کو اپنی کوششیں ڈالر کی قدر کو مستحکم کرنے پر مرکوز کرنی چاہیے۔

    گزشتہ ہفتے فیڈ کی جانب سے 28 سالوں میں سب سے زیادہ شرح سود میں اضافے کے اعلان کے بعد بہت سے ماہرین اقتصادیات نے ممکنہ کساد بازاری کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے۔اسی صورت حال کو سامنے رکھتے ہوئے فوربس نے زور دیا کہ شرح سود میں اضافے سے صارفین کو خاص طور پر اس وقت نقصان پہنچے گا جب "اس سال کے آخر میں رہن کی شرحوں کو ایڈجسٹ کیا جائے گا” اور سردیوں میں حرارتی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔

    جنگوں نے امریکہ کا دیوالیہ نکال دیا۔ تحریر: محمد شعیب

    انہوں نے مزید کہا کہ "ایک بڑی، بری چیز ہو رہی ہے۔ اور جب اس سردیوں میں تیل کی قیمتیں گرم ہوتی ہیں، جب آپ پہلے کی نسبت دگنی قیمت ادا کر رہے ہوتے ہیں اور آپ کو اپنے گھر کو گرم کرنا پڑتا ہے، تو یہ ایک تباہی ہو گی،” ان کایہ بھی کہنا تھا کہ امریکہ بڑھتی ہوئی قیمتوں اور بڑھتی ہوئی مہنگائی سے دوچار ہے، اس کی آبادی بہت سے یورپی ممالک کی طرح شدید دباؤ میں ہے۔

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا آئندہ 2 ماہ کیلئے شرح سود 7.75 فیصد پر برقراررکھنے کا…

    یاد رہے کہ امریکی صدر جوبائیڈن کی انتظامیہ نے اس سال کے شروع میں روسی تیل پر پابندی عائد کر دی تھی، اس کے فوراً بعد جب روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے 24 فروری کو یوکرین کے خلاف فوجی مہم کا اعلان کیا تھا۔ اس نے پورے ملک میں گیس اور توانائی کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا۔ اس اقدام نے اناج، کھانا پکانے کے تیل، کھادوں اور کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں بھی آسمان کو چھو رہی ہیں۔

  • پاکستان نے کم بے روزگاری کی شرح میں جنوبی ایشیائی ممالک کو پیچھے چھوڑ دیا،عالمی بینک کی رپورٹ

    پاکستان نے کم بے روزگاری کی شرح میں جنوبی ایشیائی ممالک کو پیچھے چھوڑ دیا،عالمی بینک کی رپورٹ

    اسلام آباد: عالمی بینک نے کہاہے کہ پاکستان نے خطے میں سب سے کم بیروزگاری کی شرح کے ساتھ دوسرے جنوبی ایشیائی ممالک کو پیچھے چھوڑدیا ہے۔

    باغی ٹی وی : عالمی بینک نے ساؤتھ ایشیاانڈیکس میں کہا کہ 2020-2022 کے دوران خطے کے دیگر ملکوں کے مقابلے میں پاکستان میں بیروزگاری کی شرح کم رہی۔عالمی بینک کے اعدادوشمارکے مطابق 2020-2022 میں جنوبی ایشیامیں بیروزگارآبادی کی سب سے کم شرح پاکستان میں4.3فیصدرہی۔

    اس کے برعکس بھارت میں اس دوران بیروزگاری کی شرح 8 فیصد،مالدیپ میں6.3فیصد،بنگلادیش میں 5.4 فیصد، بھوٹان میں5فیصد،سری لنکامیں5.9 فیصد اور نیپال میں4.7فیصدرہی۔

    صدرمملکت نے اور گورنر سندھ نے مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والی شخصیات کواعزازات سے نوازا


    اس ضمن میں وزیر اعظم عمران خان سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا ہے کہ ہماری حکومت نے ساؤتھ ایشیا کے تمام ملکوں سے بہتر انداز میں کورونا کا مقابلہ کیا کورونا وبا کے دوران معاملات کو بہتر طور پر سنبھالنے پر اپنی حکومت کو مبارک باد دیتا ہوں۔

    انہوں نے ورلڈ بینک کے اعداد و شمار شئیر کیے۔2020-2022 میں پہلے نمبر پر بے روزگاری کی شرح میں بھارت 8 اعشاریہ صفر پر رہا۔پاکستان 4 اعشاریہ 3 نمبر میں سب سے آخر پر ہے۔

    سپریم کورٹ بار اورجے یو آئی نے صدارتی ریفرنس کا تحریری جواب جمع کرا دیا

    دوسری جانب ترجمان پنجاب حکومت حسان خاور کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بے روزگاری کی شرح میں واضح کمی ہوگئی ،عالمی بینک کی رپورٹ نے ملکی معاشی استحکام کی نشاندہی کردی ،کراچی تا خیبر قوم کا ایک ہی نعرہ کپتان ہی لیڈر ہمارا گونج رہا ہے ،قوم کا مزاج دیکھ کر کرپٹ اپوزیشن کے اوسان خطا ہوچکے ہیں ،منڈیاں لگانے والی اپوزیشن کیلئے سرپرائز پہ سرپرائز تیار ہیں-

    اپوزیشن اپنے بچھائے ہوئے جال میں پھنس چکی ہے،شیخ رشید

  • غربت بے روزگاری وارداتوں کا باعث

    غربت بے روزگاری وارداتوں کا باعث

    قصور
    کوٹ رادہاکشن مہنگائی غربت یا انتظامی کمزوری تحصیل بھر میں کرائم کی شرح میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے جس شہری عدم تحفظ کا احساس کرنے لگے ہیں نا صرف تحصیل کوٹ رادہاکشن بلکہ ضلع بھر میں کرائم کی شرح میں زبردست اضافہ دیکھنے کو نظر آ رہا ہے اور شہری عدم تحفظ محسوس کرنے لگے ہیں خاص کر ڈکیتی اور چوری کے اضافے نے عوام کی نیندیں حرام کر دی ہیں جس کی بنیادی وجہ شاید بے روزگاری مہنگائی غربت یا انتظامی کمزوری ہے اور شہری حکومتی اداروں کی طرف امید لگائے بیٹھے ہیں سر شام ہی لوگ گھروں میں دبک کر بیٹھ جاتے ہیں تاہم اس کے باوجود وارداتوں کا نہ رکنے والا سلسلہ بدستور جاری ہے اگرچہ ڈی پی او قصور زاہد نواز مروت اس سلسلہ میں زبردست محنت کر رہے ہیں تاہم اس کے ابھی ثمرات واضع نظر نہیں آ رہے اس کی وجہ جرائم پیشہ افراد کے حوالے سے پولیس کا نرم رویہ بھی ہے جبکہ پولیس والوں کے مطابق عوامی سطح پر پولیس رویے کے متعلق منفی پروپگینڈے کی مہم نے پولیس مورال میں کمی واقع کی ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ پولیس مورال کو بلند کرنے کے لیے ملازمین میں عدم تحفظ احساس کے خاتمے کے لیے حکمت عملی اپنائی جائے تاکہ وہ زیادہ محنت لگن اور دلچسپی سے جرائم کے خاتمے کے لئے اپنا کردار ادا کر سکیں