Baaghi TV

Tag: تاج

  • مقابلہ حسن میں بیوی کا دوسرا نمبر آنے پر شوہر نے فاتح کا تاج ہی توڑ دیا

    مقابلہ حسن میں بیوی کا دوسرا نمبر آنے پر شوہر نے فاتح کا تاج ہی توڑ دیا

    برازیل میں ایک مقابلہ حسن کے دوران بیوی کا دوسرا نمبر آنے پر شوہر غصے میں اسٹیج پر پہنچ گئے مقابلے کی فاتح کا تاج چھین کر اسٹیج پر ہی توڑ دیا۔

    باغی ٹی وی : سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ برازیل میں مقابلہ حسن کے دوران فائنل میں پہنچنے والی نتھالی بیکر اور ایمانیولی بیلینی میں سے کسی ایک کو تاج پہنانے کیلئے ایک خاتون نتیجہ سنتی ہیں اور جیسے ہی فاتح کا فیصلہ ہوتا ہے تو وہ مقابلہ جیتنے والی ایمانیولی بیلینی کو تاج پہنانے لگتی ہیں کہ عین اسی وقت دوسرے نمبر پر آنے والی ماڈل نتھالی بیکر کے شوہر دوڑتے ہوئے اسٹیج پر آتے ہیں اورخاتون کے ہاتھ سے تاج چھین کر اسٹیج پر پھینک دیتے ہیں-

    بھارت میں مسلمانوں کو برا اورغلط سمجھنا فیشن بن چکا ہے،نصیر الدین شاہ


    ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ تاج کو پھینکنے کے بعد وہ اپنی بیوی کو ایک طرف کھینچتے ہوئے فاتح سے دور کرتے ہیں اور پھر سے تاج کو اٹھا کر مکمل طرح سے توڑ دیتے ہیں بعد ازاں انتظامیہ ماڈل اور اس کے شوہر کو اسٹیج سے لے جاتے ہیں-


    مقابلہ حسن کے منتظمین نے واقعے سے متعلق اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے اپنی “قانونی ٹیم” کو مجرمانہ واقعے کے بارے میں آگاہ کر دیا ہے اور ملوث شخص کے خلاف ضروری قانونی اقدامات کیے جائیں گےہم خاتون کے ساتھ بھی ہمدردی رکھتے ہیں کیونکہ وہ اپنے شوہر کے پاگل پن کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    شہناز گل کو کس نے بد تمیز قرار دیدیا ؟‌

  • آنجہانی ملکہ الزبتھ دوم کے تابوت پر شاہی تاج توجہ کا مرکز رہا

    آنجہانی ملکہ الزبتھ دوم کے تابوت پر شاہی تاج توجہ کا مرکز رہا

    ملکہ برطانیہ کو ونڈزر کیسل میں ان کے شوہر شہزادہ فلپ کے برابر میں سپرد خاک کر دیا گیا۔

    باغی ٹی وی : برطانیہ پر 70 برس تک حکمرانی کرنے والی ملکہ الزبتھ دوم کی آخری رسومات پیر کو سرکاری تدفین اور فوجی جلوس کے ساتھ ادا کر دی گئیں ملکہ برطانیہ کی آخری رسومات کی ادائیگی کے دوران ان کے تابوت پر رکھا شاہی تاج سب کی توجہ کا مرکز بنا رہا، شاہی تاج میں تقریباً تین ہزار قیمتی پتھر جڑے ہیں۔

    آنجہانی ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم کی آخری رسومات جاری

    امپیریل سٹیٹ کراؤن میں 2 ہزار 8 سو سے زائد ہیرے، 273 موتی، 17 نیلم، 11 زمرد اور 5 یاقوت شامل ہیں۔ تاج میں 317 قیراط وزنی — کلینن ٹو– نامی ہیرا اور کوہ نور ہیرا بھی شامل ہے جسے افریقہ کا دوسرا ستارہ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ اب تک ملنے والے ہیروں میں سب سے بڑے ہیرے سے کاٹا گیا تھا۔

    تاج 1937ء میں ملکہ الزبتھ کے والد شاہ جارج ششم کی تاجپوشی کے لیے بنایا گیا تھا۔ امپیریل سٹیٹ کراؤن کا وزن دو اعشاریہ تین پونڈ ہے۔ ملکہ الزبتھ دوم ہر سال پارلیمنٹ کے افتتاحی اجلاس کے موقع پر یہ تاج پہن کر تقریر کرتی تھیں۔

    واضح رہے برطانیہ پر سب سے طویل عرصے تک حکمرانی کرنے والی ملکہ الزبتھ دوم 96 برس کی عمر میں 8 ستمبر کو بیلمورل میں وفات پا گئی تھیں۔

    ملکہ کو سینٹ جارج چیپل ونڈزر میں ان کے شوہر شہزادہ فلپ کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا۔ یہاں ان کے والد بادشاہ جارج ششم، ان کی ماں اور بہن شہزادی مارگریٹ کی بھی مدفن ہیں۔

    ملکہ برطانیہ کی تقریب 125 سینما گھروں میں براہ راست دکھائی جائے گی

    ملکہ کی آخری رسومات میں ویسٹ منسٹر ایبی میں دعائیہ تقریب ہوئی۔ تقریب میں شاہ چارلس سوم اور برطانوی شاہی خاندان کے علاوہ عالمی رہنما اور دیگر ممالک کے شاہی خاندانوں کے افراد شامل تھے۔

    تقریب کےبعدشاہ چارلس نےملکہ کے پرچم کو تابوت پر رکھا، لارڈ چیمبرلین نے اپنی سرکاری چھڑی توڑکرتابوت پررکھی تقریب کے اختتام پر دو منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی اور برطانوی ترانہ چلایا گیا ملکہ کی آخری رسوما ت میں برطانیہ بھر سے 10 لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی دعائیہ تقریب کے بعد ان کے تابوت کو ونڈزر کیسل لے جایا گیا۔ جہاں سینٹ جارج چیپل میں تابوت رائل والٹ میں اتار دیا گیا

    اس کو برطانوی عصری تاریخ کا سب سے بڑا سکیورٹی آپریشن کہا جا سکتا ہے۔ ملکہ کی آخری رسومات میں مہمانوں کی بڑی تعداد میں شرکت اور دس روز پر محیط آخری رسومات کی پیچدہ ترین تقریبات کو اعداد و شمار کے آئینہ میں بہتر سمجھا جا سکتا ہے لندن میں اتنی بڑی تقریب غیر معمولی سکیورٹی چیلنج تھی۔

    پیر کے روز یہ شاہی جنازہ جسے استعاراتی طور پر صدی کا جنازہ کہا جارہا تھا میں لندن کی سڑکوں پر لاکھوں افراد شریک ہو ئے تھے اس تقریب میں ملکہ کے جسد خاکی کے ساتھ دنیا بھر سے آئے لاکھوں افراد امڈ پڑے تھے دس روزہ آخری رسومات کے دوران ملکہ کے آخری دیدار کیلئے لمبی قطاریں دیکھی گئیں۔

    ملکہ برطانیہ کو پوتے، پوتیوں کی جانب سے خراج عقیدت

    ویسٹ منسٹر کے ہال میں سرکاری طور پر آخری رسومات میں شرکت کیلئے آنے والے معزز اور اعلی شخصیات کی تعداد 2000 تھی عالمی شخصیات میں امریکی صدر بائیڈن، امریکی خاتون اول جل بائیڈن بھی شامل تھے انہوں نے اتوار کو ویسٹ منسٹر ہال میں برطانوی ملکہ کے تابوت کو الوداع بھی کیا تھاونڈزر محل کے سینٹ جارج چیپل میں ہونے والی تقریب میں 800 مہمان شریک تھے-

    5949 فوجی اہلکار اس تقریب کے دوران مختلف مقامات پر بکھرے ہوئے تھے آخری رسومات 8 ستمبر کو ملکہ کی وفات پر سکاٹ لینڈ کے علاقے بالمور میں ملکہ کی موت سے شروع ہوئی تھیں جس میں فوجی اہلکاروں کی یہ تعداد موجود رہی۔

    ان فوجیوں میں 4416 بری، 847 بحری اور 686 فضائی افواج کے اہلکار شامل تھے دولت مشترکہ ممالک کی افواج کے 175 اہلکاروں نے بھی اس تقریب میں شرکت کی تھی-

    ملکہ کے تابوت کو ویسٹ منسٹر سے ولنگٹن آرچ تک لے جانے کی پر وقار تقریب میں 1650 فوجی شریک ہوئے تابوت ونڈسر پہنچا تو مزید ایک ہزار اہلکار جلوس کے راستے میں سڑکوں پر تعینات ہوئے اور 410 جلوس میں شریک تھے۔ 480 سڑکوں پر لگی قطاروں میں شامل تھے 150 اہلکار آنر گارڈ میں شامل اور 130 اہلکاروں نے دیگر سرگرمیوں میں حصہ لیا تھا-

    اس دوران 10 ہزار سے زیادہ پولیس اہلکاروں نے "انتہائی پیچیدہ” پولیسنگ کا کام انجام دیا تھا یہ پیچیدہ آپریشن لندن پولیس کی تاریخ میں سب سے بڑا آپریشن تھا پولیس کی اتنی بڑی تعداد 2012 کے لندن اولمپکس میں بھی استعمال میں نہیں لائی گئی تھی۔

    شہزادہ ہیری اور میگھن کے بچے شاہی القاب سے محروم رہیں گے

    لندن کے ٹرانسپورٹ حکام کا کہنا تھا کہ پیر کے روز 10 لاکھ افراد کے لندن میں آنے کی توقع ہے۔ اس موقع پر 250 اضافی ٹرینیں لوگوں کی سفر کی سہولت فراہم کرنے کیلئے چلائی جائیں گی۔

    ویسٹ منسٹر ہال میں ملکہ کے تابوت کے سامنے صف بند ہونے والی قطار کی طوالت 8 کلومیٹر رہی۔ یہ قطار دریائے ٹیمز سے لیکر ساؤتھ وارک پارک تک پھیلی ہوئی تھی اس جنازے کو براہ راست نشر کرنے کے لیے 125 سینما گھر وں میں دکھایا گیا تھا –

    قطار میں کھڑے بہت سے لوگ رو رہے تھے اور دعائیں مانگ رہے تھے۔ کچھ افراد نے سرجھکایا ہوا تھا، اس موقع پر کئی افراد تو گھٹنوں کے بل گر گئے۔

    اس موقع پر اہم عالمی شخصیات نے بالکونی میں کھڑے ہوکر خاموشی اختیار کی۔ لندن سے تعلق رکھنے والے 54 سالہ گیری تھامسن نے بتایا میں شدید حیران تھا کہ یہاں کتنے لوگ آگئے ہیں یہ واقعی ناقابل یقین تھا۔

    ملکہ الزبتھ دوم کی وفات کے بعد برطانیہ نے دس دنوں تک ترتیب سے تیار واقعات کی میزبانی کی ہے۔ آخری رسومات کا یہ انداز برطانوی شاہی خاندان کی ایک ہزار سال روایات کی عکاسی کرتا ہے۔

    اتوار کو جی ایم ٹی وقت کے مطابق شام ساتھ بجے ویسٹ منسٹر ہال کے اوپر بگ بین کی آواز کے ساتھ ہی ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔

    ملکہ برطانیہ کا کفن تھامنےکی کوشش کرنے والے شخص گرفتار

    لندن پولیس نے جنازے کو اب تک کا سب سے بڑا سیکورٹی آپریشن قرار دے دیا۔ پولیس نے بتایا تھا کہ اس نے اپنے اہلکاروں کو جلوسں کے راستوں اور ویسٹ منسٹر ایبے کے قریب اہم مقامات پر تعینات کیا ہے یہ وہ مقامات ہیں جہاں 1066 میں ولیم اول کے دور سے لیکر اب تک برطانوی بادشاہوں اور ملکہ کی تاجپوشی کی گئی، شاہی شخصیات کی شادیاں ہوئیں اور ان کی تدفین کی گئی 1965میں سابق وزیر اعظم ونسٹن چرچل کی موت کے بعد سے برطانیہ نے اتنے بڑے پیمانے پر کسی سرکاری جنازے کا انتظام نہیں کیا ۔

    یاد رہے کہ برطانیہ پر سب سے طویل عرصے تک حکمرانی کرنے والی ملکہ الزبتھ دوم 96 برس کی عمر میں 8 ستمبر کو بیلمورل میں وفات پا گئی تھیں۔

  • کوہِ نور!! وہ ہیرا جو سب کو چاہیے — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    کوہِ نور!! وہ ہیرا جو سب کو چاہیے — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    کچھ دن قبل برطانیہ کی ملکہ الزبتھ کی وفات کے بعد سوشل میڈیا پر یہ مہم زور پکڑ رہی ہے کہ برطانیہ کو کوہِ نور ہیرا برصغیر کو واپس کرنا چاہئے۔

    کوہِ نور کا ہیرا دنیا کے مہنگے ترین ہیروں میں شمار ہوتا ہے۔ اسکی قیمت کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ کچھ ہیرا شناس اسے انمول کہتے ہیں۔ مگر بعض اندازوں کے مطابق اسکی قیمت تقریباً 400 ملین ڈالر تک ہو سکتی ہے۔ یعنی آئی ایم ایف کی پاکستان کو موجودہ قسط کا تقریباً آدھا حصہ۔

    کوہِ نورفارسی کا لفظ ہے جسکے معنی ہیں روشنی کا پہاڑ۔ اس ہیرے کو کب دریافت کیا گیا۔ اسکا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ اس حوالے سے کئی مفروضے قائم ہیں۔مگر غالباً اسے بارویں یا تیرویں صدی میں بھارت کی دکن کے قریب کانوں سے دریافت کیا گیا۔

    یہ ہیرا موجودہ حالت میں تقریباً 105.6 کیرٹ ہے مگر اس سے پہلے یہ 186 کیرٹ تھا۔ اسے بیسویں صدی میں تراش کر اسکی خوبصورتی میں اضافہ کیا گیا۔ اسکا وزن اس وقت تقریبا 21.2 گرام ہے۔

    یہ ہیرا مغلوں کے پاس بھی تھا کیونکہ اسکا ذکر 1526 میں بابر کی لکھی گئی سوانح حیات تزکِ بابری میں بھی ہے۔مگر بعض محقیقین کا خیال ہے کہ تزک بابری میں اس ہیرے کا ذکر نہیں کسی اور پتھر کا ذکر ہے۔ اور یہ ہیرو دراصل بابر کے بیٹے ہمایوں کو گوالیارہ کے گورنر نے پہلی پانی پت کی لڑائی کی جیت کی خوشی میں تحفتاً دیا۔

    1739 میں جب ایران سے آئے حملہ آوار نادر شاہ نے دیلی پر قبضہ کیا تو اسکے سامنے یہ ہیرا لایا گیا جس نے اسے کوہِ نور کا نام دیا۔ نادر شاہ کی وفات کے بعد اُسکے افغانستان سے آئے جرنیل احمد شاہ درانی نے دہلی پر سلطنت قائم کی اور ہیرا درانی سلطنت میں رہا۔ 1813 میں سکھوں کے درانی سلطنت کے خاتمے پر آخری درانی بادشاہ شاہ شجا کو بھارت سے بھاگنا پڑا اور یہ ہیرا بطور تحفہ راجہ رنجیت سنگھ کو دینا پڑا۔ یہ ہیرا رنجیت سنگھ سے مہاراجہ دلیپ سنگھ کو ملا۔

    جب انگریزوں نے 1849 میں سکھ انگریز جنگ کے اختتام پر پنجاب ہر قبضہ کیا تو یہ ہیرا اُنکے ہاتھ لگا اور اسے ممبئی سے جہاز پر انگلیڈ بھیج دیا گیا جہاں اسے 1850 میں ملکہ برطانیہ کو پیش کیا گیا۔ یوں یہ ہیرا کئی ہاتھ بدلتے بلآخر برطانوی شاہی خاندان کے قبضے میں چلا گیا۔

    وہاں اسکو ماہر ڈچ جوہریوں نے تراش خراش سے مزید نکھارا اور موجودہ شکل میں لے آئے۔

    آج کوہ نور کو تاجِ برطانیہ کا تاج کہا جاتا ہے۔ مگر اسکی ملکیت پر بھارت اور پاکستان کے علاوہ افغانستان اور ایران بھی دعوی کرتے ہیں۔ ماضی میں اسے بھارت لانے کے لیے کئی کوششیں کی گئی۔ 1976 میں اُس وقت کے پاکستانی وزیراعظم ذولفقار علی بھٹو نے بھی اسے پاکستان کو واپس کرنے کی درخواست کی۔ آج بھارت میں اسے واپس بھارت لانے کے لیے کئی سماجی اور حکومتی شخصیات قانونی چارہ جوئی کر رہی ہیں مگر فی الحال برطانوی حکومت یا پرطاموی شاہی خاندان اسے دینے سے انکاری ہے۔