فرانس کے دارالحکومت پیرس کے قریب واقع تاریخی فونٹین بلو جنگل میں لگنے والی شدید آگ پر قابو پانے کے لیے 400 سے زائد فائر فائٹرز رات بھر کارروائی میں مصروف رہے، جبکہ حکام نے آگ بجھانے کے لیے 2 واٹر بمبار طیارے بھی طلب کر لیے ہیں۔
فرانسیسی حکام کے مطابق جنگل میں آگ ایک ہائی وے کے قریب شروع ہوئی، جو دیکھتے ہی دیکھتے تیز گرم ہواؤں کے باعث بڑے علاقے تک پھیل گئی آدھی رات تک آگ نے 800 ہیکٹر (تقریباً 1980 ایکڑ) سے زائد رقبے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔
فونٹین بلو جنگل پیرس سے تقریباً 70 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور یہ فرانس کے مشہور تاریخی مقامات میں شمار ہوتا ہے اسی علاقے میں واقع شاہی محل ماضی میں فرانسیسی بادشاہوں کی شکار گاہ اور خزاں کے موسم کی رہائش گاہ کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہےآتشزدگی کے باعث پیرس کو فرانس کے شہر لیون اور جنوبی علاقوں سے ملانے والی اہم اے 6 ہائی وے کو بند کرنا پڑا اس کے علاوہ علاقے میں لگنے والی چھوٹی نوعیت کی دیگر آگ کے باعث تیز رفتار ٹرین سروس بھی متاثر ہوئی۔
فرانسیسی فائر سروس نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ آگ بجھانے کی کارروائی جاری ہے حکام نے مقامی آبادی کو خبردار کیا ہے کہ آگ پر قابو پانے کے لیے استعمال ہونے والے کینیڈائر واٹر بمبار طیارے دریائے سین سے پانی حاصل کریں گے، جو پیرس کے وسط سے گزرتا ہے۔
ماہرین ماحولیات کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے باعث شدید گرمی، خشک سالی اور گرم ہواؤں میں اضافہ ہو رہا ہے، جو جنگلات میں آگ لگنے کے خطرات کو بڑھا رہا ہے حالیہ عرصے میں فرانس، اسپین، پرتگال اور یونان کے مختلف علاقوں میں جنگلاتی آگ نے ہزاروں ہیکٹر رقبے کو متاثر کیا ہے۔
اسپین کے جنوب مشرقی صوبے المیریا میں لگنے والی ایک بڑی آگ سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد بھی بڑھ کر 13 ہوگئی ہے حکام کے مطابق حالیہ دنوں میں ایک 93 سالہ برطانوی خاتون جھلسنے کے باعث جان کی بازی ہار گئی۔
