Baaghi TV

Tag: تاریخ

  • 20 مارچ  تاریخ کے آئینے میں

    20 مارچ تاریخ کے آئینے میں

    20 مارچ تاریخ کے آئینے میں

    1602 – متحدہ ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی کا قیام۔

    1739 – نادر شاہ نے دہلی سلطنت پر قبضہ کیا۔

    1814 ء – پرنس ولیم فریڈرک نیدرلینڈ کا حکمران بنا۔

    1904 – سی ایف اینڈریوز مہاتما گاندھی کے ساتھ تحریک آزادی میں شامل ہونے ہندوستان آئے تھے۔

    1916 – البرٹ آئن اسٹائن کی کتاب جنرل تھیوری آف ریلیٹیویٹی شائع ہوئی۔

    1920 – لندن سے جنوبی افریقہ کے لئے پہلی پرواز شروع ہوئی۔

    1956 – تیونس کو فرانس سے آزادی ملی۔

    1956 – سوویت یونین نے نیوکلائی تجربہ کیا۔

    1977 – سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کو لوک سبھا انتخابات میں شکست ہوئی۔

    1981 – ارجنٹینا کے سابق صدر اسابیل پیرن کو آٹھ سال کی سزا سنائی گئی۔

    1991 ء – بیگم خالدہ ضیا بنگلہ دیش کی صدر منتخب ہوئیں ۔

    2003 – امریکہ نے عراق پر حملہ شروع کیا۔

    1739ء نادر شاہ نے دہلی پر قبضہ کیا۔

    1956ء تیونس نے فرانس سے آزادی حاصل کی۔

    2008ء جنوبی وزیرستان میں فوجی کیمپ کے باہر خودکش حملہ، 5 اہلکار جاں بحق اور 11 زخمی۔

    1969ء امریکی صدر رچرڈ نکسن نے ویتنام سے 1970 میں جنگ ختم کرنے کا اعلان کیا۔

    20مارچ 2001ء کو حبیب بنک اے جی زیورخ کے قیام کی چونتیسویں سالگرہ کے موقع پر پاکستان کے محکمہ ڈاک نے پانچ روپے مالیت کا ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔ اس ڈاک ٹکٹ پرحبیب بنک اے جی زیورخ کے صدر دفتر کی تصویر اور اس کا لوگوشائع کیا گیا تھا اور انگریزی میں HABIB BANK A.G. ZURICH (INCORPORATED IN SWITZERLAND) کے الفاظ تحریر کیے گئے تھے ۔ ان ڈاک ٹکٹوں کا ڈیزائن عبداللہ صدیقی نے تیار کیا تھا۔

    20مارچ2014ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے پاکستان کے نامور سپوت ایم ایم عالم کی یاد میں ایک ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔ اس ڈاک ٹکٹ پرجناب ایم ایم عالم اور انہیں عطا کیے جانے والے ستارہ جرأت کے اعزازات کی ایک خوب صورت تصویر شائع کی گئی تھی۔ آٹھ روپیہ مالیت کا یہ ڈاک ٹکٹ عادل صلاح الدین نے ڈیزائن کیا تھااوراس پر انگریزی میں Air Commodore (R) M.M.Alam SJ(with bar) کے الفاظ تحریر تھے۔

  • 17 مارچ  تاریخ کے آئینے میں

    17 مارچ تاریخ کے آئینے میں

    17 مارچ تاریخ کے آئینے میں

    1672ء انگلینڈ نے ہالینڈ کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا، 1824ء انگلینڈ اور ہالینڈ کے درمیان تجارتی معاہدہ طے ہوا۔

    1911ء۔۔قائداعظم کی پارلیمانی زندگی کے اوائل میں مسلم اوقاف کے بل کی منظوری کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ انہوں نے یہ بل 17 مارچ 1911ء کو امپیریل لیجسلیٹو کونسل میں پیش کیا تھا اور دو سال کی جدوجہد کے بعد یہ بل 1913ء میں منظور کروایا تھا۔ قائداعظم نے یہ بل ایک وکیل کی طرح پیش کیا اور پرزور الفاظ میں مطالبہ کیا کہ مسلمانوں کے مسائل کے لیے اسلامی شرع نافذ کی جائے اور مسلمان شہری اپنی شرع کے مطابق اپنی جائیداد اپنی اولاد کو وقف کرسکیں، اسلامی شرع کے مطابق وقف شدہ جائیداد خاندان کے کسی ایک فرد کے اسراف یا نااہلی کی وجہ سے برباد نہیں ہوسکتی اور اس کے مالک نسلاً بعد نسلاً اس کے مستفید ہوتے رہتے ہیں، یہ بل 1913ء میں منظور ہوا۔ قانون سازی میں یہ قائداعظم کی پہلی ذاتی کامیابی تھی، ان کی اس کامیابی پر داد دیتے ہوئے مسز سروجنی نائیڈو نے کہا: ’’اس کارنامے کے باعث پہلی مرتبہ مسٹر جناح کو سارے ملک کے مسلمانوں کا اعتراف میسر آیا۔ ان کے اکثر ہم مذہب انہیں راسخ العقیدہ مسلمان نہیں سمجھتے لیکن ان کے اس کارنامے کے کچھ ہی عرصے بعد وہ سیاسی مشورے اور رہنمائی کے لیے ان سے رجوع کرنے لگے۔

    1932ء میں جرمن پولیس نے ہٹلر کے ہیڈ کوارٹر پر چھاپا مارا۔

    1984ء۔۔ پاکستان کے محکمہ ڈاک نے اسکواش کے عظیم کھلاڑی جہانگیر خان کی تصویر سے مزین ایک خوب صورت ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔3 روپے مالیت کا یہ یادگاری ڈاک ٹکٹ عادل صلاح الدین نے ڈیزائن کیا تھا۔ جہانگیر خان سے پہلے ہاکی کے مشہور کھلاڑی اسد ملک کی تصویر 30 جنوری 1969ء کو میکسیکو اولمپکس میں طلائی تمغہ جیتنے کی خوشی میں جاری ہونے والے یادگاری ڈاک ٹکٹ پر شائع ہوچکی تھی تاہم اس ٹکٹ پر ان کا نام طبع نہیں ہوا تھا۔ واضح رہے کہ اسد ملک اور جہانگیر خان کے علاوہ عمران خان کی تصویر بھی پاکستان کے ڈاک ٹکٹ پر طبع کی جاچکی ہے۔

    1996ء قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلے گئے عالمی کرکٹ کپ کے فائنل میں سری لنکا نے آسٹریلیا کو 7 وکٹ سے ہرا دیا۔

    2008ء نو منتخب قومی اسمبلی نے 1973ء کےآئین کے تحت حلف اٹھا لیا۔

    2008ء مینگورہ پولیس لا‎ئنز میں مبینہ خودکش حملہ، 3 اہلکار شہید اور 6 زخمی ہو گئے۔

    2009ء افتخار محمد چوہدری سمیت تمام معزول جج بحال ہو گئے۔

    2009ء ۔۔ وزیراعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی نے پاکستانی طالب علم علی معین نوازش سے ملاقات کی۔ علی معین نوازش نے گزشتہ برس کیمبرج یونیورسٹی کے اے لیول کے24 مضامین میں سے 22 مضامین میں اے گریڈ حاصل کرکے عالمی ریکارڈ قائم کیا تھا۔ علی معین نوازش راولپنڈی روٹس کالج انٹرنیشنل کے طالب علم تھے۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے علی معین نوازش سے ملاقات کے دوران انہیں دس لاکھ روپے نقد اورصدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی دینے کا اعلان کیا جو انہیں 23 مارچ 2009ء کو پیش کیا گیا۔

    2013ء۔۔عزیر بلوچ نے لیاری میں ارشد پپو کو قتل کرنے کے بعد اس کے سر سے فٹ بال کھیلی تھی۔

    تعطیلات و تہوار :
    ۔””””””””””””””

    سینٹ پیٹرک ڈے

    1861ء اٹلی نے آزادی کا اعلان کیا۔

  • 04 مارچ  تاریخ کے آئینے میں

    04 مارچ تاریخ کے آئینے میں

    04 مارچ تاریخ کے آئینے میں

    1665ء برطانوی بادشاہ چارلس دوم نے ہالینڈ سے جنگ کا اعلان کیا۔

    1789ء امریکی کانگریس نے امریکی آئین کی منظوری دی۔

    1791ء ورماؤنٹ امریکہ کی چودہویں ریاست بنا۔

    1861ء ابراہم لنکن نے امریکہ کے سولہویں صدرکی حیثیت سے سنبھالا۔

    1861ء امریکا کا پہلا قومی پرچم بنایا گیا۔

    1894ء شنگھائی میں بڑے پیمانے پر آتشزدگی سے ایک ہزار سے زائد عمارتیں راکھ کا ڈھیر بن گئیں۔

    1945ء فن لینڈ نے جرمنی سے جنگ کا اعلان کیا۔

    1945ء برطانیہ میں شہزادی ایلزبتھ نے بطور ڈرائیور برطانوی افواج میں شمولیت اختیار کی جو بعد میں ملکہ الزبتھ دوم بنیں۔

    1956ء واحد صدارتی امیدوار اسکندر مرزا پاکستان کے صدر منتخب ہوئے۔

    1962ء پہلے امریکی ایٹمی پاور پلانٹ نے انٹارکٹیکا میں کام شروع کیا۔

    1977ء رومانیہ میں زلزلہ سے ایک ہزار پانچ سو اکتالیس افراد ہلاک ہو گئے۔

    2008ء لاہور کے بحریہ وار کالج کی پارکنگ میں خودکش حملہ، 3 اہلکاروں سمیت 5 شہید، 11 زخمی ہو گئے۔

    04 مارچ کو پیدا ہونے والی چند مشہور شخصیات

    1325ء۔۔۔حضرت خواجہ نظام الدین اولیا ٭ برصغیر پاک و ہند کے عظیم بزرگ سلطان المشائخ محبوب الٰہی حضرت نظام الدین اولیاء27صفر المظفر 636ہجری بمطابق 9اکتوبر 1238ء کو بدایوں میں پیدا ہوئے۔ حضرت خواجہ نظام الدین اولیا کا اصل نام محمد تھا اور آپ کاسلسلہ نسب حضرت علی تک پہنچتا ہے۔ مولانا علاء الدین اصولی سے قرآن پاک پڑھا اور مزید تعلیم کی حصول کے لیے دہلی پہنچے جہاں آپ نے مولانا شمس الدین وامغانی، مولانا کمال الدین اور مختلف مشاہیر سے مختلف علوم کی تحصیل کی ۔ 20 برس کی عمر میں آپ بابا فرید گنج شکرؒ کی خدمت میں پاکپتن پہنچے جنہوں نے آپ کو اپنا خلیفہ مقرر کیا۔ بابا صاحب نے آپ کو جو نصائح اور ہدایات فرمائیں ان کی تفصیل آپ کی تصنیف راحت القلوب میں درج ہیں۔ حضرت خواجہ نظام الدین اولیا کے مریدین میں حضرت امیرخسرو کا نام سرفہرست ہے ۔ حضرت خواجہ نظام الدین اولیا کی تاریخ وصال 4 مارچ 1325ء مطابق 18 ربیع الاول 725 ہجری ہے۔ آپ کا مزار دہلی میں ہے، جہاں ہر سال لاکھوں زائرین حاضری دیتے ہیں۔ آپ سلسلہ نظامیہ کے بانی ہیں جو سلسلہ چشتیہ کی ایک شاخ ہے۔ آپ کی تصانیف میں فوائد الفواد، فصل الفواد، راحت المحبین اور سیر الاولیا کے نام سرفہرست ہیں

    1769ء محمد علی پاشا ، مصری فوجی و سیاستدان ، آلِ محمد علی کی سلطنت کے (18 جون 1805ء تا 20 جولائی 1848ء) پہلے بادشاہ اور جدید مصر کے بانی تھے۔ وہ مصر کے خدیو یا والی تھے۔ محمد علی موجودہ یونان کے شہر کوالا میں ایک البانوی خاندان میں پیدا ہوئے۔ نوجوانی میں تجارت سے وابستہ ہونے کے بعد وہ عثمانی فوج میں شامل ہو گئے۔ (وفات: 3 اپریل 1849ء)

    1811ء جان لارنس ، برطانوی سیاستدان و شاہی ریاستکار (12 جنوری 1864ء تا 12 جنوری 1869ء) 25واں گورنر جنرل اور وائسرائے ہند۔ (وفات: 27 جون 1879ء)

    1882ء سر رالف گرفتھ ، انگریز سفارتکار ، برطانوی ہندوستان میں ایڈمنسٹریٹر تھے اور موجودہ پاکستانی صوبے این ڈبلیو ایف پی (خیبر پختونخوا) کے (1931ء تا 1932ء) پہلےچیف کمشنر اور (1932ء تا 1937ء) پہلے گورنر (وفات: 11 دسمبر 1963ء)

    1899ء مہاراج غلام حسین کتھک ، صدارتی اعزاز برائے حسن کارکردگی و نگار ایوارڈ یافتہ پاکستان کے معروف کلاسیکی رقاص و معلم (وفات: 29 جون، 1998ء)

    1916ء خورشید جہاں بمعروف بیگم خورشید مرزا ، تقسیم ہند سے قبل فلمی ہیروئن اور مشہور پاکستانی اداکارہ، آپ بیتی نگار و سماجی کارکن۔٭4 مارچ 1918ء بھارت کی سابق فلمی اداکارہ اور پاکستان ٹیلی وژن کی ممتاز فنکارہ بیگم خورشید مرزا کی تاریخ پیدائش ہے۔ بیگم خورشید مرزا کا اصل نام خورشید جہاں تھا اور ان کا تعلق علی گڑھ کے ایک ممتاز گھرانے سے تھا۔ ان کے والد شیخ عبداللہ نے علی گڑھ میں مسلم گرلز کالج کی بنیاد رکھی تھی اور ان کی بڑی بہن ڈاکٹر رشید جہاں انجمن ترقی پسند مصنّفین کی بانیوں میں شامل تھیں۔ ان کی دیگر بہنیں بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ تھیں۔ خورشید جہاں کی شادی، سترہ برس کی عمر میں ایک پولیس آفیسر اکبر حسین مرزا سے ہوئی۔ خورشید جہاں کے بھائی محسن عبداللہ بمبئی میں دیویکارانی اور ہمانسورائے کے فلمی ادارے بمبئی ٹاکیز سے وابستہ تھے۔ ان کے توسط سے جب دیویکا رانی کی ملاقات خورشید جہاں سے ہوئی تو انہوں نے انہیں اپنی فلموں میں اداکاری کی دعوت دی۔ یوں خورشید جہاں نے رینوکا دیوی کے نام سے فلموں میں کام کرنا شروع کردیا۔ ان کی مشہور فلموں میں جیون پربھات، بھابی، نیا سنسار اور غلامی شامل تھیں۔ قیام پاکستان کے بعد خورشید جہاں، جو اب بیگم خورشید مرزا بن چکی تھیں پاکستان آگئیں اور انہوں نے یہاں ریڈیو اور ٹیلی وژن کے متعدد ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے اور ریڈیو کے کئی پروگراموں کی کمپیئرنگ بھی کی۔ ٹیلی وژن پر ان کی مشہور سیریلز میں کرن کہانی، زیر زبر پیش،انکل عرفی، پرچھائیں، رومی،افشاں اور انا کے نام سرفہرست ہیں۔ اس کے علاوہ ڈرامہ ماسی شربتے میں بھی ان کا کردار بڑا یادگار سمجھا جاتا ہے۔1984ء میں حکومت پاکستان نے انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔ بیگم خورشید مرزا کی سوانح عمری A Woman of Substance کے نام سے شائع ہوچکی ہے جو ان کی صاحبزادی لبنیٰ کاظم نے تحریر کی ہے۔ 8 فروری 1989ء کو بیگم خورشید مرزا لاہور میں وفات پاگئیں اور میاں میر کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔

    1918ء محمد بن عبد العزیز آل سعود ،سعودی عرب کے حکمران خاندان آلِ سعود کے اہم رکن، سیاستدان اور (2 نومبر 1964ء تا 29 مارچ 1965ء) ولی عہد سلطنت ، اپنے چھوٹے بھائیوں خالد بن عبدالعزیز آل سعود اور فہد بن عبدالعزیز آل سعود کے قریبی اور طاقتور معتمد اور مشیر (وفات: 26 نومبر 1988ء)

    1922ء دینا پاٹھک ، بھارتی اداکارہ اور گجراتی تھیٹر کی ڈائریکٹر (وفات: 11 اکتوبر 2002ء)

    1932ء سلیم رضا پرانا نام نوئیل دیاس، پاکستانی گلوکار (وفات: 25 نومبر 1983ء)

    1932ء میریم مکیبا ، جنونی افریقی اداکارہ و گلو کارہ (وفات: 9 نومبر 2008ء)

    1934ء ڈاکٹر حسن منظر ، پاکستانی ماہر نفسیات اور افسانہ نگار

    1935ء ڈاکٹر محمد ریاض ، پاکستانی سے تعلق رکھنے والے اردو اور فارسی ادیب، محقق، ماہرِ اقبالیات اور ماہرِ تعلیم (وفات: 26 نومبر 1994ء)

    1938ء الفا کوندے ، جمہوریہ گنی کے سیاست دان و مصنف ، وہ دسمبر 2010ء سے جمہوریہ گنی کے صدر اور 30 جنوری 2017 ء تا 28 جنوری 2018ء) سربراہ افریقی اتحاد ۔

    1945ء امیرالملک مینگل ، بلوچستانی وکیل، منصف ، (21 نومبر 1996ء تا 17 اپریل 1997ء) چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ اور (8 اپریل 1997ء تا 22 اپریل 1997ء نگران اور 21 اکتوبر 1999ء تا یکم فروری 2003ء) 18ویں گورنر بلوچستان

    1965ء خالد حسینی ، افغان نژاد امریکی ناول نگار اور طبیب

    1968ء غلام محمد لالی ، پاکستانی سیاست دان ، (یکم جون 2013ء تا 31 مئی 2018ء) پنجاب کے حلقہ این اے۔87 (NA-87 (Jhang-II) سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر ممبر چودھویں قومی اسمبلی رہے۔

    1970ء اینڈریا بینڈیوالڈ ، امریکی ٹیلی ویژن اداکارہ

    1973ء تارا ، بھارتی فلمی اداکارہ

    1980ء کملینی مکھرجی ، بھارتی فلمی اداکارہ

    1987ء شاردھا داس ، بھارتی فلمی اداکارہ

    1990ء اینڈریا بون ، امریکی فلمی اداکارہ

    1998ء سعدیہ گل ، بنوں سے تعلق رکھنے والے پاکستانی پیشہ ور اسکواش کھلاڑی

    1932ء۔۔۔٭پاکستان کی مشہور اداکارہ، ملکہ جذبات، نیر سلطانہ کی تاریخ پیدائش 4 مارچ 1932ء ہے۔ نیر سلطانہ کا اصل نام طیبہ خاتون تھا اور وہ علی گڑھ میں پیدا ہوئی تھیں۔ ان کی پہلی فلم ہدایت کار انور کمال پاشا کی قاتل تھی جو 1955ء میں نمائش پذیر ہوئی۔ اس فلم میں انہوں نے نازلی فرح کے نام سے کام کیا تھا بعدازاں فلم ساز اور ہدایت کار ہمایوں مرزا نے انہیں نیر سلطانہ کا نام دیا اور اپنی فلم انتخاب میں بطور ہیروئن منتخب کیا۔ نیر سلطانہ کی اصل شہرت کا آغاز فلم سات لاکھ سے ہوا۔ انہوں نے مجموعی طور پر 216 فلموں میں کام کیا جن میں 140 فلمیں اردو میں، 49 فلمیں پنجابی میں، ایک فلم سندھی میں اور 6 فلمیں پشتو میں بنائی گئی تھیں۔ نیر سلطانہ کی یادگار ترین فلموں میں سہیلی، اولاد، گھونگھٹ، باجی، ثریا، ماں کے آنسو اور ایک مسافر ایک حسینہ کے نام سرفہرست تھے۔ انہوں نے پاکستان کے مشہور اداکار درپن سے شادی کی تھی جو پاکستان کی فلمی صنعت کی کامیاب ترین شادیوں میں شمار ہوتی ہے۔ 27 اکتوبر 1992ء کو نیر سلطانہ کراچی میں وفات پاگئیں اور لاہور میں مسلم ٹائون کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئیں۔

  • 02 مارچ کو وفات پانے والی چند مشہور شخصیات

    02 مارچ کو وفات پانے والی چند مشہور شخصیات

    02 مارچ کو وفات پانے والی چند مشہور شخصیات

    274ء مانی ، پارتھیا ساسانی سلظنت فارس سے تعلق رکھنے والا ایرانی جس نے مانویت کی بنیاد رکھی۔ آج یہ مذہب باقی نہیں لیکن ایک زمانے میں اس کے پیروکاروں کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ یہ مذہب قدیم مذاہب کا دلچسپ امتزاج تھا۔ مانی کے مطابق زرتشت، گوتم بدھ اور یسوع مسیح (عیسیٰ ؑ ) پیغمبر تھے لیکن اس کی صورت میں یہ ایک ہی مذہب میں اب مکمل ہو گیا ہے۔ یہ مذہب قریب ایک ہزار سال تک قائم رہا۔ (پیدائش: 216ء)

    1845ء رام چندر ودیاباگیش ، ہندوستانی مصنف، سنسکرت کے اسکالر و پروفیسر ، وہ 1817ء میں شائع شدہ پہلی یک لسان بنگالی لغت ”بنگ بھاشابھیدان“ لکھنے کے لیے مشہور ہیں۔ (پیدائش: 1786ء)

    1992ء سینڈی ڈینس ، امریکی فلمی اداکارہ (پیدائش: 27 اپریل 1937ء)

    2007ء بدر میانداد ، پاکپتن سے تعلق رکھنے والے پاکستانی قوال، بدر میاں داد معروف قوال نصرت علی خان کے ماموں زاد بھائی (پیدائش: 17 فروری 1962ء)

    274ء مانی، جندیشا پور میں 216ء میں پیدا ہونے والا ایک ایرانی جس نے مانویت مذہب کا بانی۔

    2007ء بدر میانداد، پاکستانی قوال، پاکپتن میں پیدا ہوئے (پیدائش : 1962ء)

    2011ء۔۔۔شہباز بھٹی/مسیحی رہنما پاکستان کے وفاقی وزیر برائے اقلیتی امور اور مسیحی رہنما شہباز بھٹی 9 ستمبر 1968ءکو خوش پور (سمندری) میں پیدا ہوئے تھے۔ 1985ءمیں انہوں نے آل پاکستان مینارٹیزالائنز کے قیام میں فعال حصہ لیا اور اس کے چیئرمین منتخب ہوئے۔ وہ کرسچین لبریشن فرنٹ کے بھی سربراہ تھے۔ 2002 ءمیں وہ پاکستان پیپلزپارٹی میں شامل ہوئے۔ 2008ءمیں پاکستان پیپلزپارٹی کی نامزدگی پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور 2 نومبر 2008ءکو وہ وفاقی وزیر کے منصب پر فائز ہوئے۔ شہباز بھٹی کو 2 مارچ 2011ءکو مسلح افراد نے اسلام آباد میں فائرنگ کرکے قتل کردیا۔ بعدازاں اس قتل کی ذمہ داری طالبان نے قبول کرلی اور اس کا سبب یہ بتایا کہ شہباز بھٹی مبینہ طور پر گستاخ رسول تھے۔ 4مارچ 2011ءکو فیصل آباد کے قریب ان کے آبائی گاؤں خوش پور (سمندری) میں سپرد خاک کردیا گیا۔

    2 مارچ 1974ء کو برصغیر کے نامور موسیقار‘ گلوکار اور اداکار جناب رفیق غزنوی کراچی میں وفات پاگئے۔ رفیق غزنوی 1907ء میں راولپنڈی میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے گورڈن کالج راولپنڈی سے گریجویشن کیا۔ انہوں نے استاد عبدالعزیز خان صاحب سے موسیقی کے اسرار سیکھے، موسیقی سے ان کا شغف اتنا بڑھا کہ موسیقی کے کسی گھرانے سے تعلق نہ ہونے کے باوجود ان کا شمار برصغیر کے صف اول کے موسیقاروں میں ہوا۔ رفیق غزنوی نے اپنے فلمی کیریر کا آغاز اداکاری سے کیا۔ انہوں نے لاہور میں بننے والی پہلی ناطق فلم ہیر رانجھا میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ انہوں نے اس فلم کی موسیقی بھی ترتیب دی تھی اور اپنے اوپر فلم بند ہونے والے تمام نغمات بھی خود گائے تھے۔ بعد ازاں رفیق غزنوی دہلی چلے گئے جہاں وہ آل انڈیا ریڈیو سے وابستہ ہوگئے۔ بعد ازاں وہ بمبئی منتقل ہوئے جہاں انہوں نے فلم پونرملن‘ لیلیٰ مجنوں اور سکندر سمیت کئی فلموں کی موسیقی ترتیب دی۔ ہالی وڈ کی ایک مشہور فلم تھیف آف بغداد میں بھی ان کی موسیقی استعمال کی گئی۔ قیام پاکستان کے بعد وہ کراچی میں منتقل ہوگئے اور ریڈیو پاکستان سے وابستہ ہوئے۔ وہ اس کمیٹی کے رکن تھے جس نے پاکستان کے قومی ترانے کی دھن منظور کی تھی مگر بعد ازاں ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل زیڈ اے بخاری سے اختلافات کے باعث انہوں نے ریڈیو پاکستان سے علیحدگی اختیار کرلی۔ رفیق غزنوی نے برصغیر کی تقسیم سے قبل بڑا عروج دیکھا۔ مگر قیام پاکستان کے بعد اپنی زندگی کا بڑا حصہ ایک غیر تخلیقی فنکار کی حیثیت سے بسر کیے۔ 2 مارچ 1974ء کو انہوں نے کراچی میں وفات پائی اور وہیں آسودۂ خاک ہوئے۔ پاکستان اور بھارت کی معروف اداکارہ سلمیٰ آغا‘ رفیق غزنوی کی نواسی ہیں‘ جب کہ معروف فلمی ہدایت کار ضیا سرحدی ان کے داماد تھے اور یوں خیام سرحدی بھی ان کے نواسے ہوتے ہیں۔

    1972ء۔۔ناصر کاظمی ٭ اردو کے نامور شاعر ناصر کاظمی 8 دسمبر 1925ء کو انبالہ میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ اوراق نو‘ ہمایوں اور خیال کی مجلس ادارت میں شامل رہے اور پھر اپنی وفات تک ریڈیو پاکستان سے وابستہ رہے۔ 1954ء میں ان کا پہلا شعری مجموعہ برگ نے شائع ہوا جس نے شائع ہوتے ہی انہیں اردو غزل کے صف اول کے شعرامیں لاکھڑاکیا۔ ان کے دیگر شعری مجموعے دیوان‘ پہلی بارش‘ نشاط خواب اور سُر کی چھایا اور مضامین کا مجموعہ خشک چشمے کے کنارے ان کی وفات کے بعد شائع ہوئے۔اس کے علاوہ انہوں نے اردو کے چند بڑے شاعروں کے الگ الگ منتخبات بھی مرتب کئے جن میں میر، نظیر، ولی اور انشا سرفہرست ہیں۔ ناصر کاظمی کا شمار اردو کے صاحب اسلوب شعرا میں ہوتا ہے۔ انہوں نے میر تقی میر کے دبستان شاعری کو انتہائے کمال تک پہنچادیا۔ 2 مارچ 1972ء کو ناصر کاظمی لاہور میں وفات پاگئے۔ لاہور میں مومن پورہ کے قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔

    2013ء۔۔شبنم شکیل نامور شاعر اور نقاد سید عابد علی عابد کی صاحب زادی تھیں ۔ وہ 12 مارچ 1942 کو لاہور میں پیدا ہوئیں ۔ ان کے شعری مجموعے شب زاد، اضطراب اور مسافت رائیگاں تھی اور نثری مجموعے تقریب کچھ تو ہو، نہ قفس نہ آشیانہ، اور آواز تو دیکھو کے نام سے اشاعت پزیر ہوئے تھے ۔۔۔ حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا ۔۔ شبنم شکیل 2 مارچ 2013 کو مختصر علالت کے بعد کراچی کے ضیاالدین ہسپتال میں وفات پاگئیں ۔ وہ اسلام آباد میں آسودہ خاک ہیں ۔۔

    1996ء۔۔نسیم حجازی ٭ اردو زبان کے مشہور ناول نگار نسیم حجازی 19 مئی 1914ء کو سوجان پور ضلع گورداسپور میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام محمد شریف تھا۔ نسیم حجازی نے اپنی عملی زندگی کا آغاز صحافت کے شعبے سے کیا اور ہفت روزہ تنظیم کوئٹہ،روزنامہ حیات کراچی، روزنامہ زمانہ کراچی، روزنامہ تعمیر راولپنڈی اور روزنامہ کوہستان راولپنڈی سے وابستہ رہے۔ انہوں نے بلوچستان اور شمالی سندھ میں تحریک پاکستان کو مقبول عام بنانے میں تحریری جہاد کیا اور بلوچستان کو پاکستان کا حصہ بنانے میں فعال کردار ادا کیا۔ نسیم حجازی کی اصل وجہ شہرت ان کی تاریخی ناول نگاری ہے جن میں داستان مجاہد،انسان اور دیوتا، محمد بن قاسم، آخری چٹان، شاہین، خاک اور خون، یوسف بن تاشقین، آخری معرکہ،معظم علی، اور تلوار ٹوٹ گئی، قیصر و کسریٰ،قافلہ حجاز اور اندھیری رات کے مسافر کے نام شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے طنز و مزاح کے موضوع پر پورس کے ہاتھی، ثقافت کی تلاش، سفید جزیدہ اور سوسال بعد نامی کتابیں بھی تحریر کیں۔ ان کا ایک سفر نامہ پاکستان سے دیار حرم تک بھی اشاعت پذیر ہوچکا ہے۔ نسیم حجازی کی تصانیف کا کئی زبانوں میں ترجمہ ہوا اور ان پر آخری چٹان اور شاہین نامی دو ڈرامہ سیریل بھی نشر ہوئے جبکہ ان کے ایک اور ناول خاک اور خون پر فلم بھی بنائی گئی۔ 2 مارچ 1996ء کو نسیم حجازی راولپنڈی میں وفات پاگئے۔ وہ اسلام آباد کے مرکزی قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔

  • 28 فروری  تاریخ کے آئینے میں

    28 فروری تاریخ کے آئینے میں

    28 فروری تاریخ کے آئینے میں۔

    1922ء – مصر نے برطانیہ سے دوبارہ آزادی حاصل کی مگر برطانوی فوجیں مصر میں موجود رہیں۔

    1974ء – امریکا اور مصر کے درمیان سات سال بعد دوبارہ سفارتی رابطے بحال ہوئے۔

    1991ء – پہلی خلیجی جنگ کا اختتام ہوا۔

    1997ء – امریکا میں اٹھارہ سال سے کم عمرکے لوگوں پر سگریٹ کی فروخت ممنوع قراردی گئی۔

    2000ء – شمالی امریکا کے شمال جنوبی علاقے میں چھ اعشاریہ آٹھ کی شدت کا زلزلہ جس کے نتیجے میں کئی لوگ زخمی ہوئے اور ایک بلین ڈالرز کا نقصان ہوا۔

    1965ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے نابیناؤں کی امداد کے سلسلے میں ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا ۔ اس ڈاک ٹکٹ کی مالیت 15پیسے تھی اور اس کا ڈیزائن مصور مشرق عبدالرحمٰن چغتائی نے تیار کیا تھا ۔

    1995ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے پاکستان کے عظیم شاعروں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے یادگاری ڈاک ٹکٹوں کی ایک سیریز کا آغاز کیا جس کا نام پوئٹس آف پاکستان سیریز رکھا گیا۔ اس سلسلے کا پہلا ڈاک ٹکٹ پشتو کے مشہور شاعر خوشحال خان خٹک کی یاد میں جاری کیا گیا جس پر خوشحال خان خٹک کا خوب صورت پورٹریٹ شائع کیا گیا تھا۔سات روپے مالیت کا یہ ڈاک ٹکٹ سید علی افسر نے ڈیزائن کیا تھا اوراس پر انگریزی میں 1613 – 1689 KHUSHAL KHAN KHATTAK کے الفاظ تحریر تھے۔
    ۔

    صدارتی انتخاب کیلئے پریذائیڈنگ افسران مقرر

    2007ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے کیڈٹ کالج،پٹارو کے قیام کی پچاسویں سالگرہ کے موقع پر ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ کا اجرا کیا جس پر اس کالج کی عمارت کی تصویر شائع کی گئی تھی۔ اس ڈاک ٹکٹ پرانگریزی میں GOLDEN JUBILEE CELEBRATION OF CADET COLLEGE PETARO ( 1957 – 2007) کے الفاظ تحریرتھے۔ اس ڈاک ٹکٹ کی مالیت دس روپے تھی اور اسے فیضی امیر صدیقی نے ڈیزائن کیا تھا۔

    2016ءشمالی وزیرستان میں اسکیورٹی فورسز اور دہشتگردوں میں تصادم 34 دہشتگرد ہلاک جبکہ 1 کیپٹن سمیت پاک فوج کے 3 اہلکار شہید ہوئے-

    28 فروری کو پیدا ہونے والی چند مشہور شخصیات

    1896ء فلپ شوالٹر ہنچ ، نوبل انعام برائے فزیالوجی اور طب (1950ء) یافتہ امریکی معالج و استاد جامعہ (وفات: 30 مارچ 1965ء)

    1901ء لینس پالنگ ، نوبل انعام برائے کیمیا (1954ء) و نوبل امن انعام (1962ء) یافتہ امریکی ماہر حیاتی کیمیا، ماہر حیاتی طبیعیات، ماہرِ اسپرانٹو، استاد جامعہ، جنگ مخالف کارکن، ماہر قلمیات (وفات: 19 اگست 1994ء)

    1915ء پیٹر میڈاوار ، نوبل انعام برائے فزیالوجی اور طب (1960ء) یافتہ برازیلی انگریز ماہر حیاتیات، طبیب، ماہر مناعیات، ماہر حیوانیات، آپ بیتی نگار، پروفیسر ، جنھوں نے مدافعتی نظام کے حوالےسے کام کیا ۔

    1930ء لیون نیل کوپر ، نوبل انعام برائے طبیعیات (1972ء) یافتہ امریکی ماہر طبیعیات و استاد جامعہ ، انھیں یہ انعام ان کے ہم وطن طبیعیات دان جان باردین اور جوہن رابرٹ سکریفر کے ہمراہ سوپر کنڈکٹیوٹی پر کام کرنے کی وجہ سے دیا گیا۔

    1939ء ڈینیل چی تسی ، نوبل انعام برائے طبیعیات (1998) یافتہ چینی نژاد امریکی ماہر طبیعیات و استاد جامعہ ، یہ انعام انہیں ان کے ہم وطن طبیعیات دان رابرٹ بی لاولینگ اور جرمن طبیعیات دان ہورسٹ لوڈلگ سٹورمر کے ہمراہ لیزر کی روشنی کے ذریعے ایٹم کو پھانسنے اور انہیں ٹھنڈے کرنے کے طریقے کو بہتر کرنے پر دیا گیا۔

    برطانوی شاہی خاندان کے اہم فرد انتقال کر گئے

    1940ء ماریو آندریٹی ، اطالوی نژاد امریکی ریس کار ڈرائیور ، فورملا ون کے فاتح ڈرئیور جنہوں نے 1978 میں فورملا ون جیتنے کا اعزاز حاصل کیا-

    1946ء رابن کک ، سکاٹ معلم اور سیاست دان

    1948ء صتیون چھو ، نوبل انعام برائے طبیعیات (1997ء) یافتہ امریکی ماہر طبیعیات، سیاست دان و استاد جامعہ ، (21 جنوری 2009ء تا 22 اپریل 2013ء) 12ویں امریکی سیکریٹری آف انرجی ، یہ انعام انہیں ان کے ہم وطن طبیعیات دان ولیم ڈینیل فلپس اور فرانسیسی طبیعیات دان کلاؤڈ کوہن-ٹناڈجی کے ہمراہ لیزر کی روشنی کے ذریعے ایٹم کو پھانسنے اور انہیں ٹھنڈے کرنے کے طریقے کو بہتر کرنے پر دیا گیا۔

    1953ء پاول کرگمین ، نوبل میموریل انعام برائے معاشیات (2008ء) یافتہ امریکی ماہر اقتصادیات، مضمون نگار، بلاگ نویس، استاد جامعہ، صحافی، مصنف ، انھوں نے 20 کے قریب کتابیں لکھی ہیں جو عام قارئین کے لئے بھی ہیں ان میں سے کچھ درسی کتب بھی شامل ہیں انھوں نے 200 سے زائد معیشت پر تحقیقی مقالے لکھے ہیں۔

    1970ء ڈینیل ہینڈلر ، امریکی صحافی، ناول نگار، ڈرامہ نگار و موسیقار

    1928ء۔گوگل کے مطابق عبدالستار ایدھی (پیدائش: 28 فروری 1928ء – وفات: 8 جولائی، 2016ء) خدمت خلق کے شعبہ میں پاکستان اور دنیا کی جانی مانی شخصیت تھے، جو پاکستان میں ایدھی فاؤنڈیشن کے تاحیات صدر رہے۔ ایدھی فاؤنڈیشن کی شاخیں تمام دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں۔ ان کی بیوی محترمہ بلقیس ایدھی بلقیس ایدھی فاؤنڈیشن کی سربراہ ہیں۔ دونوں کو 1986ء میں عوامی خدمات کے شعبہ میں رامون ماگسےسے ایوارڈ (Ramon Magsaysay Award) سے نوازا گیا۔

    گوجرہ:میونسپل کمیٹی، افسران نے من پسندوں کونوازنے کیلئے دکانوں کی نیلامی کی سیکیورٹی فیس بڑھا …

    1904ء۔دین محمد تاثیر۔اردو شاعر ،نقاد اور ماہر تعلیم ۔ قصبہ اجنالہ ضلع امرتسرمیں پیدا ہوئے۔ 1904ء میں پہلے والد پھر والدہ نے وبائے طاعون میں انتقال کا۔ میاں نظام الدین رئیسلاہور نے جو ان کے خالو تھے پرورش کی۔ فورمین کرسچن کالج لاہور سے 1926ء میں ایم اے کی ڈگری لی۔ اسی سال اسلامیہ کالج لاہور میں انگریزی کے لیکچرار مقرر ہوئے۔ کچھ عرصے بعد مستعفی ہو کر محکمہ اطلاعات سے وابستہ ہوگئے۔ 1928ء میں دوبارہ اسلامیہ کالج میں آگئے ۔ 1934ء میں انگلستان چلے گئے اور کیمبرج سے پی۔ ایچ ۔ ڈی کیا۔1936ء میں ایم ۔ اے او کالج امرتسر میں پرنسپل کے عہدے پر فائز ہوئے۔ دوسری جنگ عظیم تک مختلف عہدوں پر کام کیا ۔ 1947ء میں سری نگر گئے اور پھر پاکستان آکر آزاد کشمیر کے محکمہ نشر و اشاعت کے انچارچ ہوگئے۔ 1948ء میں اسلامیہ کالج لاہور کے پرنسپل مقرر ہوئے اور زندگی کے آخری ایام تکاسی کالج سے وابستہ رہے۔
    ڈاکٹر تاثیر کی ادبی زندگی کا آغاز لڑکپن ہی میں ہوگیا تھا۔ کالج میں ان صلاحیتوں نے جلا پائی۔ اور 1924ء تک ادبی دنیا میں خاصے معروف ہوگئے۔ انھی دنوں ’’ نیرنگ خیال‘‘ لاہور کی ادارت ان کے سپرد ہوئی۔ دیگر ممتاز رسائل میں ان کی نقلیں اور مضامین شائع ہوتے تھے۔ انجمن ترقی پسند مصنفین کے بانیوں میں سے تھے۔ انھوں نے روایت سے بغاوت کی اور مروجہ اسلوب سے ہٹ کر آزاد نظم کو ذریعۂ اظہار بنایا ۔

    1978ء: یاسر حمید ، ڈیبیو پر دو سنچریوں سے انہوںنے انٹرنیشنل کرکٹ میں قدم رکھے۔ یہ کارنامہ انہوں نے 2003 میں کراچی میں بنگلہ دیش کے خلاف انجام دیا، وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے تاریخ کے دوسرے پلیئر ثابت ہوئے، آغاز میں ان کا کھیل روشن مستقبل کی پیشگوئی کررہا تھا مگر پھر وہ بھی توقعات کے بوجھ تلے دب کررہ گئے، 2007 میں ٹیم سے باہر کردیا گیا، 2010 میں ان کی انگلینڈکے فکسنگ سے آلودہ ٹور میں واپسی ہوئی جس میں انہوں نے بھی خفیہ رپورٹر کے سامنے بڑھکیں لگائیں جس پر پی سی بی نے ایک ڈومیسٹک سیزن سے ان کو باہر کردیا۔

    گوجرہ:قلب عباس سپرا سیکٹر کمانڈرموٹروے ایم فور ون تعینات

    اردو کے ممتاز شاعر اور ملی و فلمی نغمہ نگار کلیم عثمانی کی تاریخ پیدائش 28 فروری 1928 ہے فلم فرض اور مامتا میں انہوں نے ایک ملی گیت ’’اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں‘‘ تحریر کیا۔ روبن گھوش کی موسیقی اور نیرہ نور اور ساتھیوں کی آواز میں گایا ہوا یہ گیت آج بھی بے حد مقبول ہے۔ اس کے علاوہ ان کا تحریر کردہ ایک اور ملی نغمہ ’’یہ وطن تمہارا ہے ، تم ہو پاسباں اس کے‘‘ کا شمار بھی پاکستان کے مقبول ملی نغمات میں ہوتا ہے

    28 فروری کو وفات پانے والی چند مشہور شخصیات

    628ء خسرو پرویز ، (590ء اور دوسری بار 591ء تا 28 فروری 628ء) شاہ فارس ، نوشیروان کا پوتا جو اپنے باپ ہرمز کے قتل کے بعد ساسانی تخت پر بیٹھا۔ مشہور ایرانی جنرل بہرام چوبیں نے اطاعت سے انکار کر دیا۔ اور لڑائی میں خسرو کو شکست دی۔ خسرو نے رومنوں کے علاقے میں پناہ لی۔ قیصر روم کی فوجوں کی مدد سے بہرام چوبیں کو شکست دی اور طیسفوں کا تخت دوبارہ حاصل کر لیا۔ پھر حیرا کی چھوٹی سی عرب ریاست پر جو دریائے فرات اور یروشلم کے درمیان واقع تھی۔ حملہ کیا کیونکہ بادشاہ نعمان نے بیٹی دینے سے انکار کر دیاتھا۔ نعمان قتل ہوا مگر شیبانی قبیلے کے عرب سردار ہانی نے جنگ جاری رکھی اور ذوگر کے مقام پر عربوں نے پہلی بار ایرانیوں کو شکست دی۔ خسرو پرویز کو یونانی افواج کے مقابلے میں بھی شکست ہوئی۔ اس نے راہ فرار اختیار کی مگر ایرانی امرا نے گرفتار کر لیا اور اس کو اور اس کے بیٹوں کو قتل کر دیا۔ فارسی ادب کی مشہور شخصیت شیریں اس کی ملکہ تھی۔ اس کے گھوڑے کا نام شب دیز تھا۔ (پیدائش: 570ء)

    1866ء۔۔رینل جارج ٹیلر ایک برطانوی سپاہی اور ہند آرمی کا جنرل تھا

    1869ء۔۔الفونسے دی لامارتین (پیدائش: 21 اکتوبر 1790ء) فرانسیسی مؤرخ، محقق، شاعراور سیاست دان تھا

    1916ء ہنری جیمز ، امریکی صحافی، افسانہ نگار، ناول نگار و نقاد (پیدائش: 18 اپریل 1843ء)

    1936ء چارلس نکولے ، نوبل انعام برائے فزیالوجی اور طب (1928ء) یافتہ فرانسیسی ماہر حیاتیات، بیکٹیریائی ماہر، طبیب و پروفیسر (پیدائش: 21 ستمبر 1866ء)

    مریم نواز نے سرکاری اسپتالوں کی ایمرجنسی میں مفت ادویات کی فراہمی کا پلان طلب …

    1936ء۔۔کملا کول نہرو ۔ تحریک آزادی ہند کی کارکن اورانڈین نیشنل کانگریس کے رہنما جواہر لعل نہرو کی بیوی تھی، جو بعد میں بھارت کے پہلے وزیر اعظم بنے۔ ان کی بیٹی اندرا گاندھی بھی بھارت کی وزیر اعظم بنیں

    1963ء راجندرہ پرساد ، بھارتی وکیل اور سیاست دان (26 جنوری 1950ء تا 14 مئی 1962ء) آزاد بھارت کے پہلے اور طویل ترین مدت کے لئے صدر۔ تحریک آزادی ہند کے فعال کارکن تھے۔ پرساد دو مدتیں صدر رہنے والے واحد صدر تھے۔ (پیدائش: 3 دسمبر 1884ء)

    2001ء۔۔سید محمد ریاض الدین سہروردی نعت گوئی اور نعت خوانی میں ایک معتبر نام ہے

    2006ء اون چیمبر لین ، نوبل انعام برائے طبیعیات (1959ء) یافتہ امریکی ماہر طبیعیات و استاد جامعہ ، انہیں یہ انعام چینی نژاد امریکی طبیعیات دان چن نینگ یانگ کے ساتھ مشترکہ طور پر دیا گیا۔ جس کی وجہ ان کی ایٹم کے زیلی زرات کی مشترکہ دریافتیں تھی ۔ (پیدائش: 10 جولائی 1920ء)

    2013ء ڈونالڈ آرتھر گلیسر ، نوبل انعام برائے طبیعیات (1960ء) یافتہ امریکی ماہر طبیعیات ، ماہرِ اعصابیات و استاد جامعہ (پیدائش: 21 ستمبر 1926ء)

    کامران ٹیسوری وعدہ معاف گواہ بن جائیں،حافظ نعیم کا مبینہ آڈیو لیک پر ردعمل

    1987ء ـ نسیم امروہوی (پاکستان کے ماہر لسانیات، شاعر) بمقام کراچی، پاکستان۔نسیم امروہری 24 اگست، 1908ء کو امروہہ، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام سید قائم رضا نقوی تھا۔ ان کا گھرانہ علمی اور مذہبی حوالے سے امروہہ میں ایک خاص مقام رکھتا تھا۔ نسیم امروہوی نے عربی اور فارسی کے علاوہ منطق، فلسفہ، فقہ، علم الکلام، تفسیر، حدیث اور ادبیات کے تحصیل کی۔ قیام پاکستان کے بعد انہوں نے پہلے خیرپور میں اور پھر کراچی میں اقامت اختیار کی۔نسیم امروہوی غزل، قصیدہ، مثنوی، رباعی، گیت اور نظم سبھی اصناف پر عبور رکھتے تھے لیکن ان کی اصل شناخت مرثیہ نگاری ہے۔ انہوں نے اپنا پہلا مرثیہ 1923ء میں کہا تھا۔ ان کے کہے ہوئے مراثی کی تعداد 200 سے زائد ہے۔ آپ کی مراثی کی کتاب مراثی نسیم شائع ہو چکی ہے۔ وہ لسانیات پر بھی مکمل عبور رکھتے تھے۔ وہ ایک طویل عرصے تک ترقی اردو بورڈ (موجودہ اردو لغت بورڈ) میں اردو لغت کے مدیر کی حیثیت سے وابستہ رہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے نسیم اللغات اور فرہنگ اقبال بھی مرتب کیں۔نسیم امروہوی 28 فروری، 1987ء کو کراچی میں وفات پاگئے اور کراچی میں مسجد آل عبا کے احاطے میں سپرد خاک ہوئے۔

  • 26 فروری  تاریخ کے آئینے میں

    26 فروری تاریخ کے آئینے میں

    26 فروری تاریخ کے آئینے میں

    1531ء ۔اسپین کے شہر لسبن میں ہولناک زلزلہ سے بیس ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل بنے، 1797ء ۔بینک آف انگلینڈ نے ایک پاونڈ کا پہلا نوٹ جاری کیا، 1924ء ۔جرمنی کے شہرمیونخ میں ہٹلر کے خلاف مقدمے کا آغاز ہوا، 1952ء ۔برطانیہ نے ایٹم بم تیار کیا۔

    1980ء – پاکستان میں وفاقی شرعی عدالت قائم ہوئی، 1984ء ۔بیروت سے امریکی فوجی دستوں کی واپسی صدر ریگن نے انیس سو بیاسی میں اپنی فوج کو بیروت میں قیام امن کے لیے بھیجا تھا، 1991ء ۔ٹم برنرز لی نے پہلا ویب براوزر ورلڈ وائب ویب متعارف کرایا۔، نیو یارک میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے باہر26فروری 1993 کو ہونے والے دھماکے میں 6افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔۔

    2004ء ۔امریکی نے اپنے شہریوں کو تئیس سال بعد لیبیا کاسفر کرنے کی اجازت دی، 2009ء ۔شریف برادران کی نااہلی کے بعد پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ ن کے اراکین کا داخلہ ممنوع ، اسپیکر نے اسمبلی کے باہر سیڑھیوں پراجلاس کی صدارت کی۔

    26 فروری 1958 کو ضلع خیرپور میں خیرپور میرس سے پندرہ میل کے فاصلے پر کوٹ ڈیجی کے مقام پر ایک ایسی قدیم تہذیب کے آثار دریافت ہوئے جو موئن جودڑو کی تہذیب سے بھی پرانے تھے۔یہ دریافت شدہ آثار 600 فٹ طویل اور 400 فٹ عریض رقبے پر پھیلے ہوئے تھے۔ یہ علاقہ دو حصوں میں منقسم تھا۔ ایک حصہ شہر اور قلعے پر جبکہ دوسرا حصہ عوام کے مکانات پر مشتمل تھا۔ کوٹ ڈیجی کی ایک اور وجہ شہرت اس کا قلعہ ہے جسے دنیا کے چند بڑے قلعوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس قلعہ کی تعمیر 1797ء میں شروع ہوئی اور 32 سال میں مکمل ہوئی۔ یہ قلعہ پانچ ہزار فٹ لمبا، تین ہزار فٹ چوڑا اور زمین سے 70 فٹ اونچائی پر واقع ہے۔ اس قلعہ کو قلعہ احمد آباد بھی کہتے ہیں جو کوٹ ڈیجی کا پرانا نام ہے۔

    2019ء۔۔۔پلوامہ ڈرامے کے بعد بھارتی جارحیت اور پاکستان کے ہاتھوں عبرت ناک شکست کو دو سال بیت گئے ہیں۔ بھارت نے 26فروری 2019 کو بالاکوٹ پر سرجیکل اسٹرائیک کا جھوٹا دعویٰ کیا تھا۔بھارتی طیارے پاکستانی حدود میں گھسے لیکن شاہینوں سے بچنے کے لیے اپنا پے لوڈ گرا کر بھاگ نکلے جس سے چند درختوں کو نقصان پہنچا۔ اگلے ہی دن پاکستان نے دن کی روشنی میں دشمن کو منہ توڑ جواب دیا۔پاک فضائیہ کے جوانوں نے جرات اور بہادری کے ساتھ بھارتی اہداف کو نشانہ بنایا۔27 فروری کو بھارتی ائیر فورس کے طیارے نے پاکستان کی حدود کی خلاف ورزی کی۔ جس پر پاک فضائیہ نے بھارتی ائیر فورس کے طیارے کو مار گرایا اور پائلٹ ابھینندن کو گرفتار کرلیا۔بھارت نے 26 فروری 2019 کو بالاکوٹ کے مقام جابا پر مبینہ دہشتگردی کے کیمپ پر نام نہاد فضائی حملے کا ڈرامہ رچایا۔جابہ ضلع مانسہرہ کے ایک گاؤں کا نام ہے جو شہر سے تقریباً20کلو میٹر کی مصافحت پر بالاکوٹ روڈ پر واقع ہے اور مظفرآباد تھانے کی حدود میں آتا ہے،2020ء۔۔پاکستان میں کرونا وائرس کا پہلا کیس رپورٹ ہوا تھا،2024ء۔۔مریم نواز شریف وزیر اعلیٰ پنجاب منتخب ہوئیں-

    26 فروری کو پیدا ہونے والی چند مشہور شخصیات

    1802ء وکٹر ہیوگو ، فرانسیسی مصنف، شاعر، ڈراما نگار، سیاستدان اور انسانی حقوق کے کارکن , وہ فرانسیسی زبان کا سب سے عظیم مصنف مانا جاتا ہے۔ شروع میں شاعری اُس کی وجہ شہرت بنی مگر بعد میں اُس نے ناول اور ڈراموں کو بھی بہت شہرت ملی۔ (وفات: 22 مئی 1885ء)

    1902ء ابیسن عباس بمعروف اندجار اسمار ، انڈونیشین نژاد ملائشی صحافی، فلم ہدایت کار، ڈراما نگار، منظر نویس (وفات: 20 اکتوبر 1961ء)

    1903ء گیلیو ناٹا ، نوبل انعام برائے کیمیاء (1963ء) یافتہ اطالوی کیمسٹ، انجینئر، موجد، استاد جامعہ ، یہ انعام انہیں جرمن کیمیاء دان کارل زیگلر کے ساتھ مشترکہ طور پر دیا گیا، جس کی وجہ ان دونوں کی جانب سے پولی مر پر کیا گیا تحقیقی کام تھا۔ (وفات: 2 مئی 1979ء)

    1909ء طلال بن عبداللہ ، ہاشمی خاندان سے تعلق رکھنے والا (20 جولائی 1951ء تا 11 اگست 1952ء) دوسرا شاہ اردن ، جب صحت کی وجوہات (مبینہ طور پر انفصام) کی وجہ سے اس کے بیٹے حسین بن طلال حق میں دستبردار ہونے پر مجبور کر دیا گیا۔ (وفات: 7 جولائی 1972ء)

    1922ء منموہن کرشنا ، بھارتی فلمی اداکار (وفات 3 نومبر: 1990ء)

    1928ء آرئیل شارون ، اسرائیلی جنرل اور سیاستدان ، (13 اکتوبر 1998ء تا 6 جون 1999ء) وزیر خارجہ ، (7 مارچ 2001ء تا 14 اپریل 2006ء) 11واں اسرائیلی وزیرِ اعظم (وفات: 11 جنوری 2014ء)

    1933ء سر جیمز مائیکل گولڈ سمتھ ، انگریزی نژاد فرانسیسی سرمایہ کار و سیاستدان، والد جمائما گولڈ سمتھ (19 جولا‎ئی 1994ء تا 19 جولا‎ئی 1997ء) رکن یورپی پالیمان (وفات: 18 جولائی 1997ء)

    1940ء عزالدین علیہ ، تیونس نژاد فرانسیسی ڈریس اور شو ڈیزائنر (وفات: 18 نومبر 2017ء)

    1946ء احمد حسان زیول ، نوبل انعام برائے کیمیاء (1993ء) یافتہ مصری نژاد امریکی کیمسٹ، محقق و استاد جامعہ ، انعام کی وجہ کیمیاء کی شاخ فمٹو کیمسٹری سے جڑے ان کے کارنامے تھے انھیں فیمٹو کیمسٹری کا بانی بھی کہا جاتا ہے۔ وہ پہلے مصری اور اور مسلمان باشندے تھے جنھیں نوبل انعام برائے کیمیاء ملا وہ آخری عمر کیلیفورننیا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں بطور پروفیسر کام کر رہے تھے۔ پروفیسر احمد زویل نے اپنی تمام زندگی امریکا میں صرف کی اور امریکی صدر براک اوباما کے مشیروں کی کونسل کے رکن بھی رہے۔ (وفات: 2 اگست 2016ء)

    1956ء اقبال درانی ، بھارتی مصنف ، ڈائریکٹر، اداکار اور ہندی فلموں کے پروڈیوسر

    1959ء احمد داؤد اوغلو ، ترک ماہر تعلیم، مصنف، پروفیسر، سیاستدان و سفارتکار ، (1 مئی2009ء تا 29 اگست2014ء) تُرک وزیرِ خارجہ اور 28 اگست2014ء سے 26ویں وزیراعظم ترکی

    1974ء معمر رانا ، پاکستانی فلمی اداکار و ہدایتکار بمقام لاہور

    1984ء وینا ملک ، اداکارہ و ماڈل بمقام

    1954ء – رجب طیب اردوغان،
    ایک ترک سیاست دان،استنبول کے سابق ناظم، جمہوریہ ترکی کے سابق وزیر اعظم اور بارہویں منتخب صدر ہیں۔ رجب28 اگست2014ء سے صدارت کے منصب پر فائز اور عدالت و ترقی پارٹی (AKP) کے سربراہ ہیں جو ترک پارلیمان میں اکثریت رکھتی ہے۔اکتوبر 2009ء میں دورۂ پاکستان کے موقع پر رجب اردوغان کو پاکستان کا اعلی ترین شہری اعزاز نشان پاکستان سے نوازا گیا۔علاوہ ازیں جامعہ سینٹ جانز، گرنے امریکن جامعہ، جامعہ سرائیوو، جامعہ فاتح، جامعہ مال تپہ، جامعہ استنبول اورجامعہ حلب کی جانب سے ڈاکٹریٹ کی اعزازی سند سے بھی نوازا گیا ہے۔ فروری 2004ء میں جنوبی کوریا کے دار الحکومت سیول اور فروری 2009ء میں ایران کے دار الحکومت تہران نے رجب اردوغان کو اعزازی شہریت سے بھی نوازا۔سن 2008ء میں غزہ پٹی پر اسرائیل کے حملے کے بعد رجب طیب ایردوان کے زیرقیادت ترک حکومت نے اپنے قدیم حلیف اسرائیل کے خلاف سخت رد عمل کا اظہار کیا، اور اس پر سخت احتجاج کیا۔ ترکی کا احتجاج یہیں نہیں رکا بلکہ اس حملے کے فوری بعد ڈاؤس عالمی اقتصادی فورم میں ترک رجب طیب ایردوان کی جانب سے اسرائیلی صدر شمعون پیریز کے ساتھ دوٹوک اور برملا اسرائیلی جرائم کی تفصیلات بیان کرنے کے بعد ڈاؤس فورم کے اجلاس کے کنویئر کیک جانب سے انہیں وقت نہ دینے پر رجب طیب ایردوان نے فورم کے اجلاس کا بائیکاٹ کیا اور فوری طور پر وہاں سے لوٹ گئے ۔ اس واقعہ نے انہیں عرب اور عالم اسلام میں ہیرو بنادیا اور ترکی پہنچنے پر فرزندان ترکی نے اپنے ہیرو سرپرست کا نہایت شاندار استقبال کیا۔اس کے بعد 31 مئی بروز پیر 2010 ء کو محصور غزہ پٹی کے لیے امدادی سامان لے کر جانے والے آزادی بیڑے پر اسرائیل کے حملے اور حملے میں 9 ترک شہریوں کی ہلاکت کے بعد پھر ایک بار اردوگان عالم عرب میں ہیرو بن کر ابھر اور عوام سے لے کر حکومتوں اور ذرائع ابلاغ نے ترکی اور ترک رہنما رجب طیب ایردوان کے فلسطینی مسئلے خاص طورپر غزہ پٹی کے حصار کے خاتمے کے لیے ٹھوس موقف کو سراہا اور متعدد عرب صحافیوں نے انہیں قائد منتظر قرار دیا۔اور وہ واحد وزیر اعظم ہیں جنہوں نے بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے رہنما کی پھانسی پر ترکی کے سفیر کو واپس بلانے کا اعلان کیا ہے۔15 جولائی 2016 کی شب فوج کے ایک دھڑے نے اچانک ہی ملک میں مارشل لا کے نفاذ کا اعلان کر دیا لیکن بغاوت کی اس سازش کو تر ک عوام نے سڑکوں پر نکل کر، ٹینکوں کے آگے لیٹ کر ناکام بنادیا اور یہ ثابت کیا کہ اصل حکمران وہ ہے جو لوگوں کے دلوں پر حکومت کرے

    1917ء۔۔۔۔۔قدرت اللہ شہاب (1986ء-1917ء) پاکستان کے نامور اردو ادیب اور بیورو کریٹ تھے۔ ان کی پیدائش گلگت میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم انہوں نے ریاست جموں و کشمیر اور موضع چمکور صاحب ضلع انبالہ میں حاصل کی۔ گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم -اے انگلش کیا۔ 1941ء میں انڈین سول سروس میں شامل ہوئے۔ابتداء میں شہاب صاحب نے بہار اور اڑیسہ میں خدمات سرانجام دیں۔ 1943ء میں بنگال میں متعین ہو گئے۔آزادی کے بعد حکومت آزاد کشمیر کے سیکریٹری جنرل ہوئے۔ بعد ازاں پہلے گورنر جنرل پاکستان غلام محمد، پھر اسکندر مرزا اور بعد ازاں صدر ایوب خان کے سیکریٹری مقرر ہوئے۔ پاکستان میں جنرل یحیی خان کے بر سر اقتدار آنے کے بعد انہوں نے سول سروس سے استعفی دے دیا اور اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو سے وابستہ ہوگئے ۔ انہوں نے مقبوضہ عرب علاقوں میں اسرائیل کی شرانگیزیوں کا جائزہ لینے کے لیے ان علاقوں کا خفیہ دورہ کیا اور اسرائیل کی زیادتیوں کا پردہ چاک کیا ۔ ان کی اس خدمت کی بدولت مقبوضہ عرب علاقوں میں یونیسکو کا منظور شدہ نصاب رائج ہوگیا جو ان کی فلسطینی مسلمانوں کے لئے ایک عظیم خدمت تھی ۔پاکستان رائٹرز گلڈ کی تشکیل انہی کی مساعی سے عمل میں آئی۔ صدر یحییٰ خان کے دور میں وہ ابتلاء کا شکار بھی ہوئے اور یہ عرصہ انہوں نے انگلستان کے نواحی علاقوں میں گزارا۔ شہاب صاحب ایک بہت عمدہ نثر نگار اور ادیب بھی تھے۔ ان کی تصانیف میں یاخدا، نفسانے، ماں جی اور ان کی خود نوشتہ سوانح حیات “شہاب نامہ“ قابل ذکر ہیں۔ قدرت اللہ شہاب نے 24 جولائی 1986ء کو اسلام آباد میں وفات پائی اور اسلام آباد کے سیکٹر H-8 کے قبرستان میں سپردِ خاک ہوئے۔

    26 فروری کو وفات پانے والی چند مشہور شخصیات

    1887ء آنندی گوپال جوشی ، پہلی ہندوستانی خاتون معالج ، جس دور میں خواتین کا تعلیم حاصل کرنا انتہائی مشکل سمجھا جاتا تھا، اس وقت طب کی تعلیم حاصل کرنا ایک بڑا کارنامہ ہے۔ ان کی شادی نو سال کی عمر میں ان سے قریب 20 سال بڑے گوپال راؤسے ہوئی تھی۔ جب 14 سال کی عمر میں وہ ماں بنیں اور ان کی پہلی اولاد کی موت 10 دنوں میں ہو گئی تو انہیں بہت بہت صدمہ ہوا۔ اپنی اولاد کو کھو دینے کے بعد انہوں نے یہ قسم کھائی کہ وہ ایک دن ڈاکٹر بنیں گی اور اس طرح کی المناک اموات کو روکنے کی کوشش کریں گی۔ ان کے شوہر گوپال راؤ نے بھی ان کا بھرپور تعاون کیا اور ان کی حوصلہ افزائی کی۔ (پیدائش: 31 مارچ 1865ء)

    1898ء فریڈرک ٹینی سن ، انگریزی شاعر و مصنف (پیدائش: 5 جون 1807ء)

    1931ء اوتو والاخ ، نوبل انعام برائے کیمیاء (1910ء) یافتہ جرمن کیمسٹ و استاد جامعہ ، انعام کی وجہ انکی جانب سے کئی گئی نامیاتی کیمیاء اور کیمیائی صنعت میں تحقیق تھی اور ایک الیسائیکلک کمپاونڈ کی گئی اولین تحقیقات تھی۔ (پیدائش: 27 مارچ 1847ء)

    1969ء لیوی اشکول ، اسرائیلی فوجی اور سیاستدان ، (26 جون 1963ء تا 5 جون 1967ء) اسرائیلی وزیرِ دفاع اور (21 جون 1963ء تا 26 فروری 1969ء) تیسرا وزیر اعظم اسرائیل (پیدائش: 25 اکتوبر 1895ء)

    1985ء تجالنگ کوپمنس ، نوبل انعام برائے معاشیات (1975ء) یافتہ ڈچ نژاد امریکی ماہر معاشیات، ریاضی دان و استاد جامعہ ، انہیں یہ انعام روسی ماہرِ معاشیات لیونڈکانٹروچ کے ساتھ مشترکہ طور پر دیا گیا۔ (پیدائش: 28 اگست 1910ء)

    1990ء سید محمد اکرم الہ آبادی ، بھارتی جاسوسی ناول نگار (1923ء)

    1998ء تھیوڈور سکلٹز ، نوبل میموریل انعام برائے معاشیات (1979ء) یافتہ امریکی ماہر اقتصادیات و استاد جامعہ ، انھیں یہ انعام برطانوی ماہرِ اقتصادیات ڈبلیو آرتھر لیوسکو کے ساتھ مشترکہ طور پر دیا۔ (پیدائش: 30 اپریل 1902ء)

    2005ء جیف رسکن پیر ، امریکی موسیقار و کمپیوٹر سائنس دان، دنیا کے پہلے ایپل میکنٹوش کمپیوٹر کے خالق۔ (پیدائش: 9 مارچ 1943ء)

    2009ء آغا محمد صادق بمعروف ڈاکٹر آغا سہیل ، پاکستان سے تعلق رکھنے و الے اردو کے ممتاز افسانہ نگار، ناول نگار، نقاد اور محقق (پیدائش: 6 جون 1933ء)

    2010ء حسن عبد الحکیم ، نومسلم برطانوی سفیر، مصنف، مدرس، صوفی اسلام اور محقق اسلام (پیدائش: 1 جنوری 1921ء)

    اردو کے نامور نقاد اور افسانہ، ناول نگار ڈاکٹر محمد احسن فاروقی نے 26 فروری 1978 کو ڈاکٹر محمد احسن فاروقی کوئٹہ میں وفات پائی ۔ وہ کراچی میں خراسان باغ کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔ڈاکٹر محمد احسن فاروقی 22 نومبر 1913ء کو قیصر باغ لکھنؤ میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ لکھنؤ یونیورسٹی کے فارغ التحصیل تھے اور انہوں نے ’’رومانوی شاعروں پر ملٹن کے اثرات‘‘ کے موضوع پر پی ایچ ڈی کیا تھا۔ قیام پاکستان کے بعد وہ کراچی یونیورسٹی، سندھ یونیورسٹی اور بلوچستان یونیورسٹی کے شعبہ انگریزی سے وابستہ رہے۔ وہ اردو کے صف اول کے ناقدین میں شمار ہوتے ہیں، ان کی تنقیدی کتب میں اردو ناول کی تنقیدی تاریخ، ناول کیا ہے، ادبی تخلیق اور ناول، میر انیس اور مرثیہ نگاری اور تاریخ انگریزی ادب کے نام سرفہرست ہیں۔ ان کے ناولوں میں شام اودھ، آبلہ دل کا، سنگ گراں اور سنگم شامل ہیں جبکہ افسانوں کا مجموعہ رہ رسم آشنائی کے نام سے اشاعت پذیر ہوا۔۔

    سائنسی موضوعات کے معروف مصنف، محقق اور ماہر تعلیم میجر آفتاب حسن نے 26 فروری 1993 کو کراچی میں وفات پائی اورکراچی ہی میں گلشن اقبال کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔ میجر آفتاب حسن بازید پور (بہار) میں 16 ستمبر 1909ء کو پیدا ہوئے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد وہ ملٹری اکیڈمی کاکول میں سائنس شعبے کے سربراہ رہے، بعدازاں وہ اردو سائنس کالج کراچی کے پرنسپل کے عہدے پر فائز ہوئے۔ 1960ء سے 1972ء تک وہ شعبہ تصنیف و تالیف و ترجمہ جامعہ کراچی کے سربراہ رہے اس دوران انہوں نے اردو میں سائنسی اصطلاحات سازی اور سائنسی موضوعات پر کتب کی اشاعت کے سلسلے میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ وہ مقتدرہ قومی زبان کے پہلے معتمد تھے۔ بعدازاں ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی کی وفات کے بعد وہ اس ادارے کے قائم مقام صدر نشین بھی رہے، 2024ء۔۔پنکج ادھاس ۔مشہور بھارتی غزل گائک

  • 21 فروری  تاریخ کے آئینے میں

    21 فروری تاریخ کے آئینے میں

    21 فروری تاریخ کے آئینے میں

    1999 : نواز شریف اور واجپائی کے درمیان معاہدہ لاہور پر دستخط ہوئے 1995 : بیت اللحم پر اسرائیلی قبضے کے خاتمے کے بعد اس کا کنٹرول فلسطینی اتھارٹی نے سنبھال لیا، 1992 : نواز شریف نے پیلی ٹیکسی سکیم متعارف کروائی۔

    1987 : صدر ضیا الحق نے ہندوستان کا اچانک دورہ کیا اور وزیر اعظم راجیو گاندھی سے ملاقات کی (جس کو کرکٹ ڈپلومیسی کہا گیا تھا)۔ 1974 : پاکستان نے بنگلہ دیش کو تسلیم کیا، 1974 : مصر اور اسرائیل کی جنگ بندی کے بعد اسرائیلی فوج نہر سویز سے واپس ہوئی، 1973 : عرب اسرائیل تنازع حل کرنے کے لئے جنیوا کانفرنس کا آغاز ہوا-

    1973 : صحرائے سینا کے اوپر لیبیا عرب ائیر لائن کے جہاز کو اسرائیلی جنگی جہاز نے مار گرایا 108 مسافر جاں بحق، 1960 : کیوبا کے صدر فیڈل کاسٹرو نے تمام کاروبار حکومتی تحویل میں لے لیے، 1956 : آئین ساز اسمبلی نے فیصلہ کیا کہ ملک وفاقی جمہوریہ اور نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہو گا-

    1952 : ڈھاکہ یونیورسٹی (مشرقی پاکستان ) میں بنگالی زبان کی تحریک شروع ہوئی، 1952 : ونسٹن چرچل نے برطانوی شہریوں کیلئے شناختی کارڈ کی پابندی ختم کر دی، 1922 : برطانیہ نے مصر کو آزادی دی، 1878 : دنیا کی پہلی ٹیلی فون ڈائریکٹری امریکہ میں جاری ہوئی جس میں 50 نمبر شامل تھے، 1842 : دنیا کی پہلی سلائی مشین واشنگٹن امریکہ میں جان گریناف نے متعارف کرائی-

    1797 : برطانیہ نے ٹرینیڈا (ویسٹ انڈیز) پر قبضہ کیا ، 1974ء یوگوسلاویہ میں آئین کا نفاذ ، 1953ء برطانیہ کے فرانسیس کریک اور جیمز ڈی واٹسن نے ڈی آکسی رائبونیولک ایسڈ (ڈی این اے)کا مالیکیول دریافت کیا، 1987ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے پوسٹ آفس سیونگز بنک کے ہفتہ بچت کے آغاز کے موقع پر پانچ، پانچ روپے مالیت کے چار یادگاری ڈاک ٹکٹوں کا ایک سیٹ جاری کیا جن پر خوبصورت پرندوں اورمختلف صنعتی اداروں کی تصاویر اورپاکستان کے محکمہ ڈاک کا کا لوگو بنا تھا اور انگریزی میں SAVE WITH SAVING BANKS OF POST OFFICE کے الفاظ طبع کیے گئے تھے ۔ ان ڈاک ٹکٹوں کا ڈیزائن پاکستان سیکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن کی سلطانہ شمیم حیدرنے تیا رکیا تھا۔

    21 فروری 2017.چارسدہ تنگئی کچہری پہ خود کش حملہ ۔پولیس نے 2 خود کش حملہ آوروں کو اڑا دیا ۔تیسرا اندر داخل ہونے کی ناکام کوشش میں پھٹ گیا ۔ایک وکیل سمیت 7 افراد شہید اور 19 زخمی۔

    تعطیلات و تہوار

    مادری زبان کا عالمی دن (یونیسکو)21 فروری

    26 جنوری 1952ء کو خواجہ ناظم الدین نے وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلی مرتبہ مشرقی پاکستان کا دورہ کیا۔ اس دورے میں انہوں نے اعلان کیا کہ صرف اور صرف اردو ہی پاکستان کی قومی زبان ہوگی۔بنگال نژاد‘ خواجہ ناظم الدین کے اس اعلان سے مشرقی پاکستان کے طلبہ میں بڑی بے چینی پھیلی‘ وہ قیام پاکستان کے بعد سے مسلسل یہ مطالبہ کررہے تھے کہ اردو کے ساتھ بنگلہ کو بھی پاکستان کی قومی زبان کا درجہ دیا جائے۔ان طلبہ نے خواجہ ناظم الدین کے اس اعلان کے خلاف صوبہ بھر کے عوام سے اپیل کی کہ وہ 21 فروری 1952ء کو عام ہڑتال کریں چنانچہ اس دن صوبہ بھر میں عام ہڑتال رہی مگر ایک ناخوشگوار واقعہ یہ ہوا کہ ڈھاکا یونیورسٹی میں طلبہ کے ایک جلوس کا پولیس سے تصادم ہوگیا اور آٹھ طلبہ شہید اور متعدد زخمی ہوگئے۔

    چند یوم بعد مشرقی بنگال کی اسمبلی نے اردو کے ساتھ ساتھ بنگلہ کو بھی پاکستان کی قومی زبان بنانے کی قرارداد منظور کرلی۔ یوں وہ مسئلہ جسے پہلے چند طلبہ یا ’’غدار عناصر‘‘ کا مسئلہ سمجھا جارہا تھا مشرقی پاکستان کے تمام عوام کا متفقہ مطالبہ بن گیا۔ مگر مغربی پاکستان کی راے عامہ اسے بدستور غداری سے ہی تعبیر کرتی رہی اور اردو کے ساتھ ساتھ بنگلہ کو قومی زبان کا درجہ دینے کو قومی یکجہتی کے خلاف سازش اور اردو زبان کا قتل قرار دیا جاتا رہا۔اس بات کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکا ہے کہ 7 مارچ 1952ء کو کراچی میں جناب حسین امام کی صدارت میں کراچی کے ممتازشہریوں کا ایک اجلاس منعقد ہوا جس نے نہ صرف یہ کہ اردو کے ساتھ ساتھ بنگلہ کو قومی زبان بنانے کے مطالبے کو پاکستانی سالمیت پر ضرب کاری قرار دیا بلکہ اس مطالبے کی حمایت میں پیش پیش مغربی پاکستان کے دوسرکردہ صحافیوں جناب الطاف حسین (مدیر ڈان) اور جناب زیڈ اے سلہری (مدیر ایوننگ ٹائمز) کو ان کے عہدوں سے ہٹانے کا مطالبہ بھی کیا۔

    اسی دن روزنامہ جنگ کراچی میں جناب رئیس امروہوی کی ایک نظم بھی شائع ہوئی جس کا نام تھا ’’نوحۂ اردو‘‘ اور اس کا ٹیپ کا مصرعہ تھا ’’اردوکا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے‘‘۔ اس نظم میں تصویر کا محض دوسرا رخ ہی پیش کیا گیا تھا اور عوام کو یہی باور کرایا گیا تھا کہ بنگلہ زبان کو قومی زبان بنانے کا مطالبہ قومی یکجہتی کے خلاف چند مٹھی بھر افراد کی سازش ہے اور اردو زبان کے قتل کے مترادف ہے‘ حالانکہ صورتحال اس کے قطعی برعکس تھی۔ اگر اس وقت حالات سے مدبرانہ طورپر نمٹ لیا جاتا تو شاید آگے چل کر وہ حالات پیدا نہ ہوتے جو مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا باعث بنے۔

    ادھر مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بننے کے بعد بنگلہ دیشی حکومت نے 21 فروری کو نہ صرف یوم شہدا کے طور پر منانا شروع کیا بلکہ ان شہدا کی یاد میں اس مقام پر ایک شہید مینار بھی تعمیر کیا جہاں یہ طلبہ شہید ہوئے تھے۔ نومبر 1999ء میں یونیسکو نے 21 فروری کو دنیا بھر میں یوم مادری زبان قرار دیا اب ہر سال21 فروری کا دن اقوام متحدہ کے زیر اہتمام دنیا تمام ممالک میں ’’یوم مادری زبان‘‘ کے طور پر منایا جاتا ہے جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔

  • 18 فروری ، تاریخ کے آئینے میں

    18 فروری ، تاریخ کے آئینے میں

    18 فروری ، تاریخ کے آئینے میں

    1927ء امریکہ اور کینیڈا میں سفارتی روابط کا قیام ہوا، 1929ء امریکہ کے شہر لاس اینجلس میں پہلے آسکر ایوارڈز کا اعلان ہوا، 2006ء وینزویلا نے امریکہ کو تیل کی فراہمی بند کرنے کی دھمکی دی، وینز ویلا کے صدر ہوگو شاویز نے امریکی وزیر خارجہ کانڈولیزا رایس کے اس بیان پر دھمکی دی جس میں رائس نے وینز ویلا کو خطے کی پریشانی قرار دیا تھا۔

    2008ء پاکستان میں 9 ویں عام انتخابات کا انعقاد ہوا۔ اِن انتخابات میں بڑے بڑے دعوے کرنے والے چودھریوں کو عام شکست ہوئی۔ مشرف نے مسلم لیگ (ق) کی شکست کو تسلیم کرتے ہوئے نئی پارلیمان کے ساتھ کام کرنے کا وعدہ کیا۔ انتخابات کے لیے ووٹر ٹرن آؤٹ 35,170,435 (یعنی 44 فیصد) لوگوں کا تھا۔ 28 نشستوں (23 صوبائی اور 5 قومی نشستوں) کے لیے ضمنی انتخابات متعدد بار تاخیر کا شکار ہوتے رہے مگر بالآخر 26 جون 2008ء کو منعقد ہوئے۔۔قومی اسمبلی میں پاکستان پیپلزپارٹی نے 87، مسلم لیگ (ن) نے 66، مسلم لیگ (ق) نے 38، متحدہ قومی موومنٹ نے 19، اے این پی نے 10، مسلم لیگ (ف) نے 4، متحدہ مجلس عمل نے 3 اور بی این پی (اے) اور پی پی شیرپائو گروپ نے ایک ایک نشست پر کامیابی حاصل کرلی۔ سندھ اسمبلی میں پاکستان پیپلزپارٹی، پنجاب اسمبلی میں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور سرحد اسمبلی میں اے این پی نے سب سے زیادہ نشستیں حاصل کیں۔ ان انتخابات میں صدر پرویز مشرف کے حامیوں کو عبرتناک شکست ہوئی اور چوہدری شجاعت حسین، شیخ رشید احمد، رائو سکندر اقبال، ہمایوں اختر، شیر افگن، خورشید احمد قصوری، حامد ناصر چٹھہ، وصی ظفر، چوہدری امیر حسین، عابدہ حسین، اعجاز الحق، میاں محمد اظہر، لیاقت علی جتوئی اور سردار نصراللہ خان دریشک اپنی روایتی نشستوں پر بھی کامیاب نہیں ہوسکے۔ انتخابات کے بعد پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف اور عوامی نیشنل پارٹی کے اسفندیار ولی سے ملاقات کی اور ان سے درخواست کی کہ وہ مرکز میں اتفاق رائے کے ساتھ حکومت بنانے میں ان کی مدد کریں۔

    1949ء۔۔۔ایر مارشل سر رچرڈ ایچرلے18 فروری 1949 سے 06 مئی 1951 تک پاک فضائیہ کے دوسرے سربراہ ایر مارشل سر رچرڈ ایچرلے 12 جنوری 1904 ء کو پیدا ہوئے اور انھوں نے 1924 میں رائل یرفورس میں کمیشن حاصل کیا ۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران انھوں نے ناروے، اسکاٹ لینڈ اور لیبیا میں خدمات انجام دیں ۔جنگ عظیم کے بعد وہ رائل ایر فورس کالج کرانویل سے منسلک ہوئے اور قیام پا کستان کے بعد رائل پاکستان ایئرفورس سے وابستہ ہوگئے۔ 18 فروری 1949ء سے 6 مئی 1951ء تک انھوں نے پاک فغائیہ کی سربراہی کی ۔ 18 اپریل 1970ء کو ان کا انتقال ہوگیا۔

    18سے 21فروری 1989ء کے دوران لاہورمیں سولہویں ایڈ ایشیا کانگرس ( ایڈ ایشیا 89) منعقد ہوئی جس کا مقصدایشیا میں اشتہاریات کی صنعت کو فروغ دینا تھا۔ اس موقع پر18فروری 1989ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے تین یادگاری ڈا ک ٹکٹوں کا ایک سیٹ جاری کیا جن پر ایڈ ایشیا 89کا لوگو چھپا تھا اور ان پر AD ASIA 89 PAKISTAN Togeather towards tomorrow February 18-21 1989 Lahore 16th Asian Advertising Congress کے الفاظ تحریر تھے۔ ان ڈاک ٹکٹوں میں سے ہر ایک کی مالیت ایک روپیہ تھی اور ان کا ڈیزائن عادل صلاح الدین نے تیار کیا تھا۔

    18فروری 1986ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے ایگری کلچر ڈیولپمنٹ بنک آف پاکستان کی پچیسویں سالگرہ کے موقع پر 60پیسے مالیت کا ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔ اس ڈاک ٹکٹ پرایگری کلچر ڈیولپمنٹ بنک آف پاکستان،اسلام آباد کی عمارت کی تصویر اور بنک کا لوگو شائع کیا گیا تھا اور انگریزی میں 25 YEARS OF AGRICULTURE DEVELOPMENT BANK OF PAKISTAN 1961 1986 کے الفاظ تحریر کیے گئے تھے ۔ اس ڈاک ٹکٹ کا ڈیزائن پاکستان سیکورٹی پرنٹنگ پریس کے ڈیزائنرعادل صلاح الدین نے تیار کیا تھا۔

    18 فروری 1979 کو صحارا صحرا میں برفباری ہوئی، 18 فروری 1979 کو ترکی اور عراق نے دفاعی معاہدے بغداد پیکٹ پر دستخط کئے
    ، 18 فروری 1927 کو امریاک اور کینیڈا میں سفارتی روابط کا قیام، 18 فروری 1911 کو ڈاک کی ہوائی ترسیل پہلی دفعہ الہ آباد سے ہوائی جہاز 6500 خطوط لے کر روانہ ہوا-

    18 فروری 1398کو تیمورلنگ نے سلطان ناصرالدين تغلق کو شکست دینے کے بعد دہلی کوتاراج کر دیا، 18 فروری 2016 کو مہمند ایجنسی میں دہشتگردوں کا حملہ۔ 7 خاصہ دار اہلکار شہید ، 16 فروری 2015.اسلام آباد میں اسلام آباد ایکسپریس وے پہ واقع امام بارگاہ قصر سکینہ پہ فائرنگ اور خود کش حملہ ۔4 جان بحق 9 زخمی، 16 فروری 2014 کو پشاور کے قریب نیم قبائلی علاقے متنی میں فوجی گاڑی پہ حملہ۔میجر جہانزیب شہید اور دو فوجی زخمی ،18 فروری 2013.پشاور پولیٹیکل ایجنٹ کے دفتر پرخود کش حملہ۔4 اہلکاروں سمیت 6 شہید ۔16 افراد زخمی ۔

  • سیالکوٹ:پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑا چور عمران خان ہے.خواجہ  آصف

    سیالکوٹ:پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑا چور عمران خان ہے.خواجہ آصف

    سیالکوٹ،باغی ٹی وی (شاہدریاض کی رپورٹ)خواجہ محمد آصف کا ن لیگ کے یوتھ ورکرزکنونشن سے مسلم لیگ ن کے مرکزی دفتر میں خطاب
    ،این اے 71میں دو لاکھ ووٹرز کا تعلق یوتھ سے ہے،آئندہ دنوں میں یوتھ اپنی قوت گلی محلوں میں دکھائے۔یونین کونسل کی سطح پر ووٹرز کو نوازشریف کو ووٹ دینے کا کہیں

    خواجہ محمدآصف نے کہاکہ اس شہر میں چارسالہ پی ٹی آئی دور میں ایک اینٹ نہیں لگی۔ن لیگ کے دور میں موٹروے تعلیمی ادارے میڈیکل کالج یونیورسٹی بنی .

    عمران خان نے صرف نعرے لگائے کوئی کام نہیں کیا،پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑا چور عمران خان ہے،اس نے مجھ پر دعوی کیا جو کئی سال ایسے ہی پڑا رہا،عدالت میں جرح ہوئی اس دوران اس فراڈیے کی ٹانگ پر پلستر تھا،جرح میں یہ مان گیا کہ میرادفاع کاکیس بن گیاہے
    ۔اسکے سارے وکلاء کی موجودگی میں انہوں نے مجھ پر جرح کی تاریخ لی جو دوبارہ نہ آئی.

    عمران خان نے سوا دو ارب روپیہ شوکت خانم کا دوستوں کے کاروبار میں لگایا،گیارہ سال قبل میں نے کہا عمران خان چور ہے زکوٰاۃ کھاتا رہا
    اس شہر میں پورا ٹبر سرکاری کرسیوں پر بیٹھتا رہا ،کام کوئی بھی نہ کروایا،میرے خلاف انہوں نے درخواستیں دیں،مجھے انکی درخواستوں پر چھ ماہ قید کاٹنا پڑی میں بری ہوا

    انہوں نے مجھ پر آرٹیکل سکس کی کارروائی کی میں اس میں بھی بری ہوا ۔انہوں نے تھوڑی سی قید کاٹنے کےبعد جو کیاوہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے،انکی مقبولیت میں تیزی سے کمی آرہی ہے

    اس شہر کے چھبیس فیصد لوگوں نے ووٹ کس کودینا ہے یہ فیصلہ نہیں کیا۔یوتھ کے نمائندے ایسے لوگوں کے پاس جائیں۔پاکستان مسلم لیگ کا ووٹ نوازشریف کا ووٹ ہے،آپ نےووٹ نوازشریف کے نام پر مانگنا ہے کسی اور کے نام پر نہیں

    نوازشریف نے عمران خان کے جبر کامقابلہ کیا ہے۔تین بار نوازشریف وزیراعظم بنا،چوتھی بار بھی نوازشریف وزیراعظم بنے گا۔یوتھ اپنی صفوں میں اتحاد رکھے۔اللہ پاک ہمیں ہمت دے کہ آنیوالے وقت میں نوجوان نسل کو آگے لائیں

  • عمران خان کی سی پی این ای کے نو منتخب عہدیداران کو مبارکباد

    عمران خان کی سی پی این ای کے نو منتخب عہدیداران کو مبارکباد

    پشاور:چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے سی پی این ای کے نو منتخب عہدیداران کو مبارکباد پیش کی ہے۔سابق وزیراعظم و چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا کہ ایک مرتبہ پھر سی پی این ای کا صدر منتخب ہونے پر میں کاظم خان کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا کہ میرا ایمان ہے کہ سی پی این ای ذمہ دارانہ صحافت کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کرسکتی ہے اور عوام کے جاننے کے حق اور آزادی اظہار کا تحفظ کرے گی۔

    دوسری جانب صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے بھی سی پی این ای کے نو منتخب صدر کاظم خان اور دِیگر عہدیداران کو سالانہ انتخابات میں کامیابی پر مبارکباد پیش کی ہے۔صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ سی پی این ای کی نو منتخب قیادت فیک نیوز اور بلا تصدیق خبروں کی اشاعت اور فروغ کے تدارک کے لیے اپنا کردار ادا کرے گی۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلے وزیراعظم شہباز شریف نے کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹرز (سی پی این ای) کے سالانہ انتخابات میں نومنتخب عہدیداروں کو مبارکباد دیتےہوئے کہا ہے کہ صدر کاظم خان، سینئر نائب صدر ایاز خان، سیکرٹری جنرل عامر محمود سمیت سی پی این ای کے تمام نو منتخب عہدیداروں کو دل کی گہرائیوں سے مبارک پیش کرتے ہیں

    صحافت اور اظہار رائے کی آزادی جمہوریت کی مضبوطی کا ایک ناگزیر آئینی تقاضا ہے ،اتحادی حکومت میڈیا اور اظہار رائے کی آزادی کا نہ صرف تحفظ کرنے میں یقین رکھتی بلکہ اس کے فروغ کے لئے اقدامات کر رہی ہے