Baaghi TV

Tag: تازہترین

  • کراچی میں بڑھتے ٹریفک حادثات ، گورنر سندھ نےچیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کو خط لکھ دیا

    کراچی میں بڑھتے ٹریفک حادثات ، گورنر سندھ نےچیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کو خط لکھ دیا

    کراچی میں بڑھتے ٹریفک حادثات ، گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے قائم مقام چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کو دوسرا خط لکھ دیا۔

    باغی ٹی وی : ترجمان گورنر سندھ کے مطابق کامران ٹیسوری نے خط میں لکھا کہ شہر میں انتظامی غفلت اور قانون سے روگردانی حادثات کی بڑی وجہ ہیں حال ہی میں ایک ہی دن میں چار شہریوں کی ہلاکت سنگین مسئلہ ہے، سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ ہے کہ صبح 7 سے رات 11 بجے تک بھاری ٹریفک کو شہر میں داخلے کی اجازت نہیں، عدالتی فیصلے کے باوجود اس پر عملدرآمد کی شکایات مسلسل بڑھ رہی ہیں،امید ہے کہ سندھ ہائیکورٹ اس ضمن میں اپنے احکامات پر عملدرآمد یقینی بنائے گی۔

    واضح رہے کہ کراچی میں دن دیہاڑے ڈمپروں کی جانب سے موٹر سائیکل سواروں اور دیگر گاڑیوں کو ٹکر مارنے کے مختلف حادثات میں رواں سال اب تک 108 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ حادثات کے بعد مشتعل افراد کی جانب سے گاڑیوں کو جلائے جانے کے متعدد واقعات بھی رپورٹ ہو چکے ہیں۔

    کراچی میں حالات کسی وقت بھی ایٹم بم کی طرح پھٹ سکتے ہیں،فاروق ستار

    جس کے بعد کراچی میں ہیوی ٹریفک کے صبح 6 سے رات 10 بجے تک شہر میں داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی کمشنر کراچی کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ شہریوں کے تحفظ اور ٹریفک کا بہاؤ یقینی بنانے کیلئے دفعہ 144 نافذ کی گئی ہے، جس کے تحت ہیوی ٹریفک کے صبح 6 بجے سے رات 10 بجے تک آمدورفت پر پابندی ہو گی، رات 10 سے صبح 6 بجے تک ہیوی ٹریفک کو شہر میں داخلے کی اجازت ہو گی۔

    ٹرمپ کا غزہ پر حملےکامنصوبہ: 390 یہودی ربیوں نے اسرائیل کیخلاف مذمتی اشتہار دے دیا

  • وفاقی بیورو کر یسی میں تقرر و تبادلے

    وفاقی بیورو کر یسی میں تقرر و تبادلے

    اسلام آباد: وفاقی بیورو کر یسی میں تقرر و تبادلے کیے گئے ہیں،جس کا ںوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی : نوٹیفکیشن کے مطابق جوائنٹ سیکر ٹری قانون و انصاف عرفان انجم تبدیل،ڈپٹی سیکرٹری رخسانہ سومرو /جمال طیب یکم جنوری کو ریٹائر ہوں گے، نورینہ بی بی ڈپٹی جی ایم TCP مقرر ، جوائنٹ سیکرٹری وزارت پار لیمانی امور اور سیکر ٹیریٹ گروپ کے گریڈ 20 کے افسراحمد جان ملک کو تبدیل کرکے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، جوائنٹ سیکر ٹری وزارت قانون و انصاف اور سیکر ٹیریٹ گروپ کے گریڈ20کے افسر عرفان انجم کو تبدیل کرکے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

  • آن لائن خریدی گئی کروڑوں روپے کی منشیات برآمد،پولیس اہلکار سمیت 4 ملزمان گرفتار

    آن لائن خریدی گئی کروڑوں روپے کی منشیات برآمد،پولیس اہلکار سمیت 4 ملزمان گرفتار

    کراچی: سی آئی اے کراچی نے آن لائن خریدی گئی کروڑوں روپے کی منشیات برآمد کرکے اینٹی انکروچمنٹ پولیس اہلکار سمیت 4 ملزمان کو گرفتار کرلیا۔

    باغی ٹی وی : ڈی آئی جی سی آئی اے مقدس حیدر نے نجی خبررساں ادارے کو بتایا کہ سی آئی اے پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ کراچی کا ایک گروپ آن لائن منشیات کی خریداری کرتا ہے اور اس گروپ میں چند افسران بھی شامل ہیں اسپیشلائزڈ انویسٹی گیشن یونٹ نے مخبر کی اطلاع پر اتحاد ٹاؤن میں چھاپہ مار کر ایک گاڑی سے 21 کلو منشیات برآمد کی ہے جو پشاور سے کراچی پہنچائی گئی تھیاور اس کی مالیت کروڑوں روپے ہے۔

    ڈی آئی جی نے کہا کہ سی آئی اے پولیس نے چھاپے میں اینٹی انکروچمنٹ میں تعینات پولیس اہلکار سکندر آفریدی سمیت سعد ولی، محمد سلیم اور محمد احمد خان کو گرفتار کیا ہے اور 21 کلو منشیات مذکورہ چاروں ملزمان کے قبضے سے برآمد کی گئی ہے گرفتار ملزمان یہ منشیات کراچی کے منشیات فروشوں کو فراہم کر رہے تھے۔

    ڈی آئی جی سی آئی اے مقدس حیدر نے کہا کہ کراچی میں منشیات فروشوں کا گروپ بلوچستان اور خیبرپختونخوا سے آن لائن منشیات اور اسلحہ خریدتا ہے اور اس حوالے سے اطلاعات پر اسپیلائزڈ انویسٹی گیشن یونٹ نے کارروائی کی اور گرفتار پولیس اہلکار سمیت چاروں ملزمان کے خلاف مقدمہ بھی درج کرلیا گیا ہے۔

    سپنٹک کی چوٹی پر لاپتا ہونے والے دو میں سے ایک جاپانی کوہ پیما کی …

    دوسری جانب پنجاب پولیس نے سعودی حکومت کو مطلوب مقدمہ قتل کا اشتہاری مجرم گرفتار کرلیا،ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق اشتہاری مجرم غلام عباس قتل کی واردات کے بعد سعودی عرب سے فرار ہو گیا تھا جس کی گرفتاری کے لئے سعودی حکومت نے ریڈ نوٹس جاری کئے تھے۔

    نان فائلر کی موبائل سم، بجلی اور گیس کنکشن بھی منقطع کرنے کی تجویز

    ترجمان پنجاب پولیس نے بتایا کہ ڈی پی او منڈی بہاؤالدین کی زیر نگرانی اشتہاری مجرم کی گرفتاری کے لئے خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی، پی او سیل کے انچارج انسپکٹر ظہیر بابر، سب انسپکٹر قاسم ممتاز نے اشتہاری مجرم کو گرفتار کیامجرم اشتہاری کو مزید کاروائی کے لئے ایف آئی اے حکام کے حوالے کیا جائے گا، آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے سعودی حکومت کو مطلوب اشتہاری کی گرفتاری پر منڈی بہاؤالدین پولیس کو شاباش دی ہے۔

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ:بھارت اور کینیڈا کے درمیان میچ بارش کی وجہ سے منسوخ

  • وزیر خارجہ اسحاق ڈار  کی آذربائیجان ہم منصب سے ملاقات

    وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی آذربائیجان ہم منصب سے ملاقات

    اسلام آباد: وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے آذربائیجان کے وزیرخارجہ جہیون بیراموف نے ملاقات کی-

    اسحاق ڈار نے نے آذربائیجان کے وزیرخارجہ کی وزارت خارجہ میں آمد پر ان کا ستقبال کیا بعدزاں نائب وزیراعظم اسحاق ڈاراورآذربائیجان کے وزیرخارجہ نے مشترکہ نیوزکانفرنس کی اس موقع پر اسحاق ڈار نے کہا دونوں ممالک میں مضبوط اور دیرینہ تعلقات ہیں، پاکستان آذر بائیجان کی خود مختاری کی مکمل حمایت کرتا ہے جبکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کے شعبے میں مواقع موجود ہیں، آذر بائیجان کے وزیر خارجہ کے ساتھ باہمی سرمایہ کاری، ثقافت، تعلیم، پارلیمانی وفود کے تبادلوں پر تبادلہ خیال ہوا اسحاق ڈار نے آذربائیجان کے مسئلہ کشمیر پرمؤقف کوسراہا ہے۔

    آذربائیجان کے وزیر خارجہ جہیون بیراموف نے کہا کہ پاکستان اورآذربائیجان کےدرمیان دوطرفہ مضبوط تعلقات ہیں، دونوں ممالک کےدرمیان تجارت کےشعبے میں مواقع موجود ہیں۔

    اسلام آباد پولیس کے اے ایس آئی کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت دی …

    نیب ترامیم کیس: عمران خان ویڈیو لنک پر پیش،سپریم کورٹ نے لائیو سماعت درخواست …

    فارمیشن کمانڈرز کانفرنس:9 مئی کے ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے عزم کا …

  • اسٹار  شپ راکٹ  آئندہ 5 برسوں میں سرخ سیارے تک پہنچ جائے گا،ایلون مسک کا دعویٰ

    اسٹار شپ راکٹ آئندہ 5 برسوں میں سرخ سیارے تک پہنچ جائے گا،ایلون مسک کا دعویٰ

    ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے بانی ایلون مسک کا کہنا ہے کہ ان کی کمپنی کا تیار کردہ راکٹ آئندہ 5 برسوں میں سرخ سیارے تک پہنچ جائے گا۔

    باغی ٹی وی:مریخ پر پہنچنا ایلون مسک کا پرانا خواب ہے ،انسانوں کو مریخ پر بسانا چاہتے ہیں مگر وہ کب تک ایسا کر سکیں گے یہ کہنا قبل از وقت ہے ، مگر انہوں ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے بانی ایلون مسک نے اسٹار شپ کو مریخ پر پہنچانے کی مدت کی پیشگوئی کر دی ہے، انسانوں کو چاند اور مریخ پر پہنچانے کے لیے اسپیس ایکس کا تیار کردہ راکٹ اسٹار شپ بہت اہم تصور کیا جاتا ہے14 مارچ کو اسٹار شپ نے زمین کے مدار کے گرد اولین پرواز کامیابی سے مکمل کی مگر لینڈنگ کے دوران تباہ ہوگیا۔

    اس جزوی کامیابی کے بعد اسپیس ایکس کے چیف ایگزیکٹو نے ایکس پر ایک پوسٹ پر ریپلائی کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کمپنی کا تیار کردہ راکٹ آئندہ 5 برسوں میں سرخ سیارے تک پہنچ جائے گا تاہم یہ پیشگوئی کافی حیران کن ہے کیونکہ دنیا کا طاقتور ترین راکٹ اسٹار شپ ابھی مکمل طور پر تیار تصور نہیں کیا جاسکتا۔

    یک دیوار اٹھائی تھی بڑی عجلت میں، وہی دیوار گرانے میں بہت دیر لگی

    اسٹار شپ کی آزمائشی پرواز کے بعد ایک ایکس پوسٹ میں ایلون مسک نے یہ بھی کہا کہ یہ راکٹ متعدد سیاروں پر زندگی کو ممکن بنائے گا۔

    ناسا کی جانب سے 2026 میں آرٹیمس 3 مشن کے تحت انسانوں کو چاند کی سطح پر اتارا جائے گا اور یہ کام اسٹار شپ کی مدد سے ہوگامگر اسٹار شپ کی تیاری میں تاخیر سے ناسا کا آرٹیمس 3 مشن بھی التوا کا شکار ہو سکتا ہے تو مریخ پر 5 برس کے اندر اس کے پہنچنے کی بات حیران کن ہے۔

    اجے دیوگن کی فلم”شیطان”نے ایک ہفتے میں 14 ملین ڈالر کمالئے

    دسمبر 2023 میں ایک ایکس پوسٹ میں ایلون مسک نے کہا تھا کہ انسانوں کو زمین سے باہر نکل کر چاند پر بیس اور مریخ پر شہر تعمیر کرنے چاہیے جبکہ اگست 2022 میں ایک جریدے کے لیے تحریر کیے گئے مضمون میں ایلون مسک نے کہا تھا کہ انسانی تہذیب کو دیگر سیاروں تک جانے کے قابل ہونا چاہیے،اگر زمین رہائش کے قابل نہ رہے تو ہمیں ایک خلائی طیارے سے نئے گھر کی جانب پرواز کرنا ہوگا، اس مقصد کے حصول کے لیے پہلا قدم خلائی سفر کے اخراجات کو کم کرنا ہے اور اسی لیے انہوں نے اسپیس ایکس کی بنیاد رکھی۔

    مسلمان کتنے روزے رکھیں گے اور عیدالفطر کب ہو گی؟ماہرین کی پیشگوئی

    واضح رہے کہ اسٹار شپ 2 حصوں پر مشتمل ہے جس میں سے ایک سپر ہیوی بوسٹر ہے، جو ایسا بڑا راکٹ ہے جس میں 33 انجن موجود ہیں جبکہ دوسرا اسٹار شپ اسپیس کرافٹ ہے جو بوسٹر کے اوپر موجود ہے جو اس سے الگ ہو جاتا ہے،یہ راکٹ 120 میٹر لمبا ہے جس کا وزن 50 لاکھ کلوگرام ہے اور اسے بار بار استعمال کرنا ممکن ہوگا۔

  • وقت کتنا گزر گیا پھر بھی ، میرے دل میں قیام اس کا ہے

    وقت کتنا گزر گیا پھر بھی ، میرے دل میں قیام اس کا ہے

    وقت کتنا گزر گیا پھر بھی
    میرے دل میں قیام اس کا ہے

    شاعرہ ،افسانہ نگار اور صحافی صبا ممتاز بانو 12 مارچ 1971ء کولاہور میں پیدا ہوئیں ،
    افسانہ
    ۔۔۔۔۔
    پنچھی
    ۔۔۔۔۔
    رات نے ہر چیز کو تاریکی کی چادر اوڑھا دی تھی۔ دھیمی دھیمی سی ہوا چل رہی تھی۔ پھولوں کی خوشبو مانو کو مدہوش کیے دے رہی تھی۔ پلکوں کو ہجر اب گوارا نہیں تھا۔ آنکھیں خود بخود بند ہوتی جا رہی تھیں۔ اس نے خود کو نیند کے سپرد کر دیا۔
    شب کے راجا نے دن کے راجا کے دستا ر بندی کی تو تیرگی کی چادر تلے خاموشی بھی سمٹ گئی۔ ضیائے آفتاب نے ہر چیز کو برہنہ کردیا۔ شعاعوں نے راحت کی مچان پر لیٹی مانو سے آنکھ مچولی شروع کردی تو اس کے بدن نے آفتاب کے حرارت بھرے لمس کو محسوس کرتے ہوئے انگڑائی لی۔ پلکیں رات بھر کے وصال کے بعد تازہ دم ہو چکی تھیں۔ اس نے چھت کی منڈیروں پر نگاہ ڈالی۔ کوئی بھی تو نہیں تھا۔ آج بھی کوئی پرندہ نہیں تھا۔
    اس نے مایوس ہو کر مٹی کے کونڈے کی طرف دیکھا۔ پانی شفاف تھا۔ روٹی کے ٹکڑوں میں کوئی کمی نہیں آئی تھی البتہ ان کی چمک ضرور ماند پڑ گئی تھی۔ سب کچھ ویسے کا ویسا تھا۔ اس کا دل بھر آیا۔ کوئی بھولا بھٹکا افقی مسافر بھی ادھر نہیں آیا تھا۔ اگر آیا ہوتا تو یہ پانی اور یہ روٹی کے ٹکڑے یوں چپ تو نہ سادھے ہوتے۔
    اس نے اپنے گھر کے ساتھ والے باغ پر نگاہ ڈالی۔ وہاں بھی ایک رات میں کچھ نہیں بدلا تھا۔ گلاب کے مہکتے ہوئے پھول، مٹی کی سوندھی خوشبواور اس باغ میں تنہا کھڑا ایک درخت، یہ سب تو رات کو بھی تھے۔۔۔ اس کی عادت تھی کہ وہ نیند محل میں جانے سے پہلے اور آنے کے بعد اپنے گھر سے ملحقہ اس باغ کو ضرور دیکھتی تھی۔ جس میں ایک بڑا سا درخت اسے اپنی جانب پکارتا ہوا لگتا تھا۔ کبھی کبھی کوئی شاہین آکر اس پر بیٹھ جاتاتو اسے لگتا کہ کائنا ت اس کی مٹھی میں آ گئی ہو۔ کہاں سے آتا تھا وہ۔ کدھر کو جاتا تھا وہ۔؟ اسے اس سے کوئی غرض نہیں تھی۔ دونوں ایک دوسرے کو کچھ دیر دیکھتے۔ پھر مانو سونے کے لیے اپنی چار پائی کی طرف چل دیتی اور وہ اپنے ٹھکانے کی طرف۔ اسے کسی کے ہاتھ آنے کا شوق نہیں تھا اور مانو کو اسے ہاتھ لگانے کا شوق نہیں تھا۔ کبھی کبھی وہ صبح کے وقت بھی آ جاتا تھا مگراب وہ اس درخت پر موجود نہیں تھا۔ مانو نے اس کے تصور سے دل کو شاد کیا۔
    سپیدی سحر میں یہ باغ حسن کی جاگیر لگ رہا تھا۔ پھولوں کی روشوں میں خراماں خراماں چلتی ہوئی ہوا کے راج پر صرف پھول ہی نہیں جھوم رہے تھے۔ یہ جشن مسرت چند کتے بھی منا رہے تھے جو ہوا کی اٹھکیلیوں پر پاگل سے ہو ئے جا رہے تھے۔ کوئی گول چکر میں پھیرے لے رہا تھا اور کوئی باغ کے اس کونے سے اس کونے تک دوڑ لگا رہا تھا۔
    ‘‘یاالٰہی، ہوا ان کے بدن میں بھی مستی دوڑا دیتی ہے، یہ دیوانگی، یہ جذب و جنوں ان پر بھی بے خودی کی کیفیت طاری کر دیتا ہے۔ کیسے مستیاں کرتے ہیں یہ۔ کیسے شوخیاں کرتے ہیں؟’‘ سوچتے سوچتے اس نے مست ہوا میں آنچل کو لہرایا۔ سورج راجا کو ہٹنے کا اشارہ کیا۔ پھر کائیں کائیں کرتے ہوئے کووؤں کو پکارا۔ چہکتی ہوئی فاختاؤں کو آواز دی۔ کسی نے بھی تو نہیں سنا۔ وہ دکھ کی لہروں کو اپنے وجود میں سمیٹے ہوئے نیچے اتر آئی۔ شانو آٹا گوندھ رہی تھی۔ پلکوں پر بیٹھے ہوئے آنسو اسے دیکھتے ہی نیچے لڑھک گئے۔
    ”کیا ہوا، رو کیوں رہی ہو۔“ اس نے تڑپ کر پوچھا۔
    ”ساعت کرن آنچل بھی لہرایا، ان کو پکارا بھی۔ مگر وہ پھر بھی نہیں آئے۔ ‘‘وہ اس کے سامنے رکھی کرسی پر بیٹھ گئی۔
    ”پگلی کہیں کی۔ ارے کیا ہوا۔؟ نہیں آتے تو نہ آئیں، ان کو دانہ دنکا بھی ڈالتے ہیں۔ روٹی چاول بھی رکھتے ہیں۔ پانی کا برتن بھی رکھا ہے۔ پھر بھی نہیں آتے۔ تو ہم کیا کریں۔‘‘ شانو نے اسے تسلی دی۔
    ”شانو۔ یہ چھوٹی بات نہیں۔ بابا کہا کرتے تھے۔ پرندے خدا کے دوست ہوتے ہیں۔ ان کو دوست بنا کر رکھوگے تو سب ٹھیک رہےگا۔ بابایہ بھی کہا کرتے تھے۔ چھوٹی سی یہ مخلوق بڑی سی مخلوق کی خدا تک رسائی کا اہم ذریعہ ہے۔‘‘ مانو نے بابا کی بات شانو کو یاد دلائی۔
    ”بابا ٹھیک کہا کرتے تھے لیکن یہ چھوٹی سی مخلوق بڑی نخریلی ہو گئی ہے۔ ہماری بات نہیں سنتی تو ہم کیا کریں۔’‘ شانو نے ہمیشہ کی طرح اسے تسلی دی۔
    ”مگر جب بابا تھے تب تو ہمارے گھر میں بہت پرندے آتے تھے۔۔۔ کچھ بھی تو نہیں چھوڑتے تھے۔ ایک دفعہ تو امی کا چھوٹو پرس بھی کھانے کی چیز سمجھ کر لے گئے تھے۔۔۔‘‘ مانو کو بھولی بھٹکی کوئی بات یاد آ گئی۔
    ”ہاں۔ پھر وہ گھر کے قریب جھاڑیوں میں اٹکا ہوا مال تھا۔ وہ سمجھے تھے کہ یہ کوئی کھانے پینے کی چیز ہے۔‘‘ شانو نے لقمہ دیا۔
    ”یقینا اس کوے کی نگاہ کمزور ہوگی۔’‘ مانو کی اداسی اب ہنسی میں ڈھل گئی تھی۔
    ”ابا کا بس چلتا تو اس کو بھی عینک لگوا دیتے۔’‘ شانو کی رگ ظرافت بھی پھڑک چکی تھی۔
    ”کچھ بھی تھا شانو، ابا ہوتے تھے تو پرندے صبح دم ہی آکر بیٹھ جاتے اور شام کو جاتے تھے۔ اب یہاں دن سے شام ہو جاتی ہے۔ میں ان کی راہ تکتی رہتی ہوں لیکن کوئی نہیں آتا۔ کوئی بھی تو نہیں آتا۔‘‘ مانو نے دکھ سے کہا۔
    ”ارے وہ گھر بھی تو دوسرا تھا نا۔ اس گھر میں ہم اوپر والے حصے میں ہی آباد تھے۔ وہیں کھانا پینا، اٹھنا بیٹھنا، ان کی دوستی ہو گئی تھی ہم سے۔ یہاں ہم نیچے رہتے ہیں اور وہ دوستی کیا کریں، ان کو تو ہماری شکل بھی یاد نہیں ہوگی۔’‘ شانو نے منطقی بات کی۔
    ”ہاں۔ تب ہمارا بسیر ا چھت پر تھا۔ وہ تو ہمارے ہاتھ سے اچک کر کھا لیتے تھے۔ اب تو ہم صرف ان کو کھانا ڈالنے ہی اوپر جاتے ہیں۔‘‘ مانو کی سمجھ میں شانو کی یہ بات آ گئی تھی۔
    ”چلو شکر ہے کہ تم نے بھی کوئی بات مانی لیکن کل پھر صبح اٹھتے ہی تم نے مجھ سے پو چھنا ہے کہ شانو ہمارے گھر میں پرندے کیوں نہیں آتے۔’‘ شانو نے منہ بناکر کہا۔
    ”ہاں کہتی تو تم ٹھیک ہو لیکن اپنا کھانا تو کھا لیا کریں نا۔‘‘ مانو نے دکھ سے کہا۔
    ”کھا لیں گے۔ کھا لیں گے۔‘‘ شانو نے بڑی بہن مانو کو تسلی دی۔
    مانو کو گرمی میں چھت پر سونے کی عادت تھی۔ اسے تاروں سے بھرا آسمان امید کا جہان دکھتا تھا۔ افق پر بھولے بھٹکے پرندوں کو سفر کرتے دیکھ کر اسے ایسا لگتا جیسے وہ خود بھی کسی قافلے سے بچھڑ ی کوئی ڈار ہو جو اپنے غول کی تلاش میں ہو۔ ایک آہ، ایک کونج اس کے سینے سے نکلتی۔
    ”یہ انسان کا جسم مجھے کس نے اوڑھایا ہے۔ یہ بدن تو کسی پرواز پر تھا۔’‘
    کبھی کوئی درد بھری آواز کو وہ آسمان کی وسعتوں میں بھٹکتی ہوئی سنتی تو فریاد کی بستی پر مصلے بچھا دیتی اور اس کا دل اس پر بیٹھ کر دعا گو ہو جاتا۔ میرے رب، مسافر قافلے سے بچھڑ جائے تو منزل کو کھو دیتا ہے۔ نیلگوں آسمان کی وسعتوں پر اڑنے والے قافلوں کو بھٹکنے سے بچا۔ دھرتی ان کی کونج کا درد نہیں سہار سکتی۔ یہ اونچی پروازوں کے راہی ہیں۔ ‘‘
    دونوں یادوں کے جنگل میں بسیرا ڈالے بیٹھی تھیں کہ دانی آ گیا۔ مانو نے دانی کو دیکھا تو سب بھول بھال اسے گود میں اٹھا لیا۔ اسے بانہوں سے پکڑا، جھولا دیا اور پھر نیچے اتار دیا۔ دانی خوشی سے دم ہلاتا ہوا چھت پر چلا گیا۔
    ”جتنے چکر یہ چھت کے لگاتا ہے۔ ہم لگائیں تو تھک ہی جائیں۔’‘ شانو نے دانی کو پھرتی سے سیڑھیاں چڑھتے دیکھ کر کہا۔
    ”بھئی اس کا واش روم جو اوپر ہے۔ اوپر نہ جائے تو کیا کرے۔’‘ مانو نے دانی کی حمایت کی۔
    ”ساری رات میرے ساتھ سکون سے سوتا ہے۔ صبح ہوتے ہی اس کی دھینگا مشتی شروع ہو جاتی ہے۔’‘
    شانو نے دانی کی شکایت کی۔
    ”ارے جا۔ میرا پتر شرارتی ضرور ہے مگر بدمعاش نہیں ہے۔ رات بھر تمہارے ساتھ سوتا ہے۔ کبھی اس نے چھیڑا تمہیں۔’‘ دانی کی شکایت پر مانو تو برس ہی پڑی۔
    ”چھیڑ کر دیکھا تو تھا ایک دن اس نے۔’‘ شانو نے کہا تو مانو نے آنکھیں پھاڑ کر اسے دیکھا۔
    ”پھر۔؟’‘مانو کے لہجے میں حیرت تھی۔
    ”پھر کیا، اسے پتا چل گیا کہ میں بلی نہیں ویسے کبھی ساتھ سلا کر دیکھو نا۔’‘ شانو نے کہا۔
    ”جس دن میرا میاں گھر نہ ہوا تو میں سلا لوں گی۔’‘ مانو نے فوراً جواب دیا۔
    دونوں کو بھورے سفید دھاری دار بلے سے بہت پیار تھا۔ اس گھر کی رونق تھا یہ بلا۔ وہ بھی سمجھتا تھا کہ اس گھر کے مردوں سے زیادہ عورتیں اس کی رفیق ہیں۔ اسی لیے ان سے ہی فرمائشیں کرتا تھا۔ وہ بھی اسے چوکے پر بٹھاتیں۔ تحت پر سلاتیں۔ شیمپو سے نہلاتیں اور تھک جاتا تو دباتیں۔ دانی کا اس گھر میں راج تھا۔

    ”اگر دانی نہ ہوتا تو میں تو مر ہی جاتی۔ اس میں لگی رہتی ہوں تو غم کا احساس نہیں ہوتا۔ ‘‘ مانو نے سوچا۔
    پرندوں اور جانوروں سے پیار اسے ورثے میں ملا تھا۔ ابا ان کا بہت خیال رکھتے تھے۔ اس کے دل میں بھی ان کے لیے جیسے کوئی انجانی سی کشش اٹکی ہوئی تھی۔ اسی لیے وہ پرندوں کے پیچھے بھاگتی تھیں تو کبھی جانوروں کے لیے ہلکان ہو تی تھیں۔ مانو اور شانو دونوں کی کائنات ان میں سمٹی ہوئی تھی۔ اس کائنات میں آسماں پر پرندے رقص کرتے تھے اور زمین پر جانور دھما چوکڑی مچاتے تھے۔ وہ ان دونوں کے بیچ کوئی ایسی مخلوق کی طرح جی رہی تھیں جن کی زندگی کا واحد مقصد ہی ان کا خیال رکھنا اور ان سے پیار کرنا رہ گیا تھا۔

    پرندوں کو پکارتے پکارتے سمے بیت رہا تھا۔ مانو کی فریاد انہوں نے نہیں سنی۔ شانو کو کوئی غم نہیں تھا۔ اس کا دانی اس کے پاس تھا۔ اس کو بس دانی سے لگاؤ تھا۔ مانونے اب کھانا پینا گلی کے کتوں کو ڈالنا شروع کر دیا تھا لیکن وہ پرندوں کے لیے رات کو کچھ نہ کچھ ضرور لے جاتی تھی۔ وقت کے ساتھ ساتھ دل بہل تو گیا تھا مگرکبھی کبھی مانو کی اداسی پھر عود کر آتی تو شانو اس کی گود میں دانی کو ڈال دیتی اور ہنستے ہوئے کہتی۔

    ”چھوڑو یار، دانی کو جھلاؤ۔’‘ وہ بھی ہر غم بھلاکر دانی کو پیار کرنے لگتی۔
    وقت کا ایک اور دن ڈھل گیا تھا۔ رات کی سیاہی نے ہر چیز کو دھندلاکر دیا تھا۔ مانو چھت پر سونے چلی گئی۔ شانو تسبیح پر کوئی ورد کرنے لگی۔ ماہتاب کی چمک مانو کے چہرے کو فروزاں کیے دے رہی تھی۔ اس نے چھٹکی ہو ئی چاندنی میں اردگرد کے منظر کو دیکھا۔ چاندنی کا حسن ہر چیز سے جھلک رہا تھا۔ اس سحر آفریں ماحول میں نیند کا خمار ایسا چڑھا کہ سارے منظر تحلیل ہو گئے۔ وہ نیند کے آسمان پر تحت نشین ہو گئی۔ رات میٹھی سی نیند میں گزر گئی۔

    چاند راجا کی سلطنت درہم برہم ہو گئی۔ سورج راجا ابھی تحت دن پر براجمان ہوا ہی تھا کہ اس کی آنکھ کھل گئی۔ کوے روٹی کے ٹکڑے لیے منڈیروں پر چڑھے بیٹھے تھے۔ چھت کائیں کائیں کی آواز سے گونج رہی تھی۔ فاختائیں دانہ دنکا کھا رہی تھیں۔ چوں چوں کے شور میں کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔ پرندے گھر کو آ گئے تھے۔ مانو کے دل میں مسرت کی لہریں پھوٹنے لگیں۔ وہ خوشی سے ہمکتی ہوئی نیچے آئی۔ شانو رو رہی تھی۔ دانی رات کو گھر نہیں لوٹا تھا۔ جانے راستہ بھول گیا تھا یا پھر گھر چھوڑ گیا تھا۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    دے دیا جو مقام اس کا ہے
    دل کی بستی میں نام اس کا ہے
    زندگی کی یہی صداقت ہے
    جس کی دنیا نظام اس کا ہے
    وقت کتنا گزر گیا پھر بھی
    میرے دل میں قیام اس کا ہے
    کتنے سالوں کے بعد میرے لیے
    آج آیا سلام اس کا ہے
    کب بھلایا اسے صباؔ میں نے
    ذکر تو صبح و شام اس کا ہے

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    غم زدہ زندگی ہماری ہے
    چاہے دنیا بہت ہی پیاری ہے
    تم نہیں مانتے تو مت مانو
    میری ہر سانس بس تمہاری ہے
    چھوڑ کر ایسے وہ گئے ہم کو
    کیا جئیں گے کہ وار کاری ہے
    جو سہا میں نے وہ سہو گے تم
    وقت کی بھی تو ایک باری ہے
    بس سنبھلنا قدم قدم ہوگا
    زندگی ایک رازداری ہے
    اب ترے ہجر کا صباؔ ہر وقت
    میری آنکھوں سے خون جاری ہے

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    خواب اپنے لہو لہو کر کے
    رو دئے تیری جستجو کر کے
    کیسے پاتے تھے کیف و سرشاری
    آنکھوں آنکھوں سے گفتگو کر کے
    کس قدر پر سکون ہوتے تھے
    اپنے جسموں کو سرخ رو کر کے
    عشق بے سود تو نہیں اپنا
    سوچنا میری آرزو کر کے
    لوٹ آؤ کہ ہو گئے بے بس
    یاد تیری میں ہاؤ ہو کر کے
    ساتھ میرے نہ چل سکا کچھ دیر
    زندگی میری مشکبو کر کے
    خود کشی تیرے پیار میں کر لی
    پھر صباؔ دل نے آرزو کر کے

  • رواں ہفتے موسم  بارشیں ہوں گی یا نہیں، محکمہ موسمیات نے بتا دیا

    رواں ہفتے موسم بارشیں ہوں گی یا نہیں، محکمہ موسمیات نے بتا دیا

    اسلام آباد: محکمہ موسمیات کے مطابق رواں ہفتے موسم مزید خشک اور سرد رہنے کا امکان ہے-

    باغی ٹی وی :محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ 24گھنٹوں کے دوران ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم خشک صبح اور رات کے اوقات بالائی وسطی علاقوں میں شدید سرد رہنے کا امکان ہےپنجاب، خیبرپختونخوا کے میدانی علاقوں اور بالائی سندھ میں صبح اور رات کے اوقات شدید دھند چھائی رہے گی ملک کے جنوبی میدانی علاقوں بشمول ساحلی پٹی پر موسم خشک دن کے وقت دھوپ کی شدت تیز رہنے کا امکان ہے ملک کے میدانی وسطی علاقوں میں شدید دھند کی طویل لہر برقرار تاہم گلگت بلتستان اور کشمیر میں آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران مطلع جزوی ابر آلود رہنے کے ساتھ ہلکی بارش پہاڑوں پر برفباری کا امکان ہے۔

    حامدخان،رؤف حسن جانیں،میں مہم ختم کر رہا، شیر افضل مروت ناراض

    دوسری جانب محکمہ موسمیات کا کہناہے کہ اس وقت پنجاب کے بیشتر علاقے خیبرپختونخوا کے میدانی جنوبی علاقے اور بالائی سندھ دھند کے زیر اثر شدید دھند کی لہر زیادہ بلندی پر موجود ہےجس کے باعث سورج غائب اور درجہ حرارت میں زبردست کمی آئی ہے بیشتر علاقوں میں موسم خشک صبح اور رات کے اوقات شدید سرد کراچی سمیت سندھ اور بلوچستان کی ساحلی پٹی پر موسم خشک صبح اور رات کے اوقات سرد ہے۔

    گھس بیٹھیوں کو آٹھ فروری کو اٹھا کر لاہور سے باہر پھینکنا ہے،مریم نواز

    غیر شرعی نکاح کیس ,عمران خان اور بشری بی بی پر فرد جرم عائد

  • لاطینی امریکہ میں دھماکا، 27 افراد ہلاک اور 59 زخمی

    لاطینی امریکہ میں دھماکا، 27 افراد ہلاک اور 59 زخمی

    سانتو دومنگو: لاطینی امریکی ملک ڈومینیکن ریپبلک میں دھماکے سے 27 افراد ہلاک اور 59 زخمی ہو گئے،مرنے والوں میں 4 ماہ کا نومولود بچہ بھی شامل ہے۔

    باغی ٹی وی : عالمی میڈیا کے مطابق دھماکہ دارالحکومت سانتو دومنگو کے کاروباری مقام پر ہوا جس کے نتیجے میں قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے جبکہ سڑک پر موجود گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا،دھماکے سے 9 عمارتیں متاثر ہوئیں جن میں سے 4 جزوی طور پر تباہ ہو گئیں ابتدائی طور پر دھماکے میں 27 افرا ہلاک ہوئے جن میں سے زیادہ تر ہلاکتیں جھلسنے کی وجہ سے ہوئیں۔

    دھماکے میں زخمی ہونے والے 59 افراد کو اسپتال منتقل کیا گیا جہاں متعدد افراد کی حالت تشویشناک ہے،اسپتال انتظامیہ کے مطابق زخمی ہونے والے بیشتر افراد کا جسم 40 فیصد جھلس چکا ہے جبکہ 17 زخمیوں کو طبی امداد کے بعد گھر بھیج دیا گیا ہے فوری طور پر دھماکے کی نوعیت معلوم نہ ہو سکی-

    پاکستان آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کی تیاری کر رہا ہے،امریکی وزیر خارجہ

    دوسری جانب امریکہ کی ریاست ہوائی کے جنگلات میں لگنے والی آگ پر 6 روز بعد بھی قابو نہیں پایا جا سکا آگ کے باعث اب تک 106 افراد ہلاک ہو چکے ہیں،جبکہ گمشدہ ہونے والے افراد کا سراغ نہ ملنے کی وجہ سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے،اور ملنے والی لاشوں میں سے بیشتر جل کر راکھ ہوچکی ہیں جس کی وجہ سے اُن کی شناخت میں مشکل پیش آ رہی ہے-

    امریکی حکام کے مطابق جنگلات میں لگنے والی آگ امریکہ کی 100 سالہ تاریخ کی بدترین تباہی ثابت ہوئی ہے ،3 ہزار کے لگ بھگ عمارتیں اور ڈھائی ہزار ایکڑ اراضی پر موجود سب کچھ جل کر راکھ کا ڈھیر بن گیا۔

    سرکاری ملازمین اور فوجیوں کی تنخواہوں میں 100 فیصد اضافے کا اعلان

    ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگلات میں لگنے والی خوفناک آگ کی بنیادی وجہ موسمیاتی تبدیلیاں ہیں جبکہ ماحول دوست طرز زندگی کو اپنا کر اور زہریلے مادوں کے کم سے کم استعمال سے ہم اپنی زمین کو ان ناگہانی آفات سے بچاسکتے ہیں۔

  • ملک کے میدانی اضلاع میں آندھی چلنے کا امکان

    ملک کے میدانی اضلاع میں آندھی چلنے کا امکان

    محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ ملک کے میدانی اضلاع میں آندھی چلنے کا امکان ہے،جبکہ ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم شدید گرم اور مرطوب رہے گا۔

    باغی ٹی وی : محکمہ موسمیات کے مطابق بالائی پنجاب، خیبر پختونخوا، شمال مشرقی بلوچستان اور سندھ میں با رش کا امکان ہے اسلام آباد میں دن کوموسم گرم رہنے اور شام کو گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے۔

    سمندری طوفان کی شدت مزید بڑھ گئی،سمندر میں لہریں 35 سے 40 فٹ بلند

    محکمہ موسمیات کے مطابق دیر، چترال،کو ہستان، کرم مانسہرہ، ایبٹ آباد، پشاور، کوہاٹ، بنوں میں بارش اور وزیرستان، ڈیرہ اسماعیل خان اور گرد ونواح میں گرج چمک کے ساتھ بارش کاامکان ہے-

    محکمہ موسمیات کے مطابق بارکھان، قلعہ سیف اللہ، قلات، خضدار، لسبیلہ، مکران، آوران اور تربت میں بارش جبکہ میر پور خاص، ٹھٹھہ، بدین اور مٹھی میں مطلع جزوی ابر آلود اور آندھی چلنے کا امکان ہے جبکہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی بار ش متوقع ہے-

    دوسری جانب خیبر پختونخوا اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں طوفانی بارشوں کی وجہ سمختلف حادثات و واقعات میں 34 افراد جاں بحق اور 150 سے زائد زخمی ہوئے ،لاہور، گجرات، گوجرانوالا، حافظ آباد اور سیالکوٹ سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں 111 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے آنے والی آندھی سے نظامِ زندگی متاثر ہوا ۔

    چین 430 ارب ڈالر کے ساتھ عرب ملکوں کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار …

    صوبائی ڈیزاسٹرمنیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کےمطابق بنوں میں شدید بارشوں کی وجہ سےچھتیں اور دیواریں گرنےکےمختلف واقعات میں 15 افراد جاں بحق جبکہ 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے کی مروت میں چھتیں گرنے کے واقعات میں 5 افراد جاںبحق اور 42 سے زائد زخمی ہوئے جبکہ کرک میں گھروں کی دیوار گرنےکے واقعات میں 4 افراد جاں بحق اور ایک زخمی ہوا۔

    پی ڈی ایم اے کےمطابق طوفانی بارشوں سے 69 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا، بنوں میں آندھی، طوفانی بارشوں سے متاثرہ افراد کی امداد کیلئے 4 کروڑ روپے جاری کیے گئے ہیں طوفانی بارش کے بعد ندی نالوں میں طغیانی آگئی ، جو کچے گھر نہ گرے ، اب اُن میں رہنا خطرے سے خالی نہیں ہے بنوں میں بارش سے نابینا بزرگ خاتون کے ایک مرلے کے مکان کی چھت گر گئی ، ملبے تلے دب کر اس کے 6 بچے زخمی ہو گئے۔

    سمندری طوفان؛ وزیراعلیٰ سندھ نے غیر ضروری طور پر گھروں سے نکلنے سے منع …

  • سوات شہر اور گردو نواح میں زلزلے کے جھٹکے

    سوات شہر اور گردو نواح میں زلزلے کے جھٹکے

    سوات شہر اور گردو نواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔

    باغی ٹی وی :مینگورہ شہر اور گردو نواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوتے ہی لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا زمین لرزنے کے بعد شہریوں نے کلمہ طیبہ کا ورد شروع کیا اور گھروں اور دفاتر سے نکل کر کھلے مقام پر پہنچے-

    افغانستان کےصوبے بدخشاں میں بم دھماکہ:صوبے کے ڈپٹی گورنر جاں بحق

    زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 4 اور گہرائی 125 کلو میٹر تھی، زلزلے کا مرکز پاک افغان تاجکستان کا سرحدی علاقہ تھا زلزلے کے بعد ریسکیو ٹیمیں اور اسپتالوں میں طبی عملہ الرٹ ہوگیا-

    وزیر خارجہ بلاول کی شیخ عبدالقادر جیلانی کے مزار پر حاضری