Baaghi TV

Tag: تازی ترین

  • قصور : دو خواتین سمیت پانچ ڈیلرز گرفتار،کروڑوں روپےمالیت کی منشیات برآمد

    قصور : دو خواتین سمیت پانچ ڈیلرز گرفتار،کروڑوں روپےمالیت کی منشیات برآمد

    قصور : دو خواتین سمیت پانچ ڈیلرز گرفتار،کروڑوں روپےمالیت کی منشیات برآمد

    باغی ٹی وی : ڈی پی او سید عمران کرامت بخاری کی خصوصی ہدایات پر تھانہ صدر پتوکی پولیس نے کاروائی کر کے منشیات کی بڑی کھیپ برآمد، دو خواتین سمیت پانچ ڈیلرز گرفتار، کروڑوں روپے مالیت کی منشیات برآمد کی-

    ڈسٹرکٹ پولیس قصور کے مطابق ملتان روڈ پرناکہ بندی کے دوران کار سے کروڑوں روپے مالیت کی 20 کلو گرام ہیروئن، دو کلو آئس اور 5کلو افیون برآمد کی اور دو خواتین آمنہ بی بی، نسیم بی بی اور تین ملزمان عمر دراز عرف درازی، سرفراز عرف سجو اور عابد کو گرفتار کیا گیا-

    ڈسٹرکٹ پولیس قصور کے مطابق ملزمان بھگیانہ کلاں کے رہائشی ہیں جو فیملی کی آڑ میں تعلیمی اداروں سمیت مختلف علاقوں میں منشیات کی سپلائی کرتے تھے، ملزمان کی تمام فیملی سابقہ ریکارڈ یافتہ ہیں جن کے خلاف ڈیڑھ درجن سے زائد مقدمات درج ہیں۔

    پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ کار نمبریLEE/1770میں ڈیلرز منشیات کی بڑی کھیپ سپلائی کررہے ہیں ڈی ایس پی پتوکی آصف حنیف جوئیہ کی سربراہی میں ایس ایچ او صدر پتوکی خورشید احمد پر مشتمل پولیس ٹیموں نے ناکہ بندی کی تھی-

    ڈسٹرکٹ پولیس قصور کے مطابق تھانہ صدر پتوکی پولیس کی بروقت کاروائی پر منشیات کی بڑی سپلائی ناکام بنا دی گئی۔

  • چین : شدید دھند کے باعث سینکڑوں گاڑیاں آپس میں ٹکرا گئیں

    چین : شدید دھند کے باعث سینکڑوں گاڑیاں آپس میں ٹکرا گئیں

    چین میں موسم سرما کے دوران چھائی دھند کی وجہ سے 200 گاڑیاں آپس میں ٹکراگئیں۔

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹس کے مطابق موسم سرما کے باعث چین کا شہر ژینگژو ان دنوں شدید دھند کی لپیٹ میں ہے جس وجہ سے حد نگاہ کم ہونے کے سبب شہر کی ایک مصروف شاہراہ پر متعدد گاڑیوں کو حادثہ پیش آیا۔

    ترکیہ کے جنگی طیاروں کی عراق کے صوبے دہوک پر بمباری

    سرکاری میڈیا کے مطابق، بدھ کے روز وسطی چینی شہر ژینگ زو میں 200 سے زائد گاڑیوں پر مشتمل ایک بڑے ڈھیر کے دوران ایک شخص ہلاک ہو گیا۔

    سرکاری خبررساں ادرے دی گلوبل ٹائمز کے مطابق، یہ حادثہ ایک پل پر ہوا جو صبح کی شدید دھند میں گھرا ہوا تھا، جس کی وجہ سے متعدد گاڑیاں ٹکرا گئیں۔

    رپورٹس میں بتایا گیا ہےکہ ژینگژو کی شاہراہ پر 200 گاڑیاں آپس میں ٹکرائیں جس میں ایک شخص ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہوگئے جبکہ سیکڑوں شہری حادثے کی وجہ سے گاڑیوں میں ہی محصور ہوکر رہ گئے ایمرجنسی رسپانس ورکرز اور فائر ریسکیو کو جائے وقوعہ پر تعینات کیا گیا، جن میں ٹریفک اور محکمہ صحت کے اہلکار بھی شامل تھے۔

    ازبکستان میں بھی بھارتی کمپنی کا تیار کردہ سیرپ پینے سے 18 بچے جاں بحق

    میڈیا رپورٹس میں مزید بتایا گیا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے 11 فائر ٹرک اور 66 فائر فائٹرز کو امدادی کارروائیوں میں حصہ لینے کیلئے بھیجا گیا جنہوں نےگاڑیوں میں پھنسے شہریوں کی مدد کی-

    مقامی موسمیات کی ایجنسی کا حوالہ دیتے ہوئے، رائٹرز نے بتایا کہ کچھ علاقوں میں، اس صبح صرف 200 میٹر (تقریباً 656 فٹ) تھی۔ کئی گھنٹے بعد، پولیس نے دھند کی وجہ سے کاروں کو پل سے گزرنے کی وارننگ جاری کی تھی۔

    یہ اوور پاس ژینگ ژو کو سنکیانگ شہر سے جوڑتا ہے۔ پولیس نے امدادی کارروائیوں کے دوران پل کو بند کر دیا، اس دوپہر کے بعد ٹریفک دوبارہ شروع ہو گئی-

    ہاردک پانڈیا بھارت کی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے کپتان مقرر

  • دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی آمد واخراج کی صورتحال

    دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی آمد واخراج کی صورتحال

    تازہ اعدادوشمار کے مطابق دریائے سندھ میں تربیلاکے مقام پر پانی کی آمد 21 ہزار100 کیوسک اور اخراج 42 ہزارکیوسک ہے.

    واپڈا کیجانب سے جاری دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی آمد واخراج کے تازہ اعدادوشمار کے مطابق دریائے سندھ میں تربیلاکے مقام پر پانی کی آمد 21 ہزار100 کیوسک اور اخراج 42 ہزارکیوسک، دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر پانی کی آمد8ہزار200کیوسک اور اخراج 8 ہزار200کیوسک، خیرآباد پل پرپانی کی آمد17 ہزار800کیوسک، اخراج17ہزار800کیوسک، دریائے جہلم میں منگلاکے مقام پر پانی کی آمد7ہزار200کیوسک اور اخراج 20 ہزارکیوسک اور دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر پانی کی آمد5ہزار700کیوسک اور اخراج2ہزارکیوسک ہے۔

    اسی طرح ڈیموں میں تربیلاڈیم کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1398فٹ، ڈیم میں پانی کی موجودہ سطح1494.78 فٹ، ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی سطح 1550فٹ اور قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 2.954 ملین ایکڑ فٹ ہے جبکہ منگلا ڈیم کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1050فٹ، ڈیم میں پانی کی موجودہ سطح 1123.95 فٹ، ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی سطح 1242فٹ اور قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 0.896 ملین ایکڑ فٹ ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں.
    معروف شاعرہ امیتا پرسورام کا یوم پیدائش
    فیفا ورلڈ کپ:سیمی فائنل میں کے باوجود مراکشی کھلاڑی میدان میں سجدہ ریز،مداح رو پڑے
    مزید ملکوں کو ویٹو پاور دینے سے عالمی سطح پر خلیج بڑھے گی:بلاول بھٹو
    وزیر خارجہ بلاول بھٹو سے برطانوی وزیر مملکت برائے خارجہ لارڈ طارق احمد کی ملاقات
    موبائل فون برآمد کرنیوالے ممالک میں پاکستان بھی شامل
    مسلم لیگ ن کی رہنما عظمیٰ زاہد بخاری اب یوٹیوب پر
    اسٹاک ایکسچینج ؛ انڈیکس میں 613 پوائنٹس کی کمی
    سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے جاری سرگرمیاں معطل ہونے کا خدشہ؛اقوام متحدہ
    چشمہ بیراج کا کم از کم آپریٹنگ لیول 638.15فٹ، بیراج میں پانی کی موجودہ سطح640.60 فٹ، بیراج میں پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی سطح 649 فٹ اور قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 0.034 ملین ایکڑ فٹ ہے۔

  • پاکستان میں پولیس کا شعبہ کرپشن میں پہلے نمبر پر ہے، ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل

    پاکستان میں پولیس کا شعبہ کرپشن میں پہلے نمبر پر ہے، ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل

    پاکستان میں پولیس کا شعبہ کرپشن میں پہلے نمبر پر ہے، ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل؛ حالیہ سیلاب کے دوران امداد کی تقسیم میں بھی کرپشن ہوئی

    ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے سروے کے مطابق پاکستان میں کرپشن میں پہلے نمبر پر شعبہ پولیس ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے پاکستان میں کرپشن پرعوامی سروے جاری کردیا ہے، جس کے مطابق پاکستان میں پولیس کے شعبہ کا کرپشن میں پہلا نمبر ہے۔ سروے کے مطابق عوام نے ٹینڈرنگ اور ٹھیکے داری کے نظام میں ہیرا پھیری کو دوسرا نمبر دیا ہے، جب کہ عوامی رائے کے مطابق بدعنوانی میں نظام انصاف کا تیسرا اور محکمہ تعلیم کا چوتھا نمبر ہے۔

    ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ سیلاب کے دوران امداد کی تقسیم میں بھی کرپشن ہوئی ہے، اور عوام نے کرپٹ لوگوں کو عمر قید کی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے، اور کہا ہے کہ سرکاری افسران سیاستدانوں اور ججز اپنے اثاثے ظاہر کریں۔ انصار عباسی کی رپورٹ کے مطابق ٹرانس پیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے قومی سطح پر کرپشن کے تاثر کے حوالے سے اپنی سالانہ رپورٹ ’’نیشنل کرپشن پرسیپشن سروے‘‘ (این سی پی ایس) 2022ء جاری کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ پولیس ملک کا کرپٹ ترین ادارہ ہے جبکہ دوسرے نمبر پر ٹینڈرنگ اور کنٹریکٹ کا شعبہ جبکہ تیسرے نمبر پر عدلیہ کرپٹ ترین ادارہ ہے جبکہ 2021ء کے مقابلے میں دیکھا جائے تو تعلیم کا شعبہ چوتھے نمبر پر کرپٹ ادارہ بتایا گیا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    مارگلہ کی پہاڑیوں پر نایاب نسل کا تیندوہ مردہ حالت میں پایا گیا
    خاشقجی کی منگیتر، نے امریکی عدالت کے فیصلے پر ردعمل میں کہا کہ "جمال آج پھر انتقال کر گئے ہیں۔”
    دنیا میں ترقی جنگوں سے نہیں بیلٹ پیپر سے آئی،سیکرٹری الیکشن کمیشن
    عمران خان کے خلاف ممنوعہ فنڈنگ کیس کی سماعت 19دسمبر تک ملتوی
    این سی پی ایس 2022ء آج جمعہ کو علی الصباح ایک بجے جاری کی گئی۔ رپورٹ میں نیب سمیت انسداد کرپشن اداروں پر بھی عدم اعتماد کا اظہار کیا گیا ہے۔  قومی سطح پر، عوام کی اکثریت نے بتایا ہے کہ انسداد کرپشن کے اداروں کا کرپشن کی روک تھام میں کردار غیر موثر ہے۔  اس سروے رپورٹ کے اہم نکات ذیل میں پیش کیے جا رہے ہیں: 1) پولیس بدستور کرپٹ ترین شعبہ ہے۔ ٹینڈرنگ اور کنٹریکٹ دوسرا اور عدلیہ تیسرا کرپٹ ترین ادارہ ہے جبکہ تعلیم کا شعبہ گزشتہ این سی پی ایس 2021ء کے اعداد و شمار کے لحاظ سے ترقی کرکے اب چوتھے نمبر پر آ چکا ہے۔

  • دنیا میں کم از کم ایک ارب لوگوں کو پانی کی کمی کا مسئلہ درپیش ہے،اقوام متحدہ

    دنیا میں کم از کم ایک ارب لوگوں کو پانی کی کمی کا مسئلہ درپیش ہے،اقوام متحدہ

    دنیا میں کم از کم ایک ارب لوگوں کو پانی کی کمی کا مسئلہ درپیش ہے اور 2.7 ارب انسان ایسے ہیں جنھیں سال کے کم از کم ایک مہینے میں پانی کی کم یابی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    باغی ٹی وی : حال ہی میں دنیا کے پانچ سو بڑے شہروں کا سروے کیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ہر چار میں سے ایک شہر ’ پانی کے دباؤ‘ سے دوچار ہے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق یہ وہ صورتِ حال ہے جب پانی کی سالانہ مقدار1700 مکعب میٹر (17 لاکھ لیٹر) فی کس سے کم ہو جائے۔بہت سے لوگوں کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ لندن میں بھی پانی کی فراہمی دباؤ کا شکار ہے۔

    ثابت کر دیا ہم زمین کے محافظ کے طور پر سنجیدہ ہیں،سربراہ ناسا

    عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ وہاں بہت بارش ہوتی ہے، لیکن لندن میں بارش کی مقدار پیرس اور نیویارک کے مقابلے میں کم ہے اور یہاں کا 80 فیصد پانی دریاؤں سے آتا ہے۔

    گریٹر لنڈن اتھارٹی کے مطابق 2025 تک شہر میں پانی کم پڑنا شروع ہو جائے گا اور یہ مسئلہ 2040 تک ’سنگین شکل‘ اختیار کر لے گا۔عالمی ادارہ صحت ( ڈبلیو ایچ او) اور اقوامِ متحدہ کے بچوں سے متعلق ادارے ’یونیسف‘ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں صرف 36 فی صد آبادی پینے کا صاف پانی استعمال کر رہی ہے۔

    پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کی گزشتہ سال جاری ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ گندے پانی کا استعمال ملک میں30 فی صد بیماریوں کا سبب ہے اور 40 فی صد اموات بھی اسی کی وجہ سے ہوتی ہیں۔

    تعلیم کے ساتھ ساتھ پانی کے ماحول کے تحفظ میں حصہ لینے کے لیے عملی سرگرمیاں بھی ہونی چاہئیں جیسے جھیل کے اطراف کوڑا کرکٹ اٹھانا، کچرا سمندر میں نہ پھینکنا۔ ان لوگوں کے لیے جو ماحولیات کے شعبے میں کام کرتے ہیں، وسیع اطلاق کے لیے گندے پانی کے علاج کے نئے طریقوں کو تلاش کرنا اور جانچنا ہمیشہ ضروری ہوتا ہے۔

    خواتین ڈاکٹروں کے پاس مشکل اور ایمرجنسی کیسز زیادہ ہوتے ہیں،تحقیق

    گھروں میں پانی کی صفائی کا خیال رکھنے کے لیے شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔کوڑا کرکٹ کو وقت پر ٹھکانے لگائیں۔اسے تالابوں، جھیلوں یا ندیوں میں نہ پھینکیں۔ یونائیٹیڈ نیشن انوائرمنٹ پروگرام ( UNEP ) اقوام متحدہ کا ایک اہم ادارہ ہے۔

    اس کی ایک رپورٹ کے مطابق صنعتیں بہت زیادہ فضلہ پیدا کرتی ہیں اور ویسٹ مینجمنٹ کا مناسب نظام نہ ہونے کے باعث وہ کچرے کو میٹھے پانی میں پھینک دیتے ہیں، جو نہروں، دریاؤں اور بعد میں سمندر میں پہنچ جاتا ہے۔

    یہ فضلہ جو آبی آلودگی کی ایک بڑی وجہ ہے اس میں نقصان دہ کیمیکلز ہوتے ہیں جن میں لیڈ، مرکری، سلفر، نائٹریٹ، ایسبیسٹس اور بہت سے دیگر کیمیکلز شامل ہوتے ہیں جو پانی اور ہمارے ماحوال کو آلودہ کرتے ہیں اور ہمیں نقصان پہنچاتے ہیں۔

    اگلی نسل کو نقصان پہنچائے بغیر زندگی کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے رہنما خطوط اور عالمی ایکشن پلان فراہم کرنے کے لیے قائم کی گئی ہے۔ بڑے پیمانے پر شہری ترقی آبی آلودگی کی اہم وجوہات میں سے ایک ہے۔ جب بھی ایک گنجان آبادعلاقے میں بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوتے ہیں تو زمین کی جسمانی خرابی اس کے بعد شروع ہوتی ہے۔

    جیسے جیسے آبادی میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، اسی طرح رہائش، خوراک اور کپڑے کی مانگ بھی بڑھ رہی ہے۔ جیسے جیسے زیادہ شہر اور قصبے ترقی کر رہے ہیں، اس کے نتیجے میں زیادہ خوراک پیدا کرنے کے لیے کھادوں کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے۔

    نئی سڑکوں، مکانات اور صنعتوں کی تعمیر ڈٹرجنٹ، کیمیکلز اور اخراج کے ذریعے پانی کی صفائی کو متاثر کرتی ہے۔

    روسی سائبر حملے: درجن سے زائد امریکی ایئر پورٹس کی ویب سائٹس متاثر

    سیوریج لائنوں کے لیک ہونے سے زمینی پانی میںکلوروفارم کے ساتھ ساتھ دیگر آلودگیاں شامل ہو سکتی ہیں اور جب بروقت مرمت نہ کی جائے تو، رسنے والا پانی سطح پر آ سکتا ہے اور کیڑوں اور مچھروں کی افزائش گاہ بن سکتا ہے۔ ڈرائی کلینرز سے سیوریج لائنوں تک کلورین شدہ سالوینٹس کا اخراج بھی ان مستقل اور نقصان دہ سالوینٹس کے ساتھ آبی آلودگی کا ایک تسلیم شدہ ذریعہ ہے۔

    جب بارش ہوتی ہے تو کھادوں، کیڑے مار ادویات ،جڑی بوٹی مار ادویات لے جانے والے کھیتوں سے بہنے والا پانی بارش کے پانی میں گھل مل جاتا ہے اور ندیوں اور نہروں میں بہہ جاتا ہے، جو آبی جانوروں کے لیے شدید نقصان کا باعث بنتا ہے۔ اور دیگر آلودگی والے آبی ذخائر جیسے جھیلوں، ندیوں، تالابوں ) میں پانی کی آلودگی کا باعث بنتے ہیں۔

    کیمیائی کھادیں اور کیڑے مار دوائیں آبی آلودگی کی ایک بڑی وجہ ہیں کیونکہ یہ کیمیائی کھادیں اور کیڑے مار ادویات کاشتکار فصلوں کو کیڑوں اور بیکٹیریا سے بچانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

    بہت سے ممالک میں، گاڑیوں کے اخراج میں عام طور پر Pb ہوتا ہے اور یہ ہوا کو مختلف ٹیل پائپ مرکبات (بشمول سلفر اور نائٹروجن مرکبات، نیز کاربن آکسائیڈز) کے ساتھ آلودہ کرتا ہے جو پانی کے ذخائر میں بارش کے پانی کے ساتھ جمع ہو کر آبی آلودگی کا باعث بن سکتے ہیں-

    میکسیکو:اسکول میں درجنوں طالب علموں کو پرسرار طور پر زہردیدیا گیا

  • وزیراعظم سے فرانسیسی جمہوریہ کے سفیر کی ملاقات ،مدد پر فرانسیسی صدر کا شکریہ ادا کیا

    وزیراعظم سے فرانسیسی جمہوریہ کے سفیر کی ملاقات ،مدد پر فرانسیسی صدر کا شکریہ ادا کیا

    وزیراعظم محمد شہبازشریف سے پاکستان میں فرانسیسی جمہوریہ کے سفیر Nicolas Galey نے ملاقات کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان فرانس کے ساتھ دوطرفہ اور یورپی یونین کے تناظر میں اپنے دیرینہ تعاون پر مبنی تعلقات کو اہمیت دیتا ہے۔

    وزیراعظم نے پاکستان بھر میں حالیہ سیلاب سے ہونے والی وسیع تباہی اور سنگین صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومت کے اقدامات پر روشنی ڈالی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم نے سیلاب سے متاثرہ افراد کے لیے یکجہتی اور مدد پر فرانسیسی صدر Emmanuel Macron کا شکریہ ادا کیا اور سیلاب متاثرین کے لیے خیمے، واٹر پمپ اور ڈاکٹروں اور نرسوں کی ٹیم پر مشتمل امدادی پرواز بھیجنے پر شکریہ ادا کیا۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ نقصانات کا پیمانہ اور شدت اتنی زیادہ ہے کہ پاکستان تنہا اس کا سامنا نہیں کر سکتا ; بین الاقوامی برادری کی حمایت انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔

    وزیر اعظم نے مزید کہا کہ پاکستان کا گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلیوں میں حصہ نہ ہونے کے برابر ہے تاہم پاکستان موسمیاتی خطرات سے دوچار پہلے دس ممالک میں سے ایک ہے . انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ فوری امداد کے علاوہ، فرانس بحالی اور تعمیر نو کے مرحلے میں حکومت کی کوششوں میں ساتھ دے سکتا ہے .

    وزیراعظم نے مزید کہا کہ پاکستان باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں فرانس کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ فرانسیسی سفیر دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ آئی ٹی اسٹارٹ اپس(start ups)، زراعت، پانی کے انتظام اور توانائی جیسے شعبوں میں تعاون بڑھانے میں اپنا کردار ادا کرینگے ۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان باہمی فائدہ مند تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے لیے فرانس کے ساتھ مسلسل روابط کا خواہاں ہے.

  • مسجد نبویﷺ کے قریب ’رؤى المدینہ‘ منصوبے کا افتتاح

    مسجد نبویﷺ کے قریب ’رؤى المدینہ‘ منصوبے کا افتتاح

    سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے مسجد نبویﷺ کے مشرق میں واقع ’رؤى المدینہ‘ منصوبہ کے ماسٹرپلان کا افتتاح کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : "عرب نیوز” نے سعودی پریس ایجنسی کے حوالے سے بتایا کہ ولی عہد نے بنیادی ڈھانچے کے کاموں کا افتتاح کیا اور اس منصوبے کے ماسٹر پلان کی نقاب کشائی کی، جسے رواء المدینہ ہولڈنگ کمپنی تیار کرے گی، جو مکمل طور پر پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کی ملکیت ہے۔

    یو اے ای کا 6 سال بعد ایران میں سفیر تعینات کرنے کا اعلان

    اس منصوبے سے مدینہ منورہ میں اقامت گاہوں کی گنجائش میں اضافہ ہوگا اورشہر کے ہوٹل عمرہ سیزن کے دوران میں تین کروڑسے زیادہ زائرین کی میزبانی کر سکیں گے۔

    یہ منصوبہ مملکت کے ویژن 2030ء کے اہداف سے مطابقت رکھتا ہے۔اس منصوبہ پرسعودی عرب کے خودمختار سرمایہ کاری فنڈ (پی آئی ایف) کے تحت ’رؤى المدینہ‘ ہولڈنگ کمپنی عمل درآمد کررہی ہے۔یہ کمپنی مدینہ منورہ میں ترقی، آپریشن اور رئیل اسٹیٹ سرمایہ کاری میں مہارت رکھتی ہے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس منصوبہ پراعلیٰ ترین بین الاقوامی معیارکے مطابق عمل درآمد کیا جائے گا۔اس کا مقصد مدینہ منورہ کی ایک جدید اسلامی اور ثقافتی منزل کے طور پرپوزیشن کو مستحکم کرنا ہے۔اس کی تعمیروترقی سعودی قیادت کی اوّلین ترجیحات میں شامل ہے۔

    ایران میں کرپشن کےمیگا اسکینڈل نے ملک ک ہلا کر رکھ دیا,اسٹیل کمپنی معطل

    اس منصوبے کی تکمیل کے بعد مدینہ منورہ میں ہوٹلوں کے کمروں کی تعداد میں 47,000 کا اضافہ ہوگا،مزید کھلی اور سبز جگہیں ہوں گی اور وہ پندرہ لاکھ مربع میٹر کے کل زمینی رقبے کا 63 فی صد بنتی ہیں۔

    اس منصوبے میں ٹرانسپورٹ کے مختلف مراکز شامل ہوں گے۔ان میں نو بس اسٹاپ، ایک میٹرواسٹیشن، خودکار چلنے والی گاڑیوں کے لیے ٹریک اوراپنی ذاتی گاڑیوں میں سفرکرنے والوں کے لیے زیرزمین پارکنگ شامل ہے اس منصوبے کا مقصد حجاج کرام کے لیے ایک جدید اسلامی اور ثقافتی مقام کے طور پر شہر کی حیثیت کو بلند کرنا ہے۔

    بھارت میں نیا وائرس”ٹماٹو فلو” پھیلنے لگا