آئی جی اسلام آباد کے گھر کے سامنے ڈکیتی…آئی جی کے لئے مہنگی ثابت
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں امن و امان کی مخدوش صورتحال کی وجہ سے آئی جی اسلام آباد قاضی جمیل الرحمان کو عہدےسے ہٹا دیا گیا ،قاضی جمیل الرحمان کو اسٹبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی،پولیس سروس گریڈ 20 کے احسن یونس کو نیا آئی جی اسلام آباد تعینات کردیا گیااحسن یونس کی خدمات پنجاب سے وفاق کی سپرد کردی گئیں,
واضح رہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں امن و امان کی صورتحال انتہائی مخدوش ہو چکی ہے دن دہاڑے ڈکیتی کی وارداتیں ہو رہی ہیں ، پولیس خاموش تماشائی دکھائی دیتی ہے، اب ڈاکوؤں نے آئی جی اسلام آباد کو چیلنج کیا ہے، آئی جی اسلام آباد کے گھر کے سامنے والے گھر میں ڈکیتی کی واردات ہوئی ہے ،مسلح ڈاکو دن دہاڑے گھر میں گھسے اور اہلخانہ کو باندھ کر لوٹ مار کی اور فرار ہو گئے،ڈاکوؤن نے گھر کا صفایا کر دیا وار 35 لاکھ روپے نقد اور زیورات لوٹ کر فرار ہوئے، ڈاکو گاڑی میں سوار ہو کر آئے تھے اور گاڑی میں ہی فرار ہوئے، ڈاکو آئی جی ھاوس کے باہر تعینات سیکورٹی اہلکاروں کے سامنے داخل ہوئے۔ واردات پوش سیکٹر ایف سیون تھری کی گلی نمبر 63میں ہوئی
گھر کے مالک ذبیح اللہ کا کہنا ہے کہ وہ 25 سال سے یہاں اس گھر میں مقیم ہیں، میرے گھر کے سامنے آئی جی کا گھر ہے اور حالت یہ ہے کہ ڈکیتی ہوئی اطلاع دی ابھی تک ملزم گرفتار نہیں ہو سکے،
واضح رہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں گزشتہ دو ہفتوں میں ڈکیتی کی 25 سے زائد وارداتیں ہو چکی ہیں ،قبل ازیں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں وفاقی دارالحکمومت اسلام آباد میں بڑھتے ہوئے چوری، ڈکیتی، ریپ، قتل و دیگر جرائم کے واقعات کے تدارک کیلئے اسلام آباد پولیس کی طرف سے امن و امان کو برقرار رکھنے اور جرائم کے تدارک کیلئے اٹھائے گئے اقدامات کے علاوہ سینیٹر نزہت صادق کی F-10 سیکٹر میں واقعہ رہائش گاہ میں ہونے والی ڈکیتی کے واقعہ کے علاوہ اسلام آباد کے سیکٹر G-13 میں ہونے والی چوری کے حوالے سے پولیس کے غیر پیشہ وارانہ رویے اور اس کیلئے قائمہ کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔چیئرمین و اراکین کمیٹی نے وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں امن و امان، چوری، ڈکیتی و دیگر جرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتوں پر شدید تحفظات کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ اداروں کو مناسب متحرک ہونا چاہئے لوگوں کو تحفظ فراہم کرنا فرائض منصبی میں شامل ہے۔ دارلحکومت میں امن و امان کے حالات کی تنزلی سے تمام لوگ پریشان ہیں اور اسلام آباد کے پوش علاقوں میں چوری، ڈکیتی، قتل اور زیادتی کے واقعات ہونا متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان بن گئے ہیں۔
وزیراعظم نے جہانگیر ترین بارے کیا رپورٹ مانگی تھی؟ بیرسٹر علی ظفر کا انکشاف
اسلام آباد ہائیکورٹ نے جہانگیر ترین بارے درخواست پر فیصلہ سنا دیا
بریکنگ..شہزاد اکبر کھل کر جہانگیر ترین گروپ کیخلاف آ گئے، مقدمہ درج کروا دیا
جہانگیر ترین کیخلاف کاروائی سے پہلے عدالت کو بتانا ہو گا،عدالت کا حکم، درخواست ضمانت واپس
جہانگیر ترین کی شوگر ملز کے حوالہ سے درخواست کیوں مسترد ہوئی؟ تحریری فیصلہ جاری
جہانگیر ترین فیصلہ کر لیں پارٹی میں رہنا ہے یا نہیں، میرے ساتھ بھی زیادتی ہوتی رہی،پی ٹی آئی رہنما برس پڑے
جہانگیر ترین گروپ کی آج کس شخصیت سے ملاقات طے؟ پنجاب میں تہلکہ مچ گیا
جہانگیر ترین گروپ کا آج ہونے والا اجلاس ایک بار پھر موخر
جہانگیر ترین بارے رپورٹ وزیراعظم کو پیش،اہم شخصیت کا بڑا دعویٰ
آرڈر پر عمل نہ ہوا تو سیکریٹری داخلہ، چیف کمشنر، آئی جی اسلام آباد پیش ہوں،عدالت
سینیٹر نزہت صادق کی رہائش گاہ پر ہونے والی ڈکیتی کے حوالے سے سینیٹر نزہت صادق نے کہا کہ دوپہر ڈیڑھ بجے کے قریب ایک سفید گاڑی میں پانچ سے چھ افراد ہمارے گھر میں داخل ہوئے۔ گھر کے ملازمین کو یرغمال بنا کر ڈکیتی کی گئی میرے خاوند بھی گھر پر موجود تھے۔ سیکٹر F-10میں گزشتہ چند دنوں کے دوران بہت سی ڈکیتیوں کے وارداتیں ہو چکی ہیں۔ حکومت کی ناک کے نیچے ایسے حالات ہونا لمحہ فکریہ ہے 15پر کال بھی کی نمبر مصروف تھا اور کسی نے 15سے بیک کال نہیں کی۔ ڈکیتی کرنے والے صاف ستھرے اور اچھے کپڑوں میں تھے۔آئی جی اسلام آباد پولیس قاضی جمیل نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ لوگوں کو امن و امان اور تحفظ فراہم کرنا ہمارا فرائض منصبی ہے اور بھر پور کوشش کی جا رہی ہے کہ اسلام آباد میں جرائم کی شرح کو جتنا زیادہ ممکن ہو سکے کم سے کم کیا جائے اس کے لئے اقدامات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔ حالات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں بے شمار گروپس اور نئے گینگ بن گئے ہیں۔ محکمہ پولیس امن و امان اور تحفظ کی فراہمی کیلئے نئی اصلاحات عمل میں لا رہی ہے۔ فوری ایکشن کیلئے سسٹم بنائے جا رہے ہیں پولیس کی گاڑیوں اور بائیکس پر ٹریکر لگائے جا رہے ہیں اور موبائل گاڑیوں کی تعداد بھی بڑھائی جا رہی ہے۔ انہوں نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ اسلام آباد کو سیف سٹی بنانے کیلئے 2008میں سیف سٹی منصوبہ شروع کیا گیا جو 2018میں مکمل ہو ا۔ 1900 کیمرے لگائے گئے 96 فیصد کام کر رہے ہیں۔ یہ منصوبہ دس سال پہلے کی آباد ی کیلئے تھا اب اسلام آباد بہت پھیل چکا ہے اور موجودہ کیمروں سے صرف 30فیصد کوریج کی جا رہی ہے۔1900مزید کیمروں کیلئے پلان بنا کر بھیجا گیا ہے بہتر تحفظ اور سیکورٹی کو یقینی بنانے کیلئے پرائیویٹ تنظیموں کو بھی ساتھ ملایا جا رہا ہے۔ سمارٹ گاڑیاں لی جا رہی ہیں اور صوبہ خیبر پختونخواہ، پنجاب اور سندھ سے بھی مشاورت کی جا رہی ہے صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر کیرمینل لوگوں کا ڈیٹا اکٹھا کیا جا رہا ہے بہتر ٹیکنالوجی کے استعمال سے معاملات میں بہتری لائی جا ئے گی۔