Baaghi TV

Tag: تجارتی خسارہ

  • رواں مالی سال کے پہلے8 ماہ کےدوران  مالیاتی خسارہ 553 ارب سےبڑھ کر1862 ارب روپے ہو گیا

    رواں مالی سال کے پہلے8 ماہ کےدوران مالیاتی خسارہ 553 ارب سےبڑھ کر1862 ارب روپے ہو گیا

    اسلام آباد: رواں مالی سال 22-2021 کے پہلے 8 ماہ کے دوران مہنگائی کی شرح ساڑھے 10 فیصد رہی ہے –

    باغی ٹی وی : وزارت خزانہ کی جانب سے گذشتہ روز(پیر)ملکی معیشت پرجاری کردہ ماہانہ اپ ڈیٹ آؤٹ لک رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال 22-2021 کے پہلے 8 ماہ کے دوران ملک کا مالیاتی خسارہ 553 ارب روپے سے زائد اضافے کے ساتھ بڑھ کر 1862 ارب روپے جبکہ تجارتی خسارہ 13 ارب 60 کروڑ ڈالر اضافے کے ساتھ بڑھ کر 27.3 ارب ڈالرہوگیا ہے۔

    جبکہ رپورٹ کے مطابق مہنگائی کی شرح ساڑھے 10 فیصد رہی ہے جو کہ گزشتہ مالی سال 21-2020 کے اسی عرصے میں8.3 فیصد تھی علاوہ ازیں گزشتہ ماہ (فروری2022) کی مہنگائی کی شرح 12.2 فیصد رہی ہے جو کہ گزشتہ برس فروری 2021 میں 8.7 فیصد تھی۔

    رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال 21-2020 کے پہلے 8 ماہ کے دوران ترسیلات زر 7.6 فیصد اضافے سے 20.1 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئی ہیں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری 6.1 فیصد اضافے سے 1.26 ارب ڈالر رہی، پورٹ فولیو سرمایہ کاری مثبت رجحان کے ساتھ 90 کروڑ49 لاکھ ڈالر ہو گئی مجموعی غیر ملکی سرمایہ کاری مثبت رجحان کے ساتھ ایک ارب84 کروڑ77 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔

    پاکستان میں پہلا روزہ اتوار 3 اپریل جبکہ عیدالفطر 3 مئی 2022 کو ہوگی،رویت ہلال ریسرچ کونسل

    دوسری جانب گزشتہ روز سروس لانگ مارچ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے کہا ہے کہ پاکستانی برآمدات بڑھانے کی صلاحیت بیش بہا ہے ماضی میں کئی وجوہات کے سبب ہم اپنی صلاحیت سے بھرپور استفادہ نہ کرسکے، بینک دولت پاکستان کا قیمت و مالی استحکام اور نمو کا ویژن ہے کووڈ وبا کے دوران کاروباری طبقے میں خوف تھا بینک دولت پاکستان نے اس وقت سرمایہ کاری کے لیے ’’ٹف‘‘ اسکیم فراہم کی۔ ’’ٹف‘‘اسکیم سے 435 ارب روپے قرض کی منظوری دی جاچکی ہے۔

    رضا باقر نے کہا کہ سروس لانگ مارچ نے بھی ’’ٹف‘‘ اسکیم سے قرض لے کر ایکسپورٹس کا منصوبہ لگایا ہے۔ سروس لانگ مارچ ہماری ایکسپورٹس کو تنوع فراہم کرے گا۔ انھوں نے کہاکہ پاکستان عالمی ویلیوچین کا حصہ کیسے بنے سروس لانگ مارچ اس کی اچھی مثال ہے۔

    مہنگائی کا عذاب نازل کرنے والوں کو آخری دھکا دیں،شہباز شریف

  • 8 ماہ کے دوران تجارتی خسارہ 32 ارب ڈالرتک پہنچ گیا

    8 ماہ کے دوران تجارتی خسارہ 32 ارب ڈالرتک پہنچ گیا

    اسلام آباد: رواں مالی سال کے پہلے 8 ماہ کے دوران تجارتی خسارہ 32 ارب ڈالرتک پہنچ گیا-

    باغی ٹی وی : پاکستان بیورو آف اسٹیٹیکس کے گزشتہ روز جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق جولائی تا فروری تجارتی خسارہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 82 فیصد یا 14.4 ڈالر زائد رہا۔

    تھر کول پلانٹ میں دھماکہ،5 افراد زخمی

    آٹھ ماہ کے دوران تجارتی خسارے میں 82.26 فیصد اضافہ ہوا،وفاقی حکومت نے تجارتی خسارے کا سالانہ ہدف 28.4 ارب ڈالر مقرر کیا تھا جو 7مہینوں ہی میں پورا ہوگیا اس عرصے کے دوران درآمدات 55 فیصد اضافے کے ساتھ 52ارب 50 کروڑ 60 لاکھ ڈالرز رہیں-

    جولائی تا فروری برآمدات میں 26 فیصد اضافہ ہوا اور یہ بڑھ کر 20 ارب 54 کروڑ 70 لاکھ ڈالرز رہیں جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں برآمدات کا حجم 16.3 ارب ڈالر رہا تھا۔

    راولپنڈی: بارش کے باعث پاکستان اورآسٹریلیا کی ٹیموں کا پریکٹس سیشن منسوخ

    8 ماہ میں درآمدات میں 55.08 فیصد اضافہ ہوا، اس عرصے میں برآمدات میں 25.88 فیصد اضافہ ہوا وزارت تجارت نے اب تخمینہ لگایا ہے کہ رواں مالی سال کے اختتام پر برآمدات 31 ارب ڈالر کی سطح پر پہنچ سکتی ہیں۔

    وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق جنوری کی نسبت فروری میں تجارتی خسارے میں 9.69 فیصداضافہ ہوا، فروری 2022 میں تجارتی خسارہ 3 ارب 9 کروڑ 50 لاکھ ڈالرز رہا، فروری میں درآمدات 5 ارب 90 کروڑ 30 لاکھ ڈالرز رہیں،جو گذشتہ برس کے اسی ماہ کے مقابلے میں 28.3 فیصد یا 1.3 ارب ڈالر زیادہ ہے اس عرصے میں برآمدات 2 ارب 80 کروڑ 80 لاکھ ڈالرز رہیں جو گذشتہ سال کی زیرتبصرہ مدت سے 36 فیصد یا 74 کروڑ ڈالر زائد ہے۔

    بھارت کی پاکستان کو اپنے متنازعہ منصوبوں کےدورے کی یقین دہانی

  • کرنٹ اکاؤنٹ خسارےکے اعدادوشمارمیں کس نے کیوں ہیرپھیرکرکے گمراہی پھیلائی:تہلکہ خیزرپورٹ آگئی

    کرنٹ اکاؤنٹ خسارےکے اعدادوشمارمیں کس نے کیوں ہیرپھیرکرکے گمراہی پھیلائی:تہلکہ خیزرپورٹ آگئی

    اسلام آباد : کرنٹ اکاؤنٹ خسارےکے اعدادوشمارمیں کس نے کیوں ہیرپھیرکرکے گمراہی پھیلائی:تہلکہ خیزرپورٹ آگئی،اطلاعات کے مطابق ادارہ شماریات کی اس ٹیم کی طرف سے غلط اعدادوشمارپیش کرنے کی شرارت نومبر میں ریکارڈ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کی وجہ بنی۔ ادارہ شماریات نے پٹرولیم درآمدات 1.8ملین ٹن کے بجائے 2.8ملین ٹن ظاہر کیں،ویکسین کو بھی قرضوں یاامداد میں شمار کرنے کے بجائے درآمدات کی مد میں ڈال دیا۔

    انگریزی روزنامے بزنس ریکارڈر کی تحقیق کے مطابق نومبر میں 1.9ا رب ڈالر کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے نے بہت سے لوگوں کو حیران کر دیا تھا۔

    ادارہ شماریات نے 5ارب ڈالر کے تجارتی خسارے کی بنیاد پر لوگ توقع کررہے تھے کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ تقریباً 3 ارب ڈالر ہوگا لیکن اسٹیٹ بینک کا مال تجارتی خسارہ 3.7 ارب ڈالر رہا۔مالی سال 2022 کے 5 ماہ کیلیے ادارہ شماریات کے 20.6ارب ڈالر اور اسٹیٹ بینک کے 17.6 ارب ڈالر کے تجارتی خسارے کا فرق 3ارب ڈالر ہے اور یہ فرق بنیادی طور پر جولائی تا نومبر 3.1ارب ڈالر کی درآمدات سے آتا ہے۔

    ادارہ شماریات اور اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار میں فرق آنا معمول کی بات ہے کیونکہ جب بھی درآمدات میں اضافہ ہوتا ہے تو دونوں اداروں کے اعداد وشمار میں فرق آجاتا ہے جوکہ آنے والے مہینوں میں ادارہ شماریات کے رپورٹ کردہ خسارے میں کمی کے ساتھ معمول پر آجا تا ہے تاہم ایسا لگتا ہے کہ ادارہ شماریات نے پٹرولیم کی درآمدات کی رپورٹنگ میں غلطی کی ہے جس سے فرق جزوی طور پر بڑھ گیا ہے۔

    دوسری طرف ملک نامور تجزیہ کار اور معاشی ماہرین ادارہ شماریات کے 7.9 ارب ڈالر کی درآمدات کے اعداد وشمار دیکھ کر حیران رہ گئے اور اسے ہضم کرنا مشکل تھا۔نتیجتاً روپے کی قدرگری اور اسٹاک مارکیٹ مندی کا شکار ہوئی ۔ تاہم سمجھدار تجزیہ کار ادارہ شماریات کے تفصیلی اعداد و شمار میں یہ دیکھ کر حیران کر دیا کہ پاکستان نے نومبر میں 2.8 ملین ٹن پٹرولیم مصنوعات اور خام تیل درآمد کیا جو کہ ممکن نہیں ہے۔

    محکمہ شماریات کو ڈیٹا فراہم کرنے والی آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل(OCAC) کا ڈیٹا نومبر میں 1.8 ملین ٹن کی آئل امپورٹ کو ظاہر کرتا ہے جبکہ ملک کی سالانہ درآمدات پرنظر ڈالی جائے تو بھی اوسی اے سی کے اعداد وشمار درست معلوم ہوتے ہیں جو 2020 میں 15ملین ٹن اور 2019 میں 18.5 ملین ٹن تھی۔اب سوال یہ ہے کہ ادارہ شماریات نے درآمدات زیادہ کیوں ظاہر کیں جس کے نتیجے میں درآمدی بل میں 50کروڑ ڈالر کا غیرواضح فرق آیا۔وفاقی حکومت کو مارکیٹ کو ا س سوال کا جواب دینا ہوگا۔

    دوسری طرف سوشل میڈیا پرعوام الناس کی طرف سے پُرزورمطالبہ کیا جارہا ہے کہ حکومت ان عناصر کی نشاندہی کرے جوکسی دوسری پارٹی کے لیے ملک کے اداروں کونقصان پہنچا رہے ہیں ، بعض‌ کا کہنا تھا کہ یہ عناصر اتنے بڑے بڑے جھوٹ بول کرقوم کو گمراہ کررہے ہیں ان کو جابز سے فارغ کردیا جائے اور ان کو آزادی دی جائے کہ یہ جس پارٹی کے لیے اس قسم کی شرارتیں کرتے ہیں اب اس کے لیے جا کرسیاست کریں ، ان کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ عوام الناس کی محنت اورخون پسینے کی کمائی سے بڑی بڑی تنخواہیں لے کر غلط بیانی کریں‌

  • تجارتی خسارہ کم سے کم ہونے لگا ، اسٹیٹ بینک کا دعویٰ‌

    تجارتی خسارہ کم سے کم ہونے لگا ، اسٹیٹ بینک کا دعویٰ‌

    کراچی :پاکستان کی معاشی صورت حال بہتر ہونے لگی ہے، حکومتی اقدامات نے بھی رنگ دکھانے شروع کردیئے ہیں ، اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپنی سہ ماہی رپورٹ میں کہا ہے کہ ستمبر2019میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ25 کروڑ ڈالر رہا جو اگست2019سے35کروڑ ڈالر کم ہے۔

    اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق ستمبر2019میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ25 کروڑڈالررہا، ماہ ستمبر کا خسارہ اگست سے35کروڑ ڈالرکم رہا۔مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ1.54ارب رہا جبکہ مالی سال19 کی پہلی سہ ماہی کاخسارہ4.28ارب ڈالر تھا۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ63 فیصد کم ہے، تین ماہ میں تجارتی خسارہ تقریباً4.99ارب ڈالر ہے۔

    یہ تجارتی خسارہ سوا 3ارب ڈالر کم ہوا ہے، تین ماہ میں خدمات کاخسارہ1.20ارب ڈالر رہا،اسٹیٹ بینک کے مطابق تین ماہ میں آمدن کا خسارہ1.48ارب ڈالر رہا،جس میں تجارت، خدمات اور آمدن کاخسارہ7.68ارب ڈالر رہا۔اسٹیٹ بینک ذرائع کے مطابق سیکنڈری آمدن کے کھاتوں میں6 ارب 13کروڑ ڈالر آئے اور خسارے کی فنانسنگ کے لئے1.44ارب ڈالر قرض لیا گیا۔