Baaghi TV

Tag: تجارت

  • پاکستان اور ایران کے درمیان زمینی راستے تجارت کا آغاز

    پاکستان اور ایران کے درمیان زمینی راستے تجارت کا آغاز

    پاکستان اور ایران کے درمیان زمینی راستے سے تجارتی سرگرمیوں کا آغاز کردیا گیا ہے۔

    پاک ایران ٹرانزٹ کوریڈور کے تحت تجارتی سرگرمیوں کا آغاز کردیا گیا اور اس کوریڈورسے پاکستان سے پہلا برآمدی کنسائمنٹ بھی بھیج دیا گیا ہے ،ڈائریکٹو ر یٹ ٹرانزٹ ٹریڈ کسٹمز ثناءاللہ ابڑو نے نجی خبررساں ادارے کو بتایا کہ پہلی برآمدی کھیپ ریفریجریٹڈ ٹرکوں کے ذریعے ازبکستان تاشقند کے لیے منجمد گوشت بھیجا گیا ہے،پاکستان سے ٹرانزٹ کوریڈور کے ذریعے اشیا کے کنسائمنٹس گوادر، ایران کے راستے وسط ایشیائی ریاستوں تک پہنچایا جائے گا۔

    انہوں نے کہا کہ اس کوریڈور کے فعال ہونے سے پاکستان کی ناصرف معیشت کی نمو کی رفتار تیز ہوجائے گی بلکہ پاکستانی بندرگاہوں پر رش بھی بڑھ جائے گا، پاک ایران ٹرانزٹ کوریڈور کا عملی آغاز ٹی آئی آر کے تحت کیا گیا ہے اس ضمن میں ڈائریکٹوریٹ ٹرانزٹ ٹریڈ کسٹمز نے ٹی آئی آر کے طریقہ کار کو موثر بنا تے ہوئے ٹی آئی آر ٹرانزٹ کے لیے تافتان، رمدان، سوست، گوادر ودیگر اہم بارڈر کراسنگ پوائنٹس کو فعال کیا ہے۔

  • رواں مالی سال کی پہلی ششماہی: ملکی برآمدات میں نمایاں کمی ریکارڈ

    رواں مالی سال کی پہلی ششماہی: ملکی برآمدات میں نمایاں کمی ریکارڈ

    کراچی: رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران ملکی برآمدات میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی جس سے ملکی تجارت اور معیشت کو بڑا دھچکا پہنچا۔

    سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک کے مختلف شعبوں کی برآمدات میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے غذائی اجناس کی برآمدات میں 40.29 فیصد کمی ہوئی، جس کا حجم 2 ارب 36 کروڑ ڈالرز تک رہ گیا گزشتہ مالی سال کی پہلی ششماہی میں غذائی اجناس کی برآمدات تقریباً 4 ارب ڈالرز تھیں اسی طرح چاول کی برآمدات میں 49.90 فیصد کمی، سبزیوں کی برآمدات میں 36.80 فیصد کمی، مقامی خشک میوہ جات کی برآمدات میں 63.78 فیصد کمی اور پلاسٹک کے سامان کی برآمدات میں 43.66 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

    فارماسوٹیکل مصنوعات کی برآمدات میں 28.67 فیصد کمی جبکہ ٹرانسپورٹ کے سامان کی برآمدات میں 36.51 فیصد کمی دیکھی گئی اس کے برعکس ٹیکسٹائل شعبہ اپنی برآمدات میں معمولی اضافہ برقرار رکھنے میں کامیاب رہا اور اس دوران ٹیکسٹائل برآمدات کا حجم 9 ارب 16 کروڑ ڈالرز تک پہنچ گی تاہم مجموعی برآمدات میں کمی کے باعث معیشت پر دباؤ برقرار ہے۔

    ماہرین کے مطابق برآمدات میں کمی کی بنیادی وجوہات عالمی طلب میں کمی، برآمدی لاگت میں اضافہ، لاجسٹک اور مارکیٹ رسائی کے مسائل، اور عالمی منڈیوں میں مسابقتی دباؤ ہیں،ماہرین نے اس رجحان کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے حکومتی سطح پر فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔

  • اسحاق ڈار کی افغان قیادت سے اہم ملاقاتیں، سیکیورٹی و بارڈر مینجمنٹ پر زور

    اسحاق ڈار کی افغان قیادت سے اہم ملاقاتیں، سیکیورٹی و بارڈر مینجمنٹ پر زور

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے افغان عبوری وزیراعظم ملا محمد حسن اخوند اور عبوری وزیر داخلہ سراج الدین حقانی سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں، جن میں سیکیورٹی، تجارت اور علاقائی تعاون کے امور پر گفتگو ہوئی۔

    دفتر خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان کے مطابق اسحاق ڈار اور افغان عبوری وزیراعظم کی ملاقات میں امن و سلامتی، تجارت، راہداری تعاون اور علاقائی رابطوں پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کے فروغ کے لیے اعلیٰ سطح روابط کو برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔اس کے علاوہ اسحاق ڈار کی افغان عبوری وزیر داخلہ سراج الدین حقانی سے ملاقات ازبکستان-افغانستان-پاکستان ریلوے کوریڈور کی مشترکہ فزیبلٹی اسٹڈی پر دستخط کی تقریب کے موقع پر ہوئی۔

    ملاقات میں سیکیورٹی اور بارڈر مینجمنٹ جیسے اہم معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں 7 کروڑ 16 لاکھ ڈالر کی کمی

    پنجاب اسمبلی: اپوزیشن کے 26 ارکان کی معطلی پر حکومت و اپوزیشن میں اتفاق

    پاکستان کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز کے لیے بنگلادیش اسکواڈ کا اعلان

  • عرب امارات سے تجارت میں اضافہ کے خواہشمند ہیں، گورنرسندھ

    عرب امارات سے تجارت میں اضافہ کے خواہشمند ہیں، گورنرسندھ

    گورنرسند ھ کامران خان ٹیسوری نے کہاہے کہ متحدہ عرب امارات سے تجارت میں مزید اضافہ کے خواہشمند ہیں۔پاک یو اے ای دوطرفہ تعلقات وقت کے ساتھ ساتھ مزید مستحکم ہورہے ہیں۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنرہائو س میں متحدہ عرب امارات کے قونصل جنرل بخیط عتیق الرومیتھی سے ملاقات میں کیا ۔اس موقع پر U-Bank کے چیف ایگزیکٹو آفیسر محمد عیسیٰ الطاہری بھی موجود تھے۔ ملاقات میں دوطرفہ تعلقات ، سرمایہ کاری ، تجارت میں اضافہ اور دیگر دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ گورنرسندھ نے قونصل جنرل بخیط عتیق الرومیتھی کی پاکستان میں تعیناتی کے 25 برس مکمل ہونے پر کیک بھی کاٹا ۔ گورنر سندھ نے یو اے ای کے قونصل جنرل اور یو بنک کے سی ای او کو گراں قدر خدمات پر گولڈ میڈل بھی دیئے۔متحدہ عرب امارات کے قونصل جنرل نے کہا کہ گورنر اینیشیٹیو کے تحت جاری منصوبوں سے تبدیلی یقینی ہے۔

    کراچی،: بدترین ٹریفک جام، شہری پریشان

    صدر مملکت سے 38 ویں ایئر وار کورس کے شرکاء کی ملاقات

    سندھ ہائیکورٹ میں ایڈیشنل ججز کیلئے 12 ناموں کی منظوری

  • 2023-24،پاکستان کی سارک ممالک کیساتھ تجارت کی تفصیلات جاری

    2023-24،پاکستان کی سارک ممالک کیساتھ تجارت کی تفصیلات جاری

    2023-24 میں پاکستان کی سارک ممالک کے ساتھ برآمدات 2 ارب 18 کروڑ ڈالر جبکہ درآمدات 91 کروڑ 72 لاکھ ڈالر رہی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق وزارت تجارت کی جانب سے سینیٹ میں پیش کردہ تفصیلات کے مطابق افغانستان کے ساتھ پاکستان کی سب سے زیادہ برآمدات ریکارڈ کی گئیں، جو ایک ارب ڈالر سے زائد جبکہ درآمدات 54 کروڑ ڈالر رہیں۔بنگلہ دیش کے ساتھ 72 کروڑ ڈالر کی برآمدات جبکہ 4 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کی درآمدات ریکارڈ ہوئیں۔ سری لنکا کے ساتھ پاکستان کی برآمدات 39 کروڑ ڈالر رہیں، جبکہ درآمدات ساڑھے 5 کروڑ ڈالر تک پہنچیں۔انڈیا کے ساتھ کشیدگی کے باوجود برآمدات تو نہ ہونے کے برابر ہے، تاہم درآمدات 27 کروڑ 80 لاکھ ڈالر ریکارڈ ہوئی۔مالدیپ کے ساتھ برآمدات 91 لاکھ ڈالر جبکہ درآمدات 1 لاکھ ڈالر ہوئیں، نیپال کے ساتھ مجموعی برآمدات 29 لاکھ ڈالر جبکہ درآمدات 31 لاکھ ڈالر رہیں۔

    پاکستان کے سارک ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات نہ صرف اقتصادی تعلقات کو مضبوط بناتے ہیں بلکہ جنوبی ایشیا میں باہمی تعاون اور ترقی کے لیے بھی اہم ہیں۔افغانستان جیسے ہمسایہ ملک کے ساتھ تجارتی تعلقات کا فروغ پاکستان کی اقتصادی ترقی کے لیے سودمند ثابت ہو سکتا ہے، جب کہ بھارت کے ساتھ سیاسی کشیدگی کی وجہ سے تجارتی تعلقات محدود ہیں۔ تاہم، بنگلہ دیش، سری لنکا اور دیگر سارک ممالک کے ساتھ مضبوط تجارتی روابط پاکستان کے لیے خطے میں معاشی استحکام اور ترقی کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔

    سابق اسپنر عبدالرحمان قومی ٹیم کے اسپن بولنگ کوچ مقرر

    سندھ حکومت کا تھر جیب ریلی، تھر اسپورٹس فیسٹول منعقد کرانے کا فیصلہ

    عالمی بینک کا پاکستان کو 20 ارب ڈالرز دینے کا وعدہ

    بیرون ملک میڈیکل کالجوں میں داخلے کیلئے ایم ڈی کیٹ لازمی قرار

  • وزیراعلیٰ پنجاب کا دورہ چین،13 ارب کی سرمایہ کاری کا وعدہ

    وزیراعلیٰ پنجاب کا دورہ چین،13 ارب کی سرمایہ کاری کا وعدہ

    پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز کا چین کا حالیہ دورہ ایک بڑی کامیابی ثابت ہوا ہے، جس کے دوران چین کی کمپنیوں نے صوبے میں 13 ارب روپے سے زائد کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا ہے۔

    اس دورے کے دوران آئی ٹی، سبز توانائی، اور ماحولیاتی شعبوں میں چینی کمپنیوں کے ساتھ متعدد اہم معاہدے کیے گئے۔اس دورے کی سب سے بڑی کامیاب پیش رفت گوبی پارٹنرز کی جانب سے 50 ملین ڈالر (تقریباً 13.88 ارب روپے) کے سرمایہ کاری فنڈ کا اعلان تھا۔ اس فنڈ کا مقصد پنجاب میں نئے کاروباروں (اسٹارٹ اپس) اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کی حمایت کرنا ہے۔ گوبی پارٹنرز کا یہ فنڈ پنجاب میں کاروباری ماحول کو مزید فروغ دینے اور صوبے کو کاروباری ترقی کے حوالے سے ایک مضبوط مقام دینے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

    ایک اور اہم معاہدہ سولر این پلس اور پنجاب حکومت کے درمیان ہوا، جس کے تحت صوبے میں شمسی توانائی کی ٹیکنالوجی کو فروغ دینے کے لیے ایک مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔ اس معاہدے کے تحت، سولر این پلس پنجاب میں جدید ترین شمسی توانائی کی ٹیکنالوجی متعارف کرانے اور مقامی سطح پر توانائی کے شعبے میں صلاحیت بڑھانے کے لیے کام کرے گا۔

    گوبی پارٹنرز اور بینک آف پنجاب کے درمیان بھی ایک شراکت داری کا معاہدہ ہوا ہے، جس کا مقصد پنجاب میں اسٹارٹ اپس اور چھوٹے کاروباری اداروں کے لیے مالیاتی حل فراہم کرنا ہے۔ اس شراکت داری کے تحت کاروباری اداروں کو قرضوں، ایکویٹی سرمایہ کاری، مالی حل، اور رہنمائی فراہم کی جائے گی تاکہ وہ اپنے کاروبار کو بہتر بنا سکیں۔

    اس دورے کے دوران پنجاب حکومت نے چین کی کمپنیوں کو صوبے میں سرمایہ کاری کے لیے دستیاب معاشی ترغیبات اور خصوصی صنعتی زونز کے بارے میں آگاہ کیا۔ ان ترغیبات میں ٹیکس کی چھوٹ، سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول، اور خصوصی اقتصادی زونز شامل ہیں، جنہوں نے پنجاب کو چین کی کمپنیوں کے لیے ایک پرکشش سرمایہ کاری کا مرکز بنا دیا ہے۔

    پنجاب حکومت نے چینی کمپنیوں کے ساتھ طویل المدتی اور پائیدار شراکت داری کے فروغ کے لیے بھی مذاکرات کیے۔ ان مذاکرات میں یہ طے پایا کہ چینی کمپنیاں پنجاب میں جدید شمسی توانائی کے منصوبوں کی ترقی میں تعاون کریں گی، جس سے صوبے کے سبز توانائی کے اہداف کو حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔

    مریم نواز کا چین کا دورہ پنجاب کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوا ہے، جس نے نہ صرف صوبے کی اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے بلکہ اس نے پنجاب کو عالمی سطح پر ایک اہم سرمایہ کاری اور کاروباری مرکز کے طور پر متعارف کرایا ہے۔ اس دورے سے پنجاب میں جدید ٹیکنالوجی، سبز توانائی اور ماحولیاتی شعبوں میں ترقی کے نئے دروازے کھلے ہیں، اور یہ صوبے کو ایک مضبوط اقتصادی مرکز میں تبدیل کرنے کے لیے اہم ثابت ہوگا۔

    سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کی روایت بانی چیئرمین پی ٹی آئی نے رکھی،عطا تارڑ

    خواجہ آصف کا بہت احترام لیکن ان کی زبان آگ اگلتی ہے،شیر افضل مروت

    اسحاق ڈار ڈی ایٹ سمٹ میں شرکت کے لئے مصر پہنچ گئے

  • حکومت کے ابتدائی آٹھ ماہ ،بھارت سے درآمدات میں چوتھی بار اضافہ

    حکومت کے ابتدائی آٹھ ماہ ،بھارت سے درآمدات میں چوتھی بار اضافہ

    موجودہ حکومت کے ابتدائی آٹھ ماہ کے دوران بھارت سے درآمدات میں چوتھی بار اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس نے معاشی اور تجارتی ماہرین کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔

    وزارتِ تجارت کے ذرائع کے مطابق، دونوں ممالک کے درمیان تجارت معطل ہونے کے باوجود، بھارت سے درآمدات میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اکتوبر 2024 میں بھارت سے درآمدات کا حجم 3 کروڑ 58 لاکھ ڈالرز تک پہنچ گیا، جو کہ اکتوبر 2023 کے مقابلے میں 46 فیصد زیادہ ہے۔ پچھلے سال اکتوبر میں یہ حجم 2 کروڑ 45 لاکھ ڈالرز تھا۔اس سے قبل ستمبر 2024 میں بھارت سے درآمدات میں 45 فیصد اور اگست میں 5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ یہ تسلسل ظاہر کرتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعلقات کسی نہ کسی شکل میں برقرار ہیں، چاہے سیاسی سطح پر اختلافات کیوں نہ ہوں۔

    یاد رہے کہ پاکستان نے اگست 2019 میں بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات معطل کر دیے تھے۔ اس کے باوجود، دونوں ممالک نے زندگی بچانے والی ادویات کی تجارت کی اجازت دی، اور وقت کے ساتھ ان پابندیوں میں نرمی ہوتی دکھائی دی۔

    یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ عالمی اور علاقائی دباؤ کے تحت حکومتوں کو بعض اوقات سخت فیصلے نرم کرنے پڑتے ہیں۔ بھارت سے درآمدات میں اضافہ اس بات کا مظہر ہے کہ معیشت اور عوامی ضروریات سیاسی کشیدگی پر فوقیت حاصل کر سکتی ہیں۔ماہرین کے مطابق، اگرچہ تجارت محدود پیمانے پر ہو رہی ہے، لیکن اس کا معاشی اثر دونوں ممالک کے تعلقات میں پیچیدگی پیدا کر سکتا ہے۔ یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا آنے والے مہینوں میں یہ رجحان برقرار رہتا ہے یا سیاسی حالات میں کوئی بڑی تبدیلی آتی ہے۔

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

  • مسلم ممالک اتحاد سے دنیا کی معیشت میں حصہ لے سکتے ہیں،گورنر سندھ

    مسلم ممالک اتحاد سے دنیا کی معیشت میں حصہ لے سکتے ہیں،گورنر سندھ

    سندھ کے گورنر کامران ٹیسوری مسلم ممالک ایک ہوکر اتحاد سے دنیا کی معیشت میں حصہ لے سکتے ہیں۔فلسطین میں معصوم۔بچوں کو شہید کیاجارہاہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کراچی میں کجھور فیسٹول کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا کہ کمزور ملک تجارت اور سفارت میں اپنا حصہ نہیں لے سکتا۔ دنیا سے تجارت میں حصہ طاقت کی بنیاد پر حاصل کرسکتے ہیں۔مسلم ممالک ایک ہوکر اتحاد سے دنیا کی معیشت میں حصہ لے سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ فلسطین میں معصوم۔بچوں کو شہید کیاجارہاہے۔مسلمانوں کو کمزور سمجھ کر ملک اور تجارت پر قبضے کی تیاری ہورہی ہے۔ خلیجی ممالک کے سفارتی حکام اپنے ممالک کو لکھیں۔ عرب ممالک کے پاس پیسے کی کمی نہیں۔ کمزور ہونے کی بڑی وجہ اتفاق نہ ہونا ہے۔گورنر سندھ نے کہا کہ ہمارے کاشت کار معیار پر توجہ نہیں دے رہے۔

    دنیا کے چار ممالک ایک کھجور کے درخت سی1500ڈالر پاکستان 50ڈالر کماتا ہے۔متحدہ عرب امارات کے قونصل جنرل نے اس موقع پر کہا کہ پاکستانی کاشت کار دیگر ممالک سے آئے مندوبین کے تجربات سے استفادہ حاصل کرے۔ پاکستانی کاشت کار دیگر ممالک سے کھجور کی پیداوار کے بارے میں آگاہی حاصل کریں۔ یو اے ای پاکستان کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔

    پاکستان میں تیار کی گئی سوزوکی ایوری کی لانچنگ تاریخ کا اعلان

    کراچی میں بارشوں سے تباہ سڑکوں کا کام آئندہ ہفتے سے شروع ہو گا

  • وزیراعظم سے روسی نائب وزیراعظم کی ملاقات

    وزیراعظم سے روسی نائب وزیراعظم کی ملاقات

    وزیرِاعظم محمد شہباز شریف سے آج روس کے نائب وزیرِاعظم الیکسی اوورچوک نے ملاقات کی۔

    وزیرِاعظم شہباز شریف نے نائب وزیرِاعظم اوورچک اور ان کے وفد کا وزیرِاعظم ہاؤس میں خیرمقدم کیا۔روسی نائب وزیرِاعظم سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِاعظم نے کہا کہ روس کے ساتھ مضبوط تعلقات پاکستان کی خارجہ پالیسی کی اہم ترجیحات میں سے ہے۔ وزیرِاعظم نے کہا کہ پاکستان روس کے ساتھ تجارتی، اقتصادی، توانائی، مواصلات اور سیکیورٹی تعاون کو وسعت دینے کا خواہشمند ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اگلے ماہ اسلام آباد میں روسی وزیرِاعظم جناب مشسٹن کے استقبال کے منتظر ہیں۔ وزیرِاعظم نے کہا کہ اس سال جولائی کے اوائل میں ان کی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ انتہائی نتیجہ خیز بات چیت ہوئی تھی، انہوں نے دوطرفہ تعاون میں مزید توسیع پر بات چیت کے لیے اعلیٰ سطحی وفد بھیجنے پر صدر پیوٹن کا شکریہ ادا کیا۔

    روسی نائب وزیرِاعظم اوورچک نے پرتپاک استقبال پر وزیرِاعظم کا شکریہ ادا کیا اور روس کے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے پاکستان اور روس کے تعلقات کو تعمیری اور باہمی طور پر مفید قرار دیا، دونوں فریقین نے باقاعدہ رابطے برقرار رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔وزیرِاعظم شہباز شریف اور روسی نائب وزیرِاعظم نے روس اور پاکستان کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کی تقریب میں بھی شرکت کی۔ اس مفاہمتی یادداشت کے تحت مشترکہ مفاد کے تمام شعبوں بالخصوص تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، آئی ٹی، زراعت، سائنس و ٹیکنالوجی اور تعلیم میں تعاون کو فروغ ملے گا۔

    دوسری جانب وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور وفاقی وزیرقومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین کی روسی نائب وزیر زراعت سے اہم ملاقات ہوئی ہے، ملاقات کے دوران پاکستان اور روس کے درمیان زرعی شعبے میں دوطرفہ تجارت بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا، دونوں ممالک نے تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا،ملاقات کے دوران پاکستانی اور روسی وفود کے درمیان سووینئرز کا تبادلہ ہوا، ملاقات میں پاکستان اور روس کے درمیان زرعی تجارت میں تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا.

    ہوسکتا ہے جنرل فیض حمید اندر یہ گانا گا رہے ہوں کہ آ جا بالما تیرا انتظار ہے، خواجہ آصف

    بل پیش کرنے سے پہلے کابینہ سے منظوری لازمی ہے،بیرسٹر گوہر

    وفاقی حکومت کا علیحدہ آئینی عدالت کے قیام کا منصوبہ

    پارلیمنٹ کو کوئی بھی آئینی ترمیم کرنے کا اختیار ہے،احسن بھون

    لاہور:پاکستان کوکلئیر ویلفیئر آرگنائزیشن کا پہلا باضابطہ اجلاس،اہم فیصلے کئے گئے

    پیدائشی سماعت سے محروم بچوں کے کامیاب آپریشن کے بعد”پاکستان زندہ باد” کے نعرے

  • ملکی ترقی میں نجی شعبے اور صنعت کا کردار انتہائی اہم ہے،وزیراعظم

    ملکی ترقی میں نجی شعبے اور صنعت کا کردار انتہائی اہم ہے،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت تجارت کے شعبے سے متعلق اہم جائزہ اجلاس ہوا

    اجلاس میں شرکا کو بریفنگ دی گئی جس میں بتایا گیا کہ خلیجی ممالک سے آزادانہ تجارتی معاہدے سے متعلق بات چیت حتمی مراحل میں ہے، ازبکستان اور تاجکستان سے تجارت کے معاہدے فعال ہوچکے ہیں،حالیہ پاک سعودی بزنس کانفرنس میں 450 بزنس ٹو بزنس ملاقاتیں ہوئیں جبکہ ای کامرس کے حجم میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے، پاکستان ٹریڈ پورٹل پر 3 ہزار سے زائد کمپنیوں کو شامل کیا گیا ہے،افغان ٹرانزٹ ٹریڈ میں نگرانی کا عمل سخت کیا گیا ہے، پبلک سیکٹر انشورنس کمپنیز کے پریمئم گروتھ ڈبل ڈیجٹ میں ہیں، جیم ایکسپورٹ فریم ورک پر کام حتمی مراحل میں ہے ، ایران اور روس سے بارٹر ٹریڈ کی آپریشنلائیزین سے متعلق دونوں ممالک نے اصولی رضامندی کا اظہار کیا ہے۔

    اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ملکی برآمدات کو مزید مسابقتی بنانے سے متعلق فوری اقدامات کیے جائیں، غیر روایتی اشیاء کی برآمدات سے متعلق اقدامات کیے جائیں، تجارت اور کاروبار میں نجی شعبے سے مشاورت کو یقینی بنایا جائے، ملکی ترقی میں نجی شعبے اور صنعت کا کردار انتہائی اہم ہے

    نومئی،ایک برس بیت گیا،ملزمان کی سزائیں نہ مل سکیں،یہ ہے نظام انصاف

    نو مئی واقعات کی چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے سامنے مذمت کی تھی،عمران خان

    9 مئی پاکستان کیخلاف بہت بڑی سازش جس کا ماسٹر مائنڈ بانی پی ٹی آئی،عظمیٰ بخاری

    9 مئی کی آڑ میں چادرو چار دیواری کی عزت کو پامال کرنیوالے معافی مانگیں،یاسمین راشد

    عوام نے نومئی کے بیانیے کو مستر د کر دیا ،مولانا فضل الرحمان

    اسد قیصر نے نومئی کے واقعات پر معافی مانگنے سے انکار کر دیا