Baaghi TV

Tag: تجزیہ

  • سیاست بیزاری کا باعث، تجزیہ، شہزاد قریشی

    سیاست بیزاری کا باعث، تجزیہ، شہزاد قریشی

    سیاسی جماعتیں ان دنوں الیکشن کے بارے گفتگو کر رہی ہیں۔ اس وقت یہی دعا کی جا سکتی ہے ہمارے سیاستدان جمہوری بن جائیں۔ جمہوریت کو مستحکم کریں ۔ آئین پر عمل کریں اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کریں ۔ زبانی جمع خرچ سے باہر نکلیں بھڑکیں نہ ماریں ۔ آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی کو یقینی بنانے میں بھی کردار ادا کریں۔ حیرت ہے بعض سیاستدانوں پر آئین میں صاف لکھا ہے کہ الیکشن کب ہوں گے پھر بھی کہیں سے آواز آتی ہے کوئی حتمی نہیں الیکشن لیٹ بھی ہو سکتے ہیں ۔

    پنجاب میں آج بھی نگران حکومت ہے اور خیبر پختونخوا میں یہ نگران کب تک رہیں گے ۔ آئین میں سب کچھ لکھا ہے ۔ کیا اب وفاقی نگران حکومت جو بنے جا رہی ہے اُ س کی معیاد بھی پنجاب اور خبیر پختونخوا کی طرح بڑھائی جائے گی ؟ اگر ایسا ہے تو پھر کیسی جمہوریت اور کیسا آئین ؟ سیاسی گلیاروں میں پیپلزپارٹی جو رونق جیالے لگاتے ہیں وہ رونق پی ٹی آئی والے بھی لگانا سیکھ چکے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) ، قیلولہ میں چلی گئی سیاسی جلسوں میں رونق مریم نواز اور نواز شریف ہی لگا سکتے ہیں مگر(ن) لیگ کی قانونی ٹیم کہاں تک پہنچی ہے نواز شریف کا راستہ ہموار کرنے کے لیے اس کا جواب تو شہباز شریف ہی دے سکتے ہیں۔ اس وقت اصل مسئلہ سیاست ، جمہوریت اورمعیشت کا ہے ۔

    ان مسائل سے نکلنے کے لئے نواز شریف کا پاکستان میں ہونا ضروری ہے۔الیکشن جمہوریت کا حسن ہوتے ہیں ۔(ن) لیگ کا الیکشن مریم نواز اور بالخصوص نواز شریف کے بغیر ادھورا ہو گا ۔ کہا جاتا ہے کہ پیپلزپارٹی ریڈ لائن سے گرین لائن تک پہنچ چکی ہے ۔ آصف علی زرداری کی خواہش ہے کہ آئندہ ملک کے وزیراعظم بلاول بھٹو بنیں اس سلسلے میں وہ اپنے تیر نشآن کو لے کر بلوچستان سے لے کر پنجاب اور خیبر پختونخوا تک چلا رہے ہیں۔ نئی سیاسی جماعت بھی پیپلزپارٹی کے لئے غنیمت ثابت ہو ۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    خطرناک اشتہاری ملزم کو دبئی سے گرفتار کرلیا گیا
    چیئرمین تحریک انصاف سے 13 مقدمات میں 5 رکنی تحقیقاتی ٹیم کی تفتیش
    آئی ایم ایف کی عمران خان سے ملاقات سیاسی عمل کا حصہ ہے،مریم اورنگزیب
    افغانستان کر کٹ ٹیم نے تین میچز کی سیریز اپنے نام کر لی
    یونان کشتی حادثہ؛ جاں بحق 15 مزید پاکستانیوں کی شناخت
    بے اولادی کے طعنے پر 3 پڑوسیوں کو قتل کرنے والا ملزم گرفتار
    محمد رضوان کو سری لنکا کیخلاف ٹیسٹ سیریز میں کھلانے پر غور
    آصف علی زرداری سیاسی چال چلتے ضرور ہیں مگر وہ قدم پھونک پھونک کر رکھ رہے ہیں۔ ویسے بھی نظریات وغیرہ دفن ہو چکے ہیں۔ آئین پر عمل بھی ایک خوا ب لگتا ہے۔ عوام کی اکثریت رو رہی ہے اور سیاسی تماشے بھی دیکھ رہی ہے۔ سیاست اور سیاستدان عام انسانوں کے لئے بیزاری بنتے جا رہے ہیں۔

  • بھارت نے رات کی تاریکی میں اگنی5بیلسٹک میزائل کا تجربہ کردکھایا

    بھارت نے رات کی تاریکی میں اگنی5بیلسٹک میزائل کا تجربہ کردکھایا

    لاہور: اگنی-5 بیلسٹک میزائل: ہندوستان نے جمعرات کو اگنی-5 جوہری صلاحیت کے حامل بیلسٹک میزائل کا رات کو کامیاب تجربہ کیا۔ دفاعی ذرائع کے مطابق یہ میزائل 5000 کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ ٹیسٹ شام 5:30 بجے اڈیشہ کے اے پی جے عبدالکلام جزیرے سے لیا گیا۔

    بھارتی دفاعی حکام کا مزید کہنا تھا کہ یہ تجربہ میزائل پر نئی ٹیکنالوجی اور آلات کی توثیق کرنے کی کوشش میں کیا گیا تھا جو اب پہلے سے ہلکا ہے۔ دفاعی ذرائع نے دعویٰ کیا کہ "مقدمے نے اگر ضرورت پڑی تو اگنی-5 میزائل کی رینج کو بڑھانے کی صلاحیت کو ثابت کیا ہے۔”

    چوہنگ:پارک ویو سوسائٹی میں روڈا اینٹی انکروچمنٹ ٹیم اور اے سی سٹی پرحملہ کرنے…

    "یہ تجربہ میزائل پر نئی ٹیکنالوجیز اور آلات کی توثیق کے لیے کیا گیا تھا جو اب پہلے سے زیادہ ہلکا ہے۔ آزمائش نے ثابت کیا ہے کہ اگر ضرورت ہو تو اگنی-5 میزائل کی رینج کو بڑھانے کی صلاحیت ہے،” ذرائع نے مزید کہا۔ ہندوستان نے اگنی-5 کا آخری ٹیسٹ اکتوبر 2021 میں شروع کیا تھا۔میزائل اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے بہت زیادہ درستگی رکھتا ہے۔ اس کی اونچائی 17 میٹر ہے اور یہ 1.5 ٹن وزنی وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    اینٹی انکروچمنٹ ٹیم پر حملے کا مقدمہ درج،انتہائی مطلوب ملزمان گرفتار

    قابل ذکر بات یہ ہے کہ اگنی 5 اگنی سیریز کا سب سے جدید میزائل ہے جس کی 5000 کلومیٹر سے زیادہ مار کرنے کی رینج ہے۔ بین البراعظمی بیلسٹک میزائل (ICBMs) اگنی-5 کے علاوہ، اگنی سیریز کے ہندوستانی ہتھیاروں میں 700 کلومیٹر رینج کے ساتھ اگنی-1، 2000 کلومیٹر رینج کے ساتھ اگنی-2، اگنی-3 اور 2500 کلومیٹر تک مار کرنے والے اگنی-4 شامل ہیں۔ 3500 کلومیٹر سے زیادہ رینج۔

    پشاور زلمی کے سابق کپتان ڈیرن سیمی کا زلمی ہیڈ کوارٹرکا دورہ:پی ایس ایل کی یادیں…

    اگنی-5 کی پہلی دو کامیاب پروازیں 2012 اور 2013 میں کھلی ترتیب میں تھیں۔ ایک کنستر سے تیسرا، چوتھا اور آج کا لانچ، جو ایک موبائل جدید ترین لانچر کے ساتھ مربوط تھا، اس کی ڈیلیوریبل کنفیگریشن میں تھا جو کھلی ترتیب کے مقابلے میں بہت کم تیاری کے وقت کے ساتھ میزائل کو لانچ کرنے کے قابل بناتا ہے۔اس کے علاوہ، اس میں اعلی وشوسنییتا، طویل شیلف لائف، کم دیکھ بھال اور بہتر نقل و حرکت کے فوائد بھی ہیں۔

  • چھوٹی سوچ والےقومی لیڈرکیسے؟ تجزیہ:۔شہزاد قریشی

    چھوٹی سوچ والےقومی لیڈرکیسے؟ تجزیہ:۔شہزاد قریشی

    ملک میں سیاسی بحران اور انتشار کی سیاست پر جب سیاستدان باتیں کرتے ہیں اس کے ذمہ دار بھی خود اہل سیاست ہی ہیں جو بڑی بڑی غلطیاں کرتے ہیں مسئلہ صرف اتنا ہے کہ ہم اپنی غلطیوں کا اعتراف نہیں کرتے اور نہ ہی ماضی کی غلطیوں سے سبق حاصل کرتے ہیں۔ ایک دوسرے پر الزام تراشی کرنا پارلیمنٹ ہائوس کو جہاں قانون سازی ہوتی ہے وہاں بیٹھ کر ایک دوسرے کو غدار اور نہ جانے کیا کیا الزامات لگائے جاتے ہیں۔ ریاستی اداروں کو متنازعہ بنانے کا فریضہ بھی سرانجام دیتے ہیں۔ عوامی مفادات کو پس پشت ڈال کر ذاتی مفاد اور اقتدار حاصل کرنے اقتدار کو طول دینے کی خاطر ملکی سرحدوں کی حفاظت کرنے والوں کو بھی متنازعہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔

    الزام تراشیوں کی سیاست نے ملک کو کھنڈرات میں تبدیل کردیا ہے ملک کو بین الاقوامی مالیاتی اداروں کا مقروض بنادیا۔ مہنگائی، غربت، بیروزگاری کی بڑھتی ہوئی لہر کی وجہ سے چوریوں، ڈکیتیوں اور دیگر معاشرتی برائیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ جن پولیس افسران نے ان بڑھتے ہوئے جرائم پر قابو پانا تھا ان کو بھی متنازعہ بنا دیا گیا پولیس کے محکمہ میں سیاسی مداخلت نے تباہی پھیر دی ہے نواب آف کالاباغ کے دور اقتدار سے شروع ہونیوالی سیاسی مداخلت نے پولیس نظام کو تباہ کر دیا ہے کسی بھی حکومت میں پولیس ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والے اس نظام کی اصلاح کی توجہ دینے کے بجائے سیاستدانوں نے ان کو استعمال کیا۔ جب تک پولیس مداخلت سے آزاد نہیں ہوتی پولیس کا نظام ٹھیک نہیں ہو سکتا۔

    میں ایسے کئی پولیس افسران کو جانتا ہوں جو اپنی زندگی اپنے اصولوں کے مطابق گزارنے پر اصرار کرتے ہیں کئی ایسے پولیس افسران پنجاب میں موجود ہیں جو نرم دل اور فرض شناس ہیں جن افسران کو فیلڈ نہیں ہونا چاہئے ان کو کھڈے لائن لگا دیا گیا ہے۔ مرکز اور صوبے کی لڑائی نے پولیس کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جو کسی طرح بھی درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ پنجاب میں تعینات اعلیٰ پولیس افسران کا مورال بلند نہیں ہو رہا ملکی سیاستدان فوج سمیت ان دوسرے ریاستی اداروں کو متنازعہ بنا کر کون سا قومی فریضہ ادا کر رہے ہیں؟ آئین کے مطابق ریاستی ادارے آزاد ہوتے ہیں وہ آزادی سے اپنا فریضہ ادا کرتے ہیں

    بدقسمتی سے ہمارے سیاستدانوں کا جاہ و جلال شاید ان ہی ریاستی اداروں کے مرہون منت ہے اور اسی لئے وہ ان اداروں کو قانون کے مطابق کام کرنے نہیں دیتے۔ جو سیاستدان یہ میرا پولیس افسر یہ تیرا پولیس افسر کے گرد گھوم رہا ہے اس کو قومی لیڈر کیسے کہا جا سکتا ہے؟

  • طاقت کا سرچشمہ عوام،سیلابی ریلے میں بہہ رہا ہے:تجزیہ:۔ شہزاد قریشی

    طاقت کا سرچشمہ عوام،سیلابی ریلے میں بہہ رہا ہے:تجزیہ:۔ شہزاد قریشی

    کہا جاتا ہےکہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں ۔نام نہاد ساستدانوں کا نعرہ سالوں سے سنا جا رہا ہے ۔صوبوں میں سیلابی ریلے میں طاقت کا چشمہ بہہ رہا ہے ۔ بعض مقامات پر لاشیں بہہ رہی ہیں۔ لوگ بے گھر ہوگئے ہیں ۔نہ کھیت نہ گھر ،نہ مال مویشی ،جان لیوا بیماریاں پیدا ہو رہی ہیں۔ دوسر طرف اسلام آباد میں سیاستدانوں کا جنگی ماحول جس نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ اختیارات، مفادات، اقتدار کی جنگ ہوس زر اور ہوس اقتدار نے انہیں دیوانہ بنا دیا۔ جس ملک کے ماہرین اقتصادیات کے مطابق معیشت آخری سانس لے رہی ہو کیا وہاں کے حکمران اور اپوزیشن ایک دوسرے کیخلاف مقدمات درج کروا کر وکٹری کا نشان بناتے ہیں؟

     

    چہرے بدلے باقی کچھ نہیں بدلا، تجزیہ : شہزاد قریشی

    پنجاب اور مرکز میں جو کھیل جاری ہے کیا اس کا فائدہ ملک و قوم کو ہو رہا ہے ؟ ہر طرف اخلاقی تباہی دیکھ کر ڈر لگتا ہے کہ یہ قوم کہیں کسی سیلاب میں بالکل بہہ نہ جائے ؟ 75 سالوں میںپاکستان کو جس بھنور میں پھنسا دیا ہے اس کا تصور کرنا بھی محال ہو گیا ہے۔ عصر حاضر کے وطن عزیز کے حالات و واقعات نے روشن مستقبل کے خوابوں کو چکنا چور کر دیا ہے۔ صوبوں میں سیلاب زدگان کی آہ وبکا نے زندہ دلوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے جو کل تک اپنے گھروں میں تھے وہ کھلے آسمان تلے پڑے ہیں بلوچستان کو تو سیلابی ریلے نے اجاڑ کر رکھ دیا ہے۔ قیامت کی اس گھڑی کو اس قدر قریب سے دیکھنے کے باوجود کوئی سبق حاصل نہ کرے تو کیا کہا جائے؟

    جشن آزادی پر عہد کریں…تجزیہ: شہزاد قریشی

    یہ ملک کسی سیاستدان، کسی جاگیردار، کسی وڈیرے، کسی سرمایہ دار، کسی جرنیل، کسی بیورو کریٹ کی جاگیر نہیں یہ بائیس کروڑ عوام کا ملک ہے۔ عوام کے بنیادی حقوق کا خیال کون کرے گا؟ ان کے بنیادی حقوق کا تحفظ کون کرے گا؟

    اخلاقیات کو مسخ کرنا آزادی صحافت نہیں، تجزیہ: شہزاد قریشی

    حکومت میں شامل جماعتیں ہوں یا اپوزیشن ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں مصروف ہیں 75 سالوں کے بعد بھی ہم بالغ نظر، باصلاحیت اور معاملہ فہم قیادت سے شاید محروم ہیں۔ مشکل حالات میں اختلافات کو اجاگر کرنے کے بجائے بالغ نظری کا مظاہرہ کریں ملک و قوم کو مشکلات سے نکالنے کے لئے مل بیٹھیں اور عالمی دنیا کو تاثر نہ دیں کہ پاکستان میں قیادت کا فقدان ہے۔ ہوس اقتدار، ہوس زر، ہوس اختیارات، ہوس مفادات سے باہر نکل کر ملک و قوم کے مفاد میں اپنا کردار ادا کریں۔ ایک دوسرے پر غداری کے فتوے نہ لگائیں اس ملک کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں وزرات عظمیٰ پر بیٹھنے والوں پر کیا گزری اور کیا گزر رہی ہے سبق حاصل کریں ورنہ تاریخ بار بار دہرائی جاتی رہے گی۔