Baaghi TV

Tag: تجزیہ کار مبشر لقمان

  • مودی کی تیاریاں تیز، ائیرفورس کے بعد نیوی تیار،سچ بولنے والے گرفتار

    مودی کی تیاریاں تیز، ائیرفورس کے بعد نیوی تیار،سچ بولنے والے گرفتار

    سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان نے اپنے ولاگ میں انکشاف کیا ہے کہ بھارتی بحریہ کراچی سے صرف 70 ناٹیکل میل کے فاصلے پر ہائی الرٹ پر موجود ہے جبکہ بھارتی فضائیہ بھی ریڈ الرٹ پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مشقیں دراصل پاکستان کے خلاف ممکنہ جارحیت کی تیاری کا اشارہ ہیں۔

    مبشر لقمان نے دعویٰ کیا کہ افغان سرحد سے تعلق رکھنے والا گروہ، جسے بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کی پشت پناہی حاصل ہے، نے حالیہ دنوں بنوں میں ایف سی لائنز پر حملے کی کوشش کی۔ پاک فوج اور پولیس کے جوانوں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ ان کے مطابق یہ گروہ ہافِز گل بہادر سے تعلق رکھتا ہے جو پہلے بھی پاکستان میں حملے کر چکا ہے اور اس وقت افغانستان میں مقیم ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان اور باجوڑ میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں اور سیکڑوں شدت پسند گھیرے میں آ چکے ہیں۔ مبشر لقمان کے مطابق پاک فوج کسی دباؤ میں نہیں آئے گی اور نہ ہی آپریشن روکنے کا کوئی سوال پیدا ہوتا ہے۔

    ولاگ میں مبشر لقمان نے سب سے اہم انکشاف یہ کیا کہ حالیہ سیلاب کوئی قدرتی آفت نہیں بلکہ ’’مین میڈ فلڈ‘‘ یعنی انسانی سازش ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت نے جان بوجھ کر ڈیموں میں پانی روکے رکھا اور آخری لمحات میں اسے چھوڑ کر پاکستان اور بھارتی پنجاب دونوں کو تباہی سے دوچار کر دیا۔انہوں نے بتایا کہ بھارتی پنجاب کے رکن اسمبلی ہرجیت سنگھ نے اس سازش کو بے نقاب کیا تھا، جس کے بعد مودی حکومت نے انہیں گرفتار کر لیا۔ لیکن گرفتاری کے باوجود اب بھارتی میڈیا اور عوام کھل کر سوال اٹھا رہے ہیں۔ نہ صرف سکھ برادری بلکہ ہندو برادری بھی حکومت کے رویے کے خلاف احتجاج کر رہی ہے اور عدالتی تحقیقات کا مطالبہ سامنے آ رہا ہے۔

    مبشر لقمان کے مطابق بھارتی حکومت سیلاب اور قدرتی آفات کو پردہ بنا کر دراصل پاکستان کے خلاف جنگی تیاریوں کو آگے بڑھا رہی ہے۔ ان کے بقول بھارتی بحریہ کے 13 جنگی بیڑے بحیرہ عرب میں پہنچ چکے ہیں جہاں مگ 29 اسکائی فائٹر طیاروں کی مشقیں کی جا رہی ہیں۔ بھارتی فضائیہ بھی ان مشقوں میں شامل ہے اور یہ سب کچھ کراچی کے قریب ہو رہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ بھارتی پنجاب مکمل طور پر سیلاب میں ڈوبا ہوا ہے لیکن دہلی حکومت کی طرف سے کوئی مرکزی وزیر متاثرہ علاقوں میں نہیں پہنچا۔ صرف وزیر داخلہ امیت شاہ جموں میں فوجی تنصیبات کا معائنہ کرنے گئے جبکہ عوامی ریلیف کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ اس رویے نے بھارتی عوام میں مزید غم و غصہ پیدا کیا ہے۔مبشر لقمان نے خبردار کیا کہ بھارت کی یہ پالیسیاں خطے کو ایک نئی جنگ کی طرف دھکیل رہی ہیں۔ ان کے مطابق آر ایس ایس اور بی جے پی کی سیاست پاکستان دشمنی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی، اسی لیے بھارت ہر حال میں کشیدگی کو برقرار رکھنا چاہتا ہے۔

    ،ودی

    گنڈا پور کی جرمن سفیر کی ملاقات کے شیڈول پر پی اے کو جھاڑ،آڈیو وائرل

    خیبر پختونخوا سے افغان زلزلہ متاثرین کے لیے امدادی سامان روانہ

    وزیراعلی پنجاب کا مسجد پر اپنی تصویر لگانے کا سخت نوٹس، وضاحت طلب

  • ٹرمپ کی زبانی مودی کی بزدلی،ہندوستان کا پاکستان پر حملہ، نیوی بھی تیار

    ٹرمپ کی زبانی مودی کی بزدلی،ہندوستان کا پاکستان پر حملہ، نیوی بھی تیار

    پاکستانی صحافی اور تجزیہ کار مبشر لقمان نے اپنے تازہ وی لاگ میں انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں آنے والا حالیہ تباہ کن سیلاب کسی قدرتی آفت کا نتیجہ نہیں بلکہ بھارت کا ’’آبی حملہ‘‘ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارت نے دریائے راوی، ستلج اور بیاس میں اچانک پانی چھوڑ کر پاکستان کے کئی اضلاع کو برباد کر دیا ہے۔ اس اقدام کے نتیجے میں نارووال، سیالکوٹ، گوجرانوالہ اور قصور سمیت متعدد علاقے زیرِ آب آگئے ہیں، ہزاروں ایکڑ زرعی زمین تباہ ہو چکی ہے اور سینکڑوں بستیاں متاثر ہوئی ہیں۔

    مبشر لقمان نے اپنے وی لاگ میں کہا کہ بھارت موسمیاتی تبدیلی کو جواز بنا کر اپنی نااہلی اور جارحانہ حکمتِ عملی کو چھپا رہا ہے، حالانکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ بھارت نے سندھ طاس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کرتے ہوئے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر بھارت معاہدے کو تسلیم نہیں کرتا تو پھر دریاؤں سے پانی چھوڑ کر پاکستان کو تباہی کا شکار کیوں کرتا ہے؟ ان کے مطابق یہ سراسر ناانصافی ہے کہ خوشحالی کے وقت تو پاکستان کو پانی سے محروم رکھا جاتا ہے لیکن جب سیلاب آتا ہے تو اضافی پانی زبردستی پاکستان کی طرف دھکیل دیا جاتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کو چاہیے کہ یہ مسئلہ صرف دو طرفہ مذاکرات تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ عالمی عدالتوں، اقوام متحدہ اور دیگر عالمی فورمز پر بھرپور طریقے سے اٹھایا جائے تاکہ بھارت کی ’’آبی جارحیت‘‘ دنیا کے سامنے بے نقاب ہو۔ مبشر لقمان نے زور دیا کہ وزیراعظم شہباز شریف کو شنگھائی تعاون تنظیم کے آئندہ اجلاس میں اس مسئلے کو اجاگر کرنا چاہیے تاکہ بھارت کے اس رویے پر عالمی سطح پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔

    مزید برآں، انہوں نے بھارتی فوجی قیادت کے حالیہ بیانات کو بھی خطرناک قرار دیا، جن میں کہا گیا ہے کہ ’’امن کے لیے جنگ ضروری ہے‘‘۔ ان کے مطابق یہ سوچ بھارت کی مسلسل جنگی تیاریوں کو ظاہر کرتی ہے، جس میں میزائل تجربات اور بحری بیڑوں کی شمولیت شامل ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بھارت کی اصل حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنی فوجی تنصیبات اور اسلحہ محفوظ رکھنے میں بھی ناکام ہے اور اس کی کمزوریاں دنیا کے سامنے آچکی ہیں۔

    مبشر لقمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ نے خود اعتراف کیا کہ انہوں نے ماضی میں بھارت کو جنگ سے روکنے کے لیے سخت وارننگ دی تھی اور اگر مستقبل میں بھارت نے دوبارہ جنگ چھیڑنے کی کوشش کی تو انہیں ایک بار پھر مداخلت کرنا پڑے گی۔ ان کے مطابق یہ صورتحال اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت کی پالیسیز نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی خطرہ بنتی جا رہی ہیں۔

    پنجاب کے سیلاب سے متاثرہ ہر خاندان کی بحالی میرا مشن ہے،وزیراعلیٰ پنجاب

    شہباز شریف سے بیلاروس کے وزیر داخلہ کی ملاقات

    وزیراعظم سے ایشیائی ترقیاتی بینک کے صدر کی ملاقات