Baaghi TV

Tag: تحریری

  • عمران خان توہین عدالت کیس پر تحریری حکم نامہ جاری،مریم نواز کا ردعمل

    عمران خان توہین عدالت کیس پر تحریری حکم نامہ جاری،مریم نواز کا ردعمل

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایڈیشنل سیشن جج زیبا چوہدری کو دھمکانے پر عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی سماعت کے بعد تحریری حکم نامہ جاری کردیا گیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے لارجر بینچ نے عمران خان توہین عدالت کیس کی آج کی سماعت پر تحریری حکم نامہ جاری کیا۔

    عمران خان کے تحریری جواب سے مجھے ذاتی طور پر افسوس ہوا، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    عدالت نے کہا کہ توہین عدالت کیس میں عمران خان کا جواب تسلی بخش نہیں ہے، پی ٹی آئی چیئرمین کے خلاف کیس میں شوکاز نوٹس ختم نہیں کیا جاسکتا ہے۔عدالت نے حکم نامے میں کہا کہ عمران خان کو ضمنی جواب جمع کرانے کے لیے 7 دن کی مہلت دیتے ہیں، پی ٹی آئی چیئرمین کا نیا جواب 8 ستمبر سے پہلے فریقین کو بھی پہنچایا جائے.

    عمران خان کے بارے میں لاڈلے ہونے کا تاثر پایا جاتا ہے: اعظم نذیر تارڑ

     

    دوسری طرف پاکستان مسلم لیگ (ن) کی مرکزی نائب صدر مریم نواز نے سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں توہین عدالت کی کارروائی پر ردعمل کا اظہار کیا ہے۔اسلام آباد ہائیکورٹ میں خاتون جج کو دھمکی دینے سے متعلق توہین عدالت کے کیس کی سماعت ہوئی اور عدالت نے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کو 7 روز میں دوبارہ جواب جمع کرانے کی مہلت دی ہے۔

    اس پر ردعمل میں مریم نواز کا کہنا تھاکہ عمران خان کو فراہم کردہ ڈھیل اور سہولیات سے اور کچھ ثابت ہو نہ ہو نواز شریف اور مسلم لیگ ن سے ہونے والی ناانصافیاں اور زیادتیاں ایک بار پھر پوری قوم کے سامنے عیاں ہو گئیں۔انہوں نے کہا کہ ترازو سیدھا نہیں ہو سکا۔

    مریم نواز کا کہنا تھاکہ ’اصل میں توہین کی سزا جج زیبا کو ہونی چاہیے جنہوں نے انصاف کر کے عمران خان کی شان میں گستاخی کی تھی

  • پرویز الہیٰ کی درخواست،سپریم کورٹ کا تحریری حکم جاری

    پرویز الہیٰ کی درخواست،سپریم کورٹ کا تحریری حکم جاری

    سپریم کورٹ نے حمزہ شہباز کو عبوری وزیراعلیٰ پنجاب بنا دیا۔ عدالتی تحریری حکمنامے میں بتایا گیا ہے کہ ہم نے نوٹ کیا کہ ڈپٹی اسپیکر رولنگ کو جسٹیفائی نہیں کر سکے، اس کے نتیجے میں وزیر اعلی کا اسٹیٹس خطرے میں ہے۔

    سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی کے وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے معاملے پر سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں جمع کرائی جانے والی درخواست پر چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ تشکیل دیا گیا جس میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر شامل تھے۔

    ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کیخلاف درخواستوں پر سپریم کورٹ کا تحریری حکم جاری کر دیا گیا۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے چھ صفحات پر مشتمل تحریری حکم جاری کیا۔ تحریری حکم میں کہا گیا ہے کہ شجاعت حسین کی جانب سے ڈپٹی سپیکر کو لکھا گیا خط 25جولائی کو پیش کیا جائے، تمام فریقین کو جواب جمع کرانے کےلیے وقت دیتے ہیں، ڈپٹی سپیکر کے وکیل اس بات کو یقینی بنائیں گے تمام متعلقہ ریکارڈ عدالت میں پیش کریں، تمام پارٹیوں کو سننے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ فریقین کو اپنا جواب جمع کرانے کے لیے وقت درکار ہے۔

    تحریری حکم میں بتایا گیا کہ ہم نے نوٹ کیا ڈپٹی اسپیکر رولنگ کو جسٹیفائی نہیں کر سکے، اس کے نتیجے میں وزیر اعلی کا اسٹیٹس خطرے میں ہے، ایسی صورتحال میں حمزہ شہباز ایک منتخب وزیر اعلی کے طور کام نہیں کر سکتے، دونوں فریقین کے درمیان ایسی ہی صورتحال یکم جولائی کو ہوئی تھی، ہمارا یکم جولائی کا حکم دونوں فریقوں کی رضامندی سے جاری ہوا تھا، ہم نے آج پھر تمام فریقین کو پیشکش کی کہ حمزہ شہباز اسی پوزیشن پر بطور وزیر اعلی کام جاری رکھیں، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اور حمزہ شہباز کے وکیل نے اعتراض نہیں کیا، ہمیں یقین دہانی کرائی گئی کہ حمزہ شہباز اور انکی کابینہ ٹرسٹی کے طور پر کام کریں گے۔

    قبل ازیں چیف جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں فل بینچ نے مختصر فیصلہ جاری کرتے ہوئے حمز شہباز کا بطور وزیراعلیٰ یکم جولائی کا سٹیٹس بحال کر دیا۔ چیف جسٹس نے مختصر فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ یکم جولائی کا اسٹیٹس بحال کرنے کے بعد اس کیس کوتفصیل سے سنیں گے۔ پیر تک حمزہ شہباز صرف روٹین کے امور سرانجام دینگے، حمزہ عبوری وزیراعلیٰ کے فرائض پیر تک سر انجام دینگے، کیس کی سماعت پیرکے روزہوگی، تمام وکلا کوسنیں گے۔ حمزہ شہباز آئین اور قانون کے مطابق چلیں، حمزہ وہ پاور استعمال نہیں کرینگے جس سے انکو سیاسی فائدہ ہو، عبوری وزیراعلیٰ محدود اختیارات میں کام کرینگے، عدالت صوبے میں میرٹ سے ہٹ کر تقریری ہوئی تو اس کو کالعدم قرار دینگے۔ بادی النظر میں ڈپٹی سپیکر کی رولنگ غلط اور سپریم کورٹ کے فیصلے کیخلاف ہے۔ اگر پارٹی سربراہ کی ہی بات ماننی ہے تو اس کا مطلب پارٹی میں آمریت قائم کردی جائے۔