Baaghi TV

Tag: تحریک آزادی

  • بلاول سے پی پی پی آزاد کشمیر کے رہنماؤں کی ملاقات

    بلاول سے پی پی پی آزاد کشمیر کے رہنماؤں کی ملاقات

    پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے پی پی پی آزاد کشمیر کے رہنماؤں کی بلاول ہاؤس میں ملاقات ہوئی ہے،

    بلاول بھٹو زرداری سے پاکستان پیپلزپارٹی آزاد جموں و کشمیر کے صدر یاسین ملک اور جنرل سیکریٹری فیصل راٹھور نے ملاقات کی،بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کرنے والوں میں چوہدری ریاض، یعقوب خان، لطیف اکبر، میاں وحید اور جاوید ایوب شامل تھے.جاوید بڈھانوی، چوہدری قاسم مجید، باذل نقوی، سردار ضیاء القمر، عامر یاسین اور نبیلہ ایوب نے بھی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کی ،

    پاکستان پیپلزپارٹی آزاد جموں و کشمیر کے پی پی پی رہنماؤں نے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو وادی کے عوام کے بجلی کی قیمتوں سے متعلق تحفظات سے آگاہ کیا ، بلاول بھٹو زرداری سے پی پی پی آزاد کشمیر کے رہنماؤں کی ملاقات کے موقع پر پاکستان پیپلزپارٹی شعبہ خواتین کی مرکزی صدر فریال تالپور بھی موجود تھیں،پی پی پی آزاد جموں و کشمیر کے رہنماؤں نے بریفنگ میں بتایا کہ آزاد کشمیر 2700 میگاواٹ بجلی پانی سے پیدا کررہا ہے، وادی کے عوام کا حق ہے کہ انہیں سستی بجلی مہیا کی جائے، آزاد کشمیر کے عوام کی ضرورت 370 میگاواٹ بجلی ہے، مہنگی بجلی پر وادی کے عوام سراپا احتجاج ہیں،

    پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آزاد جموں و کشمیر کے عوام کا بجلی کی قیمتوں سے متعلق تحفظات پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ آزاد جموں و کشمیر کے عوام کے بجلی کی قیمتوں سے متعلق تحفظات کا فی الفور ازالہ ہونا چاہئیے، سستی بجلی آزاد جموں و کشمیر کے عوام کا حق ہے جو انہیں ملنا چاہئیے،  توانائی کے بحران پر قابو پانے کیلئے آزاد جموں و کشمیر میں پانی سے مزید بجلی پیدا کرنے کے چار ہزار میگاواٹ کے منصوبوں کو فوری شروع کیا جائے، پاکستان پیپلزپارٹی آزاد کشمیر حکومت کے اندر رہ کر عوام کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرے گی، آزاد کشمیر تحریک آزادی کا بیس کیمپ ہے، حق خودارادیت کے حصول تک پی پی پی اپنی جدوجہد جاری رکھے گی،

    چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری کی ڈیفنس میں پاکستان پیپلزپارٹی شعبہ خواتین لاہور کی جنرل سیکریٹری سونیا خان نیازی کی رہائش گاہ آمد ہوئی ہے،چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مرحومہ بیگم شمیم خان نیازی کے انتقال پر ان کی صاحبزادی سونیا خان نیازی اور صاحبزادے طارق خان نیازی سے تعزیت کی ہے، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مرحومہ بیگم شمیم خان نیازی کے بلندی درجات کیلئے فاتحہ خوانی اور لواحقین کے صبر جمیل کی دعا کی ہے،بلاول کا کہنا تھا کہ مرحومہ بیگم شمیم خان نیازی کی جمہوریت کے لئے قربانیاں تاریخ کے سنہری حرفوں سے لکھے جانے کے قابل ہیں، مرحومہ بیگم شمیم خان نیازی نے جمہوریت کیلئے قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کیں، ان کی جدوجہد ناقابل فراموش تھی،

    عام آدمی کو معاشی طور پر مضبوط کریں گے

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    جو لوگ غلط فیصلے میں ملوث تھے ان کا احتساب ہونا چاہیئے،بلاول

     بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ کوئی چاہے یا نہ چاہے، کوئی نہیں روک سکتا، الیکشن ہوں گے۔

     پیپلز پارٹی کا مطالبہ ہے کہ الیکشن نوے دن کے اندر ہوں

    مفتی عزیز الرحمان کو دگنی سزا ملنی چاہئے، پاکستان کے معروف عالم دین کا مطالبہ

    گزشتہ روز پی پی چیئرمین بلاول نے بھی ن لیگ پر تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ ،ہمارے ایک اتحادی کے بارے میں کہا جاتا ہے جب مشکل میں ہوں تو پاؤں پڑتے ہیں جب وہ مشکل میں نہ ہوں تو گردن پکڑتے ہیں

  • اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل بھارت کیخلاف کارروائی کرے:الطاف وانی

    اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل بھارت کیخلاف کارروائی کرے:الطاف وانی

    نیویارک: اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل بھارت کیخلاف کارروائی کرے:اطلاعات کے مطابق کشمیر انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنزکے چیئرمین الطاف حسین وانی نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں وکشمیر کے بارے میں عدم فعالیت پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کونسل کی عدم توجہی کی وجہ سے بھارتی حکومت کی نہتے کشمیریوں پر ظلم وتشدد جاری رکھنے کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔

    الطاف وانی نے ان خیالات کا اظہار جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 49ویں اجلاس میں ایجنڈا آئٹم 2 کے تحت منعقدہ ایک بحث میں حصہ لیتے ہوئے کیا۔ورلڈ مسلم کانگریس کی جانب سے خطاب کرتے ہوئے الطاف حسین وانی نے ہائی کمشنر کے دفتر کی تعریف کی کہ وہ آج دنیا کو درپیش اہم مسائل کو اجاگر کرنے میں مصروف ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ کونسل بھارتی حکومت کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر سکی ہے جس کی افواج مقبوضہ کشمیر میں شہری آبادی کو گزشتہ 33 برس سے وحشیانہ مظالم کا نشانہ بنا رہی ہے۔

    انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں سیاسی اور انسانی حقوق کی سنگین صورتحال کی طرف کونسل کی توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر اپنے مکینوں کے لیے جہنم بن چکا ہے جہاں بھارتی حکومت نے کشمیریوں سے ان کے تمام بنیادی حقوق حتی کہ زندہ رہنے کا حق بھی چھین لیا ہے۔الطاف وانی نے کہاکہ وہ گزشتہ تیس برس سے انسانی حقو ق کونسل اور اس سے قبل کمیشن برائے انسانی حقوق میں نہتے کشمیریوں پر ڈھائے جانیوالے مظالم کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں ۔

    انہوں نے مزید کہا کہ کشمیریوں پر مظالم 2018اور 2019میںعالمی اداے نے اس وقت کچھ توجہ مبذول کی جب انسانی حقوق کونسل نے مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی صورتحال کے بارے میں دو رپورٹیںجاری کی تھیں۔انہوں نے مزید کہا کہ کشمیری مساوات اور انصاف کا مطالبہ کرتے ہیں۔الطاف وانی نے کہاکہ دس لاکھ سے زائد بھارتی فوجی گزشتہ 33 بر س سے نہتے کشمیریوں کے خلاف برسر پیکار ہیں تاہم انسانی حقوق کونسل نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے ،جس سے بھارت کی حوصلہ افزائی ہورہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اب وقت آگیا ہے کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لیے ایک کمیشن آف انکوائری تشکیل دے ۔

  • کل جماعتی حریت کانفرنس کا بڑھتی ہوئی بھارتی ریاستی دہشت گردی پراظہار تشویش:حالات مزید بگڑگئے

    کل جماعتی حریت کانفرنس کا بڑھتی ہوئی بھارتی ریاستی دہشت گردی پراظہار تشویش:حالات مزید بگڑگئے

    سرینگر:مقبوضہ جموں وکشمیر: کل جماعتی حریت کانفرنس کا بڑھتی ہوئی بھارتی ریاستی دہشت گردی پر اظہار تشویش ،اطلاعات کے مطابق بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے کشمیریوں کی اپنے ناقابل تنسیخ حق ، حق خودارادیت کے حصول کی منصفانہ جدوجہد کو دبانے کے لیے علاقے میں بھارتی ریاستی دہشت گردی میں اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں مقبوضہ علاقے میں زمینی حقائق کو تسلیم کرنے کے بجائے کشمیریوں کے جذبہ آزاد ی کو دبانے کے لیے فوجی طاقت کے استعمال پر نریندر مودی کی فسطائی بھارتی حکومت کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ 27 اکتوبر 1947 کو جموں و کشمیر پر بھارت کے جبری اور غیر قانونی قبضے کے بعد سے ہماری تحریک آزادی کا عنوان شہداکے خون سے لکھا گیا ہے۔

    ترجمان نے کہا کہ اس تحریک کو فوجی طاقت کے بہیمانہ استعمال سے کسی صورت دبایا نہیں جاسکتا۔ ترجمان نے سیاست دانوں، تاجروں، وکلائ، صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں، طلباءاور علمائے دین سمیت زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں پر بدنام زمانہ بھارتی تحقیقاتی ادارے نیشنل تحقیقاتی ایجنسی کے مسلسل چھاپوں میں اضافے کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ جابرانہ ہتھکنڈے ماضی میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں اور مستقبل میں بھی انکاکشمیریوں کی مضبوط اور پرامن مزاحمتی تحریک پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

    ترجمان نے تحریک آزادی کو اس کے منطقی انجام تک جاری رکھنے کے کشمیریوں کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنی کشتیاں جلا دی ہیں اور ہم غیر قانونی بھارتی قبضے سے مکمل آزادی کے علاوہ کسی اور چیز کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے۔ترجمان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ جموںوکشمیر میں نسل کشی، بلا جواز گرفتاریوں، ماورائے عدالت قتل اور انسانی حقوق کی دیگر خلاف ورزیوں کو روکنے اور علاقائی اور عالمی امن کے لیے تنازعہ کشمیرکو اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حل کرانے کیلئے بھارت پر دباﺅ ڈالے۔

    بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں انجمن اوقاف جامع مسجد سرینگر نے ایک بار پھر سرینگر کی تاریخی مسجد میں لوگوں کو نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت نہ دینے پر بھارتی قابض انتظامیہ کی شدید مذمت کی ہے۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق انجمن اوقاف نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ آج صبح ایک بار پھر قابض انتظامیہ اور بھارتی پولیس نے جامع مسجد کے مرکزی دروازے کو تالا لگا دیا اور وادی کشمیر کے مختلف حصوں سے آنے والے لوگوں کو مسجد میں نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دی ۔

     

     

    انجمن جامع مسجد سے متعلق قابض انتظامیہ کی پالیسی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ قابض انتظامیہ نے مرکزی جامع مسجد کی جبری بندش کے تمام ریکارڈ توڑ دئے ہیں اور طاقت کے بل پر مذہبی حقو ق سمیت کشمیریوں کے تمام بنیادی حقوق سلب کر لئے گئے ہیں۔

    انجمن اوقاف نے تنظیم کے سربراہ میر واعظ عمر فاروق کی 5اگست2019سے مسلسل گھر میں غیر قانونی نظربندی کی بھی شدید مذمت کی اور ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا تاکہ وہ اپنے مذہبی اور پر امن سیاسی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔ انجمن نے جامع مسجد کو نماز جمعہ کیلئے بھی کھولنے کا مطالبہ کیا ۔

    برطانیہ کے شہر برمنگھم میں بی بی سی کے دفتر کے باہر بھارت کے بدنام زمانہ تحقیقاتی ادارے این آئی اے کی طرف سے عالمی شہرت یافتہ کشمیری انسانی حقوق کے علمبردار خرم پرویز کی غیر قانونی گرفتاری کیخلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق مظاہرین نے بی بی سی کے دفتر کے باہر جمع ہو کر احتجاج کیا ۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ سرینگر میں قائم جموں و کشمیر کولیشن آف سول سوسائٹی کے پروگرام کوآرڈینیٹر خرم پرویز کی فوری رہائی کے لیے بھارت پر دبا ئوڈالے۔

     

     

     

    انہوں نے نہتے کشمیریوں کی نسل کشیُ پر مودی کی فسطائی بھارتی حکومت کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے تحریک کشمیر برطانیہ کے صدر فہیم کیانی نے کہاکہ این آئی اے نے 22نومبر کو خرم کی رہائش گاہ پر چھاپہ مار کر انہیں گرفتار کیا اور بعد ازاں انہیں نئی دلی منتقل کردیاگیا۔

    انہوں نے کہاکہ مقبوضہ جموں و کشمیرمیں مودی حکومت کے جنگی جرائم پر عالمی برادری کی خاموشی افسوسناک ہے ۔ تحریک کشمیر یورپ کے صدر محمد غالب ، خواجہ محمد سلیمان ، ٹرید کونسل برمنگھم کے صد ر Ian Scott ،سٹاپ دی وار کولیشن برمنگھم کے سیکریٹری جنرل سٹورٹ رچرڈسن ،رانا رب نواز، چوہدری اکرام الحق اور دیگر نے بھی اس موقع پر خطاب کیا۔

     

     

  • کشمیر کے موجودہ حالات اور حکومت پاکستان ۔۔۔ ازقلم: ڈاکٹر ماریہ نقاش

    کشمیر کے موجودہ حالات اور حکومت پاکستان ۔۔۔ ازقلم: ڈاکٹر ماریہ نقاش

    آزادی کا متوالا اب خود ہی قید کیوں؟؟؟؟؟
    سر سبز و شاداب کشمیر اب سرخ ولال کیوں؟؟؟؟

    ایک مشترکہ سوال جو ہم سب کے ذہنوں میں ہے کہ….!!!!
    کشمیر کے موجودہ حالات کا ذمہ دار کون ہے؟؟

    اپنی اس تحریر میں…میں حالات و واقعات کی روشنی میں اپنا نقطہ نظر واضح کرنے کی کوشش کروں گی…جس سے یقیناً آپ سب اتفاق کریں گے….
    اگر کبھی آپ کو اتفاق ہوا ہو کشمیر کی وادیوں کو بذات خود اپنی جاگتی آنکھوں سے دیکھنے کا….یا کبھی تصاویر میں کشمیر کا حسن دیکھا ہو تو…آپکی آنکھیں ضرور گواہی دیں گی…
    اس سر سبزو شاداب خطے کی دلکشی کی….
    وہاں کی شفاف فضاء کی…
    فر فر بہتے سفیدوسبز پانی کے دریائوں کی….
    اور قدرت کے خوبصورت رنگوں کی چمک کی….
    جو ہمیں یہاںدیکھنے کو میسر نہیں ….بڑی سے بڑی پینٹ کمپنی اپنے رنگوں میں وہ چمک اور دلکشی پیدا نہیں کر سکتی جو وہاں کے سر سبز خطوں میں ہے….
    لیکن یہ کیا….؟؟؟

    وہ خوبصورت رنگ مدھم کیوں پڑتے جا رہے ہیں…؟؟؟

    وہ خاموش پر سکون فضائیں چیخ وپکار سے کیوں گونج رہی ہیں…؟؟؟

    بہتے دریا کا سفید پانی اب سرخی مائل کیوں ہوتا جا رہا ہے…؟؟

    سر سبز کشمیر اب اپنی پہچان کھو کر سرخ و لال کیوں ہوتا جا رہا ہے…؟؟؟

    پرندوں کی میٹھی بولیوں کی جگہ مائوں کی دلدوز چیخیں کیوں سنائی دیتی ہیں؟؟؟

    بچوں کی کلکاریوں کی جگہ دہشت زدہ سہمی ہوئی گھٹی گھٹی آوازیں کیوں سماعت کو چیرتی ہیں؟؟؟؟

    نوجوان بچے اور بچیوں کی سکول و کالج جاتے ہوۓ ہنسی اور قہقوں کی آوازیں کہاں کھو گئ ہیں؟؟؟

    بڑی بوڑھوں کی لاٹھی کی ٹک ٹک (جو اپنے آس پاس والوں کو متوجہ کر کے احساس دلاتی تھی کہ بزرگ جا رہا ہے عزت سے سلام کیا جاۓ) وہ آواز وہ ٹک ٹک کس خوف سےخاموش ہو گئ ہے؟؟؟؟؟؟

    زندگی کتنی حسین ہے…
    اسکا مزہ لینے کی بجاۓ وہ لوگ ہر سانس اک قرض کی طرح کیوں لے رہے ہیں…؟؟؟

    زندگی کی نعمتوں سے فیض یاب ہونے کی بجاۓ وہ زندگی جیسی نعمت سے ہی محروم کیوں ہو رہے ہیں…؟؟؟

    وقت جو پر لگا کر گزر جاتا ہے…
    یہی وقت وہاں لمحوں کی قید سے آزاد نہیں ہوتا….لمحہ لمحہ سال کی طرح کیوں ہو گیا…؟؟؟ہم پاکستانی گرمی کی شدت سے پسینہ میں شرابور ہو کر شکایت کرنے لگتے ہیں….

    وہاں…کشمیری بچے اپنے ہی خون میں غوطہ زن ہو کر بھی والدین سےکیوں شکایت نہیں کرتے….؟؟؟

    آج یہاں ہماری اولاد میں سے کسی ایک کو بھی کوئ باہر کا بچہ پتھر مار دے تو ہم پورے طیش سے اسکے گھر جھگڑنے چلے جاتے ہیں….

    وہاں اولادیں قتل ہو رہی ہیں والدین حرف شکایت لبوں میں دبائے..سسکیوں اور آہوں کے درمیان رب تعالی سے زیر لب دعا گو کیوں ہیں… ؟؟؟

    نظریں دور کہیں افک پر ٹکی ہوئ ہیں….کہ کب کوئ قاسم …حافظ سعید بن کر آۓ اور اس ظلم کی زنجیر کی اک اک کڑی کو اپنی ایمانی طاقت و قوت سے توڑ ڈالے….

    آج یہاں والدین بیماری سے لڑتے ہیں….یہ سوچ کر کہ ہمارے بعد یہاں ہمارے بچوں کی نگہداشت کرنے والا کون ہو گا…؟؟؟

    وہاں والدین بچوں کی نگہداشت کرنے سے پہلے ہی شہیدکیوں کیے جا رہے ہیں…؟؟؟

    لکن ان معصوم بچوں کی امید بھری نگاہیں اب بھی بارڈر کے اس پار اس منظر کو دیکھنے کیلیے ٹکی ہوئی ہیں….

    کہ کب کوئی حافظ سعید کا سپاہی…سیف اللہ کی تلوار ہاتھ میں تھامے ایمان و قوت …شجاعت و حوصلے کے گھوڑے پر سوار ہو کر آۓ اور ظلم و جبر کی اس دنیا کا سر قلم کر دے….اور قید کے اندھیرے سے نکال کر آزادی اور ایمان کی روشنی میں لے آۓ….
    یہ ظلم کے اندھیرے کشمیر کی وادی پر کیوں چھا گئے ہیں…؟؟ میں بتاتی ہوں….

    انڈین 10 ہزار فوجی کشمیر مین ظلم و ستم کیلیے کیوں بھیجے گۓ….؟؟

    میں بتاتی ہوں…
    28 ہزار انڈین فوجی مقبوضہ وادی میں کیوں اتارے گۓ…؟؟؟
    میں بتاتی ہوں…
    قارئین کرام ….!!!

    وجہ بہت واضح اور صاف ہے…..
    جب کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرہ پر عملی طور پر کام کرنے والے دین کے ترجمان …حافظ سعید کو نظر بند کر دیا جاۓ گا…..
    تو یہی ہو گا نہ…؟؟
    جب اجلاس اور تقاریر میں چیخ چیخ کر کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی اور ہمدردی کا احساس اجاگر کرنے والے حافظ سعید کی آواز کو زندان میں دبا دیا جاۓ گا۔
    ….تو پھر ایسا ہی ہو گا نہ….؟؟؟
    کشمیریوں کو جانے والی ہر وہ مدد جو حافظ سعید کے سپاہیوں کی شکل میں ان کو میسر تھی….ہمارے پاکستانی حکمرانوں کے فیصلے کی بھینٹ چڑھ کر ہر مدد ہر کاوش سلاخوں کے پیچھے قید ہو کر رہ گئ ہو تو ….

    ایسا تو ہونا ہی تھا نا…؟؟؟
    انڈین فوج سے لے کر انڈین حکمران تک جس آواز سے لرزتے تھے…وہ آواز دبا دی گئ ہو …
    تو ایسا تو ہوناہی تھا نا…؟؟
    جو وجود انڈیا اور کشمیر کے درمیان ظلم کے خلاف اک دیوار بن کے کھڑا تھا….وہ وجود ہی ہٹا دیا جاۓ …..
    تو بتاؤ کیا یہ نہیں ہونا تھا…؟؟؟
    اب تک انڈین فوج کے ہاتھ جس زنجیر سے بندھے تھے….وہ حافظ سعید اور انکے ساتھی ہی تو تھے…..
    اب تک جس للکار سے خوف کھا کر وہ بلوں میں چھپے بیٹھے تھے…وہ للکار حافظ سعید کی ہی تو تھی….
    اب تک انڈیا کے مذہبی رہنما ان کے مذہب سے متعلق سب سے بڑا خطرہ جس ذات کو بتاتے تھے …وہ نام وہ ذات حافظ سعید ہی تو تھے….

    مگر افسوس…!!! صد افسوس…!!!پاکستان کی اس پالیسی اور پاکستانی حکمرانوں کے اس فیصلے پر افسوس ہی تو کر سکتے ہیں…
    حکام اعلی …..!!!!سوچو ذرا….!!!اپنے کیے ہوۓ فیصلے پر نظر ثانی کرو کہ کہیں….
    کشمیر پر آنے والے اس ظلم کے عذاب کی وجہ ..تمہارا حافظ سعید کو گرفتار کرنے والا گناہ تو نہیں…؟؟؟؟

    کہیں حافظ صاحب کو گرفتار کر کے تم نے انڈیا کی کشمیر کو کچلنے اور اس زمین کو اپنا بنانے کی راہیں ہموار تو نہین کر دیں…؟؟؟

    ظلم و جبر کے اس ٹھاٹھیں مارتے ہوۓ سمندر میں اب بھی ایک کشتی اس طوفانی ظلم کا سامنا کر کے کشمیر کو اس طوفان سے بچا سکتی ہے….

    اس کشتی کو زنجیروں سے آزاد کر کے تو دیکھو….!!!
    کہیں دیر نہ ہو جاۓ….

    اس سے پہلے کہ اس طوفان کی لہریں کشمیر کے ہر مسلمان گھر کو نگل لیں…تم حافظ سعید کو رہا کر دو….

    اتنی جانوں کا نقصان تم اپنے سر نہیں لے سکتے…پاکستانی حکمرانو اب بھی وقت ہے اپنی پالیسی کو بدلو…اپنے فیصلے کو مسترد کرو…کایا پلٹ سکتی ہے… بس حافظ صاحب کو رہا کرنے کی دیر ہے..

    سر سبز کشمیر اب سرخ و لال ہو رہا ہے….
    اے حافظ سعید تو کب آزاد ہو رہا ہے…
    کشمیر کا ہر باشندہ تجھے ہی پکار رہاہے….
    توڑ کہ غلط فہمیوں کا پھندہ تو کب رہا ہو رہا ہے….

  • کشمیر لہو کا دریا اور بھارتی پراپیگنڈے ۔۔۔ ام ابیہا صالح جتوئی

    کشمیر لہو کا دریا اور بھارتی پراپیگنڈے ۔۔۔ ام ابیہا صالح جتوئی

    جنت ارضی کا ٹکڑا کشمیر جو پاکستان کی شہہ رگ ہے جس پر بھارتی فوج نے غاصبانہ قبضہ جما رکھا ہے اور کشمیر میں ہونے والا ظلم اور بربریت کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے بھارت کشمیریوں پر مظالم ڈھانے کے نت نئے حربے آزما رہا ہے اور مسلسل کشمیریوں کو ظلم و تشدد کا نشانہ بنا رہا ہے۔
    کشمیری بطور مسلمان اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ ایک انسان کا قتل ساری انسانیت کا قتل ہے اسی وجہ سے کشمیری کسی کے ساتھ لڑائی جھگڑا اور خون خرابہ نہیں چاہتے بلکہ کشمیری امن کے متلاشی ہیں اور امن کے لئے ہی وہ آزادی کی تحریک چلا رہے ہیں۔
    بھارتی غاصب فوج کے کے مظالم سے رہائی چاہتے ہیں ایسا خطہ چاہتے ہیں جس میں وہ امن و امان سے اپنی زندگی بسر کریں ان کے بے گناہ پیاروں کو شہید کردیا جاتا ہے جو ان کے لئے قیامت خیز منظر ہوتا ہے۔
    بھارتی فوج کشمیریوں کا حق خودارادیت چھیننے اور آزادی کی تحریک کو دبانے کے لئے اس خوبصورت وادی کو لہو لہان کر رہا ہے کشمیر میں مظالم کی ایسی ایسی تاریخیں رقم کی گئی ہیں کہ انسانیت کانپ اٹھتی ہے جو چیخ چیخ کر بھارتی فوج کا اصل چہرہ دکھا رہی ہیں
    بھارتی فوج نے کشمیر میں لاتعداد کشمیریوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔
    لاکھوں عورتوں کی عصمت دری کی ان کو اپنی حوس اور درندگی کا نشانہ بنایا معصوم ننھے منے پھول سے بچوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے لیکن ان سے سوال کرنے والا کوئی نہیں….!!!!
    اگر بات کرنی ہو بھارتی فوج کے انسٹیٹیوشن ریپ کرائمز کی تو کنان پور اور شوپیاں کی مثالیں منہ بولتا ثبوت ہیں۔
    اگر بات کرنی ہو بھارتی فوج کی میس کلنگ کی تو یجپور ، ہندوارہ اور سوپور کی مثالیں بھارتی فوج کے مظالم کی منظر کشی کررہی ہیں۔
    کشمیریوں پر اس قدر مظالم ڈھانے کے باوجود بھارت کی نفرت کی آگ ٹھنڈی نہیں ہورہی اور کشمیریوں پر مزید مظالم ڈھانے کے لئے بھارت نے کشمیر میں دس ہزار بھارتی فوجیوں کی کمک جموں خطہ کے ضلع راجوری میں پہنچائی ہے۔
    راجوری میں حریت پسندوں کا مقامی نیٹ ورک نہ ہونے کے برابر ہے پھر اتنی بڑی تعداد میں بھارتی فوجیوں کی تعیناتی کیوں کی گئی ہے….؟؟؟؟؟
    علاوہ ازیں…
    28000 بھارتی پیرا ملٹری کے دستے زبانی حکمنامے پر کشمیر میں پہنچاۓ جارہے ہیں سکولوں میں فوجی کیمپ بناۓ گئے ہیں جس سے کشمیری خوف و ہراس کا شکار ہو رہے ہیں۔

    آج انسانی حقوق کی نام نہاد تنظیمیں کیوں خاموش ہیں…؟؟؟؟
    کیا انکو یہ مظالم نظر نہیں آرہے…؟؟؟؟
    پونچھ کے رہائشی علاقے میں جگہ جگہ فوجی بنکرز کی تعمیر کیوں کی گئی ہے…؟؟؟؟
    ساؤتھ کشمیر کے علاقے ترال میں پیرا ملٹری کی پچاس بڑی گاڑیاں کیوں پہنچائی گئی ہیں…؟؟؟؟

    اور اس کے ساتھ ساتھ پلگام امرناتھ یاترا میں کیمپ راتوں رات یہ کہہ کر خالی کروا لیا گیا ہے کہ ان پر حملہ ہونے والا ہے مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کشمیر میں آج تک غیر ریاستی باشندوں پر حملہ نہیں ہوا وہ کشمیر میں محفوظ تھے لیکن اچانک بھارتی فوج نے ان کو کشمیر چھوڑنے کا کیوں حکم دیا…؟؟؟
    آخر کون ان پر حملہ کرنا چاہتا ہے…؟؟؟
    آج سے پہلے کسی نے حملہ کیوں نہیں کیا…؟؟؟
    بھارتی فوج کی سازشوں سے بہت سے سوالات جنم لیتے ہیں جو بھارتی فوج کی ناچاکیوں کا پردہ چاک کررہے ہیں ..

    حقیقت میں یہ سب بھارتی فوج کا اپنا رچایا کھیل اور پراپیگنڈا ہے بھارت کشمیر پر حملہ کرنا چاہتا ہے اسی لئے امرناتھ یاتراؤں کو ریاست سے نکلنے کا حکم دیا۔

    بھارت نے ایل او سی کے پاس بھی بہت بھاری تعداد میں فوج اور اسلحہ اکٹھا کرلیا ہے مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر دونوں طرف مسلمان ہیں اور کسی قسم کے حملے اور اسکی جوابی کارروائی میں مسلمان ہی مارے جائیں گے جو کہ بھارت کا اصل مقصد ہے اور جب جب دنیا میں بے گناہ مسلمان مارا جاتا ہے تو پوری دنیا نیند کی گولیاں کھا کر سو جاتی یا پھر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرلیتی ہے اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی چپ سادھ لیتی ہیں …
    یہ بہت بڑا المیہ ہے کہ انسانی حقوق کی تنظیموں کے نزدیک مسلمان کی جان کی کوئی اہمیت نہیں ہے جو کہ جانوروں کے حقوق کے لئے چیخ اٹھتی ہے لیکن مسلمانوں کی خاطر سکتے میں آجاتی ہے..!!!

    افسوس صد افسوس….!!!!!

    *ذرا آپ ہی اپنی اداؤں پہ غور کریں*
    *ہم عرض کریں گے تو شکایت ہوگی*

    کشمیری عوام کی آزادی کی تحریک میں پختگی اور للکار سے بھارتی فوج بوکھلاہٹ کا شکار ہے جس کے نتیجے میں وہ اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئی ہے کشمیری عوام آزادی کی خاطر بہت سی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکی ہے اب بھارتی فوج کی اضافی تعیناتی ان کے ولولوں کو کم نہیں کرسکتی بھارت کشمیر میں اپنی ہی موت کا سامان اکٹھا کررہا ہے جو اس کے لئے بہت نقصان دہ ہوگا۔
    بطور پاکستانی ہم سب اپنی پاک فوج اور کشمیر کے ساتھ ہیں یہ ظلم کا اندھیرا چھٹ جاۓ گا اور روشن سویرا ضرور ہوگا جو کشمیر کی آزادی کی نوید سناۓ گا۔ ان شاءاللہ عزوجل

  • شہادتِ برہان مظفر وانی، ایک سبق ۔۔۔ محمد عبداللہ گِل

    شہادتِ برہان مظفر وانی، ایک سبق ۔۔۔ محمد عبداللہ گِل

    برہان مظفر وانی کشمیر کا وہ نوجوان بیٹا تھا جس نے آزادی حاصل کرنے کے لیے اپنی جان قربان کر دی۔برہان وانی نے اس بات کا ثبوت دیا کہ وہ آزادی پسند نوجوان ہے۔کشمیر میں انڈین آرمی کے مظالم انتہا کو پہنچ چکے ہیں۔دن بدن کسی نہ کسی مسلمان کو شہید کر دیا جاتا، انڈین آرمی والی مسلمان بیٹیوں کی عزتیں لوٹتے۔ ظالم بچوں کو بھی نہ بخشتے۔ بچوں کی آنکھوں میں پیلٹ گن کے چھٹرے مار مار کر ان کی بینائی چھین لی جاتی ہے۔انہیں مظالم کی دوران ایک بچے نے وادی کشمیر میں جنم لیا۔انہیں مظالم میں پرورش پائی کبھی وہ دیکھتا کہ کشمیر کی کسی بیٹی کی عزت لوٹ لی غاصبوں نے ،کبھی وہ سنتا فلاں بھا ئی کو شہید کر دیا گیا۔کبھی وہ سنتا کہ امام مسجد کو روڈ پر شہید کر دیا گیا ۔کبھی وہ سنتا کہ نماز جمعہ پر پابندی عائد کر دی گئی ہے ۔کبھی وہ دیکھتا کہ قربانی کا موقع ہے اور گائیں ذبح کرنے پر پابندی ہے۔کبھی نماز پر پابندی ہے ۔کبھی وہ سنتا کہ 22 کشمیری مسلمان اذان دیتے ہوئے شہید ہو گئے۔ان سب مظالم کو دیکھ کر اس کا دل بیزار ہوتا تھا۔اللہ نے ہمت دی کہ آزادی پسند مجاہدین کشمیر میں شامل ہوا۔اپنی گن کے ذریعے انڈین آرمی کی نیندیں حرام کر دیں ۔ وہ ڈرنے لگے۔
    شاعر مشرق یوں کہتے ہیں

    کافر ہے تو شمیشیر پہ کرتا ہے بھروسہ
    مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی

    اقبال کی شاعری نےاس پر اثر کیا اور وہ جہاد کی راہ پر نکلا ۔جہاد کے لیے اپنی جان کی پرواہ نہ کی۔آزادی حاصل کرنے کے لیے کشمیری قوم قربانیاں دے رہی ہے ۔

    ہے کس کی یہ جُرأت کہ مسلمان کو ٹوکے
     حُریّتِ افکار کی نعمت ہے خدا داد

    انڈین میڈیا بھلے انھیں آتنک وادی کہتا ہوں لیکن عظیم مجاہد برہان مظفر وانی شہید رحمتہ اللہ ہمارے تو ہیرو ہیں کیونکہ انہوں نے آزادی کی خاطر جدوجہد کی۔ ہمارے لیے تو Freedom Fighter ہے ۔وہ مسلمان جو آزادی حاصل کرنے کے لیے اٹھا ہو۔ پہلے مسلمانوں نے بھی پر امن طریقہ اپنایا۔ قرار دادیں منظور ہوئیں لیکن بھارت نے آج تک ان قرار دادوں کو نہیں اپنایا تھا۔پھر مسلمانوں نے وہ طریقہ اپنایا جہاد فی سبیل اللہ کا۔جو بندے اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں اللہ کے ہاں وہ بڑے مقام و مرتبہ والے ہیں
    اَلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ ہَاجَرُوۡا وَ جٰہَدُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ بِاَمۡوَالِہِمۡ وَ اَنۡفُسِہِمۡ ۙ اَعۡظَمُ دَرَجَۃً عِنۡدَ اللّٰہِ ؕ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡفَآئِزُوۡنَ ﴿۲۰﴾
    ترجمہ :-
    جو لوگ ایمان لائے ہجرت کی اللہ کی راہ میں اپنے مال اور اپنی جان سے جہاد کیا وہ اللہ کے ہاں بہت بڑے مرتبہ والے ہیں اور یہی لوگ مراد پانے والے ہیں ۔
    بھلے یہ کفار ان مجاہدین کو صحیح نہ سمجھیں لیکن اللہ کے ہاں وہ بڑے مقام و مرتبہ والے ہیں۔کشمیری قوم محکوم و مجبور ہیں۔برہان وانی کی شہادت نے انھیں ایک نظریہ دیا کہ یہ ہے آزادی حاصل کرنے کا طریقہ۔برہان وانی کہ شہادت تمام مسلمانوں کو ایک درس دیتی ہے:-
    شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن
    نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی
    اس لیے ہمیں اپنے ہیروز کو بھولنا نہی چاہیے جو قومیں اپنے ہیروز کو بھول جاتی ہے وہ غرق ہو جاتی ہے
    اقبال کشمیریوں کی صورتحال کو یوں بیان کرتے ہیں:-
     آج وہ کشمیر ہے محکوم و مجبور و فقیر
     کل جسے اہلِ نظر کہتے تھے ایرانِ صغیر
    کشمیر ہماری شہ رگ ہے اسے آزاد کروانا ہمارا اولین فرض ہے۔حکمرانو کو بھی جاگ جانا چاہیے اور عہد کرنا چاہیے کہ اپنا مکمل کردار ادا کریں گئے۔اقوام متحدہ کو کشمیر کی آزادی اور ان پر مظالم کی یاد دہانی کروانی چاہیے اور عوام کو اپنے بھائیوں کا پشتیبان بننا چاہیے اور اللہ کے حضور ان کے لیے دعا مانگنی چاہیے۔