Baaghi TV

Tag: تحریک انصاف

  • ڈاکو راج تاحال برقرار ، پولیس تھانوں اور مخصوص ٹھکانوں پر رشوت بٹورنے میں مصروف

    ڈاکو راج تاحال برقرار ، پولیس تھانوں اور مخصوص ٹھکانوں پر رشوت بٹورنے میں مصروف

    قصور میں قانون کے رکھوالے بھنگ پی کر سوگئے۔
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ضلع بھر میں ڈکیتیوں کا سلسلہ تھم نہ سکا۔ پولیس کی ملی بھگت سے پریشان شہری تھانے کی ناک تلے بھی محفوظ نہیں ہیں۔
    یاد رہے کہ گزشتہ روز ہونے والی 50 لاکھ سے زائد مالیت کی ڈکیتی تھانہ کھڈیاں خاص سے صرف چند میٹر کے فاصلے پر واقع جگہ پر ہوئی ہے۔ جس پر تحریک انصاف کے ضلعی صدر نے اظہار افسوس کرتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے-

    پاکستان تحریک انصاف قصور کے ضلعی صدر ڈاکٹر عظیم الدین زاہد لکھوی ڈاکٹر نذیر بلوچ کے گھر پہنچ گئے ڈکیتی کی واردات پر اظہار افسوس ملزمان کی گرفتاری کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے. متاثرہ خاندان سے گفتگو. پاکستان تحریک انصاف ضلع قصور کے صدر ڈاکٹر عظیم الدین زاہد لکھوی قصبہ کھڈیاں کی سیاسی و سماجی شخصیت ڈاکٹر نذیر بلوچ کے گھر گئے انکے گھر 50 لاکھ کے قریب ھونے والی ڈکیتی پر افسوس کا اظہار کیا اس موقع کوآرڈینیٹر سردار عباس ڈوگر، سردار عابدجمال،جواد ابراہیم دیگر بھی انکے ھمراہ تھے. ڈاکٹر عظیم الدین لکھوی نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کروائی کہ ملزمان کو قانون کی گرفت میں لانے اور لوٹے گئے زیورات نقدی وغیرہ برآمد کروائی جائے گی. بعد ڈاکٹر عظیم الدین زاہد لکھوی نے اس سلسلہ میں ڈی پی او قصور سے ملاقات کی اور ڈاکٹر نذیر بلوچ کے ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کرنے، لوٹاگیا مال برآمد کرنے اور ذمہ داران قرار واقعی سزا دلوانے کا مطالبہ کیا ہے۔

    (غفار ریاض نمائندہ باغی ٹی وی قصور)

  • پی ٹی آئی کے فارن فنڈنگ کیس کو خفیہ رکھنے کے حوالے سے پیپلز پارٹی کے خدشات

    پی ٹی آئی کے فارن فنڈنگ کیس کو خفیہ رکھنے کے حوالے سے پیپلز پارٹی کے خدشات

    تحریک انصاف کے خلاف فارن فنڈنگ کیس کو خفیہ رکھنے سے متعلق پی ٹی آئی کے وکیل کی درخواست کا معاملہ

    پیپلزپارٹی نے وزیراعظم سے تحریک انصاف کے وکیل کی درخواست کے معاملے پر وضاحت دینے کا مطالبہ کرلیا ہے- پیپلزپارٹی کے سیکرٹری جنرل نیر بخاری کا اہم بیان سامنے آگیا ہے- نیر بخاری کہتے ہیں کہ تحریک انصاف کی فارن فنڈنگ کیس کے دستاویز کو خفیہ رکھنے کی درخواست سے پیپلزپارٹی کے خدشات درست ثابت ہوئے ہیں- تحریک انصاف کی فنڈنگ کیس کے دستاویز کو خفیہ رکھنے کا موقف کئی سوالات کو جنم دیتا ہے- وزیراعظم کے بیان اور تحریک انصاف کے وکیل کی درخواست کے بعد تضاد کھل کر سامنے آگیا ہے-

    دستاویز کو خفیہ رکھنے کی درخواست سے وزیراعظم  کا فنڈنگ کیس سے متعلق جھوٹ کھل کر سامنے آگیا ہے- کچھ روز قبل وزیراعظم نے فارن فنڈنگ کیس کی اوپن سماعت کا بیان دیا- بیان کے فوری بعد ایک بار پھر فنڈنگ کیس کی سماعت کو خفیہ رکھنے کا کہا جاتا ہے-
    تحریک انصاف کی درخواست کے بعد ثابت ہوگیا کہ پی ٹی آئی فنڈنگ کیس میں بری طرح پھنس چکی ہے- تحریک انصاف فارن فنڈنگ لینے کا اعتراف کر چکی ہے الیکشن کمیشن کیس کا فیصلہ سنائے-

  • وزیراعلیٰ پنجاب, عثمان بزدار سے اراکین اسمبلی کی ملاقات ، پسماندہ علاقوں میں ایجوکیشن اور ہیلتھ فسلیٹز کوخوب تر بنانے کا وعدہ

    وزیراعلیٰ پنجاب, عثمان بزدار سے اراکین اسمبلی کی ملاقات ، پسماندہ علاقوں میں ایجوکیشن اور ہیلتھ فسلیٹز کوخوب تر بنانے کا وعدہ

    لاہور30جنوری: وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار سے اراکین اسمبلی کی ملاقات جس میں صوبائی وزیر خزانہ ہاشم جواں بخت، مشیر محمد حنیف پتافی، شہاب الدین خان، محمد شفیع، جاوید اختر لنڈ، علمدار قریشی، عبدالحئی دستی، سردار فاروق دریشک، سردار احمد علی خان دریشک، احمد شاہ کھگہ، ملک ندیم عباس بارا، سرفراز حسین اور محمد آصف شامل تھے. چیف وہپ پنجاب اسمبلی ایم پی اے سید عباس علی شاہ بھی اس موقع پر موجود تھےمنتخب نمائندوں نے وزیراعلیٰ کو اپنے علاقوں کے مسائل سے آگاہ کیا.وزیراعلیٰ عثما ن بزدار کی مسائل حل کرنے کی یقین دہانی, انہوں نے کہا کہ انکی پسماندہ علاقوں کی ترقی پر پوری توجہ ہے
    عثمان بزدارکاکہنا یہ ہے کہ عوامی نمائندوں کے مسائل کو ذاتی سمجھ کر حل کرتاہوں ، اراکین صوبائی اسمبلی میرے ساتھی ہیں اور منتخب نمائندوں کی ترجیحات کے مطابق ان کے حلقوں میں ترقیاتی کام ہوں گے۔ منتخب نمائندوں کی مشاورت سے عوام کی ترقی و خوشحالی کے پروگرام پر عملدرآمد کیا جائے گا۔ ہم سب نے ٹیم ورک کے طورپر صوبے کے عوام کی خدمت کرنی ہے. وزارت اعلی صرف عہدہ نہیں بلکہ بہت بڑی ذمہ داری ہےاورعوام کی خدمت مشن اور اوڑھنا بچھونا ہے۔
    عثمان بزدارکا مزید کہنا یہ ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت سابق دور کی فاش غلطیوں اور خرابیوں کو دور کر رہی ہے۔ سابق حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کے باعث ملک اپنی اصل منزل سے ہٹ گیا۔ قومی وسائل کو نمائشی منصوبوں کی نذر کرکے ملک و قوم سے ظلم کیاگیا۔ سابق حکمرانوں نے عوام کے بنیادی مسائل کو یکسر نظر انداز کیا۔ عوام بنیادی ضرورتوں کو ترستے رہے اور حکمران اقتدار کے مزے لوٹتے رہے. ہماری حکومت نے عوام کے بنیادی مسائل کے حل پر توجہ مرکوز کی ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت تمام علاقوں کی یکساں ترقی پر یقین رکھتی ہے۔ پسماندہ علاقوں کی ترقی کیلئے جاری منصوبوں کی خود نگرانی کررہا ہوں. زبانی جمع خرچ کا وقت گزر چکا،اب صرف کام ہوتا ہے اور ہم عمل کرکے دکھاتے ہیں .شہروں کے ساتھ دوردراز علاقوں میں بھی ایجوکیشن اور ہیلتھ فسلیٹز کو خوب سے خوب تر بنائیں گے۔

    ۔اراکین پنجاب اسمبلی کا کہنا ہی کہمنتخب نمائندوں سے مشاورت کا سلسلہ خوش آئند ہے، مسائل کے حل کیلئے عثمان بزدارکی ذاتی دلچسپی پر شکرگزار ہیں وہ حقیقی معنوں میں عوامی وزیراعلیٰ ہیں.

  • تحریک انصاف کا بجٹ بم ۔۔۔ کپتان اجازت دے تو تھوڑا سا گھبرا لیں … نوید شیخ

    تحریک انصاف کا بجٹ بم ۔۔۔ کپتان اجازت دے تو تھوڑا سا گھبرا لیں … نوید شیخ

    یہ بات ہی غلط ہے کہ عمران حکومت نے یہ اپنا پہلا بجٹ پیش کیا ہے۔ دو اضافی منی بجٹوں سے تحریک انصاف اس قوم کو پہلے ہی نواز چکی ہے۔جن کے ثمرات سے ہم رمضان اور عید پر استفادہ حاصل کرچکے ہیں. اس میں کوئی دورائے نہیں ہے کہ یہ آئی ایم ایف کا بجٹ ہے جو صرف اردو زبان میں پیش کیا گیا ہے۔

    سب سے پہلے بات کر لیتے ہیں۔ کہ جب سے عمران خان اقتدار میں آئیں ہیں انھوں نے کیا تیرچلائے ہیں اور کتنے پیسے اکٹھے کر لیے ہیں۔ حالت یہ ہے کہ حکومت اقتصادی سروے کے تقریباً تمام اہداف حاصل کرنے میں مکمل فیل ہو گئی ہے۔ یہ وہ کارکردگی ہے جس کے بلند وبانگ دعوے کیے جاتے تھے ۔ اور اب بھی کیے جارہے ہیں۔ اس نئے بجٹ میں ہر چیز پر نئے ٹیکس لاگوکر دیے گئے ہیں۔ شاید ہی کوئی چیز بچی ہو جو ٹیکسوں سے مستثنی ہو۔ چلیں سگریٹ، مشروبات، سی این جی، ایل این جی، سیمنٹ اور گاڑیوں پر عائد ٹیکسز کی شرح میں اضافہ توشاید یہ سوچ کر کیا گیا ہو کہ یہ سب عیاشی کے زمرے میں آتی ہیں۔ اور اس ملک میں عیاشی صرف حکومت اور وزیروں کا ہی حق ہے ۔ مگرتبدیلی کے دعوے داروں نے کوکنگ آئل، گھی، چینی پر ٹیکسوں میں اضافہ کرکے ثابت کردیا۔ کہ تبدیلی سرکار بھی گزشتہ حکومتوں کی طرح ہی عوام دشمن اور غریب دشمن ہے ۔

    مزید پڑھیے : عثمان بزدار کے کارنامے ۔۔۔نوید شیخ

     

    عمران خان کی نظر میں چینی اتنی بڑی عیاشی ہے کہ اس پرعائد 8 فیصد سیلز ٹیکس کو بڑھا کر 17 فیصدکردیا گیا ہے۔ جس سے چینی کی فی کلو گرام قیمت میں ساڑھے 3 روپے سے زائد کا اضافہ ہونے کی نوید ہے۔ ایسا ہوناہی تھا۔اس عوام کا مقدر ہی ایسا ہے جب حکومت بنی ہی شوگرمافیا کی مدد سے ہو ۔ جب شوگرمافیانااہلی کے باوجود کابینہ اجلاسوں میں ڈھٹائی سے بیٹھتی ہو۔ تو عوامی استعمال کی اشیاء پر ہی ٹیکس لگائے جاتے ہیں مافیاز پر نہیں ۔ چکن، مٹن اور مچھلی کی سیمی پروسسڈ اور ککڈ اشیاء پر 17 فیصد سیلز ٹیکس تجویز کیا گیا ہے۔ کیونکہ غریب تو کھاتا ہی دال سبزی ہے ۔ گو شت تو امیروں کے چونچنلے ہیں۔ سو اچھا ہی ہوا اس پر ٹیکس لگا دیا گیا ۔ حکومت نے دودھ، بالائی، خشک اور بغیر فلیور والے دودھ پر بھی 10 فیصد ٹیکس تجویز کیا ہے۔ یہ بھی لگثرری ایٹمز ہیں ۔غریبوں کی پہنچ سے تو یہ پہلے ہی بہت دورہیں۔

    مزید بڑھیے: عمران خان پر چارج شیٹ ۔۔۔ نوید شیخ

     

    حکومت نے ہزار سی سی اور اس سے چھوٹی گاڑیو ں پر 2.5فیصد ٹیکس عائد کرکے بھی احسن اقدام کیا ہے۔ کیونکہ گاڑی تو صرف امیر بندہ ہی رکھ سکتا ہے۔مگر متوسط طبقہ پتہ نہیں کیوں اس فیصلے پر تڑپ اُٹھا ہے۔ عام آدمی پیدل چلے ، سائیکل رکھے ، موٹرسائیکل چلائے گاڑی سے اس کا کیا لینا دینا۔ حکومت کا یہ بہت اچھا فیصلہ ہے ۔ اس ملک میں تمام حقوق صرف امیروں کے لیے ہیں ۔ اسی لیے تو مہنگی اور بڑی بڑی گاڑیوں پر ٹیکس میں کمی کر کے امیر افراد کو مزید فائدہ پہنچایاگیا ہے۔ کیونکہ امیروں کے پیسوں سے ہی تو کپتان حکومت میں آئے ہیں ۔ غریبوں اور متوسط طبقے کے ووٹ تو ہر کوئی لے لیتا ہے۔شاید نوجوانوں کے لیڈر کو کسی نے یہ نہیں بتایا کہ کم پاور اور نسبتاً کم قیمت گاڑیاں متوسط طبقہ استعمال کرتا ہے۔ یہ وہ گاڑیاں ہیں جنہیں تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد پرائیویٹ ٹیکسی کے طور پر چلا کر سفید پوشی برقرار رکھنے کی جدو جہد میں استعمال کرتے تھے جن پر اب ٹیکس لگا کر حکومت نے صرف ظلم نہیں کیا ۔ بلکہ اپنا ووٹ بینک بھی متاثر کر لیا ہے۔

    اعلی تعلیم بھی صرف امیروں کے بچوں کا حق ہے اس لیے اس بجٹ میں اعلی تعلیم کا بجٹ 57 ارب سے کم کرکے 43 ارب کردیاگیاہے۔کیونکہ تمام جاگیردار اور وڈیرے خود اسمبلیوں میں موجود ہیں اس لیے زراعت پر ٹیکس لاگو نہیں کیا گیا ۔ اس اسمبلی میں جتنے بیٹھے ہیں۔ یہ خود تو دور کی بات شاید ان کے ملازم بھی17500 روپوں میں اپنے گھر کا خرچہ نہ چلا سکیں ۔ ٹیکسوں کی بھرمار اور اتنی مہنگائی کے بعد سرکاری ملازموں کی تنخواہوں میں دس فیصد اضافہ کرنا حاتم طائی کی قبر پر لات مارنے کے مترادف ہے۔

    مزید پڑھیے: پاکستانی آٹوموبائل مافیا کو نکیل کون ڈالے گا ؟. نوید شیخ

     

    حکومت خود تو ٹیکس نیٹ بڑھانے میں مکمل ناکام رہی ہے مگر جو پہلے سے ٹیکس دے رہے تھے ان کو مزید نچوڑا جا رہا ہے۔ بجٹ میں عوام کو کوئی ریلیف نہیں دیا گیا ہر چیز پر ہر کسی نے ہر حال میں ٹیکس دینا ہے ۔ پہلے صرف ان ڈائریکٹ ٹیکس دیتے تھے ۔ اب ان ڈائریکٹ ٹیکس کے ساتھ ساتھ ڈائریکٹ ٹیکس بھی دینا ہوگا۔ جس طرح اس حکومت نےٹیکسوں کی بھرمار کی ہے۔ اب ٹیکس ادا کرنے کے لیے بھی ہر کسی کو ایک نئی نوکری کرنی پڑے گی ۔

    ریاستِ مدینہ کا نعرہ لگا کرتحریک انصاف نے اس قوم کے ساتھ وہ کیا ہے کہ شاید یہ قوم آئندہ کبھی کسی کا اعتبار نہ کرے۔ اس بجٹ سے اندازہ ہواہے کہ اصل نیا پاکستان اب بنا ہے ۔
    شکریہ تحریک انصاف
    شکریہ عمران خان
    اگر اجازت ہو تو اب تھوڑا سا گھبرا لیں ۔

    اپنی رائے دینے کے لیے ای میل کریں
    naveedsheikh123@hotmail.com

    ٹویٹر پر فالو کریں

  • عمران خان پر چارج شیٹ ۔۔۔ نوید شیخ

    عمران خان پر چارج شیٹ ۔۔۔ نوید شیخ

    عمران خان کو حکومت میں آئے 9 ماہ گزر چکے ہیں۔ ان 9 ماہ میں جہاں بیورو کریسی میں خوب اکھاڑ پچھاڑ کی گئی وہاں وفاقی اور صوبائی وزیر بھی نہیں بچے۔ تبدیلی ہر جگہ عملی طور پر نظر آئی۔ ویسے تو حکومت لیموں سے لے کر ڈالر تک کی قیمتیں کنڑول کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ مگر گراؤنڈ پر حالات اس سے بھی برے ہیں۔

    سیاست میں نعرے لگانا ، دعوے کرنے ، باتیں بنانا بھی ضروری ہے مگر کام کرنا ایک فن ہے ۔ یہ تو ثابت ہو چکا ہے تحریک انصاف میں باتیں کرنے والے زیادہ ہیں اور کام کرنے والے کم ۔ شاید اسی لیے ہر جگہ ٹیکنو کریٹس سے کام چلایا جا رہا ہے ۔ بیورو کریسی، وزراء تو دور کی بات وزیر اعلی پنجاب کی بات نہیں سنتی ۔عثمان بزدار کی نااہلی کے چرچے تو زبان زد عام ہیں مگر پھر بھی وہ کپتان کے وسیم اکرم پلس ہیں ۔

    ڈالر کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ قیمت اس لیے بڑھ رہی ہے کیونکہ مشرف ، زرداری اور نواز شریف دور میں منصوعی طور پر ڈالر کی قیمت کو روکے رکھا گیا تھا ۔ جبکہ حقائق یہ ہیں کہ پیپلز پارٹی دور میں ڈالر 32 روپے، نواز شریف کے دور میں ڈالر 26 روپے اور تحریک انصاف کے ان 9 مہینوں میں ڈالر 19روپے مہنگا ہوا ہے ۔ عوام کے لیے خوشخبری یہ ہے کہ پی ٹی آئی کا ابھی چار سال اور تین ماہ کا دور حکومت باقی ہے ۔

    کاروبار ختم ہو چکا ہے ۔ مارکیٹیں سنسان ہیں ۔ گاہک غائب ہیں ۔ رئیل اسٹیٹ کا کاروبار بند پڑا ہے ۔پرچیوں پر کاروبار ہو رہا ہے ۔ لوگ پیسہ روک کر بیٹھے ہوئے ہیں ۔ کسی کو حکومتی پالیسوں پر اعتماد نہیں ۔ایک کروڑ نوکریاں تو دور کی بات 30 فیصد بے روز گاری میں اضافہ ہو چکا ہے ۔ پیٹرول کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ گزشتہ دور کی حکومتیں منصوعی ٹیکس لگا کر زائد قیمتیں وصول کرتی ہیں ۔ اب شاید نئے پاکستان میں پیٹرول پر صرف ٹیکس ہی وصول کیا جا تا ہے ۔گزشتہ ادوار میں سٹاک مارکیٹ کو بھی منصوعی طور 50 ہزار سے زائد پوائنٹس پر رکھا گیا تھا جو نیا پاکستان بنتے ساتھ ہی اپنی اصل حالت میں واپس آچکی ہے ۔بجلی کے بھی منصوعی کارخانے اور منصوبے لگائے جاتے تھے ۔اسی لیے اب لوڈ شیڈنگ بالکل ختم ہو چکی ہے ۔

    موٹرویز ، میٹرو بسیں ، اورنج لائن اور سٹرکوں کے جال بھی جعلی تھے۔ مگر پشاور میں اصلی بی آر ٹی منصوبہ تعمیر کیا جا رہا ہے ۔ اس لیے روز اس کا ڈیزائن تبدیل ہوتا ہے ۔ لاگت ڈبل ہو چکی ہے ۔ کسی کو نہیں پتہ کہ یہ منصوبہ کب مکمل ہو گا ۔ مگر عمران خان کو یہ یقین ہے کہ اس منصوبے میں کرپشن نہیں ہو ئی اس لیے یہاں نہ کسی سے حساب مانگا جا ئے گا نہ کسی کا احتساب کیا جائے گا۔

    اس میں کوئی شک نہیں کہ گزشتہ ادوار میں کرپشن ہوئی ۔ نواز شریف سے زرداری تک ، اسفند یار ولی سے محمود اچکزئی تک ، فضل الرحمان سے شیر پاؤ تک ، سب پر کرپشن کے سینکڑوں الزامات ہیں ۔ کئی تو عدالتوں سے سزا یافتہ ہیں ۔ اکثر پر نیب میں کیسسز چل رہے ہیں ۔ ان 9 ماہ میں تحریک انصاف نے شاید کرپشن نہ کی ہو ۔ مگر نا اہلی کی ایسی مثالیں قائم کیں ہیں کہ عوام کی بس ہو چکی ہے ۔ عمران خان اور تحریک انصاف کے وہ ووٹر اور سپورٹر جو ان کی خاطر مرنے کو تیار رہتے تھے ۔ وہ بھی اب حکومتی کارکردگی سے مایوس دکھائی دیتے ہیں ۔ کسی کے پاس اس سوال کا جواب نہیں کہ کیوں چوروں ، ڈاکوؤں، لٹیروں کا پرانا پاکستان اس 9 ماہ کے نئے پاکستان سے بہتر تھا۔

    کپتان کا اصل امتحان عید کے بعد شروع ہو گا جب ایک جانب اپوزیشن اکٹھی ہو کر لڑنے کے لیے تیار ہو گی تو دوسری طرف بجٹ پیش کرنا ہو گا ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کپتانوں کے کپتان عمران خان اس بجٹ میں ریلیف اپنے ووٹر اور سپورٹر کو دیتے ہیں یا پھر پرانے پاکستان کے چوروں اور لیٹروں کی طرح صرف ایک خاص طبقے کو ۔

    تحریک انصاف کے لیے پیغام ہے کہ ہنی مون گزر چکا عمران خان کو اب جلد کچھ عملی طور پر کر کے دکھانا ہو گا ۔ ان دعوؤں، وعدوں اور خوابوں سے مزید کام نہیں چلنا ۔اب عمران خان سے حساب بھی مانگا جائے گا اور حکومت کی کارکردگی کا احتساب بھی کیا جائے گا ۔

    اپنی رائے دینے کے لیے ای میل کریں
    naveedsheikh123@hotmail.com

    ٹویٹر پر فالو کریں