Baaghi TV

Tag: تحریک انصاف

  • اسوقت جو جبر ہو رہا ہے اسکی مثال نہیں ملتی،حامد خان

    اسوقت جو جبر ہو رہا ہے اسکی مثال نہیں ملتی،حامد خان

    تحریک انصاف کے رہنما حامد خان نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو کئی ماہ سے پابند سلاسل کیا ہوا ہے، یہ جو ظلم ہورہا ہے کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، جو پہلے کبھی نہیں ہوا وہ بھی دیکھنے کو مل رہا ہے، اپنی مرضی کی جرح ہوتی ہے،کبھی یہ دیکھنے سننے میں نہیں آیا،

    حامد خان کا کہنا تھا کہ اسوقت جو جبر ہو رہا ہے اسکی مثال نہیں ملتی، رات نو بجے تک سماعت کرنا عدالت کے انصاف کے منافی ہے،ڈاکٹر یاسمین راشد بزرگ سیاستدان اور کینسر کی مریضہ ہیں،انکا قصور اتنا ہے کہ وہ سیاسی جماعت کی طرف سے میاں نواز شریف کے خلاف الیکشن لڑ رہی ہیں ، عدلیہ بھی انصاف فراہم نہیں کر رہی،جو کچھ عدلیہ کر ہی ہے وہ سمجھ سے بالاتر ہے، ا علی عدلیہ کی ذمےداری ہے کہ وہ ناانصافیوں کے خلاف سوموٹو لے ، اعلی عدلیہ اپنا کردار صحیح ادا نہیں کر رہی ، ڈاکٹر یاسمین اصولوں اور حوصلے کے ساتھ کھڑی ہیں، سپریم کورٹ کے حکم پر انٹرا پارٹی الیکشن کرا رہے ہیں ، جو سزائیں سنائی گئیں وہ کینگروز کورٹ نے سنائی ،بندوقیں تانے فیصلہ کیا گیا ،آرٹیکل 19کے تحت مثبت تنقید ہو سکتی ہے ،عدلیہ کے اس طرح کے فیصلے کو تاریخ معاف نہیں کرے گی،

    دوسری جانب اشتیاق اے خان ایڈوکیٹ کا کہنا ہے کہ میں این اے 130سے امیدوار ہوں، میں ڈاکٹر یاسمین راشد کے حق میں دستبردار ہوتا ہوں ، میں ڈاکٹر یاسمین راشد کی الیکشن مہم کا حصہ بنوں گا،نواز شریف کے مقابلے میں ڈاکٹر یاسمین راشد کو کامیاب کروائیں گے.

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    عام انتخابات، آصفہ انتخابی مہم چلانے کے لئے میدان میں آ گئیں

    صارفین کا کہنا ہے کہ "تنظیم سازی” کرنے والوں‌کو ٹکٹ سےمحروم کر دیا گیا

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    عام انتخابات، پاکستان میں موروثی سیاست کا خاتمہ نہ ہو سکا،

  • آپ چاہتے ہیں تحریک انصاف کا نام ویب سائٹ سے بھی ہٹا دیں؟ چیف الیکشن کمشنر

    آپ چاہتے ہیں تحریک انصاف کا نام ویب سائٹ سے بھی ہٹا دیں؟ چیف الیکشن کمشنر

    تحریک انصاف کے امیدواروں کی آزاد حیثیت سے متعلق ہائیکورٹ کا فیصلہ م الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی امیدوار سلمان اکرم راجہ کی درخواست پر سماعت ہوئی

    لاہورہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کو پی ٹی آئی آزاد امیدواروں سے متعلق سننے کی ہدایت کی تھی، وکیل سمیر کھوسہ نے کہا کہ بلکل سیاسی جماعت بغیر انتخابی نشان کے انتخابات میں حصہ لے سکتی ہے آئینی حق ہے،الیکشن ایکٹ کے مطابق تحریک انصاف ابھی بھی رجسٹرڈ سیاسی جماعت ہے،ممبر کے پی اکرام اللہ نے کہا کہ یہ بھی سوال ہے کہ کیا اب بھی پی ٹی آئی اب رجسٹرڈ سیاسی جماعت ہے؟پی ٹی آئی نے پانچ سال سے زائد الیکشن نہیں کرائے،گھر میں اپنا کچھ بھی نام رکھیں پی ٹی آئی کے پاس اس وقت کوئی قانونی حیثیت نہیں، پی ٹی آئی کے پاس اس وقت کوئی سرٹیفکیٹ نہیں، سرٹیفکیٹ کے بغیر اس وقت پی ٹی آئی کا کوئی وجود نہیں ہے،وکیل سمیر کھوسہ نے کہا کہ قانون کے مطابق پی ٹی آئی کی رجسٹریشن پر کوئی مسئلہ نہیں،ممبر بلوچستان شاہ محمد جتوئی نے کہا کہ اب تو پارٹی میں کوئی عہدیدار نہیں تو ٹکٹ کیسے جاری ہوئے؟وکیل سمیر کھوسہ نے کہا کہ جب پارٹی ٹکٹ جاری ہوئے تو بیرسٹر گوہر تحریک انصاف کے چیئرمین تھے، ٹکٹ جاری کرتے وقت پشاور ہائیکورٹ آڈرزکے مطابق بیرسٹر گوہر خان چیئرمین تھے، ٹکٹ جمع کراتے وقت تحریک انصاف کے پاس پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ موجود تھا،میں نے کاغذات میں پارٹی پی ٹی آئی لکھی جبکہ فارم 33میں مجھ آزاد امیدوار ظاہر کیاگیا

    ممبر پنجاب نے کہا کہ آپ چاہتے کیا ہیں؟ وکیل سمیر کھوسہ نے کہا کہ درخوستگزار نے پارٹی کا ٹکٹ جاری کیا انکو پارٹی کا امیدوار ڈکلیئرکرے،انتخابی نشان صرف قانونی فائدہ یا کم پڑھے لکھوں کو پہچان میں آسانی ہوتی ہے،ووٹرز یا تو سیاسی جماعت یا آزاد امیدوار کو ووٹ کرتے ہیں،بے نظیر کیس میں سپریم کورٹ نے انتخابی عمل میں حصہ لینے کو آرٹیکل 17کے تحت حق قرار دیا،ممبر کے پی اکرم اللہ نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ نے ہمارے لئے کیا حکم دیا؟وکیل سمیر کھوسہ نے کہا کہ ہائیکورٹ نے کہاہے کہ فارم 33کے کالم میں آزاد لکھا ہے، لاہور ہائیکورٹ نے معاملہ سماعت کیلئے الیکشن کمیشن کو بھجوایا،لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے سے متعلق سپریم کورٹ میں اپیل بھی فائل کی،ممبر پنجاب نے کہا کہ دو فورمز پر ایک درخواست پر کیسے سماعت کی جاسکتی ہے؟ چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ آپ کیا چاہتے ہیں سپریم کورٹ سماعت کرے یا الیکشن کمیشن ؟وکیل سمیر کھوسہ نے کہا کہ ہم بیلٹ پیپرز کی تبدیلی یا الیکشن کا التواء نہیں چاہتے ،سلمان اکرم راجہ نے صرف آذاد حیثیت کو چیلنج کیا ہے،الیکشن کمیشن صرف فارم 33 میں ترمیم کر کے آذاد حیثیت ختم کرے، ممبر اکرام اللہ خان نے کہا کہ الیکشن ایکٹ رول 94 کے مطابق سیاسی جماعت وہ ہے جس کو انتخابی نشان الاٹ کیا ہو، پی ٹی آئی کو انتخابی نشان الاٹ نہیں ہوا اور سپریم کورٹ نے فیصلہ برقرار رکھا، الیکشن کمیشن ایکٹ میں رول 94 میں ترمیم نہیں کرسکتا،

    چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے کہا کہ سپریم کورٹ میں معاملہ زیر التواء ہے الیکشن کمیشن کیسے اس پر فیصلہ کرسکتا؟ وکیل سمیر کھوسہ نے کہا کہ انتخابات 8 فروری کو ہونے ہیں معاملے کی سنگینی سمجھتے ہوئے الیکشن کمیشن معاملہ دیکھے، مجھے پی ٹی آئی کا انتخابی نشان نہ دیں لیکن مجھے پی ٹی آئی کا نامزد امیدوار ڈکلئیر کردیں،ایک چیز کے جانے سے سارے حقوق نہیں چھینے جاسکتے،سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کی توثیق کی ،الیکشن کمیشن نے صرف پی ٹی آئی سےانتخابی نشان چھینا، باقی سب حقوق ہے،ممبر کے پی اکرم اللہ نے کہا کہ پہلے تو ہم رائے دے دیتے ہیں کہ پی ٹی آئی رجسٹرڈ سیاسی جماعت ہے یانہیں؟وکیل سمیر کھوسہ نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر پی ٹی آئی رجسٹرڈ سیاسی جماعت ہے،اگر الیکشن کمیشن نے رجسٹریشن ختم کرنی تھی تو بلے انتخابی نشان فیصلے میں کر دیتی، چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ کیا آپ چاہتے ہیں تحریک انصاف کا نام الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ سے بھی ہٹا دیں،ممبر سندھ نثار درانی نے کہا کہ آپ سپریم کورٹ جائیں وہاں یہ مدعا رکھیں،چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ نہیں ٹھیک ہے انکو دلائل دینے دیں،آپ بھی بار بار اپنے دلائل دہرارہے ہیں،وکیل سمیر کھوسہ نے کہا کہ میں دلائل دہرا نہیں رہا، بنچ کے سوالوں کے جواب دے رہا ہوں،الیکشن رولز الیکشن کمیشن کے بنائے ہوئے ہیں آپ ہی معاملہ دے سکتے ہیں،درخواستگزار سلمان اکرم راجہ کے وکیل سمیر کھوسہ کے دلائل مکمل ہو گئے.

    سیاسی اتحاد کیلئے الیکشن کمیشن سے پیشگی اجازت لینا ضروری ہے، چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کے سلمان اکرم راجہ کیس میں ریمارکس
    وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ جب پی ٹی آئی نظریاتی کا سرٹیفکیٹ دیا تو ریٹرنگ افسران کو امیدواروں کو نااہل کرنا چاہیے،ممبر کے پی اکرام اللہ نے کہا کہ ہمارے پاس بھی پاور ہے کہ ہم انکو نااہل قرار دیں،سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ڈکلیئریشن کی خلاف ورزی سپریم کورٹ آڈرز کی خلاف ورزی ہوگی، چیف الیکشن کمشنر نے استفسارکہا کہ کیا ریکارڈ پر ہے کہ پی ٹی آئی کا پی ٹی آئی نظریاتی کے ساتھ الائنس ہے؟ الیکشن کمیشن نے کسی سیاسی جماعت کو الائنس کرنے سے نہیں روکا،ممبر شاہ محمد جتوئی نے کہا کہ پی ٹی آئی نظریاتی کے چیئرمین نے میڈیا پر الائنس سے متعلق اظہار لاتعلقی کیا، چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ پی ٹی آئی امیدواروں نے پہلے پارٹی کی جانب سے ٹکٹ جمع کرایا، پی ٹی آئی کا اگر الائنس ہوا تھا تو کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت پی ٹی آئی نظریاتی کا ٹکٹ جمع کراتے، ایک پارٹی کا ٹکٹ جمع کرواکر کسی دوسری سیاسی جماعت کا ٹکٹ جمع نہیں کرایا جاسکتا،سیاسی اتحاد کیلئے الیکشن کمیشن سے پیشگی اجازت لینا ضروری ہے، الیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کرلیا

    آزاد امیدوار ریحان زیب کے قاتل گرفتار نہ ہو سکے

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    عام انتخابات، آصفہ انتخابی مہم چلانے کے لئے میدان میں آ گئیں

    صارفین کا کہنا ہے کہ "تنظیم سازی” کرنے والوں‌کو ٹکٹ سےمحروم کر دیا گیا

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    عام انتخابات، پاکستان میں موروثی سیاست کا خاتمہ نہ ہو سکا،

  • پی ٹی آئی امیدواروں کو انتخابی مہم چلانے کی اجازت کے لیے درخواست پر سماعت

    پی ٹی آئی امیدواروں کو انتخابی مہم چلانے کی اجازت کے لیے درخواست پر سماعت

    پاکستان تحریک انصاف کے امیدواروں کو انتخابی مہم چلانے کی اجازت کے لیے درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے 6 فروری کو جواب طلب کرلیا ،سرکاری وکلا نے جواب داخل کرانے کے لیے مہلت کی استدعا کی، عدالت نے استدعا قبول کر لی،جسٹس شہرام سرور چوہدری نے زمان خان وردگ ایڈووکیٹ کی درخواست پر سماعت کی

    لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ عام الیکشن کے موقع پر پی ٹی ائی امیدواروں کو ناجائز تنگ اور ہراساں کیا جا رہا ہے ، الیکشن مہم چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی،عدالت امیدواروں کو ناجائز تنگ اور ہراساں کرنے سے روکے،عدالت امیدواروں کو اس الیکشن مہم چلانے کی اجازت دے ۔

    واضح رہے کہ آٹھ فروری کو پاکستان میں عام انتخابات ہو رہے ہیں، تحریک انصاف سے بلے کا انتخابی نشان لیا جا چکا ہے، تحریک انصاف کے امیدوار آزاد الیکشن لڑ رہے ہیں،

    عمران خان کیخلاف بات کرنے پر پی ٹی آئی رہنما نے امام مسجد کو منافق کہہ دیا

    میں وعدے کر کے یوٹرن نہیں لیتا تھا، نواز شریف

    خیبر پختونخوا والو، آپ بھی جھوٹے شخص کے جھانسے میں آگئے؟ نواز شریف کا سوال

    مریم نواز کے جلسے میں پارٹی پرچم پھاڑنے والے طالب علموں پر مقدمہ درج

     نواز شریف کے مخالف عبرت ناک انجام کو پہنچ رہے ہیں

    پاکستان کو نواز دو کے سلوگن سے مسلم لیگ ن نے انتخابی منشور جاری 

    ہم ووٹ مانگنے جاتے تو لوگ خواجہ سرا سمجھ کر 50 کا نوٹ دیتے، نایاب علی

     پرانے سیاستدان عوامی خدمت کے بجائے ذات کیلئے سیاست کررہے ہیں

  • عمران خان کا جینا مرنا اس ملک میں ہے، بیرسٹر گوہر

    عمران خان کا جینا مرنا اس ملک میں ہے، بیرسٹر گوہر

    تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ عدالتی فیصلے غیر قانونی طریقوں سے سنائے جارہے ہیں۔

    اڈیالہ جیل کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا تھا کہا کہ وکلا موجود تھے لیکن درخواست کے باوجود موقع نہیں دیا گیا، جج نے ملزمان کے 342 کے بیانات اپنے موبائل فون میں دکھائے، جج صاحب نے فیصلے میں پی ٹی آئی کے وکلا سے متعلق درست نہیں لکھا، پی ٹی آئی وکلا ہر وقت عدالت میں موجود ہوتے ہیں اور ہر تاریخ پر پیش ہوتے ہیں، انہیں موقع نہیں دیا جارہا، عدالتی فیصلے غیر قانونی طریقوں سے سنائے جارہے ہیں، جو وکلا دیے گئے ان کے پاس کچھ نہیں تھا، وہ وکلا ہمارے خلاف پیش ہوتے رہے اور پراسیکیوشن کی ٹیم کا حصہ تھے

    بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا تھا کہ مخالفین مایوسی پھیلا رہے ہیں عمران خان کہیں بھی نہیں جارہے وہ عوام میں تھے عوام میں ہیں عمران خان کا جینا مرنا اس ملک میں ہے آپ تسلی رکھیں عمران خان بہت جلد واپس آئیں گے۔عمران خان ملک میں ہیں انکا جینا مرنا اس ملک میں ہے، وہ واپس آئیں گے کہیں نہیں جا رہے، آٹھ فروری کو عمران خان کے امیدواروں کو کامیاب کروائیں

  • باجوڑ میں قتل ہونیوالے آزاد امیدوار ریحان زیب کی نماز جنازہ ادا

    باجوڑ میں قتل ہونیوالے آزاد امیدوار ریحان زیب کی نماز جنازہ ادا

    باجوڑ سے آزاد امیدوار ریحان زیب کی نماز جنارہ ادا کر دی گئی

    نماز جنازہ انکے آبائی علاقے برشاہ نرے میں ادا کی گئی، نماز جنازہ میں کثیر تعداد میں اہل علاقہ نے شرکت کی، اس موقع پر شرکاء نے قاتلوں کی گرفتاری کا بھی مطالبہ کیا ،ریحان زیب آزاد امیدوار تھے جو این اے 8 اور پی کے 22 سے انتخابات میں حصہ لے رہے تھے۔

    سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے باجوڑ میں امیدوار قومی اسمبلی ریحان زیب کے قتل کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ مرحوم کا قتل افسوسناک ہے، کے پی کا امن تباہ وبرباد کردیا گیا، الیکشن کمیشن اور سیکورٹی اداروں کے لئے ایسے واقعات سوالیہ نشان ہیں، دعاء ہے کہ اللہ کریم مرحوم کی مغفرت فرمائے، اہل خانہ کے غم میں برابر کا شریک ہوں ۔

    ریحان زیب کے قتل پر ہسپتال انتظامیہ نے میڈیکل رپورٹ جاری کی ہے، ڈی ایچ کیو خار نے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ نے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) ہیلتھ کو رپورٹ جاری کردی، جس میں کہا گیا کہ باجوڑ کے علاقے صادق پھاٹک میں ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ پیش آیا، واقعہ میں ریحان زیب مردہ حالت میں اسپتال لائے گئے، فائرنگ کے واقعہ میں 3 افراد زخمی بھی ہوئے، واقعہ میں زخمی طلحہ کو سینے پر زخم آئے، جس کا علاج جاری ہے، جبکہ سلطان روم کو دائیں ہاتھ اور ابن امین کو بائیں ہاتھ پر زخم آیا ہے.

    این اے 8 باجوڑ میں امیدوار کا قتل ،الیکشن کمیشن نے انتخابی امیدوار کے قتل کا نوٹس لے لیا
    الیکشن کمیشن نے آئی جی اور چیف سیکرٹری خیبر پختون خواہ سے فوری رپورٹ طلب کر لی ، الیکشن کمیشن نے حکم دیا کہ قتل میں ملوث افراد کے خلاف سخت کاروائی کی جائے۔باجوڑ میں عام انتخابات ملتوی کردیے گئے، باجوڑ میں آزاد امیدوار کے قتل کے بعد مذکورہ حلقے میں الیکشن ملتوی کئے گئے،ریحان زیب پر قاتلانہ حملے کے بعد حلقہ این اے 8 اور پی کے 22 پر الیکشن ملتوی ہوگیا۔ الیکشن کمیشن باجوڑ نے نوٹیفکیشن جاری کردیا

    باجوڑ میں ریحان زیب کو گزشتہ روز قتل کر دیا گیا، وہ قومی و صوبائی اسمبلی کے امیدوار تھے،تحریک انصاف کے ٹکٹ کے لئے درخواست دی تھی تاہم تحریک انصاف نےٹکٹ نہ دیا تو آزاد الیکشن لڑنے کا اعلان کر دیا، ریحان زیب اپنے حلقے میں انتخابی مہم جاری رکھے ہوئے تھے، انکو دن دہاڑے انکو گولیاں ماری گئیں، ریحان زیب کی موت کے بعد تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ وہ تحریک انصاف کا حمایت یافتہ امیدوار تھا تا ہم حقیقت اسکے برعکس ہے، ریحان زیب کو ٹکٹ نہیں ملا تھا بلکہ وہ آزاد امیدوار اور پی ٹی آئی امیدوار کے مقابلے میں الیکشن لڑ رہے تھے.

  • پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کا شیڈو ل ایک بار پھر جاری

    پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کا شیڈو ل ایک بار پھر جاری

    تحریک انصاف کے فیڈرل الیکشن کمشنر رؤف حسن کی جانب سے انٹراپارٹی انتخابات کا شیڈول جاری کر دیا گیا

    پاکستان تحریک انصاف کے تمام رجسٹرد ممبران اپنی مرضی کے پینل یا چیئرمین کے امیدوار کے حق میں پاکستان بھر میں مختص مقامات پر ووٹ ڈال سکتے ہیں،پارٹی ممبران اپنا ووٹ ‘رابطہ ایپلیکیشن انٹرا پارٹی الیکشن ماڈیول’کے ذریعے بھی ریکارڈ کرا سکتے ہیں،31 جنوری 2024 تک رجسٹر ہونے والے تمام ممبران کو ووٹ ڈالنے کی اجازت ہو گی،انٹرا پارٹی الیکشن میں حصہ لینے والے تمام پینلز کی تفصیل تحریک انصاف کی آفیشل ویب سائٹ اور رابطہ ایپلیکیشن پر دستیاب ہو گی،الیکشن کے تفصیلی طریقہ کار کی وضاحت الیکشن رولز، 2020 میں موجود ہے جو ویب سائٹ اور رابطہ ایپ پر دستیاب ہے، پولنگ کا وقت 5 فروری بروز پیر صبح 10 بجے سے شام 4 بجے تک ہو گا ،الیکشن کے مقامات اور اپیلٹ ٹرائبینونل کی تاریخ کا اعلان یکم فروری 2024 کو کیا جائے گا ،کاغذات نامزدگی 1 سے 2 فروری 2024 تک تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹریٹ یا ویب سائٹ سے حاصل کیے جاسکیں گے،کاغذات نامزدگی جمع کروانے کی آخری تاریخ 2 فروری 2024 کی رات 10 بجے تک ہوگی، امیدوار اپنے کاغذات نامزدگی مرکزی اور صوبائی سیکرٹریٹس اور ڈیجیٹلی بذریعہ ای میل بھی جمع کرا سکیں گے.انٹرا پارٹی الیکشن کے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی سکروٹنی کا عمل 3 فروری 2024 کو ہو گا،کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کی صورت میں اعتراضات جمع کروانے کا وقت 3 فروری 2024 رات 10 بجے تک ہوگا،انٹرا پارٹی الیکشن میں حصہ لینے والے تمام فائنل پینلز کی فہرستیں 4 فروری کی شام 4 بجے ویبسائٹ پر شائع کی جائیں گی،انٹرا پارٹی الیکشن کے نتائج کا باضابطہ اعلان 6 فروری 2024 بروز منگل کیا جائے گا

    تحریک انصاف انٹرا پارٹی الیکشن ,صوبائی سطح پر الیکشن کمشنر مقرر
    پاکستان تحریک انصاف انٹرا پارٹی الیکشن کا معاملہ,تحریک انصاف نے صوبائی سطح پر الیکشن کمشنر مقرر کر دیئے ,قاضی محمد انور کو خیبر پختون خواہ، ولید اقبال پنجاب، نورالحق قریشی سندھ، سید اقبال بلوچستان جبکہ شاہ ناصر کو گلگت بلتستان کا الیکشن کمشنر مقرر کردیا گیا,
    چیف آرگنائزر تحریک انصاف عمر ایوب کی جانب سے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

  • شہریار ریاض کو پی ٹی آئی نے3 کروڑ میں ٹکٹ دیا، شیخ رشید کا ویڈیو بیان وائرل

    شہریار ریاض کو پی ٹی آئی نے3 کروڑ میں ٹکٹ دیا، شیخ رشید کا ویڈیو بیان وائرل

    عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے ہسپتال سے انکشاف کیا ہے کہ این اے 56سے پی ٹی آئی کے امیدوار شہریار ریاض کو 3کروڑ کا ٹکٹ فروخت کیا گیا ہے۔

    شیخ رشید کے ٹویٹر اکاؤنٹ سے شیخ رشید کی ایک ویڈیو پوسٹ کی گئی ہے، جس میں شیخ رشید ہسپتال کے بستر پر لیٹے ہیں،شیخ رشید کہتے ہیں کہ کعبہ کی چھت پر گیا ہوں ، اللہ کو حاضر ناظر جان کر کہتا ہوں کہ شہر یار ریاض نے تین کروڑ روپے میں ٹکٹ خریدا ہے، انہیں قلم اور دوات کی مار پڑے گی

    شیخ رشید این اے 56 سے امیدوار ہیں،شیخ رشید کے مقابلے میں تحریک انصاف نے امیدوار نامزد کر دیا ہے، جس کی وجہ سے شیخ رشید پریشان رہے، اور ہیں، شیخ رشید کی کوشش تھی کہ میرے مقابلے میں پی ٹی آئی کا امیدوار نہ آئے ، اسی لئے وہ بیرسٹر گوہر سے ملنے بھی گئے تھے، تا ہم پی ٹی آئی نے شیخ رشید کے مقابلے میں امیدوار نامزد کر دیا تھا.

    قبل ازیں انسداد دہشتگردی عدالت نے شیخ رشید کے جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع کردی ہے، راولپنڈی کی انسداد دہشتگردی کی عدالت نے شیخ رشید کے خلاف 9 مئی کو جلاؤ گھیراؤ، توڑ پھوڑ اور ہنگامہ آرائی کیس کی سماعت کی جس سلسلے میں پولیس نے شیخ رشید کو عدالت کے روبرو پیش کیا،عدالت نے شیخ رشید کے جوڈیشل ریمانڈ میں 6 فروری تک توسیع کردی جس کے بعد پولیس نے انہیں واپس اڈیالہ جیل منتقل کردیا۔

     شیح رشید کی این اے 56 سے کاغذات نامزدگی منظور

    واضح رہے کہ گزشتہ روز شیخ رشید کی نو مئی کے کیس میں ضمانت منسوخ ہونے پر عدالت سے گرفتار کیا گیا تھا 

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    عام انتخابات، پاکستان میں موروثی سیاست کا خاتمہ نہ ہو سکا،

    عام انتخابات، آصفہ انتخابی مہم چلانے کے لئے میدان میں آ گئیں

    صارفین کا کہنا ہے کہ "تنظیم سازی” کرنے والوں‌کو ٹکٹ سےمحروم کر دیا گیا

  • امیدوار نامزد نہ ہونے پر  پی ٹی آئی قیادت پر تنقید،پھر آزاد الیکشن لڑنیوالا امیدوار قتل

    امیدوار نامزد نہ ہونے پر پی ٹی آئی قیادت پر تنقید،پھر آزاد الیکشن لڑنیوالا امیدوار قتل

    باجوڑ میں ریحان زیب کو قتل کر دیا گیا، وہ قومی و صوبائی اسمبلی کے امیدوار تھے،تحریک انصاف کے ٹکٹ کے لئے درخواست دی تھی تاہم تحریک انصاف نےٹکٹ نہ دیا تو آزاد الیکشن لڑنے کا اعلان کر دیا، ریحان زیب اپنے حلقے میں انتخابی مہم جاری رکھے ہوئے تھے، آج دن دہاڑے انکو گولیاں ماری گئیں، ریحان زیب کی موت کے بعد تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ وہ تحریک انصاف کا حمایت یافتہ امیدوار تھا تا ہم حقیقت اسکے برعکس ہے، سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر صحافی و اینکر غریدہ فاروقی کہتی ہیں کہ ،کیسے لوگ ہیں بھئی ۔۔ نوجوان مخلص کارکن ریحان زیب کو پارٹی ٹکت دیا تک نہیں بلکہ اُس کی جگہ امیر کارکن گُل داد کو ٹکٹ دیا جس نے عمران خان کو 160ملین روپے دیے؛ اور اب ریحان زیب کے قتل کو “کیش” کروانے کیلئے اُسے باجوڑ سے اپنا قومی اسمبلی امیدوار بنا رہے ہیں۔۔۔ استغفراللہ۔۔۔! PTI نے تو ریحان زیب کو ٹکٹ دیا ہی نہیں، ریحان آزاد امیدوار کھڑا ہو رہا تھا۔ PTI کے اپنے پورٹل پر بھی اس حلقے سے گُل داد کا نام موجود ہے۔ PTI کے اپنے لوگ ریحان زیب کیخلاف مہم چلاتے رہے اسے رانگ نمبر کہتے رہے۔۔۔ اور اب معصوم نوجوان قتل ہو گیا تو اس کے قتل کو مذموم مقاصد کیلئے استعمال کر رہے ہیں۔۔۔ تاکہ اپنے امیدوار کو بچایا بھی جا سکے؛ کیونکہ گل داد کے لوگوں نے ریحان زیب کو قتل کیا؛ اور اس قتل کو سیاسی مقاصد اور ہمدردی حاصل کرنے کیلئے “استعمال” بھی کیا جا سکے۔۔۔۔ کیسا malicious, despicable ایجنڈا ہے۔۔۔۔

    ریحان زیب کاقتل سے پہلے ہی قاتلوں کےبارے میں انکشاف،ویڈیو سامنے آ گئی
    باجوڑ سے آزاد امیدوار ریحان زیب کی ایک ویڈیو صحافی امجد بخاری نے ٹویٹر پر پوسٹ کی ہے، ساتھ پیغام میں لکھا ہے کہ
    ریحان زیب کاقتل سے پہلے ہی قاتلوں کےبارے میں انکشاف، ریحان زیب نے اس خطرے کا اظہار موت سے دو دن پہلے کیا تھا کہ علی آمین گنڈا پور۔ گل ظفر باغی اور گل داد خان مجھے قتل کرنا چاہتے ہیں۔ گنڈا پور نے گل ظفر اور گل داد خان سے بحریہ ٹاون کے ایک بنگلے میں سات کروڑ روپے لے کر ٹکٹس دیئے

    https://twitter.com/AmjadHBokhari/status/1752673705216671826

    ایک صارف حیات اللہ کہتے ہیں کہ میرا تعلق باجوڑ سے ہے اور ریحان زیب میرا بہترین دوست تھا ٹکٹ نہ ملنے کے باوجود وہ تحریک انصاف کے امیدواران سے زیادہ مقبول تھے کیونکہ وہ سابق ایم این ایز کے کرپشن پر کھل کر بات کرتے تھے اللہ تعالیٰ جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے آمین ثم آمین

    این اے 8 باجوڑ میں امیدوار کا قتل ،الیکشن کمیشن نے انتخابی امیدوار کے قتل کا نوٹس لے لیا
    الیکشن کمیشن نے آئی جی اور چیف سیکرٹری خیبر پختون خواہ سے فوری رپورٹ طلب کر لی ، الیکشن کمیشن نے حکم دیا کہ قتل میں ملوث افراد کے خلاف سخت کاروائی کی جائے۔باجوڑ میں عام انتخابات ملتوی کردیے گئے، باجوڑ میں آزاد امیدوار کے قتل کے بعد مذکورہ حلقے میں الیکشن ملتوی کئے گئے،ریحان زیب پر قاتلانہ حملے کے بعد حلقہ این اے 8 اور پی کے 22 پر الیکشن ملتوی ہوگیا۔ الیکشن کمیشن باجوڑ نے نوٹیفکیشن جاری کردیا

    الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کل بروز جمعرات کو اہم اجلاس طلب کر لیا،اجلاس میں وزیر داخلہ، سیکرٹری داخلہ،بلوچستان ،خیبر پختونخوا کے چیف سیکرٹریز، آئی جی صاحبان اور دیگر انٹیلی جینس ایجنسیوں کے نمائندوں کو مدعو کیا گیا ہے.

    باجوڑ میں تحریک انصاف کے رہنما ریحان زیب نامعلوم افراد کی فائرنگ سے جاں بحق ہو گئے ہیں،ریحان زیب الیکشن بھی لڑ رہے تھے،پی ٹی آئی نے ریحان زیب کو امیدوار نامزد نہیں کیا تھا تاہم وہ آزاد الیکشن لڑ رہے تھے، امیدوار ریحان زیب نامعلوم افراد کے فائرنگ سے زخمی ہوئے، جنہیں زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا تا ہم زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے وہ جان کی بازی ہار گئے.وہ این اے آٹھ سے امیدوار تھے،

    این اے آٹھ میں پی ٹی آئی کے نامزد امیدوار گل ظفر ہیں جبکہ ریحان زیب بھی آزاد الیکشن لڑ رہے تھے، انہوں نے گل ظفر کو امیدوار نامزد کرنے کے فیصلے کی مخالفت کی تھی، ریحان زیب اپنے آپ کو پی ٹی آئی کا امیدوار کہہ رہے تھے جس پر سوشل میڈیا پر انکی مخالفت کی جا رہی تھی اور انکو رانگ نمبر کہا جا رہا تھا،ارسلان بلوچ نے ٹویٹر پر کہا تھا کہ باجوڑ سے یہ رانگ نمبر ہے۔

    https://twitter.com/balochi5252/status/1748650896513179861

    ریحان زیب نے پی ٹی آئی امیدواروں کی نامزدگی کا اعلان ہونے کے بعد ٹویٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسلام علیکم پی ٹی آئی فیملی ( پاکستان کے اندر باہر سب)۔ اس ٹویٹ کو غور سے پڑھے اور سمجھنے کی کوشش کریں، میں صرف اپنا خوف اور نقطہ نظر شیئر کرہا ہوں، مانے یا نہ مانے اپکے مرضی ہے۔ ہم نے عمران خان کو دیکھ کر پرویز خٹک بھی پختونخواہ کا بادشاہ بنایا تھا، ہم نے عمران خان کو دیکھ کر محمود خان کو بھی بادشاہ بنایا۔۔ لیکن یہی دونوں خان کیلئے پختونخواہ میں کھڈے کھول رہے ہیں۔ اس طرح بہت سے لوگوں کو گلی کوچوں سے اٹھا کر ہم نے ایم این ایز ، ایم پی ایز ، وزیر اور مشیر بنائے، ہم نے کسی ذات پات کو نہیں دیکھا۔ باجوڑ میں ہم نے 2018 الیکشن میں 2 میں سے 2 ایم این اے کی سیٹس نکالے، 2019 کی الیکشن میں تین میں 2 ایم پی ایز نکالے۔۔ لیکن پر وہی ہوا باجوڑ کو ملنی والی ترقیاتی فنڈز پاک پی ڈبلیو ڈی کی دفاتر میں بانٹے گئے، ایس ڈی جیز کی اربوں فنڈ غائب کردی گئی، نوکریوں کی خرید و فروخت ہوئی، میرٹ کو سرعام کچل دیا گیا۔ کرپشن ایک طرف قومی اور صوبائی سطح پر انکی نمائندگی بھی بدترین رہی۔۔ یہ وجہ تھا کہ خان صاحب نے نومبر 2022 کو زمان پارک میں ایک ملاقات میں مجھے الیکشن لڑنے اور ان کرپٹ لوگوں کو سسٹم سے نکالنے کا کہا تھا، اور خان صاحب نے یہ بھی کہا تھا، کہ ان جیسے لوگوں ٹکٹس دینے پر افسوس ہے ( جس کے گواہ شبلی فراز اور اعظم سواتی صاحب ہے)۔
    پارٹی قیادت اور خاص کر علامہ نور الحق قادری صاحب، جنید اکبر و دیگر سے حلفا پوچھئے کہ 9 مئی سے پہلے خان صاحب نے جن 70 امیدواروں کی لسٹ جاری کرکے انکو ٹکٹس نہ دینے کا کہا تھا اس میں خیبرپختونخوا اور ملاکنڈ ڈویژن کے کون کون لوگ شامل تھے۔۔؟ اگر صابقہ پارلیمنٹیرینز کو ٹکٹس دینے کی بات ہے تو پھر پرویز خٹک اور محمود خان بھی سابقہ پارلیمنٹیرین میں سے ہے۔ اب یہ ڈرامے بلکل چھوڑ دینا چاہئے اور یہ بتائیں کہ کس بنیاد پر پارٹی ٹکٹس جاری ہوئی؟
    میں اللہ تعالٰی کو حاضر ناظر جان کر یہ اقرار کرتا ہوں کہ مجھے اس بات سے دکھ نہیں کہ مجھے ٹکٹ کیوں نہیں ملا۔ مجھے دکھ اس بات کا ہے پارٹی رانگ نمبرز اور ایکٹرز کی ہاتھوں یرغمال ہوچکا ہے۔ مجھے باجوڑ سے ٹکٹ ہولڈرز ( 2 بندو کے علاوہ ) کے کوئی تصویر یا ویڈیو دیکھائے کہ وہ رجیم چینج اپریشن یا 9 مئی کے بعد کونسی مقدمات کا سامنا کیا اور کس جگہ ورکرز کے ساتھ کھڑے رہیں؟ یہ مخصوص ٹولہ اب ٹکٹس کی وقت اچانک کیسے نمودار ہوا؟ بھاڑ میں جائے ہماری مشکلات اور خدمات، بھاڑ میں جائے ٹکٹس۔۔ لیکن یہ بتائیں کہ خان نے کب کہا ہے کہ ایک خاندان میں 2، 2 اور 3، 3 ٹکٹس بانٹے جائے اور وہ بھی ان لوگوں میں جس کو نظریئے کی A, B , C کا بھی علم نہیں ہو۔ میں تو آج بھی فخر کی ساتھ خان کی ساتھ کھڑا ہوں اور پختونخواہ میں سب سے زیادہ مقدمات کا سامنا کیا اور مشکل ترین جیلیں کاٹے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ہم نے یہ جنگ کس لئے لڑا اور لڑ رہے ہیں؟ اگر خان کیلئے لڑا تو ان لوگوں کو ٹکٹس کیو ں جاری ہوئی جو آج بھی ان لوگوں کے بغل بچے ہیں جن لوگوں نے میرے قائد پر زمین تنگ کیا ہے۔۔۔ خیر کہانی لمبی ہے لیکن میں ان دو شرائط پر اپنی کاغذات نامزدگی( این اے 8، پی کے 22 اور پی 20 سے) سے واپس لوں گا۔
    شرط نمبر 1: کہ برسٹر گوہر، عمیر نیازی یا شیر افضل مروت صاحب اللہ کو حاضر ناظر جان کر یہ بتائیں کہ خان صاحب نے ہی باجوڑ کے ان دو خاندانوں میں 5 ٹکٹس بانٹنے کا کہا ہے۔ اور ٹکٹس کی تقسیم میں ہم نے میرٹ اور انصاف کیا ہے۔
    شرط نمبر 2: باجوڑ میں جن جن کو ٹکٹس ملے ہیں وہ قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر باجوڑ کے نوجوانوں کے ساتھ یہ عہد کریں کہ سیٹس جیتنے کے بعد ہم خان صاحب کے خلاف کبھی نہیں جائیں اور نہ کسی سازش یا فاروڈ بلاک کا حصہ بنیں گے۔
    ان 2 شرائط قبول ہونے کی صورت میں اپنے کاغذات نامزدگی واپس لوں گا۔ بصورت دیگر میں اپنے نظریئے، نوجوانوں کی محنت اور خوابوں پر کسی کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کروں گا۔
    ہاں جہاں تک عمران خان کے ساتھ کھڑے ہونے یا نظریئے کا سوال ہے تو یہ وقت ثابت کرے گا کہ کون کہا کھڑا تھا۔

    عمران خان پائندہ باد ،پاکستان زندہ باد

  • این اے 119،بڑے دعوے لیکن پھر مریم نواز کے مقابلے  سے صنم جاوید” فرار”

    این اے 119،بڑے دعوے لیکن پھر مریم نواز کے مقابلے سے صنم جاوید” فرار”

    تحریک انصاف کی رہنما، صنم جاوید نے مریم نواز کے مقابلے میں الیکشن لڑنے کا اعلان کیا تھا، تاہم اب وہ مریم نواز والے حلقے این اے 119 سے دستبردار ہو گئی ہیں

    صنم جاوید اب این اے 119 سے الیکشن نہیں لڑیں گی، نجی ٹی وی کے مطابق صنم جاوید نے این اے 119 سے الیکشن نہ لڑنے کا فیصلہ کیا ہے،صنم جاوید کی بہن فلک جاوید نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ صنم الیکشن نہیں لڑ رہی ہے کیونکہ میاں شہزاد فاروق بہترین انداز میں اپنی کمپین چلا رہے ہیں ،انشاءاللہ ہم مل کر پشپا کو عبرت ناک شکست دیں گے۔

    مریم نواز کے مقابلے میں صنم جاوید کی دستبرداری پر ن لیگی رہنما عظمیٰ بخاری کہتی ہیں کہ سنا ہے مریم نواز شریف کا نام لے لے کر مشہور ہونے کی کوشش کرنے والی صنم جاوید کو جب اصل میں میدان میں اترنا پڑا تو عزت بچا کے بھاگ گئی،الیکشن گراونڈ پر اور کریڈیبلٹی پہ لڑنا پڑتا ہے،پتا نہیں پارٹی نے دھتکار دیا یا گراونڈ پہ اصلیت پتا چل گئی.

    میاں عباد فاروق نے لکھا کہ ہمارے خاندان کی طرف سے صنم جاوید سمیت انکی فیملی کا شکریہ،اب اس پشپا رانی کو مل کر عبرتناک شکست دیں گے انشاءاللہ ایم این اے

    مریم نواز کے مقابلے میں این اے 119 کے امیدوار میاں شہزاد فاروق نے لکھا کہ میں صنم جاوید کا کا شکریہ ادا کرتا ہو جنہوں نے اس مشکل حالات کے باوجود جب صنم جاوید اور عباد فاروق دونوں پچھلے 8 ماہ سے جیل میں قید ہیں 8فروری کو ہونے والے انتخابات میں میری بھرپور حمایت کا اعلان کیا ہیں ہم اپکی قربانیوں کو کبھی نہیں بھولیں گے۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے 26 جنوری 2024ء کو صنم جاوید سمیت تحریک انصاف کے 4 رہنماؤں کو عام انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دی تھی، اس کے بعد الیکشن کمیشن نے صنم جاوید کو2 قومی اورصوبائی اسمبلی کی ایک سیٹ پر انتخابی نشانات بھی الاٹ کر دیے تھے،صنم جاوید کو قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 119 سے مریم نواز کے مقابلے میں “ریکِٹ” کا انتخابی نشان الاٹ کیا گیاتھا.

    ناظم آباد واقعہ، پیپلز پارٹی کے لوگ ملوث ہوئے تو سزا کیلئے تیار ہیں،سعید غنی

    این اے 127، بلاول کی حمایت کرنیوالوں کی گرفتاریاں، الیکشن کمیشن کو خط

    ہمارے آفس پر بیٹھے ساتھیوں پر گولیاں چلائی جارہی ہیں،مصطفیٰ کمال

    الیکشن خونی بننے لگے،کراچی میں گولیاں چل گئیں، ایک کی موت

    دوسری جانب صنم جاوید کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے عدالت نے صنم جاوید کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا،انسداد دہشت گردی عدالت کے جج نوید اقبال نے پولیس کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سنایا۔ اے ٹی سی نے صنم جاوید کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست مسترد کردی،لاہور پولیس نے صنم جاوید کو تھانہ شادمان میں درج دہشت گردی کے مقدمے میں گرفتار کرکے انسداد دہشت گردی عدالت لاہور میں پیش کیا تھا،

    قبل ازیں آج صنم جاوید کی ایک مقدمے میں ضمانت منظور کر لی گئی تھی جس پر پولیس نے انہیں دوسرے مقدمے میں گرفتار کر لیا،صنم جاوید کو مقدمہ نمبر768 میں گرفتار کیا گیا ہے،صنم جاوید کو لاہور کے تھانہ شادمان کو جلانے پر گرفتار کیا گیا ،صنم جاوید کی کئی مقدمات میں ضمانت منظور ہو چکی ہے تا ہم عدالت سے رہائی کے بعد صنم جاوید کو دوبارہ نئے مقدمے میں گرفتار کر لیا جاتا ہے,آٹھ نومبر کو پی ٹی آئی کارکن صنم جاوید کو جیل سے رہا ہوتے ہی دوبارہ گرفتار کرلیا گیا تھا،20 اکتوبر کو بھی تحریک انصاف کی رکن صنم جاوید خان اور ان کی ساتھی خواتین کو کوٹ لکھپت جیل سے رہائی ملنے کے بعد ان کے جیل سے باہر نکلتے ساتھ ہی پولیس نے دوبارہ گرفتار کر لیا تھا،25 ستمبر کو بھی جناح ہاؤس حملہ کیس میں رہائی پانے والی پی ٹی آئی کارکن صنم جاوید اور دیگر خواتین کو پھر سے گرفتار کرلیا تھا،

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

  • تحریک انصاف کی ریلیاں، کوئٹہ،کراچی میں مقدمے درج

    تحریک انصاف کی ریلیاں، کوئٹہ،کراچی میں مقدمے درج

    کوئٹہ: پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدوار کی ریلی کیخلاف تین تھانوں میں مقدمہ درج کر لیا گیا

    مقدمات جناح ٹاؤن، گوالمنڈی اور سٹی تھانے میں پولیس کی مدعیت میں درج کئے گئے، مقدمے این اے 263 کے سالار خان پی بی43 کے اُمیدوار دودہ شاہوانی کو نامزد کیا گیا ہے، مقدمے میں پی بی 44 کے امیدوار ملک فیصل دہیوار کو بھی نامزد کیا گیا ہے، ریلی میں شریک پی ٹی آئی دیگر کارکنان کو بھی مقدمات میں نامزد کیا گیا ہے، پولیس کا کہنا ہے کہ ریلی بغیر اجازت کے نکالی گئی، اُمیدواروں نے روڈ بند کر کے دفعہ 144 کی خلاف ورزی کی، پریلی کے شرکاء نے پولیس کو دھکے دئیے اور کار سرکار میں مداخلت کی

    دوسری جانب کراچی میں تین تلوار کے قریب پولیس اور پی ٹی آئی کارکنان میں ہونے والے تصادم کا مقدمہ درج کر لیا گیا،مقدمے میں پی ٹی آئی کی صوبائی قیادت سمیت 131 افراد ملزم نامزد کئے گئے ہیں، مقدمہ چار سے پانچ ہزار پی ٹی آئی کارکنان کے خلاف درج کیا گیا،مقدمے میں انسداد دہشتگری ، سرکاری املاک پر حملے، ہنگامہ ارائی، بلوہ اور لوٹ مار سمیت دیگر دفعات شامل کی گئی ہیں،مقدمے کے اندراج سرکار مدعیت میں تھانہ فریئر میں کیا گیا، مقدمے کے متن میں کہا گیا کہ دو روز سے سوشل میڈیا کے ذریعے پر تشدد احتجاج کے لئے کارکنان کو تیار کیا جارہا تھا،شہر کے مختلف علاقوں سے ریلیوں کی شکل میں چار سے پانچ ہزار کارکن تین تلوار پہنچے، ریلی یا جلسے کا اجازت نامہ نہیں تھا، تین تلوار چوک پر اطراف میں ٹریفک کو روکا گیا، مقدمے میں خرم شیر زمان، فہیم خان، سعید آفریدی، عدیل احمد سمیت دیگر 75 اہم رہنما ملزم نامزد کئے گئے ہیں، متن میں کہا گیا کہ قائدین نے کارکنان کو اشتعال دلایا اور پولیس پر حملہ کیا ،فائرنگ پتھراؤ سے شدید خوف و ہراس بھی پھیلا، کاروبار بند ہوا، ہنگامہ آرائی کے دوران 15 افراد گرفتار ہوئے، نائن ایم ایم کے چار خول ملے،