Baaghi TV

Tag: تحریک انصاف

  • 6 وزیراعظم کو اللہ کی لاٹھی کا شکار ہوتے دیکھا ،فردوس عاشق اعوان

    6 وزیراعظم کو اللہ کی لاٹھی کا شکار ہوتے دیکھا ،فردوس عاشق اعوان

    استحکام پاکستان کی سینٹرل سیکرٹری اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عید کے بعد صحافیوں سے باقاعدہ ملاقاتیں کرینگے ،2002 سے ابھی تک 7 وفاقی وزارتوں پر براجمان رہی ہوں اس دوران بہت سارے صحافیوں کو صحافت میں اپنا مقام بناتے دیکھا ہے

    فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ صحافیوں سے میرا تعلق 22 سال سے ہیں 6 وزیراعظم کیساتھ کام کرنا کوئی آسان کام نہیں ،جن جن وزیراعظم کیساتھ کام کیا ہے ان پر ایک علیحدہ کتاب لکھی جا سکتی ہے کوئی پرفیکٹ نہیں ہوتا، غلطیاں کوتاہیاں سب سے ہوتی ہے 22 سال میں یہ سیکھا کہ جو بھی شخص اپنے آپ کو فرعون بناتا ہے اللہ کی لاٹھی کا شکار ہوتے ہیں 6 وزیراعظم کو اللہ کی لاٹھی کا شکار ہوتے دیکھا ہے یوسف رضا گیلانی اور چیئرمین تحریک انصاف کی مثال آپکے سامنے ہیں 9 مئی سے پہلے مرشد مرشد کی آوازیں آتی رہیں، اعظم خان، شہزاد اکبر، شہباز گل، بشری بی بی اور فرح گوگی نے گورنر اسٹرکچر کو تباہ و برباد کردیا ان لوگوں کا آج کوئی وجود ہی نہیں ،ظفر جمالی صاحب کو کام کرتے دیکھا جو سیاسی سوچ رکھتے تھے

    فردوس عاشق اعوان کسی نئے سیاسی منظر نامے کی منتظر

    میڈم یہ کہتے ہیں بچے کو نہیں ملے گی،فردوس عاشق اعوان کو بچے نے پکڑ لیا

    بے بس عوام:بےحس افسران:ACسیالکوٹ اورفردوس عاشق کےدرمیان ہونے والی نوک جھوک:ویڈیووائرل

    مشیر نہیں بلکہ جہنم میں تھی، فردوس عاشق اعوان کی ایک بار پھر گندی گالیاں

    واضح رہے کہ فردوس عاشق اعوان تحریک انصاف کے ان رہنماؤں میں شامل ہیں جنہوں نے اپنی راہیں پارٹی سے جا کر لی ہیں فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ 9 مئی کو جو کچھ ہوا پوری قوم نے دیکھا، ایک منظم سازش کے ذریعے زمان پارک سے منصوبہ بندی کی گئی جس کا مقصد قومی اداروں کی تضحیک کرنا تھا ،فردوس عاشق اعوان نے بعد میں استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت اختیار کی تو انہیں پارٹی کے سیکرٹری اطلاعات کا عہدہ دے دیا گیا،

  • پرویز الہیٰ کی ق لیگ واپسی میں رکاوٹ کون؟

    پرویز الہیٰ کی ق لیگ واپسی میں رکاوٹ کون؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے صدر پرویز الہیٰ اس وقت جیل میں ہیں، چودھری شجاعت نے ان سے جیل میں ملاقات کی تھی اور کہا تھا کہ وہ ہمارے ساتھ ہیں، پرویز الہیٰ کے بیٹے مونس الہیٰ جن پر پاکستان میں کئی مقدمے قائم ہیں وہ اسپین جا چکے ہیں ،پرویز الہیٰ کی گرفتاری کے بعد مونس الہیٰ کی تصاویر بھی وائرل ہوئی تھیں اور سوشل میڈیا صارفین کا کہنا تھا کہ دیکھ لیں بیٹا سپین میں عیاشی کر رہا اور باپ جیل میں، اب اطلاعات آ رہی ہیں کہ پرویز الہیٰ ق لیگ میں واپس آنا چاہتے ہیں تا ہم مونس الہیٰ انکی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں، پرویز الہیٰ جیل میں‌چند دن رہ کر ہی ہمت ہار چکے ہیں،چودھری شجاعت سے ملاقات کے بعد پرویز الہیٰ کو جیل میں بی کلاس دی گئی تھی

    ق لیگی رہنما چودھری شافع حسین کا پرویز الہیٰ کے حوالہ سے کہنا ہے کہ وہ ق لیگ میں آنا چاہتے ہیں لیکن اسپین میں بیٹھا شخص نہیں مان رہا، پرویز الہٰی کو باقاعدہ دعوت دی ہے کہ وہ مسلم لیگ (ق) میں واپس آ جائیں ہم ایک خاندان ہیں جبکہ سیاسی طور پر فیصلہ انہوں نے خود کرنا ہے لیکن مونس الہٰی ایک سال پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ سیاست اپنی اپنی

    پرویز الہیٰ گرفتار ہوئے تو اسکے لئے تحریک انصاف نے نہ تو کوئی احتجاج کیا، نہ کوئی ملاقات کے لئے گیا، نہ عدالت پیشی کے موقع پر کارکن ہوتے ہیں اسلئے پرویز الہیٰ افسردہ ہیں، پرویز الہیٰ آنیوالے چند دنوں میں اہم فیصلہ کر لیں گے،

    چند دن قبل چوہدری پرویز الہی نے کمرہ عدالت سے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میری طبعیت ٹھیک نہیں ہے،دس روز سے جیل کے چھوٹے سے کمرے میں بند ہوں،جیل کے کمرے میں ہوا کے لیے پنکھا کبھی چلتا ہے کبھی نہیں،گھروں والوں سے ملاقات بھی نہیں کروائی جارہی،صحافی نے سوال کیا کہ کیا چوہدری صاحب آپ پی ٹی آئی چھوڑ رہے ہیں؟ پرویز الہی نے جواب دیا کہ مجھے ملنے نہیں دیا جا رہا پریس کانفرنس کیسے کر دوں ،ادھر بھی میڈیا سے بات نہیں کرنے دی جارہی، آپ میری حالت دیکھ رہے ہیں اس حالت میں پیش کیا ہے،

    پی ٹی آئی کی اندرونی لڑائیاں۔ فواد چوہدری کا پرویز الٰہی پر طنز

    خدشہ ہے کہ پرویز الٰہی کو گرفتار کر لیا جائیگا

    پرویز الہیٰ کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کر لیا گیا ،

    پرویزالہٰی کی حفاظتی ضمانت پر تحریری فیصلہ 

    زمان پارک سے اسلحہ ملنے کی ویڈیو

    پرویز الہی کے خلاف نیب میں تحقیقات کا دائرہ کار مزید وسیع 

  • عمر سرفراز چیمہ کی اہلیہ کو شناخت پریڈ کے لیے جیل بھجوانے کا حکم

    عمر سرفراز چیمہ کی اہلیہ کو شناخت پریڈ کے لیے جیل بھجوانے کا حکم

    تحریک انصاف کے رہنما ، سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کی اہلیہ کو عدالت پیش کر دیا گیا

    عدالت پیشی کے موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے، جناح ہاؤس جلاؤ گھیراؤ، توڑ پھوڑکیس میں عمر سرفراز چیمہ کی اہلیہ کو گرفتاری کے بعد عدالت پیش کیا گیا تھا،عدالت نے سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کی اہلیہ رابعہ کو شناخت پریڈ کے لیے جیل بھیج دیاعدالت نے چار روز میں شناخت کا عمل مکمل کرنے کی ہدایت کردی

    سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کو گذشتہ روز جوڈیشل ریمانڈ مکمل ہونے پر عدالت میں پیش کیا گیا تھا، ان کی اہلیہ شوہر سے ملاقات کیلئے عدالت پہنچی تھیں تب انہیں گرفتار کر لیا گیا تھا

    پنجاب حکومت کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق سابق گورنر عمر سرفراز چیمہ کی اہلیہ رابعہ سلطان کو پولیس نے انسداد دہشت گردی کی عدالت سے گرفتار کر لیا۔ رابعہ سلطان جناح ہاوس پر حملہ کی تفتیش میں پولیس کو مطلوب تھیں۔رابعہ سلطان کی جناح ہاؤس پر9مئی کو حملے کے دوران موجودگی کے شواہد ملے تھے اورجیو فینسنگ کے ذریعے رابعہ سلطان کی جناح ہاؤس میں موجودگی ثابت ہوئی ہے۔ پولیس رابعہ سلطان کی تلاش میں تھی جنہیں گرفتار کر لیا گیا ہے

    9 مئی واقعات میں ملوث ملزمان کیخلاف 51 مقدمات درج

    دوسری جانب ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے 9 مئی واقعات کے ملزمان کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروا دی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ 9 مئی کے واقعات میں 81 خواتین کو حراست میں لیا گیا ہے جس میں سے 42 کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا، 39 خواتین اس وقت جوڈیشل ریمانڈ پر جیلوں میں قید ہیں ایم پی او تھری کے تحت 2258 افراد کی گرفتاری کے آرڈر جاری کئے گئے 3050 افراد توڑ پھوڑ کے واقعات میں ملوث پائے گئے،

    ایم پی او تھری کے تحت 21 افراد جیلوں میں قید ہیں 9 مئی واقعات میں ملوث ملزمان کیخلاف 51 مقدمات درج ہوئے،108 ملزمان جسمانی ریمانڈ اور1247 جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں 500 افراد کو بے گناہ قرار دیا گیا انسداد دہشت گردی قانون کے تحت 232 افراد ضمانت پر رہا ہوئے 3012 افراد کو مختلف مقدمات میں ضمانت پر رہا کیا گیا۔

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہباز گل ضمانت کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا

    پائلٹس کے لائسنس سے متعلق وفاق کے بیان کے مقاصد کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے، رضا ربانی

    کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت

    ایئر انڈیا: کرو ممبرزکیلیے نئی گائیڈ لائن ’لپ اسٹک‘ ’ناخن پالش‘ خواتین کے لیے اہم ہدایات

  • ملٹری حدود کے اندرجرم ہونے سے تعلق پر بھی ایکٹ لاگو ہوتا ہے،جسٹس منصور علی شاہ

    ملٹری حدود کے اندرجرم ہونے سے تعلق پر بھی ایکٹ لاگو ہوتا ہے،جسٹس منصور علی شاہ

    سپریم کورٹ میں سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کا معاملہ ،سپریم کورٹ میں لارجر بینچ نے سماعت کی

    چیف جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں سات رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی سول سوسائٹی کے وکیل فیصل صدیقی نے تحریری دلائل بھی جمع کروائے ، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ میری درخواست باقی درخواستوں سے کچھ الگ ہے میں اس پر دلائل نہیں دوں گا کہ سویلین کا ٹرائل آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت ملٹری کورٹس میں نہیں ہو سکتایہ بھی نہیں کہیتا کہ ملٹری کورٹس کے زریعے ٹرائل سرے سے غیر قانونی ہے، میں یہ بھی نہیں کہوں گا کہ 9 مئی کو کیا ہوا کیا نہیں،میرا مدعا تمام ملزمان میں سے چند کے ساتھ الگ سلوک ہوا،ایک ایف آئی آر میں ساٹھ ملزمان ہیں تو پندرہ ملٹری کورٹس کو دیے جاتے ہیں ، ایف آئی آر میں جو الزامات ہیں ان پر تین الگ طرح کے ٹرائل ہو سکتے ہیں ،میرا دوسرا نقظہ فیئر ٹرائل کا ہے،ایک الزام پر ٹرائل کے بعد کچھ لوگوں کے پاس اپیل کا حق ہو گا اور کچھ کے پاس نہیں سویلین کے ٹرائل کی ماضی میں مثالیں ہیں ، فوجی عدالتوں میں فوج داری ضابطے کے تحت کارروائی نہیں ہو سکتی ، اس کو چیلنج نہیں کیا،میں نے کسی ملزم کی بریت کو چیلنج نہیں کیا، فوج کے حوالے ملزمان کو کرنے کے عمل میں مخصوص افراد کو چنا گیا،آرمی ایکٹ قانون کو بدنیتی کے تحت استعمال کیا جاتا ہے،عدالت میں جا کر کہا گیا 15 لوگوں کو حوالے کر دیں،جن افراد کا انسداد دہشت گردی عدالت میں ٹرائل ہو گا ان کو اپیل کا حق ملے گا،جن کا ٹرائل ملٹری کورٹس میں ہو گا انہیں اپیل کا حق حاصل نہیں ،

    جسٹس مظاہر نقوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو آپ کرائم رپورٹ دکھا رہے ہیں اس میں تو آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی دفعات نہیں ہیں،9 مئی کے واقعات کے مقدمات میں آفیشل سیکریٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ سے متعلق دفعات کب شامل کی گئیں؟ جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے دلائل کی بنیاد یہ ہے کہ کس کے پاس اختیار ہے کہ وہ سویلین کا فوجی عدالت میں ٹرائل کرے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ نیشل سیکورٹی کے باعث کہا گیا کہ یہ ٹرائل ملٹری کورٹس میں ہوا، سٹیٹ سیکورٹی کے حدود میں جائینگے تو پھر ٹرائل فوجی عدالتوں میں ہونے کا ذکر ہے، جسٹس مظاہر اکبر نقوی نے کہا کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کو کب شامل کیا گیا؟

    جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہوسکتا ہے جن لوگوں کو ملٹری کورٹس کے حوالے کیا گیا ان پر الزامات کی نوعیت الگ ہو،آپ صرف مفروضہ پر کہہ رہے ہیں کہ ان لوگوں کیخلاف کوئی شواہد موجود نہیں، جسٹس یحیی آفریدی نے کہا کہ آپ عمومی بحث پر جا رہے ہیں یہ بھی علم نہیں ان لوگوں کو کس کس شق کے تحت ملٹری کورٹس بھجا گیا ، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ فرض کریں ان کیخلاف شواہد بھی موجود ہیں تو دکھاوں گا کہ انہیں کیسے ملٹری کورٹس نہیں بھجا جا سکتا ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اپنے دلائل کے متعلقہ نکات تک محدود رکھیں،آج کا دن درخواست گزاروں کیلئے مختص ہے بے شک تین بجے تک دلائل دیں، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قانون یہ نہیں کہہ رہا ہے کہ ملٹری کے اندر کام کرنے والے بندہ ہو تو ہی آفیشیل سکرٹ ایکٹ لگے گا، ملٹری حدود کے اندرجرم ہونے سے تعلق پر بھی ایکٹ لاگو ہوتا ہے، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ وہ کون سا جرم ہو گا جن کے مقدمات ملٹری کورٹس کونہیں یجوائے جائیں گے ، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کیا آپ یہ کہہ رہے ہیں گرفتار ملزمان آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت نہیں آتے ، آفیشل سیکریٹ ایکٹ مقدمات میں کب شامل کیا گیا ، جسٹس نقوی نے کہا کہ اگر مقدمات میں آفیشل سیکریٹ ایکٹ شامل ہی نہیں تو کیا کمانڈنگ آفیسر ان ملزموں کی حوالگی مانگ سکتا ہے ، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ آرمی ایکٹ کی سیشن 2ڈی (1) (11) کے تحت سویلینز کا آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائل ہو سکتا ہے ، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ سادہ سا سوال ہے کس طریقہ کار کے تحت یہ اختیار استعمال ہوتا ہے

    جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ ملٹری کورٹس میں کسی کو ملزم ٹھہرانے کا کیا طریقہ کار ہے،آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا اطلاق ممنوعہ علاقے عمارات اور کچھ سول عمارات پر بھی ہے،جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ آپ ابھی تک بنیادی پوائنٹ ہی نہیں بتا سکے،آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی دفعات ایف آئی آرز میں کب شامل کی گئیں،اگر ایف آئی آر میں آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی دفعات ہی شامل نہیں تو کیا کمانڈنگ آفیسر ملزمان کی حوالگی مانگ سکتا ہے؟ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آپ سے دو سوال پوچھ رہے ہیں اس پر آئیں،آپ پراسس بتائیں آرمی ایکٹ کا اطلاق کیسے ہو گا،آرمی کے اندر ایسے فیصلے تک کیسے پہنچا جاتا ہے کہ فلاں بندہ آرمی ایکٹ کے تحت ہمارا ملزم ہے،عدالت نے کیس کی سماعت میں 15 منٹ کا وقفہ کر دیا۔

    دوبارہ سماعت ہوئی تو وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ آرمی ایکٹ میں ٹرائل کیسے شروع ہوتا ہے،اس کا جواب آرمی رولز 1954 میں موجود ہے،رول 157 کی سب سیکشن 13 میں طریقہ کار درج ہے،یہاں 9 اور 10 مئی کو واقعات ہوتے ہیں اور 25 مئی کو حوالگی مانگ لی جاتی ہے،یہاں تو ہمیں حقائق میں جانے کی ضرورت بھی نہیں،ملزمان کی حوالگی مانگنے کی کوئی وجہ موجود نہیں ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چارج سے پہلے انکوائری کا ہم اٹارنی جنرل سے پوچھیں گے،

    جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ سویلین کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل الگ نوعیت کے حالات میں ہو گا،آپ یہ بھی پھر واضح کریں کہ وہ الگ نوعیت کے حالات کیا ہوں گے،کیا آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ محدود معاملات پر ہی سویلین کا ملٹری کورٹس میں ٹرائل ہو سکتا ہے،فیصل صدیقی نے کہا کہ چیئرمین نیب اختیارات کیس میں 2003 کا ایک سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ہے،عدالت نے کہا تھا عام عدالت سے کیس تب تک نیب کورٹ نہیں جائے گا جب تک چیئرمین کے صوابدیدی اختیارات سٹرکچر نہیں ہوتے،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا کبھی ایسا ہوا کہ آفیشل سکریٹ ایکٹ کے تحت ٹرائل صرف مجسٹریٹ نے کیا ہو؟فیصل صدیقی نے کہا کہ جی میں اس حوالے سے فیصلوں کی نظیریں پیش کروں گا،وکیل احمد حسین نے کہا کہ سوال یہ ہے کیا سویلین جن کا فوج سے تعلق نہیں ان کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل ہو سکتا ہے؟ میرا موقف ہے کہ موجودہ حالات میں سویلین کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل نہیں ہو سکتا،ہمارا اعتراض یہ بھی نہیں کہ لوگون کے خلاف کارروائی نہ ہو ،ہمارا نقطہ فورم کا ہے ،کہ کارروائی کا فورم ملٹری کورٹس نہیں،سوال یہ ہے سویلین کے کورٹ مارشل کی آرمی ایکٹ میں گنجائش کیا ہے؟ آرمی ایکٹ کا مقصد ہے کہ آرمڈ فوسز میں ڈسپلن رکھا جائے،جن افراد کو مسلح افواج کی کسی کمپنی وغیرہ میں بھرتی کیا گیا ہو ان پر ہی اس ایکٹ کا اطلاق ہو گا،

    انتہائی غیر معمولی حالات میں فوجی عدالت فعال ہو سکتی ہے،وکیل فیصل صدیقی
    جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ‏جب کور کمانڈر ہاؤس فوجی تنصیبات میں آتا ہی نہیں تو فوجی ٹرائلز کس بنیاد پر چلائے جا رہے ہیں،جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ یہ بھی قانون میں ہے کہ اگر فوج سویلین کی حوالگی کا مطالبہ کرتی ہے تو ریفرنس وفاقی حکومت کو بھیجا جاتا ہے، وفاقی حکومت کی منظوری پر حوالگی کا حتمی فیصلہ کیا جاتا ہے،جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ وفاقی حکومت نے کب سویلینز کی فوجی عدالتوں میں ٹرائل کی منظوری دی،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ‏کیا ہمیں مکمل تفصیلات حاصل ہیں کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت فوج کیسے کسی کو ملزم قرار دیتی ہے۔ جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ ہم تو کہہ رہے ہیں ہمارے سامنے کوئی ریکارڈ ہی نہیں ہے۔فیصل صدیقی نے کہا کہ حقائق سامنے نہ بھی ہوں تو بھی یہ کیس بادی النظر کا بنتا ہے۔ جسٹس منصور علی شاہنے کہا کہ ‏آپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ ان ملزمان پر خلاف بظاہر کوئی الزام نہیں،وکیل فیصل صدیقی نے کہاکہ میں یہ کہہ رہا ہوں چارج کرنے سے پہلے سخت انکوائری ہونی چاہیے،9 مئی کے ملزمان سے متعلق سخت انکوائری پہلے ہونی چاہیے سویلین ملٹری کورٹ نہیں جا سکتا،سویلینز کا ٹرائل سول عدالتوں میں ہوتا ہے،انتہائی غیر معمولی حالات میں فوجی عدالت فعال ہو سکتی ہے،

    جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ ‏دوسرے کیسز میں آرمی ایکٹ سے متعلق کیا پرنسپل سیٹ کیا گیا ہے؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ بہت کم ایسا ہوا کہ سول کورٹس کو بائی پاس کیا گیا ہو، جسٹس عائشہ ملک‏ نے کہا کہ کن وجوہات کی بنا پر سویلینز کا ٹرائل آرمی ایکٹ کے تحت کیا جاتا رہا ہے؟ یہ بتا دیں کہ کون سے غیر معمولی حالات میں سویلین کا ملٹری ٹرائل ہو سکتا ہے؟ جسٹس منیب اخترنے کہا کہ آپ کے مطابق آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت ہونے والا جرم ضروری نہیں کہ آرمی ایکٹ کے تحت ہوا ہو،جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ کن جرائم پر آفیشل سیکریٹ ایکٹ لگتا ہے؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ انسداد دہشتگردی عدالت میں ملزمان کی فوجی عدالتوں کو حوالگی کی درخواست نہیں دی جا سکتی،‏وکیل فیصل صدیقی کے دلائل مکمل ہو گئے

    آئینی ترمیم میں بھی سویلین کے علاوہ ملٹری کورٹس میں ٹرائل پر شرط رکھی گئی،وکیل فیصل صدیقی
    سابق چیف جسٹس پاکستان جواد ایس خواجہ کے وکیل احمد حسین کے دلائل شروع ہو گئے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریمانڈ آرڈر میں ذکر نہیں ملزمان کی حوالگی کیسے اور کن شواہد پر ہوئی،ملزمان کے ریمانڈ میں بنیادی چیز مسنگ ہے، جسٹس منصور علی‏ شاہ نے کہا کہ آرمی کے اندر ایسے فیصلے تک کیسے پہنچا جاتا ہے کہ فلاں بندہ آرمی ایکٹ کے تحت ہمارا ملزم ہے،فیصل صدیقی نے کہا کہ یہ درخواستیں سپریم کورٹ میں ہی قابلِ سماعت ہیں ، جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے کی حد تک آپ کے دلائل مکمل ہیں ،فیصل صدیقی‏ نے کہا کہ جی درخواستوں کے قابل سماعت ہونے تک دلائل مکمل ہیں اب آگے چلتے ہیں ، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ کیا سویلینز کا جرم آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت ہے یا نہیں،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ انسداد دہشتگردی قانون میں جرائم آفیشل سیکریٹ ایکٹ سے بالکل مختلف ہیں، جسٹس منیب اختر‏ نے کہا کہ انسداد دہشتگردی عدالت یہ بھی کہہ سکتی تھی کہ ہم سویلینز کو ملٹری کورٹ کے حوالے نہیں کر رہے،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ اگر کیس کسی آرمی آفیشل پر ہوتا تو بات اور تھی اب کورٹ مارشل کے علاوہ آپشن نہیں،آئینی ترمیم میں بھی سویلین کے علاوہ ملٹری کورٹس میں ٹرائل پر شرط رکھی گئی،

    وکیل خواجہ احمد حسین نے کہا کہ آرمی ایکٹ کا مقصد افواج میں ڈسپلن برقرار رکھنا ہے، سویلینز کا کورٹ مارشل کر کے بنیادی انسانی حقوق کو متاثر کیا جا رہا ہے، جواد ایس خواجہ کے وکیل نے لارجر بنچ بنانے کی استدعا کر دی،کہا اگر عدالت سمجھتی ہے کہ میرے کیس میں ٹھوس وجوہات ہیں تو لارجر بنچ بنا دیں، جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کو سنیں گے، ابھی نماز کیلئے بریک لیں گے اور ڈیڑھ بجے واپس آئیں گے،وکیل نے کہا کہ ،یہ بہت اہم کیس ہے اس سے ایک مثال قائم ہوگی،عدالت نے کہا کہ آپ کی بات میں وزن ہوگا تو دیکھیں گے آپ بات تو کریں،

    فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل کیخلاف درخواستوں پر سماعت، وقفہ کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کے وکیل خواجہ احمد حسین روسٹرم پر آگئے ،اور کہا کہ کورٹ مارشل سے بنیادی حقوق ختم ہو جاتے ہیں، آرٹیکل 10 کے مطابق شفاف ٹرائل کا حق ہر شخص کو ہے. آرٹیکل 25 ہر شہری کی عزت نفس کی ضمانت دیتا ہے، کورٹ مارشل سے عزت نفس مجروح ہوتی ہے کورٹ مارشل کیلئے ایک آفیسر کی سربراہی میں ٹیم تشکیل دی جاتی ہے

    دوران سماعت خواجہ احمد حسین نے کلبھوشن کیس کا حوالہ دیا اور کہا کہ کلبھوشن کا کورٹ مارشل کرکے سزا دی گئی تھی، عالمی عدالت انصاف میں بھارت نے سزا کیخلاف اپیل کی، پاکستان کا موقف تھا کہ کلبھوشن کو سزا پر عدالتی نظرثانی کا قانونی حق حاصل ہے،عالمی عدالت انصاف نے عدالتی نظرثانی کو با ضابطہ اپیل طرز پر ہونے کا موقف تسلیم نہیں کیا، عالمی عدالت کے فیصلے کی روشنی میں پاکستان کو کلبھوشن کیلئے قانون سازی کرنا پڑی، فوجی عدالتوں میں موجود ججز آرمی افسر اور ادارے کے ماتحت ہوتے ہیں ،خفیہ مقام پر ہونے والے ٹرائل کی قانون میں گنجائش نہیں، شفاف ٹرائل کیلئے آزاد عدلیہ کا ہونا لازمی شرط ہے، فوجی عدالت کے فیصلے کیخلاف ہائی کورٹ کا نظرثانی اختیار محدود ہوتا ہے، آئینی طور پر عدالت وہی ہوسکتی ہے جو آرٹیکل 175 میں بیان کی گئی، آرٹیکل 175 میں کسی فوجی عدالت کا ذکر نہیں، جسٹس یحیی آفریدی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ ماضی میں فوجی عدالتوں اور آرمی ایکٹ میں ترمیم کی توثیق کر چکی، خواجہ احمد حسین نے کہا کہ سال 2015 میں قائم فوجی عدالتوں کو دو سال کا آئینی تحفظ دیا گیا تھا، مخصوص مدت کیلئے قائم فوجی عدالتوں کی توثیق کی گئی تھی، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اکیسویں ترمیم کیس میں عدالت نے قرار دیا تھا کہ ملک حالت جنگ میں ہے، خواجہ احمد حسین نے کہا کہ معلوم نہیں اس وقت حالت جنگ میں ہونے کے معاملے پر وفاقی حکومت کا کیا موقف ہے، عدلیہ کی موجودگی میں کسی سویلین کا کورٹ مارشل نہیں ہوسکتا، موجودہ کیس میں فوجی عدالتوں کی کوئی مدت مقرر نہیں کی گئی،کلبھوشن کیلئے اپیل کے حق کا نیا قانون بھی بنایا گیا تھا، 21ویں آئینی ترمیم کے تحت قائم فوجی عدالتوں کا دورانیہ مختصر تھا

    آئین کہتا ہے کہ آرمی سے متعلق کسی قانون میں مداخلت نہیں کی جا سکتی،جسٹس منصور علی شاہ
    جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسی لیے آپ موجودہ کیس کو21 ویں آئینی ترمیم سے الگ قرار دے رہے ہیں،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین کہتا ہے کہ آرمی سے متعلق کسی قانون میں مداخلت نہیں کی جا سکتی، ہم کسی قانون کو چھیڑے بغیر اس کو کیسے دیکھ سکتے ہیں؟ وکیل احمد حسین نے کہا کہ آرمی کی سینئر کمانڈ نے پریس ریلیز میں دو نتائج اخذ کیے ، پریس ریلیز میں کہا گیا 9 مئی کو ملٹری تنصیبات پر حملہ کیا گیا،پریس ریلیز میں کہا گیا حملے کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں، یہ نتائج پہلے سے اخذ کرنے کے بعد وہ خود اس معاملے کے جج نہیں ہوسکتے ،

    اگرآپکی استدعا منظورکرلی جائے توآرمی ایکٹ ختم ہوجائے گا،جسٹس منیب اختر
    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں کون سے سویلینز کی بات ہو رہی ہے؟ سویلینز تو ریٹائرڈ فوجی افسران بھی ہیں، قانون میں یہ کیوں درج ہے کہ سویلین کا فوجی عدالت میں ٹرائل ہوسکتا ہے؟ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ایسے لگتا ہے کہ عدالت کے سامنے بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ زبردستی لایا جا رہا ہے،جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائل میں بنیادی حقوق کو معطل کیا گیا ہے، سویلین کوبنیادی انسانی حقوق کے تحت تحفظ ہرصورت حاصل ہے، وکیل نے کہا کہ آرمی افسران کے بنیادی حقوق کا معاملہ عدالت نہیں دیکھ سکتی لیکن سویلینز کا دیکھا جا سکتا ہے،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگرآپکی استدعا منظورکرلی جائے توآرمی ایکٹ ختم ہوجائے گا،مخصوص حالات میں آرمی ایکٹ کے تحت کارروائی ہوسکتی ہے،ایمرجنسی میں تو لوگوں کی نقل وحرکت بھی روک دی جاتی ہے، آئین تو نقل و حرکت اورآزادی کا حق دیتا ہے، پارلیمنٹ کے پاس قانون سازی کا اختیار ہے،

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ یہ تفریق کیسے ہوگی کہ آرمی ایکٹ صرف فوج پر لاگو ہوتا ہے، آرمی ایکٹ کے مطابق اس کا اطلاق سویلینز پر بھی ہوتا ہے، چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا کہ سویلینز میں تو تمام شہری آتے ہیں، کیا سب پر آرمی ایکٹ لاگو ہو سکتا ہے؟ آرمی ایکٹ ان سویلینز پر لاگو ہوگا جو فوج سے تعلق رکھتے ہوں، فوج میں صرف فوجی نہیں سویلین بھی ہوتے ہیں، خواجہ احمد حسین نے کہا کہ اصولی طور پر تو اُن سویلینز کا ٹرائل بھی فوجی عدالتوں میں نہیں ہونا چاہیے، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ عام شہریوں کو بنیادی حقوق سے کیسے محروم کیا جا سکتا ہے؟ خواجہ احمد حسین نے کہا کہ موجودہ کیس میں کسی ملزم کا تعلق فوج سے نہیں ہے

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی جیسے معاملات میں فوج براہ راست متاثر ہوتی ہے،کسی حاضر سروس فوجی افسر کو قومی سلامتی کے خلاف سازش کیلئے اکسانا سنگین جرم ہے، آرمی ایکٹ کی شقوں کو دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے،وکیل احمد حسین نے کہا کہ اس صورت میں سویلین کیخلاف کاروائی ہو سکتی ہے جب وہ بیرونی سازش کا حصہ ہوں،سویلینز کا ملک کے خلاف گٹھ جوڑ ثابت ہو جائے تو کاروائی ہوسکتی ہے، وقت آچکا ہے کہ کھل کر حقوق کیلئے آواز بلند کی جائے،وکیل احمد حسین سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کے وکیل کے دلائل مکمل ہو گئے

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ یہ کہنا کہ سویلین کا کبھی فوجی عدالتوں میں ٹرائل نہیں ہو سکتا درست نہیں ہے، کوئی سویلین فوجی کو بغاوت کیلئے اکسائے تو ملٹری کورٹس کاروائی کر سکتی ہیں،دیکھنا ہوگا کہ سویلینز کو فوجی عدالتوں کے دائرہ اختیار میں لانے کا کیا طریقہ کار اپنایا گیا، یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ انسداد دہشتگردی عدالت کے جج نے کس بنیاد پر مقدمات فوجی عدالت منتقل کیے ،اٹارنی جنرل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ 102 افراد فوج کی تحویل میں ہیں، پشاور میں چار لوگ زیر حراست ہیں، پنجاب میں ایم پی او کے تحت اکیس افراد گرفتار ہیں، انسداد دہشت گردی قانون کے تحت 141 افراد گرفتار ہیں،اسلام آباد پولیس کی تحویل میں کوئی شخص گرفتار نہیں ہے،سندھ میں 172 افراد جوڈیشل تحویل میں ہیں، 345 افراد گرفتار ہوئے اور ستر رہا ہوئے، 102 افراد فوج کی تحویل میں ہیں، فوج کی تحویل میں کوئی خاتون اور کم عمر نہیں ہیں، کوئی صحافی اور وکیل فوج کی تحویل میں نہیں ہیں،

    فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیخلاف اعتزاز احسن نے درخواست دائر کی
    واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں سویلین کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیخلاف اعتزاز احسن نے درخواست دائر کی ، دائر درخواست میں سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل کو غیر آئینی قرار دینے کی استدعا کی گئی،اعتزاز احسن کی طرف سے وکیل سلمان اکرم راجہ نے درخواست دائر کی، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ وفاقی حکومت کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔ وفاقی حکومت نے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے کور کمانڈر فیصلہ پر رپڑ اسٹمپ کا کردار ادا کیا۔سویلین کا ٹرائل آرمی ایکٹ کے سیکشن 2 اور 59 آئین سے متصادم ہیں آرمی ایکٹ قانون کے سیکشن 2 اور 59 کو کالعدم قرار دیا جائے آرمی ایکٹ کا سیکشن 94 اور 1970 کے رولز غیر مساوی ہے۔سیکشن 94 اور رولز کا بھی غیرآئینی قرار دیا جائے انسداد دہشت گرد عدالتوں کے ملزمان کو عسکری حکام کے حوالے کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، عسکری حکام کے حراست میں دئیے سویلین کی رہائی کا حکم دیا جائے ،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں شہباز شریف، خواجہ آصف، رانا ثناءاللہ، عمران خان، پانچوں آئی جیز، تمام چیف سیکرٹریز، وزارت قانون، داخلہ، دفاع، کابینہ ڈویژن کو فریق بنایا گیا ہے

     کسی سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہیں ہونا چاہیے

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ ہوا، تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے فوجی تنصیبات پر حملے کئے گئے، حکومت کی جانب سے فیصلہ ہواکہ حملے کرنیوالے تمام شرپسندوں کے مقدمے ملٹری کورٹ میں چلائے جائیں گے

  • 12 اکتوبرکا سانحہ نہ ہوتا تو پاکستان ترقی یافتہ ممالک کی صف میں ہوتا،رانا ثناء اللہ

    12 اکتوبرکا سانحہ نہ ہوتا تو پاکستان ترقی یافتہ ممالک کی صف میں ہوتا،رانا ثناء اللہ

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ سابق حکومت ملک کی معاشی تباہی کا باعث بن رہی تھی، ہم نے بدترین معاشی حالات میں حکومت سنبھالی،

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ تباہی کا باعث بننے والی حکومت کو آئینی طریقے سے ہٹایا،اسلام آباد میں پہلی بار 20 ارب سے دیہی علاقوں کی ترقی کے منصوبے کا افتتاح ہو رہا ہے ،ن لیگ نے ہمیشہ ترقیاتی منصوبوں کو ترجیح دی ہے،ترقیاتی منصوبے ن لیگ کی حکومت کا اثاثہ ہیں۔ جو منصوبے نامکمل تھے انہیں ن لیگ نے مکمل کیا،12 اکتوبر کا سانحہ نا ہوتا تو آج پاکستان ترقی یافتہ ممالک کی صف میں ہوتا ،پاکستان اتنی ترقی کر چکا ہوتا کہ لوگ کشتی میں ڈوب کر نہ مرتے ، پوچھتا ہوں کہ کہاں ہیں وہ لوگ جو ایک کروڑ نوکریاں دیں گے،

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ”خدا کی قسم“ ملک جو ڈیفالٹ کے قریب تھا اس سے نکالا، ہمیشہ خدمت کی سیاست کو فروغ دیا، شہباز شریف کی کارکردگی دیکھ کر چینی بھی دنگ رہ گئے اور نام شہباز اسپیڈ رکھ دیا، 1997 میں عوام نے دو تہائی اکثریت دی تو ترقی کا سفراسی رفتار سے جاری تھا ماضی میں ملک میں دہشت گردی لوڈ شیڈنگ عروج پر رہی 2013 میں دوبارہ عوام نے نواز شریف اور مسلم لیگ ن پر اعتماد کا اظہار کیا اس دور حکومت میں نہ صرف دہشت گردی کا خاتمہ ہوا بلکہ لوڈشیڈنگ بھی صفر ہوگئی تھی وزیراعظم شہباز شریف نے سیاست میں خدمت کو فروغ دیا ،ان پر تنقید بھی ہوئی لیکن انہوں نے راستہ نہیں بدلا خدمت کی سیاست ہی ملک اور قوم کی نجات کا باعث بن سکتی ہے

    آئین کا تحفظ ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ چیف جسٹس
    100 واں ڈے،پی سی بی نے بابر اعظم کی فتوحات کی فہرست جاری کر دی
    لندن میں نواز شریف کے نام پرنامعلوم افراد نے تین گاڑیاں رجسٹرکرالیں،لندن پولیس کی تحقیقات جاری
    بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی

  • پرویز الہیٰ کو جیل میں چودھری شجاعت سے ملاقات کے بعد جیل میں ملی بی کلاس

    پرویز الہیٰ کو جیل میں چودھری شجاعت سے ملاقات کے بعد جیل میں ملی بی کلاس

    تحریک انصاف کے صدر پرویز الہیٰ کی جانب سے تحریک انصاف چھوڑنے کا امکان ہے، پرویز الہیٰ جلد ق لیگ میں واپس آ سکتے ہیں یا کم ازکم تحریک انصاف سے علیحدگی اختیار کر سکتے ہیں

    تحریک انصاف کے صدر پرویز الہیٰ کو اسوقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ گھر سے نکل رہے تھے، پرویز الہیٰ ریمانڈ پر ہیں، انکی ضمانت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ ہو چکا ہے تا ہم خبر آئی ہے کہ پرویز الہی سے جیل میں چودھری شجاعت نے ملاقات کی ہے، اس ملاقات کے بعد پرویز الہیٰ کو جیل میں بی کلاس دے دی گئی ہے،اس ملاقات میں سالک حسین بھی موجود تھے، چودھرئ شجاعت کی پرویز الہی سے ملاقات کے بعد امکان ہے کہ پرویز الہیٰ جو تحریک انصاف سے مایوس ہو چکے ہیں وہ دوبارہ ق لیگ میں آ جائیں گے، پرویز الہیٰ گرفتار ہوئے تو اسکے لئے تحریک انصاف نے نہ تو کوئی احتجاج کیا، نہ کوئی ملاقات کے لئے گیا، نہ عدالت پیشی کے موقع پر کارکن ہوتے ہیں اسلئے پرویز الہیٰ افسردہ ہیں، پرویز الہیٰ آنیوالے چند دنوں میں اہم فیصلہ کر لیں گے،

    ملاقات کے حوالہ سے مونس الہی کا کہنا ہے کہ چوہدری پرویز الہی سے ان کی اہلیہ کو تو ملنے نہیں دیا جارہا لیکن چوہدری شجاعت کی ملاقات خود آئی جی جیل خانہ جات نے کروائی ہے

    دوسری جانب پنجاب اسمبلی میں بھرتیوں میں مبینہ بدعنوانی سےمتعلق کیس میں اینٹی کرپشن کورٹ نے پرویز الہٰی کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔ درخواست ضمانت سےمتعلق محفوظ فیصلہ کل سنایا جائے گا

    چند دن قبل چوہدری پرویز الہی نے کمرہ عدالت سے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میری طبعیت ٹھیک نہیں ہے،دس روز سے جیل کے چھوٹے سے کمرے میں بند ہوں،جیل کے کمرے میں ہوا کے لیے پنکھا کبھی چلتا ہے کبھی نہیں،گھروں والوں سے ملاقات بھی نہیں کروائی جارہی،صحافی نے سوال کیا کہ کیا چوہدری صاحب آپ پی ٹی آئی چھوڑ رہے ہیں؟ پرویز الہی نے جواب دیا کہ مجھے ملنے نہیں دیا جا رہا پریس کانفرنس کیسے کر دوں ،ادھر بھی میڈیا سے بات نہیں کرنے دی جارہی، آپ میری حالت دیکھ رہے ہیں اس حالت میں پیش کیا ہے،

    پی ٹی آئی کی اندرونی لڑائیاں۔ فواد چوہدری کا پرویز الٰہی پر طنز

    خدشہ ہے کہ پرویز الٰہی کو گرفتار کر لیا جائیگا

    پرویز الہیٰ کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کر لیا گیا ،

    پرویزالہٰی کی حفاظتی ضمانت پر تحریری فیصلہ 

    زمان پارک سے اسلحہ ملنے کی ویڈیو

  • خدیجہ شاہ کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد

    خدیجہ شاہ کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد

    انسداد دہشت گردی عدالت لاہور ،گلبرگ پلازے میں جلاؤ گھیراؤ کا مقدمہ ،عدالت نے خدیجہ شاہ کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کو مسترد کردیا

    عدالت نے خدیجہ شاہ کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ،پولیس نے تفتیش کے لیے عسکری ٹاور کے مقدمے میں تفتیش کے لیے خدیجہ شاہ کو جیل سے طلبی کروائی,عدالت سے پولیس نے خدیجہ شاہ سے تفتیش کے لیے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی ,تھانہ گلبرگ میں پلازے میں جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کا مقدمہ درج ہے ,اس سے قبل خدیجہ شاہ جناح ہاؤس کے مقدمے میں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں قید تھی

    پولیس نے خدیجہ شاہ کے خلاف درج مقدمے میں کورکمانڈر ہاؤس لاہور پر حملے سے متعلق الزامات عائد کئے ہیں،خدیجہ شاہ جیل میں ہیں، امریکی حکام نے بھی خدیجہ شاہ سے ملاقات کی ہے، خدیجہ شاہ نے ایک ویڈیو بیان جاری کر کے معافی بھی مانگی تھی، خدیجہ شاہ کو عدالت پیش کیا گیا تا ہم وہ خاموش رہیں اور سوالوں کے جواب نہیں دیئے ، خدیجہ شاہ نے خود تھانے میں پیش ہو کر گرفتاری دی تھی ،انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں تحریک انصاف کی خاتون رہنما خدیجہ شاہ کو پولیس نے پیش کیا تو اس موقع پر خدیجہ شاہ کے منہ پر کپڑا ڈالا گیا تھا، خدیجہ شاہ نے ہاتھ میں تسبح پکڑ رکھی تھی،خدیجہ شاہ گاڑی میں ایک گھنٹے تک رکھا گیا، جس کے بعد خدیجہ شاہ کی طبیعت گاڑی میں خراب ہو گٸی تھی خدیجہ شاہ نے پولیس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجھے باہر نکالا جاٸے گاڑی میں دم گھٹ رہا ہے ، ولیس نے جواب دیا کہ ابھی تفتیشی نہیں پہنچا جب آٸے گا تو ہی باہر نکالیں گے ،خدیجہ شاہ کے خاندان کے افراد کی پولیس سے بحث ہوئی،خدیجہ شاہ کے رشتہ داروں نے پولیس سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ دمے کی مریضہ ہے اسے باہر نکالیں ، پولیس نے گاڑی درخت کی چھاوں میں کھڑی کردی تھی

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

  • سوشل میڈیا پر جلسڑیاں کرنے والوں کو ہم نے بے نقاب کیا،مولانا فضل الرحمان

    سوشل میڈیا پر جلسڑیاں کرنے والوں کو ہم نے بے نقاب کیا،مولانا فضل الرحمان

    قائد جمعیت، سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ہم نے تحریک انصاف کا ایجنڈا پاش پاش کر دیا ہے،سابقہ حکمرانوں کا ایجنڈا اسرائیل اور یہودیوں کا تھا،

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ پہلے ہی بتا دیا تھا یہ شخص ملک دشمن ہے ،ملک دشمن عناصر آج پی ٹی آئی کی حمایت میں سامنے آ گئے ہیں ،پی ٹی آئی چھوڑنے والوں پر طنز ، 2018 کے الیکشن میں دھاندلی کا فائدہ اٹھانے والے اور ان کے سرپرست ہمیں معلوم ہیں، سوشل میڈیا پر جلسڑیاں کرنے والوں کو ہم نے بے نقاب کیا، پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے پر موم بتی مافیا اوراسرائیل رو رہا ہے فرینڈ آف اسرائیل کمیٹی کے ارکان عمران خان کی حمایت میں رو رہے ہیں پاکستان کی مخالفت میں ڈی پورٹ خاتون بھی ایک شخص کی حمایت کر رہی ہے اگلے الیکشن اور اس کے بعد بھی پاکستان کی اسلامی شناخت کو متعارف کرایا جائے گا

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ملکی معیشت اتنی گر چکی کہ اس کو اگلی حکومت کیسے اٹھائے گی یہ ایک چیلنج ہے، پاکستان اسوقت معاشی بحران سے دوچار ہے، اس حالات میں جو بجٹ پیش کیا گیا، وفاقی بجٹ اس کو متوازن قرار دیا گیا، معیشت کی بحالی ہمارا ہدف ہو گا، ہم حکومت کی کاوشوں کی سمت اس جانب موڑ دیں جہاں‌ جلد سے جلد عام آدمی کو ریلیف مہیا کیا جا سکے

    عثمان بزدار کے گرد گھیرا تنگ،مبشر لقمان نے بطور وزیر بیورو کریسی کیلئے کیسے سٹینڈ لیا تھا؟ بتا دیا

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    عثمان بزدار اور انکے بھائیوں سمیت انکے مبینہ فرنٹ مین طور بزدار کے خلاف انٹی کرپشن میں انکوائری شروع

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

  • زمان پارک کی جادوگرنی، عمران پر دس سال کی پابندی حسان نیازی کہاں؟ پتہ چل گیا

    زمان پارک کی جادوگرنی، عمران پر دس سال کی پابندی حسان نیازی کہاں؟ پتہ چل گیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کل علیم خان نے ایک انٹرویو چلا ہے،علیم خان نے کہا کہ عاملہ ہے یا سوکالڈ جادوگرنی ہے، ٹونے کرنی والی وہ پورا ملک چلاتی ہے، اکیسویں صدی،لیکن ہمارے ملک میں وزارتیں، پوسٹیں، عملیات اور پتہ نہیں کیا کیا کر کے دی جاتی رہیں، ہر پوسٹنگ کی تصویر بشریٰ کو دکھائی جاتی پھر وہ پوزیشن بتاتی کہ صحیح ہے یا نہیں، لوگوں کو اس پر حیرانی ہوئی گی مجھے نہیں، میری جب ایک بار ملاقات ہوئی تو بشریٰ بی بی نے کچھ کہا تو میں نے انکار دیا،جس پر بشریٰ نے عمران خان کو کہا کہ خان صاحب یہ آپکے دوست صحیح نہیں ہیں،

    آرمی ایکٹ کے تحت سزا بھی دینی ہے،
    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کچھ لوگوں کا پتہ چلا ہے کہ وہ پاکستان سے غائب ہو گئے ہیں جن کو اتھارٹیز ڈھونڈ رہی ہیں،حسان نیازی غائب ہو گئے کل مجھے پتہ چلا کہ وہ ایران میں ہیں، اسی طرح مراد سعید افغانستان میں ہیں، تین خواتین خاص ہیں اور وہ تینوں دبئی میں ہیں، دو بیدیاں کے رہنے والے لوگ انکی دوڑیں لگی ہوئی ہیں، کیونکہ جنرل عاصم منیر نے فیصلہ کیا ہے کہ جو مرضی ہو جائے ایک بار نہ صرف سبق سکھانا ہے بلکہ آرمی ایکٹ کے تحت سزا بھی دینی ہے،

    عمران خان کو دیکھیں وہ جھوٹوں کا آئی جی ہے
    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اب بورس جانسن کے حلقے میں الیکشن ہونے والے ہیں لندن میں، اسکا قصور کیا تھا، عمران خان کو دیکھیں وہ جھوٹوں کا آئی جی ہے، بورس جانسن نے جب کرونا شروع ہوا تھا تو اس نے ایک ڈنر کر لیا تھا اس میں کافی لوگ تھے،کسی اخبار والے نے اس کو رپورٹ کیا کہ وزیراعظم نے گھر میں ڈنر کیا، اس پر وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے کرونا ایس او پیز کا خیال رکھا، پھر بات آگے چلی ، اوراب زلت و رسوائی انکا مقدر بنی ہوئی ہے،بورس پر پارلیمنٹ بیٹھے گی اور بحث کرے گی کہ اس کو دس سال کے لئے بین کرنا چاہئے یا اتنی سزا کافی ہے، یہی اگر رول عمران خان پر اپلائی ہو تو عمران خان پھر ہر روز ہی دس سال کے لئے بین ہو،

    سب کو کڑی سے کڑی سزا ملنی چاہئے
    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ فیاض الحسن چوہان جب پی ٹی آئی میں تھا تو حریم شاہ کو لے کر آیا تھا اب انکشاف کر رہا ہے، جب ہم کہتے تھے تو کوئی نہیں مانتا تھا، بزدار کی کرپشن میں نے بتائی تھی اب سب کہتے ہیں وہ بشریٰ کا فرنٹ مین تھا، یہی بات میں نے پہلے بتائی، فیاض الحسن چوہان اور فواد کو پکڑ کر پہلے اندر کرنا چاہئے کیونکہ انہوں نے عوام کے ساتھ جھوٹ بولا،کرپشن پر ساتھ رہے، تمہیں کیوں چھوڑا جائے، اگر اس ملک نے واقعی ترقی کرنی ہے تو جو جو زمہ دار ہے لوگوں سے جھوٹ بولنے کا ان سب کو کڑی سے کڑی سزا ملنی چاہئے ،اسوقت بھی زمان پارک کے اندر مرچیں جلائی جا رہی ہیں ، دنیا کہان سے کہاں اور یہاں ریاست مدینہ کا نام لیوا سب سے بڑا مشرک اور بدعتی ہمارے درمیان موجود ہے،اللہ تعالی ان سب کو ٹھیک کرے اور پاکستان کو اپنی امان میں رکھے

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اورامریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    پاکستانیوں کے پاس اندھا پیسہ، پرتگال میں مبشر لقمان نے کیا دیکھا؟

    انڈین کرکٹ ٹیم پاکستان کیوں نہیں آرہی ؟ بھارتی ہائی کمشنر نے مبشر لقمان کو کیا بتایا۔

  • 300 گھرانوں میں صف ماتم،3 دن ہوگئے دفتر خارجہ خاموش ہے،شاہ محمود قریشی

    300 گھرانوں میں صف ماتم،3 دن ہوگئے دفتر خارجہ خاموش ہے،شاہ محمود قریشی

    تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ قرب ناک کہانیاں سامنے آ رہی ہیں دی گارڈین کی سٹوری سے واضح ہے کہ کس طرح پاکستانیوں کے ساتھ سلوک ہو رہا ہے

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں آج عدالت میں پیش ہوا، میرے وکیل علی بخاری تیار تھے، انویسٹیگیشن آفیسر تھوڑے سے کنفیوز تھے، جو کشتی کا واقع ہوا اس میں 300 سے زائد پاکستانی ہلاک ہوئے، وزیر اعظم نے سوگ کا اعلان کیا، درست کیا،انکوائری کے لیے کمیشن بنایا، ٹھیک بنایا،300 گھرانوں کے حالات کو دیکھیں، گھر میں صف ماتم ہے، اور یہ معلوم ہی نا ہو کہ آپ کا پیارا زندہ بھی ہے کہ نہیں، میں دفتر خارجہ میں ایک سیل بنایا تھا جس کا کام 24/7 حالات سے باخبر رہے، آج 3 دن ہوگئے دفتر خارجہ خاموش ہے، حقائق نہیں بتائے جا رہے، جو میں کرائیسز سیل بنایا تھا، وہ کام کر رہا ہے یا نہیں، میڈیا بھی جا کر دیکھے اور پوچھے کہ وہ کام کر بھی رہا ہے یا نہیں، اور اگر کام نہیں کر رہا تو کیوں نہیں کر رہا، میں سمجھتا دفتر خارجہ کو اس معاملے پر عوام کو آگاہ کرنا چاہیئے

    عملی طور پر یہ اتحاد ختم ہو چکا ہے، اب اعلان کرنا باقی ہے، شاہ محمود قریشی
    شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ میرے کلپس اور انٹرویز موجود ہیں، میں نے کہا تھا پی ڈی ایم کا اتحاد بکھر رہا ہے، کل سے اس کی شروعات ہو چکی ہے ، بلاول بھٹو نے کل سوات کے حوالے سے خدشات ظاہر کیے، سندھ کے بارے میں بلاول جو کہہ رہے ہیں ٹھیک کہہ رہے ہیں،بجٹ میں سندھ کی ایلوکیسن کے بارے میں تبصرہ کیوں نہیں ہوا،آج سرکار وزراء آزاد کشمیر کے الیکشن اعتراضات اٹھا رہے ہیں، وہ کہہ رہے ٹھپے لگا رہے ہیں، کائرہ صاحب جو کہہ رہے ہیں میں نے ان کی بات مانی لیکن ایسا نہیں ہے،اگر آزاد کشمیر کے الیکشن میں اگر ن لیگ نے پیپلز پارٹی کے ساتھ دھاندلی کی تو پھر کراچی کے مئیر کے الیکشن میں ن لیگ نے پی پی پی کو 13 ووٹ کیوں دیئے، کراچی کے مئیر کے الیکشن میں آپ نے اپنا احتجاج کیوں نہیں ریکارڈ کرایا، ابھی تو بجٹ پر ووٹنگ ہونی ہے،کیوں نہیں پیپلز پارٹی اور ن لیگ فیصلہ کرتی کب پی ڈی ایم کے اتحاد کو رکھنا ہے یا نہیں،عملی طور پر یہ اتحاد ختم ہو چکا ہے، اب اعلان کرنا باقی ہے،

    ریسکیو کئے جانے والے 12 پاکستانیوں کی تفصیلات
    یونان سمندر میں کشتی حادثہ سے ریسکیو کئے جانے والے 12 پاکستانیوں کی تفصیلات سامنے آئی ہیں بچ جانے والے 12 پاکستان میں سے محمد عدنان اور حسیب الرحمن کا تعلق ضلع کوٹلی آزاد کشمیر سے ہے ،محمد حمزہ اور ذیشان سرور کا تعلق ضلع گوجرانوالہ سے ،عظمت علی اورعثمان صدیق کا تعلق ضلع گجرات سے ، محمد سنی اورزاہد اکبر ضلع شیخوپورہ سے ہے،مہتاب علی ضلع منڈی بہاوالدین اوررانا حسنین ضلع سیالکوٹ کے رہنے والے ہیں

    انسانی اسمگلرز کے خلاف کارروائیاں انتہائی اہمیت اختیار کر گئی
    میڈیا رپورٹس کے مطابق کشتی میں پاکستان، افغانستا، مصر، شام اور فلسطین کے شہری سوار تھے،اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کا کہنا ہے کہ یونان میں تارکین وطن کی کشتی الٹنے کے بعد 500 سے زائد افراد تاحال لاپتہ ہیں اس واقعے کے بعد انسانی اسمگلرز کے خلاف کارروائیاں انتہائی اہمیت اختیار کر گئی ہیں ،یونان کے نگران وزیر اعظم لونیس سارماس نے کشتی ڈوبنے کے حوالے سے حقائق اور تکنیکی پہلوؤں کو جاننے کیلئے تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ جلد ہی واقعے کے ذمہ داروں کا تعین کر لیا جائے گا

     کسی سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہیں ہونا چاہیے

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

    لیبیا کشتی حادثہ میں ملوث انسانی سمگلر کو گرفتار کر لیا گیا