Baaghi TV

Tag: تحریک

  • پیپلز پارٹی کی حکومت کے آگے نئی رکاوٹ، ایک اور سیاسی کارڈ یا نئی تحریک کا اعلان؟

    پیپلز پارٹی کی حکومت کے آگے نئی رکاوٹ، ایک اور سیاسی کارڈ یا نئی تحریک کا اعلان؟

    اسٹیل مل پر سندھ کابینہ کی ذیلی کمیٹی کا ٹریڈ یونین رہنماؤں سے مشاورتی اجلاس ہوا جس میں اسٹیل مل کو فوری طور پر سندھ حکومت کے حوالے کرنے کے لیے سندھ اسمبلی میں قرارداد لانے کا اعلان کیا گیا۔ یہ فیصلہ ٹریڈ یونین رہنماؤں کی سفارش پر کیا گیا ہے.
    اجلاس میں صوبائی وزراء سید ناصر حسین شاہ ،سعید غنی، مشیر قانون مرتضیٰ وہاب، وزیر اعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی وقار مہدی، سیکریٹری محکمہ محنت رشيد سولنگی، ڈپٹی کمشنر ملیر گھنور لغاری، مزدور رہنما کرامت علی، حبیب جنیدی اور اسٹیل مل ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں نے شرکت کی جس میں سندھ حکومت نے اسٹیل مل معاملے پر وفاق کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے، مسودہ مشیر قانون مرتضیٰ وہاب تیار کر رہے ہیں۔
    اس مو قع پر سید ناصر حسین شاہ کا کہان تھا کہ سندھ حکومت محنت کشوں کے حقوق کا ہرحال میں تحفظ کرے گی.
    اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت ہے کہ اسٹیل مل کے محنت کشوں سے سفارشات لے کر ان پر عمل کیا جائے۔انکا کہنا تھا کہ محنت کش پر امن احتجاج کریں، ان کا حق ہے، لیکن ایسی کوئی چیز نہ کریں جس سے ان کی تحریک کو نقصان پہنچے کچھ سال قبل پی آئی اے کی تحریک میں میں لوگوں کی جانیں ضائع ہوئیں تھیں. صوبائی وزرا کا کہنا تھا کہ یہ نہیں ہوسکتا کہ ہم خط لکھیں اور وفاقی حکومت فوراً اسٹیل مل کا کنٹرول سندھ حکومت کے حوالے کر دے۔ یہ طویل جدوجہد ہے جو ہم سب نے مل کر کرنی ہے.
    اس موقع پر مزدور رہنما کرامت علی کا کہنا تھا کہ مستقل بنیادوں پر تحریک چلانی پڑے گی، وفاق اتنی آسانی سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔سٹیل مل پر پبلک کو موبلائیز کرنے کی ضرورت ہے، احتجاج کرنے والے مزدوروں کے خلاف مقدمات درج کئے جا رہے ہیں، یہ ہمارے قوانین کی خلاف ورزی ہے اسے روکا جائے۔ ٹریڈ یونین رہنماکا کہنا تھا کہ یہاں پر بیٹھے تمام ٹریڈ یونین ساتھی متفق ہیں کہ سندھ حکومت کے ساتھ مل کر اس معاملے کو روکیں گے.

  • نفاذِ اردو کے لیے ہمارا سفر ۔۔۔ فاطمہ قمر

    نفاذِ اردو کے لیے ہمارا سفر ۔۔۔ فاطمہ قمر

    ہم ہر اس پاکستانی کو خوش آمدید کہتے ہیں اور اس کے ساتھ چلنے کو تیار ہیں جنہوں نے ہمیں دیکھ کر یا ہماری دعوت پر نفاذ اردو کا جھنڈا اٹھایا ہے۔ ہم نے نفاذ اردو کی آواز عملی طور پر ایسے اجتماعات میں بلند کی جہاں انگریزی کی غلامی کے خلاف بات کرنا ” کفر ” سمجھا جاتا تھا۔ جب ہم پاکستان میں نفاذ اردو کی بات کرتے تھے لوگ ہمیں ہونق ہو کر دیکھتے تھے۔ ہمارا مذاق اڑاتے تھے’ ہم نے نفاذ اردو کا پیغام پاکستان کے سب سے بڑے انگریزی غلامی کے علمبردار ایچی سن کالج سمیت پاکستان کی ہر مقتدر شخصیت کو دیا۔ ہم نے آرمی چیف کو خط لکھا کہ وہ آئین کی پاسداری کرتے ہوئے براہ کرم اپنے عہدے کا حلف اردو میں لیں ۔الحمدللہ! آرمی چیف نے ہماری بات کی لاج رکھی اور پاکستان کے پہلے آرمی چیف بنے جنہوں نے اُردو میں حلف لیا!
    ہم نے موجودہ وزیر خارجہ کو اقوام متحدہ میں اردو میں خطاب کرنے کے لیے قائل کیا۔
    الحمداللہ! انہوں نے ہماری درخواست پر اقوام متحدہ میں پہلی مرتبہ اردو میں بات میں کر کے اقوام عالم میں پاکستان کا وقار بلند کیا!
    ہم نے لاہور ‘ اسلام آباد میں نفاذ اردو کی ملک گیر کامیاب کانفرنسیں منعقد کی ہیں!
    ہم نے سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کو آئین کی شق 251 جو پاکستان کی زبانوں کے حوالے سے ہے اس پر عملدرآمد کی طرف توجہ دلائی۔ اس سلسلے میں ان کو عملی طور پر ان کے مقدمے کے ترجمے بھی اردو میں کر کے دیے جس سے متاثر ہوکر چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے ایک اسلام آباد کے وکیل کوکب اقبال کا پرانا مقدمہ جو 2003 میں مٹی کی گرد میں دبا ہوا تھا جس کی سماعت جسٹس ناصر الملک کررہے تھے۔ انہوں نے عدالت عظمیٰ کو بطور خاص درخواست دے کر اس کی سماعت شروع کی۔۔۔اور اپنی سبکدوشی کے آخری لمحوں میں نفاذ اردو کا تاریخ ساز فیصلہ کرکے اپنا نام تاریخ میں رقم کر گئے۔ اور آج بھی وہ اس مقدمے کے نفاذ سے الگ نہیں ہیں ۔ گاہے بگاہے اس مقدمے کے حوالے سے ہماری رہنمائی کرتے رہتے ہیں۔ لمز یونیورسٹی جیسے انگریزی میڈیم ادارے سے وابستہ ہوکر وہاں طلباء اور اساتذہ میں نفاذاردو کا شعور بیدار کر رہے ہیں۔
    پورا پاکستان نفاذ اردو کے حوالے سے ہماری کوششوں سے واقف ہے۔ ہم نفاذ اردو کی جنگ عدالتوں’ سڑکوں’ ذرائع ابلاغ’ بازاروں’ ریستوران’ تعلیمی اداروں’ دفتروں غرض ہر جگہ لڑ رہے ہیں۔۔
    ہماری کانفرنس میں پاکستان کی ہر مقتدر شخصیت ‘ تمام شعبہ زندگی’تمام سیاسی جماعتوں، سول و عسکری قیادت آتی رہی ہے ۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان’ جنرل حمید گل مرحوم، جنرل راحت لطیف’ بریگیڈیئر حامد سعید’ جنرل غلام مصطفی ‘ اوریا مقبول جان’ عرفان صدیقی’ سابق سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد خان’ مجیب الرحمٰن شامی’ ڈاکٹر اجمل نیازی’ ڈاکٹر خواجہ ذکریا’ پروفیسر فتح ملک’ اعجاز چوہدری ‘ محمود الرشید’ سعدیہ سہیل’ بشری رحمن’ سابق وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق ‘ڈاکٹر فاطمہ حسن’ سابق وزیر اطلاعات پرویز رشید’ ڈاکٹر جاوید منظر’ سابق وزیر تعلیم رانا مشہود’ سابق وزیر بلوچستان صالح بلوچ’ قیوم نظامی’ ابصار عبدالعلی ‘ ڈاکٹر افتخار بخاری’ جسٹس ناصرہ اقبال’ سمیعہ راحیل قاضی اور ایک لمبی فہرست ہے جو ہماری کوششوں سے واقف ہیں۔ ہم اپنی تحریک کے قائد عزیز ظفر آزاد کی قیادت میں دن رات نفاذ اردو کے لئے سر گرم ہیں۔ ان شاءاللہ اردو کو پاکستان کا نظام زندگی بنا کر ہی دم لیں گے!
    ہم نے تہیہ کیا ہے کہ اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک اردو کو پاکستان کی عدالتی ‘ سرکاری اور تعلیمی زبان نہ بنادیں!
    ان شاءاللہ! اللہ کے فضل سے پاکستان میں نفاذاردو کی منزل بہت قریب ہے!
    فاطمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

  • اردو ہے جس کا نام ۔۔۔ فاطمہ قمر

    اردو ہے جس کا نام ۔۔۔ فاطمہ قمر

    گزشتہ روز ہم اور پروفیسر سلیم ہاشمی یو ایم ٹی کے ماہانہ ادبی ناشتے میں بطور مہمان خصوصی مدعو تھے ۔ لیکن پروفیسر سلیم ہاشمی بوجہ علالت کے اتنی شاندار تقریب میں شرکت نہ کر سکے ۔لیکن انہوں نے مجھے بطور خاص ہدایت کی ان کی نمائندگی درویش صفت تحریک ‘ قومی سوچ کے حامل’ ماہر اقتصادیات ‘ ماہر تعلیم سابق اکاؤنٹنٹ جنرل پنجاب اور پاکستان قومی زبان تحریک کے مرکزی رہنما جناب جمیل بھٹی صاحب کریں۔ جمیل بھٹی صاحب ایک سابق بیوروکریٹ ہونے کے ساتھ ساتھ مالیات سے متعلق بہت سی انگریزی کتب کے ترجمے بھی کر رہے ہیں ۔ آپ جامعہ پنجاب کے شعبہ انگریزی کے سابق سربراہ مرحوم اسمعیل بھٹی کے انتہائی لائق فرزند ہیں ۔ آپ نے حاضرین کو اپنی ملازمت کے دوران کےبہت سے اجلاس کا حال سنایا کہ بیوروکریسی میں تمام اجلاسوں اردو میں ہوتے ہیں لیکن ان کی کاروائی انگریزی میں لکھی جاتی ہے۔ انگریزی ذریعہ تعلیم کے ساتھ تعلیم مہنگی ہونے کے ساتھ ساتھ نوجوان نسل کو اپنی تہذیب سے بیگانہ کررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ میری انگریزی شاعری کی دو کتب چھپ چکی ہیں ۔لیکن اس کے باوجود میں اردو اور پنجابی میں اپنے خیالات کھل ڈھل کر بیان کرسکتا ہوں”
    ہم نے اپنے خطاب میں مرزا الیاس اختر کا بہت شکریہ ادا کیا۔ جنہوں نے ہم سے اس تقریب کو منعقد کرنے کا ایک پرانا وعدہ اہداء کیا۔اگر چہ یہ وعدہ ادھورا ہے۔ کیونکہ ان کا ہم سے وعدہ تھا کہ وہ نفاذ اردو کے حوالے سے ایک بڑی کانفرنس منعقد کریں گے۔ انہوں نے پھر ہم سے وعدہ کیا ہے کہ وہ جلد ہی اس منصوبے کو عملی جامہ پہنائیں گے۔
    ہم نے اپنے خطاب میں حکومت سے مطالبہ کیا کہ بس! پاکستان میں اتنی اردو نافذ کردیں!
    جتنی برطانیہ میں برطانوی انگریزی
    ایران میں فارسی
    چینی میں چینی
    فرانس میں فرانسیسی
    جرمن میں جرمنی!
    اور انگریزی کو اتنی اختیاری حیثیت دے دیں جو ان ممالک نے دے رکھی ہے۔۔
    ہم نے حاضرین سے درخواست کی کہ نفاذ اردو فیصلے پر عملدرآمد کروانا ہر پاکستانی کی ذمہ داری ہے جہاں بھی نفاذ اردو فیصلے کی توہین ہورہی ہے۔ہر پاکستانی اس توہین کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرے”
    یہ بہت خوش آئند بات تھی کہ تقریب میں دو انگریزی میڈیم اداروں کے سر براہان اور نوجوان بھی شریک تھے۔ انہوں نے ہماری باتیں بہت غور اور دلچسپی سے سنیں۔ انگریزی میڈیم ادارے نے ہمیں اپنے ادارے میں نفاذاردو کا لیکچر دینے کی دعوت دی۔
    الحمداللہ! نفاذ اردو کے حوالے سے نوجوانوں میں بہت شعور پیدا ہورہا ہے جو ایک روشن صبح کی امید ہے۔ معروف ادیبہ اور شاعرہ تسنیم کوثر نے ہمارا یہ کہہ کر حوصلہ بڑھایا۔ ” فاطمہ قمر کی تقریب ہو اور میں نہ جاؤں”
    اصل میں یہ تسنیم کوثر کی خود اردو سے محبت کا ثبوت ہے۔
    میجر ریٹائرڈ خالد نصر ہمیشہ وقت کی پابندی کرتے ہیں۔ اور بہت جذبے اور شوق کے ساتھ وقت پر تشریف لائے۔۔آپ ادبی لحاظ سے بہت سر گرم ہیں۔
    گورنمنٹ کالج ٹاؤن شپ کی سابق پرنسپل محترمہ ساجدہ پروین اور فوزیہ محمود فروا نے ہماری دعوت پر بطور خاص پروگرام میں شرکت کی۔ اور ایک صاحب سیدھا اسلام آباد سے تقریب میں شرکت کرنے پہنچے۔
    بہت سے لوگوں کے انباکس میں پیغامات آئے کہ انہوں نے پیغام دیر سے دیکھا جب تقریب ختم ہوچکی تھی۔۔
    اتنی پروقار تقریب کا انعقاد کرنے پر ہم مرزا الیاس اختر اور یو ایم ٹی انتظامیہ کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔
    پروفیسر سلیم ہاشمی کو تقریب میں شرکت نہ کرنے کا بہت افسوس رہا ۔اپ کے الفاظ ہیں ” کہ یو ایم ٹی کے فورم سے نفاذاردو کی بات کرنا میرا خواب رہا ہے”
    ان شاءاللہ! اللہ کی ذات سے یقین کامل ہے کہ وہ پروفیسر سلیم ہاشمی اور ہم سب کا نفاز اردو کا خواب شرمندہ تعبیر کرے گا! ان شاءاللہ
    ان تمام معزز مہمانوں کا شکریہ جنہوں نے ہماری دعوت پر اس تقریب میں شرکت کی۔

    فاطمہ قمر
    پاکستان قومی زبان تحریک