ڈی آئی جی آپریشنز افضال احمد کوثر کی زیر صدارت اہم اجلاس
اجلاس میں ایس ایس پی آپریشنز، ایس ایس پی انوسٹی گیشن نےشرکت کی- اجلاس میں زونل ایس پیز، ایس ڈی پی اوز ایس ایچ اوز کی بھی شرکت-ڈی آئی جی آپریشنز نے کرائم کا جائزہ لیا-
ڈی آئی جی آپریشنز افضال احمد کوثرنے واضح کردیا کہ کارکردگی دکھائیں یا سزاؤں کا سامنا کریں- شہریوں کے تحفظ کی ناکامی پر سخت ایکشن لوں گا- فری رجسٹریشن آف کرائم پر کوئی سمجھوتہ نہیں کروں گا- کسی بھی وقوعہ کے رونما ہونے پر مقدمہ درج نہ کرنا جراثیم پیشہ افراد کی پشت پناہی کرنا ہے- ہم نے اپنے شہریوں کو تحفظ کا حساس دلانا ہے- اللہ نے ہمیں جو فریضہ دیا ہے اسے نیک نیتی سے ادا کریں-
عائشہ ایک بہت ہی بااخلاق اور بہت سی خصوصیات کی حامل چھوٹی سی بچی تھی۔ ان کا گھرانہ کافی بڑا تھا اور تمام کزنز ایک ہی گھر میں رہتے تھے۔
گھرانہ تو اسلامی تھا لیکن پردے کی طرف دھیان نہیں تھا پردے کو عام سی چیز سمجھا جاتا اور یہ تصور ذہن میں ڈالا جاتا کہ ان کزنوں سے کیسا پردہ…؟؟؟
عائشہ بھی انہی سوچوں کے ساتھ پروان چڑھ رہی تھی ننھی سی عمر میں آسمان کو چھو لینے اور تتلیوں کو پکڑنے کی امنگوں سے اپنے شب و روز گزارتے ہوئے آہستہ آہستہ بچپن کی دہلیز کو پار کر رہی تھی۔
عائشہ جب کالج جانا شروع ہوئی تب جانے کیوں وہ بے چین رہنے لگی ۔اسے لگتا تھا کچھ کمی سی ہے اس کی زندگی میں ۔
اسے عجیب سا احساس گھیرے رکھتا تھا جیسے زندگی میں کچھ غلط ہو ۔بہت سے سوالات تھے جو اس کے ذہن میں آتے رہتے تھے لیکن وہ ان کا جواب نہیں جانتی تھی سو وہ مزید بے چین ہو جاتی ۔
پھر اس نے اس بے چینی کو ختم کرنے کے لیے
اسلامی تعلیمات کی مختلف کتابوں کا مطالعہ شروع کردیا ۔
وہ جیسے جیسے دین کو پڑھتی چلی گئی جیسے اسے اپنے ہر سوال کا جواب ملتا چلا گیا اس کی بےچینی کی وجہ سمجھ میں آتی چلی گئی وہ اس کمی کو سمجھنے لگی جو اسے مسلسل محسوس ہوتی تھی اور اسے بے چین رکھتی تھی ۔
دین اسلام تو جیسے ٹھنڈی چھاؤں تھا اس کے احکامات تو جیسے اسی کو اپنی پناہ میں لینا چاہتے تھے ۔
سو وہ احکامات کو اپنی زندگی میں لاگو کرنے کی کوشش کرتی۔
گھریلو ماحول دیکھ کر اسکے جذبات کچھ ماند پڑ نے لگتے لیکن وہ ہر وقت دین کی تعلیمات کی جستجو میں رہتی ۔
گھر میں سبھی کزنز کا آنا جانا تھا اور کوئی روک ٹوک نہیں تھی اتنی عمر ہو جانے کے باوجود کزنز کے ساتھ ہنسی مزاح اور کھیل کود چلتا رہتا لیکن عائشہ اب ان سب خرافات سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتی تھی وہ چاہتی تھی کہ وہ یہ سب کچھ چھوڑ دے لیکن اس کے لیے یہ سب ممکن نہیں ہو پا رہا تھا۔ عائشہ کی کالج کی ایک سہیلی نے شرعی پردہ کرنا شروع کردیا۔ عائشہ اس سے بہت متاثر ہوئی اور دل میں پختہ ارادہ کرلیا کہ اب وہ بھی پردہ شروع کرے گی۔ جب عائشہ نے پردہ شروع کیا تو الٹا اس کے کردار پر بہت سے سوال اٹھے اور بہت سی اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا۔
سبھی کہتے کہ پردہ اپنے انھیں کزنز سے کر رہی ہو جن کے ساتھ کھیل کود کر بڑی ہوئی ہو انہوں نے تو دیکھا ہوا ہے ان سے پردہ کرنے کا جواز ہی نہیں بنتا لیکن عائشہ اپنے رب کی رضا کی خاطر اپنے پردے پر ڈٹی رہی اور ہر طرح کی تلخیاں اور نفرتیں برداشت کرتی رہی۔
شروع شروع میں سب کو لگتا تھا کہ عائشہ نے غلط قدم اٹھایا ہے لیکن جلد ہی عائشہ کی ثابت قدمی اور دلائل نے سب کو احساس دلادیا کہ جس معاشرے میں پردہ نہیں کیا جاتا وہ معاشرہ کیسے گناہوں کی دلدل میں پھنس جاتا ہے۔ ایسے ایسے گناہوں کا مرتکب ہوجاتا ہے کہ جن کا ازالہ بھی ممکن نہیں ہوتا۔
عائشہ کو دیکھ کر اور پردے کی رحمتیں دیکھتے ہوۓ عائشہ کی بہنوں اور کزنوں نے بھی پردہ شروع کردیا جو کہ ان کے والدین کی عائشہ کو دیکھ کر خواہش بن چکا تھا کہ ان کی بیٹیاں بھی پردہ کریں۔
اور آج الحمدللہ عائشہ کو پردہ شروع کیے بہت سے سال گزر چکے ہیں اور پردے کی وجہ سے اس کی زندگی بہت مطمئن اور پر سکون ہے۔ اسے سسرال میں بھی کبھی مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑا سب لوگ عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور خواہش مند ہوتے ہیں کہ انکی اولاد بھی عائشہ کی طرح باعمل بن جاۓ۔
جو یقین کی راہ پہ چل پڑے انہیں منزلوں نے پناہ دی
جنہیں وسوسوں نے ڈرا دیا وہ قدم قدم پہ بہک گئے
یہ ایک عائشہ کی آب بیتی ہے اور ایسی بہت سی لڑکیاں معاشرے میں نظر آتی ہیں جو عائشہ جیسا بنتی ہیں لیکن اس کے برعکس جو اسلامی تعلیمات سے دور رہتی ہیں اور پردے اور گھر کی چار دیواری کو قید خانہ اور داغ سمجھتی ہیں بہت سے مرد ان کی زندگیوں کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہیں اور اپنی ہوس کا نشانہ بناتے ہیں ۔
آج کل ایسے بہت سے واقعات رونما ہوتے ہیں کہ کزنز کے ایک دوسرے کے ساتھ غلط اور برے مراسم یہاں تک کہ چچی کی اپنے شوہر کے بھتیجوں کے ساتھ اور ممانی کی بھی اپنے شوہر کے بھانجوں کے ساتھ دوستیاں اور غلط مرسم۔ اور جب یہ معاملات ان کے شوہروں پر عیاں ہوتے ہیں تو بہت سی لڑائیاں اور جھگڑے جنم لیتے ہیں خاندان تباہ ہوجاتے ہیں چھوٹے چھوٹے معصوم بچے یتیم ہوجاتے ہیں اس طرح ایک ہنستے بستے گھرانے میں صف ماتم بچھ جاتی ہے۔
اسی بے پردگی کی وجہ سے بعض اوقات غلط فہمی کی بنا پر بہت سی عورتوں کو طلاق دلوا دی جاتی ہے اور اس کو ذلیل و رسوا کر کے گھر سے نکال دیا جاتا ہے۔
جب عورتیں دین سے دوری اختیار کر کے شیطان کے پسندیدہ راستے پر چلیں گی تو دنیا میں بھی ذلت و رسوائی ہی انکا مقدر بنے گی اور آخرت میں بھی رب کی نافرمان اور خسارہ پانے والوں میں شامل ہوں گی۔
رب کی تمام تر رحمتوں سے دور ہوجاۓ گی دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔
اسلام عورتوں کو شیطان صفت لوگوں سے بچنے کے لئے ہی پردے کا حکم دیتا ہے۔
آج اگر عورتیں اسلامی تعلیمات کو اپنے اوپر لاگو کرتی ہیں اور پردے کا اہتمام کرتی ہیں تو ان کی آنے والی نسلیں بھی برائیوں سے بچ جائیں گی اور معاشرہ اسلام اور امن و امان کا گہوارہ بن جاۓ گا۔
اللہ سبحانہ و تعالیٰ سب کو دین کی صحیح معنوں میں سمجھ بوجھ عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
کسی بھی معاشرے اور ثقافت کی خوبصورتی اور پائیداری اس کی روایات ہوتی ہیں جبکہ ان روایات سے انحراف نہ صرف معاشرے کی بربادی کا باعث بنتا ہے جبکہ اس معاشرے میں بسنے والے انسانوں پر گہرے اثرات چھوڑتا ہے جس کی وجہ سے انفرادی زندگیوں سے لے کر خاندانی اور اجتماعی نظام زندگی تک تباہ ہوکر رہ جاتے ہیں.
ایک اسلامی معاشرے کی یہ احسن ترین روایت اور ثقافت ہے کہ اسلامی معاشرہ مرد سے زیادہ عورت کو تحفظ دیتا ہے کیونکہ عورت جسمانی اور عقلی طور پر مرد سے قدرے ناقص ہوتی ہے. یہی وجہ ہے کہ اسلامی معاشرہ اور سوسائٹی عورت کی اس کمزوری کو دیکھتے ہوئے اس کو ہر ممکنہ تحفظ دیتے ہیں اور یہ تحفظ عورت کو یہ احساس دلاتا ہے کہ اسلامی معاشرے کا اہم ترین فرد اور حصہ عورت ہے.
عورت کی اسی اہمیت کے پیش نظر اسلام بطور مذہب اور اسلامی معاشرہ اس پر نہایت اہم ذمہ داری ڈالتے ہیں اور وہ ہے نسل نو کی تربیت اور یہ بات نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی اچھی طرح سے سمجھتے ہیں کہ نسل انسانی کے مستقبل کا دارومدار عورت کے اپنے کردار و افکار پر ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ نپولین بونا پارٹ بھی یہ کہنے پر مجبور ہوا کہ "تم مجھے اچھی مائیں دو میں تمہیں اچھی قوم دوں گا”.
اس نہایت اہم اور مشکل ذمہ داری کے باعث ایک اسلامی معاشرہ عورت کے لیے یہ آسانی پیدا کرتا ہے کہ اس کو دنیاوی امور مثلاً تجاورت و کاروبار، محنت و مزدوری وغیرہ سے استثنیٰ دیتا ہے مزید اس کو تحفظ دیتے ہوئے اس کے اور اسکے بچوں کے نان و نفقہ کا ذمہ دار مرد کو ٹھہراتا ہے.
ان سب کے ساتھ ساتھ اسلامی معاشرہ عورت کو کمال تحفظ دینے کے لیے اس کو پردے اور چار دیواری میں ٹھہرنے کا حکم دیتا ہے تاکہ کسی کی گندی نگاہوں کا مرکز بن کر کہیں اس کی عزت و حرمت کو تار تار نہ کیا جائے. اسلامی معاشرہ قطعاً بھی عورت پر پابندیاں نہیں لگاتا بلکہ اس کو کھلا اختیار دیتا ہے کہ وہ سجے سنورے، وہ کھیلے کودے مگر اپنے مرد کے لیے اور اسی کے سامنے ناکہ اغیار کی شمع محفل بنے. یہ فطرتی عمل ہے کہ عورت صرف اپنے ہی مرد کے لیے سجے سنورے اسی کے ساتھ کھیلے اور اٹھکلیاں کرے. اس کی مثال ہمیں جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنھا کے کردار میں واضح طور پر ملتی ہے کہ وہ کھیلتے بھی تھے، دوڑ بھی لگاتے تھے، مقابلے بھی کرتے تھے.
یہ وہ کمال کا تحفظ اور توجہ ہے جو اسلامی معاشرہ ہی ایک عورت کو فراہم کرتا ہے اور یہ صرف ایک اسلامی معاشرے کا ہی حسن ہے جو کہیں اور نظر نہیں آتا. دنیا بھر کے معاشرے وہ چاہے مذہبی ہوں یا سیکولر، وہ متشدد ہوں یا لادین سبھی معاشرے عورت کے استحصال میں مصروف ہیں اور عورت کو اس کی حقیقی اور فطرتی ذمہ داری سے ہٹا کر اس کو ایک شو پیس، جنسی تسکین کا ذریعہ، چیزوں کی خرید و فروخت کا ذریعہ، ایک اشتہار اور رونق محفل بنائے ہوئے اور اس رویہ نے معاشروں سے اخلاقی اقدار کو تہس نہس کردیا ہے یہی وجہ ہے کہ ان معاشروں میں بہن، بیوی اور بیٹی کا فرق مٹ چکا ہے وہاں عورت بس عورت ہے جو مرد کی جنسی ضرویات پوری کرنے کی پراڈکٹ ہے اور اس وجہ سے ان معاشروں میں جہاں اخلاقی اقدار رخصت ہوئیں وہاں سکون قلب، ذہنی تسکین اور مذہب تک تباہ و برباد ہوکر رہ گئے.
بعینہ ہمارے معاشرے میں بھی کچھ جنسی گدھ عورت کو چادر اور چار دیواری کے تحفظ سے نکال کر آزادی کے نام ان کو ایک اندھے غار میں دھکیلنا چاہتے ہیں جہاں عورت کے لیے بربادی تو ہے، تذلیل تو ہے، عفت و عصمت کا تار تار تو ہونا ہے لیکن عزت نہیں ہے، حرمت نہیں ہے، احترام نہیں ہے.
یہی عورت جب ان جنسی گدھوں کے دلفریب نعروں اور نظریات سے متاثر ہوکر اپنی اسلامی روایات اور اپنے آپ کو ملنے والی خصوصی توجہ اور تحفظ کو ٹھکرا کر چادر اور چار دیواری کو بوجھ سمجھتے ہوئے گھر سے قدم نکالتی ہے تو معاشرے کی تباہی اور بے سکونی کا باعث بنتی ہے. آئے روز ملنے والی خبریں کہ جن میں عورتوں کے ساتھ زیادتی و ظلم کے کیس سامنے آتے ہیں وہ انہی دلفریب نعروں پر عمل پیرا ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے.
لہذا اگر عورت اپنا تحفظ چاہتی ہے اور جو ذمہ داری اس کو اسلامی معاشرہ تفویظ کرتا ہے اس کو احسن انداز میں پورا کرکے ایک بہترین نسل تیار کرتی ہے تو وہ معاشرے کی بہترین عورت ہونے کے ساتھ ساتھ معاشرے اور خاندانوں کی محسنہ ہوتی ہے.