Baaghi TV

Tag: تحقیقاتی کمیٹی

  • سانحہ پمز: تحقیقاتی کمیٹی نے 11 صفحات پر مشتمل رپورٹ جاری کردی

    سانحہ پمز: تحقیقاتی کمیٹی نے 11 صفحات پر مشتمل رپورٹ جاری کردی

    تحقیقاتی کمیٹی نے اسلام آباد کے پمز اسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے سانحے کی 11 صفحات پر مشتمل رپورٹ جاری کردی-

    اسلام آباد کے پمز اسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے سانحے کی عبوری تحقیقاتی رپورٹ میں سنگین انتظامی، کلینیکل اور ادارہ جاتی غفلت کا انکشاف کرتے ہوئے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز، ڈی جی کیپیٹل ایمرجنسی سروسز اور سربراہ نیونیٹولوجی سمیت دیگر اعلیٰ افسران کو فوری معطل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق آگ لگنے کی حتمی تکنیکی وجہ تاحال معلوم نہیں ہوسکی اور سی سی ٹی وی شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ فرنٹ لائن عملے نے ریسکیو کی بھرپور کوشش کی، تاہم ایمرجنسی ایگزٹس کا مقفل ہونا، مؤثر الارم سسٹم کا فقدان اور جولائی کی آگ سے سبق نہ سیکھنا وہ مجرمانہ غفلتیں ہیں جنہوں نے اس واقعے کو ایک ہلاکت خیز سانحے میں تبدیل کر دیا۔

    تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ کے مطابق دستیاب سی سی ٹی وی فوٹیج واقعے کی سب سے زیادہ قابلِ اعتماد تصویر فراہم کرتی ہے اس فوٹیج کے مطابق نرسری میں آگ تقریباً 6 بج کر 38 منٹ پر نمایاں ہوئی تقریباً 6 بج کر 38 منٹ اور 15 سیکنڈ پر چارج نرس نسرین نرسری سے تیزی سے باہر نکلتی اور مدد طلب کرتی نظر آتی ہیں،تقریباً 6 بج کر 38 منٹ اور 35 سیکنڈ پر نسرین اور سیکیورٹی گارڈ ماریا نرسری میں داخل ہوتی ہیں اور وہاں آگ کے شعلوں کے عکس نظر آتے ہیں۔

    اس کے بعد تقریباً 6 بج کر 38 منٹ اور 56 سیکنڈ پر اسٹاف نرس رضیہ نرسری میں داخل ہوتی ہیں اور تقریباً 6 بج کر 39 منٹ اور 4 سیکنڈ پر ایک بچے کو اٹھا کر باہر نکلتی ہیں، یوں وہ بچے کو بچانے میں کامیاب ہوتی ہیں رضیہ اس کے کچھ ہی دیر بعد دوبارہ نرسری میں داخل ہونے کی کوشش کرتی ہیں، جبکہ ڈاکٹر عبدالرحمان تقریباً 6 بج کر 39 منٹ اور 12 سیکنڈ پر باہر آتے ہیں تقریباً 6 بج کر 39 منٹ اور 15 سیکنڈ تک کیمرہ 16 دھوئیں سے بڑی حد تک چھپ جاتا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق ملحقہ راہداری کا دروازہ تقریباً 6 بج کر 39 منٹ اور 45 سیکنڈ پر کھولا گیا، جبکہ 6 بج کر 40 منٹ اور 8 سیکنڈ تک کیمرہ 12 بھی دھوئیں کی زد میں آ کر منظر دکھانے کے قابل نہیں رہا ان شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ نرسری کا ماحول تقریباً 2 منٹ کے اندر انتہائی تیزی سے تباہ کن صورتحال میں تبدیل ہو گیا۔

    تحقیقاتی کمیٹی نے قرار دیا ہے کہ آگ لگنے کا درست تکنیکی ذریعہ ابھی حتمی طور پر طے نہیں کیا جا سکامختلف بیانات میں آگ کی وجہ ‘اے سی’، ‘انکیو بیٹر یا وارمر’ یا ‘بجلی کے شارٹ سرکٹ’ اور پلگ پر اضافی لوڈ کو قرار دیا گیا ہے آئیسکو کے ریکارڈ میں عین اس وقت بیرونی فیڈر کی خرابی یا ٹرپنگ کا کوئی ثبوت نہیں ملا، جس کے باعث تحقیقات کا رخ پمز کے اندرونی بجلی کے نظام، ساکٹس، پلگز، وائرنگ اور منسلک آلات کی جانب ہو گیا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کئی انکیوبیٹرز کی حال ہی میں سروسنگ کر کے انہیں کام کرنے کی حالت میں واپس کیا گیا تھا، تاہم اس ریکارڈ سے آلات، پلگ، ساکٹ یا متعلقہ سرکٹ کی برقی حفاظت حتمی طور پر ثابت نہیں ہوتی اندرونی برقی یا آلات سے متعلق وجہ کا امکان موجود ہے، لیکن کسی مخصوص آلے یا پرزے کو آگ لگنے کی حتمی وجہ قرار دینا قبل از وقت ہوگا کمیٹی نے واضح کیا کہ آگ کا پہلا شعلہ کس ذریعے سے پیدا ہوا اور کن عوامل نے اسے بڑ ے پیمانے پر ہلاکت خیز واقعے میں تبدیل کیا، یہ دو الگ مگر باہم متعلق سوالات ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دستیاب سی سی ٹی وی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ موقع پر موجود طبی، نرسنگ اور سیکیورٹی عملے نے فوری طور پر ریسکیو کی کوشش کی چارج نرس نسرین نے مدد طلب کی، سیکیورٹی گارڈ ماریا متاثرہ حصے میں داخل ہوئیں، اسٹاف نرس رضیہ نے جلتی ہوئی نرسری میں داخل ہو کر ایک نومولود کو بچایا اور دوبارہ اندر جانے کی کوشش کی، جبکہ ڈاکٹر عبدالرحمان بھی متاثرہ علاقے میں موجود تھے۔

    کمیٹی کے مطابق دستیاب شواہد کی بنیاد پر یہ عمومی الزام درست ثابت نہیں ہوتا کہ فرنٹ لائن طبی اور نرسنگ عملے نے نومولود بچوں کو چھوڑ دیا تھا تاہم رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ انفرادی ریسکیو کوشش اور ادارہ جاتی سطح پر پیشگی تیاری کی ذمہ داری کو الگ الگ دیکھا جانا چاہیے ایمرجنسی سروسز کو اطلاع پہنچنے میں ممکنہ خلا کے حوالے سے رپورٹ کے مطابق سی سی ٹی وی میں ایمرجنسی تقریباً 6 بج کر 38 منٹ پر ظاہر ہوتی ہے، جبکہ کیپیٹل ایمرجنسی سروسز کے ریکارڈ کے مطابق پہلی ایمرجنسی کال تقریباً 6 بج کر 54 منٹ پر موصول ہوئی۔

    رپورٹ کے مطابق ڈسپیچ 6 بج کر 55 منٹ پر ہوا اور سی ای ایس تقریباً 7 بج کر ایک منٹ پر موقع پر پہنچی تاہم بعض دیگر شواہد میں اس سے پہلے کال کیے جانے کا ذکر موجود ہےکمیٹی نے فی الحال 16 منٹ کی تاخیر کو کسی مخصوص شخص یا ادارے سے منسوب نہیں کیا اس مقصد کے لیے ٹیلی فون ریکارڈ، پمز کنٹرول روم کے ریکارڈ، سی ای ایس کال ریکارڈنگز اور سی سی ٹی وی کے اوقات کو ہم آہنگ کر کے یہ معلوم کیا جائے گا کہ پہلی مؤثر کال کس نے، کب اور کہاں کی تھی۔

    کمیٹی کے مطابق کال موصول ہونے کے بعد سی ای ایس کے ریکارڈ میں تقریباً 6 سے 7 منٹ میں موقع پر پہنچنے کا وقت موجود ہے اس لیے اس مرحلے پر زیادہ اہم سوال سی ای ایس کی جانب سے اطلاع ملنے کے بعد مبینہ تاخیر نہیں بلکہ اس سے پہلے پمز کے اندر آگ کی نشاندہی، صورتحال کو اوپر تک پہنچا نے اور ایمرجنسی سروسز کو اطلاع دینے کا نظام ہے۔

    رپورٹ کے مطابق ریسکیو اور انخلا کی کوششیں کی گئیں، تاہم اس وقت تک ایسے منظور شدہ، اطلاع کیے گئے، تربیت یافتہ اور عملی مشق سے گزارے گئے ‘ایم سی ایچ یا نرسری مخصوص فائر اور نیونیٹل ایویکیویشن ایس او پی’ کے شواہد سامنے نہیں آئے جو آگ لگنے کی صورت میں نومولود بچوں کے انخلا کا مکمل طریقہ کار واضح کرتے ہوں۔

    پمز کے سیکیورٹی ڈیپارٹمنٹ کے 27 مئی 2023 کے ایس او پی میں فائر سیفٹی کو ادارہ جاتی ذمہ دار قرار دیا گیا ہے اس ایس او پی کے تحت سیکیورٹی کو انفراسٹرکچر، آلات، مریضوں، وزٹرز اور عملے کے تحفظ کے لیے فائر سیفٹی یقینی بنانے کی ذمہ داری دی گئی تھی اسی طرح اسسٹنٹ ڈائریکٹر سیکیورٹی کو فائر سیفٹی ایگزٹس کی دستیابی، فائر فائٹنگ آلات کی فعالیت اور متعلقہ عملے کی تربیت کی ذمہ داری سونپی گئی تھی پمز نے سانحے سے قبل خصوصی فائر سیفٹی تربیت کے لیے عملہ بھی نامزد کیا تھا۔

    کمیٹی کے مطابق بنیادی سوال یہ نہیں کہ انتظامی سطح پر فائر رسک کو تسلیم کیا گیا تھا یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ ذمہ داریاں اور دستیاب تربیت ایم سی ایچ اور نرسری میں حقیقی عملی تیاری میں کیوں تبدیل نہیں ہو سکیں کیپیٹل ایمرجنسی سروسز کی جانب سے بھی رپورٹ کیا گیا کہ فائر اور لائف سیفٹی انتظامات نا کافی اور متاثرہ حالت میں تھے ایمرجنسی راستے یا فرار کے راستے بند یا رکاوٹوں کا شکار تھے، سیکیورٹی نے ابتدائی ریسپانس کے بعض پہلوؤں میں رکاوٹ ڈا لی اور ہجوم کو کنٹرول کرنے کے انتظامات بھی ناکافی تھے فائر فائٹرز کو بعض لاک شدہ فائر ایگزٹ دروازے اور دیگر راستے زبردستی کھولنے پڑے کمیٹی نے تاہم کہا کہ ہر متعلقہ دروازے کی اصل حیثیت اور مقام کی تصدیق کی جا رہی ہے تاکہ ذمہ داری کسی مخصوص شخص پر عائد کرنے سے پہلے مکمل شواہد دستیا ب ہوں۔

    رپورٹ میں 6 جولائی 2026 کو پمز کے فیمیل نرسنگ ہاسٹل میں لگنے والی آگ کو انتہائی اہم قرار دیا گیا ہے کمیٹی کے مطابق جولائی کے واقعے کی انکوائری میں پہلے ہی دھوئیں کی نشاندہی، خودکار الارم، ہنگامی وارننگ سسٹم، فائر ڈرلز، فائر سیفٹی انسپیکشن ریکارڈ اور سیکیورٹی ریسپانس سمیت متعدد خامیوں کی نشاند ہی کی گئی تھی اس رپورٹ میں جامع فائر سیفٹی آڈٹ، اسموک ڈیٹیکٹرز، الارم اور وارننگ سسٹمز، ایمرجنسی لائٹنگ، واضح فرار کے راستے، فعال فائر ایکسٹنگو شر ز، باقاعدہ ٹیسٹنگ، سالانہ برقی معائنوں اور تحریری ایمرجنسی رسپانس انتظامات کی سفارش کی گئی تھی۔

    کمیٹی نے واضح کیا کہ جولائی کا واقعہ اگست کی آگ کی وجہ ثابت نہیں کرتا، تاہم اس سے یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ پمز میں فائر رسک اب محض ایک مفرو ضہ نہیں رہا تھا اور ادارہ جاتی خامیوں کی باضابطہ نشاندہی پہلے ہی ہو چکی تھی جولائی کے واقعے کی انکوائری میں ریکارڈ رکھنے اور نگرانی کے نظام میں بھی سنگین خامیوں کی نشاندہی ہوئی تھی۔

    کمیٹی کے مطابق 25 اگست 2026، یعنی نرسری میں مہلک آگ لگنے سے صرف ایک روز پہلے جولائی کے واقعے کی سابقہ انکوائری رپورٹ نظرثانی کے لیے واپس کی جا رہی تھی کیونکہ اس میں مقررہ شرائطِ کار کو مکمل طور پر حل نہیں کیا گیا تھااس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اگر جولائی کی انکوائری مکمل ہو جاتی تو نرسری کا سانحہ روکا جا سکتا تھا، تاہم یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ جولائی کی آگ سے حاصل ہونے والے اسباق کو اصلاحی اقدامات میں تبدیل کرنے کا ادارہ جاتی عمل دوسری آگ سے پہلے اطمینان بخش طور پر مکمل نہیں ہوا تھا۔

    پمز انتظامیہ کی سطح پر ذمہ داری کے حوالے سے کمیٹی کے مطابق موجودہ ریکارڈ میں انتظامی ذمہ داری کا سب سے واضح ابتدائی معاملہ پمز کے سیکیورٹی اور فائر سیفٹی نظام سے سامنے آتا ہے سیکیورٹی ایس او پی میں فائر سیفٹی ایگزٹس، فائر فائٹنگ آلات اور عملے کی تربیت سے متعلق واضح ذمہ داریاں مقرر تھیں، جنہیں سی ای ایس کی جانب سے رپورٹ کی گئی بند یا رکاوٹ زدہ ایمرجنسی ایگزٹس اور فائر سیفٹی کی خامیوں کے ساتھ ملا کر دیکھا جا رہا ہے۔

    تاہم کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کسی افسر کو صرف اس کے عہدے کی بنیاد پر ذمہ دار قرار نہیں دیا جانا چاہیے متعلقہ افسر کی مقررہ ذمہ داری، خامی سے اس کی واقفیت، اقدام کرنے کا اختیار اور موقع، کوتاہی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی حفاظتی خرابی کو ثابت کرنا ضروری ہے۔

    بیلفورٹ سیکیورٹی سروسز کے حوالے سے کمیٹی نے کہا کہ کمپنی کے سیکیورٹی اہلکار ایم سی ایچ میں تعینات تھے اور ان میں سے بعض نے ریسکیو، آگ بجھانے اور ہجوم یا راستوں کے انتظام میں حصہ بھی لیا کمیٹی نے فی الحال یہ قرار نہیں دیا کہ بیلفورٹ نے آگ لگائی یا اس کے اہلکار عمومی طور پر اپنی ذمہ داریوں سے دستبردار ہو گئے تھے۔

    تاہم پمز کو یہ تصدیق کرنے کی ہدایت کی گئی ہے کہ معاہدے کے مطابق تعیناتی برقرار تھی یا نہیں، ایم سی ایچ میں موجود اہلکاروں کو مطلوبہ فائر فائٹنگ تربیت حاصل تھی یا نہیں، مناسب فائر فائٹنگ آلات انہیں دستیاب تھے یا نہیں اور ان کا ردعمل معاہداتی ذمہ داریوں کے مطابق تھا یا نہیں اگر کسی خلاف ورزی کی تصدیق ہوتی ہے تو کمپنی کے خلاف معاہدے کے تحت شوکاز، جرمانے یا کٹوتیوں سمیت دیگر قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

    کمیٹی نے ایسی صورتحال کی بھی نشاندہی کی ہے جو بادی النظر میں فوجداری تحقیقات کا تقاضا کر سکتی ہے۔ پہلا اہم معاملہ ایمرجنسی فائر ایگزٹس کا لاک یا رکاوٹ کا شکار ہونا ہے اگر یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ متعلقہ دروازے لازمی ایمرجنسی ایگزٹس تھے اور ذمہ دار افراد نے دانستہ یا غفلت کے باعث انہیں فوری استعمال کے لیے دستیاب نہیں رکھا، اور اس کوتاہی نے جانی نقصان میں مادی کردار ادا کیا، تو معاملہ محض انتظامی غفلت تک محدود نہیں رہے گا۔

    دوسرا معاملہ جولائی کی آگ کے بعد پہلے سے معلوم حفاظتی خامیوں پر کارروائی نہ کرنا ہے۔ اگر شواہد سے ثابت ہوا کہ متعلقہ افسران کو ان خامیوں کا علم تھا، ان کے پاس کارروائی کا اختیار اور مناسب موقع موجود تھا، لیکن انہوں نے بغیر جواز معلوم حفاظتی خطرات کو دور نہیں کیا اور بعد میں انہی کا سانحے میں مادی کردار سامنے آیا تو یہ فوجداری تحقیقات کی بنیاد بن سکتی ہے۔

    تیسرا معاملہ ایمرجنسی سروسز کو اطلاع دینے میں ممکنہ تاخیر ہے تاہم اس حوالے سے موجودہ ریکارڈ میں تضاد موجود ہے، اس لیے ٹیلی فون ریکارڈ، کنٹرول روم لاگز، سی ای ایس کال ریکارڈز اور سی سی ٹی وی ٹائمنگ کی مزید جانچ کے بعد ہی کسی فرد کی ذمہ داری کا تعین کیا جا سکے گا۔

    کمیٹی نے واضح کیا ہے کہ انتظامی، محکمانہ اور فوجداری کارروائیوں کو الگ الگ رکھا جانا چاہیے۔ کسی سرکاری ذمہ داری کی عدم ادائیگی ثابت ہونے پر محکمانہ کارروائی ہو سکتی ہے، اور سیکیورٹی کمپنی کی معاہداتی خلاف ورزی ثابت ہونے پر معاہداتی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

    جبکہ فوجداری کارروائی کے لیے جرم کے عناصر اور موت سے غفلت کے قانونی طور پر قابلِ قبول تعلق کا ثابت ہونا ضروری ہے فوری اصلاحی اقدامات کی سفارش کرتے ہوئے کمیٹی نے قرار دیا ہے کہ بعض حفاظتی اقدامات حتمی رپورٹ کا انتظار نہیں کر سکتے پمز کو فوری طور پر ایک جامع اور ترجیحاً آزاد تکنیکی ماہرین کے ذریعے پورے اسپتال کا فائر، لائف سیفٹی اور برقی آڈٹ کرانے کی سفارش کی گئی ہے، جس کا آغاز این آئی سی یو یا نرسری، آئی سی یوز، آپریشن تھیٹرز اور دیگر حساس مقامات سے کیا جائے۔

    اسموک اور ہیٹ ڈیٹیکشن، الارم سسٹم، فائر ایکسٹنگوشرز، ہائیڈرنٹس، ایمرجنسی لائٹس، برقی حفاظتی نظام اور تمام فائر ایگزٹس کا عملی معائنہ اور ٹیسٹنگ کرنے کی سفارش کی گئی ہے انکیوبیٹرز، وارمرز، اے سی اور ایچ وی اے سی سسٹمز، ساکٹس، پلگز، ڈسٹری بیوشن بورڈز، بریکرز، ارتھنگ اور دیگر اہم برقی نظاموں کی بھی فوری تکنیکی جانچ کی سفارش کی گئی ہے۔

    کمیٹی نے عملی فائر اور نیونیٹل ایویکیویشن ڈرلز کرانے کی سفارش بھی کی ہے، جن میں ڈاکٹرز، نرسیں، سیکیورٹی اور انجینئرنگ عملہ شامل ہواسی طرح ایسا واضح اور آزمودہ ایمرجنسی نوٹیفکیشن اور کمانڈ پروٹوکول فوری نافذ کرنے کی سفارش کی گئی ہے جس کے تحت آگ کی اطلاع ملتے ہی اندرونی الارم، مقررہ ریسپانڈرز کی طلبی اور سی ای ایس یا ریسکیو 1122 کو براہ راست اطلاع ایک ساتھ فعال ہو جائے۔

    کمیٹی نے عبوری رپورٹ کے اختتامی حصے میں کہا ہے کہ دستیاب شواہد کی بنیاد پر کم از کم 3 سطحوں پر سنگین انتظامی اور عملی ناکامیاں سامنے آئی ہیں طبی اور کلینیکل سطح کی بات کی جائے تو تمام نومولود بچے ایم سی ایچ کے نیونیٹولوجی یونٹ کے زیر انتظام نیونیٹل انٹینسیو کیئر یونٹ میں تھے۔ انکوائری کے دوران ڈیوٹی روسٹر کے مقابلے میں بعض متعلقہ اہلکاروں کی ڈیوٹی پر موجودگی کم پائی گئی یونٹ کے سربراہ کی واضح ذمہ داری ہے کہ تمام ڈاکٹرز اور متعلقہ طبی عملہ اپنی ڈیوٹی پر موجود ہوں۔

    اس بنیاد پر کمیٹی نے پروفیسر ڈاکٹر سعدیہ ریاض، سربراہ نیونیٹولوجی، اور ڈاکٹر نغمہ، سینئر رجسٹرار نیونیٹولوجی کو فوری طور پر معطل کر کے ‘ای اینڈ ڈی رولز 2020’ کے تحت کارروائی کی سفارش کی ہے۔ ایم سی ایچ اور نرسری میں اس وقت تعینات دیگر عملے کی حقیقی جسمانی موجودگی سے متعلق مزید حقائق حتمی رپورٹ میں پیش کیے جائیں گے۔

    انتظامی اور عملی سطح کے حوالے سے کمیٹی کے مطابق جولائی 2026 میں پمز کے نرسنگ ہاسٹل میں آتشزدگی کے بعد اسپتال انتظامیہ پر لازم تھا کہ وہ مریضوں کی حفاظت کے لیے ضروری اقدامات کرتی کمیٹی نے قرار دیا کہ انتظامیہ نے مطلوبہ احتیاط اور ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کیا اور فائر سیفٹی ڈرلز، فائر فائٹنگ آلات کی مکمل فعالیت، تفصیلی ایس او پیز اور واقعے سے نمٹنے کے نظام سمیت ضروری اقدامات نہیں کیے گئے۔

    اس بنیاد پر کمیٹی نے پروفیسر ڈاکٹر عمران سکندر، ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز، ڈاکٹر مطہر شاہ، جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایم سی ایچ، چوہدری وارث علی رضا، جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر نان میڈیکل پمز، اور ڈاکٹر نوشیلہ امجد، ڈائریکٹر ایم سی ایچ کو فوری طور پر معطل کر کے ‘ای اینڈ ڈی رولز 2020’ کے تحت کارروائی کی سفارش کی۔

    متعلقہ بیرونی اداروں کے حوالے سے کمیٹی نے کہا کہ اسلام آباد میں سرکاری عمارات، بالخصوص پمز جیسے ایسے ادارے جہاں روزانہ اور 24 گھنٹے بڑی تعداد میں عوام آتے ہیں، میں فائر سیفٹی کے نظام کی دیکھ بھال اور عملدرآمد میں کیپیٹل ایمرجنسی سروسز کا بھی اہم کردار ہے جولائی 2026 کے واقعے کے باوجود سی ای ایس پمز میں فائر ایمرجنسی سے نمٹنے کے نظام کی ادارہ جاتی خامیوں کا مناسب ادراک کرنے میں ناکام رہی اور فائر ڈرلز، پروٹوکولز اور ایس او پیز کے لیے مؤثر دباؤ نہیں ڈالا گیا۔

    کمیٹی نے اس ناکامی کی بنیاد پر ڈاکٹر عبدالرحمان، ڈائریکٹر جنرل کیپیٹل ایمرجنسی سروسز، سی ڈی اے، کو معطل کر کے ‘ای اینڈ ڈی رولز 2020’ کے تحت کارروائی کی سفارش کی،محمد عثمان، اسسٹنٹ ڈائریکٹر سیکیورٹی ، کو بغیر اجازت ڈیوٹی سے غیر حاضر رہنے اور فرائض میں غفلت کے الزام میں معطل کر کے کارروائی کی سفارش بھی کی گئی۔ رپورٹ میں بیلفورٹ سیکیورٹی کو بھی معاہدے کے مطابق ذمہ داریاں پوری نہ کرنے کی صورت میں متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی کا مستحق قرار دیا گیا ہے۔

    حتمی ذمہ داری کے تعین کے حوالے سے کمیٹی نے واضح کیا ہے کہ دستیاب شواہد سے سانحے کے بنیادی حقائق بڑی حد تک سامنے آ چکے ہیں، تاہم بعض معاملات میں مزید تحقیقات اور شواہد درکار ہیں تاکہ ذمہ داری کو شک و شبہ سے بالاتر ہو کر طے کیا جا سکے اصل سوال صرف یہ معلوم کرنا نہیں کہ آگ کس چیز سے لگی، بلکہ یہ بھی طے کرنا ہے کہ آگ کو تباہ کن بننے کی اجازت کن عوامل نے دی، کون سے حفاظتی انتظامات موجود نہیں تھے یا مؤثر نہیں تھے، ان خامیوں کے بارے میں کس کو پہلے سے علم تھا، ان کی ذمہ داری کس پر تھی اور آیا کسی قابلِ شناخت کوتاہی نے جانی نقصان میں مادی کردار ادا کیا۔

    کمیٹی نے کہا کہ انفرادی ذمہ داری کا حتمی تعین جامع حتمی رپورٹ کے لیے محفوظ رکھا گیا ہے، تاہم جہاں انتظامی یا معاہدے کے مطابق کوتاہی پہلے ہی شواہد سے ظاہر ہو چکی ہے وہاں فوری کارروائی اور مریضوں کی حفاظت کے اقدامات حتمی رپورٹ کا انتظار کیے بغیر کیے جا سکتے ہیں۔

  • گندم درآمد اسکینڈل کی تحقیقات میں بڑی پیشرفت

    گندم درآمد اسکینڈل کی تحقیقات میں بڑی پیشرفت

    اسلام آباد: گندم درآمد اسکینڈل کی تحقیقات میں انکوائری کمیٹی نے نگراں حکومت کو کلین چٹ دیتے ہوئے فوڈ سیکیورٹی پر ساری ذمہ داری ڈال دی۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر اضافی گندم درآمد اسکینڈل کی تحقیقات کیلئے بنائی جانے والی کمیٹی نے اپنی رپورٹ پیش کردی،جس میں تحقیقاتی کمیٹی نے نگراں حکومت کو کلین چٹ دے دی جبکہ نیشنل فوڈ سیکیورٹی کے چار افسران کو ذمہ دار قرار دیا گیا ہے، کمیٹی کی سفارش پر وزیر اعظم نے چاروں افسران کو ناقص منصوبہ بندی اور غفلت برتنے پر معطل کردیا۔

    وزیراعظم نے کمیٹی کی سفارش پر سابق وفاقی سیکریٹری محمد آصف کے خلاف باضابطہ کارروائی کی منظوری دے دی،جبکہ محکمہ خوراک پنجاب نے ایکشن لیتے ہوئے 20 افسران کو غفلت برتنے پر معطل کردیا جبکہ 42 فلور ملزم پر بھاری جرمانے اور کچھ ملز کا لائسنس معطل کردیا گیا ہے۔

    جب آپ اپنی عزت کا مطالبہ کرتے ہیں تو دوسروں کی بھی کریں،عرفان صدیقی

    دوسری جانب کسان راہنما خالد حسین باٹھ کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے کسانوں کو اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے، فلور مل مالکان کسان سے گندم سرکاری قیمت 3900 سو روپے من کی بجائے 2200 سے 2400 روپے فی من خرید رہے ہیں، پنجاب حکومت خود کسانوں سے گندم خرید رہی ہے، نا ہی کسی اور صوبہ کو خریدنے دے رہی ہے۔

    کتنے نان فائلرز کی موبائل سمز بلاک کی گئیں،تفصیلات جاری

    خالد حسین باٹھ نے کہا کہ محکمہ خوراک کے پاس گوداموں میں تقریباً 1 لاکھ 30 ہزار ٹن گندم پڑی ہے، جس کو ملز مالکان نے خریدنے سے انکار کردیا ہے، کسانوں سے 2200 روپے سے لے کر 2400 روپے فی من تک گندم خرید رہے ہیں،محکمہ خوراک کے پاس موجود گندم ملز مالکان نے نہ خریدی تو قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان ہوگا۔اور محکمہ خوراک گوداموں میں ذخیرہ گندم کو ناقص بتا کر کرپشن کرے گا، آج کسان کپاس اور چاول کی فصل کاشت نہیں کر پا رہا کیونکہ اس کے پاس پیسے نہیں ہیں۔

    صدر ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر حادثے کی ایک وجہ امریکی پابندیاں قرار

  • گندم درآمدسیکنڈل،ذمہ داروں کا واضح تعین کیا جائے، وزیراعظم

    گندم درآمدسیکنڈل،ذمہ داروں کا واضح تعین کیا جائے، وزیراعظم

    گندم درآمد سکینڈل کی تحقیقات کے معاملے میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔

    تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ سیکرٹری کابینہ کامران علی افضل نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی ہے، وزیراعظم نے سیکرٹری کابینہ کو نگران حکومت میں گندم کی درآمد کی ہر لحاظ سے مکمل شفاف تحقیقات کا حکم دے دیا،وزیراعظم شہباز شریف نے دستیاب ریکارڈ اور دستاویزات کو سامنے رکھ کر سفارشات مرتب کرنے کی ہدایت کی ،وزیراعظم نے سیکرٹری کابینہ کو پیر تک حتمی رپورٹ جمع کروانے کی ہدایت بھی کی ،وزیراعظم نے ہدایت کی کہ مجھے ذمہ داروں کا واضح تعین کرکے بتایا جائے کوئی لگی لپٹی مت رکھیں۔

    سیکرٹری کابینہ کی سربراہی میں دوسری انکوائری کمیٹی کا اجلاس جاری ہے۔ کمیٹی آج چھٹی کے باوجود بھی پہلی کمیٹی کی رپورٹ کا جائزہ لے گی۔

    گندم بحران کا زمہ دار کون ، قائد ن لیگ نے پیر کو وزیر اعظم کو بلا لیا,

    نیب گندم اسکینڈل کا فوری نوٹس لے،شیخ رشید

    وزیراعظم نے کسانوں کی شکایات کالیا نوٹس،فوری گندم خریداری کی ہدایت

    چنیوٹ: گندم کی قیمت 5000 فی من مقرر کی جائے،کسانوں کا مطالبہ

    حکومت نے گندم کی درآمد اور آٹا کی برآمد کی اجازت دیدی

    گندم کی قیمت میں مزید کمی کے امکانات موجود

    قبل ازیں گندم بحران کو لے کر مسلم لیگ ن کے رہنما حنیف عباسی اور سابق وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے ایک دوسرےپر الزامات کی بھر مار کر دی،دونوں کے درمیان گندم اسکینڈل پر تلخ کلامی ہوئی۔ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان تلخ کلامی ایک نجی ہوٹل میں ہوئی اور ایک دوسرے پر الزامات لگائے گئے۔انوارالحق کاکڑ نے حنیف عباسی سے کہا کہ گندم معاملے پر آپ نے ہم پر انگلی اٹھائی ہے کیا گرفتار کرنے آئے ہیں؟ جس پر حنیف عباسی نے کہا کہ میں قسم کھاتا ہوں آپ چور ہو اور گندم اسکینڈل میں پیسےکھائےہیں۔حنیف عباسی نے کہا کہ میں نے پروگرام میں جو بھی گفتگو کی وہ بالکل درست تھی۔ جواب میں انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ فارم 47 پر بات کی تو آپ اور ن لیگ کو منہ چھپانے کی جگہ نہیں ملےگی۔

    دوسری جانب وزیراعظم آفس کو اعلی متعلقہ حکام نے گندم کے حوالہ سے بریفنگ دی جس میں بتایا گیا کہ نگراں حکومت کے دور میں وزارت خزانہ کی سفارش پر نجی شعبے کو مقررہ حد کی بجائے کھلی چھوٹ دی گئی ،گندم کے ٹریڈرزنے اربوں روپے کا کھیل کھیلا،کسٹم ڈیوٹی اور جی ایس ٹی کی چھوٹ بھی دی گئی، نگران وزیراعظم انوارلحق کاکڑ کی منظوری ملنے کے بعد وزارت نیشنل فوڈ سیکورٹی نے سمری ارسال کی ۔وزارت نیشنل فوڈ سیکورٹی نے وزارت تجارت اور ٹی سی پی کی اہم تجاویز کو نظرانداز کیا ،منظم منصوبے کے تحت اضافی گندم درآمد ہوئی جس سے 300 ارب روپے سے زائد نقصان ہوا پاسکو اور صوبائی محکمے مطلوبہ ہدف 7.80 کی بجائے 5.87 ملین ٹن گندم خرید سکے 28.18 ملین ٹن گندم پیدا ہوئی،2.45 ملین ٹن درآمد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

    گندم درآمدی اسکینڈل کی تحقیقات کے معاملے میں اب یہ بات سامنے آئی ہے کہ نئی حکومت آنے کے بعد بھی 98 ارب 51 کروڑ روپے کی گندم درآمد کی گئی ہے، میڈیا رپورٹس کے مطابق موجودہ حکومت کے دور میں بھی 6 لاکھ ٹن سے زیادہ گندم درآمد کی گئی، ایک لاکھ 13 ہزار سے زیادہ کا کیری فارورڈ اسٹاک ہونے کے باوجود گندم درآمد کی گئی، وزیراعظم شہباز شریف کو بھی گندم کی درآمد کے حوالے سے لاعلم رکھا گیا، وزیراعظم نے لاعلم رکھنے پر سیکریٹری فوڈ سیکیورٹی کو عہدے سے ہٹایا، گندم کی درآمد نگران حکومت کے فیصلے کے تحت موجودہ حکومت میں بھی جاری رکھی گئی، وزارت خزانہ نے نجی شعبے کے ذریعے 5 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کی اجازت دی، وزارت خزانہ نے ٹی سی پی کے ذریعے گندم درآمد کرنے کی سمری مسترد کی، درآمدی گندم بندرگاہ پر 93 روپے 82 پیسے فی کلو میں پڑی، وزارت بحری امور کو درآمدی گندم کی بندرگاہوں پر پہنچ کر ترجیح دینے کی ہدایت کی گئی، اجازت نامے میں ضرورت پڑنے پر سمری پر نظرثانی کا بھی آپشن رکھا گیا، گزشتہ سال صوبوں سے گندم کی خریداری کا ہدف 75 فیصد حاصل ہوا تھا، نگران حکومت کے دور میں 200 ارب روپےسے زیادہ کی گندم درآمد کی گئی

    تحریک انصاف کے رہنما عون عباسی کا کہنا ہے کہ جب نگران حکومت نے گندم امپورٹ کی اجازت دی تب حکومت کے پاس 48، پرائیوٹ سیکٹر کے پاس 65 لاکھ ٹن گندم موجود تھی، 22 اکتوبر 2023 کو گندم امپورٹ کی اجازت ملی، 1 نومبر کو پہلا، 5 نومبر کو دوسرا اور تیسرا جہاز کراچی پہنچ گیا جبکہ یوکرین سے گندم امپورٹ میں 25 دن لگتے ہیں۔ جب پرائیوٹ سیکٹر کی یوکرین سے گندم 2900 میں آئی تب پنجاب حکومت نے اپنی گندم 4600 سے کم میں بیچنے سے انکار کر دیا اور پھر کسی ایک شخص کی 2900 میں آئی گندم 4 ہزار سے 4200 میں مارکیٹ میں بکی، اسکے علاوہ مارچ، اپریل 2024 میں بھی 10 لاکھ ٹن گندم امپورٹ ہوئی ہے۔ نگران اور پی ڈی ایم حکومتوں نے systematically کسان کو تباہ حال کیا ہے۔ ن لیگ کی حکومت سوائےاپنے منظور نظروں کے کسی کو باردانہ تک نہیں دے رہی۔ نگران سیٹ اپ اور بالخصوص موجودہ حکومت گندم کے بحران کے ذمےداران ہیں،

  • غیرقانونی طورپرریکارڈ کی گئی کالزکوریلیزکرنےکی ذمہ داری کس پرعائد ہوگی؟ ،اسلام آباد ہائیکورٹ

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹےکی طلبی کا سمن معطل کرنے کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا۔

    باغی ٹی وی : اسلام آباد ہائیکورٹ کےجسٹس بابر ستار نے7 صفحات پرمشتمل تحریری حکمنامےمیں کہا ہےکہ بتایا جائےکیا آئین اور قانون شہریوں کی کالز کی سرویلنس اور خفیہ ریکارڈنگ کی اجازت دیتا ہے؟ اگرفون ریکارڈنگ کی اجازت ہے تو کون سی اتھارٹی یا ایجنسی کس میکنزم سے یہ کام کرسکتی ہے؟ اگر اجازت نہیں تو شہریوں کی پرائیویسی کی خلاف ورزی پرکون سی اتھارٹی ذمہ دار ہے؟-

    چئیرمین نیب کے اختیارات میں اضافہ،نوٹیفیکیشن جاری

    عدالت نے سوال کیا ہےکہ غیر قانونی طور پرریکارڈ کی گئی کالز کوریلیزکرنےکی ذمہ داری کس پرعائد ہوگی؟ کیا پارلیمنٹ کسی پرائیویٹ شخص کے معاملے پرانکوائری کرسکتی ہے؟ کیا رولز اجازت دیتے ہیں کہ اسپیکرعام افراد کی گفتگو لیک ہونےپرخصوصی کمیٹی بنائیں؟ پارلیمنٹ کے احترام اور تحمل کرتے ہوئے خصوصی کمیٹی کا نوٹیفکیشن معطل نہیں کر رہے۔

    82 سالہ اداکار کی 29 سالہ ساتھی کے ہاں بچے کی ولادت متوقع

    تحریری حکمنامے میں عدالت نے عام افراد کی ٹیلیفونک گفتگو کی ریکارڈنگز اور آڈیولیکس پر اٹارنی جنرل سے معاونت طلب کی ہے عدالت نے وفاق، وزارت داخلہ، وزارت دفاع اورپی ٹی اے کو بھی پٹیشن میں فریق بنانےکی ہدایت کی ہےسیکرٹری قومی اسمبلی سمیت تمام فریقین کو نوٹس جاری کرتےہوئے شق وار جواب دینےکی ہدایت کی گئی ہےجبکہ عدالت نےاعتزاز احسن، مخدوم علی خان، رضا ربانی اور محسن شاہنواز رانجھا کو عدالتی معاونین مقرر کیا ہے۔

    امریکا کا یوکرین کیلئے30 کروڑ ڈالر کے نئے اسلحہ پیکج کا اعلان

  • عدالت نے آڈیولیک تحقیقاتی کمیٹی کو ثاقب نثارکے بیٹےکیخلاف کارروائی سے روک دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے آڈیولیک تحقیقات کے لیے قائم خصوصی کمیٹی کو سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے کے خلاف کارروائی سے روک دیا۔

    باغی ٹی وی: اسلام آباد ہائیکورٹ میں آڈیولیک تحقیقات کے لیے قائم خصوصی کمیٹی کی تشکیل کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی جسٹس بابر ستار نے کیس کی سماعت کی-

    امریکا میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ان کی بہن فوزیہ صدیقی کی ملاقات ہو …

    دوران سماعت جج نے سوال کیا کہ کیا یہ اسپیشل کمیٹی ہے؟ وکیل لطیف کھوسہ نے جواب دیا کہ اسپیشل کمیٹی کے لیے بھی وہی رولز ہوں گے جو عام کمیٹی کے لیے ہوتے ہیں عدالت نے کہا کہ آپ کو متعلقہ وزارت کو پارٹی بنانا پڑے گا۔

    وکیل لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ کوئی متعلقہ وزارت اس معاملے میں ہے ہی نہیں پھر بھی ہم بنا دیں گے، ہم نے صرف یہ چیلنج کیا ہے کہ اسپیکر اور اسمبلی کوپرائیویٹ معاملہ دیکھنےکا اختیار نہیں، سپریم کورٹ میں جو معاملہ زیر التوا ہے ہم نے اس کو چیلنج نہیں کیا،آڈیو لیک دو پرائیویٹ لوگوں کے درمیان مبینہ طور کی گئی بات چیت ہے، پارلیمنٹ کو 2 پرائیویٹ لوگوں کے معاملے کو دیکھنے کا اختیار نہیں۔

    عدالت نے خصوصی کمیٹی کو سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے کے خلاف کارروائی سے روک دیا اور پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی کی جانب سے نجم الثاقب کی طلبی کا نوٹس بھی معطل کردیا۔

    پاکستان میں سیاسی محاذ آرائی جاری رہی تو پاکستانی روپیہ مزید گرے گا،بلوم برگ

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس بابر ستار نے حکم امتناع جاری کرتے ہوئے درخواست پر رجسٹرارآفس کے اعتراضات بھی دور کر دیئے، عدالت نے درخواست پر وفاقی حکومت کو 19 جون کے لیے نوٹس جاری کر دیئے اور وفاقی حکومت سے جواب طلب کیا ہے کہ یہ آڈیوز ریکارڈ کون کرتا ہے؟-

    واضح رہےکہ گزشتہ دنوں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے نجم الثاقب کی مبینہ آڈیو سامنے آئی تھی جس میں وہ پی ٹی آئی کے ٹکٹ ہولڈر ابوزر چدھڑ سے ٹکٹ کے معاملے پر بات کر رہے تھے جب کہ ثاقب نثار نے بھی آڈیو میں بیٹے کی آواز کی تصدیق کی تھی۔

    آصف علی زرداری لاہور پہنچ گئے

    اسپیکر قومی اسمبلی نے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے نجم الثاقب کی آڈیو لیک کی تحقیقات کے لیے خصوصی کمیٹی قائم کی تھی نجم الثاقب نےاسپیکر اسمبلی کی بنائی گئی اسپیشل کمیٹی کی تشکیل چیلنج کر رکھی ہے۔

  • اسپیکرقومی اسمبلی کی قائم کردہ آڈیولیکس تحقیقاتی کمیٹی کیخلاف درخواست سماعت کیلئےمقرر

    اسپیکرقومی اسمبلی کی قائم کردہ آڈیولیکس تحقیقاتی کمیٹی کیخلاف درخواست سماعت کیلئےمقرر

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں قومی اسمبلی کے اسپیکر کی قائم کردہ آڈیولیکس تحقیقاتی کمیٹی کے خلاف سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے کی درخواست سماعت کیلئے مقرر کردی گئی۔

    باغی ٹی وی : قومی اسمبلی کے اسپیکر کی قائم کردہ آڈیولیکس تحقیقاتی کمیٹی کےخلاف سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے نےدرخواست دائر کی ہے درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ کیس کے حتمی فیصلے تک کمیٹی کو کام سے روکا جائے۔

    9 مئی :حساس ادارے کے دفتر پر حملےکے 4 ملزمان کیخلاف آرمی ایکٹ کےتحت مقدمہ …

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار کل درخواست پر سماعت کریں گےاسلام آباد ہائیکورٹ نے درخواست اعتراضات کے ساتھ سماعت کیلئے مقرر کی ہے درخواست گزار نے استدعا کی ہے کہ کمیٹی کی تشکیل کالعدم قرار دی جائے-

    واضح رہے کہ 21 مئی کو وفاقی حکومت نے ججز کی آڈیو لیکس کے معاملے پرتحقیقات کے لیے کمیشن قائم کیا تھا جس کے سربراہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ہیں، چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس نعیم اختر افغان اور چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس عامر فاروق کمیشن کے ارکان میں شامل ہیں۔

    9 مئی حملوں کی ابتدا اورسوشل میڈیا پر اخلاقیات کی تباہی عارف علوی نے کی …

    25 مئی کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے آڈیو لیکس انکوائری کمیشن کی تشکیل کے خلاف دائر درخواست 26 مئی کو سماعت کے لیے مقرر کی تھی 26 مئی کو سپریم کورٹ نے آڈیو لیکس کمیشن کی تحقیقات کے لیے تشکیل دیے گئے کمیشن کا نوٹی فکیشن معطل کرتے ہوئے 31 مئی کو اگلی سماعت کے لیے اٹارنی جنرل سمیت دیگر فریقین کو نوٹسز جاری کردیئے تھے۔

    چیئرمین نیب ریکارڈ سمیت پبلک اکاونٹس کمیٹی کے سامنے طلب