Baaghi TV

Tag: تراویح

  • گرینڈ مسجد بحریہ ٹاﺅن ، طاق راتوں میں قیام اللیل کا اہتمام

    گرینڈ مسجد بحریہ ٹاﺅن ، طاق راتوں میں قیام اللیل کا اہتمام

    گرینڈ مسجد بحریہ ٹاﺅن میں رمضان المبارک کی طاق راتوں میں شب بارہ بجے قیام اللیل کا اہتمام کیا جائے گا اور اجتماعی نماز وتر ادا کی جائے گی ۔ قیام اللیل اور نماز وتر کی امامت بلبل قرآن ڈاکٹر سبیل اکرام کریں گے ۔ نماز وتر میں پاکستان ، فلسطینی ، کشمیری مسلمانوں سمیت دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کےلئے خصوصی دعا ئیں کی جائیں گی ۔

    بحریہ ٹاﺅن مسجد کے امام تراویح ڈاکٹر سبیل اکرام نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے تعلق قائم کرنے ، ایمان کو مضبوط کرنے ، مصائب سے چھٹکارا پانے اور رزق میں فراخی کا سب سے زیادہ مﺅثر اور مسنون طریقہ فرض نماز کے بعد قیام اللیل ہے۔رسول ﷺ کامعمول مبارک تھا کہ آپ اپنی امت کی بخشش کےلئے جاتے ہمیشہ رات کی نماز کااہتمام کرتے اور رب جلیل کی یاد میں ڈوب کر اتنے طویل نوافل پڑھاکرتے اور سجدے کرتے تھے کہ آپ کے پاﺅں مبارک سوج جایا کرتے تھے ۔

    انھوں نے کہا کہ قیام اللیل کا اہتمام کرنے والا کامل ایمان ہے ، فرض نمازوں کے بعد افضل ترین نمازرات کی نمازہے ، جسے قیام للیل یا نماز تہجد کہا جاتا ہے۔ نمازمومن کاسب سے بڑا ہتھیار ہے ، نماز مومن کا اعزاز اور افتخار ہے ۔نماز سے انسان اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرتا ہے ، رزق میں اضافہ ہوتا ہے اور مصائب وپریشانیوں سے نجات ملتی ہے ۔ اب جبکہ برکتوں ،سعادتوں اور رحمتوں والا مہینہ رمضان المبارک تیزی سے گزرتا جارہا ہے گنتی کے صرف چند باقی رہ گئے ہیں ہمیں چاہئے کہ ان دنوں سے بھر پور فائدہ اٹھائیں ،زیادہ سے زیادہ عبادات کریں ، نوافل پڑھیں ، قرآن مجید کی تلاوت کریں ، اپنے گناہ بخشوائیں اور جنت میں جانے والے خوش قسمتوں میں اپنا نام شامل کروائیں ، خاص طاق راتوں میں عبادات اور نوافل کا خصوصی اہتمام کریں،باقی ماندہ زندگی کو اللہ کی رضا کے مطابق بسر کرنے کا عہد کریں ، دعاﺅں میں اپنے والدین ، اساتذہ ، وطن ، فلسطینی ، کشمیری اور دنیا بھر کے دیگر مظلوم مسلمانوں کو یاد رکھیں ۔

  • تبصرہ کتب : رمضان المبارک فضائل ، فوائد ، ثمرات ، احکام ومسائل اور کرنے والے کام

    تبصرہ کتب : رمضان المبارک فضائل ، فوائد ، ثمرات ، احکام ومسائل اور کرنے والے کام

    نام کتاب : رمضان المبارک فضائل ، فوائد ، ثمرات ، احکام ومسائل اور کرنے والے کام
    مﺅلف : مفسر قرآن حافظ صلاح الدین یوسف مرحوم
    قیمت : 190روپے
    صفحات : 188
    ناشر : دارالسلام انٹر نیشنل ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ ، لاہور
    برائے رابطہ : 042-37324034
    پیش نظر کتاب ” رمضان المبارک فضائل ، فوائد وثمرات ، احکام ومسائل اور کرنے والے کام “ سے واضح ہے کہ اپنے موضوع پر یہ نہایت ہی مفید، جامع اور رہنما کتاب ہے۔ یہ کتاب دینی کتابوں کے مستند عالمی ادارہ ” دارالسلام انٹر نیشنل کی شائع کردہ ہے ۔ کتاب کے مصنف معروف عالم دین، مفسر قرآن فضیلتہ الشیخ حافظ صلاح الدین یوسف مرحوم ہیں ۔ حافظ صلاح الدین یوسف مرحوم جس موضوع پر بھی قلم اٹھاتے لکھنے کاحق ادا کردیتے ہیں ۔ انھیں اللہ تعالی نے دین و شریعت کے علم کا پختہ رسوخ عطا فرمایا تھا ۔ ایک مصنف کی حیثیت سے ان کے قلم میں ایک خوبی یہ بھی ہے کہ وہ ہر موضوع کو جہاں کتاب و سنت کے استد لال سے مزین کرتے ہیں ‘ وہاں اس کی پیش کش میں ایک ایسا اسلوب اختیار کرتے ہیں جس میں سلامت ‘ روانی ‘ شگفتگی‘ وضاحت اور تحریر و انشاءکے تمام اوصاف موجود ہوتے ہیں ۔حافظ صلاح الدین یوسف مرحوم کی پیش نظر کتاب۔۔۔۔ تین ابواب پر مشتمل ہے ۔

    کتاب میں بتایا گیا کہ ہم رمضان المبارک کااستقبال کیسے کریں ، رمضان المبارک کے خصوصی اعمال وظائف ،صحیح احادیث کی روشنی میں روزوں کی فضیلت وفرضیت ، روزے کے فوائد وثمرات ، روزے کے احکام ومسائل ،روزے کی تعریف ، روزے کے ضروری احکام ، کن کن چیزوں سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے ، قضائے روزہ، اعتکاف ، تروایح ، صدقة الفطر کے مسائل جیسے اہم موضوعات کتاب میں بیان کئے گئے ہیں ۔ بات یہ ہے کہ قرآن مجید میں روزے کی فرضیت اور اس کے مختصر احکام بیا ن کیے گئے ہیں مگر روزوں کا مکمل نقشہ احادیث کی کتابوں میں پوری تفصیل اور تشریح کے ساتھ موجود ہے جبکہ روزوں سے متعلق تقریباََ تمام صحیح احادیث اس کتاب میں جمع کردی گئی ہیں ۔ جہاں تک رمضان المبارک کی عبادات اور فضائل و برکات کا تعلق ہے اس پر درجنوں صحیح احادیث پیش کی جاتی ہیں مگر رسول ﷺ کا یہ فرمان کہ جس شخص نے رمضان کے روزے ایمان اور احتساب کے ساتھ رکھے ‘ اس کے سابقہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں ‘ یہ ایک عظیم خوشخبری اور بشارت ہے ‘ جس سے محرومی کا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا ۔ لیکن یہاں ایک بات پر خصوصی توجہ رہنی چاہیے کہ اتنے بڑے انعام کا استحقاق صرف اسی وقت حاصل ہوتا ہے جب رمضان المبارک کے روزے مسنون طریقہ پر رکھے جائیں اور ایمان و احتساب کی شرائط کو پورا کیا جائے‘ یہ سب کچھ کیسے ممکن ہے ۔۔۔۔۔۔؟ اس مقصد کیلئے دارالسلام کی یہ کتاب اہل ایمان کے لئے لاجواب اور نہایت ہی عمدہ پیشکش ہے ۔

    دارالسلام انٹر نیشنل کے مینجنگ ڈائریکٹر عبدالمالک مجاہد کہتے ہیں مجھے یقین ہے کہ اس مختصر کتاب کے مطالعے سے ہر مسلمان رمضان المبارک کا شایان شان استقبال کر سکتا ہے، اس مقدس مہینے کے تمام شرعی اور مسنوں احکامات کو جان سکتا ہے ۔ اس کتاب میں جہاں روزے کے احکام و مسائل کو واضح کیاگیا ہے وہاں قیام الیل ( تراویح ) ‘ لیلتہ القدر ‘ اعتکاف اور صدقہ الفطر کے حوالے سے بھی کافی اور شافی مواد پیش کیا گیا ہے ۔ یہ کتاب درحقیقت اہل ایمان کے لئے دارالسلام کی طرف سے رمضان المبارک کے مہینہ میں خصوصی سوغات اور تحفہ خاص ہے ۔ یہ کتاب دیکھنے میں اگر چہ مختصر ہے لیکن اختصار کے باوجود اس میں اتنی جامعیت ہے کہ ا س میں تمام ضروری اور اہم مسائل بیان کردیے گئے ہیں۔ کتاب میں احادیث ِ صحیحہ کی روشنی میں روزوں کی فضیلت کی تفصیل موجود ہے ۔اسی طرح کتاب میں رمضان المبارک سے متعلق بعض مشہور مگر ضعیف احادیث کی وضاحت بھی موجود ہے ۔ روزے کے فوائد و ثمرات کا تذکرہ ہے ‘ یعنی تقویٰ کیا ہے جو روزوں سے انسان کے اندر پیدا ہوتا ہے ؟ روزوں سے تقویٰ کس طرح پیدا ہوتا ہے ؟ اور تقویٰ سے کیا فوائد و ثمرات حاصل ہوتے ہیں ؟ قیام الیل یعنی نماز تراویح کے مسائل اور اس کی تعداد کی تحقیق بھی کتاب میں شامل ہے جو قابل مطالعہ ہے ۔ اعتکاف کے مسائل اور لیلتہ القدر کے فضائل کی وضاحت بھی کتاب میں شامل ہے ۔ اس اعتبار سے یہ کتاب بلا شبہ ” بقامت کہتربہ قیمت “ کے مصداق اور اس لائق ہے کہ ہر مسلمان اس کا مطالعہ کرے اور رمضان المبارک کے فیوض و برکات سے اپنا دامن بھرنے اور رحمت و مغفرت الٰہی کا مستحق بننے کی کوشش کرے ۔

    نام کتاب : نماز نبوی

    نام کتاب : مسنون نماز اور روز مرہ کی دعائیں

    تبصرہ کتب، زکوٰۃ ،عشراور صدقۃ الفطر

    تبصرہ کتب،واقعہ معراج اور اس کے مشاہدات

    تبصرہ کتب،بچوں کا اسلامی انسائیکلوپیڈیا

    تبصرہ کتب، خواتین کے امتیازی مسائل

    نام کتاب : جنوں اورشیطانوں کی دنیا

    نوجوان نسل کے لیے پیارے رسول ﷺ کی سنہری سیرت

    اخلاق نبوی کے سنہرے واقعات

    ”سیرت حسن وحسین رضی اللہ عنھما“

    نام کتاب : توحید کی آواز

    دارالسلام نے انگریزی ترجمہ کے ساتھ” سٹڈی دی نوبل قرآن “ شائع کردیا 

    خطاطی کی خدمت کے پانچ سال کی تکمیل، دارالسلام میں تقریب

    نام کتاب : بچوں کےلئے سنہری سیرت سے منتخب واقعات

  • رمضان المبارک دعاؤں کی قبولیت کا مہینہ ہے از مبشر لقمان

    رمضان المبارک دعاؤں کی قبولیت کا مہینہ ہے از مبشر لقمان

    ارشاد باری تعالیٰ ہے
    اور جب آپ سے میرے بندے میرے متعلق پوچھیں تو آپ فرما دیجیے کہ میں قریب ہی ہوں۔ دعا مانگنے والوں کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ مجھ سے دعا مانگیں۔ پس انہیں میرا حکم ماننا چاہیے اور مجھ پر ایمان لانا چاہیے تاکہ وہ نیک راہ پر آجائیں۔
    یہ سورت بقرہ کی آیت نمبر 186ہے۔ اس سے پہلے تین آیتوں میں روزے اور رمضان کے احکام اور فضائل کا ذکر ہے۔ روزو ں اور رمضان المبارک کے ذکر کے ساتھ دعا مانگنے کا تذکرہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ رمضان کا مہینہ دعاؤں کی قبولیت کا مہینہ ہے۔
    اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ کو نہ صرف دعا مانگنے کا حکم دیا بلکہ دعا کو بھی ایک عبادت اور بندگی کا ذریعہ قرار دیا ہے جو کہ اس امت کا خاص اعزاز ہے ورنہ حضرت کعب احبار کی روایت کے مطابق پہلے زمانہ میں یہ خصوصیت انبیاء کی تھی۔ انبیاء لوگوں کے لیے دعا کرتے، اللہ تعالیٰ قبول فرماتا لیکن امت محمدیہ کی خصوصیت ہے کہ یہ حکم پوری امت کے لیے عام قرار دیا اور فرمایا
    ترجمہ
    اور تمہارے رب نے کہا کہ تم مجھ سے دعا مانگو میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔

    حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم منقول ہے کہ
    دعاء مومن کا ہتھیار ہے۔ ظاہر ہے کہ ہتھیار صحیح کام تب ہی دکھاتا ہے جب ہتھیار بھی تیز ہو اور چلانے والا بھی طاقتور ہو۔
    اب دعا کیسے طاقتور بنے اس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آداب سکھلائے۔ اور وہ اوقات بتائے جن میں دعائیں زیادہ قبول ہوتی ہیں ان میں ایک موقعہ رمضان المبارک کا مہینہ ہے ہماری دعائیں کیسے طاقتور بنیں اس کے لیے بنیادی اصول اللہ تعالیٰ نے سورت اعراف کی آیت نمبر ۵۵ میں فرمایا
    یعنی تم اپنے رب سے دعا کیا کرو عاجزی کے ساتھ اور پوشیدہ طریقے سے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ دعا کرنے والا خشوع و خضوع یعنی عاجزی اور اللہ کے دھیان کے ساتھ دعا مانگے اور دوسرا ادب یہ معلوم ہوا کہ آہستہ آواز سے دعا مانگے اگر عام مقتدی دعاؤں سے ناواقف ہوں تو پھر امام کے لیے اونچی آواز سے دعا مانگنے میں کوئی حرج نہیں۔
    دعاء کی قبولیت کو مزید موثر بنانے کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ وہ دعائیں مانگی جائیں جو قرآن مجید میں مختلف انبیاء کے حوالے سےمذکور ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی وہ دعائیں قبول فرمائی ہیں۔ یا احادیث میں جو دعائیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھائی ہیں وہ مانگی جائیں۔
    لیکن قرآن و حدیث کے عربی جملے جن میں دعائیں ہیں اگر ان کا ترجمہ اور مطلب معلوم ہو تو پھر وہی دعائیں مانگنا افضل اور بہتر ہے لیکن عام حالات میں اگر ان دعاؤں کا مطلب معلوم نہ ہو تو پھر مانگنے والے کو تو معلوم نہیں کہ ان دعائیہ جملوں سے ہم اللہ سے کیا مانگ رہے ہیں۔ لہٰذا ان دعاؤں کے پڑھنے کا ثواب تو ضرور ملے گا لیکن اسے دعا مانگنا نہیں کہیں گے بلکہ دعا پڑھنا کہیں گے اس لیے دعا مانگتے وقت پہلے مسنون دعائیں بھی پڑھ لی جائیں پھر جو دعاؤں کا مفہوم نہ جانتا ہو وہ اپنی زبان میں بھی دعائیں مانگ سکتا ہے۔

    جب یہ کہا جاتا ہے کہ رمضان المبارک دعاؤں کی قبولیت کا مہینہ ہے تو دل میں ایک خیال آجاتا ہے کہ ہم نے بہت سی دعائیں مانگی ہیں ہماری دعا قبول ہی نہیں ہوتی لہٰذا پھر وہ انسان دعا مانگنے کی طرف متوجہ نہیں رہتا۔
    اس بارے میں ایک بات تو یہ قابل ذکر ہے کہ ارشادات نبوی سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حرام مال کھانے اور حرام لباس استعمال کرنے اور حرام کمائی کرنے والے کی دعاء قبول نہیں ہوتی لیکن اس کے علاوہ ہر شخص کی دعا قبول ہوتی ہے۔
    لیکن وہ بات پھر ذہن میں رہتی ہے کہ ہم نے بہت کچھ مانگا ہمیں تو نہیں ملا اس کا جواب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح سمجھایا۔
    کہ مومن کی دعاء ضرور قبول ہوتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ زیادہ جانتا ہے کہ اس بندہ کے لیے کیا چیز بہتر ہے۔
    ارشاد باری تعالیٰ ہے
    ترجمہ
    کہ بسا اوقات تم کسی چیز کو ناپسند کرتے ہو اور وہ تمہارے لیے بہتر ہوتی ہے۔ اور بسااوقات تم کسی چیز کو پسند کرتے ہو اور وہ تمہارے لیے بری ہوتی ہے۔
    اس لیے انسان کا کام ہے اللہ سے دعائیں کرتے رہنا، مانگتے رہنا، یا تو اللہ تعالیٰ بندہ کو وہی چیز دیتا ہے یا اس کا نعم البدل عطاء فرما دیتا ہے یا دنیا میں اس دعا کا کوئی اثر ظاہر نہیں ہوتا لیکن اللہ تعالیٰ اس کی دعاؤں کی بدولت اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے اور جب گناہ ختم ہو جائیں تو پھر ان دعاؤں کو اس بندہ کی نیکیاں شمار کر لیا جاتا ہے۔

    ایک حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن بندہ نیکیوں کے ایک ڈھیر کو دیکھ کر کہے گا یہ نیکیاں تو میری نہیں ہیں۔اسے بتایا جائے گا کہ یہ تمہاری وہ دعائیں ہیں جو دنیا میں قبول نہیں ہوئی تھیں ان کے بدلہ میں نیکیاں ملی ہیں اس وقت بندہ کہے گا کہ کاش دنیا میں میری کوئی دعا قبول نہ ہوتی سب کا بدلہ یہاں آخرت میں ملتا۔
    رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعاؤں کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ بہت سے لوگ جلد بازی کی وجہ سے اپنی دعائیں ضائع کر دیتے ہیں۔ صحابہ کرامؒ نے عرض کیا جلد بازی سے کیا مراد ہے؟ فرمایا دعا مانگنے کے بعد یہ کہنا کہ میری دعا قبول نہیں ہوتی، دعا کو ضائع کرنا ہے۔
    لہٰذا رمضان کے اس بابرکت مہینہ میں خوب دعائیں مانگیں اور اس یقین کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ ہی ہماری دعائیں قبول کرنے والا ہے، دعا میں اپنے لیے، اپنے والدین کے لیے اور دوسرے مسلمان بھائیوں کے لیے دعا کریں۔ پوری انسانیت کی ہدایت کے لیے دعا مانگیں، پختہ عزم سے دعا مانگیں اور بار بار دعا کریں،
    اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    ترجمہ
    رمضان کا یہ مہینہ ایسا ہے کہ اس کا پہلا عشرہ رحمت کا ہے اور درمیانہ عشرہ بخشش کا ہے اور آخری حصہ جہنم کی آگ سے آزادی کا ہے۔
    اس رحمت کے عشرے میں خوب دعائیں مانگیں اس یقین کے ساتھ کہ اللہ تعالی دعاوں کو قبول کرنے والا ہے۔

    مبشرلقمان